Bheek Mein Mili Mohabbat Novel By Tawasul Shah – Episode 19

0
بھیک میں ملی محبت از تاوسل شاہ – قسط نمبر 19

–**–**–

سمارہ اور شہری صبح دوبٸ پہنچھے۔۔۔
دونوں نے ناشتہ اگھٹے کیا پھر شہری سمارہ کو میٹنگ کا بول نکل گیا اور سمارہ نے ڈور لاق کرلیا۔۔
سمارہ اور شہری اسی فلایٹ میں تھے جو کیانی ریاض نے دونوں کو شادی کا گفٹ دیا تھا۔۔۔
 
شاویز کا جس روڈ پر ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔۔ وہ کاشان کی گھر کی ساٸڈ پڑتا تھا کاشان کرن کو لینے جارہا تھا کے راستے میں شور اٹھا کے بہت بری طرح سے ایکسیڈنٹ ہوا ہے کاشان بھی انسانی ہمدردی سے دیکھنے گیا تو دنگ رہ گیا خون سے لت پت وہ وجود کسی اور کا نہیں اسکی جان سے پیاری بہن کا سواگ تھا اور اس کا اکلوتا سالا تھا۔۔
کاشان دیوانہ وار شاویز کی جانب بڑھا اور اسے اپنی گاڈی میں ڈال کر ہوسپیٹل لے گیا۔۔۔
 
کاشان کو سمجھ نہیں آرہٸ تھی کے وہ کس کو کال کر کے بتایے شہروز کیانی پہلے ہی بیمار تھا اور شہری کل ہی بہرونے ملک گیا تھا اس نے کچھ سوچتے ہوا شیر کیانی کو کال کی۔۔
کال پک ہوتے ہی کاشان نے کہا تایا ابا شاویز کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے آپ پلیز انکل آنٹی اور لے کر ہوسپیٹل پہنچھے۔۔
کرن اور شیلا کو جب پتہ چلا تو ان دونوں کو تو غشی کے دورے پڑے اور شہروز کیانی کا بھی خال بہت برا تھا ہوتا بھی کیوں نہ اکلوتے بیٹے کی جان پر بنی تھی۔۔
شیر کیانی سب کو لے کر ہوسپیٹل پہنچھے تو کاشان اور نجمہ بیگم زمیر احمد بھی ہوسپیٹل کے کوریڈور میں پرشان خال کھڑے تھے اب سب ہی شاویز کی زندگی کی دعا مانگ رہے تھے کرن شیلا بیگم اور شاستہ بیگم نجمہ بیگم باقدہ ناوافل ادا کررہٸ تھی ۔۔
کاشان بیٹا دلاویز بیٹی کو بھی کالج سے لے آو۔۔
انکل اس کا کالج تو اب نہیں تھا ہاں بیٹا آج دوستوں کی کوٸی پاٹی تھی اسی لیے دلاویز گٸ تھی۔۔۔
کاشان دلاویز کے کالج پہنچا تو دلاویز کو گارڈ نے بتایا کے کاشان لینے آیا ہے۔۔
ارے دل کاشان بھائی کیوں آگے ابھی تو پاٹی شروع بھی نہیں ہوئی ٹھیک طرح سے صباء نے پرشانی سے کہا
پتہ نہیں یار مجھے بھی نہیں بتایا بھائی نے تو چل میں خود پوچھتی ہوں ان سے دلاویز اور صباء دونوں کاشان کے پاس پہنچھی تو صباء نے نون اسٹاپ بولنا شروع کر دیا صباء تم سمجھتی کیوں نہیں شاویز کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے وہ آٸی سی یو میں ہے کاشان نے تنگ آکر سچ بتایا اور دلاویز تو جیسے بت بن چکی تھی۔۔۔
دلاویز دلاویز خود کو سنبهالو دلاویز ساتھ ہی غش کھا کر گھر گٸ۔۔
 
ان سے ملے کیانی صاحب یہ مسٹر رومیوں، مسٹر ماٸکل، مسٹر راج سنگانیاں، مسٹر رتن چوپڑا، اور یہ ہیں رولپنڈی سے مسٹر علی یہ بھی پاکستان کے بڑے بزنس مین ہیں اور یہ انکا بیٹا منان فلاحال یہ اپنے پاپا کے ساتھ بزنس میں نہیں کیوں کے تھوڑی سٹیڈیز رہتی ہے جو یہ انگلینڈ میں کرتے ہیں۔۔
مسٹر زاہد شیریار کو سب سے ملوا رہا تھا۔۔
میٹنگ شروع ہویٸ
تمام لوگوں نے کیانی انڈسٹریل کی کارکردگی اور کاروباری سپوٹ کو دیکھتے ہوا یہ کونٹریکٹ شیریار کو دے دیا گیا۔۔
شہری بہت خوش تھا اور زاہد کی تو بتیسی کی اندر نہیں جاریی تھی۔۔
 
سب لوگ شاویز کی سلامتی کی دعا مانگ رہۓ ۔۔
دلاویز جب سے ہوسپیٹل آئٸ تھی تب سے سجدہ میں گری ہوئی تھی ” اے اللہ پاک تمام جہانوں کے مالک تیرے پاس تو سب اختیار ہیں پلیز اللہ پاک میرے ویزی کو ٹھیک کردیں ٹپ ٹپ آنسو نکل کر دوپٹے میں جزب ہورہۓ تھے میں بہت بری ہوں مینے ان کے ساتھ اچھا نہیں کیا الله میاں میں اچھی بیوی ٹابت نہیں ہوٸ اللہ پاک اک بار صرف ایک بار میرے ویزی مجھے واپس کردیں میں ان سے سب باتوں کی معافی مانگ لوں گی”۔۔۔
ڈاکٹر باہر آتا نظر آیا۔۔
ڈاکٹر صاحب کیسا ہے میرا بیٹا شہروز اور شیر کیانی نے فورا پوچھا۔۔
دیکھے کیانی صاحب ڈاکٹر نے شہروز کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا شاویز کی جان تو بچ گٸ ہے پر۔۔۔
پر کیا ڈاکٹر صاحب جلدی بتایں میرا دل بھیٹا جارہا ہے شیلا بیگم تڑپ کر کہا۔۔۔
شاویز کومہ میں جاچکا ہے اب ہم کچھ نے کہہ سکتے کے کوما کا دورانیہ کتنا ہے ایک دن ایک ہفتہ ایک مہینا ایک سال یا زندگی بھر یہ ہم کچھ نہیں کہہ سکتے باقی اللہ پاک بہتر کرنے والا ہے۔۔
یہ خبر تو کیانیز والا پر قیامت بن کر ٹوٹی۔۔۔
 
شیریار میٹنگ کے بعد اپنے فلایٹ میں چلا گیا۔۔
ڈوربیل پر سمارہ نے ڈور کھولا تو شہری نے سمارہ کو گھول گھول گھمانا چاہا تو سمارہ کہنے لگی کیا کررہے ہیں شہری آپ کو اپنا بچا نہیں چاہے کیا۔۔
کیا بول رہٸ ہو یار صحیح بول رہٸ ہوں اگر میں گھول گھول گھمنے سے گر گٸ تو پھر اللہ نہ کرۓ شہری نے اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھتے ہوا کہا۔۔ اچھا چلے بھی اندر
سمی یار مجھے تو بڑی نیند آرہٸ ہے ہممم مجھے بھی چلو سو جاتے ہیں شام میں سی ساٸڈ چلے گۓ اچھا جی اب شرافت سے مجھے سونے دیں میری بھی نیند نہیں پوری ہوٸٸ اوکے جناب عالیہ۔اور دونوں سوگے کیوں کے وہ کل سے مسلسل جاگ رہے تھے۔۔
 
اب آفس شیر کیانی جارہے تھے شاویز کوما میں اور شہری دوسرے ملک تھا اور شہروز کیانی پہلے ہی بیمار تھے اور جوان بیٹے کی اس خالت نے انہے اور بھی کمزور اور بیمار کردیا تھا۔
شیر کیانی نے بیل دی اور چپراسی اندر آیا امجد صاحب کو بجھو ۔۔
سر آٸ کم ان۔۔
یس یس کم ان۔۔۔
امجد صاحب کل کی میٹنگ کیسی رہی سر شیریار سر کی کال آٸ تھی کامیاب رہی میٹنگ اور کونٹریکٹ ہمے مل گیا ہے اوکے ٹھیک ہے آپ جایے۔۔
 
سمارہ اور شہری سمندر کے قریب بھیٹ کر باتوں میں مصروف تھے شیریار پہلے سب جگہ سمارہ کو گھما چکا تھا اب لاسٹ میں ادھر سمندر کے کنارے آیے تھے۔۔
دونوں کی باتوں کو کال کی رنگ ٹون نے توڑا۔۔
شیریار نے کال پک کی۔۔
اسلام و علیکم ابا جی کیسے ہیں آپ۔۔
جی جی کونٹریکٹ ہمے مل گیا شیریار نے خوشی سے کہا۔۔
ابا جی شاویز کو کال نہیں لگ رہی۔۔
پتر ہم پر قیامت ٹوٹ پڑی ہے شیر کیانی نے شہری کو شاویز کے بارے میں بتایا۔۔
اوو نو ابا جی اب کیسا ہے وہ کومہ میں ہے خدا جانہ کب نیند ٹوٹے اس کی۔۔
ابا جی آفس کون ہے اب شہری کو آفس کی فکر ہونے لگی کیوں کے ورکرز کے سہارے تو آفس نہیں چھوڑا جاسکتا تھا۔۔
پتر شہروز تو آگے بیمار تھا اب بیٹے کی اس ناگہانی آفت نے اس اور بیمار کردیا ہے۔۔
ایسے میں آفس کو صرف ملازموں پر چھوڑنا کہا کی عقل مندی ہے اس لیے میں خود ہوں آفس میں ۔۔
ابا جی میں کل کی فلاٸٹ سے پہنچتا ہوں اوکے رب رکھا شیر کیانی نے کہا اور کال بند کردی۔۔
کیا ہوا شیریار۔۔
سمی شاویز۔۔
شیریار نے سمارہ کو سب بتا دیا وہ بھی کافی پرشان ہوگٸ۔۔۔
 
دلاویز شاویز کے پاس بیٹھے بیٹھے کرسی سے گرنے لگی تو روم میں آتی نرس نے اس گرنے سے بچا لیا ۔۔۔
کرن اور کاشان ابھی ہی ہوسپیٹل آیے تھے۔۔نرس نے دلاویز کا بتایا تو کرن اور کاشان اس چیک آپ کے لیے لے گے۔۔
ڈاکٹر جب دلاویز کو چیک کرکے آئٸ تو کرن سے پوچھا یہ کون ہیں آپکی میری بھابھی ہے دلاویز کرن نے کہا اوو مبارک ہو پھر تو آپ کی بھابھی ماں بنے والی ہیں۔۔
 
شاویز کو کومہ میں گۓ ہوے ڈیڈھ منتھ ہو چکا تھا۔۔ اب تو سب نے امید ہی چھوڑ دی تھی شاویز کی دلاویز کو جب سے اپنی پریگننسی کا پتہ چلا تھا تب سے اب وہ شاویز کے لیے اور بھی روتی تھی۔۔
دلاویز کی کنڈشن کے پیشے نظر سب دلاویز کا بہت خیال رکھتے تھے اور دل تھی کے شاویز کے پاس سے جاتی نہیں تھی کرن اور شیلا تھک چکے تھے اسے سمجھ سمجھ کر نجمہ بیگم اور زمیر احمد بھی اپنے داماد کی اس خالت پر بہت رنجیدہ تھے اور روز ہی شاویز کی خبر گیری کے لیے آتے تھے۔۔
 
کاشان صاحب آپ سے امیرہ نام کی لڑکی ملنے آئٸ ہیں ملازمہ نے آکر بتایا اوکے اس کو ڈراینگ روم میں بیٹھے کو کہو میں آتا ہوں۔۔
کاشان ڈراینگروم میں داخل ہوا تو امیرہ دوسری طرف منھ کیے کھڑی تھی۔۔
امیرہ تم یہاں کیسے۔۔
کاشان مجھے معاف کردو میری وجہ سے تمہاری بیوی تم سے ناراض ہو کر چلی گٸ۔۔
تم یقین کرو مجھے اگر پتہ ہوتا تو میں کبھی بھی اس طرح تمہے رات کو نہ بلواتی خیر جو بھی ہوا اس کے لیے مجھے معاف کردو اور اپنی بیوی سے بھی کہنا کے مجھے معاف کر دے میں آج واپس امریکہ جاریی ہوں۔۔
امیرہ تم کو مجھ سے معافی مانگنے کی بلکل بھی ضرورت نہیں کیوں کے تم نے جو بھی کیا انجانے میں کیا کاشان نے مسکرا کر کہا۔۔
او بیٹھو میں تمہارے لیے ناشتہ منگواتا ہوں نہیں ناشتہ کی صروےرت نہیں اگر تم اتنا کہ رہے ہو تو چاہے منگوا لو۔
امیرہ چاہے پی کر چلی گٸ۔۔
انسان وہہی سمجھدار ہے جو اپنی غلطی کو مانتے ہوا اسے سدھرنے کی کوشش کرئے ناکہ اپنی غلطی کو چھپاتا پھرے۔۔
امیرہ سے غلطی ہوٸی کے وہ کچھ نہیں جانتی تھی پر اس جب حقيقت کا پتہ چلا تو اس نے معافی مانگ کر اپنے دل ہلکا کرلیا۔۔
قارئين اگر آپ میں سے کسی سے بڑی غلطی سرزد ہویٸ ہے تو جلدی سے معافی مانگ لیں کیوں کے پتہ نہیں پھر آپ کو موقع ملے نہ ملے اپنی علظی سدھرنا بہت بڑی بات ہے۔۔۔
 
شیریار سمارہ اس کے دوسرے دن ہی واپس آگے تھے۔۔
شہروز کیانی اور شیر کیانی کا کہنا تھا کے شہری کے ساتھ کاشان کو بھی بزنس میں شامل کرلیا جایے کیوں کے شاویز پتہ نے کب کوما سے جاگے اسے میں شیریار کو اکیلا سب سنبهالنا پڑتا جو ایک مشکل کام تھا اور ویسے بھی تو کرن کا بھی تو باپ کی جاٸیداد میں حصہ تھا۔۔۔
اور شیریار کا بھی ارادہ تھا کے کاشان کو بھی شامل کرلیا جایے۔۔
پہلے تو کاشان نہیں مان رہا تھا پر جب کرن نے کہا تو اسے مجبورن بزنس میں شامل ہونا پڑا پر کاشان کی شرط تھی کے وہ بھی اتنی ہی رقم انویسٹ کریے گا بزنس میں کاشان کو روپے پیسے کی کوٸی کمی نہیں تھی کیوں کے ملک زمیر احمد کی اکلوتے ہونے کی وجہ سے کافی زمین تھی۔۔
کاشان نے زمین کا تھوڑا سا حصہ بیچ کر بزنس پر لگا دیا جس سے وہ بھی بزنس میں برابر کا حصہ دار بن گیا۔۔
 
سمارہ کا 7 منتھ شروع ہو چکا تھا اور دلاویز کا دوسرا منتھ شروع ہوگیا تھا۔ اور کرن کا اختشام سال کا ہونے والا تھا ایک دو منتھ تک۔۔۔
 
دلاویز خود کو ہوسپٹل میں کھڑی نظر آئی۔۔
ڈاکٹر باہر آیا دلاویز بھاگ کر ڈاکٹر کے پاس پہنچھی ڈاکٹر۔۔ ڈاکٹر میرے ہسبنڈ کیسے ہیں اب
سوری ہی از نو مور۔۔
(Sorry he is no more)
دلاویز کیا اور ساتھ ہی وہ زمین پر بھیٹتی چلی گئی۔۔
دلاویز چپ ہو جاو اب تمہارا یہ علاج ہے تم نے جیتے جی اسے سکون نہیں لینے دیا ہمیشہ اسے اگنور کیا تنگ کیا اب تمہے صرف اس کے بچے کے سہارے زندگی گزارنی ہوگٸ جو کے تمہارے پیٹ میں ہے۔۔۔
نہیں نہیں نہیں ایسا نہیں ہو سکتا میرے ویزی مجھے چھوڑ کر نہیں جاسکتے۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: