Bheek Mein Mili Mohabbat Novel By Tawasul Shah – Episode 16

0
بھیک میں ملی محبت از تاوسل شاہ – قسط نمبر 16

–**–**–

سمارہ جب صبح اٹھی تو شہری آفس یونیفام میں ملبوس شیشے کے سامنے کھڑا بال سنوار رہا تھا۔۔۔
گڈ مورنگ میری جان کیسی طبیعت ہے اب
جی ٹھیک ہوں اب اوکے تم شاور لے لو میں تمہارے لیے ناشتہ منگواتا ہوں روم میں ہی اور اب تمہے اپنے بہت خیال رکھنا ہے اور میرے بیبی کا بھی اوکے شہری نے سمارہ کی پیشانی پر لب رکھتے ہوۓ کہا۔۔۔
سمارہ شاور لے کر نکلی تو شہری اس کے لیے ناشتہ ٹیبل پر لگوا چکا تھا۔۔
سمی میری جان اب یہ ناشتہ کرلو اور ٹھیک سے کرنے ہاں مجھے بہت دیر ہوگٸ ہے آفس سے اللہ حافظ سمی اپنا خیال رکھنا۔۔
پھر وہ آفس کے لیے نکل گیا۔۔
 
اسلام و علیکم۔۔۔
شیریار۔۔
و علیکم اسلام شاویز کیسے ہو یار۔۔
میں فٹ آپ سنایۓ
میں بھی ٹھیک ہوں الحَمْدُ ِلله۔۔
اور گھر میں سب کیسے ہیں۔۔
اوو ہاں گھر سے یاد آیا تم چاچو بنۓ والا ہو۔۔
ماشاءاللہ ماشاءاللہ
بہت بہت مبارک ہو آپ کو خیر مبارک تم کب تک ہمے تایا بنارہۓ۔۔
شہری نے معنی حیز میں پوچھا۔۔
ہاہاہا جلد انشالللہ شاویز نے بات کو مزاح کا رنگ دیتے ہوۓ کہا۔۔
اچھا میٹنگ کب تک ہے شاویز نے ریسٹ واچ دیکھتے ہوۓ۔۔
پوچھا بس آدھے گھنٹے بعد اور ہاں آج اگر کونٹریکٹ مل گیا تو ہم میں سے کسی کو ترکی جانا ہے اوکے میں چلا جاٶ گا شاویز نے خوشدلی سے کہا
شکریہ یار تم تو جانتے ہی ہو میں اس کنڑیشن میں سمی کو چھوڑ کر نہیں جانا چاہتا۔۔
او ہاں مجاہد سے پوچھو میٹنگ کے لیے سارے ارینجمنٹس مکمل ہیں۔۔
شاویز اوکے کہتا باہر نکل گیا۔۔
شہری کی شادی کے بعد سے بزنس سارا شاویز اور شیریار سنبهال ریۓ تھے کیوں کے شہروز کیانی تو بیمار رہتۓ تھے جب کے شیر کیانی نے کہا اب وہ روزانہ تو آفس نہیں آسکتے ہاں وہ ہفتے میں ایک آدھ بار چکر لگا لیتے تھے۔۔
 
دل کی آنکھ کھلی تو اس نے خود کو شاویز کے بیڈ پر پایا پر شاویز اسے کہیں نظر نہیں آیا۔۔
دلاویز کی نظر جب اپنی پھٹی ہوئی کمیز پر پڑی تو دلاویز کو رات کا منظر کسی فلم کی طرح آنکھوں کے سامنے چلنے لگا۔۔
اور دل پھر سے رونے کو شعل کرنے لگی۔۔
اس کم عمر اور پاگل لڑکی کو کون سمجھتا کے اس بار وہ غلطی پر تھی۔۔
مرد کتنی بھی محبت کرلیتا ہے پر جب عورت اس سکون پہنچانے کا زریعہ نہیں بنۓ تو وہی پیار لٹانۓ والا مرد عورت سے کس قدر نفرت کرنے لگتا ہے یہ وہ جان جاتی تو کبھی شاویز کے ساتھ اب ایسا نہیں کرتی۔۔
دلاویز اٹھٸ اور شاور لے کر نیچھے ناشتہ کرنے چلی گی۔۔
 
ملک ہاوس میں کل سے صرف کرن اور کاشان تھے کیوں کے نجمہ بیگم کی خالہ کا انتقال ہوگیا تھا جو کے کراچی کی تھیں ملک زمیر احمد اور نجمہ بیگم کراچی گۓ ہوۓ تھے۔۔۔
کرن اور کاشان اٹھۓ تو صبح کے گیارہ کا وقت تھا ۔۔
کاشان
شاور لینے واشروم میں تھا۔۔
کرن ابھی ناشتہ بنانے جاریٸ تھی کہ کاشان کے موبائل پر کال آنے لگی کرن نے کاشان کو آواز دی کے کاشی کال آرہٸ ہے کاشان نے کہا یار کال کاٹ دو کرن کال کاٹ کرجانے لگی کے میسج بیپ ہوئی کرن کی نظر اتفاقن پر جو کے میسج تھا”‘ کاشی ڈارلنگ جناح گاڑڈن آجاٶ””۔۔۔
کرن میسج کو نظرانداز کر کے جانے لگی کے ایک اور میسج آیا “یار پلیز جلدی آٶ تمہے پتہ ہے میں کسی کا ویٹ نہیں کرتی اتنا یہ تو کاشان ملک ہے جس کا امیرہ ویٹ بھی کرلے گٸ۔۔
کرن کے دل میں تو طوفان سا آگیا تھا امیرہ کے نام پر۔۔
واشروم کے دروازے کھولنے کی آواز پر کرن جلدی سے کچن میں آکر ناشتہ بنانے لگی۔۔
ناشتہ کے دوران کاشی کس کی کال تھی کرن نے پوچھا یار ایک دوست کی اس سے ملنے جانا ہے رات کو بتایا نا وہ ہی۔۔
کیا نام ہے دوست کا کرن نے جاسوسی نظر سے دیکھتے ہوۓ پوچھا
میرا مطلب ہے پہلے کبھی نہیں آپ سے زکر سنا نہیں
ع۔۔علی نام ہے یار ادھر تھا نہیں اور تم کیا کن باتوں میں لگٸ ہو۔۔۔
کاشان ناشتہ کر کے جاچکا تھا۔۔
پر کرن کا دل کٹ کر رہ گیا کے کاشان ایسا بھی کرسکتا ہے میرے ساتھ وہ ان خیالات میں اتنی مگن تھی کے شامی کے رونے کی آواز بھی اسے نہیں آئی شامی جب بیڈ سے نیچھے گرا اور اس کے رونے میں شدت آئی تو کرن کو ہوش آئی۔۔۔ کرن بھاگ کر روم میں داخل ہوٸی تو شامی بیڈ سے نیچھے گرا نیلا پیلا ہو رہا تھا اور اس کی پیشانی پر گول گورمر بن چکا تھا کرن نے تین ماہ کے شامی کو سینے سے لگا کر چپ کروایا۔۔
 
Congratulation مسٹر
شیریار اینڈ شاویز آپ دونوں کی کارکردگی دیکھتے ہوۓ ہم یہ کنٹریکٹ آپ دونوں کو دینے کا فیصلہ کیا ہے ہمے بہت خوشی ہو گی آپ کے ساتھ کام کرکے۔۔
شکریہ جناب دونوں نے ڈیلر سے ہاتھ ملایا اور کانفرنس روم سے باہر آگے جی تو جناب ترکی جانے کی تیاری پکڑو رات آپ کی فلایٹ ہے ابھی گھر جاٶ اور پیکنگ وغيرہ کرلو 25 دن کے بعد واپسی ہے اوکے بوس کہتے باہر نکلا اور اپنی لینڈکروزر میں بھیٹ کر پہلے مال گیا اور پھر شاویز گھر آگیا۔۔۔
 
کاشان جناح پہنچا تو امیرہ اسے دور سے نظر آئی۔۔
پنڈلیوں سے اوپر کیپری جسم سے چپکی شٹ ڈوپٹے سے بے نیاز گھلے بال میکاپ سے پھرا چہرہ وہ صحیح معنوں میں یہودی کلچر کا مکمل اشکار لگ رہٸ تھی وہ شروع سے ہی بہت اپ ڈریسنگ کرتی تھی پر امریکہ سے واپسی پر یہ خال ہوگا کاشان نے سوچا بھی نہ تھا اس کاشان کو اس کی ڈریسنگ بلکل پسند نہ آئی پر وہ اسے منع بھی نہیں کرسکتا تھا کیوں کے وہ اس کی کچھ بھی تو نہیں لگتی تھی کچھ بھی نہیں۔۔
ہاٸی کاشی کیسے ہو یار
کاشان نے اس کی ہاٸی کو نظر انداز کرتے ہوۓ اسلام و علیکم کہا
میرے خیال سے امیرہ تم مسلمان ہو تم ہیلو ہاٸی کی جگہ اسلام و علیکم کہنا چاہیے تھا کاشان سے برداشت نہ ہوا تو کہے بن نہ رہے سکا۔۔۔
ارۓ چھوڑو ان باتوں کو چلو بھیٹ کر باتیں کرتے ہیں۔۔
کاشان اب بشتا رہا تھا اس پٹاہا لڑکی سے ملنے آکر وہ تو اسے پرانی کالج فیلو اور دوست سمجھ کر آگیا تھا پر پھر اس نے کرن کے ساتھ غلط بیانی کیوں کی۔۔
امیرہ پیزہ آرڈر کرنے لگی تو کاشان نے منع کردیا نہیں امیرہ میں ناشتہ کرکے آیا ہو ایسا کرو کولڈ ڈرنگ منگوا لو اور پھر تھوڑی دیر بعد کاشان واپس چلا گیا امیرہ کا تو لنچ کا موڈ تھا کاشان کے ساتھ پر وہ اسے منع کر کے اگیا کیوں کے اس پتہ تھا کرن اس کے بن کھانا نہیں کھاتی تھی۔۔۔
 
شاویز گھر جانے سے پہلے اپنے لیے شاپنگ کرنے گیا اور پھر گھر گیا۔۔
ڈنر پر اس نے شہروز کیانی اور شیلا بیگم کو بتایا کے وہ ترکی جارہا ہے آفس کے کام سے تقریبا 25 دن لگے گے۔۔
اچھا دلاویز کو بھی ساتھ لے کر جاو شیلا بیگم نے کہا کیوں نہیں اتنا لمبا ٹور ہے تو اب کے شہروز کیانی نے کہا پاپا ماما دلاویز کے کالج کا پہلے ہی بہت ہرج ہو چکا ہے مینے دو دن پہلے اس کا اسی کالج میں ایڈمیشن کروا دیا ہے اس لیے میں اکیلا ہی جاو گا ساتھ بھیٹی دلاویز کے منھ سے کچھ لفظ نہیں نکل رہے تو کیوں کے کالج دوبارہ جانے کا اسکو بھی دل تھا اس لیے وہ خوموش ہی رہی۔۔
ٹھیک ہے ماما پاپا اللہ حافظ کیوں کے رات کے دو بجے فلایٹ ہے۔۔
شاویز سب پیکنگ کر چکا تھا اب 12 ہوچکے تھے اسے 1 بجے تک ایٸرپوٹ پہنچنا تھا کیوں کے ایک گھنٹا ادھر لگ جانا تھا۔۔۔
شاویز کو دکھ تھا کے اس نے کل رات دل کے ساتھ اچھا نہیں کیا پر اسے دل کے رویے پر بھی بہت دکھ تھا بلکہ وہ اندر سے دل سے ناراض تھا۔۔
دلاویز اس نے پہلی بار اس کا پورے نام سے پکارہ تھا دل نے صرف اس کی طرف دیکھا میں جارہا ہو اور یہ کچھ پیسے ہیں تمہے ضرورت آیے گے اس نے پچاس ہزار ڈریسنگ ٹیبل پر رکھے ۔۔
اور ہاں تم چاہو تو اپنے ماما بابا کے گھر رہ سکتی ہو جب تک میں واپس نہیں آجاو اور ڈرائيور کو مینے کہہ دیا ہے وہ کالج ڈراپ بھی کردے گا اور پک بھی تمہے کالج کے بعد اگر انکل کے گھر جانا ہوا تو اس بتا دینا وہ چھوڑ دے گا شاویز اخری بار دلاویز کو دیکھ کر باہر نکل گیا۔۔۔
 
شہری شام کو گھر پہنچا تو سب شام کی چاہۓ اور ساتھ سموسے اور پکوڑوں سے انصاف کیا جارہا تھا۔۔
آ پتر او چاہۓ پی جی شہری نے کپ اٹھاکر ماں سے پوچھا۔۔ امان سمی کدھر ہے بیٹا اس مینے کہا آو تم بھی کچھ کھا پی لو پر وہ کچھ کھاتی ہی نہیں ناشتہ کیا تھوڑا سا پھر دن میں بھی بس ریشین ساٸلٹ کھایا اس نے ایسے تو بجے پر برا اثر پڑے گا نا جی اماں آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ ڈالے چاہۓ اس کے لیے بھی میں اس لے کر آتا ہوں ۔۔
سمارہ بیڈ پر لیٹی تھی سمی میری جان کیسی ہو میں ٹھیک آپ کب آٸے میں ابھی چلو نیچھے کچھ کھا لو مجھے نہیں دل شہری مینے کہا چلو شہری سمارہ کو ایک سموسہ بھی کھلایا اور چاہۓ بھی ہلائی اب سمارہ کا دل عجيب سے ہو رہا تھا شہری آپ نے اچھا نہیں کیا میرا دل عجیب سا ہو رہا ہے۔۔۔
تھوڑی دیر ہی گزری تھی کے سمارہ بھاگ کر واشبیسن کی طرف لپکی اور دھرا دھر الٹیاں (vomiting) کرنے لگی ۔۔
جب سمارہ فیس واش کر کے روم میں آئی تو اس کے جسم میں جیسے طاقت ہی نہیں وہ نڈہال سی بیڈ پر لیٹ گٸ۔۔۔
شہری اس کے بالوں میں ہاتھ چلانے ہوۓ سمی یار کیا ہوگیا ہے۔۔
کچھ نہیں ایک تو آپ کو چین نہیں تھا زبردستی مجھے کھلا دیا سموسہ اور آپ کی اس الاد کو بھی سکون نہیں نہ مجھے لینے دیتے ہے سمارہ روتے ہوۓ بولی جب سے اس کا پتہ چلا ہے مجھے ایک منٹ سکون نصیب نہیں ہوا بار بار vomiting آنے لگتی ہیں۔۔۔
اوووووووو میری جان یہ وامٹنگ نیکسٹ دو منھ تک ہیں بس ڈاکٹر بتارہی تھی اچھا اب چپ ہو کل پھر سے appointment ہے تو ریڈ رہنا شام میں اب شاویز بھی آفس نہیں ہوتا ورنہ چھٹی کرلیتا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: