Bheek Mein Mili Mohabbat Novel By Tawasul Shah – Episode 12

0
بھیک میں ملی محبت از تاوسل شاہ – قسط نمبر 12

–**–**–

کیانی شہروز ہاوس میں اس وقت سب ناشتے میں مصروف تھے۔۔۔۔
کرن بیٹا اختشام کی اب طبیعت کیسی ہے شاستہ اور شیلا نے کرن کو ناشتے کی میز پر بھیٹے ہویۓ دیکھا کر سوال کیا جی تائی اماں ٹھیک ہے اب کچھ کاشان بیٹا ڈاکٹر کو بھی دیکھا دینا شامی کو شیلا بیگم نے کہا۔۔
جی ماما میرا اور کرن کا ارادہ ہے شامی کو ابھی ڈاکٹر کے پاس لیکر جانے کا پھر گھر بھی جانا ہے کافی انتظام دیکھنے ہوگۓ۔۔
بلکل ٹھیک کہا بیٹا تم نے دلہن والوں کے بہت سے کام ہوتے ہیں اب کی بار شہروز علی نے کہا تھا..
پھر کرن اور کاشان ناشتہ کر کے شامی کو ڈاکٹر کے پاس لے گۓ اور پھر کرن اور کاشان ملک ہاوس پہنچے۔۔۔۔
 
شہری کی آنکھ کھلی تو سمارہ کو اپنے خسارہ میں پایا شہری کے لبوں پر خوبصورت مسکان آئٸ
اب شہری کی نظر گھڑی پر پڑی جو دن کے گیارہ بجا رہٸ تھی شہری تو اکثر چھٹی کے دن گیارہ بارہ بجے اٹھتا تھا لیکن سمارہ آٹھ بجے سے زیادہ نہ سوتی تھی اور آج گیارہ ہو چکے تھے اور سمارہ کو کوٸی ہوش نہ تھی یا یہ شہری کی محبت کا اثر تھا جو اسے اتنے بے حبر اور مدہوش کیۓ ہوۓ تھی۔۔شہری اٹھا اور سمارہ کا سر پیار سے اپنے سینے سے اٹھاکر تکیے پر رکھا اور واشروم کی جانب چلاگیا شاور لینے۔۔۔
شہری واشروم سے نکل کر نیچے آیا اور ملازمہ کو ناشتے کا کہہ کر دوبارہ بیڈروم میں آیا اور سمارہ کے بالوں میں پیار سے ہاتھ پھرنے لگا سمارہ کافی دیر سے کسی کا لمس محسوس کررہٸ تھی سمارہ نے تھوڑی سی آنکهيں کھولی تو شہری کو اپنے بالوں میں انگليوں چلاتے پایا اور سمارہ کو رات کا منظر یاد آتے ہی وہ شرم سے لال ہوگٸ اور فورا سے اٹھ گٸ شہری یار اتنا ٹاٸم ہوگیا اور آپ نے جگایا بھی نہیں شکر ہے پھپھو گھر نہیں ورنہ انہيں کتنا بُرا لگتا ارۓ نہیں یار اب نیٸ شادی شدہ جوڑے کو اتنی تو دیر ہوہی جاتی ہے نہ شہری نے معنی خیز لہجے میں کہا تو سمارہ جی بھر کر شرمندہ ہوئی اب ایسی بھی بات نہیں گیارہ مہینے ہوگۓ ہماری شادی کو سمارہ کہتی ہوئی واشروم میں گھس گئ۔۔۔
 
ملک ہاوس میں دل کی رخصتی کی ساری تیاریاں مکمل تھی ابھی شام کے سات بجے تھے بارات نے نو بجے تک آنا تھا۔۔۔
ملک ہاوس میں ہلچل سی مچی ہوٸٸ تھی سب لڑکیاں اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھیں کوٸی اپنا ڈریس پریس کر رہٸ تھی تو کوئی بال شمپو کر رہٸ تھی کوئی سینڈل تالاش تو کوئی جوڑا بنوا رہی تھی تو کوٸی میکاپ۔۔۔
ایسے میں دل اور کرن پالر میں تھی اور گھر پر نجمہ بیگم گن چکر بنی ہوٸی تھی۔۔۔
ملک ہاوس بھی اس وقت روشنیوں سے نہایا ہوا تھا رنگ برنگی لائٹنگ اور خوبصورت سٹیج جس پر صوفہ رکھا تھا اور سٹیج کے اردگرد گلاب کی لڑریاں لٹک رہٸ تھی۔۔۔
 
شاویز تیار ہو چکا تھا کالی آنکهيں گندمی رنگت ہلکی ہلکی داڑھی موچھے ، 6 فٹ قد بلاشا وہ ایک خوبصورت مرد تھا اس پر سفید کلر کی شروانی جس پر مہرون کلر کا کام بناتھا سر پر مہرون کلر کی پگڑی گلے میں موتیےاور گلاب کی مالا ڈالے وہ بہت جازب نظر آرہا تھا شیلا بیگم تو اس کی صدقے واری جارہی تھیں بارات ملک ہاوس کے لیے نکل چکی تھی۔۔۔
 
شہری اپنی کار لیر آیا اور سمارہ کو بیٹھنے کا اشارہ کیا شہری پھپھو کو بھی بلاٶ ارۓ پاگل عورت وہ ابا جی کے ساتھ جایۓ گی تم بیٹو ورنہ میں اس بارات میں سے اک حسین لڑکی کو ساتھ لے جاٶ گا اس بات پر تو سمارہ کو آگ ہی تو لگی تھی وہ پچھلا ڈور کھلنے ہی لگی تھی کے شہری نے کہا میں تمہارا ڈراٸور نہیں ہوں آگۓ آٶ اور سمارہ منھ بناتی آگۓ آگئ سمارہ نے آج کالے رنک کا کامدار سوٹ زیب تن کر رکھا تھا جس پر سلور رنگ کا کام تھا اور یہ فراک ٹاٸپ تھا اس کے ساتھ مناسب میکاپ وہ پرکشش لگ رہٸ تھی شہری نے بھی کالے رنگ کا تھری پیس واٸٹ شٹ کے ساتھ پہن رکھا تھا وہ دونوں اچھا لگ رہۓ تھے۔۔۔ یار سمارہ مینے مزاق کی تھی اب موڈ ٹھیک کرٶ اور تم لگ بھی قیامت رہٸ ہو یہ نہ ہو میں گھر کی طرف واپس گاڑی مور لو ویسے بھی تمہارا یہ کالے سوٹ اففف میرا دل بےمان ہورہا ہے سمارہ نے شہری کو پٹھڑی سے اترتے دیکھ کر جلدی سے کہا پر آٸندہ ایسے مزاق نہیں۔۔
اوکے اوکے عالیا جناب جو میری ملکہ عالیہ کا حکم اور سمار ہنس دی۔۔۔
 
دلاویز تیار تھی اور پالر سے گھر جارہٸ تھی۔۔۔
گاڑی ملک ہاوس کے سامنے رکی اندر سے خوبصورت سی لڑکی باہر آئی براٶن بڑی آنکهيں پتلی ناک کلی جیسے لب پانچ فٹ قد دودھٸ رنگت براٶن لمبے بال ان پر ڈیپ ریڈ لہنگا اور ڈارک بلیو ڈپٹا کے ساتھ ڈارک براڈل میکاپ اور قیمتی نیکلس سیٹ وہ آسمان سے اتری اپسرہ لگ رہئ تھی۔۔۔ کرن دل کو پکڑ کر سٹیج پر لے جاکر بٹھا دیا صباء بھی اس کے ساتھ آکر بیٹھ گٸ۔۔
تھوڑی دیر بعد دولہا آگیا کا شور اٹھا اور دلاویز کے دل کوٕ دڑکن تیز ہوگٸ۔۔۔
 
کرن جانی کدھر ہو یار شاویز کی چین کدھر رکھی ہے دو مینے پہنانی ہے اسے کاشان نے کرن سے کہا کاشی میری ورڈروب میں دیکھے۔۔۔
اور تھوڑا خیال اپنے شوہر کا بھی کر لیا کرٶ اک نظر کرم ہم پر بھی ڈال دیا کرو ہم آپ کو نہ دیکھے تو چین نہیں آتا کاشی اب آپ بڑے ہو جاٸۓ نہ اک بچے کے باپ ہیں اور میں فروغ بھی نہیں اک طرف بھائی کی شادی اور اک طرف نند کی ایسے میں آپ کی افلاتون الاد نے بھی بیڑا غارت کر رکھا ہے ایسے میں میں آپ کو کدھر سے ٹاٸم دو کرن نے شامی کے کپڑے چینج کرتے ہوۓ کہا جو کے اس نے ابھی vomiting کر کے خراب کر دیۓ تھے اوکے میری بیگم بیزی ہے پر رات کو فرصت سے دیکھو گا کاشان نے معنی حیز لہجے میں کہا کرن نفی کرتی باہر نکل گٸ۔۔
کرن نے آج اورنج کلر کا شرارہ اوپر پرپل کلر کا کام تھا ڈریس پہن رکھا تھا اور کاشان نے آج اچھی سی پنٹ شرٹ پہن رکھی تھی۔۔
 
دل کی کرسی کی رسم صباء نے بہن بن کر نبھائی تھی شاویز کے ساتھ شہری نے ایک لاکھ کرسی کے پیسے دیۓ اور شاویز کو دل کے برابر میں بھٹنے کی جگہ ملی ۔۔
شاویز نے دل کے کان میں کہا آج مجھ پر بجلی گرانے کا ارادہ ہے کیا یہ اپنی طرف سے دل کی تعریف تھی۔۔۔
پھر کاشان اور کرن سٹیج پر آیۓ کاشان نے شاویز کو گولڈ کی چین گلے میں ڈالی اور پھر کرن اور کاشان نے دونوں کو سلامی دی اور نیچے اتر گۓ۔۔ اب شہری اور سمارہ نے بھی رسم ادا کی اور سلامی دی اور چلے گۓ پھر باقی تمام مہمانان اور دوستوں نے رسم اور سلامی دی پر ملک زمیر احمد اور نجمہ بیگم دل سے ملے بہت سی دعائيں دی زمیر ملک نے شاویز سے کہا بیٹا شاویز دل میرا مان ہے میری لاڈلی بیٹٸ کا خیال رکھنا انکل آپ بے فکر رہۓ میں دل کا بہت خیال رکھٶ گا۔۔۔
پھر کاشان نے دل کے سر پر قران کا سایہ کیا اور اسے اس پاک کتاب کے سایے میں شاویز کے ساتھ رخصت کیا دل رخصتی کے وقت بہت روئی اسے کاشان نے لگلے لگا کر کار میں بھٹیا اور دل ملک ہاوس سے کیانی ہاوس آگٸ۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: