Bhayanak Aadmi by Ibne Safi – Episode 5

0

بھیانک آدمی از ابن صفی قسط 05

“تم کیا جانو کہ اس نے کیا کہا تھا۔”

“تمہارے جوابات سے میں نے سوالوں کی نوعیت معلوم کر لی تھی۔”

“تم صرف عورتوں کے معاملے میں بیوقوف معلوم ہوتے ہیں۔”

“تم خود بیوقوف!” عمران بگڑ کر بولا۔

“چلو۔۔۔ چلو!” وہ اسے ٹیکسی کی طرف دھکیلتی ہوئی بولی۔

“نہیں تم بار بار مجھے بیوقوف کہہ کر چڑا رہی ہو!”

“اس کی آواز بھی عجیب تھی!” روشی نے کہا۔ “ایسا معلوم ہورہا تھا جیسے کوئی بھوکا بھیڑیا غرا رہا ہو! مگر۔۔۔ یہ کیسے ممکن ہے۔۔۔ ایکسچینج کو اس کی اطلاع تک نہ ہوئی!”

“اونہہ مارو گولی!۔۔۔ ہمیں کرنا ہی کیا ہے!” عمران نے گردن جھٹک کر کہا۔

“مجھے تو اب اس لڑکی کی تلاش ہے جس نے میرے نوٹوں میں گھپلا کیا تھا۔”

“نہیں عمران!” روشی بولی۔ “یہ عجیب و غریب اطلاع پولیس کے لئے کافی دلچسپ ثابت ہوگی۔”

“کون سی اطلاع!”

“یہی کہ سکس ناٹ کو رنگ کیا جاتا ہے۔ باقاعدہ کال ہوتی ہے اور ٹیلیفون ایکسچینج کو اس کی خبر تک نہیں ہوتی!”

“اے روشی۔۔۔ خبردار۔۔۔ خبردار۔۔۔ کسی سے اس کا تذکرہ مت کرنا!۔۔۔ کیا تم سچ مچ اپنی گردن تڑوانا چاہتی ہو! اگر پولیس تک یہ بات پہنچ گئی تو سمجھ لو کہ میں اور تم دونوں ختم کردیئے جائیں گے! وہ کوئی معمولی چور یا اچکا نہیں معلوم ہوتا۔۔۔ ہاں۔۔۔ میں نے سینکڑوں جاسوسی ناول پڑھے ہیں! ایک ناول میں پڑھا تھا کہ ایک بہت بڑے مجرم نے اپنا ذاتی ٹیلیفون ایکسچینج قائم کر رکھا تھا اور سرکاری ایکسچینج کو اس کی ہوا بھی نہیں لگی تھی۔”

“تو تم اب اس سے خائف ہوگئے ہو۔”

“خائف تو نہیں ہوں! مگر میں کیا کروں۔۔۔ میں نے جاسوسی ناول میں پڑھا تھا کہ وہ آدمی ہر جگہ موجود رہتا تھا۔۔۔ جہاں نام لو وہیں دھرا ہوا ہے۔۔۔ خدا کی پناہ۔۔۔” عمران اپنا منہ پیٹنے لگا اور روشی ہنسنے لگی اور کافی دیر تک ہنستی رہی پھر اچانک چونک کر سیدھی ہوگئی! وہ حیرت سے چاروں طرف دیکھ رہی تھی۔

“تم ہوش میں ہو یا نہیں!” اس نے عمران کی طرف جھک کر آہستہ سے کہا۔ “ہم شہر میں نہیں ہیں۔”

عمران آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر چاروں طرف دیکھنے لگا۔۔۔ کار حقیقتا ایک تاریک سڑک پر دوڑ رہی تھی اور دونوں طرف تک کھیتوں اور میدانوں کے سلسلے بکھرے ہوئے تھے۔

“پیارے ڈرائیور گاڑی روک دو!” عمران نے ڈرائیور سے کہا۔ لیکن دوسرے ہی لمحے اسے اپنی پشت پر شیشہ ٹوٹنے کا چھناکا سنائی دیا اور ساتھ ہی کوئی ٹھنڈی چیز اس کی گردن سے چپک کر رہ گئی۔

“خبردار چپ چاپ بیٹھے رہو!” اس نے اپنے کان کے قریب ہی کسی کو کہتے سنا۔ “تمہاری گردن میں سوراخ ہو جائے گا اور لڑکی تم دوسری طرف کھسک جاؤ!”

ٹیکسی پرانے ماڈل کی تھی اور اس کی اسٹپنی اوپر کی طرف کھلتی تھی۔۔۔ غالبا شروع ہی سے یہ آدمی اسٹپنی میں چھپا ہوا تھا۔ جنگل میں پہنچ کر اس نے اسٹپنی کھولی اور کار کا پچھلا شیشہ توڑ کر ریوالور عمران کی گردن پر رکھ دیا۔

روشی خوفزدہ نظروں سے اس چوڑے چکلے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی جس میں ریوالور دبا ہوا تھا۔
عمران نے جنبش تک نہ کی۔ وہ کسی پتھر کے بت کی طرح بے حس و حرکت نظر آرہا تھا! حتٰی کہ اس کی پلکیں تک نہیں جھپک رہی تھیں۔

کار بدستور فراٹے بھرتی رہی۔ روشی پر غشی سی طاری ہو رہی تھی۔ اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا! جیسے کار کا رخ تحت الثرٰی کی طرف ہو۔۔۔ اس کی آنکھیں بند ہوتی جا رہی تھیں۔

اچانک اس نے ایک چیخ کی آواز سنی۔۔۔ بالکل اپنے کان کے قریب اور بوکھلا کر آنکھیں کھول لیں! عمران کار کے عقبی شیشے کے ٹوٹنے سے پیدا ہوجانے والی خلا سے اندھیرے میں گھور رہا تھا اور ریوالور اس کے ہاتھ میں تھا۔

“ڈرائیور روکو گاڑی!” عمران نے ریوالور اس کی طرف کرکے کہا۔

ڈرائیور نے پلٹ کر دیکھا تک نہیں!

“میں تم سے کہہ رہا ہوں! اس نے اس بار ریوالور کا دستہ ڈرائیور کے سر پر رسید کردیا۔ ڈرائیور ایک گندی سی گالی دے کر پلٹا لیکن ریوالور کا رخ اپنی طرف دیکھ کر دم بخود رہ گیا۔

“گاڑی روک دو پیارے!” عمران اسے چمکار کر بولا۔ “تمہارے ساتھی کی ریڑھ کی ہڈی ضرور ٹوٹ گئی ہوگئی کیونکہ کار کی رفتار بہت تیز تھی!”

کار رک گئی۔

“شاباش!” عمران آہستہ سے بولا۔ “اب تمہیں بھیرویں سناؤں یا درگت۔۔۔ یا جو کچھ بھی اسے کہتے ہیں۔۔۔ دھرپت کہتے ہیں شائد۔۔۔ لیکن پڑھے لکھے لوگ عموما دروپد کہتے ہیں!”

ڈرائیور کچھ نہ بولا! وہ اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیر رہا تھا۔

“روشی اس کے گلے سے ٹائی کھول لو!” عمران نے روشی سے کہا۔

تھوڑی دیر بعد کار شہر کی طرف واپس جا رہی تھی! روشی اور عمران اگلی سیٹ پر تھے! عمران کار ڈرائیو کر رہا تھا! پچھلی سیٹ پر ڈرائیور بےبس پڑا ہوا تھا۔۔۔ اس کے دونوں ہاتھ پشت پر اسی کی ٹائی سے باندھ دیئے گئے تھے اور پیروں کو جکڑنے کے لئے عمران نے اپنی پیٹی استعمال کی تھی اور اس کے منہ میں دو عدد رومال حلق تک ٹھونس دیئے گئے تھے۔

سیٹ کے نیچے ایک لاش تھی جس کا چہرہ بھرتا ہو گیا تھا۔

کھڑکی کے شیشوں پر سیاہ پردے کھینچ دیئے گئے تھے۔

روشی اس طرح خاموش تھی جیسے اس کی اپنی زندگی بھی خطرے میں ہو!

وہ کافی دیر سے کچھ بولنے کی کوشش کر رہی تھی مگر ابھی تک اسے کامیابی نہیں نصیب ہوئی تھی! لیکن کب تک! کار میں پڑی ہوئی لاش اسے پاگلوں کی طرح چیخنے پر مجبور کر رہی تھی۔

“میرا خیال ہے کہ اب تم سیدھے کوتوالی چلو۔” روشی نے کہا۔

“ارے باپ رے!” عمران خوفزدہ آواز میں بڑبڑایا۔

“نہیں تمہیں چلنا پڑے گا! کچھ نہیں کوئی خاص بات نہیں! ہم جو کچھ بھی بیان دیں گے وہ غلط نہیں ہوگا۔ تم نے اپنی جان بچانے کے لئے اسے نیچے گرایا تھا۔”

“وہ تو سب ٹھیک ہے۔۔۔ مگر پولیس کا چکر!۔۔۔ نہیں یہ میرے بس کا روگ نہیں۔”

“پھر لاش کا کیا ہوگا۔ تم نے اسے وہاں سے اٹھایا کیوں؟ ڈرائیور کو بھی وہیں چھوڑ آئے ہوتے! کار کو ہم شہر کے باہر چھوڑ کر پیدل چلے جاتے۔”

“اس وقت کیوں نہیں دیا تھا یہ مشورہ!” عمران غصیلی آواز میں بولا۔ “اب کیا ہو سکتا ہے اب تو ہم شہر میں داخل ہوگئے ہیں!”

روشی کے ہاتھ پیر ڈھیل ہوگئے اس نے پیشانی سے پسینہ پونچھتے ہوئے کہا۔ “اب بھی غنیمت ہے پھر وہیں واپس چلو۔”

“تم مجھ سے زیادہ احمق معلوم ہوتی ہو۔ اس بار اگر دس پانچ سے ملاقات ہوگئی تو میرا سرمہ بن جائیگا اور تمہاری جیلی!”

“پھر کیا کرو گے۔”

“دیکھو ایک بات سوجھ رہی ہے۔ مگر میں تمہیں نہ بتاؤں گا اور نہ تم پھر کوئی ایسا مشورہ دوگی کہ مجھے اپنی عقل پر رونا آجائے گا!”

روشی خاموش ہوگئی! اس لئے نہیں کہ لاجواب ہوگئی تھی بلکہ اس کا جسم بری طرح کانپ رہا تھا اور حلق میں کانٹے پڑے جا رہے تھے۔

عمران کار کو شہر کے ایک ایسے حصے میں لایا جہاں کرائے پر دیئے جانے والے بہت سے گیراج بنے تھے۔

اس نے کار ایک جگہ روک دی! اور اتر کر ایک گیراج حاصل کرنے کے لئے گفت و شنید کرنے لگا۔ اس نے مینیجر کو بتایا کہ وہ سیاح ہے۔ کارونیشن ہوٹل میں قیام ہے مگر چونکہ وہاں کاروں کے لئے کوئی انتظام نہیں ہے اس لئے وہ یہاں ایک گیراج کرائے پر حاصل کرنا پڑا ہے۔ بات غیر معمولی نہیں تھی اس لئے اسے گیراج حاصل کرنے میں دشواری نہیں ہوئی۔ اس نے ایک ہفتہ کا پیشگی کرایہ ادا کرکے گیراج کی کنجی اور رسید حاصل کی اور پھر کار کو گیراج میں مقفل کرکے روشی کے ساتھ ٹہلتا ہوا دوسری طرف سڑک پر آگیا۔

“لیکن کا انجام کیا ہوگا۔” روشی بڑبڑائی۔

“صبح تک وہ ڈرائیور بھی مر جائے گا۔” عمران نے بڑی سادگی سے جواب دیا۔

“تم بالکل گدھے ہو۔” روشی جھلا گئی۔

“نہیں اب میں اتنا گدھا بھی نہیں ہوں! میں نے اپنا صحیح نام اور پتہ نہیں لکھوایا۔”

“اس خیال میں نہ رہنا۔” روشی نے تلخ لہجے میں کہا۔ “پولیس شکاری کتوں کی طرح پیچھا کرتی ہے۔”

“فکر نہ کرو! ایک ہفتے تک تو وہ گیراج کھلنا نہیں! کیوں کہ میں نے ایک ہفتے کا پیشگی کرایہ ادا کیا ہے اور پھر ایک ہفتے میں۔۔۔ میں نہ جانے کہاں ۃوں گا! ہوسکتا ہے مر ہی جاؤں ہوسکتا ہے اس نامعلوم آدمی کی موت آجائے۔۔۔ بہرحال وہ اپنے دو ساتھیوں سے محروم ہو ہی چکا ہے!”

روشی کچھ نہ بولی! اس کا سر چکرا رہا تھا۔

عمران نے ایک گزرتی ہوئی ٹیکسی رکوائی! روشی کے لئے دروازہ کھولا اور پھر خود بھی اندر بیٹھا ہوا ڈرائیور سے بولا۔ “وہاٹ ماربل۔”

روشی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اسے دیکھنے لگی۔

“ہاں” عمران سرہلا کر بولا “وہیں کھانا کھائیں گے! کافی پیئں گے اور تم دو ایک پیگ لے لینا! طبیعت سنبھل جائے گی۔ ویسے اگر چیونگم پسند کرو تو ابھی دوں۔۔۔ اور ہاں ہم وہاں دو ایک راؤنڈ رمبا بھی ناچیں گے۔”

“کیا تم سچ مچ پاگل ہو!” روشی آہستہ سے بولی۔

“ہائیں! کبھی احمق۔ کبھی پاگل! اب میں اپنا گلا گھونٹ لوں گا۔”

روشی خاموش ہوگئی! وہ اس سلسلے میں بہت کچھ کہنا چاہتی تھی۔ لیکن اسے الفاظ نہیں مل رہے تھے۔ ذہنی انتشار اپنی انتہائی منزلیں طے کر رہا تھا۔

وہ وہاٹ ماربل میں پہنچ گئے!۔۔۔ روشی کا دل چاہ رہا تھا کہ پاگلوں کی طرح چیختی ہوئی گھر کی طرف بھاگ جائے۔

عمران اسے ایک کیبن میں بٹھا کر باتھ روم کی طرف چلا گیا! باتھ روم کا تو صرف بہانہ تھا! وہ دراصل اس کیبن میں جانا چاہتا تھا جہاں گاہکوں کے استعمال کرنے کا فون تھا۔

اس نے وہ نمبر ڈائل کئے جس پر انسپکٹر جاوید سے ہر وقت رابطہ کیا جا سکتا تھا۔

“ہیلو!۔۔۔ کون۔۔۔ انسپکٹر جاوید سے ملنا ہے! اوہ آپ ہیں، سنئے میں علی عمران بول رہا ہوں۔ ہاں۔۔۔ دیکھئے۔۔۔ امیر گنج کے گیراج نمبر تیرہ میں جو مقفل ہے آپ کو نیلے رنگ کی ایک کار ملے گی۔۔۔ اس میں دو شکار ہیں! ایک تو مر چکا ہے اور دوسرا شاید آپ کو زندہ ملے۔۔۔ گیراج کی کنجی میرے پاس ہے۔ آپ تلاشی کا وارنٹ لے کر جائیے اور بے دریغ تالا توڑ دیجئے۔۔۔ ہاں ہاں۔۔۔ یہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔۔۔ مجھے یقین ہے کہ دونوں اسی کے آدمی ہیں! اور نئے کافی رازداری کی ضرورت ہے! اس واقعے کو راز ہی رہنا چاہیئے! مکمل واقعات آپ کو کل صبح معلوم ہوں گے! اچھا شب بخیر!”

عمران ریسیور رکھ کر روشی کے پاس واپس آگیا۔

روشی کی حالت ابتر تھی! عمران نے کھانے سے قبل اسے شیری پلوائی۔۔۔ نتیجہ کسی حد تک اچھا ہی نکلا۔۔۔ روشی کے چہرے پر تازگی کے آثار نظر آنے لگے تھے۔۔۔ لیکن پھر بھی کھانا اس کے حلق سے نہیں اتر رہا تھا۔۔۔ اور وہ عمران کو حیرت سے دیکھ رہی تھی! جو کھانے پر اس طرح ٹوٹ پڑا تھا جیسے کئی دن سے بھوکا ہو اور اس کے چہرے پر وہی پرانی حماقت طاری ہوگئی تھی۔

“تم بہت خاموش ہو۔” عمران نے سر اٹھائے بغیر روشی سے کہا۔

“رمبا کی کیا رہی۔۔۔ میں ناچنے کے موڈ میں ہوں۔”

“خدا کے لئے مجھے پریشان مت کرو۔”

“تم عورت ہو یا۔۔۔ ذرا مجھے بتاؤ کہ کیا میں ان کے ہاتھوں مارا جاتا! وہ ہمیں کہیں لے جا کر ہماری چٹنی بنا ڈالتے!”
“میں اس موضوع پر بات نہں کر چاہتی۔” روشی نے اپنی پیشانی رگڑتے ہوئے کہا۔

“میں خود نہیں کرنا چاہتا تھا! خود چھیڑتی ہو اور پھر ایسا لگتا ہے جیسے مجھے کھا جاؤ گی۔”

“عمران ڈیئر۔۔۔ سوچو تو اب کیا ہوگا۔”

“دوسرا بھی مر جائے گا۔۔۔ اور دو چار دن لاشوں کی بدبو پھیلے گی تو گیراج کا تالا توڑ دیا جائے گا اور پھر وہ پکڑا جائے گا جس کی وہ کار ہوگی۔۔۔ ہاہا۔۔۔!”

“اور جو تم انہیں اپنی شکل دکھا آئے ہو۔” روشی بھنا کر بولی۔

“گیراج والوں کو!” عمران نے پوچھا اور روشی نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

عمران نے کہا۔ “مگر وہ لوگ تمہاری شکل نہیں دیکھ سکے تھے۔ تم محفوظ رہو گی۔!

“میں تمہارے لئے کہہ رہی ہوں۔” روشی جھپٹ پڑی۔

“میری فکر نہ کرو۔۔۔ میں پٹھان ہوں! جب تک اس نامعلوم آدمی کا صفایا نہ کر لوں اس شہر سے نہیں جاؤں گا۔ ویسے میں اب تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتا۔”

“کیوں!” روشی اسے گھورنے لگی۔

“تم بات بات پر میری توہین کرتی ہو! احمق۔۔۔ پاگل اور نہ جانے کیا کیا کہتی رہتی ہو! خود بوری ہوتی ہو اور مجھے بور کرتی ہو۔”

روشی کے ہونٹوں پر پھیکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔

“تم میرے ساتھ رمبا ناچو گی؟” عمران ایک ایک لفظ پر زور دیتا ہوا بولا۔

“ہوں! اچھا!” روشی اٹھتے ہوئے بولی۔ “چلو! لیکن یہ یاد رکھنا۔۔۔ تم مجھے آج بہت پریشان کر رہے ہو۔”

وہ دونوں ریکرئیشن ہال میں داخل ہوئے۔۔۔ درجنوں جوڑے رقص کر رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد عمران او روشی بھی ان کی بھیڑ میں غائب ہو گئے۔
دوسرے دن عمران محکمہ سراغرسانی کے سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں بیٹھا تھا۔

جس وقت وہ یہاں داخل ہوا تھا اس کے چہرے پر گھنی داڑھی تھی اور چہرے پر کچھ ایس قسم کا تقدس تھا کہ وہ کوئی نیک دل پادری معلوم ہوتا تھا۔۔۔ آنکھوں پر تاریک شیشوں کی عینک تھی۔۔۔ داڑھی اب بھی موجود تھی لیکن چشمہ اتار دیا گیا تھا۔

سپرنٹنڈنٹ وہ رپورٹ پڑھ رہا تھا جو عمران نے پچھلی رات کے واقعات کے متعلق مرتب کی تھی۔

“مگر جناب!” سپرنٹنڈنٹ نے تھوڑی دیر بعد کہا۔ “وہ کار چوری کی ہے! اس کی چوری کی رپورٹ ایک ہفتہ قبل کوتوالی میں درج کرائی گئی تھی۔”

“ٹھیک ہے!” عمران سر ہلا کر بولا۔ “اس قسم کی مہموں میں ایسی ہی کاریں استعمال کی جاتی ہیں! میرا خیال ہے کہ یہاں آئے دن کاریں چرائی جاتی ہوں گی!”

“آپ کا خیال درست ہے۔ لیکن وہ کہیں نہ کہیں مل بھی جاتی ہیں! لیکن ایسی کار کے ساتھ کسی آدمی کا بھی پکڑا جانا پہلا واقعہ ہے۔”

“ڈرائیور سے آپ نے کیا معلوم کیا؟” عمران نے پوچھا۔

“کچھ بھی نہیں! وہ کہتا ہے کہ کل شام ہی کو اس کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔ وہ دراصل ایک ٹیکسی ڈرائیور ہے اور اسے صرف تین گھنٹے کام کرنے کی اجرت تین سو روپے پیشگی دے دی گئی تھی۔”

“آہم! تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جس سے کچھ معلوم ہونے کی توقع کی جاسکتی وہ ختم ہی ہو گیا۔ خیر۔۔۔ لیکن یہ تو معلوم کیا جا سکتا ہے کہ مرنے والا کون تھا کہاں رہتا تھا کن حلقوں سے اس کا تعلق تھا۔”

“جاوید اس کے لئے کام کر رہا ہے اور مجھے توقع ہے کہ وہ کامیاب ہوگا۔”

“ٹھیک! اچھا کیا آپ اس بات سے واقف ہیں۔۔۔ مگر نہیں۔۔۔ خیر میں ابھی کیا کہہ رہا تھا!

عمران خاموش ہو کر اپنی پیشانی پر انگلی مارنے لگا۔۔۔ وہ دراصل سپرنٹنڈنٹ سے فون نمبر سکس ناٹ کے متعلق گفتگو کرنے جا رہا تھا۔۔۔ لیکن پھر کچھ سوچ کر رک گیا۔

“کیا آپ کوئی خاص بات کہنے والے تھے۔” سپرنٹنڈنٹ نے پوچھا۔

“وہ بھی بھول گیا!” عمران نے سنجیدگی سے کہا! پھر اس کے چہرے پر نہ جانے کہاں کا غم ٹوٹ پڑا اور وہ ٹھنڈی سانس لے کر دردناک لہجے میں بولا۔”میں نہیں جانتا کہ یہ کوئی مرض ہے یا ذہنی کمزوری۔۔۔اچانک اس طرح ذہنی رو بہکتی ہے کہ میں وقتی طور پر سب کچھ بھول جاتا ہوں ہو سکت اہے کہ تھوڑی دیر بعد وہ بات یاد ہی آجائے، جو میں آپ سے کہنا چاہتا تھا۔”

سپرنٹنڈنٹ اسے ٹٹولنے والی نظروں سے دیکھنے لگا! لیکن عمران کے چہرے سے اس کی دلی کیفیات کا اندازہ کرلینا آسان کام نہیں تھا۔

پھر اس کیس کے متعلق دونوں میں کافی دیر تک مختلف قسم کی باتیں ہوتی رہیں۔ سپرنٹنڈنٹ نے اسے بتایا کہ اے بی سی ہوٹل کے تین آدمی جعلی نوٹوں سمیت پکڑے گئے ہیں۔ عمران نے نوٹوں کے نمبر طلب کئے سپرنٹنڈنٹ نے دراز سے لسٹ نکال کر اس کی طرف بڑھا دی۔

“نہیں۔” عمران سرہلا کر بولا۔ “اس میں صرف وہی نمبر ہیں جو میں ہوٹل میں ہارا تھا۔ ایک بھی ایسا نمبر نہیں نظر آتا، جو اس آدمی والے پیکٹوں سے تعلق رکھتا ہو!”

“تب تو ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ اے بی سی والوں کا اس سے کوئی تعلق نہیں! ظاہر ہے کہ اگر وہ ہوشیار ہو گیا تو اسے اے بی سی والوں کو بھی نوٹوں کے استعمال سے روک دینا چاہیئے تھا۔”
“نہیں اس کے بارے میں تو کچھ کہا ہی نہیں جاسکتا۔” عمران نے کہا۔” ہوسکتا ہے کہ تعلق ظاہر نہ کرنے ہی کے لئے اس نے دیدہ دانستہ ان آدمیوں کو پولیس کے چنگل میں دے دیا ہو!”

“جی ہاں یہ بھی ممکن ہے!” سپرنٹنڈنٹ سرہلانے لگا۔

“فی الحال ہمیں اے بی سی والوں کو نظر انداز کر دینا چاہیئے۔” عمران نے کہا۔

“لیکن اب آپ کیا کریں گے!” سپرنٹنڈنٹ نے پوچھا۔

“بتانا بہت مشکل ہے۔ میں پہلے سے کوئی طریق کار متعین نہیں کرتا۔ بس وقت پر جو سوجھ جائے! پچھلی رات کے واقعات کا رد عمل کیا ہوتا ہے؟ اب اس کا منتظر ہوں۔”

پھر عمران زیادہ دیر تک وہاں نہیں بیٹھا، کیوں کہ ایک نیا خیال اس کے ذہن میں سر ابھار رہا تھا! وہ وہاں سے نکل کر ایک طرف چلنے لگا۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ اس کا بھی اندازہ کرتا جا رہا تھا کہ کہیں کوئی اس کا تعاقب تو نہیں کر رہا۔

اس نے آج بھی سپرنٹنڈنٹ سے روشی کا تذکرہ نہیں کیا تھا! وہ اسے پس منظر ہی میں رکھنا چاہتا تھا۔

کچھ دور چل کر وہ ایک ٹیلیفون بوتھ کے سامنے رک گیا۔ اس نے مڑ کر دیکھا دور دور تک کسی کا پتہ نہیں تھا۔ سڑک زیادہ چلتی ہوئی نہیں تھی۔ کبھی کبھار ایک آدھ کار گزرجاتی تھی۔ کوئی راہ گیر چلتا ہوا نظر آجاتا تھا۔

عمران بوتھ کا دروازہ کھول کر اندر چلا گیا اور پھر اسے اندر سے بولٹ کرنے کے بعد سوراخ میں سکہ ڈالا۔۔۔ دوسرے لمحے میں سکس ناٹ کو ڈائیل کر رہا تھا۔

“ہیلو!” دوسری طرف سے ایک بھاری آواز آئی۔

“میں روشی بول رہی ہوں۔” عمران نے ماؤتھ پیس میں کہا! اگر اس وقت روشی یہاں موجود ہوتی تو اسے عمران کی آواز سن کر غش ضرور آجاتا!

“روشی”

“ہاں! میں بہت پریشان ہوں۔”

“کیوں؟”

“اس نے پچھلی رات ایک آدمی کو مارڈ ڈالا ہے۔۔۔ وہ ہماری کار کی اسٹپنی میں چھپ گیا تھا۔۔۔ پھر ایک جگہ اس نے پچھلا شیشہ توڑ کر ہمیں ریوالور دکھایا۔ میں نہیں کہہ سکتی کہ اسے اس نے کس طرح نیچے گرادیا۔” عمران نے پورا واقعہ دہراتے ہوئے کہا۔ “میں بہت پریشان تھی۔ میں نے اس سے کہا کہ پولیس کو اطلاع دے مگر اس نے انکار کر دیا۔۔۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں! بہرحال میں نے گھبراہٹ میں پولیس کو فون کر دیا تھا کہ فلاں نمبر کے گیراج میں ایک لاش ہے۔ لیکن میں نے یہ نہیں بتایا کہ میں کون ہوں۔”

“اسے علم ہے کہ تم نے پولیس کو فون کیا ہے۔”
“نہیں! میں نے اسے نہیں بتایا! میں بہت پریشان ہوں! وہ کوئی خطرناک آدمی معلوم ہوتا ہے۔۔۔ کون ہے؟ یہ میں نہیں جانتی!”

“تم اس وقت کہاں سے بول رہی ہو!”

“یہ نہیں بتاؤں گی! مجھے تم سے خوف معلوم ہوتا ہے۔”

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: