Bheek Mein Mili Mohabbat Novel By Tawasul Shah – Episode 18

0
بھیک میں ملی محبت از تاوسل شاہ – قسط نمبر 18

–**–**–

دن پر لگا کر گزر گۓ۔۔
شاویز کو گۓ ہوۓ آج 25 دن تھا وہ رات کے 12 بجے کی فلاٸٹ سے واپس آرہا تھا۔۔ دلاویز کے پیپرز بھی ہوچکے تھے اور دل نے بہت اچھے طرح دیے تھے۔۔دل اور صباء دوبارہ مل کر بہت خوش تھیں آج دل بھی دوپہر میں واپس آچکی تھی کیوں کے شاویز نے آج آجانا تھا۔۔
اور وہ اپنے ساس سسر کی نظر میں بُری نہیں بنانا چاہتی تھی۔۔
ابھی 11:55ہوۓ تھے اور شاویز کو آنے میں کم از کم 1ہو جانا تھا۔۔
اتنے میں کرن اپنے بیٹے کو لیکر گھر میں داخل ہوٸٸ اس وقت شیلا بیگم اور شیر علی کیانی اپنے روم میں تھے سیدھی دلاویز کے روم میں آٸی حیریت ہے بھابھی آپ اس وقت کچھ بھی حیریت نہیں ہے تمہارے بھائی نے تمہارے لیے نیو بھابھی کا انتظام کرلیا ہے ساتھ ہی کرن رونے لگی دلاویز نے کرن سے شامی لیکر بیڈ پر ڈالا اور کرن کو پانی دیا بھابھی پلیز پوری بات بتایں اور پھر کرن نے پہلی کال سے لیکر آج کی بات تک سب بتادیا بھابھی یہ تو غلط کیا بھائی نے آپ ناراض ہوکر آٸی ہیں آپ سب کو بتایۓ گٸ۔۔ نہیں دلاویز میں ماما پاپا یا شاویز کو کچھ نہیں بتاو گی کیوں کے کاشان سے شادی مینے سب کی مرضی کے بغیر کی میں کسی کو تکلیف نہیں دینا چاہتی اب تم بھی کسی سے زکر نہیں کرنے میں کہوں گی میں کچھ دن روکنے آٸی ہوں اور کرن بھابھی کچھ دن کے بعد تب کی تب دیکھی جایۓ گٸ۔۔
اور کرن شامی کو اٹھاکر اپنے روم میں چلی گٸ۔۔۔
 
شہری جب روم میں آیا تو سمارہ سونے کی تیاری میں تھی کے شہری نے بیڈ پر بھیٹتے ہوا سمارہ کے بال جو کے کلیپ میں تھے انہے کھول دیا شہری پلیز سونے دیں نہ سمارہ نے رونی صورت بناتے ہوۓ کہا یار کیسے سونے دو میری نیندۓ خراب کرکے تم خود سوجاتی ہو اور میں تمہے دیکھ دیکھ کر آہۓ بھرتا رہتا ہوں۔۔
تو میں کون سے آپ کو کہتی ہوں ان سب کے لیے پلیز شہری خود بھی سوجاۓ اور مجھے بھی سونے دیں ابھی آپ کی افلاطون الاد آرام سے سورہا ہے جب جاگ جاتا ہے تو ایسے چکر کاٹتا ہے پیٹ میں جیسے سروے کرنے کی زمداری اسی کی ہے ایسے میں بلا میں کیسے سوسکتی ہوں۔۔
سمارہ کا فورتھ منتھ شروع ہو چکا تھا۔۔
ہاہاہاہاہاہاہا ہاہاہاہاہاہاہا افففففففففف پاگل لڑکی تم بلکل پاگل ہو شیریار سمارہ کی باتوں سے ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہورہا تھا
اور سمارہ اس کے ایسے ہسنے پر ناراض ہوگٸ
کوٸی ایسے بھی اپنی بیوی کا مزاق بناتا ہے بلا
اوکے میں نہیں ہنس رہا تم سوجاو شیریار نے اخسان کرنے والا انداز میں کہا اور سمارہ دوبارہ سونے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔
 
کاشان کو اپنی غلطی کا شدت سے اخسان ہو رہا تھا کے اسے کرن کو پہلے ہی جھوٹ نہیں بولنا چاہۓ تھا اور ویسے بھی امیرہ کون سے اس کی گرل فرنڈ تھی جو کاشان نے کرن سے ایسے غلط بیانی کی اب اسے شامی کی بھی یاد آرہی تھی کاشان نے کرن کو کال ملاٸی بیل جاتی رہٸ پر کرن نے کال پک نہیں کی کاشان نے کچھ سوچتے ہوا دلاویز کو کال ملاٸی جو کے دوسری بیل پر پک کرلی گٸ۔۔
سلام دعا کے بعد کاشان نے کرن کا جب پوچھا تو دل پھوٹ پڑی کاشان بھائی آپ کیا کیا کرتے پھر رہۓ جب آپ کو افیٸر ہی چلانا تھا تو کرن بھابھی سے بھاگ کر نکاح کیوں کیا تھا۔۔ نکاح آپ دونوں نے کیا سزا مجھے ویزی نے دی پھر اب جب میں اپنی زندگی میں خوش ہو تو ایک اور مسلہ بنادیتے ہیں آپ اگر کرن بھابھی نے ادھر کسی کو بتادیا تو کیا عزت رہ جانی ہے میری یہ تو شکر کریں کے وہ اس بات کا کسی کو نہیں بتانا چاہتی ورنہ میری زندگی پھر سے عزاب بن جانی تھی خدارا بھائی جان کرن بھابھی کو منا کر لے جاۓ۔۔
وہ کاشان کی بن سنے اپنی کہی جارہٸ تھی اور آج تک دلاویز نے کاشان سے اس لہجے بات نہیں کی تھی جس میں آج کی۔۔
کاشان کو بھی اخسان ہوگیا تھا کے معملہ کتنا سنجیدہ ہے۔۔
اوکے اوکے گڑیا تم پرشان نے ہو میں اسے منا کر لے جاو گا۔۔۔
اور تم سناو اتنے دیر تک کیوں جاگ رہٸ وہ آج شاویز نے آنا ہے اس لیے اور ساتھ ہی دروازے کھولا اور شاویز اندر داخل ہوا اوکے کاشان بھائی شاویز آگۓ ہیں پھر بات ہوگٸ۔۔
کیسی ہو دلاویز شاویز نے پوچھا میں ٹھیک اور آپ دلاویز نے بھی لیۓ دیۓ انداز میں پوچھا ہممم ٹھیک شاویز کافی ہرٹ ہوا دل کے رویے پر پر وہ ایک مہینے سے دلاویز کو نہیں دیکھا تو اب اسے دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی کر رہا تھا۔۔
شاویز بھی دل میں کہتا اٹھ گیا ہائے رے ظالم عشق اور واشروم میں گھس گیا جب کے دلاویز اب بیڈ پر سوچکی تھی۔۔
 
شاویز کو آۓ ہفتہ ہو چکا تھا پر دلاویز کے رویے میں کوٸی تبدیلی نہیں آٸ تھی۔۔
شاویز گھر آیا تھا فاٸل لینے جو کے آج کی امپاٹنٹ میٹنگ کی تھی شاویز اپنے کمرے کی جانب جارہا تھا کے اسے دلاویز کی آواز آٸ جو کے ملازمہ سے کسی چیز کا پوچھ رہٸ تھی بانو اور املی کدھر ہے بی بی جی اور نہیں ہے جو تھی آپ نے کھالی وہ ملازمہ کو غصہ سے دیکھتی ہوئی بولی اچھا اچار کا باول لاکر دو ملازمہ نے اچار کا باول دلاویز کو دیا جو کے اپنے کمرے میں جاتے ہوے بولی آج دن میں املی اور آچار والی بریانی بنانا رخیم سے سب چیزۓ منگوا لو۔۔ دلاویز نے ملازم کا نام لیتے ہوۓ کہا۔۔۔
 
شاویز اور شیریار کانفرنس روم میں مسٹر زاہد کے ہمرہ میٹنگ میں مصروف ہوتے ہیں۔۔
مسٹر شاویز اور شیریار ہماری کمپنی کا بہت فائدہ پہنچا ہے جب سے آپ کے ساتھ کام شروع کیا یہ کونٹریکٹ تو آپ کا ہی ہے پر کل رات دوبیٸ میں میٹنگ ہے دنیا بھر کے بزنس مین اس میں شامل ہوگۓ اگر آپ وہ حاصل کرلیں تو یقین مانے مسٹرز کیانی آپ شہر کے تو ٹاپ بزنس ٹاکیون ہیں ہی پھر دنیا بھر میں آپ کا نام بولے گا اور ہم سے دوستی کا ہاتھ آپ پہلے ہی پڑھا چکے ہیں۔۔
پر مسٹر زاہد ہم دونوں تو بلکل بھی ساتھ نہیں جاسکتے شہری نے کہا۔۔
تو ایک کوٸی چلے اوکے ٹھیک ہے ہم مشورا کرکے آپ کو انفارم کردیتے ہیں۔۔۔
شیریار اور شاویز کانفرنس روم سے باہر آگے۔۔
شاویز تم کیا کہتے ہو دوبٸ جانا چاہے جی بلکل شیریار اوکے پھر میں چلا جاتا ہوں بھابھی کا کیا ہوگا شاویز نے پوچھا۔۔ اسے بھی ساتھ لیکر جاو گا اوکے پھر میں آپ کے لیے ٹیکٹس کا ارانچ کرتا ہوں چلو تم پتہ کرو میں تھوڑا کام ہے وہ دیکھ لو شہری نے فاٸل کھولتے ہوا کہا۔۔۔
تھوڑی دیر بعد شاویز شہری کے کیبن میں گیا اور شیریار صبح 4 بجے کی فلایٹ ہے اوکے ٹھیک ہے چلو گھر چلتے ہیں ٹاٸم بھی ہوگیا ہے پھر وہ گھر کی جانب چل دیے۔۔۔
 
اماں جی یہ کوٸی گاڑی کا سفر تھوڑا ہی ہے کے خطرہ ہے آپ بےفکر رہے پلین کا سفر آرام دہ ہوتا ہے۔۔
نہ نہ کرتے شاستہ بیگم کو آجازت دینی پھڑی اب شیریار اور سمارہ اپنی پیکنگ میں مصروف تھے۔۔
سمی۔۔۔
جی شہری۔۔
وہ ماموں جان والے فلایٹ کی کیز رکھ لینا ساتھ۔۔
کون سے فلایٹ کی بات کررہے ہیں آپ شیریار۔۔
سمارہ نے سوچتے ہوا کہا
ارے یار جو ماموں جان نے ہمے شادی کا گفٹ دیا تھا UAE میں فلایٹ اووو اچھا وہ۔۔
جی جی وہی شہری نے مزاق بناتے کہا۔
جس سے سمارہ جی بھر کے چھڑی۔۔
 
کیانی شہروز ہاوس میں ڈنر لگ چکا تھا سب ڈنر کرکے اپنے اپنے کمروں میں جاچکے تھے کرن کمرے میں آٸ تو کاشان اسے کال کررہا تھا کرن کو آج آیۓ ہوا دس دن ہوچکے تھے کرن کے چارہ نہ چارہ کال پک کرلی ۔۔
کرن میری جان ٹرسٹ میں میرا امیرہ کے ساتھ صرف دوستی کا رشتہ ہے اس کے علاوہ وہ میری کچھ نہیں۔۔
سچ کہہ ریے ہو تم؟؟
تمہاری قسم میری جان اب پلیز واپس آجاو تماری اور شامی کی بہت یاد آتی ہے۔۔۔
کرن نے ہممم کہا۔۔
اوکے تو میں صبح آرہا ہوں تمہے لہنے۔۔
اچھا آجانا کرن نے کہا۔۔
اوو لو یو میری جان۔۔
 
شاویز کمرے میں گیا تو دلاویز ڈریسنگ کے سامنے اپنے بال بنارہٸ تھی شاویز نے دلاویز کو پکارہ دل۔۔۔
دلاویز نے شاویز کی طرف صرف دیکھا یار پلیز بس کردو اب یہ سب شاویز دل کے قریب آتے ہوۓ کہا۔۔۔
پر دلاویز بھی اپنے نام کی ایک تھی اسے سیدھی
طرح کہا مان جانا آتا تھا۔۔
شاویز کے بازو پر ہاتھ رکھنے سے دلاویز ایسے دور ہٹی جیسے اسے چارسو چالیس وارڈ کا کرنٹ لگا ہو۔۔
شاویز کو دلاویز کا اس طرح دور ہٹنا ایک آنکھ نہیں بایا۔۔
شاویز نے دلاویز کا بازو اب بے دردی سے پکڑا اور کہا شادی کے بعد چار پانچ منتھ کافی ہوتے ہیں شادی شدہ زندگی کو قبول کرنے کے لیے میرے خیال میں اب تک تمہارا مانڈ ریلیشن کے لیے تیار ہونا چاہے اور اگر نہیں بھی تیار تو بھی کان کھول کر سن لو شاویز نے دلاویز کو اپنے بخد قریب لاتے ہوا کہا تم اپنا مانڈ بناو چاہے نہ بناو کل تک تمہارا پاس ٹاٸم اس کے بعد میں تمہارا سارا لحاظ بلاتاق رکھو گا۔۔
شاویز اپنی بات مکمل کرکے ایک جٹکھے سے دلاویز کو چھوڑا نازک سی دلاویز گرتے گرتے بچی اسی ابھی تک بازو میں درد ہو رہا تھا جدھر شاویز نے پکڑا تھا۔۔
شاویز اب بیڈ پر جاکر لیٹ چکا تھا اب دلاویز بھی سونے لیٹ گئ پر وہ کل کا سوچ کر پرشان ہورہی تھی۔۔
 
شہری اور سمارہ دوبٸ کے لیے روانہ ہوچکے تھے۔۔۔
شیریار اور سمارہ پلین میں تھے کہ جب ایٸرہوسٹ کافی دینے کے لیے آٸ۔۔
شیریار کو ایک مزاح سوچی ۔۔۔
شیریار نے ہوسٹ لڑکی سے کافی لیتے ہوا ہوسٹ کی اچھی بھلای تعریف کرڈالی پھر کیا تھا لڑکی کے جاتے ہی شہری کے کندھے پر مکوں اور چٹیوں کی برسات ہوگٸ
اور شیریار ہستا رہا۔۔
تھوڑی دیر ہی گزری تھی کے شہری کو ایسا لگا جیسے کوٸی اسے دیکھ رہا ہے جب اس نے سامنے دیکھا تو ایک لڑکا سمارہ کی طرف گھور رہا تھا سمارہ شہری کے کندھے پر سر رکھے سورہی تھی شہری نے اس لڑکے کو آنکھوں ہی آنکھوں میں وارن کیا اور وہ شاید سمجھ گیا تب ہی دوبارہ اس طرف نہیں دیکھا۔۔۔
 
شاویز صبح ناشتہ کر کے جانے لگا تھا جب دلاویز کے ہاتھ سے دودھ کا کلاس چھوٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا شیلا بیگم نے فورا دل پر ہاتھ رکھا یا اللہ خیر دودھ کا اور کانچ کا ٹوٹنا اچھی بات نہیں ارے بیگم کون سے زمانہ کی باتیں کرتی ہیں آپ یہ سب دقیانوسی باتیں ہیں
شہروز کیانی نے کہا تو شیلا بیگم چپ ہوگٸ۔۔
دلاویز کا بھی آج کالج میں دل نہیں لگرہا تھا وہ بھی پرشان تھی جیسے کچھ ہونے والا ہے۔۔۔
شاویز آفس میں تھا جب اسے کال آئی شاویز ارسلان کالج اور یونی فیلو کا کار ھادثے میں اسکی جان چلی گٸ ہے رمش نے کال کرکے شاویز کو بتایا۔۔۔
کیا بکواس کر رہا ہے رمش میں سچ کہہ رہا ہو یار رمش نے روتے ہوا کہا شاویز کا وہ جان سے پیارا دوست تھا شاویز نے کہا اوکے میں پہنچ رہا ہوں۔۔
شاویز مجاہد سے کہا ارنجٹ ہے آپ آفس کا دھیان رکھنا مجاہد پرانا اور وفادار کولیگ تھا شیر اور شہروز کے وقت کا اس لیے شاویز بلاجھجک اس پر عتبار کرسکتا تھا۔۔
شاویز رش ڈرائیونگ کرتا جارہا تھا کے سامنے سے آتے ٹرک کو دیکھ کر بھی شاویز بریک لگاتے لگاتے ہی بہت بری طرح کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔۔۔
شاویز کو سر پر بری طرح کی چوٹیں اور سینے پر لگی تھی اور ایک بازو بھی فریکچر ہوچکا تھا شاویز ICU میں تھا اور ڈاکٹرز نے کہا تھا کے شاویز کے لیے دعا کی ضرور ہے پیشنٹ کو دوایں ہی بچا سکتی ہیں ورانہ خدا کے آگے کس کی چلتی ہے۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: