Bhayanak Aadmi by Ibne Safi – Episode 7

0

بھیانک آدمی از ابن صفی قسط 07

روشی کا فلیٹ آج بہت زیادہ روشن نظر آرہا تھا! عمران نے چند مزید بلیوں کا اضافہ کیا تھا اور وہ فلیٹ میں تنہا تھا۔

اگر اس کے محکمے کے کسی آدمی کو اس کی ان حرکات کا علم ہو جاتا تو وہ اسے قطعی دیوانہ اور خبطی تصور کرلیتا۔

آج دن بھر وہ غلطیوں پر غلطیاں کرتا رہا تھا! مجرموں میں سے ایک کا ہاتھ آجانا اور پھر اسے صرف معمولی سی مرمت کرکے واپس کردینا اصولا ایک بہت بڑی غلطی تھی! ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ عمران اسے باقاعدہ طور پر گرفتار کرکے اسے اس کے دوسرے ساتھیوں کی نشاندہی پر مجبور کردیتا۔ پھر اس نے اسے ہدہد کے وجود سے آگاہ کردیا بلکہ اپنے متعلق بھی بتا دیا کہ روشی کے فلیٹ ہی میں رات بسر کرے گا۔

اور اب اس میں اس طرح چراغاں کیے بیٹھا تھا جیسے کسی خاص تقریب کے انتظامات میں مشغول ہو۔

کلاک نے بارہ بجائے اور اس نے دروازوں کی طرف دیکھا جو کھلے ہوئے تھے لیکن اسے کلک کی ٹک ٹک کے علاوہ اور کوئی آواز نہ سنائی دی۔

دروازے تو کیا آج اس نے کھڑکیاں تک کھلی رکھی تھیں حالانکہ آج سردی شباب پھر تھی۔

اچانک اسے راہداری میں قدموں کی آواز سنائی دی جو رفتہ رفتہ نزدیک ہوتی جا رہی تھی۔

پھر کسی نے گنگنا کر کہا۔ “روشی ڈارلنگ۔”

دوسرے ہی لمحے ایک نوعمر آدمی دروازے میں کھڑا احمقوں کی طرح پلکیں جھپکا رہا تھا۔

“فرمائیے!” عمران بڑے دلآویز انداز میں مسکرایا۔

“اوہ۔۔۔ معاف کیجئے گا!” اس نے شرمائے ہوئے لہجے میں کہا “یہاں پہلے روشی رہتی تھی!”

“اب بھی رہتی ہے! تشریف لائیے۔” عمران بولا۔

نوجوان کمرے میں چلا گیا۔

“روشی کہاں ہے؟”

“وہ آج کل اپنی خالہ کے یہاں مرغیوں کی دیکھ بھال کا طریقہ سیکھ رہی ہے۔”

“آپ کون ہیں”

“میں ایک شریف آدمی ہوں!”

“روشی!” نوجوان نے روشی کو آواز دی!

“میں کہہ رہا ہوں ناکہ وہ اس وقت یہاں نہیں ہے!” عمران بولا۔

“ارے وہ بڑی شریر ہے!” نوجوان ہنس کر بولا۔ “میری آواز سن کر چھپ گئی ہے! خیر میں ڈھونڈ لیتا ہوں۔”

نوجوان بڑی بے تکلفی سے روشی کی خوابگاہ میں داخل ہوگیا۔ عمران اس کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔ نوجوان نے دو تین منٹ کے اند رہی اندر پورے فلیٹ کی تلاشی لے ڈالی۔۔۔ پھر دوسری طرف تاریک راہداری میں ٹارچ کی روشنی ڈالنے لگا۔

“بس کرو میرے لال!” عمران اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا۔

“ابھی تمہارے منہ سے دودھ کی بو آتی ہے۔”

“کیا مطلب؟” نوجوان جھلا کر مڑا۔

“مطلب بھی بتاؤں گا۔۔ آؤ میرے ساتھ!” عمران نے کہا اور پھر اسے بیٹھنے کے کمرے میں واپس لایا۔۔۔ نوجوان اسے قہر آلود نظروں سے گھور رہا تھا۔

“تشریف رکھیئے جناب!” عمران نے غیر متوقع طور پر خوش اخلاقی کا مظاہرہ کیا۔

“ابھی تم نے کیا کہا تھا۔” نوجوان نے جھلائے ہوئے لہجے میں کہا۔

“میں نے عرض کیا تھا کہ آپ تلاشی لے چکے اور اب آپ کو یہ اطمینان ہو گیا کہ میرے ساتھ دوسرے آدمی نہیں ہیں۔۔۔ اب تشریف لیجائیے اور اپنے بلڈاگ سے کہہ دیجیئے کہ میرے نوٹ مجھے واپس کر دے۔ میں بہت برا آدمی ہوں! اپنے ساتھ بھیڑ بھاڑ نہیں رکھتا۔ تنہا کام کرتا ہوں! میں اس وقت فلیٹ میں تہنا ہوں! لیکن میرا دعوٰی ہے کہ تمہارا بلڈاگ میرا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا۔ یہ دیکھو۔ میں نے سارے دروازے کھول رکھے ہیں۔۔۔ اور یہاں سارے بلب روشن ہیں!۔۔۔ لیکن۔۔۔ ہاہا۔۔۔ کچھ نہیں۔”

“میں سمجھا نہیں کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔”

“جاؤ یار بھیجا نہ چاٹو۔۔۔ اسے میرا پیغام پہنچا دو جس نے تمہیں بھیجا ہے۔ چلو اب کھسکو بھی ورنہ میرا ہاتھ تم پر بھی اٹھ جائے گا۔ آج ہی میں تمہارے ایک ساتھی کی اچھی خاصی مرمت کرچکا ہوں۔”

“میں تمہیں دیکھ لوں گا!” نوجوان اٹھتا ہوا بولا۔۔۔ اور آندھی کی طرح کمرے سے باہر نکل گیا۔

لیکن عمران اس طرح کھڑا تھا جیسے اسے ابھی کسی اور کا انتظار ہو۔ اس نے جیب سے چیونگم کا پیکٹ نکالا اور ایک منتخب کرکے اسے آہستہ آہستہ کچلنے لگا۔

سیکنڈ منٹوں اور منٹ گھنٹوں میں تبدیل ہوتے چلے گئے۔ لیکن قریب یا دور کسی قسم کی بھی آواز نہ سنائی دی۔

اور پھر عمران خود کو سچ مچ احمق سمجھنے لگا! اسے توقع تھی کہ وہ نامعلوم آدمی ضرور آئے گا! لیکن اب دو بج رہے تھے اور کائنات پر سناٹے کی حکومت تھی۔

اس نے سوچا کہ اب اس حماقت کا خاتمہ کردے! ممکن ہے کہ وہ نوجوان روشی ہی کا کوئی گاہک رہا ہو!۔۔۔ عمران دروازے اور کھڑکیاں بندکرنے کے لئے اٹھا۔

Read More:  Jahan Pariyan Utarti Hain By Dr. Muhammad Iqbal Huma – Read Online – Episode 3

ابھی وہ دروازے کے قریب بھی نہیں پہنچا تھا کہ راہداری میں قدموں کی آوازیں گونجنے لگیں۔ کوئی بہت تیزی سے اسی طرف آرہا تھا۔ عمران بڑی پھرتی سے تین چار قدم پیچھے ہٹ آیا۔

لیکن دوسرے ہی لمحے اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ روشی دروازے میں کھڑی بری طرح ہانپ رہی تھی لیکن اس کے چہرے پر پریشانی کے آثار نہیں تھے۔

“تم نے میرا کہا نہیں مانا۔” عمران آنکھیں نکال کر بولا۔

“بس تم اسی طرح بکواس کیا کرو!” روشی ایک صوفے پر گرتی ہوئی بولی پھر اپنا وینٹی بیگ کھول کر دو پیکٹ نکالے اور انہیں عمران کی طرف اچھالتے ہوئے کہا۔ “اپنے بقیہ دو پیکٹ بھی سنبھالو۔”

عمران نے پیکٹوں کو الٹ پلٹ کر دیکھا اور پھر حیرت سے روشی کی طرف دیکھنے لگا۔

“کچھ دیر قبل میرا ہارٹ فیل ہوتے ہوتے بچا ہے۔” روشنی نے کہا۔

“کیوں؟ تمہیں یہ پیکٹ کہاں سے ملے!”

“بتاتی ہوں۔۔۔ ذرا دم لینے دو!” روشی نے کہا اور اٹھ کر الماری سے وہسکی کی بوتل نکالی۔۔۔ بڑے گلاس میں چھ انگل خالص وہسکی لے کر اس کی چسکیاں لینے لگی۔

پھر اس نے رومال سے ہونٹ خشک کرتے ہوئے کہا۔ “مجھے نیند نہیں آرہی تھی! ٹھیک ایک بجے کسی نے دروازے پر دستک دی۔ میں سمجھی تم ہو۔ میں نے اٹھ کر دروازہ کھول دیا۔ لیکن وہ تم نہیں تھے!ایک دوسرا آدمی تھا اس نے مجھے یہ دونوں پیکٹ کیئے اور ایک لفافہ۔۔۔ جس پر میرا نام لکھا ہوا تھا۔۔۔۔ اور پھر اس نے مجھے پوچھنے کی مہلت ہی نہیں دی۔ چپ چاپ واپس چلا گیا۔”

روشی نے وینٹی بیگ سے وہ لفافہ نکال کر عمران کی طرف بڑھا دیا!

عمران نے لفافے سے خط نکال کر میز پر پھیلاتے ہوئے ایک طویل سانس لی۔ تحریر تھا۔

“روشی! تمہارے دوست کے بقیہ دونوں پیکٹ واپس کر رہا ہوں لیکن تم انہیں کھول کر دیکھو گی نہیں! ہوٹل کے باہر ایک نیلے رنگ کی کار موجود ہے! چپ چاپ اس میں بیٹھ جاؤ۔
وہ تمہیں تمہارے فلیٹ تک پہنچا دے گی! تم دونوں خواہ کہیں چھپو میری نظروں سے نہیں چھپ سکتے! مجھے تم دونوں سے کوئی پرخاش نہیں ہے ورنہ تم اب تک زندہ نہ ہوتے! تمہارا دوست معمولی سا مجرم ہے۔ جعلی نوٹوں کا دھندا کرتا ہے اور بس! اس سے کہو کہ چپ چاپ اس شہر سے چلا جائے! ورنہ تم تو مجھے عرصہ سے جاتنی ہو! میں اور کچھ نہیں چاہتا! یہاں سے اسی وقت چلی جاؤ!

عمران نے خط ختم کرکے روشی سے کہا “اورتم نیلی کار میں بیٹھ گئیںَ”

“کیا کرتی! میں نے سوچا کہ جب اس نے میری جائے رہائش کا پتہ لگا لیا تو مجھے کسی قسم کا نقصان پہنچانے میں اسے کیا عار ہوسکتا ہے!”

ٹھیک ہے تم نے عقلمندی سے کام لیا ۔

“مگر۔۔۔!” روشی عمران کو گھورتی ہوئی بولی۔ “کیا اس نے تمارے متعلق سچ لکھا ہے!”

“جھک مارتا ہے! اب میں اس سے اپنی توہین کا بدلہ لوں گا!”

“دیکھو طوطے۔۔۔ میں نے تمہارے متعلق بہت کچھ سوچا ہے اور ہاں۔۔۔ تم نے یہ چراغاں کس خوشی میں رکھا ہے!”

“میں بہت زیادہ روشنی چاہتا ہوں! مگر تم نے بھی میرے متعلق غلط ہی سوچا ہوگا اچھا اب تم مجھے یہاں کبھی نہیں دیکھو گی!”

“تو واقعی اس شہر سے جا رہے ہو!”

“میں کسی کے حکم کا پابند نہیں ہوں اور پھر بھلا اس مسخرے سے ڈر کر بھاگوں گا!”

“خدا کے لئے مجھے بتاؤ کہ تم کون ہو!”

“ایک معمولی سا مجرم۔ کیا تمہیں اس کی بات پر یقین نہیں آیا۔”

“نہیں مجھے اس کی بات پر یقین نہیں آیا۔ ایک معمولی سا مجرم اس کے مقابلے میں نہیں ٹھہر سکتا۔۔۔ یہاں کے اچھے اچھے دل گردے والے اس کے تصور سے ہی کانپتے ہیں۔ تم میرے پیشے سے واقف ہی ہو! ہر قسم کے آدمیوں سے سابقہ پڑتا ہے!”

“میں ایک شریف آدمی ہوں! ممی اور ڈیڈی بچپن سے مجھے اس کا یقین دلاتے رہتے ہیں!” عمران نے مغموم لہجے میں کہا۔ “ویسے میں کبھی کبھی سچ مچ حماقتیں کربیٹھتا ہوں!جیسا کہ آج۔۔۔!”

عمران نے اپنا ٹیلیفون بوتھ والا کارنامہ دہرایا!۔۔۔ روشی بے تحاشہ ہنسنے لگی! اس نے کہا۔ “تم جھوٹے ہو! تم نے میری آواز کی نقل کیسے اتاری ہوگی۔”

“اس طرح۔۔۔ اس میں کیا مشکل ہے” عمران نے ہوبہو روشی کے لہجے اور آواز میں نقل اتاری۔

روشی چندلمحے اسے حیرت سے دیکھتی رہی پھر بولی۔ “مگر اس حرکت کا مقصد کیاتھا!”

“تفریح!۔۔۔ اور کیا کہوں! مگر نتیجہ دیکھو! کہ اس نے خود ہی پیکٹ واپس کردیئے!”

“تمہاری عقل خبط ہو گئی ہے!” روشی نے کہا۔ “مجھے اس میں بھی کوئی چال معلوم ہوتی ہے۔”

Read More:  Purisrar Kitab by Ramsha Iftikhar – Episode 4

“ہوسکتا ہے۔۔۔ بہرحال میں جانتا ہوں کہ اس کے آدمی ہر وقت پیچھے لگے رہتے ہیں! ورنہ اسے تمہارا پت
” کیسے معلوم ہوتا۔”

“یہی میں بھی سوچ رہی تھی!”

“یہ اسی وقت کی بات ہے جب میں آج شام تم سے ملا تھا! میرے ہی ذریعہ وہ تم تک پہنچا ہوگا۔”

“مگر عمران!۔۔۔ وہ آدمی۔۔۔ جو ان پیکٹوں کو لایا تھا!۔۔۔ جانتے ہو کون تھا۔۔۔؟ مجھے حیرت ہے۔۔۔ وہ وہی کان کٹا ماہی گیر تھا جس کے بارے میں تم پوچھ رہے تھے!”

عمران سنبھل کر بیٹھ گیا!

“کیا وہ تمہیں پہچانتا ہے۔” اس نے پوچھا۔

“یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتی! نہیں مجھے اس پہلے کبھی اس سے بات چیت کرنے کا اتفاق نہیں ہوا۔”

عمران کی پیشانی پر شکنیں ابھر آئیں۔ وہ کچھ سوچ رہا تھا! تھوڑی دیر بعد اس نے ایک طویل انگڑائی لے کر کہا۔ “جاؤ اب سو جاؤ! مجھے بھی نیند آرہی ہے اور اگر اب بھی مجھے بور کرو گی تو اسی وقت یہاں سے چلا جاؤں گا!”

روشی چپ چاپ اٹھی اور اپنی خواب گاہ میں چلی گئی۔

عمران دروازے اور کھڑکیاں بندکرکے تھوڑی دیر تک چیونگم سے شغل کرتا رہا پھر نوٹوں کے پیکٹ کھول دیئے۔۔۔ اسے توقع تھی کہ ان پیکٹوں میں کچھ نہ کچھ ضرور ہوگا کیوں کہ روشی کواس کے خط میں پیکٹ کو نہ کھولنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

اس کا خیال صحیح نکلا۔ ایک پیکٹ میں نوٹوں کے درمیان ایک تہہ کیا ہوا کاغذ کا ٹکڑانظر آیا! یہ بھی ایک خط تھا لیکن اس میں عمران کو مخاطب کیا گیا تھا۔

“دوست۔۔۔ بڑے جیالے معلوم ہوتے ہو! ساتھ ہی شاطر بھی! مگر جعلی نوٹوں کا دھندا چھچھورا پن ہے! اگر ترقی کی خواہش ہو تو کل رات گیارہ بجے اسی ویرانے میں ملو جہاں میں نے تم پر پہلا حملہ کیا تھا!۔۔۔ اے بی سی ہوٹل والے شکاری کے متعلق اطلاع فراہم کرنے کا شکریہ! اس نے صرف مچھلیوں کے شکار کے لئے وہاں قیام کیا ہے! لیکن مچھلیوں کے شکار کے متعلق کچھ بھی نہیں جانتا۔۔۔! تو کل رات کو تم ضرور مل رہے ہو۔۔۔ میں انتظار کروں گا۔۔۔”

عمران نے خط کو پرزے پرزے کرکے آتشدان میں ڈال دیا! اس کے ہونٹوں پر ایک شیطانی مسکراہٹ رقص کر رہی تھی۔۔۔ وہ اٹھا اور دبے پاؤں روشی کے فلیٹ سے نکل گیا۔

بیہوشی کے بعد ہوش کیسے آتا ہے؟ کم از کم یہ کسی بیہوش ہونے والے کی سمجھ میں آنے والی چیز نہیں ہے!۔۔۔ بہرحال عمران کو نہیں معلوم ہوسکا کہ وہ کس طرح ہوش میں آیا! لیکن آنکھ کھلنے پر شعور کی بیداری میں دیر نہیں لگی۔

وہ ایک کشادہ اور سجے سجائے کمرے میں تھا! لیکن تنہا نہیں۔۔۔ اس کے علاوہ کمرے میں چار آدمی اور بھی تھے۔ ان کے جسموں پر سیاہ رنگ کے لمبے لمبے چسٹر تھے۔۔۔ اور چہرے سیاہ نقابوں میں چھپے ہوئے تھے! ان میں سے ایک آدمی کتاب کی ورق گردانی کر رہا تھا۔

“ہاں بھئی! کیا دیکھا؟” ان میں سے ایک نے اس سے پوچھا۔

آواز سے عمران نے اسے پہچان لیا! یہ وہی تھیا جس سے کچھ دیر قبل ٹیلوں کے درمیان اس نے گفتگو کی تھی۔

“جی ہاں آ پ کا خیال درست ہے! دوسرے آدمی نے کتاب پر نظر جماتے ہوئے کہا۔ “علی عمران ایم ایس سی، ڈی ایس سی لندن۔۔۔ آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹیز۔۔ فرام سینٹرل انٹیلی جینس بیورو۔۔۔”

“کیوں دوست کیا خیال ہے!” گمنام آدمی عمران کی طرف مڑ کر بولا۔

“ایم ایس سی، ڈی ایس سی نہیں بلکہ ایم ایس سی، پی ایچ ڈی!” عمران نے سنجیدگی سے کہا۔

“شپ اپ!” گمنام آدمی نے گرج کر کہا۔

“واقعی میں بڑا بیوقوف ہوں! روشی ٹھیک ہی کہتی تھی!” عمران اس طرح بڑبڑایا جیسے خود سے مخاتب ہو!

“تم ہمارے متعلق کیا جانتے ہو!” گمنام آدمی نے پوچھا۔

“یہی کہ تم سب پردہ نشین خواتین ہو اور مجھے خوامخواہ ڈرا رہی ہو۔”

“تم یہاں سے زندہ نہیں جاسکتے!” گمنام آدمی کی آواز میں غراہٹ تھی۔

“فکر نہ کرو! مرنے کے بعد چلا جاؤں گا۔” عمران نے لاپرواہی سے کہا۔

گمنام آدمی کی خوفناک آنکھیں چند لمحے نقاب سے عمران کو گھورتی رہیں پھر اس نے کہا”تمہیں بتانا ہی پڑے گا کہ تمہارے کتنے آدمی کہاں کہاں کام کر رہے ہیں۔”

“کیا تم لوگ واقعی سنجیدہ ہو؟” عمران اپنے چہرے پر حیرت کے آثار پیدا کرتا ہوا بولا۔

کسی نے کوئی جواب نہ دیا۔۔۔ اس وقت ان کی خاموشی بھی بڑی ڈراؤنی لگ رہی تھی۔

عمران پھر بولا۔ “تمہیں یقینا غلط فہمی ہوئی ہے!”

“بکواس!۔۔۔ ہمارے ہاں فائیل بہت احتیاط سے مرتب کئے جاتے ہیں!” گمنام آدمی نے کہا۔

“تب پھر تو میں ہی غلط ہو گیا ہوں۔” عمران نے مایوسی سے سر ہلا کر کہا۔ “کمال ہے۔۔۔ میں یعنی۔۔۔ واہ کیا بات ہے گویا اب اپنے لئے کہیں بھی جگہ نہیں ہے یارو یہ ظلم ہے کہ تم لوگ مجھے محکمہ سراغ رسانی سے منسلک کر رہے ہو۔”

Read More:  Sunehri Chandni by Mamuna Zaib – Episode 11

“ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے!” گمنام آدمی غصیلے لہجے میں بولا۔ “تمہیں صبح تک کی مہلت دی جاتی ہے اپنے آدمیوں کے پتے اور نشان بتادو! ورنہ۔۔۔!”

“میرا خیال ہے!” ایک نقاب پوش نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔ “جلتے لوہے والی تدبیر کیسی رہے گی۔”

“وقت نہیں ہے!” گمنام غرایا! “صبح دیکھیں گے!”

وہ سب کمرے سے باہر نکل گئے اور دروازہ باہر سے مقفل کر دیا گیا! عمران نے ایک طویل انگڑائی لی اور سر کا وہ حصہ ٹٹول کر جہاں چوٹ لگی تھی برے برے منہ بنانے لگا۔

اسے توقع نہیں تھی کہ اس کے ساتھ اس قسم کا برتاؤ کیا جائے گا وہ تو یہی سمجھے ہوئے تھا کہ اس نے مجرموں کو اپنے جال میں پھانس لیا۔

اس نے نے وجہ ان لوگوں کو ہدہد کا پتہ نہیں بتایا تھا اس کے ذہن میں ایک اسکیم تھی اور وہ اس میں کامیاب بھی ہو گیا تھا! اس نے اس آدمی کا تعاقب کرکے جس نے سمندرکے کنارے ہدہد کے فوٹو لئے تھے کم از کم مجرموں کے ایک ٹھکانے کا پتہ تو لگا ہی لیا تھا۔۔۔۔ اور وہیں اس نے اس آدمی کو بھی دیکھا تھا جس کا بائیاں کان آدھا غائب تھا۔

عمران تھوڑی دیر تک بے حس و حرکت آرام کرسی میں پڑا رہا۔۔۔ اس کا ذہن بڑی تیزی سے حالات کا جائزہ لے رہا تھا۔

آدھا گھنٹہ گزر گیا!۔۔۔ شاید پوری عمارت پر سناٹے کی حکمرانی تھی! کہیں سے بھی کسی قسم کی آواز نہیں آرہی تھی۔

عمران اٹھ کر کھڑکیوں اور دروازوں کا جائزہ لینے لگا! لیکن چند ہی لمحوں میں اس پر واضح ہوگیا کہ وہ باہر نہیں نکل سکتا! یہ سارے دروازے ایسے تھے جو باہر سے مقفل کئے جاسکتے تھے اس کے ذہن میں ایک دوسرا اور انتہائی اہم سوال بھی تھا عمارت اس وقت خالی ہے یا کچھ اور لوگ بھی موجود ہیں۔ دونوں ہی صورتوں میں حالات غیر یقینی تھے۔۔۔ عمارت میں اس کا تہنا رہنا ناممکنات میں سے تھا۔۔۔ لیکن اگر اس کے علاوہ کچھ اور لوگ بھی تھے تو عمارت پر قبرستان کی سی خاموشی کیوں طاری تھی؟۔۔۔ کیا وہ سو رہے ہیں؟ عمران نے سوچا کہ یہ بھی ناممکن ہے کہ انہوں نے اپنی دانست میں ایک خطرناک دشمن پکڑ لیا ہے! لہٰذا اس کی طرف سے غافل ہو کر سو رہنا قرین قیاس نہیں!

عمران اچھی طرح جانتا تھا کہ صبح اسے ناشتے کی میز پر خوش آمدید کہنے کے لئے مہمان نہیں بنایا گیا۔۔۔ یہاں ایسی آؤ بھگت ہوگی کہ شکریہ ادا کرنے کا موقع نہ مل سکے گا۔

وہ پھر اٹھ کر ٹہلنے لگا۔۔۔ پھر اچانک اس نے دروازہ پیٹ کر چیخنا شروع کردیا۔

باہر قدموں کی آہٹ ہوئی اور کسی عورت نے سریلی آواز میں ڈانٹ کر کہا۔ “کیوں شور کر رہے ہو!”

“میں باہر جانا چاہتا ہوں” عمران نے بڑی سنجیدگی سے جواب دیا۔

“بکواس مت کرو۔”

“شٹ اپ!” عمران بہت زور سے گرجا۔ “میں تجھ جیسی کتیا کی بچی سے بات نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ کسی مرد کو بھیج دے۔۔۔!”

“تم کتے کے پلے خاموشی سے بیٹھے رہو! ورنہ گولی مار دی جائے گی۔”

اس بار عمران نے اسے بڑی گندی گندی گالیاں دیں جواب میں وہ بھی برس پڑی!

عمران نے اس سے اندازہ لگا لیا کہ وہ عورت عمارت میں تنہا ہے! ورنہ وہ اس کی مرمت کے لئے کسی مرد کو ضرور بلاتی۔

عورت تھوڑی دیر تک اسے برا بھلا کہتی رہی! پھر خاموش ہوگئی۔ عمران اس کے قدموں کی آواز سن رہا تھا! اس نے اندازہ لگا لیا کہ قریب ہی کسی کمرے میں گئی ہے۔

عمران سوچ رہا تھا کہ اگر ایسے حالات میں بھی وہ ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھا رہا تو آئندہ نسلیں اسے سچ مچ احمق اعظم ہی کے نام سے یاد کریں گی۔!

وہ ایک بار پھر کمرے کا جائزہ لینے لگا!۔۔۔ اچانک اس کی نظر رسی کے ایک لچھے پر پڑی تھی اس نے جھپٹ کر اسے اٹھا لیا۔۔۔ رسی کی موٹائی آدھ انچ سے زیادہ نہیں تھی۔اور ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے وہ پانی بھی بھگو کر خشک کی گئی ہو! عمران چند لمحے اسے دیکھتا رہا۔۔۔ اور پھر اس کے ہونٹوں پر ایک شیطانی مسکراہٹ رقص کرنے لگی۔۔۔!

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: