Bheek Mein Mili Mohabbat Novel By Tawasul Shah – Episode 11

0
بھیک میں ملی محبت از تاوسل شاہ – قسط نمبر 11

–**–**–

آج مہندی کی تکریب اور کیانی شہروز ہاوس دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔۔۔
اب اگر کیانی ہاوس کے ٹیرس پر دیکھا جایے تو اس پر رنگ بے رنگی لائٹنگ اونچے چباروں پر تاج کا منظر پیش کررہٸ تھی اور اگر صحن میں نظر ڈالی جایۓ تو صحن گلاب اور ستبرگے کے پھولوں کی لڑیاں چاروں جانب نظر آرہٸ تھی۔۔۔۔۔
شام آہستہ آہستہ اپنے پر گرا رہٸ تھی اور مہندی کی تکریب رات کو تھی۔۔۔
 
شام کو شہری سمارہ کو شاپنگ پر لے گیا تھا سمارہ نے اچھے سے تین ڈریس لیے ۔۔ ولیمے کے لیے شہری نے سمارہ کے لیے ڈریس لیا تھا۔۔ سمارہ کافی کنفیوز ہو رہٸ تھی کیوں کے شہری کے ساتھ شاپنگ پر پہلی بار آئٸ تھی۔۔۔۔
شہری نے آٸسکریم پالر کے سامنے گاڑی روکی سمارہ تو حیران و پریشان پالر کو دیکھ رہٸ تھی اب محترمہ گاڑی سے کیا آپکو اٹھا کر لے کر جاٶں۔نہیں میں أتر رہی ہوں۔۔۔۔۔
سمارہ اور شہری پالر میں جارہۓ تھے کے ایک سات آٹھ سالہ بچی بھاگتی ہوئی آئٸ اور تب ہی شہری کی گاڑی کی چابی نیچھے گری تو شہری اٹھانے کے لیے نیچھے جھکا تبی وہ بچی بھاگتی ہوے آیٸ اور شہری کے فیس پر آٸسکریم لگ گئ جو اس بچی کے ہاتھ میں پکڑی تھی۔۔ اور سمارہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوچکی تھی شہری کے فیس پر لگی کریم دیکھ کر۔۔۔۔
اب شہری بھی سمارہ کے ساتھ ہنس رہا تھا اب شہری نے اپنا رومال نکال کر سمارہ کی طرف بڑھیا سمارہ نہ سمجهی سے اسے دیکھنے لگی شہری اس کی بات کا مفہوم سمجھتے ہوۓ کہا لو میرا فیس صاف کرٶ سمارہ نے رومال پکڑلیا اور شہری کا فیس صاف کردیا اور پھر دونوں آٸسکریم کھا کر گھر کی طرف بڑھ گے۔۔۔
 
ملک ہاوس کو بھی سجایا گیا تھا کیوں کے کل رات اس گھر کی لاڈلی کی رخصتی تھی۔۔۔
دلاویز کو پالر لے جایا گیا تھا اور ملک ہاوس کے سب مہمان بھی تیاری میں مصروف تھے کیوں کے دل اور شاہ کی مہندی کیانی ہاوس میں تھی اس لیے سب تیار ہورہۓ تھے کہ انہيں تیار ہو کر کیانی ہاوس جانا تھا۔۔۔ کرن دل کے ساتھ پالر گٸ ہوٸی تھی اور اختشام کرن نے نجمہ کے پاس چھوڑا تھا ۔۔۔ ملک ہاوس کے تمام مہمان تیار تھے۔۔۔ اور اب سب تھوڑی دیر تک سب نے کیانی ہاوس جانا تھا۔۔۔۔
 
سمارہ اپنے ڈریسنگ کے سامنے کھڑی بلیو پرپل پنک اور یولو کلر کے کمپنیشن کا لہنگا چولی زیب تن کررکھا تھا اور وہ بہت خوبصورت لگ رہٸ تھی شہری نے سفید کلر کی کمیز شلوار اور سرخ کلر کی چنڑی گلے میں ڈال رکھی تھی وہ بھی بہت جازب لگ رہا تھا۔۔۔۔
شاستہ بیگم اور شیر کیانی بھی تیار تھے اب وہ شہروز کیانی کی طرف نکلنے لگے تھے۔۔۔۔
 
دلاویز اور کرن تیار تھی کرن نے شاویز کو کال کی کے لینے آجاٶ شاویز بھی پالر تھا۔۔۔
شاویز اپنی لینڈکروزر کو پالر کے راستے پر ڈال کر کرن کو کال کی کے کہا کے باہر نکلو میں پالر کے باہر ہوں۔۔۔
 
کیانی ہاوس کے سامنے شاویز کی لینڈکروزر آکر رکی شاویز گاڑی کی فرنٹ ڈور سے باہر نکل کر آیا شاویز نے فروزی کلر کا کرتا اور سفید کلر کی شلوار زیب تن کررکھا تھا اور سرخ کلر کی چنری گلے میں تھی وہ بہت ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔۔
شاویز نے باہر آکر دلاویز کی طرف کا ڈور کھولا اور دلاویز کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا اور دل نے ہاتھ تھام لیا اور گاڑی سے باہر آئی۔۔۔ دل نے پرپل گرین اور اورنج کلر کا شرارہ پہن رکھا تھا اور محارت سے کیا گیا میکآب وہ شہزادی کی طرح لگ رہئ تھی۔۔۔
شاویز دلاویز کا ہاتھ تھامے سٹیج تک لایا اور لڑکیاں نے دونوں پر گلاب کی پتیاں برسائی اب دونوں سٹیج پر پڑے- جھولے پر بھیٹ گۓ۔۔۔ اب نجمہ بیگم اور زمیر احمد ملک دونوں سٹیج پر آیۓ اور باری باری دل اور شاہ کو مہندی لگائی اور مٹھائی کھلائی اور ان دونوں کے سر سے پانچ پانچ ہزار وار کر ٹوکری میں ڈال کر نیچے اترگۓ۔۔۔
اب شیلا اور شہروز کیانی سٹیج پر آیۓ اور اور دل کے سر پر ہاتھ رکھا اور سب رسمیں ادا کرکے نیچھے اترگۓ۔۔۔ اب کرن اور کاشان سٹیج پر آیۓ کرن نے گرین اور یولو کلر کی کامدار فراک اور ساتھ چوڑی دار پاجامہ ساتھ گرین کلر کا ڈپٹا پہن رکھا تھا اور وہ کاشان کے دل میں اتر رہی تھی کاشان نے براون کلر کی کمیز شلوار پہنے وہ بھی خوبصورت نظر آرہا تھا۔۔۔ اور کاشان نے بھی دل کے سر پر کس کرتے ہوۓ دعائيں دی اور رسم جنإ ادا کی اور کرن نے بھی بھائی کو اور بھابھی کو مٹھائی کھلائی اور نیچھے اتر گۓ۔۔۔ اب شہری اور سمارہ بھی سٹیج پر آیۓ اور رسمیں ادا کی اور پھر باقی سب دوستوں رشتہ داروں نے رسم ادا کی اور پھر کھانا کھل گیا سب نے کھانا کھایا اور مہندی کی تکریب اپنے ختتام کو پہنچھی۔۔۔۔۔
 
ملک والا کے سب لوگ ملک والا کے لیا واپس نکل گۓ تھے۔۔۔
شاستہ بیگم کو شیلا بیگم نے اپنے گھر روک لیا تھا اس لیے شیر کیانی شہری سمارہ گھر کے لیا نکل گۓ۔۔
کرن اور کاشان بھی کیانی ہاوس رہ گۓ تھے کرن کا کل صبح کو ارادہ تھا ملک ہاوس جانے کا کیوں کے بارات رات کو تھی۔اور ویسے بھی شامی کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی اسی لیے وہ دن میں ڑاکٹر کی طرف جانے کے بعد اپنے سسرال جاتی۔۔۔
کرن ڈریسنگ کے سامنے کھڑی اپنی جولری اتارنے ہی لگی کے کاشان نے اس ہاتھ سے پکڑ کر اپنے سامنے کیا یار مجھے تو جی بھر کے دیکھنے بھی نہیں دیا اوکے دیکھ لیا نہ اب میں جاٶ شامی کی آگۓ کچھ طبعیت ٹھیک نہیں اوکے یار جاٶ کاشان نے کچھ بھی رومانس جھڑنے کے بجائے اسے جانے کو کہا۔۔۔
 
شیر کیانی تو اپنے کمرے میں چلے گۓ۔۔۔اور شہری اور سمارہ بھی اپنے روم میں آگۓ آج شہری کی نظر سمارہ سے ہٹنے کا نام ہی نہیں لے رہٸ تھی اور آج شہری کو اپنا آپ روکنا مشکل لگ رہا تھا اور اج وہ خود کو روکنا بھی نہیں چاہتا تھا سمارہ چینج کر کے نکلی تو شہری نے فورا باہوں میں بھر لیا اور سمارہ اچانک اس سب کےلیے تیار نہ تھی اسی لیے تھوڑی جھجک ریٸ تھی پر شہری آج کچھ سنے کہنے کے موڈ میں نہیں تھا۔۔۔۔
سمارہ اور شہری کی خوبصورت رات بھی گزرگئ۔۔اج شہری نے سمارہ کے سارے گلہے شکویے دور کیے تھے۔۔۔
اپنی نیٸ زندگی کی شروعت خوبصورتی سے کی تھی اج سب شکویے شکایات ختم ہوچکے تھے اور اج سمارہ کی محبت کو منزل مل چکی تھی۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: