Bheek Mein Mili Mohabbat Novel By Tawasul Shah – Episode 4

0
بھیک میں ملی محبت از تاوسل شاہ – قسط نمبر 4

–**–**–

پیپ۔۔۔پیپ۔۔۔پیپ۔۔۔۔
شیریار نے موبائل اٹھاکر دیکھا تو صبح کے پانچ کا الام بج رہا تھا وہ اٹھاکر واشروم میں گھس گیا۔۔
جب وہ شاور لیے کر آیا تو سمارہ کو سوتے پایا اس غصہ تو بہت آیا کے وہ اس کے بیڈ پر سورہی یے پر دوسرا خیال اس یہ آیا کے اس کمرے میں تو صوفہ ہے ہی نہیں تو وہ کدھر سوتی میں کیوں اس کے بارے میں سوچنے لگا میری بلا سے جہنم میں جایے۔۔۔
وہ اب سٹیڈی روم میں داخل ہوا تاکہ نماز ادا کرسکے۔۔۔
وہ نماز ادا کرکے کمرے سے باہر نکلا گیا اور ملازمہ کو دن میں اپنے کمرے میں صوفہ رکھنے کا کہہ کر شاستہ بیگم کے کمرے میں گیا وہ نماز کے بعد قران پاک کی تلاوت میں مصروف تھی انہے اسلام کر کے وہ دوبارہ کمرے میں اگیا بیڈ خالی پڑا تھا اس سٹیڈی روم میں سمارہ نماز ادا کرتی نظر آئی اور وہ اب بلاوجہ سونے کی کوشش کرنے لگا کیوں کے آفس تو اس شاستہ بیگم نے جانے نہیں دینے تھا آج کے دن۔۔۔ سمارہ سٹیڈی سے باہر نکلی تو اس کی نظر سامنے بیڈ پر لیٹے شہری پر پڑی اس نے جلدی سے اسلام کیا شیریار نے غصہ سے اس کی طرف دیکھ کر اسلام کا جواب دیا جیسے اس پر آسان کر رہا ہو سمارہ نے بھی خاموشی میں ہی عافیت جانی اور اپنے بال سلجانے لگی۔۔۔
مہرون کلر کا خوبصورت سا جوڑا جس پر گولڈن کام بنا تھا اس میں اسمارہ کے نم بال اور معصومیت جو شہری کو دیوانہ کررہی تھی۔۔ شہری یہ تجے کیا ہو رہا ہے وہ سمارہ ہے کرن نہیں اس کے دل کے کسی کونے سے آواز آئی وہ صرف سمارہ نہیں بلکہ مسسز شیریار کیانی ہے اس تجھے دیکھنے کا پورا حق ہے۔۔ سمارہ نے ہلکا سے میک آپ کیے اور شہری کی طرف رخ پھیرا تو شہری بھی اک دم اٹھا اور دل کی باتوں کو چھوڑ کر چہرہ پر سنجیدگی لاتے ہوے سمارہ سے کہا جو مینے رات کو سمجھایا تھا وہ یاد ہے نہ شہری اس پر چور نظر ڈالتے ہوے پوچھنے لگا ج۔جی یاد ہے چلاو اب نیچھے۔۔۔
 
دلاویز کی جب آنکھ کھولی تو وہ شاویز کے خسارے میں تھی شاویز کا اک بازو اس کے پیٹ پر سے ہوتے ہوے اس کی کمرے تک جب کے شاویز کی اک لات اس کے اوپر تھی دلاویز مکمل طرف پر مانو قید تھی۔۔۔
دلاویز کل کے بارے میں سوچنے لگی کل تک تو شاویز اس ظالم گھٹیا اور پتہ نہیں کیا کیا لگ رہا تھا پر اب اس کو دیکھا کر دلاویز کا دل چاہا کے کاش شاویز کے ساتھ ساری زندگی گزار دے یہ شاید نکاح کے تین بولوں کا اتنا اثر تھا کے دو دشمنوں کا بھی نکاح کردیا جایے تو اس پاکیزہ رشتہ کے تحت ان میں قدرتی محبت ہوجانی ہے۔۔۔
دلاویز نے شاویز کو آواز دی شاویز۔۔۔
شاویز کو اپنے پاس کسی دوسرے وجود کا احساس ہوا تو اس نے آنکھ کھول کر دلاویز کو دیکھا تو اسے سب یاد اگیا اب تو جانے دیں دلاویز نے جب اپنے ماں باپ کا سوچا تو اس رونہ آیا جانے دیں اب تو آپ نے مجھے کسی کے سامنے منھ دیکھنے کے قابل بھی نہیں چھوڑا !!!
چپ اک دم چپ مینے تمہارا ریپ نہیں کیا تم سے نکاح کیا ہے بیوی کے ساتھ ایسا کرنا کون سے گناہ ہے یہ گناہ نہیں پر آپکا طریقہ غلط ہے آپ نے مجھے کیڈنیپ کر کے مجھ سے زبردستی نکاح کیا ہے یہ سنتے ہی شاویز کو تپ چڑ گی بکواس بند کرو میں تم سے نکاح کے بغیر بھی یہ سب کرسکتا تھا یہ تو شکر مناو میں تم سے نکاح کے بعد کیا اب جلدی سے یونفام پہنو تاکہ تمہے کالج چھوڑ دو۔۔۔
وہ۔۔وہ…
کیا بولو بھی اب مجھے نہانا ہے میرا جسم نا۔۔۔ وہ اتنا ہی بول پائی تھی، اوکے اوکے وہ سامنے واشروم ہے جاو شاویز نے اس کی بات کا مطلب سمجھتے ہوے کہا۔وہ جلدی سے شاور لیکر آئی تو شاویز نے بھی جلدی سے شاور لیا اور دلاویز صباء کو لیکر اک ریسٹونیںٹ میں جاکر تینوں نے ناشتہ کیا اور پھر کالج کے لیے نکل گے راستے میں شاویز نے دونوں کو اچھی طرح سمجھا دیا کے کسی کو کچھ بتانے کی ضرورت نہیں تو اپنے انجام خود سوچ لینا اور ہاں اب تم دونوں جاو۔۔۔
 
سمارہ اور شہری نیچھے آیے تو ناشتہ کی میز پر سب ان دونوں کا انتظار کر رہے تھے سمارہ نے سب کو اسلام کیا شیریار نے بھی سب کو اسلام کیا اور دونوں ساتھ ساتھ کرسی پر بیٹھ گے۔۔
ناشتہ کے بعد شہری تو باہر دوستوں میں نکل گیا جب کے سمارہ شاستہ بیگم کے پاس بیٹھ گی۔۔۔
سمارہ تو جانتی ہوں کن خالات میں تم شہری کی دولہن بنی ہو ابھی وہ تم سے رویہ اچھا نہیں رکھے گا میں جانتی ہوں پر یہ تو عورت پر ہوتا ہے کے وہ مرد کو کتنا جلدی اس کو بس میں کرتی ہے۔۔ ۔
وہ سمارہ کو پیار سے سمجھ رہی تھی دیکھو بیٹا عورت کا خسن ہی سب سے بڑا ہتھیار ہوتا ہے جو تم میں ہے ۔۔۔انشالللہ جلد تم بھی خوشیاں نصیب ہوگی وہ اس پیار سے گلے لگتے ہوے دعا دینے لگی۔۔۔
سمارہ نے دن کا کھانا کھا کر اپنے روم میں چلی گئ اور کمرے میں صوفہ پڑا دیکھ کر خوش ہوئی کے آج وہ سکون سے سو پایے گی اور پھر وہ سونے لیٹ گئ۔۔۔
 
شیلا بیگم کو رہ رہ کر خود پر غصہ آنے لگا کے وہ اگر کرن کی بات مان لیتی تو آج انکو یہ دن نہ دیکھنے پڑتا۔۔۔
اس بات کو آج پورا ایک مہینہ ہونا کو تھا اس مہینے میں انہے کتی ہی بار کرن بہت یاد آتی ماں تھی کرتی بھی کیا اور کرن نے بھی کون سے کم کی تھی ماں باپ کو کسی کو منھ دیکھنے کے قابل بھی نہیں چھوڑا تھا۔۔
شاویز لانچ میں داخل ہوا ماما جانی کدھر ہیں کھانا دیے دیں اچھا آتی ہوں وہ شاویز کو لنچ دینے کچن میں چلا گئ شاویز میری جان کدھر ہوتے ہو ایک مہینا ہو گیا ہے کرن کو گے ہوے تم بھی کہی نظر نہیں آتے تمہارے پاپا بھی اپنے کمرے کے ہو کر رہ گے ہیں۔۔
ماما شاویز نے شیلا بیگم کے ہاتھ تھامتے ہوا کہا آپ بھول جایے سب کرن آپی نے کوئی غلط کام نہیں کیا نکاح کرنا غلط بات تو نہیں اور اسلام میں بھی پسند کی شادی کی اجازت ہے اس لیے آپ آپی کرن سے کال پر بات کر لیے کریں وہ اب ماں کو کیا بتاتا وہ اپنا بدلہ لے چکا ہے اس لیے اب اسے اپنی بہن کی غلطی نظر نہیں آرہی تھی۔۔ شیلا بیگم بھی بیٹے کی باتوں سے خاموش ہوگی۔۔۔۔
 
دلاویز نے اور صباء نے کسی کو کچھ نہیں بتایا تھا جیسے شاویز نے ان دونوں سے کہا ایسا ہی کیا۔۔۔
شاویز کے آج کل دن نہیں گزر رہے تھے وہ ہر وقت دلاویز کو سوچتا رہتا اس نے تو سوچا تھا کے وہ اس کے ساتھ رات گزار کر طلاق دے دے گا پر اب جب وہ اس طلاق دینے کا بھی سوچتا تو اس کا دل یہ سوال کرتا کیا تم اسے کسی اور کو ہوتے دیکھلو گے کیا تم یہ برداشت کرلو گے کے کوئی اور مرد اس چھوے ن۔۔ن نہیں نہیں وہ صرف میری بیوی رہے گی میں اسے کسی اور کا ہونے نہیں دو گا۔۔۔
شاویز دلاویز کے کالج گیا اور چوکیدار سے کہا مسسز شاویز کو بلاو چوکیدار خیرانگی سے اسے دیکھنے لگا میرا مطلب ہے دلاویز زمیر کو بلاو چوکیدار نے جی اچھا کہہ کر دلاویز کو بلا لایا شاویز دلاویز کو تھوڑی سایڈ پر لیےگیا بات سنو تم کل صبح کالج کے لیے گھر سے نکلوگی پر کالج نہیں جاو گی تم بس سٹاپ پر رکو گی ادھر سے تم میرے ساتھ جاو گی لیکن کیوں چپ کوئی سوال نہیں تم اب بھی میرے نکاح میں ہو سمجھی اور شاویز فورا اپنی لینڈکروزر لیکر کالج سے نکل گیا۔۔۔
دلاویز نے گھر جاتے ہوے صباء سے اس بات کا زکر کیا تو صباء نے اس سے کہا دیکھو دل جو بھی ہوا اچھا نہیں ہوا پر اب وہ تمہارا شوہر ہے میرا نہیں خیال کے اس کے ساتھ جانا غلط ہے اور ویسے بھی تم اب کر بھی کیا سکتی ہو۔۔۔
شاویز اور دلاویز کے نکاح کو 4 مہینے ہو چکے تھے شاویز ہر ہفتہ کے روز دلاویز کو صبح لیکر جاتا اور کالج کی چھٹی کے وقت اس گھر سے کچھ فاصلے پر چھوڈ جاتا ۔۔۔
اج بھی ہفتہ تھا دلاویز شاویز کے فلایٹ پر تھی دلاویز کو بھی اب اپنا شوہر اچھا لگنے لگا تھا کچھ شاویز کی قربت ہر ہفتہ اور کچھ اس نکاح کی وجہ سے دلاویز کو ہوگی تھی پر شاویز کی بس وہ ضرورت تھی کے وہ اپنے مطلب کے لیے کر ہفتہ لاتا تھا اللہ جانے شاویز دلاویز کے ساتھ کیا کرنے کا ارادہ رکھتا تھا.۔۔
ویزی آپ کب میری ماما بابا سے ہمارے متعلق بات کب کرے گے تھوڑا صبر کر جاو یار ٹائم آنے دو اور ساتھ ہی دلاویز کے ہونٹوں پر جھکا چکا تھا اور پھر اپنے پیاس بجاکر اس گھر چھوڈ کر آیا تھا۔۔۔
 
سمارہ اور شہری کے درمیان آج 4,5 مہینے بعد بھی کوئی رشتہ قائم نہ ہو سکا تھا پر شہری کو اس کی عادت ہو گی تھی اور عادت پیار سے زیادہ خطرہ ناک ہوتی ہے۔۔۔
شیریار کمرے میں آیا تو سمارہ نے کہا آپ آگے شہری نے کوئی جواب نہیں دیا اور چینج کر کے بیڈ پر آگیا سمارہ بھی لائٹ اف کر کے صوفہ پر لیٹ گئ سمارہ اب روز صوفہ پر ہی سوتی تھی ابی سمارہ کو سویے دو کھنٹے ہی ہوے ہوگے کے سمارہ نے دیکھا کچھ لوگ شہری پر فائرنگ کر دیتے ہیں اور شہری خون سے لہو کیوں ہو چکا ہوتا ہے سمارہ چینح مارکر اٹھی اور بھاگ کر شہری کے بیڈ پر جاکر اس کے گلے سے لگ کر رونے شروع کر دیا نہیں نہیں شیریار کو کچھ نہیں ہو سکتا نہیں میرے شہری کو کچھ نہیں ہو سکتا شیریار نے غصہ سے لائٹ اون کی اور سمارہ کو پیچھے دکیلا دور ہٹو تم سمجھتی کیا ہو ہاں میں تمہے کبھی بیوی کا درجہ نہیں دوگا تمہیں میری بھیک میں ملی محبت تو مل سکتی یے بلکہ تم میرے نکاح میں بھی بھیک میں لیا گیا ہے سنا تم نے اور وہ اسے کمرے میں چھوڑ کر گاڈی لیکر نکل گیا اور اسمار اپنی خراب قسمت پر بھیٹ کر روتی رہئ
 
دلاویز بیٹا اٹھو کالج نہیں جانا نجمہ بیگم نے دلاویز سے کہا جانا ہے ماما اٹھ رہی ہوں اور دل اٹھ کر کالج کے لیے تیار ہو نے لگی آج جمعہ تھا کل اس شاویز کی طرف بھی جانا تھا اس کی آج کل طبیعت بھی کچھ ٹھیک نہیں ریتی تھی دلاویز نے سمجھا پڑھئی کے برڈن کی وجہ سے ہے نجمہ بیگم نے دلاویز کو ناشتہ ٹیبل پر لگا کر کہا دل بیٹا میں زرہ سبزی لینے جارہی ہوں آج تازہ پالک اور گوشت بنانے کو دل کررہا ہے تم ناشتہ کر کے مین کیڈ کو باہر سے لاق کر جانا اوکے ماما اور دلاویز ناشتہ کرنے لگی اس نے انڈے کا پہلے نوالہ ہی لیا تھا کے اس کا دل بری طرح سے خراب ہونے لگا اور دلاویز بنا ناشتہ کیا کالج چلدی صباء بھی اس کے ساتھ تھی ابھی وہ کالج سے کافی دور تھی آج بس نے بھی ادھر اتارہ تھا انہے اب ادھر سے اوٹو سے جانا تھا ابھی انہے کھڑے دو منٹ ہی ہوے تھے کے دلاویز بہوش ہو کر گرنے لگی وہ تو صباء اس کے ساتھ تھی ورنہ وہ گرتی تو اسے چوٹ لگتی صباء اس سے کافی بڑی تھی صباء اس اپنی اک دوست کے کلینک لآیی جو قریب ہی تھا اس کا ڈاکٹر علینہ نے چیک آپ تو پہلے اسے کالج یونیفام میں دیکھ کر حیران ہوئی کے یہ اس کا ناجائز ہے پھر بھی اس نے صباء سے پوچھا کیا یہ میرڈ ہے صباء نے فورا ہاں میں گردن ہلائی اوو مبارک ہو پھر شی از پریگنٹ ، congratulations
she is pregnant..

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: