Bheek Mein Mili Mohabbat Novel By Tawasul Shah – Episode 8

0
بھیک میں ملی محبت از تاوسل شاہ – قسط نمبر 8

–**–**–

پیچھلے تین گھنٹے سے کرن آپریشن ٹھیٹھر میں تھی کاشان کا پرشانی سے برا خال تھا۔۔
کچھ دیر بعد ایک ڑاکٹر باہر نکلی کاشان اس کی طرف لپکا ڑاکٹرصاحبہ میری مسسز کیسی ہیں دیکھے مسٹر کاشان آپ کی مسسز اب اوٹ اوف ڈینجر ہیں(out of danger)ہیں آپ کو مبارک ہو آپ کے ہاں بیٹے کی ولادت ہوئی ہے لیکن۔۔۔
لیکن آپ کے بچے کو ہم نے شیشے میں رکھا ہے کیوں کے آپ کا بچا ابھی 6 منتھ کا ہے اس لیے اپنے بیٹے کے لیے دعا کریں باقی مس کرن کو ہم کچھ دیر میں روم میں شفٹ کردیں گے پھر آپ ان سے ملے سکتے ہو۔۔۔
کاشان جہاں کرن اور بچے کے لیے خوش ہو رہا تھا ادھر اب پھر سے پرشان ہوگیا ادیب اسے تصلی دے رہا تھا کے سب ٹھیک ہو جایۓ گا۔۔۔
سمارہ اور شہری دونوں گاڑی میں بھیٹے منزل کی طرف گامزن تھے گاڑی میں خوموشی تھی بہت مزہ کا ٹاٸم شام کا ہلکا ہلکا اندھرہ چھا رہا تھا شہری نے ٹیپ اون کیا تو یہ سونگ چل رہا تھا ” بھگی بھگی سڑکوں میں تیرا انتظار کرٶ۔۔
دہیرے دہیرے دل کی زمین کو تیرے ہی نام کرٶ
خود کو میں یوں کھو دو کے پھر نہ کبھی پاٶ۔۔
ہولے ہولے زندگی کو اب تیرے ہوالے کرٶ۔۔ صنم رے صنم رے تو میرا صنم ہوا رے“۔۔۔۔
گانے کے بول شہری کے دل کی بات تھی پر سمارہ نہ جانے کس سوچ میں گم تھی جو کہ شہری کے خال دل کو تو بلکل بھی نہیں سن رہٸ تھی۔۔
سفر کافی لمبا تھا اب سمارہ نے سیٹ کے ساتھ
ٹیک لگا لی تھی سمارہ دن کو کھانے کے بعد ضرور سوتی تھی اج گھر جانے کی خوشی میں دن کو سو ہی نہ پائی اس لیے اب اسے نیند آرہٸ تھی اور وہ کچھ دیر میں سوگٸ ۔۔۔
اتنے مہینوں میں شہری یہ تو جان گیا تھا کہ وہ نیند کی بہت پکی ہے سمارہ کی گردن کڑکڑانے لگی تھی کے شہری نے ہاتھ بڑا کر اس کی گردن اپنے کندے پر رکھدی اور آہستہ سے لب اسکے ماتھے پر رکھ دیے اور جلدی سے پیچے ہوا کے کہیںٸ وہ جاگ ہی نہ جاہۓ۔۔۔۔
شاویز نے گاڑی نکال کر دلاویز کے گھر کے ساٸیڈ موڑ لی دل کے گھر جانے پر اسکے بابا نے ڈور کھولا جی کون انہے نے کہا کیوں کے وہ شاویز کو باۓ نیم جانتے تھے باۓ فیس نہیں۔۔
شاویز نے ادب سے اسلام کیا اور کہا میں شاویز علی کیانی شہروز علی کیانی کا بیٹا انکل اور دلاویز کیانی کا شوہر کیا میں اپنی بیوی سے مل سکتا ہوں۔۔۔ زمیر احمد کو شاویز کی آنکهوں میں کچھ دل کے لیے نطر آیا۔۔۔ وہ وقتی غصے کو دفا کر کے شاویز کو ڈراینگ روم میں بھیٹا کر دل کے روم میں چلا گے انہوں نے اللہ سے اچھے کی دعا کی اور شاویز کو برا بلا نہیں کہا کیوں کے ان کا داماد تھا چاہے جیسے بھی اور ان کے ہاں دامادو کی عزت کی جاتی ہے نہ کے ان بےعزت۔۔۔
دل بیٹا شاویز آیا ہے آپ مل لو دل کو زرہ بھی حیرت نہیں مانو جیسے اسے یقین ہو کوٕ یہ دن ضرور آیے گا۔۔۔
دل ڑراینگ روم میں داخل ہوٸی اور اسلام کیا شاویز نے بھی دل کو اسلام کا جواب دے کر اسکی جانب پڑھا دل میری جان کیسی ہو وہ دل کو باہوں میں لینا چاہتا تھا کے دل دو قدم پیچھے ہوٸی پلیز شاویز۔۔۔ شاویز ادھر ہی رک گیا دل پلیز مجھے معاف کردو پلیز دل مجھے انکار نہیں کرنا میں اپنی سب غلطيوں کا ازالہ کردو گا پلیز میرے ساتھ گھر چلو ۔۔۔ کون سے گھر اسی فلایٹ پر جہاں آپ صرف اپنا مطلب حاصل کرنا ہے بس نہیں نہیں شاویز اب میری زندگی کا فیصلہ میرے والدین کرے گے آپ مجھے طلاق دیجیے دلاویز۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاویز کو ایسا لگا اس کا دل کسی نے مٹھی میں بند کردیا ہو ۔۔
اتنے میں دل کے ماما بابا شاویز کے چلانے پر اندر آیۓ دل کیا بات ہے بیٹا انکل میں بتاتا ہوں۔۔۔ میں اپنے کیے پر شرمسار ہوں اب میں دل کو گھر لینے آیۓ ہوں اور دل مجھ سے طلاق کا مطالبہ کر ریٸ ہے اور کہتٸ ہے کے میرا فیصلہ والدین کرے گے انکل آنٹٸ میں دل کے ساتھ نبانہ چاہتا ہوں آپ پلیز اسے سمجھیے۔۔۔ شاویز آپ اگر سچ میں ایسے چاہتے ہو تو اپنے والدین کو گھر بیجھو شادی کی تاریح رکھنے ہم اپنی اکلوتی بیٹی کو رسم رواج سے رخصت کرنا چاہتے ہیں اب کے بار نجمہ بیگم نے بات کی اوکے آنٹی میں کل ہی ماما کو بجھتا ہوں پاپا تو بیمار ہیں ۔۔۔
اب آنٹٸ نہیں ماما کہوں دل کی طرح اور دونوں روم سے باہر نکل گے۔۔
شاویز نے دل کو پکارہ اور ساتھ ہی شاعرانہ انداز میں یہ غزل دل کو سنائی۔۔
محبت روٹھ جائے تو
اُسے باہوں میں لے لینا
بہت ہی پاس کر کے تم
اُسے جانے نہیں دینا
وہ دامن بھی چرائے تو
اُسے تم قسم دے دینا
دلوں کے معاملے میں
تو خطائیں ہو جاتی ہیں
تم اِن خطاؤں کو
بہانہ مت بنا لینا
محبت روٹھ جائے تو
اُسے جلدی منا لینا…..!!
دلاویز#
اور ساتھ ہی دل کے گال پر کس کرکے باہر نکل گیا۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: