Bheek Mein Mili Mohabbat Novel By Tawasul Shah – Episode 15

0
بھیک میں ملی محبت از تاوسل شاہ – قسط نمبر 15

–**–**–

شیریار اور شاویز کے ولیمے کو آج ایک مہینا گرز چکا تھا۔۔۔۔
سمی یار جلدی کرٶ شاویز لوگ پہنچانے والے ہیں شہری سب ریڈی ہے آپ فکر نہ کریں۔۔۔
آج شیر کیانی ہاوس میں شاویز اور دلاویز کرن اور کاشان کی اور شہروز اور شیلا ان کی دعوت تھی اور شہری کی خواہش تھی کے سب کھانا شاستہ اور سمارہ بنایۓ اور دونوں ساس بہو نے بیٹے اور شوہر کی خواہش کا اخترام کرتے ہویۓ سب اپنے ہاتھوں سے بنایا تھا اور وہ دونوں صبح سے کچن میں مصروف تھیں اب سب کام مکمل ہوچکے تھے اور دن کے ایک کا وقت ہونے والا تھا سب مہمان بھی پہنچانے والے تھے تھوڑی دیر بعد سب آگۓ۔۔ سب نے کھانا شروع کیا دل بھابھی یہ ریشین سائلٹ ٹیسٹ کریں سمی نے اسپیشل آپ کے لیے ہی بنایا یے شہری نے دل سے کہا جو دل نے مسکرا اٹھا لیا۔۔
اب کے شیر کیانی نے کہا کرن کاشان بیٹا یہ چکن کڑاھئی لو ارۓ یہ ہماری بیگم نے بنایی ہے شیر کیانی نے شہری کو دیکھتے ہوۓ کہا اس پر سب کا قہقہا بلند ہوا جو پورے کیانی ہاوس میں پھیل گیا۔۔۔
شیلا شہروز بھائی یقين مانو میرا بیٹا ایسے ہی میری سمی کی تعریف نہیں کرتا میری بہو ہے ہی اس قابل یہ بناتی ہی اتنا اچھا کھانا ہے یہ رسملائی کھا کردیکھو ایسا لگتا ہے میرٕی سمی نے اس میں پیار کھول دیا ہے۔۔۔ سمارہ اپنی تعریف پر جہھنپ گئ۔۔۔ اب سب سکون سے کھانا کھا رہۓ تھے کے شہری نے پھر ہانک لگٸ اویۓ شاویز یہ افعانی بریانی میں تیرے لیے بناوائی ہے یہ تو تُو نے لی نہیں یار کتنا اور کھاٶ مینے اپنے پیٹ نہیں خراب کرنا ارۓ گھر آپ کا ہے پر پیٹ تو میرا ہے نہ شاویز کی اس بات پر سب مسکرا دیۓ۔۔۔
سمارہ بھابھی، تائی امی کھانا واقع میں بہت ٹیسٹٸ تھا شاویز نے اور کرن نے ایک ساتھ کہا بلکل جی ہماری بہو سمارہ تو بہت اچھا کھانا بناتی ہیں اب کے شہروز نے کہا کھانا بہت مزہدار تھا اب کے شیلا بیگم نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔۔
شیلا تمہاری بہو اور داماد کیوں چپ چپ ہیں شاستہ بیگم نے کہا جس کا جواب کاشان نے مسکرا دیا تائی امی وہ کیا ہے کے ہم دونوں بہن بھائی کے حصے کی ساری باتيں میری بیوی اور دل کے شوہر نامدار نے جو کرلی اب کی بار کرن نے کاشان کو گھور کر دیکھا دیکھے تائی امی آپ کی بیٹی مجھے گھور رہی یے کاشان نے معصوم شکل بناتے ہوۓ کہا۔۔۔
سمی فریزر سے آٸسکریم تو نکال لوٶ شہری نے سمارہ کو کہا۔۔ جی میں لاتی ہوں سمارہ اٹھنے لگی تھی اسے روز سے چکر آیۓ اور وہ زمین بوس ہوتی اس سے پہلے شہری کے مہربان بازوں نے سمارہ کو تھام لیے شہری نے سمارہ کو اٹھا کر صوفے پر ڈالا اور سمارہ کا چہرہ تھپتھپایۓ پر سمارہ نے کوٸی حرکت نہیں کی اب کی بار شاستہ بیگم نے پرشان ہوتے ہوۓ کہا شہری سمارہ کو ہوسپیٹل لیکر چلو اور شہری سمارہ کو گاڑی میں ڈال کر ہوسپیٹل لے گیا۔۔۔
 
دلاویز کی شادی کو پورا ایک منتھ ہوچلا تھا پر دلاویز کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔۔ شاویز اسے یقین دلادلا کر تھک چکا تھا۔۔
لیکن وہ تھی کے اس پر یقین کرنے پر تیار ہی نہیں تھی۔۔
آج بھی شاویز بہت اچھے موڈ میں گھر آیا تھا جب وہ کمرے میں گیا اس نے دل کو ہاتھ لگانا چاہا تو دل دو قدم پیچھے ہوئی۔
شاویز غصہ سے ٹیبل سے گاڑی کی کیز اٹھائی اور زور سے کمرے کا دروازہ مارتے ہوۓ باہر نکل گیا۔۔۔
شاویز گاڑی کو بےمقصد سڑکوں پر دوڑاتا رہا۔۔
آج شاویز کا دل بلکل ٹوٹ چکا تھا شاویز نے دل کے ساتھ برا کیا تھا مگر غلط ہرگز نہیں کیوں کے اس نے دل سے نکاح کرکے سب تعلوقات قاٸم کیے تھے۔۔
وہ یہ بھی مانتا تھا کے اس نے دل کے ساتھ تعلق صرف بدلہ کی عرض سے رکھا تھا پر اس نے بھی دل کو وقت دیا تھا پر اس نے کیا کیا اک مہینہ وہ دل کا انتظار کرتا رہا کے وہ رشتے کی حقيقت کو پہچانے پر وہ صدا کی ضدی وہ شاویز کے ہاتھ لگانا پر بھی یوں رایکٹ (reacat)کرتی جیسے وہ اس کا ہسبنڈ نہیں کوٸی غیر آدمی ہو پھر ایسے میں شاویز کو کیوں غصہ نہ آتا۔۔۔
شاویز جب گاڑی کو سڑکوں پر دوڑا دوڑا کر تھک گیا تو اس نے مہ خانے کی طرف گاڑی پڑھا دی۔۔
اس نے زندگی میں کبھی اس حرام چیز کو ہاتھ تک نہیں لگایا تھا پر وہ کہتۓ ہیں نہ غصہ ہی حرام ہے جب اس حرام چیز نے گھیرا ہوا تھا تو وہ یہ تمیز کیسے کرتا جو وہ پینے جارہا یے وہ بھی حرام ہے اور ہمارے اسلام میں بڑا گناہ ہے۔۔۔اس نے جی پھر کر ڈرنک کی اور پھر رات کے ایک بجے گاڑی گھر کی جانب موڑدی۔۔۔
 
رات کے ایک کا وقت تھا کرن اور کاشان شامی کے ہمراہ سورہۓ تھے۔۔۔
کاشان کے موبائل پر رنگ ٹون ہوئی کاشان فورا جاگ گیا جب کے کرن بہت گہری نیند میں تھی کیوں کے ابھی گھنٹا بھر پہلے ہی کرن شامی کو سلاکر سوئی تھی پہلے شامی نے رو رو کر کرن کو سونے نہیں دیا تھا۔۔۔
کاشان نے نمبر دیکھا وہ انون تھا کاشان نے دھمی آواز میں ہیلو کہا۔
دوسری طرف سے بہت نرم خوبصورت آواز تھی۔۔۔
ہیلو کاشی ڈارلنگ کیسے ہو تم۔۔ نہایت بے تکلفی میں کہا گیا۔۔۔
کاشان نے نہ سمجهی میں فون کو دیکھا اور کہا آپ کون؟
ارۓ یار مجھے بھول گۓ میں امیرہ کل ہی امریکہ سے لوٹی ہوں پر تم تو مجھے بہت جلدی بھول گۓ۔۔۔
ارۓ امیرہ تم مینے تمہے واقع میں نہیں پہچانا اور کاشان اٹھ کر روم سے باہر نکل گیا کے کہیں کرن کی نیند خراب نہ ہو۔۔
پر کرن باتوں کی آواز سے جاگ گٸ تھی اور اس نے صرف آخری لفظ سن لیۓ تھے ارۓ امیرہ مینے تمہے نہیں پہچانا اور کاشان کا روم سے باہر نکل جانا شک کی چنگاری چھوڑ گیا تھا۔۔
اوکے یار کل ملتے ہیں تم مجھے کال کر کے جگہ بتا دینا اوکے رکھتا ہوں۔۔۔
کاشان کال ختم کر کے آیا تو کرن کو جگتے پایا کاشان آپ کدھر گۓ تھے کرن نے کہا۔۔
یار کال سنۓ باہر چلا گیا کے تم ڈسٹرب نہ ہو۔۔۔
ہمممم کرن نے پھر کہا اتنی رات کو کس کی کال تھی ۔۔
یار ایک پرانے دوست کی تھی وہ کافی سال بعد امریکہ سے آیا تو نہ جانے کاشان نے کیوں کرن سے امیرہ کا چھپایا پر کاشان کے غلط بیانی پر کرن کے اندر شک کا بیج اب ایک پودے کی جگہ دے چکا تھا۔۔۔
 
شہری سمارہ کو ہوسپٹل لے کر گیا تھا۔۔۔
لیڈی ڈاکٹر نے سمارہ کا چیک آپ کیا اور باہر آگٸ کیا ہوا تھا ڈاکٹر میری سمی کو وہ کیوں بےہوش ہوگٸ تھی۔۔۔
ارۓ مسٹر شہریار ایسی کنڈیشن میں ایسا تو ہوتا ہی ہے۔۔۔
کیا مطلب آپکا ڈاکٹر
آپ کی مسسز پریگنٹ ہیں وہ ماں بنے والی ہیں۔۔۔
کیا کہا ڈاکٹر میں پاپا بنے والا ہوں جی بلکل مسٹر کیانی اوووو ڈاکٹر آپکے منھ میں گھئ شکر یہ میری طرف سے آپ کا انعام آپ نے مجھے اتنی بڑی خوشخبری سنائی شہری نے پانچ ہزار کا نوٹ ڈاکٹر کو تھمایا جو ڈاکٹر نے خوشی سے پکڑ لیا۔۔۔ اور شہری سمارہ کو لیکر کیانی ہاوس پہنچا سب اس کے منتظر تھے۔۔۔ کیا ہوا تھا سمارہ کو شیر کیانی اور شاستہ بیگم نے پوچھا تو سمارہ شرماکر اندر چلی گٸ۔۔۔
شاستہ نے جانپتٸ نظروں سے دیکھا اماں جی اباجی شہری نے دونوں کے پاس بیٹھتے ہوا کہا آپ دونوں دادا داری بنے والے ہیں۔۔۔
کیا سچ کہہ رہۓ ہو شاستہ بیگم نے بیٹےکو گلے لگتے ہوا کہا جی اماں جی مبارک ہو بیٹا شاستہ نے کہا اب شیر کیانی نے بھی بیٹے کے بعلگیر ہوتے ہوا کہا مبارک ہو پتر او بہت بہت شہری نے چہک کر کہا خیرمبارک آپ دونوں کو بھی بہت مبارک ہو۔۔
شہری کمرے میں آیا تو سمارہ آئینے کے سامنے کھڑی تھی شہری نے کہا بہت شکریہ میری جان مجھے اتنا پیارا گفٹ دینے کے لیے سمارہ کو باہوں میں بھرتے ہوۓ کہا اور مبارک ہو میری بیبی کی کیوٹ ماما شہری نے اس کے گال پر لب رکھتے ہوۓ کہا اتنے میں دروازہ ناق ہوا اور شاستہ بیگم اندر داخل ہوٸی انہوں نے سمارہ کو گلے لگتے ہوۓ کہا شکریہ سمارہ میری نسل آگۓ بڑھانے کے لیے اور پچاس ہزار سمارہ کے سر سے وارتی ہو بولی یہ غریبوں اور ضرورت مندو کو دینا وہ شہری کو پکڑتی باہر نکل گٸ۔۔۔
 
شاویز گھر آیا تو دو کا وقت تھا شاویز اس وقت بھرپور نشے میں تھا پتہ نہیں گاڑی کیسے لے کر گھر آیا۔۔ گاڑی کو پورچ میں روکر وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔
شاویز جب روم میں آیا دل سکون سے سو رہی تھی شاویز اس دیکھتے ہی تپ گیا اس نے روم لاق کیا اور دلاویز کو اٹھا کر بیڈ پر پٹھا وہ ہوش میں ہوتا تو کبھی دل کے ساتھ دوبارہ ایسا نہ کرتا پر وہ ہوش میں کہا تھا وہ تو تین بوتل شراب پی کر خود کے ہوش واہواس میں بھی نہیں تھا اس نے دل کو بیڈ پر زور سے پھینکا تو وہ شاویز کو پھر سے دمکی دینے لگی شاو۔۔۔شاویز میرے پاس بھی مت آیۓ گا پر شاویز اس کے ہونٹوں بند کرچکا تھا اس کی آواز گلے میں ہی رہ گٸ شاویز نے کندھے سے دل کی کمیز پھاڑ دی دل نے اب رونا شروع کردیا تھا پر شاویز ہوش میں ہوتا تو دل کے آنسو دیکھتا دل کو اس کے منھ سے ناقابلے برداشت بدبو بھی آرہی تھی وہ اپنی ضرورت پوری کر کے دینا جہاں سے بےخبر ہوگیا
دل اس کے اس طرح کے حیوانوں جیسے سلوک سے اب بےہوش ہو چکی تھی۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: