Bhayanak Aadmi by Ibne Safi – Last Episode 8

0

بھیانک آدمی از ابن صفی آخری قسط 08

عمران کے منہ سے گالیاں سن کر اس عورت کا موڈ بہت زیادہ خراب ہو گیا تھا! وہ کافی حسین تھی اور عمر بھی بیس بائیس سال سے زیادہ نہ رہی ہوگی! ممکن ہے کہ اس کے ساتھ اس کی ناز برداریاں بھی کرتے رہتے ہوں! بہرحال وہ ایسی نہیں معلوم ہوتی تھی کہ کسی کی تلخ کلامی برداشت کرسکتی۔

اور یہ حقیقت تھی کہ وہ اس عمارت میں بالکل تنہا تھی۔۔۔ عمران کو محبوس کرنے والوں کو شاید یقین واثق تھا کہ وہ یہاں سے نکل نہ سکے گا! ورنہ وہ ایسی غلطی نہ کرتے! وہ عورت غصے میں ہانپتی ہوئی مسہری پر گری! اسے شاید اپنے ساتھیوں پر بھی غصہ آرہا تھا۔

وہ سو جانا چاہتی تھی۔ مگر نیند کا کوسوں پتہ نہیں تھا۔۔۔ بیس منٹ گذر گئے وہ کروٹیں لیتی رہی۔

اچانک اس نے ایک چیخ کی آواز سنی، جو قیدی کے کمرے سے بلند ہوئی تھی اور پھر کچھ اس قسم کی آوازیں آنے لگیں جیسے کوئی کسی کا گلا گھونٹ رہا ہو۔

وہ بےتحاشہ اچھل کر کھڑی ہوگئی اور غیر ارادی طور پر قیدی کے کمرے کی طرف دوڑنے لگی۔ لیکن اب سناٹا تھا۔

“کیا ہے! کیوں شور مچا رکھا ہے!” اس نے کمرے کے سامنے پہنچ کر کہا۔

لیکن اندر سے کوئی جواب نہ ملا! ایک دروازے کی جھری پر اس کی نظر پڑی اور اس نے اندازہ کرلیا کہ اندر کا بلب روشن ہے!

دوسرے ہی لمحے اس کی ایک آنکھ جھری سے جالگی! لیکن پھر وہ اس طرح جھٹکے کے ساتھ پیچھے ہٹ گئی جیسے الیکٹرک شاک لگا ہو۔ اس کمرے کے اندر جو کچھ بھی دیکھا وہ اس کے رونگٹے کھڑے کردینے کے لئے کافی تھا! چھت سے ایک لاش لٹک رہی تھی! اس کے پیر زمین سے تقریبا تین فٹ اونچائی پر جھول رہے تھے اور گردن میں رسی کا پھندا۔۔۔ چہرہ دوسری طرف تھا! صاف ظاہر ہوتا تھا کہ قیدی نے ایک کرسی پر کھڑے ہوکر پھندا اپنی گردن میں ڈالا اور پھر لات مار کر کرسی ایک طرف گرا دی! سیاہ السٹر اور سیاہ پتلون میں وہ لاش بڑی ڈروانی معلوم ہو رہی تھی!

وہ ایک بار پھر جھری سے اندر جھانکنے لگی۔۔۔ اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا کیونکہ اس نے قیدی کی دلیرانہ حرکتوں کے متعلق اپنے ساتھیوں سے بہت کچھ سنا تھا!

خواب و خیال میں بھی اسے توقع نہیں تھی کہ ایسا بے جگر آدمی اس طرح خودکشی کرلے گا۔۔۔ حالانکہ وہ کچھ دیر پہلے اس کی توہین کرچکا تھا لیکن پھر بھی وہ اس کے انجام پر متاسف ہوئے بغیر رہ نہ سکی۔

وہ کوئی کمزور دل عورت نہیں تھی۔ کمزور دل کی عورت ایسے خطرناک مجرموں کے ساتھ رہ ہی کیسے سکتی تھی!

وہ چند لمحے کھڑی سوچتی رہی پھر دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہو گئی۔۔۔ لاش کی پشت دروازے کی طرف تھی عورت آگے بڑھی تاکہ اسکا چہرہ دیکھ سکے!

لیکن قبل اس کے کہ وہ اس کے قریب پہنچتی لاش رسی کے پھندے سے نکل کر دھم سے فرش پر آرہی۔ عورت گبھرا کر پیچھے ہٹ گئی! لیکن عمران نے اسے باہر نکلنے کا موقع نہیں دیا۔ دوسرے ہی لمحے اس کی صراحی دار گردن عمران کی گرفت میں تھی!

“وہ یہاں کب واپس آئیں گے!” عمران نے گرفت مضبوط کرتے ہوئے پوچھا۔

عورت تھوک نگل کر رہ گئی! اس کی آنکھیں حیرت اور خوف سے پھٹی ہوئی تھیں اور وہ بری طرح کانپ رہی تھی۔

“بتاؤ ورنہ گلا گھونٹ دوں گا!” عمران کے چہرے پر سفاکی نظر آنے لگی۔
“ساڑھے۔۔۔ ساڑھے تین بجے!”

“جھوٹ بک رہی ہو! خدا سے ڈرو ورنہ زبان سڑ جائے گی!” عمران نے احمقانہ انداز میں کہا اور اس کی گردن چھوڑ دی!

عورت اسی جگہ کھڑی ہانپتی رہی۔

“تم نے کچھ دیر پہلے مجھے برا بھلا کہا تھا۔ اب کہو! تو تمہارے کان اور ناک کاٹ لوں!”

عورت کچھ نہ بولی۔۔۔ عمران بکتا رہا۔ “تم صورت سے شریف معلوم ہوتی ہو!ورنہ میں ابھی تمہیں گلا گھونٹ کر مار ڈالتا! کیا تم ان میں سے کسی کی بیوی ہو!”

عورت نے نفی میں سر ہلا دیا اور عمران گرجدار آواز میں بولا۔ “پھر تم کیا بلا ہو! زبان سے بولو ورن
ہ اسی رسی پر تمہاری لاش لٹکتی نظر آئے گی۔”

“میں ان کے کسی جرم میں شریک نہیں ہوں۔” عورت نے بھرائی ہوئی آواز مین کہا۔

“تم آخر ہو کون!”

“میں جو کچھ بھی ہوں! یہی ہوں اور زندگی سے تنگ آگئی ہوں! انہوں نے مجھے کہیں کا نہیں رکھا۔ لیکن میں اب ہر حال میں ان کے پنجے سے نکلنا چاہتی ہوں!”

“شاباش! اچھا میں تمہیں بچا لوں گا!۔۔۔ لیکن جو کچھ میں کہوں گا اس پر عمل کرو۔”

“میں تیار ہوں۔”

“باہر نکلنے کا دروازہ تو مقفل ہوگا؟” عمران نے پوچھا۔

“نہیں۔۔۔ مقفل نہیں ہے!”

” تو پھر ان کی آمد پر دروازہ کون کھولے گا؟ کیا تم جاگتی رہو گی؟”

“نہیں وہ خود کھول لیں گے اور اس کی ترکیب ان کے علاوہ اور کسی کو نہیں معلوم!”

“کیا یہ عمارت ہرشفلیڈ فشریز والوں کی ہے!” عمران نے پوچھا اور عورت نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

“یہ عمارت جیمس اسٹریٹ میں ہے نا!” عمران نے پوچھا اور اس کا جواب بھی اثبات میں ہی ملا اور عمران مطمئن ہوگیا کہ یہ وہی عمارت ہے جس کا سراغ اسے فوٹوگرافر کا تعاقب کرنے پر ملا تھا۔

وہ چند لمحے کچھ سوچتا رہا پھر بولا۔ “تم مجھے دھوکا نہیں دے سکتیں اپنے کمرے میں جاؤ۔”

وہ چپ چاپ وہاں سے نکل کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔ عمران اس کے پیچھے تھا! جیسے ہی وہ کمرے میں داخل ہوئی۔ عمران نے دروازہ باہر سے بند کردیا۔

“چپ چاپ پڑی رہنا ورنہ گردن صاف! مجھے عورتوں پر بھی رحم نہیں آتا۔” عمران غرا کر بولا۔

اندر سے کوئی جواب نہیں ملا! عمران آگے بڑھا۔

وہ بڑی تیزی سے عمارت کا جائزہ لیتا پھر رہا تھا۔۔۔ باہر کے سارے دروازے آزمائے لیکن انہیں کھولنے میں کامیاب نہ ہوسکا!۔۔۔ ایک کمرے میں اسے اسلحہ جات کا ذخیرہ نظر آیا۔ دروازہ مقفلنہیں تھا! شاید یہاں سے جاتے وقت انہوں نے کچھ اسلحہ لیا تھا اور کمرے کو مقفل کرنا بھول گئے تھے۔۔۔ عمران نے ایک ٹامی گن اٹھا کر اسے لوڈ کیا اور کمرے سے باہر نکل آیا۔ ٹامی گن اس کے ہاتھ میں تھی۔

لیکن اگر کوئی دوسرا اسے اس حال میں دیکھتا تو قطعی مخبوط الحواس سمجھتا! ہونا یہ چاہیئے تھا کہ عمران فون پر پولیس سے رابطہ قائم کرکے عمارت کا محاصرہ کرلیتا۔ یہاں فون موجود تھا۔ عمران چاہتا تو اسے استعمال کرسکتا تھا! مگر اس نے ایسا نہیں کیا!۔۔۔ وہ کسی شکاری کت کی طرف عمارت کا گوشہ گوشہ سونگھتا پھر رہا تھا! اسے مجرموں کی واپسی کی بھی پروا نہیں تھی!۔۔۔ وہ ان کے جرائم سے واقف ہو چکا تھا اور اے بی سی ہوٹل کے قریب والے ویرانے پر اس بھیانک آدمی کی حکمرانی کا مقصد بھی اس کے ذہن میں آگیا۔

تھوڑی دیر بعد وہ پھر اسی کمرے کے سامنے پہنچ گیا۔ جہاں اسے قید کیا گیا تھا! اس نے عورت کے دروازے کی طرف نظر ڈالی جس کا دروازہ بدستور بند تھا!۔۔۔ اندر روشنی ضرور تھی لیکن کسی قسم کی آواز نہیں سنائی دیتی تھی!

پھر عمران نے اس بطخ کی طرف دیکھا جو اس کے بائیں ہاتھ پر لٹک رہی تھی! یہ اسے اس عمارت کے ایک ڈربے سے ملی تھی! وہ کمرے میں داخل ہو گیا۔۔۔ ٹامی گن میز پر رکھی۔ رسی ابھی تک چھت میں لگے کڑے سے لٹک رہ تھی۔

چند لمحوں بعد عمران بطخ کو ذبح کر رہا تھا!۔۔۔ کچھ خون فرش پر پھیل گیا تھا اور کچھ اس نے بڑی احتیاط سے ایک گلاس میں جمع کر لیا۔

ٹھیک تین بجے عمارت کا صدر دروازہ کھلا اور دس آدمی اندر داخل ہوئے! ان میں سے صرف ایک کا چہرہ نقاب میں چھپا ہوا تھا اور بقیہ نو آدمی بے نقاب تھے! ان کے چہروں سے تھکن ظاہر ہو رہی تھی!

لیکن قیدی کے کمرے کے سامنے روشنی دیکھ کر ان کے چہروں سے اضمحلال کے آثار غآئب ہو گئے! کھلے ہوئے دروازے سے روشنی باہر برآمدے میں رینگ آئی تھی۔

ان کا نقاب پوش سرغنہ بے تحاشہ بھاگتا ہوا کمرے میں جا گھسا اور پھر اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں! کمرہ خالی تھا۔ چھت سے ایک خون آلودہ رسی لٹکی ہوئی تھی۔۔۔ اور فرش پر بھی خون نظر آرہا تھا۔۔۔ پھر خون کے چھوٹے چھوٹے دھبے اس جگہ سے دروازے تک چلے گئے۔۔۔ وہ دروازے کی طرف جھپٹا۔۔۔ اس کے بقیہ نو ساتھی ساکت و صامت دروازے کے سامنے کھڑے تھے۔

خون کے لاتعداد چھوٹے چھوٹے دھبے دروازے کے باہر برآمدے میں بھی تھے۔ وہ سب انہیں دیکھتے ہوئے آگے بڑھتے گئے۔

اب دھبوں کا رخ اسلحہ کے کمرے کی طرف ہو گیا تھا! ان میں سے ایک نے جیب سے ٹارچ نکالی کیوں کہ یہ ایک تاریک راہداری تھی!۔۔۔ انہیں اسلحہ خانے کا دروازہ بھی کھلا ہوا ملا۔۔۔ خون کے دھبوں کی قطار دروازے میں مڑ کر اسلحہ خانے کی طرف چلی گئی تھی۔ وہ سب بے تحاشہ اندر چلے گئے۔۔۔ اور کسی کے منہ سے نکلا۔

“ارے بطخ۔۔۔ یہ کیا؟”

پھر وہ مڑنے بھی نہیں پائے تھے کہ دروازہ باہر سے بند ہوگیا۔۔۔! اندھیرے میں عمران کا قہقہہ گونج رہا تھا۔

لیکن عمران کو اس کی خبر نہیں تھی کہ یہی اندھیرا جس سے اس نے فائدہ اٹھایا ہے خود اسی کے لئے مہلک ثابت ہوسکتا ہے۔

وہ نہیں جانتا تھا کہ ان کا سرغنہ باہر ہی رہ گیا ہے!

اس نے للکار کر کہا۔ “کیوں دوستو! اب کیا خیال ہے!”

وہ سب اندر سے دروازے پیٹنے اور شور مچانے لگے!

عمران نے پھر قہقہہ لگایا۔ لیکن یہ قہقہہ اچانک اس طرح رک گیا جیسے کسی سائیکل کے پہیوں میں پورے بریک لگ گئے ہوں۔

کسی نے پشت سے اس پر حملہ کردیا تھا! ٹامی گن اس کے ہاتھ سے نکل کر اندھیرے میں کہیں دور جاگری!

حملہ آور ان کا سرغنہ تھا جو اسلحہ خانے میں بند کر دیئے گئے تھے!۔۔۔ جب وہ خون کے دھبوں کو دیکھتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے تو وہ قیدی والے کمرے کے سامنے ہی رک کر کچھ سوچنے لگا تھا! وہ سب اسلحہ خانے تک پہنچ گئے اور وہ وہیں کھڑا تشویش آمیز نظروں سے چاروں طرف دیکھتا رہا۔

اور اب۔۔۔ شاید تقدیر عمران پر قہقہے لگا رہی تھی! حملہ بڑا شدید تھا!۔۔۔ عمران کو بالکل یہی محسوس ہوا جیسے کوئی سینکڑوں من وزنی چٹان اس پر آگری ہو!۔

خود اس کا جسم بھی کافی جاندار تھا۔ لیکن اس حملے نے اس کے دانت کھٹے کردیئے! نقاب پوش اس سے لپٹ پڑا تھا!

عمران نے اس کی گرفت سے نکلنا چاہا لیکن کامیاب نہ ہوسکا!اس نے اسے کچھ اس طرح جکڑ رکھا تھا کہ عمران کا دم گھٹنے لگا تھا! اسلحہ خانے کے اندر ابھی تک شور جاری تھا۔

“خاموش رہو!” ان کے سرغنہ نے انہیں ڈانٹا۔۔۔ لیکن اس کی آواز اتنی پرسکون تھی جیسے اس نے کسی آرام کرسی پر کاہلوں کی طرح پڑے پڑے انہیں سرزنش کی ہو!۔

دوسری طرف اس نے عمران کو زمین سے اکھاڑ دیا تھا اور بتدریج اسے اوپر اٹھاتا چلا جا رہا تھا۔۔۔! عمران نے اس کی ٹانگوں میں اپنی ٹانگیں پھنسانی چاہیں لیکن کامیاب نہ ہوا۔۔۔ وہ اسے اوپر اٹھاتا چلا جا رہا تھا۔

یہ حقیقت تھی کہ اس وقت عمران کے حواس جواب دے گئے تھے اور حملہ آور پر گویا کسی قسم کا جنون طاری ہو گیا تھا! اسے بھی شاید اس بات کا ہوش نہیں رہ گیا تھا کہ اب اس کی گردن بآسانی عمران کی گرفت میں آسکتی ہے! وہ تو اس چکر میں تھا کہ عمران کو اٹھا کر کسی دیوار پر دے مارے اور اس کی ہڈیاں سرمہ ہو جائیں۔

اس قسم کے خطرناک مجرم اگر خاص موقعہ پر اس طرح اپنی عقل نہ گنوا بیٹھیں تو قانون بےچارہ عجائب خانے کی الماریوں کی زینت بن کر رہ جائے۔

اچانک عمران کے ہاتھ اس کی گردن سے ٹکرائے اور ڈوبتے کو تنکے کا سہارہ مل گیا!

اس نے بری طرھ اس کی گردن دبوچ لی۔۔۔ اور پھر وہ دونوں ایک ساتھ زمین پر آرہے۔

عمران کے ہاتھوں سے اس کی گردن نکل چکی تھی! لیکن اس نے گرتے گرتے اپنی کہنی اس کی ناک پر جما دی اور بائیں ہاتھ سے اس زور کا گھونسہ اس کی پیشانی پر رسید کیا کہ نقاب پوش کے منہ سے ایک بے ساختہ قسم کی چیخ نکل گئی!

عمران اس موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتا تھا!۔۔۔ وہ اس پر لد پڑا اور اس کے دونوں ہاتھ پکڑ لئے۔ نقاب پوش چت پڑا تھا۔۔۔ اور عمران اس کے سینے پر سوار تھا۔۔۔ ساتھ ہی وہ سارا زور اس کے ہاتھ کو زمین پر لگائے رکھنے پر صرف کر رہا تھا!۔۔۔ اور وہ اس میں کسی حد تک کامیاب بھی ہو گیا تھا۔۔۔ مگر یہ پوزیشن بھی خطرے سے خالی نہیں تھا!۔۔۔ عمران اس کی قوت کا اندازہ تو کر ہی چکا تھا۔۔۔ لہٰذا اچھی طرح سمجھتا تھا کہ اگر اسے ذرا سا بھی موقع مل گیا تو اسے گیند کی طرح اچھال دے گا۔۔۔!

اس نے بوکھلاہٹ میں اپنا سر نقاب پوش کے چہرے پر دے مارا۔۔۔ چوٹ ناک پر پڑی! نقاب پوش بلبلا اٹھا۔۔۔ پھر تو عمران کے سر نے رکنے کا نام ہی نہ لیا۔۔۔ نقاب پوشی کی چیخیں کریہہ اور ڈروانی تھیں۔۔۔ اس کے ساتھیوں نے پھر شور مچانا شروع کردیا۔

لیکن خود اس کی آواز آہستہ آہستہ دبتی ہوئی ہلکی ہلکی سسکیوں میں تبدیل ہوتی گئی۔
دوسری سہہ پہر کو شام کے اخبارات کی ایک کاپی بھی کسی ہاکر کے پاس نہیں بچی!

ایک اخبار روشی کے سامنے بھی تھا!۔۔۔ اور اس کی آنکھیں متحیرانہ انداز میں پھیل کر رہ گئی تھیں۔ علی عمران۔۔۔ عمران۔۔۔ وہ سوچ رہی تھی۔۔۔ وہی احمق۔۔۔ وہی دلیر۔۔۔ محکمہ سراغرسانی کا آفیسر! بعید از قیاس۔۔۔ اس نے ایک بہت بڑے مجرم کو اس کے ساتھیوں سمیت تنہا گرفتار کیا تھا!۔۔۔ مجرم بھی کیسا۔۔۔؟ جس نے مہینوں مقامی پولیس کو ناکوں چنے چبوائے تھے! جس کا ذاتی ٹیلیفون ایکسچینج تھا۔۔۔ شہر میں جس کی متعدد کوٹھیاں تھیں! ایک بہت بڑا سمگلر تھا!۔۔۔ جس کے متعدد گوداموں میں پولیس نے ناجائز طور پر درآمد کیا ہوا بیش قیمت مال دریافت کیا تھا جو بظاہر ایک معمولی ماہی گیر تھا اور ہرشفیلڈ فشریز کے ایک اسٹیمر پر ملازم تھا۔۔۔ یعنی یہ اسٹیمر خود اسی کا تھا۔ لیکن اسٹیمر کا کپتان اسے اپنا ماتحت سمجھت اتھا۔۔۔ ہرشفیلڈ کی فرم کا مالک ہی تھا لیکن فرم کا مینیجر اس کے وجود تک سے ناواقف تھا! ظاہر ہے کہ ایک معمولی سے ملاح کو مینیجر کیا جانتا۔۔۔ وہ اس وقت ان سب کا مالک ہوتا تھا جب اس کے چہرے پر سیاہ نقاب ہوتی تھی۔۔۔ اس وقت ہرشفیلڈ فشریز کے تینوں اسٹیمر مچھلیوں کا شکار کرنے کی بجائے اسمگلنگ کا ذریعہ بن جاتے تھے۔ وہ ساحل سے پچاس ساٹھ میل کے فاصلے سے گذرنے والے غیر ملکی جہازوں سے اترا ہوا ناجائز مال بار کرتے اور پھر ساحل کی طرف لوٹ آتے۔۔۔ بحری پولیس کو کانوں کان خبر بھی نہ ہوتی کیونکہ مال نچلے حصوں میں ہوتا تھا اور اوپر عرشون پر مچھلیوں کے ڈھیر دکھائی دیتے!

یہ اخبار کی رپورٹ تھی لیکن حقیقت تو یہ تھی کہ بحری پولیس کا عملہ ہرشفیلڈ والوں سے اللہ واسطے کی عقیدت رکھتا تھا! اس لئے ان کی کڑی نگرانی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔

خبر میں یہ بھی تھا کہ اے بی سی ہوٹل کے سامنے والے ویراے پر اس بھیانک آدمی کی حکومت کیوں تھی؟

اس کی حقیقت یہ تھی کہ اسمگل کیا ہوا مال اسی راستے سے خفیہ گوداموں تک پہنچایا جاتا تھا! لہٰذا راستہ صاف رکھنے کے لئے اس بھیانک آدمی نے (جس کا بائیاں کان آدھا کٹا ہوا تھا) وہاں کشت و خون کا بازار گرم کر دیا تھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پولیس کو وہان خطرے کا بورڈ نصب کرنا پڑا۔

خبر میں یہ بات بھی واضح کردی گئی تھی کہ اے بی سی ہوٹل والوں کا اس گروہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

روشی بڑی دیر تک اخبار پر نظر جمائے رہی! پھر اچانک کسی آہٹ پر چونک کر دروازے کی طرف مڑی۔ عمران سامنے کھڑا مسکرا رہا تھا۔

روشی بوکھلا کر کھڑی ہوگئی! اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں اور آنکھیں جھکی ہوئی تھیں۔

“پچاس بھینسوں کا سوا ہو گیا ہے!” عمران نے کہا۔

روشی کچھ نہ بولی۔ اس کی آنکھوں سے دو قطرے ٹپک کر اسکرٹ میں جذب ہو گئے۔۔۔ اخبار پڑھنے سے قبل وہ ایک بیوقوف عورت کی طرح عمران کے متعلق بہت کچھ سوچتی رہی تھی!۔۔۔ اور اس نے ان دو دنوں میں عمران کو تلاش کرنے کے سلسلے میں شہر کا کونا کونا چھان مارا تھا!۔۔۔

“تم رو رہی ہو!۔۔۔ کمال ہے بھئی!” عمران اس کی طرف بڑھتا ہوا بولا۔

“جایئے! جایئے!” روشی ہاتھ بڑھا کر بولی۔”اب مجھ میں بیوقوف بننے کی سکت نہیں رہ گئی!”

“روشی ایمانداری سے کہنا۔” عمران یک بیک سنجیدہ ہوگیا۔ “کیا میں تم سے زبردستی ملا تھا!

“لیکن اب آپ یہاں کیوں آئے ہیں؟”
“تمہارا شکریہ ادا کرنے اور ساتھ ہی ایک بات اور بھی ہے! تم نے ایک بار کہا تھا کہ تم اپنے موجودہ طرز حیات سے بیزار ہو! لہٰذا میں ایک مشورہ دینے آیا ہوں۔”

“مشورہ۔۔۔ میں جانتی ہوں۔” روشی خشک لہجے میں بولی۔ “آپ یہی کہیں گے کہ اب باعزت طور پر زندگی بسر کرو! لیکن میں اس مشورے کا احسان اپنے سر پر نہیں لینا چاہتی! ذلیل آدمی بھی اکثر یہ سوچتا ہے کہ اسے باعزت طور پر زندگی بسر کرنا چاہیئے!”

“میں تمہیں اپنے ساتھ لے جانا چاہتا ہوں!” عمران نے کہا۔ “میرے سیکشن کو ایک عورت کی بھی ضرورت ہے۔ تنخواہ معقول ملے گی۔”

روشی کے چہرے پر سرخی دوڑ گئی۔۔۔ وہ چند لمحے عمران کے چہرے پر نظر جمائے رہی پھر بولی۔

“میں تیار ہوں۔”

“ہاہا!” عمران نے احمقانہ انداز میں قہقہہ لگایا۔ “اب میں اپنے ساتھ ایک ہزار بھینسیں لے جا رہا ہوں۔”

روشی کے ہونٹوں پر پھیکی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔

“تم سچ مچ بہت اداس نظر آرہی ہو!” عمران نے کہا۔

“نہیں۔۔۔ تو۔۔۔ نہیں!” وہ زبردستی ہنس پڑی۔

کچھ دیر تک خاموش رہی پھر روشی نے کہا۔ “ایک بات ہے!”

“ایک نہیں دس باتیں۔۔۔ کچھ کہو بھی تو۔۔۔”

“میں تمہارا ادب نہیں کروں گی! تمہیں باس نہیں سمجھوں گی۔”

طوطے! کہو گی مجھے۔۔۔ آں؟” عمران دیدے پھرا کر بولا۔

روشی ہنسنے لگی۔ مگر اس ہنسی میں شرمندگی کی جھلک بھی تھی!

“آخر تم نے سراغرسانی کا کون سا طریقہ اختیار کیا تھا! یہ بات اب میری سمجھ میں نہ آسکی۔”

“یہ سراغرسانی نہیں تھی۔۔۔ جوشی۔۔۔ آر۔۔۔ روشی! اسے عرف عام میں بنڈل بازی کہتے ہیں۔۔۔ اور میں اسی طرح اپنا کام نکالتاہوں۔ سراغرسانی کا فن جسے کہتے ہیں! وہ بہت اونچی چیز ہے! لیکن یہ کیس ایسا تھاجس میں سراغرسانی جھک مارتا رہ جاتا اور حقیقت یہ ہے کہ میں اس کیس میں بری طرح الو بنا ہوں۔”

“کیوں!”

“میں سمجھ رہا تھا کہ میں انہیں الو بنا رہا ہوں! لیکن جب میں ان کے پھندے میں پھنس گیا تو مجھے احساس ہوا کہ میں الوؤں کا قبلہ و کعبہ ہوں! ٹھہرو میں خود ہی بتائے دیتا ہوں!۔۔۔ میں دراصل ان پر یہ ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ میں بھی ان ہی کی طرح ایک بدمعاش ہوں اور جعلی نوٹوں کا کاروبار میرا مشغلہ ہے! مجھے توقعی تھی کہ میں اس طرح ان میں گھل مل سکوں گا۔ میری توقع پوری ہوگئی! ان کے سرغنہ نے مجھے اسی ویرانے میں بلایا جہاں پہلی بار مجھ پر حملہ ہوا تھا۔”

“لیکن یہ تو بتاؤ کہ یہ طریقہ اختیار کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی! جب کہ تم ان کے سرغنہ سے پہلے ہی واقف تھے! تم نے مجھ سے کان کٹے آدمی کے متعلق پوچھ گچھ کی تھی یا نہیں؟””کی تھی!۔۔۔ لیکن اس وقت تک نہیں جانتا تھا کہ سرغنہ وہی ہے اور پھر محض جاننے سے کیا ہوتا ہے! اس کے خلاف ثبوت فراہم کئے بغیر میں اس پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا تھا اور ثبوت کی فراہمی کے لئے اس سے بہتر اور کوئی طریقہ نہیں ہوسکتا تھا جو میں نے اختیار کرنا چاہا تھا ہاں جب وہاں پہنچا تو انہوں مے اندھیرے میں میرا پارسل بیرنگ کر دیا! سر کی وہ چوٹ ابھی تک دکھ رہی ہے! پھر وہ مجھے اپنے ٹھکانے پر لے گئے!۔۔۔ اور وہاں مجھے معلوم ہوا کہ وہ میری شخصیت سے اچھی طرح واقف ہے۔”

پھر عمران نے اپنی خودکشی کے واقعات دہراتے ہوئے کہا!۔ “میں نے رسی کمر میں باندھی تھی اور اسے السٹر کے اندر سے اس طرح گردن کی سیدھ میں لے گیا تھا کہ دور سے پھندہ گردن میں ہی معلوم ہو۔۔۔ ہاہا!۔۔۔ پھر وہ پھنس ہی گئی!”

“ہاں! بس صرف عورتوں ہی کو بیوقوف بنانا جانتے ہو!” روشی منہ بنا کر بولی۔

“میں خود ہی بیوقوف ہوں روشی! یقین کرو!۔۔۔ اب تو اکثر ایک خاص قسم کا موڈ مجھ پر طاری ہوتا جب میں دوسروں کو بیوقوف نہیں نظر آتا۔”

پھر اس نے بطخ کے خون والا لطیفہ دہرایا اور روشی بے تحاشہ ہنسنے لگی۔

“لیکن۔۔۔” عمران برا سا منہ بنا کر بولا۔ “یہاں بھی میں الو بن گیا تھا! اس کے سارے ساتھیوں کو تو میں نے اس طرح بند کردیا تھا! لیکن وہ خود باہر ہی رہ گیا تھا۔۔۔ اور پھر حقیقت یہ ہے روشی کہ میں عمران ہوں یا نہیں۔۔۔ وثوق سے نہیں کہہ سکتا۔”

“کیا مطلب!”

“میں عمران کا بھوت ہوں اور اگر میں بھوت نہیں ہوں تو اس پر یقین آنے میں عرصہ لگے گا کہ واقعی زندہ ہوں! اف فوہ! وہ کم بخت پتہ نہیں کتنے ہارس پاور کا ہے! ہارس نہیں بلکہ ایلیفینٹ پاور کہنا چاہئے! مجھے تو قطعی امید نہین تھی کہ اس کے ہاتھوں زندہ بچوں گا! یہ کہو کہ میرے اوسان خطا نہیں ہوئے ورنہ مجھے فٹ بال کی طرح اچھال دیتا۔”

عمران خاموش ہو کر چیونگم چبانے لگا۔

“اب مجھے یقین آگیا ہے کہ تم واقعی بیوقوف ہو!”

“ہوں۔۔۔ نا۔۔۔ ہاہا!” عمران نے قہقہہ لگایا۔

“قطعی! دنیا کا کوئی عقلمند آدمی تنہا ان سے نپٹنے کی کوشش نہ کرتا! تمہارے پاس بہت وقت تھا! کمرے سے نکلنے کے بعد تم پولیس کی مدد حاصل کرسکتے تھے!”
.ہاں ہے تو یہی بات!۔۔۔ لیکن اس صورت میں ہمیں اس کی پرچھائیں بھی نصیب نہ ہوتیں! وہ کوئی معمولی گروہ نہیں تھا روشی۔۔۔ تم خود سوچو۔۔۔ پولیس کی بھیڑ بھاڑ۔۔۔ خدا کی پناہ۔۔۔ اسرا کھیل چوپٹ ہو جاتا۔ اف فوہ۔۔۔ خیر۔۔۔ لیکن میں اتنا ضرور کہوں گا اس سلسلے میں ڈیڈی مجھ سے ضرور جواب طلب کریں گے اور پھر شائد مجھے استعفٰی دینا پڑے۔”

“تو پھر مجھے کیوں ساتھ لے جا رہے ہو!” روشی نے کہا۔

“پروا مت کرو! جاسوسی ناولیں چھاپنے کا دھندا کر لیں گے! تم انہیں ٹھیلے پر سجا کر پھیری لگایا کرنا۔۔۔ اور میں ایجنٹوں کو لکھوں گا کہ ہم ایک کتاب کے آرڈر پر بھی آپ کو پچاس فیصدی کمیشن دیں گے اور کتاب کا سرورق ایک ماہ پہلے ہی آپ کی خدمت میں رونہ کردیا کریں گے!۔۔۔ آپ کا دل چاہے تو آپ صرف سرورق ایک روپیہ میں فروخت کرکے کتاب کسی ردی فروش کے گلے لگا سکتے ہیں! وغیرہ وغیرہ۔۔۔ ہپ!”

ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: