Bheek Mein Mili Mohabbat Novel By Tawasul Shah – Episode 17

0
بھیک میں ملی محبت از تاوسل شاہ – قسط نمبر 17

–**–**–

یہ رات کا پُرنور منظر تھا چاندنی اپنے پروں سے پورے آسمان کو گھیرے ہوئی تھی۔۔۔
ملک ہاوس کے مکین خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہۓ۔۔
ایسے میں اگر کرن اور کاشان کے کمرے میں دیکھا جایۓ تو دونوں آرام سے نیند فرما رہۓ تھے ان کا افلاطون بھی خاموشی کے تمام ریکاڈ توڑے سویا ہوا تھا۔۔
ایسے میں گھڑی نے جیسے ہی 11:45 بجایۓ۔۔
کاشان کے موبائل پر کال آنے لگی۔۔ جو کاشان نے نیند میں ہونے کی وجہ سے جلدی سے پک کرلی۔۔
کاش۔۔۔۔۔کاشان۔۔۔کاشان۔۔ پلی۔۔۔پلیز۔۔پلیز مجھے بچالو یہ لوگ مجھے جان سے مار ڈالے گۓ۔۔۔
کاشان نے آواز پہچانتے ہوا بیڈ سے نیچھے اترا اور باہر نکل گیا۔۔
کیا بات ہے امیرہ تم کدھر ہو یار اور کون مار ڈالے گا۔۔
کاشی۔۔ یہ لڑکے مجھے کیڈنیپ کرکے لایۓ ہیں میری عزت اور جان دونوں خطرے میں ہیں تم پلیز مجھے بچالو۔۔۔
اچھا تم ہو کدھر۔۔
کاشان نے پرشان ہوتے ہوۓ کہا امیرہ نے اسے ایڈریس بتایا اور ساتھ ہی فون ٹوٹنے کی آواز نے کاشان کو مزید پرشان کردیا وہ سامنے لونج میں پڑے ٹیبل سے گاڑی کی کیز اٹھتے ہوے باہر نکلا گیا اسے یہ بھی خیال نہیں آیا کے وہ اپنی بیوی کو ہی بتا دے۔۔
 
دلاویز شاویز کے جانے کے بعد سے ہی بہت ڈر محسوس کر رہی تھی۔۔
ویزی جیسے بھی ہیں ان کی مجودگی میں مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسا میں محفوط مقام پر ہوں چاہے جو بھی ہوجایے ویزی میری حفاظت کریں گۓ۔۔
بلکل دلاویز کو ٹھیک احساس ہوا تھا شوہر ایک محافظ ہی تو ہوتا ہے۔۔
دل کو جیسے تیسے نیند آئی۔
دوبارہ اس کی آنکھ پانچ بجے کھلی۔۔
دل اٹھ کر شاور لے کر نماز پڑھنے چلی گئ۔۔
اس کے بعد وہ سوٹ کیس میں اپنے کپڑے رکھنے لگی پھر وہ کالج ڈریس پہن کر نیچھے چلی گٸ۔۔
اب وہ کچن میں داخل ہوٸی
چھوٹی بی بی آپ ملازمہ نے حیرت سے کہا کیوں میں اگر اس گھر کی بہو ہو تو میں. کچن میں نہیں اسکتی کیا وہ نہیں بی بی صاحبہ چھوڑو سب باتیں ناشتہ ریڈ کرو جلدی سے دل آرڈر دیتی شیلا بیگم کے کمرے کی جانب بڑھ گئ۔۔
آج وہ صحیح شاویز علی کیانی کی وائف لگ رہی تھی شاویز ایسے دلاویز کو دیکھ لیتا تو ضرور غش کھ کر گر جاتا۔۔
ٹھک۔۔۔ ٹھک۔۔۔
آجاو شیلا بیگم قران پاک کی تلاوت میں مصروف تھیں۔۔
او دلاویز بیٹا آپ شہروز کیانی نے کہا جی پاپا شیلا بیگم نے دلاویز کو کہا خیریت ہے دل تم ٹھیک ہو نا ماما جی میں ٹھیک ہو آپ سے بات کرنی تھی کیا بات ہے بیٹا بولو۔۔
ماما پاپا کیا میں کچھ دن بابا کے گھر رہ لو شاویز سے اجازت مینے لے لی تھی ارے اس میں پوچھنے والی کون سی بات ہے دونوں نے مسکرا کر کہا شکریہ ماما پاپا۔۔
اچھا مینے ناشتہ کا کہہ دیا ہے آپ دونوں بھی آج آیے پھر مل کر ناشتہ کرتے ہیں دل نے خوشدلی سے کہا پھر سب نے مل کر ناشتہ کیا اور دل سب سے مل کر کالج کے لیے نکل گی۔۔۔
 
شہری شام میں گھر آیا تو سمارہ کو تیار پایا۔۔۔
سمی میں چینج کرلو پھر چلتے ہیں۔۔ اچھا تب تک میں پھپھو کے کمرے میں ہوں سمارہ شاستہ بیگم کے پاس گٸ۔۔
ارے میری بیٹی آٸ ہے شیر کیانی اس وقت کمرے میں نہیں تھے
جی پھپھو میں بس جارہی ہوں ڈاکٹر کے پاس تو سوچا آپ کے پاس سے ہوتی جاٶ سمارہ شاستہ بیگم کی پنڈلیں دباتے ہوۓ کہا جیتی رہو میری بچی الله تمہے چاند سا بیٹا دۓ سمارہ نے دل میں آمین کہا۔
تھوڑی دیر بعد دروازہ کھٹک کی آواز سے کھلا اور شہری داخل ہوا اسلام و علیکم اماں جی شہری نے ماں کو سلام پیش کیا و علیکم اسلام جیتے رہو شاستہ بیگم نے دعا دی
سمی چلو دیر ہوجانی ہے سمارہ اور شہری جانے لگے تو شاستہ بیگم نے کہا بیٹا دھیان سے جانا اور دونوں کمرے سے باہر نکل گۓ۔۔
ڈاکٹر سے چیکاپ کے بعد شہری سمارہ شاپنگ کرنے چلے گۓ انہوں نے ڈھیروں شاپنگ کی جس میں سمارہ اور آنے والے بچے کے لیے بھی اور تھوڑی بہت شہری نے بھی کی تھی شہری کھانا مگوانا چاہتا تھا پر سمارہ نے کہا شہری آپ تو جانتے ہی ہیں کھانا کھاتے ہوۓ کس قدر بُری خالت ہوتی ہے اس لیے گھر کھانا کھاۓ گۓ۔۔
اوکے اوکے جناب عالیہ چلے پھر گھر اور دونوں گاڑی میں بیٹھ کر گھر کی جانب بڑھ گۓ۔۔۔
 
کاشان جب کال پر امیرہ تم ٹھیک تو ہو کہا تب کرن بھی دروازے کے پاس آکر کھڑی ہوٸی تھی۔۔
کاشان جب اپنی کار لے کر نکلا تو کرن نے بھی جلدی سے شامی کو اٹھیا اور چادر اوڑ کر باہر نکلی پورچ میں زمیر احمد ملک کی گاڑی کھڑی تھی زمیر احمد اور نجمہ بیگم ٹرین سے کراچی گۓ تھے اسی لیے ان کی گاڑی باہر ہی تھی کرن ڈرائيونگ سیٹ پر بیٹھ گٸ اور شامی کو ساتھ والی فرنٹ سیٹ پر ڈال دیا اور کاشان کا پیچھا کرنے لگی چوکیدار کو وہ گھر کی خاص نگرانی کا کہہ کر آٸ تھی۔۔
وہ کاشا سے چالیس پچاس انچ دوری پر تھی
دس منٹ کی دوری پر کاشان نے گاڑی روکی اور اترا کرن بھی شامی کو اٹھۓ نیچھے اتری اور کاشان کا پیچھا کرنے لگی تھوڑی آگۓ چھوٹا سا ہوٹل سات آٹھ کمروں کا چھوٹا سا ہوٹل پر جدید اسٹاٸل کا بنا تھا پر یہ تو ہر طرح سے اندھرے میں ڈوبا ہوا تھا کاشان تھوڑی دیر بعد امیرہ کو آواز دینے لگا۔۔ امیرہ۔۔۔ امیرہ کدھر ہو میں آگیا ہو تمہے ڈرنے کی ضرورت نہیں
یہ کاشان ملک کے لفظ کرن کے دل پر کوڑے برسا رہۓ تھے کیوں یہ لفظ کاشان اس کے لیے نہیں جس نے اس کے لیے پورے خاندان کی ناراضگی مول لی تھی۔۔
ایک لڑکی کی ڈری سہمی آواز آٸ
کاشان۔۔ میں اندر باھندی ہوٸ ہوں۔۔
کاشان اندھرے میں ہی اندر گیا جب وہ کمرے میں پہنچا تو امیرہ بھاگ کر اس کے سینے سے آلگی کاشان کو سبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا اور ایک دم سے پورا کمرا روشنی میں نہا گیا اور سب نے یک زبان ہو کر کہا
Happy birthday to you
Happy birthday dear kashan
Happy birthday dear kashi
سینے سے لگی امیرہ نے جب کہا تو کاشان نے امیرہ کو پیچھے کیا کاشان یہ سب کیا ہے امیرہ۔۔
سرپراٸز تھا یہ سب تمہاری آج سالگرہ ہے نہ اب ارمان نے کہا رومینہ نے کہا کاشان اب چھوڈو بھی غصہ یہ سب امیرہ نے صرف تمہارے لیے کیا ہے۔۔۔ چلو نہ یار اب کیک کاٹتے ہیں سنی نے کہا یہ چاورں دوست تھے کاشان بھی اسکول سے کالج تک اس کے بعد یہ سب امریکہ چلے گۓ اور یونيورسٹی میں کاشان کی ملاقات کرن سے ہوٸ جسے کاشان پہلی ملاقات میں ہی دل دے بیٹھا تھا اور پھر یہ محبت دونوں نے نکاح کے پاک رشتہ میں باھندی۔۔
اور ایسے میں کاشان کا بھی ان چاروں سے کسی طرح کا رابطہ نہ ہوسکا تھا اس لیے وہ سب ہی کاشان کی شادی سے بےخبر تھے۔۔
کرن دو لڑکوں اور دو لڑکیوں کے گروپ میں کھڑے کاشان کو دیکھ رہی تھی۔۔
کے کاشان نے کیک کاٹا اور سب سے پہلے امیرہ کو کھلایا اب کرن کی برداشت جواب دے چکی تھی۔۔۔
کرن اندھرے سے نکل کر روشن گوشے میں سامنے آٸی۔۔
واہ واہ کاشان ملک واہ آپ کو تو اواڈ دینے چاہے رات کے اس پہر لڑکی کو گلے لگاۓ پاٹیاں انجوۓ ہورہٸ ہیں۔۔
کاشان کرن کو دیکھ کر دنگ رہۓ گیا کرن تم ہاں میں کاشان آپ کو شرم نہیں آٸ۔۔۔
ہو از شی کاشی who is she۔۔۔ میں بتاتی ہوں میں ہو کرن کیانی مسسز کاشان ملک.۔۔ اور یہ ہے اختشام کاشان ملک کرن نے شامی کی طرف انگلی کر کے کہا۔۔
کاشان مجھے آپ سے یہ امید نہیں تھی اب مجھ سے یا میرے شامی سے ملنے کی کوشش بھی مت کرۓ گا اور کرن باہر نکل گٸ۔۔کاشی یہ کون تھی کو تم پر ایسے الزام لگا رہٸ تھی۔۔
امیرہ وہ سچ کہہ رہٸ تھی وہ میری واٸف ہے اور میرا بچا۔۔۔۔
کاشان جانے لگا تو ارمان نے اس روکتے ہو کہا بات تو سن یار ہمے نہیں پتہ تھا تمہاری شادی ہوچکی ہے پر امیرہ تو آج تمہے پرپوز کرنے والی تھی یہ کاڈ دیکھو رومینہ نے کاشان کو کاڈ تھمایا۔₹√کاشان مجھے نہیں پتہ کب کیسے میں تم سے پیار کرنی لگی میں تم سے نکاح کرنا چاہتی ہوں√₹ یہ کاڈ میں لکھا تھا اور امیرہ گردن جکاھۓ کھڑی تھی۔۔ دیکھو امیرہ میں تمہے ہمیشہ دوست سمجھتا ہوں اس کے علاوہ کچھ نہیں اور جہاں تک کرن کا خیال ہے وہ میری زندگی بھی ہے اور میرا پیار بھی وہ کہتا رکا نہیں بلکہ باہر ںکل گیا۔۔۔
 
صباء دلاویز کو کالج میں دیکھ کر خوشی سے پھلے نہیں سما رہٸ ہاں میں دلاویز شاویز کیانی ہوں کوٸی شک اوووووووو تو آپ کیانی صاحبہ خود کو۔۔ مان چکی ہیں دلاویز جلدی میں بول تو گٸ تھی اب بشتا رہٸ تھی۔۔۔
چلو کلاس میں چلتے ہیں۔۔اوکے چلو صباء نے بھی کہا اور یار اب کیا ہوگا کیا ہوا صباء دلاویز نے کہا یار مینے آج سٹیج کرنا تھا اب کیا ہوگا مجھے تو یاد نہیں صباء نے پرشان ہو کر کہا اچھا یہ بتاو سٹیج سپیچ کس بارے میں ہے کاٸنات باری تعالی پر اوکے میں کروگٸ۔۔
اوکے تھینکس یار صباء نے دل کا گال چومتے ہوا کہا ارے ہٹو تم بھی ٹھرکی بن گٸ ہو۔۔
ہاہاہاہاہاہاہا دونوں ہستی ہوٸی گرونڈ کی طرف چلی گٸ۔۔۔
اب سٹیج شروع ہو چکا تھا صباء کی باری پر دل نے سٹیج سپیچ کی دلاویز ابایۓ خجاب میں تھی اسی لیے اسے کوٸی پہچان نہیں سکا۔۔
دلاویز نے سپیچ شروع کی۔۔
چاند اپنی پیاری اور دودھی روشنی سے خدا کی خوبصورت کاٸنات کو روشن کیے ہوا تھا تارے چاند کو دیکھ دیکھ کر رشک کررہۓ کے وہ کتنا خوبصورت اور ہم سے بلند مرتبے میں ہے۔۔۔
ہم انسان بھی تو یہ کرتے ہیں اپنے سے بڑے اور اونچے لوگوں کو دیکھ کر خسرت اور رشک کرتے ہیں جو کے ہمے نہیں کرنا چاہیے الله پاک بھی کہتا ہے ایے بندے تم اپنے سے کم یعنی اپنے سے نیچھے والوں کو دیکھ جو تم سے کم آساشیوں کے مالک ہو کر بھی خدا کا شکرادا کرتے ہیں۔۔۔
پر یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی نظر سے دیکھتا اور اپنے دماغ سے سوچتا ہے اگر انسان دوسروں کو اپنی جگہ رکھ کر سوچے تو انسان کو پتہ چلے کے امیر لوگ جن کے پاس زندگی کی سب خوشیں ہیں پر پھر بھی وہ سکون کی نیند سے محروم ہیں اور جو دو دو دن فاقہ کشی کرتے ہیں ان کو کتنے آرام کی نیند آجاتی ہے یہ سب میرے خدا کے رنگ ہیں۔۔۔
الله پاک نے انسان کے لیے بہت کچھ بنایا ہے پر انسان صدا کا ناشکرا کبھی اللہ کی نعمتوں کو نہیں پہچانتا قران کی ایک آیت ہے “اور اپنے رب کی نعمتوں کا خوب چرچا کرو “۔۔
اور ایک اور جگہ ہے “اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاو گۓ”
اللہ پاک نے ہمے آنکھیں دی کیا یہ نعمت نہیں ارے جن لوگوں کی آنکھیں نہیں یا کسی وجہ سے ضائع ہوچکی ہیں ان سے آنکھوں کی قدروقیمت پوچھو۔۔ اللہ پاک نے ہمے آنکھ ،ناک،کان،ہاتھ،پاوں ،دیے ہم اللہ پاک کا شکرادا کرنے کے بجاہۓ ہر وقت گلے شکوے کرتے ہیں ارے خدارا سوچے اگر ہماری بوڈی میں سے ایک پاٹ بھی مس ہوجاتا تو آپ کچھ کرپاتے نہیں نہ تو یہ سب بھی اس پاک زات کی نعمت ہی ہے جو ہمارے ہاتھ پاوں سلامت رکھے ارے مینے ایسے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو بلکل ناکارہ ہاتھ بھی ہلا ہی نہیں سکتے ان لوگوں کو بھی خدا کا شکرادا کرتے دیکھا ہے کیوں کے خدا جس حال میں رکھے اسی میں خوش رہو۔۔
دلاویز کی سپیچ ختم ہوئی پورا حال تالیوں سے گونج اٹھا ارے دل تم نے تو کمال کردیا یار بہت اچھا کیا ۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: