Bheek Mein Mili Mohabbat Novel By Tawasul Shah – Episode 14

0
بھیک میں ملی محبت از تاوسل شاہ – قسط نمبر 14

–**–**–

کرن آج واقع ہی بہت تھک گٸ تھی کچھ شادی کی تھکن کچھ شامی کی وجہ سے وہ اسے بار بار تنگ کرتا تھا ابھی بھی وہ دل کو کمرے میں چھوڑ کر آئی تھی کرن اج خوش بھی بہت تھی کیوں کے آج اس کے بھائی کی بارات تھی وہ اپنی بھابھٸ کو بھائی کے کمرے میں چھوڑ کرآرہٸ تھی اور اس کے شامی نے ہنگامہ برپا کردیا رو رو کر اسی لیے کرن بغیر چینج کیۓ شامی کو سلانۓ لگی ابھی وہ اسے بیڈ پر ڈال کر چینج کرنے ڈریسنگ روم میں جاتٸ پر اس سے پہلے کاشان روم میں آیا کرن چینج کے لیے جانے لگی تو کاشان نے اسے پیچھے سے باہوں میں پھر لیا ارۓ کرھر جاری ہو میری مالٹا کاشان نے کرن کے اورنج ڈریس کو دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔
کاشی جانے دیں مجھے میں آل ریڈٸ بہت تھک چکی ہوں کرن کاشان کو دیکھتے ہوۓ کہا جس کے منھ سے صاف ظاہر تھا کے وہ بہت رومینٹک موڈ میں ہے۔۔۔
نہیں جانمن آج چھوڑنے کا موڈ نہیں ساتھ کاشان کرن کو بیڈ کی طرف لے گیا کرن نے بھی اپنے مجازی خدا کو انکار کرنے مناسب نہیں سمجھا۔۔۔
 
دل تو سکون سے سوگٸ پر شاویز کو اک پل کو بھی سکون نہیں آرہا تھا وہ بار بار لیمپ کی مدہم روشنی میں دل کو دیکھتا اور پھر خود کو جو بیڈ پر خوبصورت سیج میں لیٹا ہوا تھا گلاب کی خوشبو جو کے سیج کے پھولوں سے أٹھ رہٸ تھی اس دیوانہ کر رہٸ تھی پر افسوس دل نے اس کے ارمانوں پر پانی پھیر دیا تھا۔۔۔
شاویز کا شدت سے دل چاہ رہا تھا کے وہ ابھی دل کو اٹھا کر اپنے پاس بیڈ پر لے کر آجایۓ یر وہ اپنے آپ کو روکتے ہوۓ سونے کی کوشش کرنے لگا اور پھر کب اس پر نیند کی دیوی مہربانی ہوٸی اسے پتہ ہی نہ چلا۔۔۔
صبح اس کی آنکھ روشنی سے کھلی اس نے آنکهيں کھول کر دیکھا دل نماز ادا کررہی تھی اس نے ٹاٸم دیکھا تو پانچ کا وقت تھا اسنے بھی أٹھ کر شاور لیا اور نماز پڑھی اور پھر سے سوگیا۔۔۔۔
 
جانی اٹھ جاٶ آج تو نماز بھی قصاء ہوگئ اور آج ہمارا ولیمہ بھی ہے شہری نے سمارہ کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوۓ کہا شہری سونے دیں رات کو بھی آپ نے سونے نہیں دیا سمارہ نے نیند میں ڈوبی آواز میں کہا اوکے تو تم ایسے نہیں اٹھو گٸ شہری نے سمارہ کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیۓ سمارہ ہڑبھڑا کر اٹھ بیٹھی وہ آپ نہ بہت ٹھرکی ہیں سمارہ نے بظاہر نارضگی سے کہا اچھا تو ٹھرکیوں سے بلا کہا اچھے کی توقع ہے شہری پھر سے اس کی طرف جھکا تو سمارہ اپنے نازک ہاتھوں سے اس کے سینے پر مکے برسانے لگٸ۔۔۔
 
دلاویز نہ چاہتۓ ہوا بھی شاویز کا انتظار کرتی رہٸ کے وہ اس کے ساتھ ہی باہر جانا چاہتی تھی کیوں کے وہ نہیں چاہتی تھی کے کسی کو بھی ان دونوں کے بارے میں پتا چلے۔۔۔ تھوڑی دیر بعد وہ بھی پھر سے سو چکی تھی۔۔۔۔۔شاویز دبارہ اٹھا تو دن کے پارہ کا وقت تھا۔۔۔ اس کی نظر دلاویز پر پڑی تو وہ بھی اسے بےخبر سوتی ہوئی نظر آئٸ شاویز بیڈ سے اتر کر دل کی جانب بڑھا وہ صوفے کے قریب پہنچ کر نیچھے زمین پر بیٹھ گیا اور دل کے چہرہ کو غور سے دیکھنے لگا کتنی معصومیت تھی اس کے چہرہ پر نازک سی تتلی چھوٹی سی لڑکی۔۔۔ مائی سویٹ ڑارلنگ۔۔۔ شاویز نے دل کے چہرہ پر آئٸ شرارتی لٹوں کو کان کے بیچھےکرتے ہوۓ کہا آئی لو یو دلاویز لو یو سو مچ۔۔۔
اور اٹھ کر فیس واش کرنے چلا گیا واپس آکر اس نے دل کو آواز دے کر جگایا کے چلو ناشتہ کر لیے دل فورا اٹھ گٸ شاید وہ پہلے سے جاگ رہٸ تھی۔۔۔
 
سمی۔۔۔۔ سمی یار آجاٶ لنچ کرلٕیں۔۔۔
شہری سمارہ کو کھانے کے لیے بلارہا تھا۔۔
شہری آریٸ آپ شروع کریں۔۔۔
نہیں تم آٶ پھر شروع کرٶ گا جلدی کرٶ یار ٹاٸم نہیں تین ہورہۓ ہیں پھر تمہے پالر کے لیے بھی چھوڑنا ہے ادھر بھی وقت لگ جانا ہے۔۔۔
شاستہ بیگم بہو بیٹے کے پیار کو دیکھ کر نہال ہوئی جارہی تھیں۔۔۔
سمارہ شہری اور شاستہ بیگم اب کھانا کھانے میں مصروف تھے۔۔۔
شہری یہ قورمہ ٹیسٹ کریں نہ مینے اسپیشل آپ کے لیے بنایا ہے۔۔۔۔
او واہ سو ٹیسٹی بہت مزےدار ہے یہ تو آخر بھتجی کس کی ہے مزے کا کیسے نہیں ہوگا۔ شاستہ بیگم نے سمارہ کو پیار سے دیکھتے ہوۓ کہا۔۔
شہری اور سمارہ لنچ کر کے تھوڑی دیر بعد پالر کے لیے نکل گۓ۔۔۔
 
دل اور شاویز بھی پالر کے لیے نکل چکے تھے آج کرن ساتھ نہ تھی کیوں کے شاویز نے کہا کرن آپی شامی بھی ٹھیک نہیں دلاویز کو میں لے کر آجاٶ گا کرن نے بھی کہا ٹھیک ہے۔۔۔۔۔
 
یہ شہر کے بڑے شادی ہالوں میں سے ایک تھا
شالامار شادی ہال
شیر کیانی،شہروز کیانی دونوں بھائی مہمانوں کے استقبال کے لیے ہال کے داخلی دروازے کے سامنے کھڑے تھے اور ان کے ساتھ ریاض کیانی،اور ملک زمیر احمد اور ملک کاشان احمد بھی مہمانوں کو ولکم کے لیے کھڑے تھے۔۔۔
اور اندر عورتوں کو شاستہ،شیلا،نجمہ،آمنہ،کرن،یہ سب مہمان عورتوں کو خوشآمدید کہہ رہٸ تھیں۔۔ اور سمارہ کی بہن سحر جو کل ہی بہرونے ملک سے سمارہ کے ولیمے کے لیے آئی تھی کیوں کے سمارہ کی شادی جن خالات میں ہوٸی وہ شادی میں شریک تو نہیں ہوسکی اب بہن کے ولیمے پر اپنے شوہر شاہ میر کے ساتھ آئی تھی اسمارہ کا بھائی ساٸم بھی اپنی بیوی صنم کے ساتھ شریک تھا اور بہت سے مہمان جو سمارہ کی بارات پر انواٸٹ نہ کرسکے تھے وہ سب بھی ولیمے کی تقریب میں شامل تھے۔۔۔
رات کے تقریبا 9 کا وقت تھا دولہے اور دونوں دلہنے بھی آنے والے تھے۔۔
 
سمارہ کو شہری جبکے دلاویز کو شاویز پالر لینے گیا تھا۔۔۔
ہال کے سامنے دو گاڑیاں آکررکی۔۔ اس گاڑی میں سے شہریار باہر آیا جو کے پانچ فٹ سے نکلتا قد گندمی رنگت ،باریک سی موچھے ہلکی سی داڑھی کالی آنکهيں اور تھری پیس میں مہرون کلر کی شٹ میں وہ پرکشش لگ رہا تھا شہری نے سمارہ کے لیے ڈور کھولا اور اس کی طرف ہاتھ بھڑایا جس سمارہ نے محبت سے تھام لیا۔۔۔
سمارہ نے خوبصورت میکسی جو کے مہرون کلر کی تھی اس پر گولڈن کلر کا کام تھا اس پر ٹی پنک کلر کا دوپٹا تھا دوپٹے پر بھی گولڈن کام ساتھ چوڑیدار پاجامہ۔۔
سبز بڑی آنکهيں پتلی ناک گلاب کی پنکریوں جیسے لب اس پر براڈل میکاپ وہ کوئی شہزادی لگ رہی تھی ۔۔
اب دوسری گاڑی میں سے شاویز باہر نکلا تھا جس نے سفید کلر کی شٹ کے ساتھ کالا تھری پیس پہن رکھا تھا شاویز نے بھی ڈور کھول کر دلاویز کی جانب ہاتھ کیا جسے دلاویز نے تھوڑے غصے سے تھام لیا دل نے آج واٸٹ کلر کی میکسی پہن رکھی تھی اس پر آنکهوں میں شاویز کے کہنے پر بلیو لینز ڈالے پنک کلر کا میکاپ کیے وہ چھوٹی سی باربی ڈال لگ رہی تھی۔۔
دونوں جوڑیاں ایک ساتھ چلتی ہوئی جیسے ہی ہال میں انٹر ہوئی فورا سے سب لائٹس آف ہوگٸ
ہال میں سب گرلز نے شور اور سیٹیاں بجانی شروع کردی اندھرے میں ہی دو لایٹس نکلی جو کے دونوں کپلز پر ریڈ کلر کر لاٸٹ چھوڑ رہی تھئ وہ دونوں کپل جیسے جیسے چلتے لاٸٹس بھی ان کا ساتھ چل رہئ تھی اب جب دونوں کپلز سٹیج کے پاس پہنچے تو ہال کی تمام روشنیاں واپس آچکی تھیں۔۔
اب شاہ اور شہری سٹیج پر اوپر گۓ پھر دونوں نے اپنی اپنی دولہنوں کو ہاتھ دیا جو دونوں تھام کر سٹیج پر آگی۔۔۔
 
آج کرن ریڈ ساڑی میں ملبوس تھی اج کاشان نے شلوار کمیز پہن رکھا تھا کالے کلر کی کمیز اور سفید کلر کی شلوار وہ دونوں میاں بیوی اور ان کا ننھا شامی بھی بہت پیارے لگ رہۓ تھے۔۔۔
تھوڑی دیر بعد کپل ڈانس شروع ہوا سب سے پہلے شہری اور سمارہ نے کی دونوں نے بہت اچھا کیا پھر شاویز اور دلاویز کی باری آئٸ شاویز دل کا ہاتھ پکڑنے لگا جب دل نے شاویز کو زور سے چٹکی کاٹی پر وہ بھی شاویز تھا کہا پیچھے ہٹنے والا تھا اس نے دل کی کمر پر ہاتھ ڈال دیا اب دل صحیح معنوں میں بشتا رہئ تھی اسے چٹکٸ کاٹ کر۔۔۔۔۔
جب شاویز نے دل کی کمر پر ہاتھ رکھاتو ہال سیٹیوں اور تالیوں سے گونج اٹھا ۔۔
اب سحر اور شاہ میر کی باری آئٸ ان دونوں نے بھی اچها کیا پھر ساٸم اورصنم نے بھی ڈانس کیا پھر کاشان اور کرن نے کیا کرن نے ساڑی پہن رکھی تھی اسی لیے وہ ڈانس کرتے ہوئے گرنے لگی کے کاشان کے مظبوط بازوں نے کرن کو تھام لیے ہال پھر سے سیٹیوں اور تالیوں سے گونج گیا۔۔۔
پھر سب نے دولہے دولہنوں کے ساتھ مووی بنوائی اور تھوڑی دیر میں کھانا کھول گیا سب کھانے کے ساتھ ساتھ سٹیج پر بھی دیکھ رہۓ تھے۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: