Bheek Mein Mili Mohabbat Novel By Tawasul Shah – Episode 6

0
بھیک میں ملی محبت از تاوسل شاہ – قسط نمبر 6

–**–**–

اج سنڈے تھا اسی لیے شہری کافی لیٹ اٹھا تھا اس کی آنکھ کھلی تو اسے اپنے کمرے میں اپنے علاوہ کوئی دوسرا نظر نہیں آیا شاید سمارہ اٹھ کر جاچکی تھی ۔۔ وہ اٹھ کر واشروم شاور لینے کی عرض سے چلا گیا۔۔۔
شہری جب باتھ سے نکلا تو ڈریسر کے سامنے سمارہ کو نکسک سے تیار ہوتے پایا شہری نہ چاہتے ہوے بھی پوچھ لیا کے کہا جانے کی تیاری ہے
سمارہ نے کہا وہ۔۔وہ بابا آیے ہیں مجهے لینے تو پھپھو نے کہا کے میں تیار ہوجاٶ۔۔
شہری نے اچها کو کافی لمبا کرتے ہوۓ کہا پھپھو تمہاری ہسبنڈ ہیں یا میں کس سے پوچھ کر جارہي ہو وہ میں کیا جاٶ اور اپنے بابا سے کہو میں کچھ دن تک اپنے شوہر کے ساتھ آٶ گٸ سمارہ جی اچها کہتے چلی گئ شہری کو مانو موت آرہی تھی سمارہ کو بھجتے ہوۓ پر وہ بھی کیا کرتا جب سمارہ نے جانے کا نام لیا تو اس سوچ سوچ کر کوفت ہورہی تھی کے وہ کیسے رہے گا اس کے بن یہ سوچ کر شہری خود بھی سوچ میں پڑگیا کے اسے کیا ہورہا ہے۔۔۔
پر شاید شہری بھی نہیں ٕجانتا تھا کے یہ محبت کی شروعات ہے۔۔۔۔۔
 
اج ہفتہ کی صبح تھی دلاویز کالج ڈریس پہنے ہوے بس سٹاپ پر کھڑی شاویز کا بصبری سے انتظار کر رہٸ تھی دل کو کافی دیر گزار گئ انتظار کرتے ہوۓ۔۔۔۔
تقریبا ایک گھنٹے بعد ایک بڑی سی لینڈکروزر ٹائروں کی چرچراہٹ کے ساتھ رکٸ شاویز گاڑی سے باہر آیا۔۔۔
ویزی اتنے لیٹ کیوں۔۔۔۔ابھی لفظ اس کے منھ میں ہی تھے کے شاویز نے کہنا شروع کیا “دیکھو دلاویز اب تم مجھ سے ملنے کو مت رکا کرو ہماری راہۓ الگ الگ ہیں اس لیے میں اب تم سے کوٸی تعلق نہیں رکھنا چاہتا اور ہاں میں جلد تمہے طلاق نامہ بجھوا دو گا اور ساتھ ہی گاڑی میں بیٹھ کر جلدی سے ادھر سے نکال گیا۔۔
وہ چھوٹی سی لڑکی زمین پر بھیٹتی چلی گئ وہ تھی بھی تو معصوم سی اور محض سولہ سال کی شاویز نے اس کی مصومیت کے ساتھ ہی تو کھیلا تھا وہ بس سٹاپ پر بےیارو مددگار پڑٸ تھی۔۔۔
شاویز نے دلاویز سے وہ سب جو کہا تھا وہ شاویز جانتا تھا یا اس کا رب کے اس نے کیسے کہا تھا پر وہ اپنی نام نہا انا کا کیا کرتا جس کے سر پر انتکام کا بھوت سوار تھا اس نے اک معصوم کے دل جزبات اور عزت کے ساتھ کھیلا تھا ہاں وہ عزت کے ساتھ کھیلا کر اپنی انا کو تسکين پہنچا چکا تھا اور وہ اسکی عزت کا محافظ ہوتے ہوۓ بھی لٹیروں کی طرح عزت کو تار تار کرچکا تھا۔۔۔۔
 
کیانی ہاوس میں سب نأشتے میں مصروف تھے شاستہ بیگم نے شہری سے کہا بیٹا کل بھائی آیے تھے سمارہ کو لینے اس بچی نہ تمہاری اجازت کے بغير جانا مناسب نہیں سمجھا اس لیے شام آفس سے آتے وقت سمارہ کو لے جانا جی اچھا ماں جی شہری نے فرمابرداری سے کہا شاستہ بیگم نے خوشی سے بیٹے کی کمر تھتھپائی۔۔۔ شہری نے ڈاینگ ٹیبل سے أٹھتے ہوۓ سمارہ کو محاطب کیا شام پانچ بجے تک تیار رہنا سمارہ نے خوش ہوکر کہا جی اچها کہا۔۔۔۔
 
ارے کاشی ناشتہ تو ثھیک سے کرکے جایے بس ہوگیا ناشتہ میری جان اپنا خیال رکھنا کاشان نے کرن کے رخسار پر لب رکھتے ہوۓ رخصت لی کرن کا چھٹا منتھ تھا کرن سب کام نپٹا کر چھٹ پر تازہ ہوا لینے کی عرض سے گئ اس وقت کاشان نے بلڈنگ کے نیچھے اپنی کار روکی اور لیفٹ سے اپنے فلایٹ کے فلور کا بٹن دبایا کاشان نے اپنے دوست کی کمپنی میں جاب کی تھی ادیب اس کا اسکول فیلو تھا وہ میٹرک کے بعد فیملی کے ساتھ پیرس شفٹ ہوچکا تھا ان چند سالوں میں ادیب کے والد نے قابليت کے بل بوتے پر کافی اچھا بزنس بنالیا تھا ۔۔۔
کاشان کی بات ادیب سے ہوتی رہتی تھی اس لیے پھر ادیب نے کاشان اور کرن کے لیے یہ فلایٹ بھی لیا تھا کاشان کے کہنے پر اج جب کاشان آفس پہنچا تو اس کی ضروری فاٸل گھر رہ گی جو وہ ادیب کو بتاکر لینے آگیا۔۔۔۔
کرن سیڑیوں پر جارہی تھی کے اس کا پاٶں سلپ ہوا اور وہ لڑکڑاتی ہوئی نیچھے گری کاشان جو بیل دینے کا ارادہ رکھتا تھا اچانک کرن کی زوردار چینح کی آواز پر بھاگ کر ڈپلیکٹ کی سے لاق کھولا تو اس کی آنکهوں کے سامنے اندہرہ چھا گیا کیوں کے کرن اوندھے منھ سیڑیوں سے نیچھے بے حس و حرکت پڑی تھی۔۔۔۔
 
دلاویز کی تو اللہ پاک نے سن لی تھی دلاویز آدھا گھنٹا بس سٹاپ پر پڑی رہٸ اج صباء کالج سے تھوڑی لیٹ تھی جب وہ سٹاپ پر پہنچی تو دلاویز کو گرا پایا صباء بہت مشکل سے دلاویز کو ہسپتال لے کر گی کیوں کے دلاویز کی خالت لمحے بے لمحے تشویش ناگ ہوتی جارہٸ تھی۔۔ دلاویز کی ماما کو صباء کال کر کے بلاچکی تھی اور انکل کو بتانے سے سحتی سے منع کیا تھا اور کچھ رقم لیکر آنے کا کہا تھا دل کی ماما اور صباء دونوں پرشان خال ہسپتال کے کوریڈور میں کڑی تھیں۔۔۔
ادھر سے لیڈی ڑاکٹر آتی دیکھائی دی دونوں لپک کر ڑاکٹر کی طرف بڑھی ڈاکٹر نے کہا دیکھے آپ کی پیشنٹ تو خطرے سے باہر ہیں پر أن کا مس کیرج ہوگیا ہے کم عمری اور کمزوری کی بناہ پر بہت مشکل سے ان کی جان بچ سکی ہے باقی اب گھبرانے کی کوٸی بات نہیں ہم تھوڑی دیر بعد انکو روم میں شفٹ کردیں گے پھر آپ ان سے ملے سکتے ہیں ژاکٹر نے پیشےور مسکرہٹ کے ساتھ کہا۔۔۔
صباء یہ ۔۔۔یہ ڈاکٹر کس کے بارے میں کہہ رہی تھی میری دل تو ابھی شادی شدہ نہیں پھر کس مس کیرج کی بات کررہی تھی ڈاکٹر پھر صباء نے نجمہ بیگم کو دلاویز کے نکاح سے لیکر اب تک سب بتا دیا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: