Bheek Mein Mili Mohabbat Novel By Tawasul Shah – Episode 10

0
بھیک میں ملی محبت از تاوسل شاہ – قسط نمبر 10

–**–**–

سمارہ کو مارے گھبراہٹ کے نیند ہی نہیں آرہٸ تھی پر شہری تو گدھے گھوڑے پیچ کر ایسے سو رہا تھا جیسے ان محترم کو کتنے مہینوں سے نیند جیسی نعمت نصیب نہ ہوٸی ہو۔۔۔
تقریبا دو گھنٹے سے وہ سونے کی کوشش کررہٸ تھی پر مجال ہے جو نیند کی اونگ بھی آئٸ ہو اسے۔۔
ابھی وہ شاید کچھ اور سوچتی پر شہری کا ہاتھ اس کی نرم ملاٸم گال پر تھا اب تو وہ سوچ ہی سکتی تھی اٹھنے کا کیوں کے وہ نیند میں اس کے گال پر اپنا بھاری مردانہ ہاتھ رکھ چکا تھا اب تھوڑی دیر ہی گزری تھی کے شہری نے اپنی ٹانگ بھی اس کی ٹانگ پر رکھ دی اب تو مانو وہ ہل بھی نہیں ریٸ تھی کہیں وہ جاگ ہی نہ جایۓ نہ جانے رات کے کون سے پہر اس کی آنکھ لگی۔۔۔
صبح جب شہری کی آنکھ کھلی تو سمارہ کو اپنے خسارہ میں پایا وہ نیند میں معصوم سی گڑیا لگ رہٸ تھی شہری نے مسکرتے ہویۓ اس کی ماتھے پر پیار کی مہر سبت کی اور اٹھ کر واشروم میں چلا گیا۔۔۔
 
ملک والا اور کیانی والا کے سربراہوں نے کیانی شہروز نے بھی بیٹی اور کاشان کو معاف کر دیا تھا اور ادھر زمیر احمد ملک نے بھی بہو اور پوتۓ کو گھر لانے کو کہا تھا کاشان سے ناراض تو وہ پہلے بھی نہیں تھے بیٹے سے کیوں کے وہ اس کا شرعی حق تھا بس ذرہ سے خفا تھے جو اب سب ٹھیک ہو گیا تھا۔۔
کاشان کو بھی دل اور شاویز کے نکاح کے بارے میں بتایا گیا لیکن مس کیرج والی بات کو گول کرتے ہوۓ۔۔۔ کاشان کو پہلے غصہ تو بہت آیا پر وہ یہ سوچ کر خاموش ہو گیا کے اس نے بھی تو کرن سے گھر سے بھگا کر شادی کی ہے پر دل خوش ہے اسے یہ بات سکون دیگٸ اور ویسے بھی شاویز ہر طرخ سے دل کے لیے پرفکٹ تھا ویل ایجکیٹ ویل فیملی بیگرونڈ اور سب سے بڑھ کر اتنی بری جاٸیداد کا اکلوٹا وہ بھی اک بھائی کی سوچ سے دل کے لیے ایسے ہی گھر چاہتا تھا۔۔۔
اور کرن بھی چھوٹے بھائی کی شادی کے لیے بہت excited تھی۔۔۔
اس کے خوبصورت اور پرکشش بھائی کے لیے دل بہت پرفیکٹ تھی کم عمر معصوم اور خوبصورت دل اور شاوہز کا کپل بہت کیوٹ تھا کرن نے سوچتے ہوۓ کہا ان کی کل کی فلاٸٹ تھی پاکستان کی وہ دل اور شاویز کی شادی کے لیے جلدی جارہۓ تھے جانا تو ان ویسے بھی تھا کیوں کے زمیر احمد نے کہہ دیا تھا وہ جلد پاکستان آجایۓ ہمیشہ کے لیے۔۔۔۔۔۔
 
شہروز کیانی ہاوس کو جدید لائٹنگ سے سجایا جارہا تھا اور تیاری زور شور سے شروع تھی شیلا بیگم بہت خوش تھی اور آج کرن اور کاشان بھی پاکستان پہنچ چکے تھے۔۔۔
کیانی شہروز نے شیر کیانی سے کہا بھائی جان کرن کی غلطی کی وجہ سے شہری کا ولیمہ نہ ہوسکا تھا میں چاہتا ہوں کرن کو آپ معاف کرچکے ہیں تو شاویز اور شہری کا ولیمہ ایک ساتھ کیا جایۓ بات تو تمہاری ٹھیک شہروز شاستہ نے بھی کہا تھا ولیمہ کا جی بھائی اس بچی کا بھی سوچے اس کی نہ مایوں نہ مہندی اب ولیمہ ہونا چاہیۓ ہاں ٹھیک ہے شیر کیانی نے سمارہ کی خاموش طبیعت اور شہری اور سمارہ کے بیچ روکھےپن کو اچھی طرخ سمجھتے تھے چلو پھر شاویز کے ساتھ ہی شہری کا ولیمہ کردیتے ہیں شیر کیانی نے ہستے ہوۓ کہا۔۔۔
 
ملک ہاوس میں کرن اور کاشان اور ننھے اختشام کی آمد ہوچکی تھی کرن کو بہت اچھی طرخ سب ملے نجمہ بیگم کو کرن بہت اچھی لگی اور زمیر ملک نے بھی کرن کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھا اور دل کرن سے ملکر جلدی سے شامی کو لے چکی تھی ۔۔۔
دل نے شامی کو جب اٹھیا تو اس اپنے مس کیرج کو یاد کر کے رونا آیا اس کی آنکهوں میں نمی دیکھ کر کرن چونکی کیا بات ہے دل کرن شامی کے ساتھ دل کے روم میں تھی دل زور سے رونے لگی کرن کے گلے لگ کر کرن بھی پرشان ہوگٸ پلیز دل بتاٶ کیا ہوا بھابھی میں بھی اپنا بچا کھو چکی ہوں کیا مطلب ہے دل تمہارا ۔۔۔۔ کرن نے چونک کر کہا بھابھٸ میں شاویز کے بچے کی ماں بنے والی تھی پر میرا بچا اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی مجھے چھوڑ گیا دل پوری بات بتاٶ پلیز اور پھر دل نے کرن کو نکاح سے لے کر اب تک سب سچ بتادیا۔۔۔
کرن حیران ہوکر سنتی رہٸ ۔۔۔۔۔۔ بھابھٸ آپ پلیز کاشان بھائی کو کچھ نہیں بتانا کرن دل کو گلے لگاکر چپ کروانے لگی نہیں بتاٶ گی بھابھٸ کی جان۔۔۔۔
 
شیر کیانی ہاوس میں اس وقت رات کا کھانا کھایا جارہا تھا سمارہ اور شہری دن میں واپس آیۓ تھے سمارہ کا بلکل بھی دل نہیں چاہ رہا تھا جانے کو لیکن ریاض کیانی نے سمارہ اور شہری کے ولیمہ کا بتایا جو اب تھوڑی دیر پہلے ہی شیر کیانی نے کال کر کے ولیمہ کا کہا اور دونوں کو گھر آنے کا کہا اور دونوں ناشتہ کر کے گھر آگے۔۔۔
کھانے کے دوران ولیمے کے متعلق باتيں بھی ہوتی رہٸ تو شیر کیانی نے کہا شہری بہو کو دن میں شاویز کی شادی کے لیے شاپنگ پر لے جانا جی اباجی شہری نے فرمانبرداری کے تمام ریکاڈ توڑتے ہویۓ کہا سمارہ نے بامشکل ہسی روکی کیوں کے شیر علی کے سامنے اس بھگی بلی بنے دیکھ کر اس واقع ہی ہسی روکنی مشکل تھی۔۔۔۔۔
 
شام میں مہندی تھی کرن کے کہنے پر دل اور شاہ (شاویز) کا اگھٹا مہندی کا فنکشن رکھا گیا کیوں کے نکاح دونوں کا پہلے ہی ہوچکا تھا۔۔۔
آج کیانی ہاوس کی شان ہی نرالی تھی رنگ بے رنگی لاٸٹنگ اور پورے گھر کو گیندہ اور گلاب کے پھولوں سے سجایا گیا تھا اور اوپر سٹیج پر پڑا جھولہ اسے بھی پھولوں سے سجایا گیا تھا ۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: