Bheek Mein Mili Mohabbat Novel By Tawasul Shah – Episode 2

0
بھیک میں ملی محبت از تاوسل شاہ – قسط نمبر 2

–**–**–

چین کھو گیا ہے کچھ تو ہو گیا ہے تم سے ملنے کے بعد دل بھر ۔ ۔ ۔ کرن آپی کب سے آپ کا فون بج رہا ہے کرن کے چھوٹے بھائی شاویز علی کیانی نے کہا اور ساتھ ہی فون اسے دےکر کمرے کی جانب چلا گیا۔۔
اک بار پھر چین کھو گیا۔۔۔۔
کرن نے موبائل اٹھاکر دیکھا کاشان ملک کالنگ لکھا دیکھ کر کمرے کی جانب بڑھ گی۔۔
جی کاشان کیا بات ہے۔؟ کیسی باتیں کرتی ہو اتنی بڑی ٹنشن ہے اور تم کہتی ہو کیا بات ہے ویسے حد ہے یار۔ میرا وہ مطلب نہیں تھا کاشان اچھا چھوڑو اور باتیں یہ بتاو تمہاری پیکنگ ہوگئ۔؟ ہاں ہوگی۔
کاشان۔۔۔
جی کاشان کی جان۔۔
میں کچھ غلط تو نہیں کر رہی نا؟ کرن تم خود سوچ لو تم شیریار کے ساتھ خوش رہ سکتی ہو تو کرلو اس سے شادی ن۔ن۔نہیں کاشی میں آپ کے بغیر جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتئ۔۔ میں جانتا ہوں اچھا چھوڑ یہ سب باتیںں۔۔۔۔۔۔ٹائم پر پہنچ جانا فلائٹ مس ہونے کا خطرہ ہے اور یو ناٶ پیرس کے دو ٹیکٹ بہت مشکل سے ملے ہیں اس ڈیٹ کو کرن نے ساری بات سن کر بس یہ ہی کہا ہمہمہمہمہم چلے ٹھیک ہے میں رکھتی ہوں اور ساتھ ہی کال ڈسکینٹ کر دی۔۔۔
 
دولہن کمرے میں نہیں اک شور اٹھا حال میں سب کی نظریں ویٹنگ روم کی طرف تھی جہاں کچھ دیر پہلے دولہن تھی شیریار کہانی شیر کیانی شہروز کیانی شاویز کیانی سب روم کی طرف بھاگے اور شاستہ بیگم کی جب شیلا بیگم پر نظر پڑھی تو وہ اسے سنبھلنے لگی اسی اسنہ میں شاستہ بیگم کی نظر میز پر پڑے خط پر پڑی اس نے جلدی سے خط با آواز بلند پڑھنا شروع کیا پاپا میں کاشان ملک سے بہت محبت کرتی ہوں اس لیے مینے ماما کو بھی بتایا تھا پر افسوس ماما نے میری بات نہ مان کر مجبورن مجھے کاشان سے کوٹ میرج کرنا پڑی مجھے ڈھونڈنے کی یا میرا پیچھا کرنے کی ضرورت نہیں کیوں کے میں اس وقت پیرس کے لیے روانہ ہو چکی ہوں۔۔
شیریار نے گلے میں پڑی گلابوں کی مالا کو توڑ کر زمین پر دے ماری اور اپنا سہرا پگڑی بھی زمین پر مارنا چاہی پر شیر علی نے پگڑی کو تھامتے ہوا کہا او پتر یہ پگڑی زمین پر نہیں سر پر رکھی جاتی ہے یہ ہماری عزت ہے مان ہے ۔۔ کہاں کا مان ابا جی ہماری عزت تو کرن مٹی میں ملا گئ ہے شیریار نے غصہ سے کہا شہروز علی اور شاویز علی بہت شرمندہ تھا جب کے شیلا بیگم صوفے پر نمدراز تھی۔۔
شیر علی نے کہا کرن نے جو غلطی کی وہ ناقابلے معافی ہے پر اس وقت اگر میرے بیٹے کی بارات اگر دلہن کے بغیر گئ تو میری بہت بدنامی ہے یہ کہتے ہوا شیر علی نے شاستہ بیگم کو مخاطب کیا اور کہا جاو اپنے بھائیی اور باوج کو ادھر بلاو شاستہ جی اچھا کہتی باہر چلی گئ۔۔
تھوڑی دیر بعد شاستہ بیگم آمنہ بیگم اور ساتھ راجہ ریاض کیانی شاستہ کے بھائیی ساتھ تھے ریاض کیانی نے شیر علی کو کہا بھائی جان آپ نے بلایا تھا ہاں ریاض میں اپنے بیٹے شیریار کے لیے تمہاری بیٹی سمارہ کا ہاتھ مانگتا ہوں تم مجھے اپنی بیٹی دو گے ریاض کیانی سوچ میں پڑگے ریاض سوچ مت میری عزت پر بنی ہے ریاض نے کہا بھائی جان آپ سے آگے مجھے کوئی نہیں ہے اور ساتھ ہی آمنہ بیگم کی طرف دیکھا آمنہ بیگم نے ہاں کی اور ریاض نے کہا میری سمارہ آج سے آپ کی بیٹی ہوئی جب کہے تب بارات لے آئیے نہیں ریاض جب نہیں ابھی اپنی بیٹی کو دولہن بناو آج ہی وہ کیانی خاندان کی بہو بنے گی ۔۔ اور ریاض کیانی نے آمنہ بیگم کو سمارہ کو دولہن بنانے کو کہا اور پھر کچھ دیر بعد ہی سمارہ دولہن کے روپ میں شیریار کے ساتھ بیٹی بہت خوش تھی اپنے کڑے مستقنل سے بےخبر۔۔۔
 
دل ۔۔۔ دل کدھر ہو یار ٹائم دیکھ کالج سے دیر ہوجانی یے۔۔
صباء نے دلاویز کے گھر میں داخل ہوتے ہوے دل کو آواز لگائی آرہی ہوں یار۔۔۔۔
یہ گھر بہت بڑا نہیں تو بہت چھوٹا گھر بھی نہیں تھا دلاویز کا کافی امیر گھرانا تھا دلاویز کے والد ملک زمیر احمد کو وراست میں کافی زمینے ملی تھی کیوں کے وہ پانچ بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے۔۔۔
دل اپنی گھر بھر کی لالڈلئ ماں باپ کی اکلوتی تھی اور اپنے بھائی کی بھی بہد پیاری تھی دل کو تکلیف ہوتی تو درد اس کے بڑے بھائی کو ہوتا تھا۔۔۔ دلاویز محص 16سال کی تھی اور first year کی اسٹوڈنٹ تھی۔۔ دلاویز اپنی ماں سے مل کر جانے لگی اور اس کی ماں اسکو حریت سے آنے کی دعا دینے لگی پر شاید آج اس کی ماں کی دعا قبولیت کا شرف کھو چکی تھی۔۔۔
 
باقی سب نے تو قسمت کا لکھا سمجھ کر خاموشی اختیار کرلی پر شاویز علی کیانی کا کسی صورت غصہ کم ہونے کو نہیں آرہا تھا شاویز نے اپنے اک خاص بندے سے کاشان ملک کے متعلق ساری معلومات حاصل کرلی تھی اور وہ اب صرف صبح کے انتظار میں تھا اور ابھی وہ جلد شادی حال پہنچنا چہتا تھا کیوں کے اس کے بھائی جیسے کزن کی شادی کا فنکشن ختم ہونے والا تھا اس نےسوچا تو شہری کے ساتھ کرن کا تھا پر اب ہو بھی کیا سکتا تھا اس لیے اب وہ سمارہ کی رخصتی پر جلد پہنچنا چاہتا تھا۔۔۔
 
سمارہ کو دولہن بناکر بہت سی دعوں کے ساتھ میں شیریار کے ساتھ رخصت کر دیا گیا گھر جاکر شاستہ بیگم نے اپنی جان سے پیاری بتیجی اور بیٹے کا صدقہ دیا اور سمارہ کے صدقے واری جاتی شیریار کے کمرے میں چھوڑ آئی۔۔
سمارہ آج بہت خوش تھی ہوتی بھی کیوں نہ اس کا من چاہا لائف پاٹنر جو مل گیا تھا اس لگا تھا اج اس کی سب دعوں کا ثمر شیریار علی کیانی اس کا تھا اس لگا تھا کے اب اس کی زندگی میں خوشیاں ہی خوشیاں ہیں پر انسان کو نہیں پتہ ہوتا کے اس کے بعد رب تعالی کے کتنے امتحان باقی ہیں۔۔
سمارہ کو شیریار کے سجے سجایے کمرے میں لایا گیا جو کہ گلاب اور موتیے کے پھولوں سے سجی سیج تھی اور گلاب کی بہت سی پتیاں بیڈ پر بکھری تھی اتنا پیار کمرا سمارہ کو بہت پسند آیا پر وہ یہ بھول ہی تو گی تھی کے یہ اس کے لیے نہیں بلکہ کرن کے لیے سجایا گیا تھا۔۔۔
فیروزی اور ٹی پنک کلر کا لہینگا پہنا براڈل میک آپ کیے وہ بہت خوبصورت لگرہی تھی۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: