Bheek Mein Mili Mohabbat Novel By Tawasul Shah – Episode 7

0
بھیک میں ملی محبت از تاوسل شاہ – قسط نمبر 7

–**–**–

اٹھ۔۔۔ جاٶ۔۔۔۔ اٹھ۔۔۔۔جاٶ
شاویز بیٹا اٹھ بھی جاو اج کتنا سونا ہے دن کے 12 بج گیۓ ہیں۔۔۔
ماما جانی سونے دیں نہ رات 2 بجے سویا تو بیٹا جی کیوں نہیں سویۓ جلدی شیلا بیگم نے شاویز کے بالوں میں ہاتھ پھرتے ہوۓ کہا ماما جانی نیند نہیں آئی اور یہ نیند کیوں نہیں آئی میرے شہزادے بیٹے کو شیلا بیگم نے بیٹے کے لاڈ اٹھتے ہوۓ کہا۔۔ پتہ نہیں ماما اووہووو تو یہ بات ہے ۔۔
کون سی بات ماما شاویز نے نہ سمجهی سے کہا۔۔
اب تم ماں سے چھپاٶ گۓ کے میرے شہزادے کو میرے لال کو محبت ہوگٸ ہے ماما ایسی بات نہیں وہ صاف مکر گیا۔۔
نہیں بیٹا جی آپ کی آنکهوں سے لگ رہا ہے کے آپکو پیار ہوگیا ہے۔۔
شاویز اک بات ہمیشہ یاد رکھنا کبھی کسی عورت کا دل مت دکھنا نہ کسی کے جزبات کے ساتھ کھیلنا کیوں کے مرد تو محبت بھلا سکتا ہے پر عورت اپنی پہلی محبت کبھٸ نہیں بھول پاتی ماماجی چھوڑے بھی اس بات کو شاویز کو پتہ نہیں کیوں اس ٹوپک سے وخشت ہو رہٸ تھی۔۔۔۔
 
دلاویز کے مس کیرج کو تین مہینۓ ہوچلے تھے۔۔۔
مس کیرج کے بعد جب دل کو ہوش آیۓ تو وہ بہت روئی اس اپنا بچا کھو دینے کا بہت دکھ تھا ہوتا بھی کیسے نہ عورت اپنی پہلی الاد کبھی نہیں بھول سکتی۔۔۔ دلاویز کو تو بس یہ پتہ تھا کے وہ اپنے بھائی کی وجہ سے برباد ہوئی ہے۔۔۔
دل کی ماما نے اس کے بابا کو بھی بتادیا تھا گھر میں سب کو دلاویز اور شاویز کے رشتے کے بارے میں پتہ تھا۔۔ اس بچے کو اللہ پاک نے کسی مصلیحت کے تحت ہی دل سے لیا تھا اور وہ یہ تھی کے اس صورت دل کے والدین کی عزت بچ گئ تھی اور دل اس بات پر صبر کرگئ تھی۔۔
دل کی ماما بابا نے اسے بہت کہا کے شاویز پر ڈاورس کا کیس کردیں پر اس نے صاف منع کردیا تھا۔۔۔۔۔
 
کاشان نے جلدی سے کرن کو ہسپتال پہنچایا اور کرن کو اپریشن ٹھٹھر میں لے جایا گیا۔۔۔
کاشان نے ادیب کو بھی کال کرکے بتایۓ تھا اور اب وہ ہوسپیٹل کے کوریڈور میں حیران پرشان کھڑا تھا کے ایک ڑاکٹر کاشی کی طرف آیا مسٹر کاشان آپ ادھر ساٸین کردیں اور آپکی مسسز کی حالت بہت تشویش ناک ہے آپ کے بچے یا مسسز میں سے کسی ایک کو بچانا ہوگا
آ۔۔۔پ۔۔آپ کرن کو بچایۓ
کاشان مرد ہوکر رو رہا تھا ”اے اللہ پاک میری کرن اور میرے بچے کو بچالے اللہ پاک تو بڑا غفور و رخیم ہے تو جو چائے کرسکتا ہے تجے تیری بادشاہت کا واستہ میری فیملی کو بچالے“ اور یہ وہ لمحا تھا جو اللہ نے کاشی کی سن لی تھی۔۔۔
اب ادیب بھی اس کے پاس آگیا تھا اور اسے حوصلہ دے رہا تھا کاشی یار پرشان نہ ہو بھابھی اور بچے کو ان شاء اللہ کچھ نہیں ہوگا۔۔۔
 
شاویز نے تو دل کو بدنام کرنے کے لیے ایسا کیا تاکے اس کا بدلہ پورا ہو پر وہ شاید یہ بھول گیا تھا کے عزت اور زلت دینے والی زات اللہ پاک کی جس نے دل اور اس کے والدین کو عزت بخشی اور بے شک اس سب میں دل کا کوٸی قصور نہیں تھا تو اللہ دل یا اس کے والدین کو زلت ٕیا سزا کیوں دیتے جب کے وہ سب بےقصور تھے اور بے شک اللہ پاک بے گناہوں کو سزا نہیں دیا کرتے ہاں البتہ اپنے پیارے بندوں کو آزمائش اور امتحان میں ضرور ڈالتے ہیں جو کے أن لوگوں نے صبر و شکر سے برداشت کیا پھر اللہ پاک أن کو انعام کیوں نہ عطا کرتے بے شک وہ اس کے مستخق تھے۔۔ اللہ پاک جب آزمائش دیتا یے تو انسان کو اللہ پاک پر قامل یقين ہونا لازم ہے اور اللہ پاک انسان کی آزمائش ختم کردیتا ہے۔۔۔
 
شاویز کو کسی طور سکون نصیب نہیں ہوا جب سے اس نے دل کے ساتھ ایسا کیا تھا اسے اندر ہی اندر زمیر ملامت کررہا تھا کے اس نے دل کے ساتھ اچها نہیں کیا اور اور وہ تو میرے بچے کی ماں بنے والی تھی وہ شاوہز نے چاہ کر بھی دلاویز کو ڈاوس نہیں دے سکا تھا میں کتنا بدقسمت باپ ہوں جس کی وجہ سے میری اپنی اولاد اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی۔۔۔
شاویز نے دکھ اور بھچتاوے سے آنکھیں میچ لی۔۔۔
ان تین مہینوں میں دل اس بحد یاد آئی اس کی معصوم باتيں اور وہ خود بھی تو بہت معصوم تھی اسے رہ رہ کر خود پر غصہ آرہا تھا کے اس نے دل کے ساتھ بہت برا کیا
اسے دل بہت یاد آتٸ اسے یقين ہوگیا تھا کے اسے پیار نہیں بلکہ عشق ہوگیا ہے اور تو اور کل شیلا بیگم کی باتیں وہ سوچتے سوچتے آئینے کے سامنے آگیا اس کے دل سے آواز آئی شاویز تو دل سے معافی مانگ لیے وہ وہ ضرور تمہے معاف کر دیے گٸ کیا تونے دل کی آنکهوں میں اپنے لیے محبت نہیں دیکھی۔۔۔
ہاں اسے مجھے معاف کرنا ہوگا۔۔۔ اور وہ اپنی ورڈروپ سے سب سے اچھا ڈریس نکال کر واشروم میں گھس گیا۔۔۔
 
شام کے پانچ کا وقت تھا سمارہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑی اپنا جایزہ لے رہی تھی جسے کوٸی کمی تو نہیں رہ گی۔۔۔
گہرے نیلے رنگ کا ویلوٹ کا سوٹ جس پر گولڈن کلر کا نفسيات سے کام بنا تھا اوپر گولڈن ہی ڈوپٹا خجاب سٹائل میں اوڑا ہوا خوبصورتی سے کیا گیا میکاپ وہ نظر لگنے کی حد تک جازب نظر آرہی تھی۔۔۔ شہری کمرے میں داخل ہوا تو سامنے سمارہ کو صوفے پر بھیٹا پایا وہ اپنے گلابی پاٶں میں شوز پہن رہیٸ تھی شہری نے سمارہ پر برپور نظر ڈالی شہری کو اپنا آپ بےقابو ہوتا نظر آیا اس کا دل بےمان ہوا جارہا تھا اور وہ ظالم خسینہ بت نبی کھڑی تھی شہری کو کچھ اور سمجھ نہ آیا تو اس نے کہا تم تیار ہو نیچھے میرا ویٹ کرو میں آتا ہوں جی سمارہ نے بس اتنا کہا اور باہر چلی گٸ ۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: