Bheek Mein Mili Mohabbat Novel By Tawasul Shah – Episode 5

0
بھیک میں ملی محبت از تاوسل شاہ – قسط نمبر 5

–**–**–

کیا یہ میرڈ ہیں۔۔۔۔؟؟ ڈاکٹر نے صباء سے کہا جی جی یہ میرڈ ہے 4,5 منتھ سے۔۔ اوو مبارک ہو ان کو شی از پریگنٹ یہ ماں بنے والی ہیں۔۔ لیکن ان کو بہت زیادہ احتياط کی ضرور ہے کیوں کے یہ بہت کمزور ہیں اور ساتھ ان کی ایج بہت کم ہے پتہ نہیں ماں باپ کیوں اتنی چھوٹی عمر میں شادی کردیتے ہیں ایسی ایج میں ماں بچے دونوں کو خطرہ ہوتا ہے۔۔۔
اوو اپ سنو صباء یہ آپ کی کیا لگتی ہیں ؟؟
یار یہ میری بہت اچھی دوست ہے دلاویز۔۔
علینہ یار تم دلاویز کا ابارشن کردو کیوں کے اس کی جان کو خطرہ ہے اور ابھی تو ہمارے پیپرز ہونے والے ہیں۔۔۔ دلاویز نے یہ بات سنی ہی تھی ہے کرسی سے اٹھاکر دو قدم پیچھے ہوئی ن۔۔ن۔۔ نہیں صباء می۔۔میں ابارشن نہیں کروگی میں اپنے بچے کو کبھی نہیں مارو گی تم چلو ادھر سے اچھا دلاویز تم بیٹھ جاو تمہاری طبیعت آگے ٹھیک نہیں ہے ہم چلتے ہیں بس۔۔
اچھا علینہ میں اب چلتی ہوں اوکے صباء چچی جان کو اسلام کہنا میں کبھی آو گی آپ کی طرف کیوں نہیں ضرور ضرور صباء نے کہا اوکے اللہ حافظ۔۔
 
ٹن۔۔ٹن۔۔ٹن۔۔۔
اوہو لگتا ہے کاشان آگے ہیں کرن دروازے کی طرف لپکی اور واقع ہی کاشان ہی تھا۔۔
ہیلو میری جان کیسی ہو۔۔ آپ کے سامنے ہی ہوں یار جلدی چلے میرا قورمہ نہ جل جایے اوکے تم چلو میں لاق کر کے آتا ہوں۔۔
کرن کچن میں چلی گی۔۔
جی تو کہا تک پہنچا کام میری بیگم کا بس سلاد رہ گیا یے اوکے تم ادھر ریسٹ کرو اور میرے بیبی کو بھی ریسٹ کرنے دو میں سلاد بنادیتا ہوں۔۔۔
کرن کا دوسرا مہینہ تھا اور کاشان اس کو کام نہیں کرنے دیتا جب وہ گھر ہوتا تو۔۔
کاشان تو آفس سے بھی لیو لینا چاہتا تھا پر کرن نے منع کردیا کے جب ڈلیوری قریب آئے گی تب لیو لینا اور کاشان بھی مان گیا۔۔
کھانا کھا کر کاشان اور کرن کمرے میں چلے گے کرن تو بیڈ پر لیٹ چکی تھی جب کے کاشان چینج کرنے کاشی۔۔
کاشان جب ڈریسنگ سے باہر نکلا تو کرن نے اس پکارو جی کاشی کی جان کاشان بھی بیڈ پر لیٹ چکا تھا کاشان اگر ڈلیوری ٹایم مجھے کچھ ہوگیا تو میرے بیبی لیکر پاکستان چلے جانا ساتھ ہی کرن کی آنکھوں سے دو موتی ٹوٹ کر گرے کاشان نے کرن کو اپنے ساتھ لگاتے ہوے کہا کچھ نہیں ہوتا میری جان کیسی باتیں کرتی ہوں چپ ہو جاو ورنہ میں بھی رونے لگ جانا ہے کرن ہسنے لگی کاشان نے کرن کے پیٹ پر ہاتھ رکھتے ہوے کہا میرا بیبی کیا کر رہا ہے ماما کو تنگ نہیں کرنا اوکے گڈ بیبی پاپا کا۔۔
کرن۔۔۔
جی کرن کی جان کرن نے بھی کاشان کے انداز میں کہا ادھر ہو میرے پاس کرن کاشان کی طرف ہوئی تو کاشان نے کرن کے لبوں پر اپنے لب رکھ دیے اور اس پر مکمل جھک گیا۔۔۔
 
کیانی ہاوس میں سب لوگ ڈنر کررہے تھے۔۔
شاستہ بیگم نے سمارہ کو کہا بیٹا کھانا ٹھیک سے کھاو میں کب سے دیکھ رہی ہوں بس چمچ ہلا رہی ہو جی پھپھو سمارہ نے شاستہ بیگم کو کہا۔۔۔
سمارہ دن سے کچھ سوچ رہی تھی اور ساتھ میں میاں بیوی کے محبت کا وصیفہ بھی کررہی تھی جو کے 41 دن کا تھا آج تیسرا دن تھا وہ روز رات کو عشاء کے بعد وصیفہ کرتی۔۔
سمارہ کو اب جتنا شیریار ڈانٹتا سمارہ پھر بھی اس کے سب کام اپنے ہاتھوں سے کرتی اب تو شہری بھی اس کام سے منع کرتے کرتے عاجز آچکا تھا اب وہ اس کام سے منع نہیں کرتا تھا۔۔
سمارہ روز کی طرح آج بھی شیریار کا رات کا ڈرس نکال کر ڈریسنگروم میں رکھ دیا اور شہری نے آتے ہی اپنے شوز بیڈ کے سامنے اتارے کیوں کے سمارہ اب خود سے انہے سنبھلتی تھی شہری نے چپ چاپ ڈرس چینج کیا اور پہنا ہوا ڈرس ادھر ہی پھینک دیا کیوں کے اسے پتہ تھا ابھی سمارہ نے اٹھکر رکھ دینا ہے اور ایسا ہی ہوا سمارہ نے شہری کے سارے کام نپٹا کر آکر صوفہ پر لیٹ گی۔۔۔
 
بس سٹاپ پر اک لڑکی کالج ڈریس میں کھڑی تھی کے تین لڑکے بائک پر آکر رکے ہیلو جانمن اکیلی کیوں کھڑی ہو آجاو ہمارے ساتھ ہم تیری رات خسین کردے گے اتنے دیر میں ٹائروں کی چرچراہٹ کے ساتھ لینڈکروزر آکر رکی دلاویز لینڈکروزر میں جاکر بیٹھ گئ تو ان میں سے اک نے کہا ارے یہ تو زیادتی ہوئی نہ یار لینڈکروزر والے کے ساتھ جارہی ہو
پہلے تو ہم نے تیرے کو رات کا کہا ابھی بات لڑکے کے منھ میں ہی تھی کے شاویز کے مکے نے لڑکے کے آگے کے دانت توڑ دیے اور اسے پیٹنا شروع کر دیا ابے اوو تیری بہن اپنے ہیسبنڈ کے ساتھ جارہی یے کسی اور کے ساتھ نہیں اور تم نے میری بیوی کے بارے جو کیا اس کا مزہ ابھی تمہے دیتا ہوں دوسرے لڑکے ایک کی دزگشت بنتے دیکھ کر اس چھوڑ کر بھاگ گے اور دلاویز اس کا خون دیکھا کر ڈرگی اور شاویز کو روکنے لگی شاویز چھوڑے اسے وہ مرجایے گا اس لاکر کار میں بیٹھ دیا اور شاویز نے کار کا رخ فلایٹ کی طرف کر دیا۔۔
ویزی۔۔۔
ہممم کیا بات ہے شاویز نے کہا ویزی آپ اکلوتے ہو نہ ہاں آپی کرن تمہارے بھائی کے ساتھ شادی کر کے پیرس چلی گئ اب میں ہی اکیلا ہوں اپنے ماما پاپا کا اکلوتا۔۔
جی نہیں اب آپ کا ساتھ نبانے والا بھی انے والا ہے آپ کو پرشان ہونے کی ضرور نہیں کیا مطلب ہے تمہارا
دلاویز نے شرماتے ہوے کہا ویزی آپ پاپا بنے والے ہو مجھے بھی کل ہی پتہ چلا اب پلیز میرے ماما پاپا سے بات کرو نہ میں اب آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی دلاویز تو اور بھی نہ جانے کیا کیا کہ ریی تھی پر شاویز نے کہا کیا تم پریگنٹ ہو دلاویز نے ہاں میں سر ہلا دیا تم نے چیک آپ کدھر سے کروایا صباء کی دوست کے کلینک سے وٹ اک سستے سے کلینک سے چلو جلدی کرو مشہور ڈاکٹر رانیہ کیانی جو کے گائنی کالجست یے میری دوست بھی ہے اب ادھر چلتے ہیں۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر رانیہ نے دلاویز کا مکمل چیک آپ کیا اور کہا ریپوٹر پوزیٹو ہیں شاویز ہیں۔۔
از شی اکپیکٹو۔۔۔
رانیہ شی مائی وائف ،او کب کی شادی؟
3,4 مہینے سے یہ کسی کو نہیں پتہ تم بھی کسی کو نہیں بتانا اوکے شاویز ان کا بہت خیال رکھیے گا یہ ویک بھی بہت ہیں اور ان کی ایج بہت کم ہے ایسے کیسز میں ماں بچے دونوں کو خطرہ ہوتا ہے یہ میڈیسن ڈیلی کی دینی ہے اپنی وائف کو اوکے رانیہ سی یو ارے کوئی چایے کافی ارے کچھ نہیں پھر کبھی اور دونوں کلینک سے نکل گے ۔۔۔
شاویز دلاویز کو اپنے باہوں میں لیکر بیڈ پر لیٹا چکا تھا شاویز نے سوچ لیے تھا اب وہ دلاویز کو جلد طلاق دے دے گا بدنام تو اب ویسے بھی اسے ہوجانا ہے اچھا ہے میرے بچے کے ساتھ لائف گزار دیگی۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: