Bheek Mein Mili Mohabbat Novel By Tawasul Shah – Last Episode 20

0
بھیک میں ملی محبت از تاوسل شاہ – آخری قسط نمبر 20

–**–**–

کاشان اور شہری نے مل کر بزنس کو کامیابی کی بلندیوں پر پہنچا دیا تھا۔۔
شاویز اور شیریار نے بھی بزنس کو بہت اونچا کیا تھا پر کاشان نے جب رقم انویسٹ کی اور دوبٸ والے پروجیکٹ ملنے پر کیانیز انڈسٹریل دنیا بھر میں ٹاپ کمپنیز میں سے ایک تھی۔۔ اور پاکستان میں تو سب سے بڑی اور مشہور کمپنی کیانی انڈسٹریل ہی تھی کاشان کے کام کرنے کا طریقہ کار بھی بہت پسند آیا شہری کو۔۔
کاشان ادیب کے آفس پیرس میں کام کرتے رہا تھا اسی لیے اسے اکسپیریانس تھا۔۔
جس وجہ سے دونوں نے مل کر ترقی حاصل کی۔۔۔
 
اب تمہے صرف اس بچے کے سہارے زندگی گزارنی ہوگٸ اسی بچ۔۔۔۔ اسی بچے کے سہارے۔۔۔۔۔
اسی بچے۔۔۔
نہ۔۔۔ نہیں نہیں نہیں۔۔۔
ایسا نہیں ہو سکتا۔۔
آپ۔۔آپ مجھے چھوڑ کر نہیں جاسکتے ش۔۔شاویز۔۔
دلاویز کی جب آنکھ کھلی تو اس کا سارا جسم پسینے سے شرابور تھا دلاویز نے اچھی طرح آنکھیں مل کر چاروں طرف دیکھا جیسے یقین کررہی ہو کے کیا سچ میں وہ خواب تھا۔۔
جب اس نے خود کو اپنے اور شاویز کے کمرے میں پایا تو اسے یقین ہوگیا ہے وہ بہینک خواب ہی تھا۔۔
دلاویز کے آنسو نکل نکل کر گردن میں غاٸب ہو رہے تھے کے اگر یہ خواب سچ ہو گیا تو۔۔۔۔۔
نہیں۔۔۔ نہیں اللہ نہ کرے کے میرے ویزی کبھی مجھ سے دور ہوں۔۔
اور اسنے گھڑی کی طرف دیکھا تو صبح کے دو کا وقت تھا
دلاویز اٹھی اور واشروم سے وضو کرکے باہر آٸی اور اللہ پاک کی لاڈلی عبادت کرنے لگی۔۔۔
کہتے ہیں انسان جو پانچ نمازوں میں دعا قبول نہیں کروا سکتا۔۔ میں ایسا بلکل نہیں کہتی کے رب تعالی دعا قبول نہیں کرتا اللہ پاک دعا ضرور قبول کرتا ہے لیکن وقت آنے پر ہر چیز کا وقت مقرر ہے۔۔۔
تو تہجد اللہ پاک کی لاڈلی عبادت ہے اگر انسان کے حق میں بہتر ہو تو تہجد میں مانگی گٸ دعا کبھی رد نہیں ہوتی کیوں کے اس وقت رب تعالی انسان کے بہت قریب ہوتا ہے۔۔
اللہ پاک سب کو پنجگانہ نماز اور تہجد گزار بنادے آمین۔۔
دلاویز بھی نماز ادا کرنے کے بعد خوب گڑگڑا کر اپنے محرم اور مجازی خدا اپنے ویزی کے لیے زندگی مانگی اور شاید خدا کو دلاویز کا اس طرح اپنے محرم کے لیے رونا اللہ پاک کو بہت پسند آیا اور رب تعالی نے دلاویز کی دعا پر کُن کہہ دیا۔
بےشک اللہ سب کا سنے والا ہے۔۔
اللہ پاک سب کی جاٸز حاجات قبول منظر فرمائے۔۔۔
 
اج شاویز کو کومہ میں گۓ دو منتھ اور بیس دن یوچلے تھے۔۔۔
آج دلاویز کا دل صبح سے کہہ رہا تھے کے اب شاویز جلدی کومہ سے اٹھ جایے گے۔۔
ماما پاپا دلاویز دن کا کھانا کھا کر شیلا بیگم اور شہروز کیانی کے کمرے میں آئٸ۔۔
جی بیٹا کیا بات ہے شیلا بیگم نے نرمی سے کہا ماما میں شاویز کے پاس جانا چاہتی ہوں آپ کو بتانے آٸی تھی ہاں بیٹا تم رخیم کے ساتھ چلی جاو ہوسپیٹل شہروز کیانی نے ڈرائيور رخیم کا نام لیتے ہوا کہا جی اچھا دلاویز کہتی باہر نکل گی شیلا بیگم نے اس جاتے ہوا کہا دلاویز دھیان سے جانا۔۔
دلاویز ہوسپیٹل پہنچی اور شاویز کے روم میں جاکر اس سے باتیں کرنے لگی۔۔
ویزی اٹھ جایے نہ کب تک سونے کا ارادہ ہے اب بہت تنگ کرلیا آپ نے مجھے۔۔ اب اٹھ جایے دیکھے نہ آپ کو ہمارے بیبی ضائع ہونے کا بہت دکھ تھا نہ دیکھے نہ اللہ پاک نے پھر سے ہمے یہ نعمت عطاء کی ہے دلاویز نے شاویز کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پیٹ پر رکھتے ہوے کہا۔۔۔ تب ہی بلکل تب ہی شاویز کی انگلیوں میں حرکت ہوٸی اور دلاویز خوشی سے جھوم اٹھی ڈاکٹر۔۔۔ ڈاکٹر دلاویز نے جلدی سے ڈاکٹر کو بلایا تھوڑے سے ٹریٹمنٹ کے بعد شاویز کو مکمل طور پر ہوش میں آگیا تھا وہ اب کومے سے باہر آچکا تھا۔۔
دلاویز نے کال کر کے سب کو بتایا شیلا بیگم شہروز کیانی، کرن ،کاشان ،شہریار شیر کیانی شاستہ بیگم اور نجمہ بیگم اور زمیر احمد ملک سب ہوسپیٹل پہںچ گے سمارہ نہیں آئی تھی کے اس کا 8 منتھ تھا اور ڈاکٹرز نے اسے بیڈ ریسٹ کہا تھا۔۔
تھوڑی دیر بعد ہی پورے ہوسپیٹل میں مٹھائی بانٹی گی اور پھر شاویز کو گھر لے جایا گیا۔۔۔
 
کرن گھر چلے اب تو سب ٹھیک ہے نہ کاشان نے کرن کا ہاتھ پکڑتے ہوا کہا جی کاشان میں اپنی اور شامی کی پیکنگ کرلو ہممم کرلو میں ویٹ کررہا ہوں۔۔
تھوڑی دیر بعد کرن نے پیکنگ کر کے سب سے مل کر اپنے گھر ملک والا چلئ گٸ۔۔
سب بدگمانیاں ختم ہوچکی تھیں تو اب وہ گھر کیوں نہ جاتی بشک جو عزت شوہر کے گھر ہے وہ شادی کے بعد ماں باپ کے گھر نہیں ہوتی چاہے وہ گھر محل ہی کیوں نہ ہو۔۔۔
 
شیریار آپ آگے جی شہری کی جان آگیا شاویز بھاٸی کیسے ہیں اب ہممم ٹھیک ہے اب لمبی نیند سے جاگا ہے ہممم صحیح کہتے ہیں آپ انکو دو دو خوشخبریاں ملی۔
دو کون سی شیریار نے نہ سمجھی سے سمارہ کی طرف دیکھا ارے ایک ان کے کومہ سے باہر آنے کی اور دوسری دلاویز بھی ماں بنے والی ہے اوووووووو اچھا یہ کب سے ہے شہری نے سمارہ سے پوچھا ہممم دلاویز کا تیسرا منتھ ہے اوووووووو یعنی میں تایا اور پاپا دونوں بنے والے ہو شہری نے سمارہ پر جھکتے ہوا کہا شہری پلیز اب تو دو منتھ میری جان چھوڑ دے نہ سمارہ نے معصوم شکل بناتے ہوا کہا پھر اب شہری اس کا منھ بند کر چکا تھا۔۔۔
 
شاویز کو رات کا کھانا دلاویز نے خود اپنے ہاتھوں سے کھلایا تھا۔۔
دلاویز اب شاویز کے سینے پر سر رکھے باتیں کررہی تھی ویزی شکر ہے اللہ پاک کا کے آپکی نیند ٹوٹی ہمم تم نے مجھے مس کیا دل شاویز نے دل کے پیشانی پر لب رکھتے ہوے کہا مس ایسا ویسا کیا میں بہت مانگا آپ کو رب سے تب آپ واپس ملے ۔۔
ویزی پلیز مجھے معاف کردیں میری تمام نادانیاں ارے ارے میری چھوٹی سی بیبی معافی کی ضرور نہیں شاویز نے دلاویز کو گلے لگتے ہوے کہا۔۔
اوو موٹی یہ پیٹ کیوں نکل آیا تمہارا شاویز نے دلاویز سے مزاح کرتے ہوا پوچھا دلاویز نے شرماتے کر کہا اس میں جب بیبی ہو گا تب یہ نکلے گا نہیں تو کیا ہوگا یعنی کے میں پاپا بنے والے ہوں شاویز نے اٹھکر بیڈ پر بھیٹتے ہوا پوچھا دلاویز نے شرماتے ہوے ہاں میں گردن ہلادی اوو تھینکس یو دلاویز مجھے یہ گفٹ دینے کے لیے شاویز نے دوبارہ دل کو گلے لگتے ہوے کہا۔۔
 
*آفٹر سکس منتھ*
*After six months*
کرن ایک سال پانچ منتھ کے چھوٹے سے شامی کے پیچھے بھاگتے ہوۓ ارے رک جاو گھر کے اندر آتے کاشان نے شامی کو پکڑلیا پاپا نے پکڑلیا کاشان نے کہا اور تینوں اندر چل دیے گندے بیبی ماما کو بھاگایا مت کرو اور کرن تمہے خود خیال کرنا چایے یار تم پریگنٹ ہو اور ایسے بھاگتے ہیں کیا کاشان نے کرن کی کلاس لیتے ہوے کہا اور واشروم کی جانب چلا گیا۔۔
 
شیریار چھوٹی سی چار منتھ کی نورلین کو اٹھاکر اس کے ساتھ باتیں کررہا تھا شہری اپنی بچی کی ولادت پر بہت خوش تھا اس کا کہنا تھا اس کی بہن نہیں تھی تو اللہ پاک نے اس اپنی رحمت سے نوازہ تھا۔۔
سمارہ جب بیڈ پر لیٹی تو شہری اسے اپنی طرف کہنچتا ہوے اس پر جھکا یار شہری نور جاگ جایے گی ارے جان تم ہر وقت مجھے روکتی رہتی ہوں ایسا تمہاری بیٹے کی ہواہش کیسے پوری ہوگی اور اب سمارہ نے چپ رہنے میں ہی آفیت جانی۔۔
 
آج سنڈے تھا شاویز دلاویز کو مینگو جوس پلا رہا دلاویز کچھ کھاتی ہی نہیں تھی اسی لیے شاویز اس خود کچھ نہ کچھ کھلاتا رہتا تھا دلاویز کا 9 منتھ ہونے میں دو دن رہتے تھے۔۔
شاویز اسے جوس پلا کر اپنے کمرے میں آیا ہی تھا کے کے شیلا بیگم نے شاویز کو پکارہ شاویز بیٹا گاڑی نکالو دلاویز کو ہوسپیٹل لیکر جانا ہے شاویز گاڑی لیکر آیا دلاویز جب گاڑی میں بھیٹی تو اس کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے شاویز کو دیکھتے ہی اس کے گلے لگ گی۔۔
چپ ہو جاو میری جان تھوڑا صبر کرلو۔۔
ویزی پیٹ میں بہت پین ہورہی ہے دلاویز نے روتے ہوے کہا بس صبر شاویز کے حوصلہ دینے پر دلاویز تھوڑی چپ ہوئی۔۔۔
مسٹر شاویز کیانی مبارک ہو آپ کے ہاں جڑواں بچے ہوے ہیں ایک بیٹی ایک بیٹا اور میری مسسز کیسی ہیں۔۔
آپ کی مسسز کی ایک عمر کم تھی اور وہ پہلے سے بے ہوش تھیں اسی لیے ہم نے میجر آپریشن کردیا ویسے اب وہ ٹھیک ہیں کچھ دیر تک انہے ہوش آجایے گا پھر آپ مل سکتا ہیں ڈاکٹر بتاتی ہوٸ آگے بڑھ گٸ۔۔
جب دلاویز کو ہوش آیا تو شاویز اس سے ملنے آیا شاویز نے دلاویز کو پیشانی پر بوسا دیا اور کہا مبارک ہو بیٹی اور بیٹے کی آپ کو بھی دلاویز شاویز کے گلے میں بازو ڈالتے ہوے کہا۔۔ شکریہ ویزی مجھے مکمل کرنے کے لیے اور تمہارے بھی بہت شکریہ مجھے چنو منی دینے کے لیے۔.۔۔
دو دن بعد دلاویز کو ہوسپیٹل سے ڈسچارج کردیا گیا اور وہ گھر آگی۔۔
دلاویز اور شاویز نے دونوں بچوں کے نام رکھے ایک کا ہادی اور ایک کا ام ہانی دونوں بہت کیوٹ تھے ہادی شاویز کی کاپی پن تھا اور ہانی دلاویز کی
کچھ دنوں بعد دونوں بچوں کا خقیقہ کیا گیا جس میں خاندان بھر کو انوائٹ کیا گیا۔۔۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: