Anwar Aleegi Urdu Novels

Bichoo Novel By Anwar Aligi – Episode 10

Bichoo Novel By Anwar Aligi
Written by Peerzada M Mohin
بچھو از انوار علیگی – قسط نمبر 10

–**–**–

اس وقت وہ اس عملیات والے کمرے میں تھیں۔ اس کمرے میں صرف ایک موم بتی جل رہی تھی۔ وہ لڑ کی اب مکمل طور پر بے ہوش ہو چکی تھی۔ وہ فرش پر لیٹی تھی۔سوناں کے ہاتھ میں ایک چمکتا ہوا نیا بلیڈ تھا۔ اس نے لڑکی کی کلائی میں بلیڈ سے ایک چیرا لگایا۔ فورا ہی سرخ سرخ خون ابل کر باہر آیا اور کلائی سے بہ کر نیچے گرنے لگا۔ سوناں نے اس کے ہاتھ کو ایک بڑے چینی کے سفید پیالے پر رکھ دیا۔ خون لپک کر پیالے میں بھرنے لگا۔
چوتھائی پیالہ بھرنے پر اس نے وہ پیالہ اٹھا کر برکھا کے سامنے رکھ دیا۔برکھا آلتی پالتی مارے آسن جماۓ بیٹھی تھی۔ اس نے آنکھیں بند کر رکھی تھیں اور شیطان کا کلمہ پڑھ رہی تھی۔ سوناں نے کچھ بولے بغیر اسے آہستہ سے چھوا۔ اس نے فورا آ نکھیں کھول دیں۔ اپنے سامنے پیالہ دیکھ کر اس نے اپنا انگوٹھا خون میں ڈبویا اور اپنی زبان باہر نکال کر چند قطرے خون ٹپکایا اور زبان اندر کر کے خون کا ذائقہ چکھا۔ پھر چٹخارے لیتی ہوئی سوناں کو بڑی تعریفی نگاہوں سے دیکھا۔
’’واہ سوناں تیرا جواب نہیں۔‘‘
’’میں آپ کی داسی ہوں برکھا دیوی ! آپ کی خدمت کر کے مجھے خوشی ہوتی ہے۔” سوناں نے دونوں ہاتھ جوڑ کر عقیدت سے اس کے سامنے سر جھکایا۔
برکھا نے وہ پیالہ اٹھا کر اپنے سر پر الٹ لیا اور بیٹھے بیٹھے سرشاری سے جھومنے گی۔
پیالہ خالی ہوتے ہی سوناں نے اٹھالیا اور اس لڑکی کے جسم کے مختلف حصوں پر کٹ مار کر اس پیالے کو بھرنے لگی۔
خون میں بھیگی برکھا موم بتی کی روشنی میں بڑی عجیب لگ رہی تھی۔ وہ مسلسل ہل ری تھی اور ناقابل فہم الفاظ کا ورد کر رہی تھی۔ کمرے میں پہلے ہی کیا کم بو تھی لیکن اب یہ بو ناقابل برداشت ہوتی جا رہی تھی۔
یہ بو اس قدر اذیت ناک تھی کہ کوئی حساس انسان اس کو سونگھ لیتا تو فورا بے ہوش ہو جاتا لیکن ان دونوں پر اس بدبو کا کوئی اثر نہ تھا۔
جھومتے جھومتے جو اچانک برکھا نے اپنا سر اٹھایا تو ایک لمحے کوسوناں بھی کانپ اٹھی۔ کمرہ ویسے ہی تقریبا تاریک تھا۔ ایک موم بتی کی روشنی بھلا کتنا اندھیرا دور کرسکتی تھی۔ اس اندھیرے میں جب ایک فٹ لمی زبان منہ سے باہر آ جاۓ اور آ نکھوں میں خونخوار چمک پیدا ہو جاۓ۔ رنگ ایک دم سیاہ ہو جاۓ تو سامنے بیٹھنے والا انسان آخر کانپے گا نہیں تو کیا کرے گا۔
” لا..!‘‘ برکھا نے اپنی زبان کو لپلپاتے ہوۓ بڑے وحشت ناک انداز میں کہا۔
سوناں اس پیالے کو خون سے لبالب بھر چکی تھی۔ برکھا کے سامنے رکھ دیا۔ برکھا نے بڑی بے قراری سے اپنے دونوں ہاتھوں پر جھک کر اپنی ایک فٹ لمبی زبان پیالے میں ڈال دی۔ اس کے بعد کمرے میں’’چپ چپ‘‘ کی آواز گونجنے لگی۔
ورشا روتے روتے جانے کب سوگئی۔ صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو دن کے دس بج رہے تھے وہ گھڑی پر نظر ڈالتی ہوئی جلدی سے اٹھ گئی۔ اسے بڑی شدت کی بھوک لگی تھی۔ وہ تیزی سے اٹھ کر دروازے کی طرف بھاگی۔ اپنی بھوک سے زیادہ اسے برکھا کے ناشتے کی فکر تھی۔
برکھا ٹھیک آٹھ بجے ناشتہ کرنے کی عادی تھی۔ ناشتے میں وہ دو چار منٹ کی دیر بھی برداشت نہیں کرتی تھی۔ ورشاکو ڈانٹ دیتی تھی۔ اس وقت تو دس بج رہے تھے۔ جانے برکھا کا غصے میں کیا حال ہوگا۔
دروازے کے قریب پہنچ کر جب اس نے دروازہ کھولنا چاہا تو وہ نہیں کھلا۔ اس نے اطمینان کا
کا سانس لیا۔ اب اس دیر میں اس کا کوئی قصور نہیں تھا۔ وہ بند دروازے سے باہر نہیں نکل سکتی تھی۔ پھر اسے یاد آیا کہ برکھا نے کہا تھا سوناں آج رات یہیں رہے گی۔ اس لئے برکھا کو اس کی ضرورت نہیں پڑی۔ سوناں نے ناشتہ بنا کر دے دیا ہوگا۔ اب اسے اپنی بھوک کا احساس ہوا۔ اس نے دروازے کو زور سے جھنجوڑا۔ کئی مرتبہ پیٹا ….مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ وہ تھک کر بیڈ پر بیٹھ گئی اور دروازے کو تکنے لگی۔
کوئی گیارہ بجے کے قریب دروازے پر کھڑ کھڑاہٹ ہوئی۔ وہ اٹھ کر دروازے کی طرف بڑھی وہ دروازے کے نزدیک پہنچی تو دروازہ مکمل کھل چکا تھا وہ دروازت پر کھڑی تھی اور ورشا اسے دیکھ کر ساکت ہوگئی۔
اسے دیکھ کر ورشا کو ساکت تو ہو ہی جانا تھا۔ دروازے پر برکھا کھڑی تھی ۔ وہ سرخ ساڑھی باندھے ہوۓ تھی اور شعلہ جوالا بنی ہوئی تھی۔ یہ وہ برکھا نہ تھی جس کا چہرہ کل زرد پڑ چکا تھا اور کمزوری
کے باعث اٹھنا محال تھا۔ اس وقت تو وہ بڑی چاق و چوبند تھی۔ چہرے پر بغیر میک اپ کے سرخی پھیلی ہوئی تھی۔ چہرہ ایک دم فریش تھا۔ بال سلیقے سے بندھے ہوۓ تھے اور اس میں چنبیلی کے پھول گندھے ہوے تھے۔ ہوٹوں پر تازہ مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی ۔ اتنی خوبصورت تو اس نے اپنی ماں کو کبھی نہ دیکھا تھا۔
اگر وہ اسے دیکھ کر ساکت رہ گئی تھی تو حق بجانب تھی۔ برکھا ورشا کو دیکھتے ہی اپنی بانہیں پھیلا کر اس کی طرف بڑھی۔ اس نے ورشا کواپنی بانہوں میں لے لیا اور بڑے پیار بھرے لہجے میں بولی۔
“میری جان ! “
اس کی بانہوں میں جاتے ہی ورشا کا دماغ بھک سے اڑ گیا۔ وہ کسمسا کر جلدی سے اس سے الگ ہو گئی پر کھا سمجھی کہ وہ ناراضگی کے اظہار کے لیے اس سے الگ ہوئی ہے۔ ایسا نہ تھا اصل میں برکھا کے جسم سے شدید بد بو کا بھبھکا آیا تھا۔
”میری جان ناراض ہو“
برکھا نے نرم لہجے میں پوچھا۔
“نہیں ممی‘‘ اس نے سپاٹ انداز میں جواب دیا۔
’’ ورشا‘ دروازے پر تالا میں نے ڈلوایا تھا اور ایسا میں نے تمہاری بھلائی کے لیے کیا تھا۔ آؤ میرے ساتھ آؤ. میں نے اپنی بیٹی کے لیے خود ناشتہ بنایا ہے۔‘‘ برکھا نے بڑے پیار بھرے لہجے میں کہا
“نہیں ممی کوئی بات نہیں. میں جانتی ہوں، آپ جو کرتی ہیں میری بھلائی کے لیے ہی کرتی ہیں۔”
برکھا نے اسے تر چھی نظروں سے دیکھا اور قدرے لہجہ بدل کر بولی۔
”مجھ پر طنز کر رہی ہو۔‘‘ “نہیں ممی میں بھلا ایسی جسارت کر سکتی ہوں۔“ ورشانے نظریں جھکا کر کہا۔
“ہاں ورشا کبھی ایسی کوشش بھی نہ کرنا …..” برکھا کے لہجے میں تنبیہہ آ گئی تھی۔ ورشانے کوئی جواب نہ دیا۔
’’اچھا آؤ میرے ساتھ ناشتہ تو کرلو۔ پھر مجھے باہر جانا ہے۔“ یہ کہہ کر برکھا نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس سے ڈرائنگ روم کی طرف لے چلی۔
•●•●•●•●•●•●•●•●•
صادق مرزا نے چلتے چلتے پلٹ کر پوچھا۔
”ارے بھئی روزی سے پوچھو اس نے آئس کریم یہیں کھانی ہے یا باہر چل کر کھاۓ گی۔ صادق مرزا کی بیگم نے پیچھے آتی فیملی پر نظر ڈالی۔ تب اچانک ہی یہ احساس ہوا کہ روزی ان میں نہیں ہے۔ ایک دم ہی کھلبلی مچ گئی۔
”ارے روزی کہاں ہے۔؟‘‘
“ابھی تو یہی تھی ۔“
کسی نے کہا۔ “وہ میرے پیچھے تھی۔”
کسی نے بتایا۔ ”وہ اس کے آگے تھی۔‘‘
روزی کے بارے میں سب کا بیان یہی تھا کہ وہ ابھی تو یہیں تھی لیکن روزی کا دور تک پتہ نہیں تھا۔ صادق مرزا اور اس کے نوجوان بیٹے ارباز صادق نے پلے لینڈ کا چپہ چپہ چھان مارا لیکن روزی کا کوئی سراغ نہ ملا۔
روزی کا اصل نام روزینہ تھا۔ صادق مرزا کے دو ہی بچے تھے ایک ارباز صادق جو روزی سے پانچ چھ سال بڑا تھا اور ایک روزی تھی ۔ صادق مرزا کی فیملی کے ساتھ روزی کی خالہ اور اس کی خالہ زاد بہنیں بھی تھیں۔ سب لوگ پریشان تھے۔ صادق مرزا نے پہلے اپنی فیملی کو گھر چھوڑا اور پھر پولیس اسٹیشن جانے لگا تو اس کے بیٹے ارباز صادق نے کہا۔
ابو چچا جان سے بات کر لیں ۔ انہیں اطلاع دے دیں۔‘‘
ارباز نے نمبر ملا کر موبائل ریسیور صادق مرزا کے ہاتھ میں دے دیا۔ دو گھنٹیاں بجنے کےبعد ادھر سے کسی نے فون اٹھایا فون اٹھایا اور بھاری لہجے میں کہا۔’’ہیلو‘‘
بھائی کی آواز پہچان کر صادق مرزا بہت دھیرے سے بولا۔ ’’ناصر…‘‘
“جی بھائی جان….. کیا حال ہیں؟‘‘
”ناصر خیر نہیں ہے۔“
”ارے کیا ہوا؟‘‘
”ہم لوگ پلے لینڈ گئے تھے۔ وہاں روزی گم ہوگئی‘‘۔ صادق مرزا کی آواز گلوکیر ہوگئی۔
“پلے لینڈ سے وہ کہاں جاسکتی ہے۔ رش میں ادھر ادھر ہو گئی ہو گی۔”
“ہم وہاں سے اس وقت آۓ ہیں۔ جب پورا پلے لینڈ خالی ہو چکا تھا۔ روزی کو ہم نے پلے لینڈ کے چپے چپے میں تلاش کیا ۔ وہ کہیں نہیں ملی۔”
“اوہ” ناصر مرزا نے گہرا سانس لیا۔ اور پھر تو قف کر کے بولا ۔
“پولیس میں رپورٹ لکھائی‘‘
“نہیں، میں ابھی پولیس اسٹیشن جارہا تھا کہ میں نے سوچا کہ تم سے بات کرلوں۔”
“اچھا آپ میرا انتظار کریں۔ میں فورا ہی گھر سے نکل رہا ہوں۔‘‘
یہ کہ کر ناصر مرزا نے ٹیلی فون رکھ دیا اور گاڑی نکال کر کلفٹن کی طرف چل دیا جہاں صادق مرزا ایک فلیٹ میں رہائش پذیر تھا۔
ناشتے کے بعد برکھا چلی گئی وہ گاڑی میں کہیں گئی تھی ورشا کو سوناں کہیں نظر نہیں آئی تھی۔ شاید وہ ناشتے سے پہلے ہی چلی گئی تھی۔
ورشا گیٹ بند کر کے پلٹی تو اس کے ذہن میں ایک ہی بات تھی کہ برکھا نے رات کو اسے قید کیوں کر دیا تھا۔ سوناں اس کے لیے کیا لیکر آئی تھی اور ان دونوں نے مل کر رات کو کیا کیا تھا۔ آخر ایسی کیا بات ہوئی کہ برکھا کے تن مردہ میں ایک ہی رات میں جان پڑ گئی بلکہ وہ کچھ ضرورت سے زیادہ ہی توانا اور حسین ہوگئی۔
پہلے وہ برکھا کے بیڈ روم میں گئی۔ بیڈ روم کا اچھی طرح سے جائزہ لیا مگر وہاں سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔ وہاں سے کوئی سراغ نہیں ملا جس سے رات کے واقعے پر روشنی پڑتی۔ پھر اس نے دوسرے کمروں کا بھی جائزہ لیا مگر وہاں سے بھی کوئی مشکوک چیز برآمد نہ ہوئی۔
اب صرف ایک کمرہ رہ گیا تھا اور وہ تھا عملیات اور پوجا پاٹ والا کمرہ۔ اس کمرے میں ورشا ایک دو مرتبہ سے زیادہ نہیں گئی تھی۔ کمرہ تاریک اور بد بودار تھا۔ کمرے میں کوئی چیز نہ تھی سواۓ اس تین فٹ لمبے کپڑے کے ایک پتلے کے۔ یہ پتلا بڑی ہیبت ناک صورت کا تھا۔ اس پتلے کے گلے میں برکھا روز پھولوں کا ہار جو خود وہ اپنے ہاتھ سے بناتی تھی ڈالتی تھی۔ برکھا نے اس کمرے میں داخل ہونے سے منع نہیں کیا تھا لیکن وہ کمرہ اس قدر وحشت ناک تھا کہ اس کمرے میں قدم رکھتے ہی خوف کی ایک لہر اٹھتی تھی۔ ورشا ایک دو مرتبہ کسی ضروری فون کال کے بارے میں بتانے گئی تھی۔ تب اس نے اپنی ممی کوموم بتی روشن کیے اس پتلے کے سامنے آسن جمائے بیٹھے دیکھا تھا اور وہ کمرے میں تھوڑا اندر جا کر اسے ٹیلی فون کے بارے میں بتا کر فورا ہی باہر آ گئی تھی۔ آج اس نے سوچا کہ وہ اس کمرے کو بھی اندر سے دیکھ لے۔ جب وہ اس کمرے کے ددوازے پر پہنچی تو اسے حیرت کا جھٹکا لگا۔ کمرے کا نہ صرف دروازہ بند تھا بلکہ اس پر تالا بھی پڑا تھا۔
ایسا آج تک نہ ہوا تھا۔ یہ کمرہ تاریک اور بدبودار تھا اس کمرے میں برکھا کے سوا کوئی نہ جاتا تھا۔ ورشانے تالے کو ہلاکر دیکھا۔ تالا بند تھا۔ اس نے برکھا کے بیڈ روم میں جا کر چابی تلاش کی لیکن وہ وہاں موجود نہ تھی۔ ویسے بھی اتنے بڑے بنگلے میں ایک تالے کی چابی تلاش کر لینا آسان نہ تھا۔
اب ایک چانس اور تھا اور اس چانس کے لیے اسے گھوم کر بنگلے کی پشت پر جانا پڑا۔ اس کمرے کی ایک کھڑکی ادھر کھلتی تھی۔ اگر چہ اس بات کی امید نہ تھی کہ وہ کھڑ کی ادھر سے کھلی ہوگی وہ جب اس کمرے کی پشت پر پہنچی تو اسے کھڑکی بند نظر آئی۔ مایوس ہوکر وہ پلٹنے والی تھی پھر اس نے ایسے ہی اس پر ہاتھ رکھ کر اس کے پٹ کو اندر کی طرف دھکیلا۔ پٹ تھوڑا سا اندر ہو گیا کھلا نہیں جب اسے احساس ہوا کہ کھڑکی اندر سے بولٹ نہیں ہے بلکہ اس کا پٹ سختی سے بند ہے ۔ اس نے ایک زور کا دھکا مارا تب پٹ کھل گیا۔
یہ کھڑکی فرش سے دو ڈھائی فٹ اونچی تھی۔ وہ اس کھڑکی کے ذریعے بآسانی اندر جا سکتی تھی۔ اس نے کھڑ کی کے دونوں پٹ دھکا دے کر کھول دیے اور چند لمحے انتظار کیا۔ اسے اندر سے کوئی آہٹ نہ سنائی دی۔ البتہ بدبو کا بھپکا ضرور آیا۔ اس نے اپنی ناک پر دوپٹہ باندھ لیا اور کھڑکی میں کھڑے ہوکر اندر دیکھنے لگی۔ کچھ دیر میں جب اس کی آنکھیں اندھیرے میں دیکھنے کے قابل ہوئیں ۔ اس نے کمرے کے عین درمیان کسی کو لیٹا ہوا پایا۔ تب اس نے کھڑکی کی چوکھٹ پر پیر رکھا اور اندر کود گئی ۔ ورشا نے کھڑکی سے آتی روشنی میں دیکھا کہ وہ ایک تیرہ چودہ برس کی لڑکی ہے جو بے ہوش ہے اور اس کے جسم پر جگہ جگہ بے شمار زخموں کے نشان ہیں۔ جیسے اس کے جسم پر کسی تیز دھار کی چیز سے کٹ لگاۓ گئے ہوں۔ اس لڑ کی کے کپڑے اس کے جسم پر پڑے ہوئے تھے۔ وہ پہنے ہوۓ کچھ نہ تھی۔
اس لڑکی کو دیکھ کر اسے رات ہونے والے ڈرامے کے بارے میں کچھ اندازہ ہو گیا تھا۔ سمجھ گئی تھی کہ خون کے’’سرطان‘‘ میں مبتلا اس کی ممی کو نیا خون کہاں سے دستیاب ہوا تھا۔
نہ جانے وہ معصوم لڑکی کون ہے ؟ کس کی بیٹی ہے ؟ اسے سوناں کہاں سے اٹھا کر لائی ہے۔ ممی نے کیا دہشت ناک کھیل رچایا ہے۔ اس کے دل میں اپنی ماں سے نفرت کا جو بیج موجود تھا وہ اب پھوٹنے لگا تھا۔
اس کے باپ پر خون پھینکنے کا وہ منظر بارہا اس کی نگاہوں میں گھوم جاتا تھا۔ جب بھی وہ منظر اسے یاد آ تا اس کا دل کٹ کر رہ جاتا۔ ایک نفرت سی محسوس ہونے لگتی لیکن یہ نفرت لمحاتی ہوتی۔
جیسے ہی برکھا اس کے سامنے آتی تو وہ سب کچھ بھول جاتی۔ اس کے دل سے ہر نفرت نکل جاتی۔
اس لڑکی کو دیکھ کر نفرت کے سانپ نے پھر سر ابھارا تھا اور وہ ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ کیا کرے۔ کسی نے گھر کی کال بیل بجائی ۔ گھنٹی کی آواز سن کر وہ بے اختیار چونک گئی۔ اس نے اس لڑکی کو ویسے ہی چھوڑا کھڑکی کی چوکھٹ پر پاؤں رکھ کر کودی کھڑکی کے پٹ بند کیئے اور تیزی سے بنگلے کے گیٹ کی طرف بھاگی۔
جب اس نے چھوٹا گیٹ کھول کر سر باہر نکالا تو اس کے غصے کی انتہا نہ رہی۔ دروازے پر ایک فقیر مسکین صورت بناۓ کھڑا تھا۔
“اللہ کے واسطے بی بی کچھ مدد کرو۔”
ورشا نے کوئی جواب دیے بغیر دروازہ دھاڑ سے بند کر دیا اور اپنے کمرے کی طرف چل دی۔
•●•●•●•●•●•●•●•●•
روزی کو غائب ہوۓ آج تیسرا روز تھا۔ ان تین دنوں میں پولیس نے اپنی سی کوشش کر کے دیکھ لی تھی ۔ وہ روزی کا سراغ لگانے میں نا کام رہی تھی۔ اخبار میں دو دن سے ایک بڑا اشتہار جس میں روزی کی تصویر بھی موجود تھی، تلاش گمشدہ کے عنوان سے شائع ہو رہا تھا لیکن ابھی تک کسی قسم کی اطلاع موصول نہیں ہوئی تھی۔ پورا گھر پورا خاندان پریشان تھا روزی پورے گھر کی لاڈلی تھی۔ ناصر مرزا تو اس پر جان دینا تھا وہ اس کی پیاری بھتیجی تھی۔ گھر میں وظیفے وظائف جاری تھے۔ جس کے ذہن میں جو تد بیر آری تھی اس پر عمل کیا جا رہا تھا لیکن کہیں سے کوئی کامیابی کی امید نظر نہیں آرہی تھی۔
ناصر مرزا کی بھتیجی گم ہوئی تھی ساحل عمر اور مسعود آفاقی کا پریشان ہونا فطری تھا۔ وہ تینوں سر جوڑے بیٹھے تھے۔ اپنی اپنی سوچ کے مطابق اظہار خیال کر رہے تھے مگر کسی کی سمجھ میں روزی کے غائب ہونے کی وجہ نہیں آرہی تھی۔ اگر یہ اغوا کا کیس تھا تو ابھی تک تاوان کیوں نہیں مانگا گیا تھا ایک خیال یہ بھی تھا کہ لڑکی ناراض ہوکر نہ کہیں چلی گئی ہو کیونکہ یہ عمر بڑی جذباتی ہوتی ہے لیکن ایسی بات بھی نہ تھی۔ روزی گھر بھر کی لاڈلی تھی۔ اس کے ناراض ہوکر کہیں چلے جانے کا سوال ہی نہ تھا۔ لے دے کر بس اب یہی بات رہ گئی تھی کہ کہیں وہ عورت فروشوں کے ہتھے نہ چڑھ گئی ہو کوئی عورت اسے ورغلا کر نہ لے گئی ہو۔
پھر اچانک ساحل عمر کو خیال آیا۔ اس نے ناصر مرزا سے مخاطب ہوکر کہا۔
“بھائی کیا اس سلسلے میں عابد منجم صاحب سے مدد نہیں لی جاسکتی ۔“
“لی جاسکتی ہے۔“ ناصر مرزا کے چہرے پر خوشی آگئی۔
“عابد منجم کا خیال ذہن میں آیا ہی نہیں۔۔۔ ان کے گھر چلیں !””
مسعود آفاقی نے فورا کہا۔
“وہ اس وقت گھر پر نہیں ہوں گے، وہ رات دس بجے تک دفتر میں ہوتے ہیں۔ دیر تک بیٹھنے کے عادی ہیں۔”
ناصر مرزا نے بتایا۔
“چلو ان کے دفتر چلتے ہیں۔”
“جانے سے پہلے ٹیلی فون پر چیک کرلیں۔‘‘ ساحل عمر نے راۓ دی۔
’’ہاں یہ ٹھیک ہے۔” مسعود آفاقی نے فورا تائید کی۔
پھر جب یہ تینوں دوست عابد منجم کے دفتر پہنچے تو وہ ان کے منتظر بیٹھے تھے۔ تینوں کو ساتھ دیکھ کر وہ معنی خیز انداز میں مسکراۓ پھر بولے۔ “یہ فنکاروں کا قافلہ کہاں گھوم رہا ہے۔“
’’عابد صاحب یہ دونوں تو واقعی فنکار ہیں۔“ ناصر مرزا نے مسعود کی طرف اشارہ کر کے کہا۔ “مجھے کہاں آپ نے کانٹوں میں گھسیٹ لیا۔‘‘
“کانٹوں میں نہیں پھولوں میں گھسیٹا ہے۔ آپ کو بھی ہمارے ساتھ فنکار بنا دیا ہے۔” مسعود آفاقی نے ہنس کر کہا۔
“عابد صاحب اس وقت ہم ایک گھمبیر مسئلہ لے کر آپ کے پاس آۓ ہیں“ ساحل عمر اصل موضوع پر آیا۔
“تعویذ تو تم نے گلے میں ڈالا ہوا ہے۔“ عابد منجم فکر مند ہوکر بولے۔
“بی یہ دیکھئے !‘‘ ساحل عمر نے قمیض کے اندر سے نکال کر تعویذ دکھایا۔ ’’ اس وقت میرا مسئلہ نہیں ہے۔”
عابد منجم نے ناصر مرزا کی طرف دیکھا۔
“عابد صاحب میری بھتیجی کہیں گم ہوگئی ہے ۔‘‘ ناصر مرزا نے فورا اصل بات بتائی۔
“عابد منجم ایک دم سنبھل کر بیٹھ گئے ۔
“ہیں….یہ کب ہوا؟“
ناصر مرزا نے پورا واقعہ تفصیل سے ان کے گوش گزار کر دیا اور جو معلومات وہ روزی سے۔ متعلق جانتے تھے وہ بھی انہیں بتا دیں۔
ساری باتیں سن کر انہوں نے میز پر رکھی پان کی ڈبیہ اٹھائی۔ بڑی نفاست سے ایک پان نکالا۔ بٹوے سے چھالیہ اور تمباکو وغیرہ نکال کر پان منہ میں رکھ لیا اور پان چباتے ہوۓ آنکھیں بند کرلیں، چند منٹ آنکھیں بند کھولیں۔ پھر بال پوائٹ اٹھا کر کاغذ پر کچھ اعداد و شمار، زائچے اور نقشے کھیچنے لگے۔
زائچے بناتے ہوئے کئی مرتبہ ان کے چہرے کا رنگ بدلا تیوریوں پر بل پڑے۔ آنکھوں سے فکر جھانکی۔
ساحل عمر ان کے چہرے کے تاثرات بغور دیکھ رہا تھا۔ ان کے چہرے کے تاثرات سے اسے اندازہ ہو رہا تھا کہ معاملہ گمبھیر ہے۔
پھر عابد منجم نے بال پوائٹ میز پر رکھ کر اپنے سیدھے ہاتھ کی دراز کھولی اور ایک خوبصورت سی تسبیح نکال کر وہ تسبیح کے دانوں پر کچھ پڑھنے لگے۔ پان انہوں نے ایک کلے میں دبا لیا تھا۔
پھر انہوں نے تسبیح کا ایک چکر مکمل کر کے تسبیح میز پر رکھی۔ ایک سفید اور سادہ کاغذ اٹھایا۔ اس کی چار تہہ کیں۔ اس کاغذ پر تین پھونکیں ماریں اور دائیں ہاتھ پر رکھی ایک کتاب کے درمیان رکھ دیا۔ کتاب پر ہاتھ رکھ کر انہوں نے کچھ پڑھا اور کاغذ کتاب کے درمیان سے سے کھینچ لیا۔
کاغذ کھول کر دیکھا۔ کچھ اس طرح دیکھا کہ جیسے اس پر کچھ لکھا پڑھ رہے ہوں۔ پھر نے کھلا کاغذ میز پر رکھ دیا۔ ساحل عمر نے ذرا اچک کر دیکھا۔ اس پر کچھ لکھا ہوا نہیں تھا۔
عابد منجم نے جلدی جلدی پان چباپا اور پھر اسے اگلدان میں تھوک کر انتہائی سنجیدگی سے بولے۔
“ناصر میاں آپ کی بھتیجی اس شہر میں ہے اسے ایک عورت نے اغواء کیا ہے۔ فی الحال وہ زندہ ہے لیکن اس کی بازیابی کے امکانات…..”
اتنا کہ رک گئے ۔ پھر افسردہ لہجے میں کہا۔ ”بس میاں اللہ سے دعا ہی کی جاسکتی ہے۔ وہی زندگی اور موت کا مالک ہے۔ وہی بچھڑوں کو ملانے والا ہے۔‘‘
“عابد صاحب میری بھتیجی کے بارے میں مکمل معلومات کیجئے۔ اس سلسلے میں آپ جو کہیں گے آپ کی خدمت میں حاضر کر دوں گا۔‘‘
ناصر مرزا نے جذباتی لہجے میں کہا۔ ” ناصر میاں ہر آدمی کی ایک حد ہوتی ہے۔ میں نے انہی حدود میں رہتے ہوۓ جو کچھ پتا کیا تھا بتا دیا ہے۔ میں پھر کہوں گا کہ اللہ سے لو لگانے کی ضرورت ہے۔ بس دعا کریں کہ اللہ اس بچی پر اپنا رحم کرے۔” عابد منجم نے کہا۔
“اچھا ناصرتم کل صبح میرے گھر پر فون کرنا۔ مجھے رات کو وظیفہ پڑھنا پڑے گا۔”
عابد منجم نے پتہ نہیں ایسے ہی ان کی ڈھارس بندھانے کے لیے یہ بات کہہ دی یا واقعی وہ اس سلسلے میں کچھ کرنا چاہتے تھے۔
“چلو اتنا تو ہوا کہ روزی کے سلسلے میں بنیادی معلومات دستیاب ہو گئی تھیں۔ یہ بات بھی تسلی تھی کہ وہ جہاں تھی زندہ تھی۔ رہ گئی بازیابی کی بات تو عابد منجم نے اس سلسلے میں کچھ کہتے کہتے خاموشی اختیار کرلی تھی اور یہ بات تینوں کو نا گوار گزری تھی۔
⁦ ◍••◍◍••◍◍••◍
چھ سات دن ہو گئے تھے۔ ورشا سے نہ فون پر بات ہوئی تھی اور نہ ملاقات ہوئی گیا۔ وہ عابد منجم کے سامنے اس کے گھر پر آئی تھی ۔ عابد منجم نے اس کے بارے میں کہا تھا کہ یہ ورشا نہیں برکھا ہے۔ ایسا کیسے ممکن تھا کہ ورشا کے جسم میں برکھا گھس جائے۔ یہ سارا کیا گورکھ دھندا تھا وہ سمجھنے سے قاصر تھا لیکن اتنی بات اس کی سمجھ میں ضر ور آ گئی تھی کہ برکھا ایک خطرناک عورت تھی وہ ماہر ساحرہ تھی۔ اس کے سحر سے بچنا ضروری تھا۔ عابد منجم نے اس کی حفاظت کے لیے جو تعویذ دیا تھا وہ اس نے گلے میں پہن لیا تھا۔
عابد منجم نے ورشا سے ملاقات کرنے سے بھی منع کیا تھا۔ ابھی تک خود ہی ورشا نے ٹیلی فون پر یا بالمشافہ کوئی رابطہ قائم نہیں کیا تھا۔ لہذا اس سے ملاقات سے انکار کی نوبت نہیں آئی تھی۔
ویسے بھی وہ سوچتا تھا کہ اگر انکار کرنے کی نوبت آئی تو کیا وہ انکار کر سکے گا۔ وہ اس سے کہہ سکے گا کہ اب وہ اس سے نہیں ملے گا۔ یہ سن کر کیا وہ خاموشی سے ٹیلی فون بند کر دے گی۔ کیا وہ پلٹ کر پوچھے گی نہیں کہ میرے رانجھن ایسا مجھ سے کیا قصور ہوا کہ ترک تعلق پر اتر آۓ ہو۔ تب وہ اسے کیا جواب دے گا۔
ابھی وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ کیا جواب دے گا اتنے میں ٹیلی فون کی گھنٹی بجی اس کے دل نے نے کہا یہ ٹیلی فون ورشا کا ہے۔ اس نے ریسیور اٹھا کر ’’ جی‘‘ کہا۔
“ہائے رانجھن”
ادھر واقعی ورشا تھی ۔ وہ کہہ رہی تھی۔
”کیا قصور ہوا ہم سے”
“کچھ نہیں” ساحل عمر نے جواب دیا۔
”پھر اتنے دن ہو گئے، نہ فون کر تے ہو نہ ملتے ہو۔‘‘ اس نے شکایت کی۔
’’ورشا ایک بات پوچھ رہا ہوں دیکھو سچ بتانا۔‘‘
“چھ سات دن پہلے جب تم آئی تھیں تو پھر فورا واپس کیوں چلی گئی تھیں۔‘‘
”رانجھن کیسی باتیں کر رہے ہو۔ میں سات دن پہلے تمہارے گھر کب آئی۔ میں تو تمہارے گھر نہیں آئی” ورشانے بڑے یقین سے کہا۔
” پھر وہ کون تھی۔ تم ہی تو تھیں….. تم بھول رہی ہو یاد کرو تم نے میز پر سے اٹھا کر کیا پیا تھا؟”
“رانجھن ! تم یہ کیا کہ رہے ہو میں تمہارے گھر آئی ہی نہیں تو پھر پینے یا نہ پینے کا سوال کیا۔ تمہیں ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ کیا تم ساری بات مجھے تفصیل سے بتانا پسند کرو گے”
”ہاں! کیوں نہیں۔“
ساحل عمر نے یہ کہہ کر اس دن کی پوری روداد اس کے گوش گزار کر دی۔ ساری روداد سن کر وہ بڑی حیرت زدہ ہوئی۔ پھر ایک دم اس پر اداسی چھا گئی۔ چند لمحے
خاموش رہی گہرا سانس لینے کی آواز آئی اور پھر ایک دم مرے ہوۓ لہجے میں بولی۔
“مجھے نہیں معلوم کہ یہ سب کیا ہے۔ مجھے کچھ یاد نہیں ۔ چلو چھوڑو اس مسئلے کو بھول جاؤ اور سناؤ ‘‘ اس نے موضوع بدلا۔
”بس کیا سناؤں۔“
اس کے لہجے میں الجھن تھی۔
“دماغ ماؤف ہوتا جا رہا ہے۔‘‘
“کیا ہوا؟” وہ چونک کر بولی۔
“بھئی وہ ہمارے ایک دوست ہیں ناصر مرزا… تین دن سے ان کی بھتیجی غائب ہے۔“
“کتنی بڑی ہے۔ کیسے غائب ہوئی۔”
“ان کے بھائی اپنی فیملی کے ساتھ کلفٹن کے پلے لینڈ گھومنے گئے تھے۔ بس وہیں سے وہ غائب ہو گئی۔ پولیس ڈھونڈ رہی ہے۔ اخبار میں اشتہار بھی آرہا ہے لیکن اس کا کوئی پتہ نہیں چلا۔ تیرہ چودہ سال کی لڑکی ہے اور اکلوتی بچی ہے۔‘‘ ساحل عمر نے بتایا۔
“اوہ بڑا افسوں ہوا سن کر‘‘ اس نے افسردگی سے کہا۔
“کس اخبار میں اشتہار ہے میں دیکھوں گی۔ اس میں اس کی تصویر بھی ہو گی۔“
“انگریزی اور اردو کے تمام بڑے اخباروں میں یہ اشتہار موجود ہے۔ تصویر بھی ساتھ ہی ہے۔ بڑی پیاری بچی ہے۔ ورشا دعا کرو کہ وہ بچی مل جاۓ۔‘‘
وہ بھلا کیا دعا کرتی۔ وہ دعا کرنے کے قابل کہاں رہی تھی۔ ساحل عمر کی باتوں نے اسے خاصا الجھا دیا تھا۔ اس کے گھر میں دو اخبار آتے تھے۔ ایک انگریزی کا اور ایک اردو کا۔ ورشا کو اخبار پڑھنے کا زیادہ شوق نہ تھا بس وہ سرسری سے انداز میں نظر ڈالتی تھی۔ البتہ برکھا کو اخبار پڑھنے کا بڑا شوق تھا۔ وہ اخبارات کو بڑی دلچسپی سے پڑھتی تھی۔ آج کا ایک اخبار اٹھا کر اس نے صفحات الٹے تو وہ اشتہار اسے فورا ہی نظر آ گیا۔ اس نے تصویر کو غور سے دیکھا تو اس کو کرنٹ سا لگا۔ یہ وہی لڑ کی تھی جو شاید اس وقت بھی برکھا کے کمرے میں موجود ہو۔ دو دن پہلے تو وہ یقینا وہاں موجود تھی اس نے خود اپنی آنکھوں سے اسے کمرے کے فرش پر بے ہوش پڑے دیکھا تھا۔ ابھی وہ اشتہار غور سے دیکھ ہی رہی تھی کہ برکھا اس کے کمرے میں دبے پاؤں آ گئی۔ اس نے جھک کر دیکھا کہ ورشا کیا پڑھ رہی ہے۔
“ممی تم نے یہ اشتہار دیکھا۔‘‘ اس کی موجودگی محسوس کر کے ورشا نے گردن اٹھا کر پوچھا
“ہاں دیکھا ہے کوئی خاص بات…..اس شہر میں روز ہی لڑکیاں ادھر ادھر ہوتی رہتی ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتو شہر میں ہلچل کس طرح پیدا ہو‘‘ برکھا نے بے نیازی سے کہا۔
“ممی جانتی ہو یہ لڑکی کس کی بھتیجی ہے۔”
”نہیں۔‘‘ برکھا ذرا چو کنا ہوئی ۔
”ساحل عمر کے ایک دوست ہیں ناصر مرزا یہ ان کی بھتیجی ہے۔‘‘
” اچھا….! تو یہ اس شکاری کی بھتیجی ہے۔ یہ تو بہت اچھا ہوا ایک تیر سے دو شکار ہو گئے۔” وہ بے خیالی میں بولی۔
’’ممی کیا مطلب ؟‘‘ ورشا کچھ نہ سمجھ پائی۔
“کچھ نہیں۔‘‘ برکھا ٹال گئی۔
’’ممی‘ کیا آپ بتا سکتی ہیں اس لڑکی کو کس نے اغوا کیا ہے۔‘‘
“ہاں بتا سکتی ہوں یہ بتانا میرے لیئے کچھ مشکل نہیں مگر تم اس میں اتنی دلچسپی کیوں لے رہی ہو ۔‘‘
”بس ویسے ہی ممی۔”
اس میں یہ بتانے کی ہمت نہ تھی کہ اس نے اس لڑکی کو عملیات کے کمرے میں دیکھا ہے
“یہ لڑکی کل جھاڑیوں سے برآمد ہو جاۓ گی۔” برکھا نے پیشگوئی کی۔
’’مرگئی۔‘‘ ورشا ایک دم چونک اٹھی۔
“ظاہر ہے جب اس کے جسم میں ایک قطرہ خون کا نہیں رہے گا تو وہ مرے گی نہیں تو زند رہے گی۔‘‘ برکھا نے ورشا کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بڑی لاپروائی سے کہا۔
”ممی کس نے مارا ہے اس کو۔‘‘ ورشا نے پوچھا۔
”جس نے بھی مارا ہے ٹھیک مارا ہے۔ مجھے بڑی خوشی ہے کہ یہ ناصر کی بھتیجی تھی۔ اب اسے پتہ چلے گا۔ کیا تم جانتی ہو کہ تہمکال کو میرے ہاتھوں سے نکالنے والا یہی شخص ہے۔ اس نے اسے آزاد کر دیا مجھے مزید مشکل میں ڈال دیا۔ آہ یہ کتنی اچھی بات ہوئی کہ یہ اس کی بھتیجی ہے میں بہت خوش ہوں۔ تم نے مجھے بہت اچھی خبر سنائی۔ بولو کیا مانگتی ہو۔‘‘ اس نے خوش ہو کر کہا۔
“کچھ نہیں می، مجھے کچھ نہیں چاہئے۔ تم ہونا میرے پاس۔” ورشا نے خوشاندانہ لہجے میں کہا۔
“ورشا اب تمہیں میرے ساتھ بیٹھ کر کام سیکھنا ہو گا۔ مجھے تمہاری سخت ضرورت ہے۔ میں اکیلی کچھ نہ کر سکوں گی ۔تمہیں میرا ساتھ دینا ہو گا۔ میں تمہیں ہر وہ عمل سکھا دوں گی جو میں جانتی ہوں۔ پھر میں تمہیں سالانہ اجتماع میں پیش کروں گی۔ اعور کا باپ تمہیں دیکھ کر بہت خوش ہو گا اور فورا تمہیں اپنی داسی بنا لے گا”
” ٹھیک ہے ممی جیسی آپ کی مرضی۔‘‘ ورشا نے انتہائی فرمانبرداری سے کہا۔
ورشا کی تمام سوچیں برکھا کے سامنے آتے ہی دم توڑ دیتی تھیں۔ برکھا سے نظر ملتے ہی اپنا آپ بھول جاتی تھی۔ اسے یوں محسوس ہونے لگتا کہ ممی جو کچھ کہہ رہی ہیں ٹھیک کہہ رہی ہیں۔
برکھا کی ’’ پیشگوئی‘‘ کے مطابق روزی کی لاش دوسرے دن ایک ویران علاقے کی جھاڑیوں سے برآمد ہو گئی۔ برکھا تو خیر سب جانتی تھی۔ یہ سب کیا دھرا ہی اس کا تھا۔ البتہ عابد منجم نے جو کہا تھا۔ ثابت ہوا۔ اگر چہ عابد منجم نے جو کہا تھا وہ بہت مبہم تھا لیکن اس ابہام میں بھی بہت کچھ واضح تھا
برکھا نے روزی کی لاش واسم کے ذریعے جھاڑیوں میں پھینکوائی تھی اور پھر اس نے ٹیلی فون کر کے متعلقہ تھانے میں روزی کی لاش کی اطلاع دی۔ ممکن تھا کہ روزی کی لاش کو بازیاب ہونے میں پانچ سات دن لگ جاتے لیکن برکھا چاہتی تھی کہ لاش جلد از جلد برآمد ہو جاۓ تا کہ لواحقین لاش پاکر رو دھو کر سکون سے بیٹھ جائیں۔ لاش نہ ملنے کی صورت میں برکھا کو خطرہ تھا کہ روزی کے متعلقین عالموں کے ذریعے اس تک نہ پہنچ جائیں۔ سب سے زیادہ خطرہ تو اسے عابد منجم سے تھا۔ وہ اس دن اس کی ایک جھلک دیکھ کر ہی اندازہ لگا چکی تھی کہ بندہ واقف کار ہے۔ کام کو اچھی طرح سمجھتا ہے۔
لاش برآمد ہوئی تو اس گھر پر قیامت ٹوٹ پڑی جس گھر کی وہ بیٹی تھی اس کی موت کا ماں باپ کو جتنا دکھ ہوتا کم تھا لیکن وہ تو خاندان بھر کی لاڈلی تھی ۔۔ ا۔ سب سے زیادہ چہیتی تو وہ ناصر مرزا کی تھی۔ اس کی لاش دیکھ کر وہ چندلمحوں کو ساکت رہ گیا۔ دل سے درد کی ایک لہر اٹھی۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق اسے کسی تیز دھار آلے سے بے پناہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس کے جسم پر جگہ جگہ زخموں کے نشان تھے۔ جسم سے بے پناہ خون بہہ جانے کی وجہ سے اس کی موت واقع ہوئی۔
ناصر مرزا کا بس چلتا اور اسے یہ معلوم ہو جاتا کہ کس درندے نے اس کی بھتیجی کی یہ حالت کی ہے تو وہ اس سے کہیں زیادہ اذیت دے کر اسے مار ڈالتا۔
اپنی معصوم بھتیجی کی لاش دیکھ کر اس کا خون کھول کر رہ گیا۔ اس نے دل ہی دل میں طے کیا کہ وہ قاتل کا ہر ممکن طریقے سے پتہ لگانے کی کوشش کرے گا۔
پولیس سے تو کسی قسم کی امید رکھنا فضول ہی تھا۔ اگر کوئی شخص روزی کی لاش سے متعلق فون نہ کرتا تو پولیس تو اس کی لاش بھی برآمد نہ کرسکتی تھی۔ قاتل کا پتہ لگانا تو بہت دور کی بات ہے۔ ناصر مرزا کا ذہن بار بار عابد منجم کی طرف جاتا تھاممکن ہے وہ اس سلسلے میں کچھ مدد کر سکتے۔
ویسے اس سے زیادہ امید وابستہ نہیں کی جاسکتی تھی کیونکہ وہ روزی کی گمشدگی کے بارے میں بھی زیادہ واضح جواب نہ دے سکا تھا۔ پھر بھی اس نے سوچا تھا کہ وہ ایک مرتبہ اس سلسلے میں عابد منجم سے بات ضرور کرے گا۔ روزی کی لاش ابھی گھر پر موجودتھی ۔ مگر ناصر مرزا کے غصے اور بے قراری کا یہ عالم تھا کہ وہ روزی کی تجہیز و تدفین کا بھی انتظار نہ کر سکا۔ اس نے اسی وقت عابد منجم کوفون کیا۔
اس کا فون کرنا بہتر ہی ثابت ہوا کیونکہ عابد منجم نے ساری بات سن کر جس چیز کی فرمائش کی اگر روزی کی تدفین ہو جاتی تو اس چیز کا مہیا کرنا ممکن ہو جاتا۔ اس وقت روزی کو غسل دیا جا رہا تھا۔ ناصر مرزا نے اپنی بھابی کو بلا کر روزی کا ایک بال لانے کی ہدایت کی۔ بھابی نے اپنی بیٹی کا ایک بال ناصر مرزا کے حوالے کر دیا۔ ناصر مرزا نے اس بال کو ایک کاغذ میں لپیٹ کر بہت احتیاط سے اپنی جیب میں رکھ لیا۔ اب یہی بال عابد منجم کے سامنے رکھا ہوا تھا۔
اس وقت رات کے دو بج رہے تھے۔ گھر کے تمام لوگ سو چکے تھے مگر وہ وظیفے میں مصروف تھے۔ اڑھائی بجے تک وہ وظیفے میں مصروف رہے۔
وظیفے سے فارغ ہو کر انہوں نے روزی کے بال کو اپنی چٹکی میں اٹھایا دائیں ہاتھ سے لائٹر جلا کر بال کو آگ دکھا دی۔
بال نے فورا آگ پکڑ لی۔ وہ آنا فانا جل گیا۔ بال جلتے ہی عابد منجم کی ساعت میں ایک نام گونجا اس نام کو تین بار بہت صاف لہجے میں دہرایا گیا “برکھا….برکھا………برکھا…”
اس نام کو سن کر عابد منجم حیرت زدہ رہ گئے
“روزی کی قاتل اور برکھا۔” انہوں نے حیران ہوکر خود کلامی کی۔ اپنے وظیفے کی کامیابی پر وہ بہت خوش تھے اگر چہ انہیں امید نہ ھی کہ وہ قاتل کا نام پتا لگانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اوپر والے کی مہربانی سے وہ کامیاب ہو گئے تھے۔ انہوں نے سوچا کہ اس بات کی اطلاع فوری طور پر ناصر مرزا کو دے دی جاۓ۔
اگرچہ ٹیلی فون کرنے کا وقت نہ تھا۔ ضروری نہیں تھا کہ ادھر سے ناصر مرزا ضرور فون اٹھائے گا لیکن وہ اپنی کامیابی پر خوش اس قدر تھے کہ اس راز کو فورا اصل بندے تک منتقل کر دینا چاہے تھے انہوں نے سوچا کہ فون پر ٹرائی کر کے دیکھ لینے میں کیا حرج ہے۔
ابھی فون کی دوسری کھنٹی بھی پورے طور پر بج نہ پائی تھی کہ ناصر مرزا نے فون اٹھالیا۔ وہ اس وقت جاگ رہا تھا اور اپنے اسٹڈی روم میں تھا۔ اس وقت اس کے ہاتھ میں وظائف کی ایک بہن پرانی کتاب تھی ۔ یہ اس کے دادا کے زمانے کی تھی۔ وہ اس کتاب کا مطالعہ کر رہا تھا۔ اس کا ارادہ تھا کہ اگر عابد منجم اس سلسلے میں کچھ نہ کر پایا تو وہ خود کوشش کر کے دیکھے گا۔
“ہیلو ..!‘‘ ناصر مرزا گھمبیر آواز میں بولا۔
’’ناصر میاں میاں عابد بول رہا ہوں عابد منجم‘‘
’’جی عابد صاحب آپ نے اس وقت فون کیا ہے تو یقینا آپ کو اس سلسلے میں کامیابی
حاصل ہوئی ہے۔‘‘ ناصر مرزا نے بے قراری سے کہا۔
“ہاں میں کامیاب ہو گیا ہوں۔ تم قاتل کا نام سنو گے تو اچھل پڑو گے۔“
“ہیں ….. کیا میں اسے جانتا ہوں۔؟”
” نہ صرف جانتے ہو بلکہ اسے دیکھ بھی چکے ہو۔‘‘
“فوراً آپ اس کا نام بتائے … میں اس کا خون پی جاؤں گا۔۔”
“ویسے وہ ہے بھی اس قابل کہ اس کا خون پی لیا جائے ۔‘‘ عابدمنجم جذباتی ہوکر بولے۔
“روزی کو قتل کرنے والی کا نام ہے برکھا۔”
“برکھا….” اس نام کو سن کر وہ واقعی حیرت سے اچھل پڑا۔
“یہ عورت آخر چاہتی کیا ہے۔ یہ ہمارے پیچھے کیوں پڑگئی ہے۔ میں اسے چھوڑوں گا نہیں۔”
”ناصر میاں ! وہ عورت بہت خطرناک ہے۔ کوئی جذباتی قدم نہ اٹھالینا۔ اس کا حساب
کتاب بہت سوچ سمجھ کر کرنا ہو گا۔ کل تم میرے دفتر آجاؤ وہاں اطمینان سے بیٹھ کر اس بارے میں کوئی لائحہ عمل طے کر یں گے ٹھیک ہے۔‘‘
“جی ٹھیک ہے، میں کل آپ کے دفتر آ جاؤں گا۔‘‘
برکھا نے آج واسم کو صبح ہی طلب کرلیا تھا۔ وہ کافی دیر سے ڈرائنگ روم میں بیٹھا ہوا تھا اور برکھا اپنے کمرہ خاص میں براجمان تھی۔
کوئی گیارہ بجے کے قریب وہ اپنے کمرۂ خاص سے برآمد ہوئی۔ اس کے ہاتھ میں ایک موتیے کا تروتازہ ہار اور مٹھائی کا ڈبہ تھا۔ وہ ان دونوں چیزوں کولیکر ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی تو واسم برکھا کو دیکھتے ہی کھڑا ہو گیا۔
“بیٹھو واسم‘‘ برکھانے اپنی تیز چمکیلی آنکھوں سے اسے دیکھا۔
“جی برکھا دیوی‘‘ وہ فرمانبرداری سے بولا۔
برکھا نے دونوں چیزیں اس کے حوالے کر کے اچھی طرح سمجھا دیا کہ کیا کرنا اور کیسے کرنا ہے
واسم نے وہ ہار بہت احتیاط سے کاغذ میں لپیٹ لیا۔ پھر دونوں چیزیں لیکر برکھا کے بنگلے سے نکل آیا۔
اس نے اپنی گاڑی کا رخ ’’ جاۓ واردات‘‘ کی طرف موڑ دیا۔ مطلوبہ جگہ پہنچ کر اس نے گاڑی بلڈنگ کے نیچے پارک کی اور وہ دونوں چیزیں اٹھاکر اس بلڈنگ کی سٹرھیاں چڑھنے لگا ۔
اس بلڈنگ کے دوسرے فلور پر عابد منجم کا دفتر تھا۔ اس وقت ساڑھے گیارہ بجے تھے اور وہ ابھی ابھی دفتر آۓ تھے۔ دفتر کا ملازم شوکت کرسی ڈالے کمرے کے باہر بیٹھا تھا۔
واسم نے ایک نظر شوکت پر ڈالی اور کمرہ کھلا دیکھ کر وہ سیدھا کمرے میں داخل ہو گیا۔ عابد منجم نے ایک عجیب سے شخص کو اپنے دفتر میں بلا تکلف داخل ہوتے دیکھ کر ذرا نا گواری سے پوچھا۔’’ جی فرمایئے!‘‘
واسم نے کوئی جواب دیئے بغیر مٹھائی کا ڈبہ میز پر رکھا اور کاغذ میں لپٹا ہوا ہار کھولنے لگا۔
اس کے ہونٹوں پر پھیلنے والی مسکراہٹ زہریلی ہوتی جا رہی تھی۔
’’یہ کیا ہے؟‘‘ عابد منجم نے حیرت زدہ لہجے میں پوچھا۔
“سر آپ کی پیشگوئی سچ ثابت ہو گئی۔ سر آپ کو یاد نہیں ہو گا میں نے چھ ماہ پہلے آپ سے اپنی شادی کے بارے میں پوچھا تھا۔ آپ نے اس کا جواب اپنے رسالے میں دیا تھا۔ میری شادی کے بارے میں آپ نے جو پیشگوئی کی وہ حرف بہ حرف سچ ثابت ہو گئی۔ میں تو سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میری شادی زبیدہ سے ہو جاۓ گی دشمن چچا کی بیٹی سے…. لیکن آپ کا کہنا سچ ثابت ہوا۔ اس خوشی میں میں یہ تھوڑی سی مٹھائی اور پھولوں کا ہار لایا ہوں۔ سر اگر آپ اجازت دیں تو میں خود آپ کو یہ ہار پہنا دوں۔ سر یقین کر میں میری خوشی اس طرح دوبالا ہو جاۓ گی۔۔” یہ کہہ کر وہ میز کی بائیں جانب سے عابد منجم کی طرف بڑھا اور ابھی وہ جواب بھی نہ دے پائے تھے کہ اس نے ہاتھ بڑھا کر ان کے گلے میں ہار ڈال دیا۔
“مجھے یاد نہیں ہے کہ میں نے کس پرچے میں آپ کے سوال کا جواب دیا تھا۔ چلیں آپ کی شادی ہوگئی ۔ آپ کو مبارک ہو۔ آپ نے بلاوجہ تکلف کیا۔‘‘ عابد منجم نے اپنے گلے میں پڑے ہوۓ ہار کی طرف ہاتھ بڑھایا اتارنے کے لیے۔
“سر ! ابھی مت اتار یئے گا۔ ذرا یہ تھوڑی سی مٹھائی اور چکھ لیں۔‘‘ یہ کہہ کر واسم گفٹ پیپر میں پیک ہوا ڈبہ کھو لنے لگا۔ ڈبہ کھولتے ہوۓ وہ بار بار باہر کی طرف دیکھ رہا تھا۔
وہ ہار موتیے کی کلیوں کا تھا۔ ان کلیوں کے منہ سے اچانک خون کی بوندیں ٹپکنے لگی تھیں۔
پورا ہار آنا فانا سرخ ہو گیا تھا۔ واسم نے جب دیکھا کہ ہار پورا خون سے سرخ ہو چکا ہے تو ڈبہ عابد منجم کے بالکل قریب کر کے اسے کھول دیا اور کہا ۔ “لیجیئے سر کھائیے مٹھائی“
عابد منجم نے کھلے ڈبے پر نظر کی۔ جو چیز برق رفتاری سے اس ڈبے سے برآمد ہو رہی تھی۔ اسے دیکھ کر عابد منجم کے ہوش اڑ گئے۔ اب انہیں اندازہ ہوا کہ برکھا نے ان کے ساتھ کیا کھیل کھیلا ہے لیکن اب وقت گزر چکا تھا۔
ڈبہ کھلتے ہی دس بارہ بچھو تیزی سے نکل کر عابد منجم پر چڑھ گئے اور ان بارہ بچھوؤں نے دیکھتے ہی دیکھتے اپنا ز ہر عابد منجم کے جسم میں اتار دیا۔ یہ انتہائی زہریلے بچھو تھے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: