Bheek Mein Mili Mohabbat Novel By Tawasul Shah – Episode 3

0
بھیک میں ملی محبت از تاوسل شاہ – قسط نمبر 3

–**–**–

شیریار کیانی کی بارات جب گھر بہنچھی تو مجبورن اسے سب رسمیں کرنی پڑی جب رسمیں ختم ہوئی تو اسنے خدا کا شکرادا کیا اور تیز تیز گھر سے باہر نکلا گیا وہ رش ڈرائیونگ کرتا ہوے اپنے فارم ہاوس پہنچا کیوں کے اس وقت اسے تنہاہی کی ضرورت تھی جو فارم ہاوس کے بغیر کہیی اور میثر نہ تھی۔۔
“اپنے کرم کی کر ادایں کردے ادھر بھی دو نگہیں رو رہا ہوں میں کیوں رو رہا ہوں میں “۔۔۔
ٹھک ٹھک۔۔۔۔ آجاو شہری کی بھری ہوئی آواز کمرے میں گونجھی شہری کو اچھے سے پتہ تھا آنے والا کون ہے شہری شیریار میرے دوست یہ کیا خال بنارکھا ہے شانی نے شہری کو گلے لگتے ہوے کہا یار کرن نے کیوں ایسے کیا میرے ساتھ وہ رو رہا تھا شانی نے کہا یار تو رو رہا ہے مرد نہیں رویا کرتے یار اور ساتھ ہی موبائل میں لگا گانا بند کر دیا ۔۔
کیوں شانی مرد کا دل نہیں ہوتا کیا مرد کے جزبات نہیں ہوتے مرد کو تکلیف نہیں ہوتی مرد کو سب کچھ ہوتا ہے شہری نے روتے ہوے شانی کے گلے لگالیا اور شانی نے شہری کو پانی کا گلاس پکرایا اور شانی نے کہا یار دیکھ جو ہوا سو ہوا اس بدلہ نہیں جاسکتا یار بھابی کا کیا قصور ہے وہ تیرا انتظار کررہی ہوگی شانی نے سمارہ کا نام لیا ہی تھا کے شہری نے گلاس کو زور سے دبایا اور گلاس کے سارے کانچ شہری کے ہاتھ میں لگے اور شہری کا ہاتھ لہولہان ہو گیا شہری نے چیح کر کہا اس کا تو نام مت لے میرے سامنے جب وہ سب جانتی تھی تو کیوں کی اس نے میرے سے شادی کی ہاں کیوں کی بڑا شوق تھا نہ اس شیریار علی کیانی کی دولہن بنے کا اب اس پتا چلے کا شیریار کیانی کی بیوی بنے کا انجام اور شانی نفی کرتے اس سمجانے لگا پر شہری کے کان پر جوں تک نہ رینگی تھوڑی دیر بعد شہری کے موبائل فون نے اس خاموشی کو تھوڑا ماں جی کالنگ لکھا دیکھ کر شہری نے کال پک کی شہری بیٹا کدھر ہو ٹائم دیکھا ہے سمارہ تمہارے کمرے میں کب سے انتظار کررہی ہے جلدی گھر لوٹو ساڈے گیارہ ہو رہے ہیں اوکے ماں جی میں پہنچ رہا ہوں کام
سے آیا تھا شہری نے خود کو ٹھیک ظاہر کرتے ہوے کہا۔۔۔۔
 
رات کے ایک نجے وہ پیرس پہنچھے کاشان ملک نے کرن کو پارلر بھج کر اپنے فلائٹ میں چلا گیا جو کے اس کے دوست نے آنے سے پہلے اس کے لیے خریدہ تھا کاشان کو فلائٹ بہت پسند آیا اور وہ اپنے روم کو پھولوں سے سجانے کے لیے کہہ کر باہر نکل گیا۔۔۔
ایک گھنٹے بعد کاشان کرن کو لیکر فلائٹ پہنچا جو بلکل سجا ہوا تھا نکاح تو وہ پاکستان میں ہی کوٹ میں کرکے آیے تھے۔۔
کرن کو بھی فلایٹ بہت پسند آیا اور وہ دونوں کمرے میں چلے گے کرن کو اپنے کیے پر دکھ تھا اسی لیے وہ تھوڑی پرشان تھی کاشان ملک نے اس سونے کی انگوھی پہنی اور پھر باتیں کرنے لگے اپنے مستقنل کے حوالے سے۔۔۔
 
ادھر کاشان کے ماں باپ کو پتہ چلا چکا تھا کے ان کا بیٹا پیرس اک لڑکی کے ساتھ نکاح کرکے نکل چکا ہے ملک زمیر احمد نے کاشان کو کال کر کے بہت ڈانٹا اور ناراض ہوے اور دلاویز کا کبھی بات نہ کرنا کا بھی بتایا کے وہ اپنے بھائی سے بہت ناراض ہے۔۔۔
 
دلاویز کالج میں نوٹس بنارہی تھی کے بل کی گھنٹی ہوئی اور پیریڈ اور ہوا یہ دلاویز اور صباء کا فری پیریڈ تھا اس لیے وہ دونوں گرونڈ سے ہوتے ہوے کینٹین چلدی جو کے کالج کے مین گیڑ کے ساتھ تھی وہ دونوں کینٹین کے اندر چلی گئ اس وقت ایک آدمی نے کسی کو کال کی سر لڑکی گیڑ کے سامنے یے آپ جلدی آیے دوسری طرف سے اوکے میں پانچ منٹ مین آتا ہوں۔۔۔
صباء اور دل دونوں پینچ پر بھیٹ کر برگر کھا رہی تھی تبی صباء کی نظر گیڑ پر پڑی ارے واہ وہ دیکھو مشہور بزنس مین شہروز علی کیانی کا بیٹا اور شیر علی کیانی کا بتیجا شاویز علی کیانی آرہا ہے صباء نے کسی ریپوٹر کی طرح بتایا یہ کیوں کالج میں آیا یے دل نے مزاخی لہجے میں کہا یار ایڈمیشن کے لیے آیا ہو گا پر دلاویز نے کہا وہ ہماری طرف آرہا ہے ہاں یار کہں تم پر دیونہ تو نہیں ہو گیا صباء اب بھی مزاح کے موڈ میں تھی دلاویزنے اسے اک جاپڑ مارا بکواس بند کر صباء ابھی بھی چپ نہ ہوئی ویسے یار یہ بندا کتنا ہنڈسم ہے یہ ہم سے کیا بات کرے گا وہ دونوں ابھی بھی خطرے سے بےخبر مزاق میں لگی تھی جب شاویز علی اور اس کی دو ساتھی آیے شاویز علی نے دلاویز کو آتے ہی بازو سے پکڑا اور ساتھیوں سے کہا اس کی دوست کو بھی لے چلو اور دلاویز اس کے ساتھ تقریبا گھسٹ کر جارہی تھی ان دونوں کو ایسی چپ لگی تھی کے مانو ان کے منھ میں زبان نہیں ہو کالج کے چوکیدار کی بھی ہمت نہیں ہوئی شاویز علی کیانی کو روکنے کی کیوں کے وہ شاویز کو اچھی طرح جانتا تھا۔۔ شاویز نے جب لینڈکروزر کے اندر دلاویز کو پھینکا تو دلاویز کو ہوش آیا آپ ۔۔آپ مجھے کہا لیکر جارہے ہیں دلاویز نے غصہ سے کہا پر اگلے لمحے زوردار چانٹا دلاویز کے چودہ طبق روشن کر گیا اور پچس سالہ شاویز کا تھپڑ سولہ سال دلاویز سے برداشت نہ ہوا اور وہ بہوش ہوگی۔۔۔
 
شیریار نے گھر جاکر شاستہ بیگم کے کمرے میں گیا انے اسلام کہہ کر وہ اپنے روم میں داخل ہوا اور اک پل کے لیے مہوت رہ گیا وہ فیروزی اور
ٹی پنک کلر کے کام دار لہنگے میں براڈل میک آپ کیے وہ کسی کو بھی دیوانہ بنانے کا ہنر رکھتی تھی شیریار کو لگا وہ اس بیوی کا درجہ دیکر بات ختم کرے اس لگا اس سب میں سمی سمارہ کا کیا عمل دخل پھر کچھ پل بعد سمارہ کو جب لگا اس کا مجازی خدا اس دہکھنے میں اتنے مگن ہے اب اسے ہی اسلام کرلینا چاہے پھر اسمارہ نے ہی اسلام و علیکم کہا شہری تو جیسے نیند سے جاگا تھا اس نے برخی سے اسمارہ کے رخسار پر تھپڑ دےمارا اور اس بالوں سے پکڑتے ہوا کہا کون کھول کر سن لو تم لوگوں کی نظر میں میری بیوی صرور ہو پر یہ چونچلے مجھے ہرگز پسند نہیں جاو یہ چینج کر کے آو مجھے تمہاری اس خالت سے وہشت آرہی ہے اور ہاں اگر ماں جی کو یا اپنے ماں باپ کو کچھ بھی بتانے کی کوشش کی تو میں تمہے طلاق دینے میں اک منٹ نے لگاوگا۔۔
وہ روتے ہوے باتروم میں گھس گی اور کتنے ہی دیر وہ شاور کے نیچے کھڑی رہی کیا یہ ایسی ہوتی ہے شادی کی پہلی رات کیا سب کے ہسبنڈ اپنی پہلی رات کی دلہن کے ساتھ ایسے سلوک کرتے ہیں اللہ جی میں تو دوعوں میں شہری کو مانگا تھا پر مجھے معلوم نہ تھا کے ان کا ساتھ ایسے نصیب ہو گا وہ کافی دیر بعد باتروم سے نکلی اور جہا نماز لیکر ساتھ بنے سٹیڈی روم میں نماز پھڑھنے چلی گئ۔۔
اس گھر اور شہری کے روم کے سب جگہ کا پتہ تھا کیوں کے شادی سے پہلے وہ شہری کی بہت اچھی دوست تھی پر قسمت کا لکھا کون ٹال سکتا ہے۔۔۔
جب وہ بیڈ روم میں آئی تو وہ دشمن جان سو چکا تھا پیشانی پر بکھرے بال اور چہرے پر بلا کی مصومیت تھی سمارہ کو باختیات اس اپنے محرم پر بہت پیار آیے اور وہ بھی بیڈ کے کونے میں ٹک گئ۔۔۔
 
وہ پہلے تو دلاویز کو غلط ارادے سے لایا تھا کے وہ اس کی عزت خراب کر دےگا پھر اس نے سوچا ایسے کام ہو جس سے میرا بدلہ بھی پورا ہو جایے اور مجھے سے کوئی گناہ بھی سرزد نہ ہو اور ملک خاندان کی عزت بھی خاک میں مل جایے اور پھر جلد ہی شاویز علی کے دماغ میں اک ترکیب آیی اور اس نے فورا اس پر عمل کیا اور اس نے فون نکال کر وہاب کو اور مولوی اور چند اک عتبار کے بندوں کو بلوا لیے اور کچھ دیر تک وہ سب انے والے تھا شاویز نے فورن شادی کا جوڑا بھی منگوایا تاکے کسی کو شک نہ ہو۔۔۔
دلاویز کو جب ہوش آیا تو وہ اک خوبصورت سے کمرے میں تھی تبی کمرے میں کوئی داخل ہوا وہ شاویز علی تھا دلاویز نے اس سے چیخ کر کہا مجھے کیوں لایا ہے ادھر شاویز نے اک نظر اس کے معصوم اور کم عمر سراپے پر ڈالی اور بات کا آغاز کیا اگر تم آرام سے میرے سے نکاح کرنے کے لیے راضی ہو جاو تو ٹھیک نہیں تو تم عزت سے بھی جاو گی اور جان سے بھی اور اگر نکاح چپ چاپ کر لوتو تمہے اور تماری دوست کو میں جانے دوگا۔۔۔
نہیں کبھی نہیں میں کبھی نہیں آپ سے نکاح کرو کی بشک آپ میری جان لے لیں اوو ریلی جان سے پہلے تمہاری عزت جایے گی اور یہ کہتے ہی شاویز نے دلاویز کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے اور دلاویز کی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو نکل کر گرے ساتھ ہی اس شاویز نے آزاد کرتے ہوے پوچھا کرو گی نکاح دلاویز نے روتے ہوے ہاں میں گردن ہلائی شاباش یہ رہا شادی کا جوڑا اور ساتھ ہی صباء کو کمرے میں لایا گیا اور صباء سے کہا اپنی دوست کو تیار کرو اگر اپنی اور اپنی دوست کو زندہ دہکھنا چاہتی ہو تو اوو ساتھ ہی کمرے سے باہر نکلا گیا۔۔۔
تھوڑی دیر بعد صباء دلاویز کو دولہن بناکر لے آئی شاویز نے کہا مولوی صاحب نکاح شروع کرے ۔۔۔
دلاویز ملک ولد زمیر احمد ملک آپ کا نکاح شاویز علی کیانی ولد شہروز علی کیانی کے ساتھ کیا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے
دلاویز نے شاویز کی طرف دیکھا جو اس آنکھوں میں وارن کر رہا تھا۔۔
ق۔ق۔قبول ہے
قبول ہے
قبول ہے
سب نے شاویز کو مبارک بات دی اور سب چلے گے ۔۔۔
صباء اور دلاویز شاویز کا انتظار کررہی تھیں کے وہ اب انہے جانے دے شاویز کمرے میں آیا اور ساتھ ہی کہا مبارک ہو
شاویز نے دلاویز کو کہا جواب میں دلاویز نے کہا اب ہمے جانے دے شاویز نے کہا اتنی بھی کیا جلدی ہے صباء تم عاشی اپنی دوست کو کال کرو اور کہو کے اگر تم دونوں کے والدین اس سے تم دونوں کا پوچھے تو کہنے ہے تم دونوں اس کے ساتھ ہو صباء نے کہا میں ایسا کچھ نہیں کرو گی اچھا لگتا ہے تمہے اپنی عزت پیارئ نہیں دلاویز نے نہ جانے کیسے یہ کہا شاویز آپ مجھ سے نکاح کر کے اب صباء کو عزت کی دمھکی دےرہے ہو نہیں نہیں مس از شاویز میں خود ایسا کچھ نہیں کرو گا بلکہ میرے آدمی جو باہر کھڑے ہیں وہ اک منٹ میں تماری دوست کی عزت کو چار چاند لگا دے گے
صباء نہیں نہیں میں عاشی کو کال کرتی ہوں پھر صباء نے عاشی کو ایسا ہی کہا جسیے شاویز نے کہا کہ دلاویز اور صباء عاشی کے گھر ہیں وہ دونوں آج عاشی کے گھر رک کر پڑھے گی۔۔ بھر شاویز نے صباء سے کہا آپ زرا اس کمرے میں چلی جایے کیا آپ نہیں جانتی آج آپ کی دوست کی ویڈنگ نائٹ ہے تو آپ سامنے والے کمرے میں چلی جایے اگر بھاگنے کی یا کسی اور چلاکی کی کوشش کی تو مجھے الزام نہ دینا کے کچھ بتایا نہیں
اور صباء جلدی کمرے سے باہر نکلا گی
دلاویز کو ابھی بھی ڈر تھا کہ وہ اس کے ساتھ پتہ نہیں کیا کرے گا۔۔
شاویز نے کمرے لاق کیا اور دلاویز کی طرف بڑھ گیا اور شاویز نے دلاویز کو اپنے خسارے میں قید کر لیے اور اس بیڈ پر لٹا دیا اور پھر اس پر پوری رات انتکام ملی محبت کی بارش کرتا رہا۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: