Anwar Aleegi Urdu Novels

Bichoo Novel By Anwar Aligi – Episode 1

Bichoo Novel By Anwar Aligi
Written by Peerzada M Mohin
بچھو از انوار علیگی – قسط نمبر 1

–**–**–

گفتگو انوار علیگی
اس کتاب کو میں نے اللہ کے نام معنون کیا ہے۔ آئندہ بھی میری جو کتاب آۓ گی (ان شاء اللہ ) اللہ کے نام سے منسوب ہو گی۔ میں شکر گزار ہوں رب کائنات کا جس نے مجھے بہترین تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا۔ اپنے خالق کی ثنا کے لئے میرے پاس لفظ نہیں۔ ویسے بھی ایک انسان میں اتنی استعداد کہاں کہ وہ اللہ کی تعریف (جس طرح کی جانی چاہئے کر سکے۔ سارے سمندر کی روشنائی اور سارے درخت قلم بن جائیں، تب بھی اللہ کی تعریف مکمل نہ ہو۔ بس اللہ اپنی تعریف خود ہی کر سکتا ہے کہ اس کے سوا، اس کے بارے میں مکمل طور پر کوئی نہیں جانتا۔ یہ ناول اخبار جہاں میں’’طاغوت‘‘ کے نام سے چھپا تھا۔ اس نام کے دو ناول شائع ہو جانے کی وجہ سے اس کا نام تبدیل کرنا پڑا۔ اب یہ ناول’’ بچھو‘ کے نام سے آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ’طاغوت‘‘ سے زیادہ اچھا نام ہے۔ امید ہے آپ کو بھی پسند آۓ گا۔ میں جب بھی کوئی پراسرار ناول شروع کرتا ہوں تو پراسرار حالات میں گھر جا تا ہوں۔ اس ناول کو لکھتے ہوۓ میں کچھ زیادہ ہی پریشان ہوا۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ کراچی میں ’’بچھو‘‘ بالکل نہیں ہوتے۔ اس کے باوجود اسکیچ بناتے بناتے اچانک کاغذ پر ’بچھو‘‘ کا بچہ نمودار ہو گیا۔ اخبار جہاں کے آرٹسٹ عمران زیب اس بچھو کو شیشی میں بند کر کے میرے پاس لے آۓ ۔ اس بچھو کی ’’ممی‘‘ آج تک میرے پاس محفوظ ہے۔ مجھے نہیں معلوم ایسا کیوں ہوتا ہے لیکن ہوتا ضرور ہے کہ میں تخلیق کے دوران غیر انسانی مخلوق کی گرفت میں آ جاتا ہوں۔ یہ اللہ ہی ہے جو مجھے پراسرار مخلوق کے نرغے سے بچاتا ہے۔
☆☆☆☆☆☆☆
قسط نمبر 1
وہ بڑی محویت سے کام کر رہا تھا کہ اچانک ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔
گھنٹی کی آواز نے اسے بری طرح چونکا دیا۔ اس کے جسم میں جھٹکا سا لگا۔ یہ اچھا ہوا کہ برش تصویر سے دور تھا۔ وہ برش سے لڑکی کے ہونٹ سنوار نے جا رہا تھا۔ اگر برش ہونٹوں پر ہوتا تو اس جھٹکے کی وجہ سے ہونٹ سنورنے کی بجاۓ بگڑ جاتے۔
اس نے ایک لحہ ٹیلیفون کو گھورا۔ پھر ایک نظر گھڑی پر ڈالی۔ گیارہ بج کر پانچ منٹ ہو رہے تھے یہ ایک خاص وقت تھا۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اس وقت ٹیلیفون پر کون ہو گا؟ دو انگریزی کے رسالوں پر رکھے ہوۓ ٹیلیفون کا ریسیور اس نے ہاتھ بڑھا کر اٹھایا۔ برش اس کی انگلیوں میں دبا ہوا تھا۔ ریسیور کان سے لگا کر اس نے اپنے مخصوص لہجے میں کہا۔ ’’جی۔‘‘
جی کے جواب میں ایک مترنم ہنسی کی آواز سنائی دی۔ وہ جو کوئی بھی تھی اس کی ہنسی لا جواب تھی۔ اگر وہ موسیقار ہوتا تو اپنی کئی دھنیں اس پر قربان کر دیتا۔ اس کا جی چاہتا تھا کہ وہ اس کی ہنسی ٹیپ کرے اور اسے گھنٹوں سنتا رہے۔ اس کی ہنسی میں پائل کی چھنک تھی۔ بانسری کی مدھر تان تھی۔ جوسنتا اس کے کانوں میں رس گھلتا تھا۔ وہ پوچھتا کہ تم کون ہو تو وہ بولنے کے بجاۓ ایک بار اور ہنس دیتی۔ اس نے جب سے فون کرنا شروع کیا تھا وہ آج تک بولی نہ تھی۔ لیکن آ ج اس نے اپنی ہنسی سنانے کے بعد پہلی بار لب کھولے تھے۔ اس نے کہا تھا۔‘‘
“رانجھن تم کیسے ہو؟“ ’’رانجھن؟‘‘ اس نے بڑی حیرت سے دہرایا۔ اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ اس نے اسے رانجھن کیوں کہا۔
“ہاں رانجھن.. میرے رانجھن…،” ہنسی کی طرح اس کی آواز بھی بڑی پیاری تھی۔ اس کے لہجے میں پیار رچا ہوا تھا۔
“ہاہا میں کوئی رانجھا وانجھا نہیں ہوں۔ آ پ کو ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ میرا نام ساحل ہے ساحل عمر میں ایک چھوٹا سا آرٹسٹ ہوں۔‘‘ وہ سادگی سے بولا۔
“میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ تم کون ہو تمہارا نام کیا ہے اور تم کیا کرتے ہو؟ مجھے کچھ بتانے کی ضرورت نہیں میرے رانجھن۔‘‘ اس نے بڑے یقین سے کہا۔
بولنے کے دوران وہ ہستی بھی رہی
’’مجھے جانتی ہو تو پھر ساحل کہو رانجھن نہ کہو۔‘‘
“تمہیں ساحل کہوں اور دور کھڑی نظارہ کرتی رہوں. یہ چاہتے ہو تم ؟‘‘
’’معلوم ہوتا ہے ادب سے خاصا لگاؤ ہے‘‘
’’ادب سے لگاؤ ہو یا نہ ہو بہر حال بے ادب نہیں ہوں میں۔“
“اتنے دن سے فون کر رہی ہو لب تم نے آج کھولے.”
“لب نہ کہو زبان کہو لب کھولے بنا بھی کیا کوئی ہنس سکتا ہے۔” اس نے ساحل عمر کی بات درمیان سے کاٹ دی۔
“ذہین بھی ہو اچھی بات کہی تم نے۔‘‘ وہ دل سے معترف ہوا۔
”تعریف کاشکریہ۔‘‘ وہ پھرہنسی “اب اپنی بات پوری کرو”
“میں یہ کہہ رہا تھا کہ اتنے عرصے تک تم صرف ہنستی رہیں۔ زبان سے کچھ نہ کہا۔” آخر کیوں؟ کیا میرے حال پر ہنستی تھیں۔‘‘ ساحل عمر نے مسکرا کر کہا۔
“کسی کے حال پر ہنسنے والے دوست نہیں، دشمن ہوتے ہیں. تمہاری دشمن نہیں تمہاری دوست ہوں میرے رانجھن ۔‘‘ یہ کہہ کر وہ ہنسی اور پھر ساحل عمر کا جواب سنے بغیر اس نے ٹیلی فون بند کر دیا۔ ساحل عمر چند لمحے اس کی ہنسی اس کی باتوں میں کھویا رہا۔ پھر ایک گہری سانس لے کر ریسیور بہت آہستگی سے رکھ دیا۔
وہ جو کوئی تھی بڑی انوکھی لڑ کی تھی۔ یہ سلسلہ اس نے بڑے عجیب انداز میں شروع کیا تھا۔ پہلے ٹیلی فون کی ایک گھنٹی بجنی شروع ہوئی۔ ٹیلیفون کی ایک گھنٹی بجتی اور ٹیلیفون کا سلسلہ منقطع ہو جاتا۔ ایک دو دن تو ساحل عمر نے کوئی توجہ نہ دی۔ ٹیلیفون کی خرابی سمجھ کر نظر انداز کیا۔ لیکن جب کئی دن تک ایک گھنٹی بجتی رہی اور اتفاق سے اس نے گھنٹی بجنے کا ٹائم نوٹ کیا تو اس پر انکشاف ہوا کہ یہ گھنٹی ٹھیک گیارہ بجکر پانچ منٹ پر بجتی ہے۔ پھر دو گھنٹیاں بجنے لگیں۔ ساحل عمر کو تیسری گھنٹی پر ٹیلی فون اٹھانے کی عادت تھی۔ کچھ دن دو گھنٹیاں بج کر ٹیلی فون منقطع ہوتا رہا۔
ایک دن اس نے دوسری گھنٹی پر ٹیلی فون اٹھایا تو دوسری طرف گہری خاموشی تھی۔
اس نے ’’جی‘‘ کہا تو ادھر سے ٹیلی فون منقطع کر دیا گیا۔
کچھ دن یہی چلتا رہا کہ وہ ٹیلی فون اٹھاتا. جی کہتا تو اس کی آواز سن کر فورا ٹیلی فون بند کر دیا جا تا۔
پھر ایک دن سانس کی آواز سنائی دی تو محسوس ہوا جیسے کسی نے گہری ٹھنڈی سانس لی ہو۔ کوئی سرد آہ بھری ہو۔ اس کے بعد ٹیلی فون بند.
چھ دن کے بعد یہ گہری اور ٹھنڈی سانس ہنسی میں تبدیل ہو گئی۔ پھر کچھ عرصے یہ ہنسی چلی۔ بالآ خر خدا خدا کر کے یہ کفر ٹوٹا۔
اس کافر ادا نے آ ج اپنی ہنسی کے ساتھ آ واز سنائی۔ جو کچھ کہا خوب کہا لیکن اتنا کہنے کیلئے اتنی دیر کیوں کی۔ اتنا کچھ تو وہ پہلے دن بھی کہہ سکتی تھی۔ اگر وہ پہلے ہی دن یہ سب کچھ کہہ دیتی تو وہ اس کے دماغ میں رجسٹر کس طرح ہوتی۔ اس نے بوند بوند برسنا شروع کیا اور اس کے لوح دل پرنقش ہوتی چلی گئی۔
وہ جو کوئی بھی تھی بڑی ذہین تھی بڑی منصو بہ سازتھی۔ دہ دھیرے دھیرے کھل رہی تھی۔ وہ کیا چاہتی تھی۔ وہ ایسا کیوں کر رہی تھی اس کے بارے میں ساحل عمر کچھ نہیں جانتا تھا اور اسے جاننے کی اتنی فکر بھی نہ تھی وہ ایک بے نیاز سا نوجوان تھا۔ اپنے کام سے کام رکھنے والا۔
اپنی انگلیوں کے درمیان پھنسا برش نکال کر وہ ٹیلی فون کے پاس سے اٹھ آیا اور بورڈ پر لگی تصویر کے سامنے بیٹھ کر اس نے رنگ کی پیالی اٹھائی۔ برش میں ہلکا سا رنگ لگایا اور اس لڑکی کے ہونٹوں کو پینٹ کرنے لگا۔
ساحل عمر کوئی معمولی پینٹر نہ تھا وہ ایک غیر معمولی آرٹسٹ تھا اور اپنی انوکھی پینٹنگز کی وجہ سے مشہور تھا۔ ابھی اس کی عمر ہی کیا تھی ۔ ستائیس اٹھائیس سال کا ہو گا لیکن اس کم عمری میں اس نے وہ شہرت پائی تھی جو ایک آ رٹست پختہ عمر میں پہنچنے کے بعد حاصل کرتا ہے۔ وہ ایک زبردست تخلیق کار تھا۔ اسے تصویریں بنانے کا جنون تھا۔ وہ ریئلزم کا قائل تھا اور ریئلزم بھی فینٹسی کی آمیزش کے ساتھ۔
حقیقت اور تصور کو وہ اپنی تصویروں میں کچھ اس انداز سے برتتا تھا کہ تصویر دیکھنے والا اس کی تصویر میں گم ہو کر رہ جاتا تھا۔ اسکی تصویروں میں کوئی اسرار کوئی چونکا دینے والی بات ضرور ہوتی تھی۔
یہ تصویر اس وقت جس پر وہ کام کر رہا تھا ایک خوبصورت لڑ کی کا پورٹریٹ تھا۔ لڑکی دلہنوں والے کپڑے پہنے ہوۓ تھی۔ زیورات سے لدی پھندی تھی۔
خوبصورت آنکھوں والی۔ اس کی آنکھیں پوری کھلی ہوئی تھیں اور ہلکی سی اوپر اٹھی ہوئی تھیں۔ جیسے اپنی پیشانی کی طرف دیکھ رہی ہو۔
اس کی پیشانی پر ٹیکہ نہ تھ۔ ٹیکے کی جگہ ایک بچھو بیٹھا ہوا تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ بچھو اس کے
بالوں سے رینگتا ہوا اس کی پیشانی پر ٹھہر گیا ہو اس کا ٹیکہ بن گیا ہو۔ یوں تو پوری تصویر میں ہی بڑی جان تھی لیکن اس بچھو کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے اب چلا تب چلا ۔ کام کرتے کرتے وہ ذرا سا پیچے ہٹ کر بیٹھا تا کہ تھوڑے فاصلے سے اس کے ہونٹ دیکھ سکے کہ اتنے میں ایک مرتبہ پھر ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ ساحل عمر نے فورا گھڑی پر نظر ڈالی۔ پونے بارہ ہوئے تھے رات کے اس پہر کس کو اس سے بات کرنے کی ضرورت پڑ گئی۔ یہ سوچتا ہوا وہ ٹیلی فون کے پاس پہنچا۔
ریسیور اٹھا کر اس نے “جی‘‘ کہا
اس کی نظریں تصویر پر تھیں۔
”ہاں شہزادے کیا ہو رہا ہے؟‘‘ ادھر سے کسی نے دوستانہ لہجے میں کہا۔
“اچھا تو یہ تم ہو۔‘‘ ساحل عمر نے اپنے دوست مسعود آفاقی کی آواز پہچان کر کہا۔
’’کہاں سے بول رہے ہو ۔‘‘
“یار گھر سے بات کر رہا ہوں۔ ابھی ابھی ایک سیشن سے فارغ ہوا ہوں ۔‘‘ اس نے بتایا۔
“بھائی تمہارا کوئی بھروسہ تھوڑا ہی ہے۔ تم جہاز سے بھی بول سکتے ہو۔ ویسے بھی جہاز پرتم اس طرح سفر کر تے ہو جیسے کوئی غریب آ دمی موٹر سائیکل پر سفر کرے۔ آج اسلام آ باد تو کل لاہور۔ کبھی لندن تو کبھی پیرس۔‘‘ ساحل عمر نے خوشد لی سے کہا۔
“کام ہی ایسا ہے۔ کیا کروں‘‘ وہ بولا۔
“خیر تو خیر جو ہے وہ ہے ویسے تمہیں اڑنے کا کچھ زیادہ ہی شوق ہے۔ تم ایک جہاز کیوں نہیں خرید لیتے ۔‘‘ ساحل عمر نے مشورہ دیا۔
“اچھا یار اب مجھے معاف کر دے۔ دیکھ میں تیرے سامنے دونوں ہاتھ جوڑ رہا ہوں۔ مسعود آفاقی نے واقعی ریسیور اپنی گردن میں دبا کر دونوں ہاتھ جوڑے۔ ساحل عمر کو ہلکی سی تالی کی آواز آئی۔
“اچھا یہ بتاؤ کون تھی ؟‘‘ ساحل عمر نے موضوع بدلا ۔
”کیا مطلب کون تھی؟‘‘ مسعود آ فاقی کو ساحل عمر کا سوال سمجھ میں نہ آیا۔
او بھائی جس کے سیشن سے تم ابھی فارغ ہوئے ہو۔ اس کی بات کر رہا ہوں ۔‘‘
“ٹی وی کی ایک آرٹسٹ تھی یار۔”
تم لوگوں کے بڑے مزے ہیں. روز ایک نئی لڑکی ۔‘‘ ساحل عمر یہ کہ کر زور سے ہنسا
“ارے۔ شہرادے میں نے کوئی حرم نہیں کھولا ہوا ہے اور نہ ہی کسی ملک کا شہنشاہ ہوں۔ ایک چھوٹا سا فوٹو گرافر ہوں اور یہ لڑکیاں میرے پیشے کا حصہ ہیں۔
’’جانتا ہوں۔‘‘ ساحل عمر بڑے سکون سے بولا۔
“جانتے ہوتو یہ بتاؤ پینٹنگ کا کیا بنا؟‘‘ مسعود آفاقی نے پوچھا۔
“اسی پر کام کر رہا ہوں۔‘‘
“تم تو کہہ رہے تھے کہ آج رات تم مکمل کر لو گے؟‘‘ مسعود کے لہجے میں پریشانی تھی۔
“تو میں نے یہ کب کہا ہے کہ کام پورا نہیں ہو گا۔‘‘ ساحل عمر نے اطمینان سے کہا۔ “تمہارے لہجے سے اندازہ ہوا۔ ویسے یار آج تم اس پینٹنگ کو ضرور مکمل کر لینا۔ کل میں فاروقی صاحب کو لے کر آؤں گا۔ اصل میں کچھ در پہلے ان کا فون آیا تھا۔ وہ تصویر کے بارے میں معلوم کر رہے تھے۔ بھئی وہ بہت بے چین ہیں۔
“تصویر تو تم مکمل سمجھو لاسٹ ٹچز لگا رہا ہوں لیکن میں ابھی یہ تصویر دوں گا نہیں انہیں۔”
“آخر کیوں؟ ‘‘ مسعود آ فاتی حیران ہو کر بولا۔
“تم کل فاروقی صاحب کو لے آنا وہ تصویر دیکھ جائیں گے۔ انہیں تسلی ہو جاۓ گی لیکن انہیں لے جانے نہیں دوں گا۔”
”شنراد ے اس بکواس کا مطلب کیا ہے؟‘‘
“یہ تصویر کچھ زیادہ اچھی بن گئی ہے۔ دو چار دن اسے اپنی نظروں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔” ساحل عمر نے سادگی سے کہا۔
“تو نہیں سدھرے گا بھائی اصل میں تو وہ اونٹ ہے جس کی کوئی کل سیدھی نہیں نہ تیرے بارے میں یہ پتا ہے کہ کس کروٹ بیٹھے گا۔‘‘ مسعود آفاتی نے غصے سے کہا۔ “اس سے کہیں بہتر بات یہ ہے کہ میں انہیں پینٹنگ مکمل نہ ہونے کے سلسلے میں کوئی بہانہ کر دوں۔
“اچھا بھئی کل تم ان کو لے کر آ جانا اور تصویر لے جانا . اب تو خوش ہو۔‘‘
“ہاں شہرادے یہ ہوئی نہ بات. او کے پھر کل ملاقات ہو گی ۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے ٹیلیفون بند کر دیا۔
ساحل عمر نے ریسیور ٹیلی فون پر آ ہستگی سے جمایا اور وہیں بیٹھا بیٹھا تصویر کو دیکھنے لگا۔ وہ تصویر کو بڑی باریک بینی سے دیکھ رہا تھا ایک دم اس کی بچھو پر نظر ٹھہر گئی۔ ایک لمحے کو اسے ایسا محسوس ہوا جیسے بچھو میں حرکت پیدا ہوئی ہو اس نے اپنی اگلی دو ٹانگیں ہلائی ہوں۔ بچھو کو ہلتے دیکھ کر ایک دم اس کے جسم میں سنسنی سی پھیلی۔ آنکھوں میں خوف جاگا۔ وہ لاشعوری طور پر پیچے ہٹا مگر بچھو اپنی جگہ پر ساکت تھا۔ اس کی حرکت کا احساس بس ایک لمحے کا تھا۔ ساحل عمر طے نہ کر پایا کہ وہ بچھو واقعی حرکت میں آیا تھا یا محض فریب نظر تھا۔
قریب آ کر اس نے بغور بچھو کو دیکھا۔ وہ اپنی جگہ سے بال برابر بھی ادھر ادھر نہیں ہوا تھا۔ بچھو کے حرکت میں آنے والے خیال پر اسے ہنسی آئی۔ اسے یقین آ گیا کہ بچھو کو حرکت کر تے د یکھنا سو فیصد فریب نظر تھا۔ ویسے اپنے اس خیال پر وہ خوش تھا۔ وہ خود ہی اپنی تخلیق کے فریب میں آ گیا تھا۔ اس کی تصویر میں جان پڑ گئی تھی۔ یہ بات اس کے فن کی کامیابی کی دلیل تھی۔ اپنی تخلیق کے نشے میں مست وہ رات کے دو بجے تک کام میں لگا رہا۔ جب تصور ہر طرح سے مکمل ہو گئی تو اس پر ایک سرشاری سی چھا گئی۔ تخلیق کی تکمیل کا کیف بالکل ہی الگ ہوتا ہے اس کیف کو اس مزے کو اس لطف کو صرف وہی لوگ جانتے ہیں جو تخلیقی کام کر تے ہیں۔ وہ آ سودگی سے مسکرا رہا تھا اور نظر بھر بھر کر اپنے شاہکار کو دیکھ رہا تھا۔
”ساحل تم ابھی تک سوئے نہیں۔‘‘ اماں اچانک دروازے پر آ کھڑی ہوئیں۔
“اماں بس کام ختم ہو گیا. سونے جا رہا ہوں۔‘‘ ساحل عمر اماں سے مخاطب ہو کر بولا.
“اماں ذرا اندر آؤ تمہیں ایک زبردست دلہن دکھاؤں۔‘‘
“ہیں دلہن ۔‘‘ اماں کے چہرے پر ایک دم خوشی آ گئی۔
’’میں ابھی آتی ہوں ذرا چشمہ لے آؤں۔” وہ تیز تیز قدموں سے چلتی ہوئی اپنے کمرے میں پہنچیں۔ تکیئے کے برابر رکھا ہوا چشمہ اٹھایا اور دو پٹے سے صاف کرتی ہوئیں وہ ساحل عمر کے اسٹوڈیو میں داخل ہوئیں۔
ساحل عمر نے جس کمرے کو اپنا اسٹوڈیو بنا رکھا تھا اس کمرے میں وہ کبھی داخل نہ ہوئی تھیں۔ ساحل عمر اسٹوڈیو میں نہ ہوتا تو وہ کمرہ لاک رہتا اور اگر وہ کمرے میں بیٹھا کام کر رہا ہوتا تو اماں دروازے پر کھڑے ہو کر ہی اس سے بات کر لیتیں ۔ دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا۔ دروازے سے وہ تصویر نظر نہیں آتی تھی۔ جس پر ساحل عمر کام کر رہا ہوتا۔ ساحل عمر درواز ے کے رخ بیٹھتا تھا۔ تصویر کی پشت دروازے کی طرف ہوتی ۔ اماں کی ان تصویروں سے کوئی دلچسپی نہ تھی ۔ رات کو جب بھی انکی آنکھ کھلتی اور وہ ساحل عمر کو اسٹوڈیو میں کام کرتا دیکھ لیتیں تو دروازے پر کھڑے ہو کر اسے ٹوک ضرور دیتی تھیں۔ حالانکہ وہ یہ بات اچھی طرح جانتی تھیں کہ وہ ان کی بات کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دے گا۔ وہ اپنا کام کئے بغیر ہرگز نہ اٹھے گا پر دونوں اپنی اپنی عادت سےمجبور تھے۔
ساحل عمر بچپن سے ہی انہیں اماں کہتا تھا۔ وہ اس کی ماں نہ تھیں۔ اس گھر کی ملازمہ تھی اس کی آیا تھیں ۔ وہ ان کی گود میں پل کر ہی جوان ہوا تھا۔ ساحل عمر نے انہیں کبھی ملازمہ نہ سمجھا تھا وہ انہیں اپنی ماں جیسی مانتا تھا۔ اس وقت جب اس کے ماں باپ زندہ تھے اسے ماں جیسی عزت دیتا تھا اور اب جب اسکے ماں باپ اس دنیا میں نہ رہے تھے تو وہی اسکے لیئے ماں تھی اور وہی باپ
ساحل عمر کبھی کبھی جب ان کے کمرے میں آ کر بیٹھ جاتا تو وہ اس کے خوبصورت بالوں میں انگلیاں پھیر کر اس سے سوال کرتیں۔
“ساحل بیٹا تم شادی کب کرو گے؟‘‘
“اماں اس لئے تو میں آپ کے کمرے میں آ تا نہیں ہوں۔ آپ خراب خراب با تیں کرنا شروع کر دیتی ہیں۔‘‘ ساحل عمر انہیں ترچھی نظروں سے دیکھ کر کہتا۔
“بیٹا. میرے پاؤں قبر میں لٹک رہے ہیں. پتہ نہیں کب آ نکھیں بند ہو جائیں ساحل میں چاہتی ہوں کہ اس گھر میں دلہن آ جاۓ تو میں سکون سے مر جاؤں۔” اماں اپنی سناتیں۔
“اسی لئے تو میں شادی نہیں کرتا۔‘‘ وہ ہنس کر کہتا۔
”کیوں آ خر؟‘‘
“میں نے شادی کر لی تو تم چل بسو گی اور میں یہ چاہتا نہیں۔‘‘ وہ مسکرا کر اماں کی طرف دیکھتا
رات کے دو بجے جب ساحل نے دلہن دکھانے کی بات کی تو وہ نہ جانے کیا سمجھیں خوشی خوشی چہرے پر عینک چڑھائے اس کے اسٹوڈیو میں داخل ہوئیں اور ہولیں۔
’لاؤ دکھاؤ دلہن۔‘
“ادھر میرے پاس آ جائیں۔‘ ساحل عمر نے اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا۔
جب وہ اس کے نزدیک پہنچ گئیں تو اس نے بورڈ پر لگی تصویر کی طرف اشارہ کیا۔’’ یہ دیکھیں۔‘‘
تصویر دیکھ کر بے اختیار ان کے منہ سے نکلا ۔ ’’ارے ماشاء اللہ. بہت خوب. بڑی پیاری ہے”
اور جیسے ہی ان کی نظر بچھو پر پڑی۔ وہ خوفزدہ ہو کر دو قدم پیچھے ہٹ گئیں ۔ “اس بچھو کو مارو”
یہ سن کر ساحل عمر نے قہقہہ لگایا۔
“ارے ساحل تم ہنس رہے ہو. جلدی کرو مارو اسے . بھیا میں تو چلوں یہاں سے ۔ کہیں یہ موا میرے اوپر نہ چھلانگ لگا دے۔‘‘ اماں تصور سے دور ہو کر دروازے کی طرف بھاگیں۔
ساحل عمر نے بھاگتی اماں کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولا ۔’’اماں سنوتو۔‘‘
“اس بچھو کو مارو۔‘‘ وہ خوفزدہ تھیں ۔
“اماں یہ بچھو نہیں ہے۔‘‘ ساحل عمر نے انہیں یقین دلانے کی کوشش کی۔
“یہ بچھو نہیں ہے تو پھر کیا ہے۔ میں نے چشمہ لگا رکھا ہے۔ مجھے سب دکھائی دے رہا”
“اچھا ایک منٹ ادھر ہی کھڑی رہو. میں اسے مارتا ہوں۔‘‘ ساحل عمر یہ کہہ کر اٹھا اور اوس نے تصویر کے نزدیک جا کر بچھو پر ہاتھ رکھ دیا۔
اماں ’’نہیں نہیں‘‘ کرتی رہ گئیں۔ پھر وہ بھاگ کر ساحل عمر کی جانب لپکیں۔ جب وہ نزدیک پہنچیں تو ساحل عمر نے تصویر سے اپنا ہاتھ ہٹا لیا۔ بچھو اپنی جگہ جوں کا توں موجود تھا۔ تب ان پر حقیقت آشکار ہوئی۔ وہ بڑی حیرت سے اس بچھو کو دیکھنے لگیں۔
نقلی ہے۔ ہاتھ سے بنا ہوا؟‘‘ وہ بے یقینی سے بولیں۔
“جی اماں. اسے میں نے بنایا ہے۔‘‘ ساحل عمر نے خوش ہو کر کہا۔
“ارے اتنا زبردست بنایا ہے ۔ بالکل اصل لگتا ہے۔ میں تو اسے دیکھ کر ڈر ہی گئی تھی۔‘‘ اماں نے اسے خراج تحسین پیش کیا۔
بس یہی تو خوبی تھی اس میں. لوگ اس لئے اس کے دیوانے تھے ۔ وہ خیال کو مجسم کرتا اور پھر اس جسم میں جیسے جان ڈال دیتا تھا۔ وہ سچا تخلیق کار تھا۔ انوکھا مصور تھا۔
نثار فاروقی ایک فضائی کمپنی کے ڈائر یکٹر تھے۔ وہ ساحل عمر کے زبر دست فین تھے۔ وہ کافی عرصے سے اس کی کوئی پینٹنگ خریدنے کے خواہاں تھے۔ وہ جب بھی کسی پینٹنگ کے خریدنے کی بات کرتے تو معلوم ہوتا کہ وہ تو پہلے ہی فروخت ہو چکی ہے۔ ساحل عمر بہت کم پینٹنگز بناتا تھا۔ اس کا موڈ نہ ہوتا تو مہینوں کوئی پینٹنگ نہ بنا تا۔ پینٹنگ بنانا اس کا پیشہ نہ تھا۔ اسکے پاس اللہ کا دیا بہت کچھ تھا۔ اس کا باپ اتنا کچھ چھوڑ گیا تھا کہ اس رقم کوفکسڈ ڈپازٹ میں رکھ کر وہ ایک شاندار زندگی بسر کر سکتا تھا لیکن اسے شاندار زندگی بسر کرنے کی کوئی خواہش نہ تھی۔ وہ ایک عام اور سادہ سی زندگی گزارنے کا خواہاں تھا۔ پیسے کو وہ بالکل منہ نہ لگا تا تھا۔ پیسہ اس کی ضرورت تو تھا لیکن دین دھرم نہ تھا۔ جوتصویر وہ بناتا تھا وہ اپنے شوق کی تکمیل کے لئے بناتا تھا۔ فروخت کر نے کے لیے نہیں لیکن لوگ اس کی پینٹنگ چھوڑ تے ہی نہ تھے ۔ ہزار خوشامدیں کر کے اور منہ مانگے پیسے دے کر پینٹنگ اٹھا کر لے جاتے تھے۔
نثار فاروقی بھی اس کی کوئی تصویر حاصل کرنے کے لیے بے چین تھے۔ اس کے لیے انہوں نے مسعود آفاتی کو پکڑا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ مسعود ساحل عمر کا گہرا دوست ہے ۔ مسعود نے ساحل سے بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ وہ اب جو پینٹنگ بنائے گا وہ نثار فاروقی کے حوالے کی جاۓ گی۔ دوست کی بات ٹالنا ساحل عمر کی فطرت میں نہ تھا۔ پھر دوست بھی مسعود آفاقی جو اس پر جان دیتا تھا۔ ساحل عمر یوں تو خاصا سوشل تھا۔ جان پہچان والوں کا ایک وسیع حلقہ رکھتا تھا لیکن اسکے دوستوں کا حلقہ بہت محدود تھا۔ بس اس کے دو ہی دوست تھے ایک مسعود آفاقی اور دوسرے ناصر مرزا
ناصر مرزا ایک چھوٹی سی فرم کے مالک تھے ۔ وہ ریڈی میڈ گارمنٹس کا کاروبار کر تے تھے۔ شکار ان کا شوق تھا۔ یہ شوق انہیں اپنے والد عرفان مرزا سے ورثے میں ملا تھا۔
مضبوط کاٹھی کے آدمی تھے۔ کسرتی جسم کے مالک۔ قد آور جو انہیں ایک مرتبہ دیکھتا ان کی شخصیت سے مرعوب ہوۓ بنا نہ رہتا۔ چالیس سے اوپر عمر ہو گی لیکن اپنی اصل عمر سے کم دکھائی دیتے تھے۔ شکار کے علاوہ روحانیت میں خاص شغف رکھتے تھے اور کچھ درک بھی تھا۔
یہ تینوں دوست ہفتے میں ایک بار ضرور اکٹھا ہوتے تھے۔ اگر فلم دیکھنے کا موڈ ہوتا تو مسعود آفاقی کے گھر میں ڈیرہ جمایا جاتا۔ تاش کھیلنے اور کھانے پینے کا پروگرام ہوتا تو اس کے لئے ناصر مرزا کا گھر مخصوص تھا۔ اگر موسیقی سننا ہوتی میوزک اور آرٹ پر گفتگو کرنا ہوتی نئی کتابوں پر تجرے اور نت نئے موضوعات پر بات کرنا ہوتی تو اس کے لئے ساحل عمر کا گھر حاضر تھا۔ کبھی یہ بھی ہوتا کہ کسی کے گھر نہ جاتے آؤٹنگ پر نکل جاتے۔ مندر تینوں کو پسند تھا۔ عام طور سے وہ سمندر کا ہی رخ کرتے یا پھر کسی ہوٹل میں بیٹھ جاتے۔ تینوں کی عمروں میں اگرچہ فرق تھا لیکن ذہنی ہم آ ہنگی اتنی تھی کہ بعض اوقات بولے بغیر ہی وہ ایک دوسرے کی بات سمجھ جایا کرتے تھے۔ کسی کو اپنی عمر کا احساس نہ تھا۔ ساحل کو چھوٹے ہونے کا اور ناصر مرزا کو بڑے ہونے کا۔
صبح کو مسعود جب نثار فاروقی کے ساتھ ساحل کے گھر پہنچا تو وہ شہزادے تکیے میں منہ دیئے سو ر ہے تھے۔ نثار فاروقی کو مسعود نے ڈرائنگ روم میں بٹھایا اور خود اس کے بیڈروم میں گھس گیا۔ اماں سے معلوم ہوا تھا کہ وہ رات کو کافی دیر سے سویا ہے لیکن اتنی دیر سے بھی نہ سویا تھا کہ اٹھ نہ سکے۔
مسعود نے اماں کو چاۓ بنانے کو کہہ دیا تھا۔ پھر اس نے ڈیک میں ایک کیسٹ لگا کر اسے پوری آواز میں کھول دیا اور خود اپنے دونوں کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر اس کے سرہانے کھڑا ہو گیا۔
ڈیک کی آواز نے ساحل کے اعصاب جنجھنا دیئے ۔ وہ ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھا۔ جب اس نے مسعود کو کانوں میں انگلیاں ٹھو نسے اپنے سامنے کھڑا دیکھا تو اس کے منہ پر تکیہ کھینچ کر مارا اور جلدی سے ڈیک آف کر دیا۔ اس سے پہلے کہ ساحل کچھ بولتا مسعود گویا ہوا۔
“شہزادے تمہیں شرم نہیں آتی لوگوں کو دعوت دے کر خود سوۓ پڑے ہو؟”
“فاروقی صاحب آ گئے ہیں کیا؟‘‘ ساحل عمر نے پوچھا۔
“جی ۔‘‘ مسعود آفاقی نے اسے تیکھی نظروں سے دیکھا۔
ڈرائنگ روم میں بٹھا آیا ہوں اور ماں کو چائے بنانے کو کہہ دیا ہے۔ اب آپ براہ کرم منہ ہاتھ دھو کر جلدی سے ڈرائنگ روم میں آ جائیں۔”
“چلو ٹھیک ہے۔ تم جب تک ان سے گپ شپ لگاؤ میں پانچ منٹ میں آیا۔‘‘
اس نے تیار ہونے میں واقعی پانچ منٹ سے زیادہ نہ لگائے ۔ وہ ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تو اس کے ہاتھ میں ٹرے تھی جس میں چائے کے تین کپ رکھے تھے۔ نثار فاروقی نے اسے ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے دیکھا تو احتراماً اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔
ساحل عمر نے جلدی سے ٹرے میز پر رکھی۔ آگے بڑھ کر بڑے تپاک سے ہاتھ ملایا اور خوشدلی سے بولا “سر تشریف رکھیئے”
پھر اس نے ان کے سامنے چائے کی پیالی رکھی۔ مسعود نے اپنا کپ خود ہی اٹھالیا۔
“تصویر کا کیا بنا؟‘‘ فاروقی نے بڑی بے تابی سے پوچھا۔
“بن گئی۔‘‘ ساحل عمر نے مختصراً جواب دیا۔
“واہ کیا خبر سنائی پھر دکھائیں نا۔‘‘ فاروقی صاحب کپ میز پر رکھ کر کھڑے ہو گئے۔
فاروقی صاحب ایسی بھی کیا بے صبری ۔۔ چاۓ تو پی لیں ۔ اب تصور کہیں نہیں جاتی “
مسعود نے ہنستے ہوۓ کہا۔
لیکن انہیں کہاں صبر تھا۔ دو لمبے گھونٹوں میں انہوں نے اپنی چاۓ ختم کر دی اور صوفے پر بیٹھے لگے پہلو بدلنے۔
ساحل عمر ان کی بے قراری دیکھ کر جلد ہی اٹھ گیا اور انہیں اپنے پیچھے آنے کا مشورہ دیا
نثار فاروقی نے تصویر دیکھی تو حال سے بے حال ہو گئے۔ کئی بار ساحل عمر کا ہاتھ چوما اور وہیں بیٹھے بیٹھے ایک بھاری رقم کا چیک لکھ دیا۔
چیک کاٹ کر انہوں نے بڑے ادب سے ساحل عمر کو پیش کیا اور بولے ۔ ’’اسے اپنی تخلیق کا معاوضہ نہ سمجھنا۔ یہ تصور انمول ہے۔ اس چیک کو ایک حقیر سا نزرانہ سمجھنا”
ساحل عمر نے شکریہ کہہ کر ان کے ہاتھوں سے چیک اٹھا لیا اور بغیر دیکھے تہہ کر کے اپنی جیب میں ڈال لیا۔ پھر اس نے تصویر پیک کر کے ان کے حوالے کر دی اور وہ دونوں تصویر لے کر چلے گئے۔
باہر کا گیٹ بند کر کے پلٹا تو اماں کو دروازے پر کھڑے پایا۔
’’اماں کیا ہوا ؟‘‘ اس نے دور ہی سے پوچھا۔
اماں نے بجائے جواب دینے کے کان پر ہاتھ رکھا۔
ا”چھا ۔‘‘ کہتا ہوا تیزی سے بھاگتا ہوا اماں کے نزدیک آ گیا اور بولا’’ کس کا فون ہے؟“
“کوئی لڑکی ہے۔‘‘ اماں نے بتایا۔
لڑکی کا نام سن کر اس نے اپنی گھڑی پر نظر ڈالی۔ گھڑی میں گیارہ بج کر چھ منٹ ہو ر ہے تھے۔ ایک مخصوص وقت تھا لیکن یہ دن کا وقت تھا اور دن میں اس کا کبھی فون نہ آیا تھا۔ وہ سوچتا ہوا اپنے اسٹوڈیو کی طرف بڑھا۔
’’ہائے رانجھن کہاں تھے؟‘‘ ادھر سے مترنم ہنسی کے ساتھ کھنکتی ہوئی آواز سنائی دی۔
”دوستوں کو چھوڑ نے باہر تک گیا تھا؟‘‘ اس نے بتایا۔
“ہم کون ہیں آپ کے؟‘‘ سوال ہوا۔
“اب سے بارہ گھنٹے پہلے میری آپ سے پہلی مرتبہ بات ہوئی تھی۔ اتنی جلدی کوئی رائے قائم کر سکتا ہے۔ میں تو آپ کے نام تک سے واقف نہیں شخصیت تو دور کی بات ہے۔” اس نے صاف گوئی سے کہا۔
“کسی کو جاننے کے لئے ایک لمحہ بھی کافی ہوتا ہے۔” وہ معنی خیز انداز میں بولی۔
اتنا سمجھ دارنہیں ہوں میں۔‘‘ ساحل عمر نے ہنس کر کہا۔
“اچھا میرے ناسمجھ رانجھن میری ایک بات سنو ۔‘‘
’’ہاں کہو ۔‘‘ میں نے کوریئر سے تمہارے لئے کچھ بھیجا ہے اسے قبول کرو پھر میں رات کو اپنے وقت پر تم سے بات کروں گی۔اچھا او کے ۔‘‘
اس نے ساحل عمر کا جواب بھی نہ سنا اور فون بند کر دیا۔ ساحل عمر ریسیور پکڑے کافی دیر سوچتا رہا کہ اس نے کیا بھیجا ہو گا لیکن اندازہ نہ کر ریسیور رکھ کر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ اماں اس وقت کچن میں تھیں ۔ وہ دو پہر کا کھانا تیار کر رہی تھیں ساحل عمر نے اماں کی مدد کے لئے ایک ملازمہ رکھی ہوئی تھی جو صبح سے رات تک اماں کے ساتھ ہوتی تھی۔ سارے کام وہی کرتی تھی لیکن ساحل عمر کے لئے کھانا وہ خود تیار کرتی تھیں۔ کچن میں جا کر اس نے اماں سے دو چار ادھر ادھر کی باتیں کیں۔ پھر وہ اپنے بیڈ روم میں آ گیا اور میوزک سننے لگا۔
کوئی ساڑھے بارہ بجے کے قریب گھر کی بیل ہوئی تو وہ باہر گیا۔ گیٹ پر کورئیر کا ایک باوردی بندہ کھڑا تھا اور اس کے ہاتھ میں ایک خوبصورت گفٹ پیک تھا۔
“سر آپ کے لئے ۔‘‘ وہ ادب سے بولا۔
گفٹ پیک ریسیو کر کے وہ اندر آیا ڈائٹنگ ٹیبیل پر بیٹھ کر اس نے بڑے اطمینان سے پکیٹ کو کھولا اندر سے جو کچھ نکلا وہ اسے حیران کرنے کے لیے کافی تھا۔ تحفے کو دیکھ کر اسے یاد آیا کہ آج اس کی سالگرہ ہے۔
اس نے سالگرہ کا ایک خوبصورت کارڈ اور بڑاحسین سا کیک بھیجا تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اتنی ذاتی تاریخ اس لڑکی نے کس طرح معلوم کر لی۔ اس نے سالگرہ منانے کا سلسلہ کئی سال سے بند کر رکھا تھا۔ ممی پاپا کے انتقال کے بعد وہ اپنی سالگرہ کا دن جیسے بھول ہی گیا تھا۔ والدین کی موت کے بعد سالگرہ منانے کو اس کا جی نہ چاہا لیکن آ ج اس لڑکی نے کیک اور کارڈ بھیج کر اسکی یادوں کے بند دریچوں کو کھول دیا تھا۔ اماں جو بڑی خاموشی سے یہ سب دکھ رہی تھیں۔ انہوں نے قریب آ کر ایک پلیٹ اور اس میں چمکتی چھری رکھ دی اور کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئیں۔
چند لمحے وہ خاموشی سے ساحل عمر کو دیکھتی رہیں۔ اس نے بھی ایک نظر اٹھا کر انہیں دیکھا۔ دونوں کی آنکھوں میں نمی آ گئی تھی۔
پھر اماں دھیرے سے مسکرائیں اور بولیں ۔’’کیک کاٹو بیٹا، تمہیں سالگرہ مبارک ہو۔‘‘
“اچھا اماں۔‘‘ ساحل عمر نے چھری اٹھا کر کیک کاٹا ایک چھوٹا سا پیس نکال کر اس نے اپنے ہاتھ سے اماں کو کھلایا۔ اماں نے بھی اسے اپنے ہاتھ سے کیک کھلایا اور ڈھیروں دعائیں دیں۔
ساحل عمر کو اچانک یہ احساس ہوا کہ اس کی ممی پاپا اس کے سامنے کھڑے مسکرا رہے ہیں
اماں چائے بنانے کچن میں گئیں۔ اتنے میں ٹیلیفون کی گھنٹی بجی۔ ساحل عمر بوجھل قدموں سے ٹیلیفون کی طرف بڑھا۔ ریسیور اٹھا کر اس نے کہا۔’’ جی”
“یار ساحل. ایک گڑ بڑ ہو گئی ہے۔‘‘ ادھر مسعود آفاقی تھا۔
’’کیا ہوا؟‘‘ ساحل نے پوچھا۔ ابھی فاروقی صاحب کا فون آیا تھا۔‘‘ مسعود آفاقی نے بتایا ۔
’’یارتم نے کس قسم کی تصویر بنا کر ان کے حوالے کر دی۔ ان کے تو ہوش اڑ ے ہوۓ ہیں۔‘‘
’’آخر ہوا کیا؟ کچھ بولو تو ۔.‘‘ ساحل عمر پریشان ہو کر بولا ۔
جواب میں مسعود آفاتی نے جو کچھ بتایا. اس پر کوئی ذی ہوش یقین نہیں کر سکتا تھا۔ خود ساحل عمر سناٹے میں آ گیا تھا۔
’’ایسے کیسے ہوسکتا ہے یار۔”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: