بھوک اور کورونا (افسانہ ) از آسیہ منیر ہاشمی

0
بھوک اور کورونا (افسانہ ) از آسیہ منیر ہاشمی

–**–**–

زینب۔۔ زینب۔۔ بیگم صدیقی نے اپنے پرآسائش اور قیمتی اشیاء سے سجے ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے ہوئے کرسٹل کے صراحی نما نازک سے گلدان کو صاف کرتی ہوئی ملازمہ کو پکارا..”جی بیگم صاحبہ”! زینب نے جواب دیا۔ زینب تم سن تو رہی ہوگی کہ پاکستان سمیت پوری دنیا میں کرونا وائرس کا مسئلہ چل رہا ہے؟ بیگم صدیقی نے اپنے خوبصورت ہاتھوں کے ناخنوں کو نیل پینٹ سے سجاتے ہوئے سوال کیا۔ جی! بیگم صاحبہ منظورا بتا تو رہا تھا زینب نے جواب دیا۔اس لیے تم کل سے کام پر مت آنا نہ جانے کتنے گھروں میں کام پر جاتی ہو اور یہ خطرناک وائرس انسان سے انسان کو منتقل ہو رہا ہے۔بیگم صدیقی نے ننھی سی پھونک اپنے ناخن کو خشک کرنے کے لئے مارتے ہوئے زینب کے سر پر بم بلاسٹ کیا۔ اس ننھی سی پھونک سے نکلنے والی تابکار شعاؤں نے زینب کے وجود کو جلا کر بھسم کر دیا۔ کام پر نہیں آؤں گی تو گھر کیسے چلاؤں گی؟ زینب نے خود کلامی کی۔ منظورا تو تین سال پہلے روڈ ایکسیڈنٹ کے بعد ٹوٹی چارپائی پر ٹوٹی ٹانگوں سے سارا دن یا تو زینب کو گالم گلوچ دے کر گزارتا یا پھر ٹی وی پر تھرڈ کلاس سٹیج ڈراموں کی مچلتی تھرکتی سٹیج اداکاراؤں کے بھڑکیلے رقص دیکھ کر اپنی ٹوٹی ٹانگوں کے نہ ہونے کا غم غلطاں کرتا تھا۔ تین سالوں میں چھے گھروں کا کام کر کے پانچ بچوں کا پیٹ پال کر زینب کے پاس اتنے پیسے جمع نہ ہو سکے کہ وہ منظورے کی ٹانگوں کا علاج کروا سکے یا ٹوٹی چارپائی کی مرمت کروا سکے۔ بیگم صدیقی کی طرح باقی گھروں سے بھی کرونا کا جواز بنا کر زینب کو کام سے نکال دیا گیا تھا۔ انسان جس کا پیٹ بھرا ہوا ہو اس کے لیے زندگی کتنی قیمتی ہے اور جس انسان کا پیٹ خالی ہو اس کے لیے زندگی اورموت کا مفہوم ایک جیسا ہے۔
ملک بھر میں کرونا کیسز کی تعداد بڑھنے لگی اور زینب کے گھر میں آٹے کے ڈرم سے آٹے کی مقدار کم ہونے لگی ” بھرے پیٹ والے کرونا سے خوفزدہ تھے اور خالی پیٹ والے بھوک سے خوف زدہ ”۔ خالی پیٹ والوں کے سامنے دو آپشن تھے ”کرونا اور بھوک” اور ان دو آپشنز میں سے جس کا بھی انتخاب کرتے نتیجہ موت ہی تھا۔ بیگم صاحبہ! بچے تین دن سے بھوکے ہیں کچھ مدد کر دیں ‘ بڑی مشکل سے بیگم راحیلہ کی کال ملنے پر زینب نے دہائی دی۔ ایک تو مجھے تم لوگوں کی مانگنے والی عادت بہت بری لگتی ہے پچھلی بار بھی آٹے کا گٹو لیتے ہوئے تم نے اتنی عجلت دکھائی کہ تصویریں بنانا ہی بھول گئے۔ بیگم راحیلہ نے نخوت سے جواب دیا۔بیگم صاحبہ! کچھ مدد کر دیں بہت مہربانی ہوگی زینب منمنائی۔ اچھا جیسے ہی کسی این جی او یا صاحب حیثیت افراد نے رابطہ کیا تو تمہیں اطلاع دے دوں گی اب میرا سر مت کھاؤ میں نے ایک نیوز چینل میں ابھی کرونا سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر بتانا ہیں بیگم راحیلہ نے بالوں کی لٹ کو چہرے سے ہٹاتے ہو?ئے کہا بیگم صاحبہ ایک احسان کر دیجیے گا ‘ کیا؟ بیگم صاحبہ ہم جیسے غریبوں کو بھوک سے بچنے کی تدابیر بھی بتا دیجیے گا زینب نے رندھی آواز میں کہا۔ آئندہ کال کرکے تنگ مت کرنا ‘ بیگم راحیلہ نے زینب کو تنبیہ کی۔ دو دن بعد راشن کا گٹو لے کر کچھ افراد زینب کی کٹیا میں آئے منظورے کے پیلے دانتوں اور چوڑے نتھنوں والے چہرے پر خوشی کی شعاعیں پھوٹ رہی تھیں موٹے کالے ہونٹوں سے رال یوں ٹپک رہی تھی جیسے بند پرنالے سے بارش کا پانی زور لگا کر باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہے۔ صاحب جی! میں ادھر ہو جاتا ہوں اور میرے تینوں بیٹے میری ٹانگوں پر بیٹھ جائیں گے منظورے نے ٹوٹی چارپائی پر ٹوٹے وجود کو زور لگا کر ایک طرف گھسیٹتے ہوئے فوٹوگرافر سے کہا۔ نجانے بند گٹو میں حکیم لقمان کی کونسی ایسی دوا تھی جسے کھائے بغیر منظورے کی ٹوٹی سو کھی ٹانگوں میں نظام دوران خون بحال ہوگیا تھا۔ مائی تم نے گٹو کو اس طرح پکڑنا ہے کہ تصویر اور ویڈیو میں ممنونیت کے تاثرات واضح نظر آئیں ایک آدمی نے زینب کو ہدایت دی۔ پتہ نہیں اتنی بڑی لش پش کرتی گاڑی سے اترنے والے اس صاحب کی سوچ اتنی چھوٹی اور گھٹیا کیوں ہے؟ زینب نے سوچا۔ کئی دن سے بھوکے منظورے، اس کے بچوں اور زینب کے لیے یہ گٹو نوید لے کر آیا تھا۔ اس رات زینب کی کٹیا میں خوشی کا سماں تھا کافی دنوں بعد بند چولہے اور خالی پیٹ کو ایندھن ملا تھا۔ مگر نہ جانے زینب لکڑی سے راکھ کو ٹٹولتے ہوئے کیا سوچے جا رہی تھی۔ زینب!کیوں اداس بیٹھی ہے؟ کیا روٹی کم پڑ گئی ہے؟ اگر کم ہے تو یہ لے لو منظورے نے چائے کی پتی میں لتھڑے ہاتھوں میں پکڑی روٹی زینب کی طرف بڑھائی۔نہیں منظورا میں نے جتنا پیٹ بھرنا تھا بھر لیا میں تو یہ سوچ رہی ہوں موت برحق ہے سب پر آنی ہے۔ پر یہ انسان سے انسان کس قدر خوفزدہ ہے۔ امیر تو ہمیشہ سے غریبوں سے فاصلہ رکھتے تھے امیروں کو ہم جیسے غریبوں کے جسم سے غلاظت کی بو آتی ہے اور وہ اس غلاظت کی بدبو سے دور بھاگتے ہیں مگر میں حیران ہوں کہ اب امیر سے امیر کیوں بھاگ رہا ہے؟ امیر کیوں ایک نظر نہ آنے والی بلا جس کو وائرس کا نام دیتے ہیں سے خوفزدہ ہے امیر تو بڑے زعم میں تھا کہ ہر چیز اس کے اختیار میں ہے وہ جو چاہے کر سکتا ہے جسکو چاہے پیروں میں روند سکتا ہے پھر اس وائرس کے سامنے کیوں بے بس ہے؟ میں یہ سوچ رہی ہوں کہ اگر امیر غریب کی بھوک مٹا دے تو شاید اللہ اس دنیا سے کرونا کو مٹا دے۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: