Bheek Mein Mili Mohabbat Novel By Tawasul Shah – Episode 13

0
بھیک میں ملی محبت از تاوسل شاہ – قسط نمبر 13

–**–**–

دل کی رخصتی کے بعد کرن تو دل کے ساتھ بھیٹی جب کے کاشان کار کی فرنٹ سیٹ پر ڈرائيور کی زمداری سرانجام دیۓ رہا تھا۔۔۔
ملک ہاوس میں سب ہی خاموش تھے نجمہ بیگم تو رو رہئ تھیں بیٹٸ کو رخصت کرکے ملک صاحب انہوں تسلی دیۓ رہیے تھے کے دل شاہ کے ساتھ بہت خوش رہۓ گٸ۔۔۔
 
سمارہ اور شہری گھر آگۓ تھے کیوں شہری کو اپنے گھر کے بن نیند نہیں آتی تھی اور سمارہ کو بھی شہری کے لیے آنا پڑا ورنہ سب نے بہت کہا دونوں کو کے شہروز ہاوس رک جاٶ شیر کیانی اور شاستہ دونوں ادھر ہٸ تھے۔۔۔
ظالم خسینہ کدھر چل دی ابھی مجھے تو دیدار یار مکمل کرلینے دو دن سے ترسا رہی ہو یہ کہتے ہوۓ شہری نے سمارہ کے گال پر لب رکھ دیۓ شہری پلیز میں بہت تھک چکی ہوں یار آج تو پہلی رات ہے سمارہ نے ہستے ہوۓ کہا آپ کی نہیں دلاویز اور شاویز کی شہری نے اووووو کو لمبے کرتے ہوۓ سمارہ کو چھوڑ دیا تم بہت تیز نہی ہوگٸ۔۔آپ کے ساتھ رہتۓ رہتۓ یہ کوالٹی تو آنی ہی تھی مجھ میں سمارہ ہستۓ ہوۓ کہا اور ڈریسنگ میں گھس گٸ۔۔۔
 
کاشان نے سجی سنوری کار کیانی ہاوس کے پورچ میں روکٸ انداز سے کرن نکلی اور کچھ اور لڑکیاں اندر سے آئٸ کرن نے اور باقی سب نے دل کا لہنگا اٹھایا اور دل شاویز کے پیچے چل پڑی۔
اب شیلا بیگم نے دل کے پاٶں کے نیچے روٸی”کاٹن“ کے چھوٹے چھوٹے گولے رکھے دل ان پر چل کر اندر کی جانب جارہٸ تھی یہ ایک رسم ہے جو دولہن کرتی ہے۔۔
پھر دل کو صوفے پر بٹھا کر قران مجید دیا گیا جسے دل نے پڑھا اور پھر گود میں بچا ڈالنے کی رسم ہوٸی جو کے کرن نے شامی کو دل کی گود میں ڈالا اور دل نے اسے پیار کیا اور پانج ہزار دیۓ ۔۔
پھر دل کو اور شاویز کو دودھ پلایا گیا ۔۔
جب بارات کیانی ہاوس پہنچی تو شہروز کیانی نے بہو بیٹۓ کا صدقہ بکروں کو زیبح کرکے دیا۔۔۔
سب نے دل اور شاویز کے ساتھ مووی بنوائی پھر پوز مووی کے لیے دلاویز کو شاویز کے روم میں لایا گیا پھر مووی بنوا کر شاویز تھوڑی دیر کے لیے دوستوں میں چلا گیا۔۔۔
اب دل کو شاویز کے روم میں بھیٹا کر سب باہر چلے گے۔۔۔
دل نے کمرے کا تفصيلی جائزہ لیا۔۔۔
یہ اک خوبصورت کمرا تھا دیواروں پر ویل پیپر لگا ہوا۔۔۔ کھڑکیاں پر بھاری ویلوٹ کے گہرے نیلے رنگ کے پردے کمرا دل کو بہت پسند آیا پر کمرے میں فرنيچر دل کے جہیز کا تھا شہروز اور شاویز کے منع کرنے کے باوجود ملک صاحب نے دل کو فرنيچر دیۓ کیوں کے وہ ان کی اکلوتی بیٹی تھی۔۔۔
کمرے میں خوبصورت جہازی سائز بیڈ جو کے پنک کلر کا تھا ساتھ صوفہ سیٹ سامنے ڈریسنگ ٹیبل زمین پر پیش قیمت کارپٹ پڑا تھا جس میں پاٶں دھستے ہوۓ معلوم ہوتے تھے۔۔۔
جب ڈور کھلنے کی آواز آئٸ تو دل نے گھنگھٹ اوڑلیا شاویز چلتا ہوا دل کے پاس بیڈ پر بیٹھ کر اس کا گھنگھٹ الٹایا اور دل کو دیکھتا ہی رہ گیا وہ کوئیٸ پری لگ رہی تھی پھر شاویز نے دل کو ڈائمنڈ رنگ پہنائی ابھی شاویز کچھ بولنے ہی والا تھا کے دل نے جٹ سے اپنا ہاتھ واپس موڑ لیا۔۔۔۔
بس شاویز علی کیانی بس میرے خیال میں آپ کا حق پورا ہو گیا جو مینے آپ کے لیے یہ روپ رکھا یہ بھی آپ کے لیے بہت ہے دل میری بات تو سنٶ شاویز نے دلاویز کو اپنے ساتھ لگانے چاہا دل ایک جھٹکے سے دوڑ ہٹی شاویز میری بات سن لیۓ اگر آپ نے مجھ پر اپنا حق جتانے کی کوشش بھی کی نہ تو میں ہمیشہ کے لیے بابا کے گھر چلی جاٶ گی۔۔
شاویز کو دل کی اتنی بدگمانی نےبہت تکليف دی وہ اس چھوٹی سی لڑکی کی آج کی ہمت دیکھ کر جہاں دنگ رہا وہاں اتنی بدگمان ہونے پر دکھ بھی ہوا شاویز چاہتا تو دل کے ساتھ زبردستی کر سکتا تھا پر اس نے آگۓ ہی اس کے ساتھ اچھا نہیں کیا اس لیے وہ اب اسے ٹاٸم دینا چاہتا تھا۔۔
دل واشروم سے چینج کر کے نکلی وہ سارہ سے سوٹ میں بھی قیامت لگ رہی تھی۔۔۔
دل چپ چاپ صوفے پر جاکر لیٹ گٸ اور شاویز اتنی حسین رات کو ایسے ہی جاتا دیکھ کر اس اپنے کیے پر اصل میں آج جی بھر کر بشتاوا ہوا تھا۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: