Bhayanak Aadmi by Ibne Safi – Episode 6

0

بھیانک آدمی از ابن صفی قسط 06

دوسری طرف سے ہلکے قہقہے کی آواز آئی او ربولنے والے نے کہا۔ “تم پبلک بوتھ نمبر چوبیس سے بول رہی ہو۔”

اور عمران کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔

“میں جا رہی ہوں!” اس نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا۔

“نہیں ٹھہرو! اسی میں تمہاری بہتری ہے۔۔۔ ورنہ جانتی ہو کہ کیا ہوگا؟ اگر پولیس کے ہتھے چڑھ گئیں تو۔۔۔ میرا تم سے کوئی جھگڑا نہیں بلکہ تم کئی بار نادانستہ طور پرمیرے کام بھی آچکی ہو۔۔۔ میں تمہیں اس جنجال سے بچانا چاہتا ہوں۔۔۔ ہاں تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ تم بوتھ کے باہر ٹھہرو! آدھ گھنٹےکے اندر ہی اندر میراایک آدمی وہاں پہنچ جائے گا۔”

“کیوں۔۔۔ نہیں نہیں!” عمران نے احتجاجا کہا۔ “میں بالکل بے قصور ہوں میں کیا کروں وہ خوامخواہ میرے گلے پڑ گیا ہے۔”

“ڈرو نہیں روشی!” بولنے والے نے اسے چمکار کر کہا۔ “میں تمہاری مدد کرنا چاہتا ہوں۔ اسی میں تمہاری بہتری ہے۔”

عمران نے فورا ہی کوئی جواب نہیں دیا۔

“ہیلو!” دوسری طرف سے آواز آئی۔

“ہیلو” عمران کپکپائی ہوئی آواز میں بولا۔ “اچھا میں انتظار کروں گی لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ میری زندگی کا آخری دن ہے۔”

“بہت ڈر گئی ہو!” قہقہے کے ساتھ کہا گیا۔ “ارے اگر میں تمہیں مارنا چاہتا تو تم اب تک زندہ نہ ہوتیں۔ اچھا تم وہیں انتظار کرو۔”

سلسلہ منقطع کر دیا گیا! عمران بوتھ سے نکل آیا! اس کے ہونٹوں پر شرارت آمیز مسکراہٹ تھی اور داڑھی میں یہ مسکراہٹ نہ جانے کیوں خطرناک معلوم ہو رہی تھی۔

آدھے گھنٹے تک اسے انتظار کرنا تھا۔ وہ ٹہلتا ہوا سڑک کی دوسری جانب چلا گیا۔ ادھر چند سایہ دار درخت تھے۔

روشی کا انتظام اس نے پچھلی رات ہی کو کر لیا تھا! وہ اس وقت ایک غیر معروف سے ہوٹل کے ایک کمرے میں مقیم تھی اور عمران نے پچھلی رات اسی کے فلیٹ میں تنہا گذاری تھی!۔

وہ درختوں کے نیچے ٹہلتا رہا۔ بار بار اس کی نظر گھڑی کی طرف اٹھ جاتی تھی۔ بیس منٹ گذر گئے! اب وہ پھر بوتھ کی طرف جا رہا تھا!

زیادہ دیر نہیں گذری تھی کہ اس نے محسوس کیا کہ ایک کار قریب ہی اس کی پشت پر آکر رکی ہے۔

اچانک عمران پر کھانسیوں کا دورہ پڑا۔ وہ پیٹ دبائے ہوئے جھک کر کھانسنے لگا۔ پھر سیدھا کھڑا ہو کر بوتھ کی طرف مکا لہراتا ہوا غصیلی آواز میں بولا “سالی کبھی تو باہر نکلو گی۔”

“کیا بات ہے جناب۔” کسی نے پشت سے کہا۔

عمران چونک کر مڑا۔ اس کے تین یا چار فٹ کے فاصلے پر ایک نوارد نوجوان کھڑا تھا اور سڑک پر ایک خالی کار موجود تھی!

“کیا بتاؤں جناب!” عمران اس طرح بولا جیسے کھانسیوں کے دوررے کی وجہ سے اس کی سانسیں الجھ رہی ہوں! وہ چند لمحے ہانپتا رہا پھر بولا۔ “ایک گھنٹے سے اندر گھسی ہوئی ہے۔ مجھے بھی ایک ضروری فون کرنا ہے۔۔۔ کئی بار دستک دے چکا ہوں! ہر بار یہی کہہ دیتی ہے کہ ایک منٹ ٹھہریئے! ایک منٹ کی ایسی کی تیسی ایک گھنٹہ ہو گیا۔۔۔”
“اوہ ٹھہریئے! میں دیکھتا ہوں!” نووارد آگے بڑھتا ہوا بولا۔ اس نے ہینڈل گھما کر دروازہ کھولا لیکن پھر اسے مڑنا نصیب نہیں ہوا۔ عمران کا ہاتھ اس کی گردن دبوچ چکا تھا!۔۔۔ اس نے اسے بوتھ کے اندر دھکا دے دیا اور خود بھی طوفان کی طرح اس پر جاپڑا۔

بوتھ کا دروازہ خودکار تھا اس لئے اسے بند کرنے کی ضرورت بھی نہیں تھی وہ ان دونوں کے داخل ہوتے ہی خود بخود بند ہو گیا تھا۔

تپھڑوں، گھونسوں اور لاتوں کا طوفان۔

ہاتھ کے ساتھ ہی ساتھ عمران کی زبان بھی چل رہی تھی۔

“میں روشی تمہاری ٹھکائی کر رہی ہوں مری جان! اپنے بلڈاگ سے کہہ دینا کہ میرے بقیہ نوٹ مجھے واپس کردے ورنہ ایک دن اسے بھی کسی چوہے دان میں بند کرکے ماروں گا۔۔۔ اور وہ سالی روشی۔۔۔ وہ بھی مجھے جل دے گئی۔ کل رات سے غائب ہے اور بیٹا کل رات میں نے تمہارے ایک ساتھی کی کمر توڑ دی ہے!”

عمران اس پر اچانک اس طرح ٹوٹ پڑا تھا کہ اسے کچھ سوچنے سمجھنے کا موقع ہی نہ مل سکا۔ پھر ایسی صورت میں چپ چاپ پٹتے رہنے کے علاوہ اور کیا ہوسکتا تھا۔

Read More:  Neelay Parinday By Ibn-e-safi – Episode 1

تھوڑی ہی دیر میں اس نے ہاتھ پاؤں ڈال دیئے۔

عمران نے اسے کالر سے پکڑ کر اٹھایا لیکن اس کے پیر زمین پر ٹکتے ہی نہیں تھے!

“دیکھ بیٹا! اپنے بلڈاگ سے کہہ دینا کہ آج رات کو میرے بقیہ نوٹ واپس مل جانے چاہئیں۔۔۔ وہ جعلی ہیں! میں انہیں ابھی بازار میں نہیں لانا چاہتا تھا! مگر اس کتے کی وجہ سے میرا کھیل بگڑ گیا ہے! آخر وہ دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑانے والا ہوتا کون ہے۔ اس سے کہو آج رات مجھے نوٹ واپس ملنے چاہئیں۔ میں روشی ہی کے فلیٹ میں ہوں! وہ مجھ سے خائف ہو کر کہیں چھپ گئی ہے۔۔۔ آج رات کو۔۔۔ بھولنا نہیں۔۔۔ میں روشی ہی کے فلیٹ میں ملوں گا اور یہ بھی کہہ دینا اس چڑیمار سے کہ اے بی سی ہوٹل میں ایک پولیس آفیسر مچھلیوں کے شکار کے بہانے ٹھہرا ہوا ہے ہوشیار رہنا۔”

پھر اس نے اسے کھینچ کر بوتھ سے باہر نکالا۔

سڑک ویران پڑی تھی!۔۔۔ نووارد اگر چاہتا تو کھلی جگہ میں اس سے نپٹ سکتا تھا! مگر حقیقت تو یہ تھی کہ اب اس میں جدوجہد کی سکت نہیں رہ گئی تھی!

عمران نے اسے اسٹیرنگ پر بٹھا دیا۔

“جاؤ اب دفع ہو جاؤ!” عمران نے کہا۔ “ورنہ ہو سکتا ہے کہ مجھے تم پر پھر پیار آنے لگے۔ اپنے بلڈاگ تک میرا پیغام ضرور پہنچا دینا! نہیں تو پھر جانتے ہو مجھے جہاں بھی اندھیرے اجالے مل گئے تمہارا آملیٹ بنا کر رکھ دوں گا۔”

ہدہد کو عمران نے بالکل اپنے رنگ میں ڈھالنے کی کوشش کی تھی۔ وہ سچ مچ تھوڑا سا بیوقوف تھا۔ لیکن عمران کے اشارے پر بالکل مشین کی طرح کام کرتا تھا۔ کاہل اور سست ہونے کے باوجود بھی کام کے وقت اس میں کافی پھرتیلا پن آجاتا تھا۔

مگر اس کام سے وہ بری طرح بیزار تھا جو آج کل اسے سونپا گیا تھا وہ اس کام کو کسی حد تک برداشت کر سکتا تھا! مگر کم از کم اے بی سی ہوٹل میں قیام کرنے کے لئے تیار نہیں تھا! لیکن عمران سے خوف معلوم ہوتا تھا اور وہ بے چارہ ابھی تک اس بات سے واقف نہیں تھا کہ اسے حقیقتا کرنا کیا ہے۔ ویسے محکمہ اسے مچھلی کا شکار کرنے کی تنخواہ تو دیتا نہیں تھا۔

کل وہ ہوٹل میں داخل ہوا تھا اور آج اسے عمران کی ہدایت کے مطابق شکار کے لئے صبح سے شام تک سمندر کے کنارے بیٹھنا تھا۔

لیکن وہ اے بی سی کی فضا اور ماحول سے سخت بیزار تھا! اسے وہاں ہروقت برے آدمی اور بری عورتیں نظر آتی تھیں۔

اس وقت وہ ناشتے کی میز پر بیٹھا جلدی جلدی حلق میں چائے انڈیل رہا تھا! وہ جلد سے جلد یہاں سے نکل جانا چاہتا تھا!۔۔۔ بات یہ تھی کہ اسے کاوئنٹر کے قریب وہی عورت نظر آگئی تھی جس نے پچھلی رات اسے بہت پریشان کیا تھا! رات وہ نشے میں تھی اور ہدہد کے سر ہو گئی تھی کہ وہ اسے فلم دیوداس کا گانا “بالم آبسو مورے من میں!” سنائے ہدہد کی بوکھلاہٹ دیکھ کر دوسرے لوگ بھی اس تفریح میں دلچسپی لینے لگے تھے۔

پتہ نہیں کس طرح ہدہد نے اس سے پیچھا چھڑایا تھا۔

اب اس وقت پھر اسے دیکھ کر اس کے ہاتھ پاؤں پھول گئے تھے۔

لیکن عورت جو اس وقت نشے میں نہیں تھی۔ کافی سنجیدہ نظر آرہی تھی! ہدہد نے جلدی جلدی ناشتہ ختم کیا اور کمرے سے شکار کا سامان لے کر گھاٹ کی طرف روانہ ہو گیا۔

ہدہد یہاں آنے کے مقصد سے تو واقف نہیں تھا! وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ عمران کو اس علاقے میں کیوں دلچسپی ہوسکتی ہے! مگر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ خود اسے کیا کرنا ہے۔۔۔ البتہ وہ اپنی آنکھیں ضرور کھلی رکھنا چاہتا تھا۔

اس حصے میں سمندر پرسکون تھا اور ادھر لانچوں اور کشتیوں کی بھی آمد و رفت نہیں رہتی تھی۔ اسے اپنے علاوہ دو تین آدمی اور بھی نظر آئے جو پانی میں ڈوریں ڈالے بیٹھے اونگھ رہے تھے۔

وہ ایک بجے تک جھک مارتا رہا۔ لیکن ایک مچھلی بھی اس کے کانٹے میں نہ لگی۔

Read More:  Mujhe Tera Har Zulm Qabool Novel By Suhaira Awais – Episode 7

لیکن وہ شاید اس بات سے بے خبر تھا کہ تھوڑے ہی فاصلے پر ایک آدمی کھڑا خود اس کا شکار کرنے کی تاک میں ہے۔

وہ آدمی چند لمحے کھڑا سیگرٹ کے کش لیتا رہا۔ پھر آہستہ آہستہ ہدہد کی طرف بڑھا۔

“آج کل شکار مشکل ہی سے ملتا ہے!” اس نے ہدہد سے کچھ فاصلے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔

ہدہد چونک کر اسے گھورنے لگا۔یہ ایک دبلا پتلا اور دراز قد آدمی تھا۔ عمر تیس اور چالیس کے درمیان رہی ہوگی۔ اس نے شانے سے ایک کیمرہ لٹک رہا تھا۔

“جج جی ہاں!” ہدہد اپنے چہرے پر خوش اخلاقی کے آثار پیدا کرتا ہوا بولا۔

“آپ اس شوق کو کیسا سمجھتے ہیں۔” نووارد نے پوچھا!

“مم۔۔۔ معاف فرمائیے گا! مم۔۔۔ میں سمجھا نہیں۔”

“اوہ! میرے اس سوال کو کسی اور روشنی میں نہ لیجئے گا! میرا تعلق دراصل ایک باتصویر ماہنامے سے ہے، اور میرا کام یہ ہے کہ میں مختلف قسم کی ہابیز کے متعلق معلومات اور تصاویر فراہم کروں۔”

“یہ میرے ہابی نہیں بلکہ۔۔۔ پپ پیشہ ہے۔” ہدہد مسکرا کر بولا۔

“میں نہیں یقین کر سکتا جناب!” نووارد بھی ہنسنے لگا۔ “ہمارے یہاں کے پیشہ ور سمندر میں جال ڈالتے ہیں اور ان کا لباس اتنا شاندار نہیں ہوتا۔۔۔ اور وہ تنکوں کے ہیٹ بھی نہیں لگاتے۔”

ہدہد بھی خوامخواہ ہنسنے لگا اور نووارد نے کہا۔” میں آپ کا شکر گذار ہوں گا! اگر آپ مجھے شکار کھیلتے ہوئے دو تین پوز دے دیں۔”

“یہاں اکیلا۔۔۔ مم۔۔۔ میں۔۔۔ ہی۔۔۔ تت تو نہیں ہوں۔”

“درست ہے! لیکن میں انہیں اس قابل نہیں سمجھتا کہ ان کی تصویر کسی ایسے ماہنامے میں شائع ہو جو امریکہ، انگلینڈ، فرانس، جرمنی اور ہالینڈ جیسے ممالک میں جاتا ہو۔”

ہدہد گدھے کی طرح پھول گیا اور اس نے اپنے تین پوز دے دیئے! لیکن اس شوق کے متعلق اظہار خیال کرتے وقت وہ بری طرح ہکلانے لگا۔ظاہر ہے کہ اسے مچھلیوں کے متعلق صرف اتنا ہی معلوم تھا کہ ہر مچھلی لذیذ نہیں ہوتی اور خواہ وہ کسی قسم سے تعلق رکھتی ہو اس میں کانٹے ضرور ہوں گے۔

“میں زبانی۔۔۔ نن نہیں۔۔۔ بب۔۔۔ بب۔۔۔ بتا سکتا!” اس نے آخرکار تنگ آکر کہا۔ “لکھ کر۔۔۔ ددے۔۔۔ سکتا ہوں۔”

“ہوتا ہے۔۔۔ ہوتا ہے۔” نووارد سرہلا کر بولا۔” بعض لوگ لکھ سکتے ہیں بیان نہیں کرسکتے۔ اچھا کوئی بات نہیں! ۔۔۔ مجھے اس کے بارے میں جتنا بھی علم ہے خود ہی لکھ لوں گا! ویسے آپ مجھے اپنا نام اور پتہ لکھوا دیجیئے۔”

ہدہد نے اطمینان کا سانس لیا۔۔۔ ظاہر ہے کہ اس نے نام اور پتہ غلط ہی لکھوایا ہوگا۔

نووارد رخصت ہوگیا۔۔۔ لیکن اس نووارد کی گھات میں کوئی اور بھی تھا۔ جیسے ہی وہ دور ریتلے حصے کو پار کرکے بندرگاہ کی طرف جانے والی سڑک پر پہنچا! ایک آدمی تودے کی اوٹ سے نکل کر اس کا تعاقب کرنے لگا اور یہ آدمی عمران کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا۔
روشی اپنے اقامتی ہوٹل میں پچھلی رات سے عمران کا انتظار کر رہی تھی۔ وہ اسے ہوٹل میں ٹھہرا کر جلدی ہی واپس آنے کا وعدہ کرکے رخصت ہو گیا تھا۔ روشی اس کے لئے بے حد متفکر تھی! لیکن اتنی ہمت بھی نہیں رکھتی تھی کہ اس کی تلاش میں نکل کھڑی ہوتی۔

اسے پولیس کا بھی خوف تھا اور وہ بھیانک آدمی تو تھا ہی اس کی تلاش میں۔۔۔ سارا دن گذر گیا لیکن عمران نہیں آیا۔ اس وقت شام کے چار بج رہے تھے اور روشی قطعی ناامید ہو چکی تھی اسے یقین تھا کہ عمران کسی نہ کسی مصیبت میں پھنس گیا ہے۔

یا تو وہ پولیس کے ہتھے چڑھ گیا! یا پھر اس بھیانک آدمی نے۔۔۔ وہ اس خیال ہی سے کانپ اٹھی۔۔۔ اس کے تصور میں عمران کی لاش تھی۔

وہ پلنگ پر کروٹیں بدل رہی تھی! اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کرے! اچانک کسی نے دروازے پر دستک دی اور روشی اچھل پڑی۔۔۔ لیکن پھر اس نے سوچا ممکن ہے ویٹر ہو کیوں کہ یہ چائے کا وقت تھا۔

“آجاؤ” روشی نے بے دلی سے کہا۔

دروازہ کھلا! عمران سامنے کھڑا مسکرا رہا تھا۔

“تم!” روشی بے تحاشہ اچھل کر اسکی طرف لپکی۔ “تم کہاں تھے! میں تمہیں مار ڈالوں گی۔”

Read More:  Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 10

“ہائیں!” عمران اس طرح بوکھلا کر پیچھے ہٹ گیا جیسے اسے سچ مچ روشی کی طرف سے قاتلانہ حملے کا خدشہ ہو۔

روشی ہنسنے لگی۔۔۔ مگر اسے جھنجھوڑ کر بولی۔ “تم بڑے سور ہو بتاؤ کہاں تھے۔”

“چچی فرزانہ کا مکان تلاش کر رہا تھا۔” عمران سنجیدگی سے بولا۔

“کیوں؟ یہ کون ہیں؟”

“میں نہیں جانتا!” عمران ٹھنڈی سانس لے کر بولا۔ “مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ ایک ایسے آدمی سے واقف ہیں جس کا بائیاں کان آدھا کٹا ہوا ہے۔”

“کرنے لگے بے تکی بکواس! تم مجھے اس طرح چھوڑ کر کہاں چلے گئے تھے۔”

“کیا تم مرنا چاہتی ہو۔”

“ہاں میں مرنا چاہتی ہوں۔” روشی جھلا گئی۔

“اچھا تو اردو کے عشقیہ ناول پڑھنا شروع کردو! تم بہت جلد بو ہو کر مر جاؤ گی۔”

“عمران! میں تمھیں گولی مار دوں گی۔”

“چلو بیٹھ جاؤ!” عمران اسے ایک آرام کرسی پر دھکیلتا ہوا بولا۔ “ہم دونوں کی زندگی کا انحصار صرف اس نامعلوم آدمی کی موت پر ہے۔”

روشی اسے خاموشی سے دیکھتی رہی پھر بولی۔ “تم آخر ہو کیا بلا۔۔۔ مجھے بتاؤ میں پاگل ہو جاؤں گی۔”

“میں تم سے پوچھتا ہوں کہ کیا کل رات فون پر تم نے پولیس کو اطلاع دی تھی!”

“کس بات کی اطلاع!” روشی چونک پڑی۔

“یہی کہ گیراج نمبر تیرہ میں ایک لاش ہے۔”

“ہرگز نہیں! بھلا میں کیوں اطلاع دینے لگی۔”

“پتہ نہیں۔ پھر وہ عورت کون ہے۔ تم نے شام کا کوئی اخبار دیکھا۔”

“نہیں! میں نے نہیں دیکھا۔ مجھے پوری بات بتاؤ! الجھن میں نہ ڈالو۔”

“پولیس نے گیراج کا تالا توڑ دیا ہے اور لاش دریافت کر لی ہے۔ ڈرائیور زندہ ہی نکلا تھا۔ صرف بیہوش ہو گیا تھا۔ اخبار کی خبر ہے۔ پچھلی رات کسی نامعلوم عورت نے جو لہجے سے اینگلو انڈین معلوم ہوتی تھی فون پر اس کی اطلاع پولیس کو دی تھی۔”

“میں قسم کھانے کو تیار ہوں۔”

“مجھے یقین ہے کہ تم ایسی حرکت نہیں کر سکتیں۔ کہنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ تم میری اجازت کے بغیر اس ہوٹل سے باہر قدم نہ نکالنا خواہ مجھے سے ایک ہفتے کے بعد ہی ملاقات کیوں نہ ہو۔”

“میں وعدہ نہیں کرسکتی۔”

“کیوں؟”

“میں تمہارے ساتھ ہی رہوں گی۔ تم مجھے تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔”

“یعنی تم چاہتی ہو کہ ہم دونوں کی گردنیں ساتھ ہی کٹیں۔”

“نہ جانے کیوں! مجھے تمہاری موجودگی میں کسی سے بھی خوف نہیں محسوس ہوتا۔”

“اچھا، صرف آج رات اور یہاں ٹھہر جاؤ!”

“آخرکیوں؟۔۔۔ تم کیا کرتے پھر رہے ہو۔ مجھے بتاؤ!”

“نہیں روشی تم بہت اچھی ہو! تم آج رات یہیں قیام کرو گی! اچھا یہ بتاؤ کبھی تمہیں اے بی سی ہوٹل میں کوئی ایسا آدمی نظر آیا ہے جس کا با بائیاں کان آدھا کٹا ہوا ہو۔”

روشی پلکیں جھپکانے لگی۔ شاید وہ کچھ یاد کرنے کے لئے ذہن پر زور دے رہی تھی۔

“کیوں! تم یہ کیوں پوچھ رہے ہو!” اس نے آہستہ سے پوچھا۔ “نہیں! میں نے وہاں ایسا کوئی آدمی نہیں دیکھا! لیکن میں ایسے ایک آدمی کو جانتی ضرور ہوں۔”

“اے بی سی سے تعلق ہے اس کا؟” عمران نے پوچھا۔

“نہیں! وہ اس حیثیت کا آدمی نہیں ہے کہ اس کا گذر اے بی سی جیسی مہنگی جگہوں میں ہوسکتے۔ وہ ماہی گیروں کی ایک کشتی پر ملازم ہے۔”

“تمہیں یقین ہے کہ اس کا بائیاں کان کٹا ہوا ہے۔”

“ہاں! لیکن تم۔۔۔!”

“شش ٹھہرو! مجھے بتاؤ کہ وہ اس وقت کہاں ملےگا ۔”

“میں بھلا کیسے بتا سکتی ہوں! مجھے اس کا گھر نہیں معلوم۔”

“تو اس کشتی ہی کا پتہ نشان بتاؤ جس پر کام کرتا ہے۔”

“ہرشفیلڈ فشریز!”

“ہرشفیلڈ فشریز!” عمران نے ایک طویل سانس لے کر آہستہ سے دہرایا۔ پھر اٹھتا ہوا بولا۔ “اچھا ٹاٹا۔۔۔ کل صبح ملاقات ہوگی۔”

“ٹھہرو! مجھے بتاؤ کہ تم کس چکر میں ہو۔”

“میں بقیہ نوٹ واپس لینا چاہتا ہوں۔”

“کچھ بھی ہو!” روشی اسے گھورتی ہوئی بولی۔ “اب تم مجھے اتنے احمق نہیں معلوم ہوتے جیسے اس شام اے بی سی میں معلوم ہوتے تھے۔”

“پھر احمق کہا!۔۔۔ تم خود احمق۔۔۔!”

عمران اسے گھونسہ دکھاتا ہوا کمرے سے نکل گیا۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: