Bheek Mein Mili Mohabbat Novel By Tawasul Shah – Episode 1

0
بھیک میں ملی محبت از تاوسل شاہ – قسط نمبر 1

–**–**–

شہر کے بہت بڑے شادی حال میں اس وقت شہر کے جانےمانے بزنس ٹاقون راجہ شیر علی کیانی کے اکلوتے بیٹے راجہ شیریار علی کیانی کی شادی اس کے چچا راجہ شہروز علی کیانی کی بیٹی کرن کیانی سے ہونے جارہی تھی۔۔۔۔
 
شیریار کیانی بچپن سے ہی کرن کیانی کو بہت پسند کرتا تھے اور کرن کیانی ہمیشہ اس کوئی اچھا رسپونس نہیں دیتی تھی وجہ شیریار کا بار بار اظہار محبت کرنا کرن شیریار کو بہت بار سمجھا چکی تھی کے وہ اس کو ہمیشہ بڑے بھائی کا درجہ دیتی ہے پر شیریار اس کی باتوں کو مزاق سمجھ جاتا کے وہ شرما گی ہے ایسے ہی دن گزرتے جارہے تھے شیریار نے اپنے والد راجہ شیر علی کیانی سے اپنی شادی کی بات کی اور ساتھ ہی کرن کے لیے رضامندی بھی دی شیر کیانی تو بیٹے کی بات سے بھولے نہیں سما رہے تھے انہوں نے اسکو کہا میں تمہارے چچا راجہ شہروز علی کیانی سے بات کرتا ہوں۔۔شیریار خوشی سے جہوم اٹھا۔۔۔
 
گھر کے باہر اک بڑی سی گاڑی آکر رکی گاڑی رکنے کی آواز نے اپنے کمرے کی کھڑکی میں کھڑی کرن کیانی کو اپنی طرف متوجہ کیا جو کے اپنے فون پر کسی سے بات کررہی تھی کاشان میں بعد میں کال بیک کرتی ہوں کہہ کر کرن نے کال کاٹ دی۔۔۔
کرن بھاگ کر نیچھے آئی اور اپنے تایا تائی سے ملنے لگی اور پھر تھوڑی دیر بیٹھ کر اپنے روم میں واپس چلی گئ۔۔۔
شیلا بیگم اور شہروز کیانی دونوں ڈراینگروم میں داخل ہوے اور ان سے ملنے لگے اور پھر ملازمہ چاہیے اور اس کے ساتھ اور لازمات لیے آئی ہلکے پلکے ماخول میں چاہے پی گئ پھر شاستہ بیگم اور شیر کیانی اصل مداوے پر آہے شہروز میں اپنے بیٹے شیریار کے لیے اپنی بیٹی کرن کا ہاتھ مانگنے آیے ہوں اور فورا سے پہلے شہروز نے شیر کو گلے لگا لیا کے بھائی جان میری کرن آپ کی ہوئی اور دونوں بیگمات نے بھی رصامندی دی۔۔۔
 
کرن۔۔۔۔ کرن کدھر ہو تم۔۔ شیلا بیگم اس کو آوازے دیتی اس کے روم میں داخل ہوئی کرن جو ابھی باتروم سے نکلی تھی ماں کو دیکھتے ہوے بولی جی ماما ۔۔ کرن کل تیرے تایا آیے تھے اپنے شہری کے لیے تمہارا باتھ مانگنے اور تیرے پاپا نے ہاں کردی کرن پر تو خیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے اور اس نے ماں کو اصل بات سے اگاہ کرنا کی ٹھان لی۔۔ ماما میں کاشان ملک سے پیار کرتی ہوں۔۔ کیا کہا کون ہے اور کدھر کا ہے ماما وہ میرے ساتھ پڑھتا ہے اور میں اس کے بغیر۔۔۔۔۔۔ چپ کر کرن ابھی بات اس کے منہ میں ہی تھی کے شیلا بیگم بول پڑہی تم اچھی طرح جانتی ہو ہم کیانی ہے اور ہم اپنی بیٹی کبھی ملک خاندانوں میں نہیں دیتے کوئی اور ہوتا تو میں تمہاری مدد ضرور کرتی ماما آپ اک بار کاشان سے مل تو لے وہ بہت اچھے لڑکا ہے کرن چپ ہو جا تمہارے پاپا نے تمہارا رشتہ تہ کردیا ہے اب میں کوئی فصول بات نہ سنو اور ہاں شادی کی تیاری کرو آگلے ہفتہ تمہاری شادی ہے کیوں کے شہری نے شادی کے بعد کینڈا جانا ہے اور اس کی فلائٹ کو 15دن رہتے ہیں وہ کہہ کر روم سے چلی گئ اور کرن کو بھی اپنے خاندان والوں کا پتہ تھا کے وہ مر کر بھی ملک خاندان میں اسے نہیں دے گے اس لیے وہ بھی کاشان سے بات کا سوچ کر چپ ہو گئ۔۔۔۔
ہہاں میں کہنا چاہوگی کے اسلام نے بھی مرضی سے شادی کا حکم دیا ہے خدارا اپنے بچوں پر فیصلے تھوپنا چوڑدیں کیوں کے آپ کی زبردستی ان کو غلط رہ پر چلنے پر مجبور کر دیتی اپنے بچوں کا عتبار جیتے ناکے ان پر اپنے فیصلے تھوپنا،، میں یہ نہیں کہتی کے ماں باپ غلط سوچتے ہیں بلکہ میں یہ کہتی ہوں ان سے مرضی ضرور پوچھے ورنہ آپکو پچتانے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آیے گا۔۔۔
 
شیریار کو شیر کیانی نے خوشخبری دی اور اس کی خوشی دیکھنے والی تھی اپنے بیٹے کی خوشی دیکھ کر شاستہ بیگم نے کہا صدا ایسے ہی میرا بیٹا مسکراتا رہے پر ان کو یہ نہیں پتہ تھا کے یہ خوشی بس کچھ دنوں کی ہی ہے اور پھر شاستہ بیگم نے کہا بیٹا کرن تمہاری پسند ہے نہیں تو میں تمہارے لیے سمارہ کا سوچ کر بھیٹی تھی شاستہ بیگم نے اپنی بتیجی کا کہا سمارہ کی آنکھوں میں انہوں نے شہری کے لیے محبت دیکھی تھی پر چلو شاید کرن ہی میرے شہری کے نصیب میں تھی مگر انہے کیا پتہ شہری کے نصیب میں تو سمارہ ہی تھی۔۔۔۔
 
کرن نے کاشان کو ساری بات بتائی تو کاشان ملک بھی پرشان ہو گیا اور پھر کافی دیر بعد کرن نے اک حل بتایا اور کاشان بھی اس بارے میں سوچنے لگا پھر دونوں نے اک منصوبہ بتایا اور بےفکر ہو گے پر کون جانے ان کا یہ فیصلہ کتنا غلط تھا۔۔۔
 
شادی حال میں بیٹھے لوگ دولہن کا بصبری سے انتظار کررہے تھے اور پھر حال کے دروازے سے شاستہ بیگم کے بھائی کی فیملی آتی نظر آئی ان میں سمارہ بھی تھی آمنہ بیگم نے سمارہ کو بہت مشکل سے آنے کے لیے راضی کیا تھا کیوں کے وہ شہری کو کسی اور کا ہوتے نہیں دیکھ سکتی تھی پر آمنہ بیگم نے سمارہ کو کہا کے تم نہ گئ تو تمہاری پھپھو کیا سوچے گھیں ورنہ آمنہ بیگم اپنی بیٹی کے حال دل سے اچھے سے واقف تھی سمارہ نے فروزی اور ٹی پنک کلر کا لہنگا پہنا تھا یہ بھی اسے آمنہ بیگم نے مشکل سے پہنایا تھا اتنے میں نکاح ہونے کا شور اٹھا اور سب دولہن کو لینے اس کے کمرے میں گے پر یہ کیا دولہن تو کمرے میں تھی نہیں اور میز پر اک خط پڑا ہوا ملا جو شیلا بیگم پڑھ کر دڑھم سے زمین پر گری۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: