Anwar Aleegi Urdu Novels

Bichoo Novel By Anwar Aligi – Episode 11

Bichoo Novel By Anwar Aligi
Written by Peerzada M Mohin
بچھو از انوار علیگی – قسط نمبر 11

–**–**–

زہر اس قدر تیزی سے چڑھا کہ وہ بیٹھے کے بیٹھے رہ گئے۔
واسم کو جب یقین ہو گیا کہ عابد منجم کا کام تمام ہو گیا ہے تو وہ بڑے اطمینان سے باہر نکل آیا اور باہر بیٹھے شوکت سے بولا۔
”اے سنو’ دیکھو آدھے گھنٹے تک کوئی اندر نہ جاۓ۔ صاحب نے منع کیا ہے۔ وہ کوئی ضروری کام کر رہے ہیں۔‘‘
“جی اچھا صاحب!‘‘ شوکت نے فرمانبرداری سے گردن ہلائی اور دوبارہ کرسی پر بیٹھ گیا۔
واسم تیزی سے زینے کی طرف بڑھا اور جلدی جلدی سٹرھیاں اترنے لگا۔ اس وقت ناصر مرزا اوپر آرہا تھا۔ دونوں کا ٹکراؤ سیٹرھیوں پر ہوا دونوں نے ایک دوسرے کو گہری نظروں سے دیکھا اور۔ پھر دونوں اپنے اپنے راستوں پر ہو لیے ۔
جب ناصر مرزا عابد منجم کے دفتر کے نزدیک پہنچا تو اس نے شوکت کو حسب معمول کرسی پر بیٹھا پایا۔ وہ ایک سیدھا سادہ ملازم تھا اپنے کام سے کام رکھے والا ناصر مرزا سے وہ اچھی طرح واقف تھا اسے دیکھ کر احتراما کھڑا ہو گیا۔
” کیوں بھئی شوکت کیسے ہو؟“ ناصر مرزا نے پوچھا۔
“صاحب جی ! میں ٹھیک ہوں …. صاحب اندر ہیں کچھ کام کر رہے ہیں۔“ شوکت نے تایا مگر اسے یہ کہنے کی جرات نہ ہوئی کہ آپ اندر مت جایئے۔
“اچھا میں دیکھتا ہوں۔‘‘
یہ کہہ کر وہ دفتر میں داخل ہو گیا۔
ابھی ناصر مرزا نے سلام کہنے کے لیے لب کھولے ہی تھے کہ عابد منجم کی حالت دیکھ کر اس کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
ان کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔ وہ سفید شیروانی پہنے ہوئے تھے۔ گلے میں ہار تھا جو سرخی مائل تھا۔ شیروانی پر جگہ جگہ خون کے دھبے پڑے ہوئے تھے۔ ان کی آنکھیں پتھرا چکی تھیں اور میز پر ایک ڈ پہ رکھا تھا جو بالکل خالی تھا۔
“شوکت”
ناصر مرزا نے گھبرا کر آواز دی۔
شوکت دوڑا ہوا اندر آیا۔ ناصر مرزا نے ہاتھ کے اشارے سے عابد منجم کی طرف اشارہ کیا۔
“یہ”
“ارے میرے صاحب کو کیا ہوا؟ وہ جلدی سے عابد جم کی طرف بڑھا۔
ناصر مرزا نے جلدی سے اسکا ہاتھ پکڑ کر روک لیا اور پوچھا
“یہ کیسے ہوا؟”
“صاحب ! خدا کی قسم مجھے کچھ نہیں معلوم ۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ایک صاحب آۓ تھے اور وہ سیدھے اندر آ گئے تھے اور جاتے ہوۓ کہہ گئے کہ صاحب اندر کام میں معروف ہیں اندر کوئی نہ جاۓ۔“
”لیکن تم نے تو مجھے اندر آنے سے نہیں روکا۔‘‘
” صاحب ! میں آپ کو اندر آنے سے کیسے روک سکتا تھا کیا میں آپ سے واقف نہیں ہوں۔“
” جو صاحب اندر آۓ تھے وہ کیسے تھے۔‘‘ ناصر مرزا نے پوچھا۔
“صاحب وہ کچھ عجیب سے تھے، مجھے تو ان کی صورت دیکھ کر ہی ڈر لگا۔ ابھی وہ کمرے سے نکل کر گئے ہیں۔ آپ کو وہ ضرور زینے میں ملے ہوں گے۔“
تب ناصر مرزا کو وہ تیزی سے اتر تا ہوا شخص یاد آیا۔ وہ واقعی خبیث صورت شخص لیکن وہ تھا کون ؟ اور وہ یہ سب کیا کر گیا تھا۔
عابد منجم کی پراسرار موت نے شہر میں ہلچل مچا دی۔ وہ اس شہر کی جانی مانی شخصیت تھے۔ ان کے بڑے لوگوں سے تعلقات تھے۔ لوگ ان کے پاس اپنے مسائل لیکر آتے رہتے تھے۔ وہ اپنے فن کو لوگوں کو لوٹنے کھسوٹنے کے لیے استعال نہیں کرتے تھے۔ وہ ایک مثبت آدمی تھے ۔ دولت کا لالچ ذرا برابر بھی نہ تھا۔
پولیس نے اس کیس میں خاصی سرگرمی دکھائی لیکن تفتیش آگے نہ بڑھ سکی۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سے یہ ظاہر ہوا کہ عابد منجم کی موت ہارٹ فیل ہونے کی وجہ سے ہوئی جبکہ ناصر مرزا نے ایف آئی آر میں واضح طور پر یہ درج کروایا کہ عابد منجم کوقتل کیا گیا ہے۔
پولیس نے اس بات کو محض ایک مفروضہ قرار دیا۔ جس صورت حال میں عابد منجم کی موت واقع ہوئی وہ صورت حال یقینا پراسرارتھی۔ گلے کا ہار اور شیروانی پر پڑے خون کے دھبے کسی انوکھی بات کے مظہر ضرور تھے لیکن وہ آلہ قتل نہ تھے۔ آلہ قتل تو اس صورت میں تلاش کیا جاتا جب ان کی موت کا سبب حرکت قلب بند ہو جانا نہ ہوتا۔
ناصر مرزا کو عابد منجم کی موت کا بے حد صدمہ ہوا۔ اسے اس بات کا پکا یقین تھا کہ اس واردات میں برکھا کا ہاتھ ہے لیکن یہ ایسی بات تھی جسے سرعام نہیں کہا جاسکتا تھا۔
عابد منجم جاتے جاتے اس کی بھتیجی کی قاتلہ کی نشاندہی کر گئے تھے۔ وہ ان سے مل کر روزی کی موت کا انتقام لینا چاہتا تھا۔ منصوبہ بندی کرنے آیا تھا لیکن برکھا نے عابد کو اپنے بارے میں انکشاف کرنے کی فوری طور پر سزا دے دی تھی۔
ناصر مرزا اب اس میدان میں تنہا رہ گیا تھا، لیکن وہ ہمت ہارنے والوں میں سے نہ تھا اپنا شکار ڈھونڈ کر مارنا اس کی فطرت میں شامل تھا ۔
دن کا وقت تھا اس وقت گیارہ بج کر پانچ منٹ ہو رہے تھے۔ ساحل عمر ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھا چاۓ پی رہا تھا اور ایک میگزین کا مطالعہ کر رہا تھا۔ اس وقت ٹیلی فون کی گھنٹی بجی ۔ کلائی پر بندھی گھڑی پر نظر ڈالی۔ یہ ایک خاص وقت تھا۔ اگر چہ اب یہ وقت خاص نہ رہا تھا۔ ورشا اب کسی وقت بھی بات کرلیا کرتی تھی۔ پھر بھی اس نے سوچا کہ ورشا کا فون نہ ہو۔ اماں کچن میں مصروف تھیں ۔مرجینا گھر کی جھاڑ پونچھ میں لگی ہوئی تھی۔ اس نے سوچا وہ خود ہی ٹیلی فون اٹینڈ کرلے۔
اپنے بیڈ روم میں جاکر اس نے ریسیور اٹھایا اور اپنے مخصوص انداز میں’’جی‘‘ کہا۔ “ہاۓ رانجھن !‘‘
ورشا کی کھنک دار ہنسی سنائی دی۔
یہ وہ ھنسی تھی جو اس کی سماعت میں رس گھول دیتی تھی۔
“ہاں ورشا کیسی ہو؟‘‘
ساحل عمر نے پوچھا۔
“میں مروں یا جیوں تمہیں کیا؟‘‘ اس نے شکوہ کیا۔
”کیا ہوا؟‘‘
“مجھے دوست کہتے ہو لیکن سمجھتے نہیں اس لیے دوستوں کا سا سلوک نہیں کرتے ۔“
” آخر ہوا کیا؟…..خیر ایسا تو نہیں۔”
“ایسا ہی ہے میرے رانجھن ایسا ہی ہے۔ تم ایک بے مروت شخص ہو یا شاید اب تم مجھ سے ملنا نہیں چاہتے۔” ورشانے صاف گوئی سے کام لیا۔
یہ بات ٹھیک تھی کہ ساحل عمر اب واقعی اس سے ملنا نہیں چاہتا تھا۔ جب سے عابد منجم کی موت ہوئی تھی اور اس موت میں برکھا کا ہاتھ نظر آرہا تھا تب سے وہ اور محتاط ہو جانا چاہتا تھا لیکن عملاً وہ ایسا کرنہیں سکا تھا جب ورشا کا فون آجاتا تو وہ اس کی آواز سن کر یہ بھول جاتا کہ یہ وہ لڑکی ہے جس سے آئندہ نہیں ملنا۔ ملنے سے انکار تو دور کی بات ہے وہ نہ ملنے کا کوئی بہانہ بھی نہیں بنا پاتا تھا۔ اس کا فون آنے پر وہ کسی سدھے ہوۓ شیر کی طرح اس کے قدموں میں جا بیٹھتا۔
اس وقت بھی یہی ہوا۔ باوجود انکار کی خواہش رکھنے کے وہ یہ نہ کہہ سکا کہ ہاں اب میں تم
سے ملنا نہیں چاہتا بلکہ اس نے کہا۔
“بھلا ایسا ہوسکتا ہے۔”
“میں جانتی ہوں، تم کبھی مجھ سے ملنے سے انکار نہیں کر سکتے ‘‘ وہ بڑے اعتماد سے بولی اس کے لہجے سے خوشی جھلک رہی تھی۔
“ایسا کیوں؟‘‘
“ایسا اس لیے میرے رانجھن کہ میں تمہارے اندر گھسی ہوں، تمہارے دل میں … میں تمہارے خون میں گردش کرتی ہوں۔“ وہ شرارت آمیز انداز میں ھنسی
ساحل مر نے سادگی سے پوچھا۔
“یہ بات تو شیطان کے بارے میں سنی ہے کہ وہ انسان کے خون میں گردش کرتا ہے۔” ساحل عمر نے کہا۔
”چلو شیطان سمجھ لو مجھے …… تم جانتے ہو کہ میں شیطان کو کس قدر پسند کرتی ہوں۔”
“کہیں میرے اندر بھی تو تمہیں کوئی شیطان نظر نہیں آتا۔‘‘
”تم تو بڑے شیطان ہو۔‘‘
اس نے یہ بات بڑے پیار بھرے لہجے میں کی اور زور سے ہنس پڑی۔
پھر چند لے توقف کر کے بولی۔
“اچھا ہاں کہیں باتوں باتوں میں میں اصل بات نہ بھول جاؤں۔“
“اصل بات …. وہ کیا ؟“
“تمہیں آج ممی نے بلایا ہے۔“
” چاۓ پر ۔“ اس نے معنی خیز لہجے میں کہا۔
“ہاں یونہی سمجھو۔“
ورشا نے ہنتے ہوۓ کہا۔
” آؤ گے ناں۔“
“تمہاری ممی سے میں آج تک نہیں ملا پتہ نہیں ان سے ملتے ہوئے دل کیوں ڈر رہا ہے”
“میری ممی بہت پیاری ہیں۔ آج تم ان سے ملو گے تو سارا ڈر دور ہو جاۓ گا پھر انہی کا کلمہ پڑھنے لگو گے ۔‘‘ وہ ہنس کر بولی۔
’’اچھا!‘‘ ساحل عمر نے حیرت بھرے لہجے میں کہا۔
“ممی آج ساڑھے چار بجے تمہارا انتظار کر یں گی۔ آؤ گے نہ….؟”
“میں نے تمہارا گھر نہیں دیکھا۔“ ساحل عمر نے بتایا۔
”میں تمہیں خود لینے آؤں گی ۔‘‘ اس نے کہا۔
”چلو ٹھیک ہے۔” وہ راضی ہو گیا۔
پھر وہ پروگرام کے مطابق وقت مقررہ پر اسے لینے آگئی۔ ساحل عمر نے خود جا کر گھر کے گیٹ پر اس کا استقبال کیا۔ آج وہ جینز اور شرٹ میں تھی۔ جینز اور شرٹ میں ساحل عمر نے اسے پہلی
بار دیکھا تھا۔
وہ بے حد سمارٹ لگ رہی تھی وہ جس طرح کا چاہے کپڑا پہن لیتی اس پر ہر لباس کھل اٹھتا تھا۔ اسے دیکھتے ہی ورشانے بے تکلفی سے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔
“ہاۓ رانجھن!‘‘
’’ہاۓ ورشا! ‘‘ ساحل عمر نے اس کا نرم ملائم ہاتھ تھامتے ہوۓ کہا۔
گھر میں آکر اس نے اماں سے سلام دعا کی اور پھر ٹی وی لاؤنج میں بیٹھ گئی جبکہ ساحل عمر کا خیال تھا کہ وہ بیڈ روم میں جاکر بیٹھے گی۔ ساحل مر کا خیال ٹھیک تھا وہ واقعی بیڈ روم میں جاکر دم لیتی لیکن وہاں رشا ملوک کی تصویر لگی ہوئی تھی۔ اس تصویر سے وہ الر جک تھی۔ اس تصویر کو دیکھ کر اسکے دل میں آگ سلگ اٹھتی تھی۔
ٹی وی لاؤنج کے ایک صونے میں دھنس کر اس نے ساحل عمر کی طرف ایک خاص انداز سے دیکھا پھر تھوڑا سا مسکرائی جیسے کچھ کہنا چاہ رہی ہو۔ اس کی کیفیت کو بھانپتے ہوۓ ساحل عمر نے اپنی بھنویں اچکا کر پوچھا
“جی فرمایئے ! کچھ کہنا چاہ رہی ہیں۔”
“کوئی تصویروں کی البم نہیں ہے تمہارے پاس۔”
“بے شمار البم ہیں. لیکن تم کیا دیکھنا چاہ رہی ہو۔‘‘
“سچ بتا دوں۔“ ورشا نے اسے ترچھی نظروں سے دیکھا۔
“ہاں ضرور سچ بولنے میں کیا حرج کیا۔”
”مجھے تمہاری ایک تصویر چاہئے ۔“ وہ ذرا جھجکتی ہوئی بولی۔
“میری تصویر لیکر کیا کرو گی میری تصویر مجھ سے اچھی تو نہیں۔” وہ ہنسا۔
“ٹھیک کہا تم نے … تمہاری تصویر واقعی تم سے اچھی نہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ تم ہر وقت تو میرے پاس نہیں ہوتے۔ پھر میں کیا کروں۔ میں چاہتی ہوں کہ تم ہر وقت میرے پاس رہو۔ تم تصویر کی صورت میں ہی میرے پاس ہو سکتے ہو۔ تمہاری تصویر میرے پاس ہو گی تو جب دل چاہے گا۔ اسے میز کی دراز سے نکال کر دیکھ لوں گی ۔تم سے وہ باتیں کر لوں گی جو میں تم سے کہہ نہیں پاتی ۔
اس نے خلاف معمول نظریں جھکا کر کہا۔
” پھر تو میں تمہیں اپنی تصور نہیں دوں گا۔”
ساحل عمر نے انکار کیا۔
”کیوں آخر ؟“ وہ چونک کر بولی۔
“پھر میں وہ باتیں کیسے سنوں گا جو میری تصویر سے کرو گی تمہارے پاس میری تصویر نہ ہو گی تو مجبور ہوکر ایک نہ ایک دن تم وہ باتیں مجھ سے کرنے لگو گی۔”
” ہر گز نہیں۔‘‘ ورشانے بڑے یقین سے کہا۔
”تم چاہے مجھے اپنی تصویر دو یا نہ دو۔ وہ باتیں میں تم سے ہر گز نہیں کرسکتی۔ وہ خاص پرائیویٹ باتیں میں تم سے ہرگز نہیں کرسکتی۔ وہ خاص پرائیویٹ باتیں ہیں جو تمہاری تصویر سے کی جاسکتی ہیں تم سے نہیں۔“ ورشانے یہ کہہ کر کچھ ایسی نظروں سے اسے دیکھا کہ ساحل عمر کو اپنی آنکھیں جھکاتے ہی بنی
“اچھا پھر میں تمہیں البم دکھانے کے بجائے اپنی لے ٹیسٹ اتری ہوئی تصوریں دکھائے دیتا ہوں ان میں سے کوئی پسند کر لینا۔” ساحل عمر اٹھتے ہوۓ بولا۔
“بالکل ٹھیک !” ورشا ایک دم خوش ہوکر بولی۔
“یوں تو میرا جی چاہ رہا تھا کہ تمہاری ساری البمیں دیکھوں لیکن اس وقت جلدی ہے۔ ممی گھر پر انتظار کر رہی ہوں گی۔ پھر کسی دن آ کر ساری تصوریں دیکھوں گی۔“
ساحل عمر نے چار پانچ نئی اتری ہوئی تصویروں کا لفافہ لاکر اس کے ہاتھ میں دے دیا۔ یہ تصویریں دو ماہ پہلے مسعود آفاقی نے بنائی تھیں ۔
یہ ساری تصویریں دس بارہ سائز میں تھیں۔ ورشا نے جو تصویر پسند کی وہ فرنٹ سائیڈ کلوز تھا۔ وہ اس تصویر کو بہت غور سے دیکھتے ہوۓ بولی۔
” یہ تصویر لے لوں۔“
“لے لو”
ساحل عمر نے باقی تصویریں لفافے میں رکھتے ہوئے کہا۔
’’اچھا بس پھر چلو ممی انتظار کر رہی ہوں گی ۔‘‘
وہ کھڑے ہوتے ہوۓ بولی۔ تصویر اس نے اپنے بیگ میں حفاظت سے رکھ لی تھی۔
ساحل عمر نے پوچھا۔
“کچھ چائے وائے نہیں پیو گی”
”چاۓ تو وہاں پیں گے۔“
ورشا نے اسے گہری نظروں سے دیکھا۔
“آج میری می نے تمہیں چائے پر بلایا ہے۔“
یہ کہہ کر وہ معنی خیز انداز میں ہنس دی۔
“چلو پھر”
ساحل عمر دروازے کی طرف بڑھتے ہوۓ بولا۔
وہ ٹھیک ساڑھے چار بجے بنگلے پر پہنچ گئے۔ گیٹ پر پہنچ کر ورشا نے ایک مخصوص انداز میں ہارن دیا۔ تھوڑی دیر بعد جس عورت نے گیٹ کھولا وہ برکھا نہ تھی۔ وہ سوناں تھی۔
سوناں نے ان دونوں کو بڑے ادب سے سلام کیا۔ ساحل عمر نے سوالیہ نگاہوں سے ورشا کی طرف دیکھا۔
ورشانے اس کی نگاہوں کا سوال سمجھ کر جواب دیا۔ “یہ سوناں ہے۔ میری ممی کی خادمہ خاص ہے۔“
”واقعی خاص ہے۔‘‘ ساحل عمر نے تعریف کی۔
”تم نے اسے کس نظر سے دیکھا۔‘‘ ورشا نے اسے تیکھی نظروں سے دیکھا۔
“اپنی نظر سے۔” اس نے ایک معنی خیز جواب دیا۔
“ہو سکے تو آئندہ اپنی نظروں کو نیچی رکھنا میں کسی کی تعریف برداشت نہیں کر سکوں گی۔“ ورشانے گاڑی سے باہر نکلتے ہوۓ کہا۔
“آدمی کو اس قد رجیلس نہیں ہونا چاہئے۔” ساحل عمر گاڑی کا دروازہ بند کر تے ہوئے بولا۔
“تم جانتی ہو کہ میں آرٹسٹ آدمی ہوں۔ کسی بھی اچھی چیز کو دیکھ کر اس کے لیے اچھے الفاظ خود بخود زبان پر آجاتے ہیں۔”
“میرے را نجھن زبان پر قابو پانا سیکھئے۔ میں چاہتی ہوں کہ آپ کی زبان سے نکلنے والا ہر لفظ میرے لیے ہو۔“
وہ ایک اداۓ خاص سے بولی۔ “اگر ایسا نہ ہوا تو سزا دوں گی‘‘
“پھر تو شاید ساری زندگی سزا کاٹنے میں ہی گزر جائے گی۔” اتنے میں سوناں ان کے نزدیک آگئی تو باتوں کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔ ورشا نے مسکرا کر اس سے پوچھا۔
سوناں ممی کہاں ہیں؟
“وہ اپنے کمرے میں ہیں”
سوناں نے بڑے مودبانہ انداز میں جواب دیا۔
“آپ صاحب کو لیکر ڈرائنگ روم میں چلئے میں انہیں اطلاع دیتی ہوں۔“
’’اچھا ٹھیک ہے۔‘‘
ورشانے سوناں کو جواب دیا پھر وہ ساحل عمر سے مخاطب ہوکر بولی۔
’’ آؤ میرے رانجھن ۔‘‘
“ورشا‘ تم کہاں رہتی ہو؟‘‘
ساحل عمر کا سوال سن کر وہ سمجھ نہ پائی کہ اس کے جملے کا مطلب کیا ہے۔ اس نے الجھی نظروں سے اسے دیکھا اور دھیرے سے بولی۔
’’کیا مطلب؟‘‘
اصل میں ساحل عمر جیسے ہی اس بنگلے کے احاطے میں داخل ہوا اور اس نے بنگلے کی عمارت پر ایک نظر ڈالی تو اسے اس بنگلے کے در و دیوار سے وحشت ٹپکتی محسوس ہوئی تھی۔ اسے یوں لگا تھا جیسے بھوتوں کے مسکن میں چلا آیا ہو۔ ایک تو یہ بنگلہ پرانے انداز کا بنا ہوا تھا۔ اوپر سے خستہ حال تھا۔ اس کی ظاہری ٹپ ٹاپ پر کوئی توجہ نہیں دی گئی تھی۔ ظاہری حالت کے ساتھ اس کی اندرونی کیفیت بھی وحشت ناک تھی۔ اسی لیے ساحل عمر نے ورشا سے پو چھا تھا کہ تم کہاں رہتی ہو؟
اس کا خیال تھا کہ ورشا جیسی لڑکی کو کسی مارڈن بنگلے میں ہونا چاہئے تھا۔ اس کی رہائش گاہ دیکھ کر ساحل عمر کو بڑی مایوسی ہوئی تھی۔
“یہ علاقہ یہ بنگلہ اور تم جیسی لڑ کی…. ان تینوں چیزوں میں کوئی مناسبت نہیں۔“ اس کی رہائش گاہ دیکھ کر ساحل عمر نے اپنی بات واضح کی۔
“اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔ میری ممی کو یہ گھر بہت پسند ہے وہ اسے چھوڑ نا نہیں چاہتیں میرا تو بہت جی چاہتا ہے کہ میں کلفٹن چلی جاؤں۔‘‘ ورشا نے اپنے دل کی بات ظاہر کی۔
“تمہاری ممی میں کوئی پرانی روح گھسی ہوئی معلوم ہوتی ہے؟” وہ ایک صوفے پر بیٹھتا ہوا بولا ۔
“مجھے حیرت ہے آپ دونوں اتنے بڑے اور ویران سے بنگلے میں کس طر ح رہتی ہیں۔”
اس سے پہلے کہ ورشا کوئی جواب دیتی سوناں اچانک ڈرائینگ روم کے دروازے پر نمودار ہوئی اور با آواز بلند ہوئی۔ ”برکھا دیوی آرہی ہیں۔“
برکھا کے آنے کا سوناں نے کچھ اس طرح اعلان کیا جیسے کسی ملک کی ملکہ معظمہ تشریف لا رہی ہوں۔ ورشا کو بھی یہ بات عجیب محسوس ہوئی۔ وہ جانتی تھی کہ اس کی ماں کی کوئی کل سیدھی نہیں ہے وہ کسی وقت کوئی بھی قدم اٹھا سکتی ہے ۔ وہ ڈرامہ باز عورت تھی۔ اسے ڈرامہ کر کے بڑا مزہ آتا تھا۔
ساحل عمر تھوڑا ساسنبھل کر بیٹھ گیا۔ چند سیکنڈ کے بعد ڈرائنگ روم کے دروازے پر ایک
شعلہ سا لپکا ۔ ساحل عمر احتراما کھڑا ہو گیا۔ اس نے دیکھا کہ سرخ ساڑھی میں ایک سفید بدن کی پر کشش عورت دروازے میں داخل ہو رہی ہے۔ اس نے اچھا خاصا میک اپ کر رکھا تھا۔ بغیر آستین کا چھوٹا بلاؤز پہنے اور فلمی اداکاراؤں کی طرح نیچی ساڑھی باند ھے، وہ کسی فلم کی ہیروئن بنے کی کوشش میں تھی۔ برکھا کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بھی سجی ہوئی تھی اور آنکھیں کسی ناگن کی طرح چمک رہی تھیں۔
ورشا کو ماں کا اس طرح فل میک اپ اوز نیم عریاں انداز میں آنا اچھا نہ لگا۔ اسے یوں لگا جیسے اس کی ممی اس کے ور کے بجاۓ اپنے ور سے ملنے آئی ہو۔ یہ اس کی ماں کو دن بدن کیا ہوتا جا رہا ہے
برکھا نے ہاتھ کے اشارے سے صوفے پر بیٹھنے کو کہا۔ انداز میں بڑی تمکنت تھی ۔
“جی شکریہ۔“
”کیسے ہو ساحل۔‘‘ برکھا نے پروقار لہجہ بنانے کی کوشش کی۔
“جیسا ہوں، آپ کے سامنے ہوں۔” ساحل عمر نے سیدھے لہجے میں جواب دیا۔
“تم ویسے نہیں ہو جیسا میں دیکھنا چاہتی ہوں، تم ویسے بن جاؤ جیسا میں چاہتی ہوں۔”
“پتہ نہیں جی آپ کیا فرمارہی ہیں؟‘‘ ساحل عمر نے برکھا کے بجاۓ ورشا کی طرف دیکھا۔
“تم نے مجھے پہچانا ؟“
برکھا نے عجیب لہجے میں سوال کیا۔
“ظاہر ہے آپ ورشا کی ممی ہیں۔” ساحل نے مسکرا کر کہا۔
”وہ تو خیر میں ہوں۔” بر کھانے بے نیازی سے کہا۔
“لیکن میں تمہیں عمر عابد صاحب کے بیٹے کی حثیت سے پہچانتی ہوں۔”
“اپنے والد کا نام سن کر ساحل عمر بے اختیار چونک گیا۔ اس کے والد کا نام تو شاید ورشا کو بھی معلوم نہ تھا۔
“حیرت ہے آپ میرے والد کو کیسے جانتی ہیں ۔‘‘
“تمہارے والد اس بنگلے پر آ چکے ہیں۔”
بر کھانے ایک اور انکشاف کیا۔
“ان کا کوئی مسئلہ تھا۔ جو میں نے حل کر دیا تھا۔ پھر ایک دن ان سے میری ملاقات الفنسٹن اسٹریٹ پر ہوئی تھی۔ تم ان کے ساتھ تھے۔ انہوں نے میرا تم سے تعارف کرایا تھا۔تمہیں کہاں یاد ہو گا۔ کافی پرانی بات ہے۔ تم خاصے چھوٹے تھےتھے۔” اس نے کہا۔
”جی مجھے یاد نہیں۔” ساحل عمر نے صاف گوئی سے کام لیا۔
“لیکن مجھے یاد ہے سب ذرا ذرا۔‘‘ برکھا نے مسکراتے ہوۓ کہا۔
“ورشا تمہاری بہت تعریف کرتی ہے۔ ہر وقت تمہارے گن گاتی ہے لیکن سچی بات یہ ہے۔
کہ یہ تمہارے بارے میں کچھ نہیں جانتی، نہ تم خود اپنے بارے میں جانتے ہو کہ تم کیا ہو صرف میں جانتی ہوں کہ تم کیا ہو؟ تم میرے لیے کتنے اہم ہو۔
“میں آپکے کے لیے کیوں اہم ہوں؟‘‘ ساحل عمر نے حیران ہو کر پوچھا۔
” میری وجہ سے۔‘‘
ورشا بے اختیار بولی۔
”شاید” برکھا نے ایک لفظ بول کر ورشا کو بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا کر دیا۔
ورشا کے چہرے پر ایک اداسی سی چھا گئی۔ برکھا نے ورشا کو گہری نظر سے دیکھا اور پھر ساحل عمر سے مخاطب ہوکر بولی۔
’’میں تمہیں کیسی لگی؟‘‘
عجیب سوال تھا۔
ساحل عمر پریشان ہوکر رہ گیا۔ اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ یہاں ورشا کے لیے نہ آیا ہو برکھا کے لیے آیا ہو۔
جیسے برکھا ورشا کی بیٹی ہو۔ ورشا اپنی ماں کی حرکتوں پر شرمندہ ہو رہی تھی لیکن برکھا کو کسی کی پروانہ تھی۔
“آپ بہت اچھی ہیں ۔“ بالآخر ساحل عمر کو کہنا پڑا اگر وہ یہ نہ کہتا تو پھر کیا کہتا۔
“شکریہ ساحل اب میں چلتی ہوں۔” آپ ورشا کے ساتھ بیٹھ کر چائے پیئیں۔ مجھے ایک ضروری کام سے باہر جانا ہے، ورنہ میں تم لوگوں کے ساتھ کچھ دیر اور بیٹھتی۔ امید ہے کہ تم مائنڈ نہیں کرو گے”
کوئی بات نہیں“ ساحل عمر نے سرسری انداز میں کہا جیسے اس کے چلے جانے سے اس کی صحت پر کوئی اثر نہ پڑتا ہو
“ورشا” برکھا اپنی بیٹی سے مخاطب ہوئی۔
“دیکھو ساحل کو بغیر چائے پلائے نہ جانے دینا۔ یہ ہمارے گھر آئے ہیں۔ ہمارے لیئے اعزاز کی بات ہے۔ یہ ملک کے بہت بڑے آرٹسٹ ہیں۔”
یہ کہہ کر برکھا ڈرائنگ روم سے جانے لگی‘ پھر جاتے جاتے ورشا سے بولی۔
”ورشا ایک منٹ ذرا میری بات سننا۔‘‘
“جی ممی آئی۔“
ورشا کھڑے ہوتے ہوۓ بولی۔ “ساحل ایک منٹ ۔‘‘
گویا اس نے اس سے اجازت لی۔
“ہاں ٹھیک ہے ورشا آپ ممی کی بات سن لیں ۔‘‘
ساحل عمر نے خوش اخلاقی سے کہا۔ برکھا دروازے پر جاکر رک گئی۔ جب ورشا قریب آ گئی تو اس نے بہت آہستہ سے پوچھا۔
”جی ممی !‘‘ وہ جلدی سے بولی۔
“کام ہوا؟‘‘
”جی ممی‘ ہوگیا۔‘‘
ورشانے دور بیٹھے ساحل عمر کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔
“شاباش میری جان ! ‘‘
برکھا نے ورشا کے دونوں گال تھپتپاۓ۔ وہ ایک دم خوش ہو گئی تھی۔
”ممی‘ آپ کہاں جا رہی ہیں؟‘‘ ورشانے ہمت کر کے پوچھا۔
” آپ نے ساحل کو بلایا تھا۔‘‘
“ایک ارجنٹ کال پر مجھے جانا پڑ رہا ہے۔ میرے جاۓ بغیر مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ تم اس کے پاس بیٹھو اسے چائے وائے پلاؤ ۔ سوناں گھر میں ہے۔ میں جلدی آنے کی کوشش کروں گی۔ ٹھیک میری جان۔‘‘
“اچھا ممی بائے”
ورشانے بلند آواز میں کہا اور ساحل عمر کے نز دیک آ کر بیٹھ گئی۔ اسے پیاری نظروں سے دیکھا ہلکا سا مسکرائی اور پھر اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بولی
“دیکھا میری ممی کو؟‘‘
“بھئی تمہاری ممی خوب ہیں۔ اس عمر میں بھی ینگ لگتی ہیں۔ “
“کیا مجھ سے بھی زیادہ ینگ“
یہ کہ کر اس نے شرارت آمیز لہجے میں ساحل کو دیکھا اور پھر زور سے ہنس پڑی۔
تم سمندر کی لہر ہو” وہ بولا
“اور ممی” اس نے پوچھا
“وہ بھی سمندر کی لہر ہیں۔”
’’واہ یہ کیا بات ہوئی۔‘‘ وہ خفگی سے بولی۔ “وہ بھی لہر میں بھی لہر۔‘‘
”ہاں مگر تم دونوں میں فرق ہے۔”
’’ اچھا وہ کیا؟‘‘
“تم سمندر کی اٹھتی ہوئی لہر ہو اور تمہاری ممی جاتی ہوئی لہر۔‘‘ ساحل عمر نے ہنس کر کہا۔ اس کی وضاحت سن کر وہ بھی ہنسنے لگی۔
•●•●•●•●•●•●•●•
ساحل عمر کی تصویر دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئی تھی۔ ورشانے یہ لاجواب کام کیا تھا۔ اس نے بہت صاف اور واضح تصویر حاصل کی تھی ۔ اس تصویر کو دیکھ کر برکھا کی باچھیں کھل گئی تھیں۔ اس نے اس تصویر پر بے اختیار اپنے ہونٹ رکھ دیے تھے اور پیار بھرے لہجے میں بولی تھی۔
“میرا مانا‘‘
اس وقت برکھا اپنے ’’آپریشن تھیٹر‘‘ میں موجود تھی۔ ورشا بھی اس کے ساتھ بیٹھی تھی۔ اس نے ورشا کو بہت سے عمل سکھا دیئے تھے۔ شروع شروع میں تو ورشا نے ان عملیات میں کوئی دلچسپی نہ لی لیکن جب اس نے اس سفلی علم کے اثرات دیکھے تو وہ خود بخود لائن پر آ گئی۔ اس وقت وہ برکھا کی دائیں جانب کسی معمول کی طرح آنکھیں بند کیے بیٹھی تھی
برکھا کے ہاتھ میں ساحل عمر کی تصویر موجود تھی وہ دھیرے دھیرے کچھ پڑھ رہی تھی۔ پھر اس نے اپنے بائیں ہاتھ سے زمین پر ایک دائرہ بنایا اور اس تصویر کو اس نے دائرے میں رکھ دیا۔ پھر اس نے دائیں جانب مڑ کر ورشا کو دیکھا۔ وہ اس کا اشارہ سمجھ کر اٹھی اور کارنس پر رکھے شیشے کے پیالے کو اٹھا لائی۔ اس پیالے میں ایک سرنج رکھی تھی۔ پیالہ دے کر ورشا پیٹھ موڑ کر بیٹھ گئی۔ برکھا نے اس کے بلاؤز کے دو ٹچ بٹن کھول دیئے۔ اس کی پیٹھ پر بنا بچھو صاف دکھائی دینے لگا۔ برکھا نے سوئی بچھو کے منہ پر رکھی اور ہلکا سا دباؤ ڈالا۔ سوئی کھال میں گئی تو ورشا نے سسکاری بھری۔
برکھا نے آدھی سرنج کے قریب ورشا کا خون نکال لیا اور پھر روئی کے ذریعے اس نے اس خون کو ساحل عمر کی پوری تصویر پر اچھی طرح مل دیا اور اس کے بعد اس نے ورشا سے باہر جانے کو کہا۔
ورشا خاموشی سے کسی معمول کی طرح اٹھ کر باہر نکل گئی اور جاتے جاتے کمرے کا دروازہ بھیڑ گئی۔
ورشا کے باہر جانے کے بعد وہ ساحل عمر کی تصویر پر کچھ پڑھ پڑھ کر پھونکتی رہی یہ عمل آدھے گھنٹے تک جاری رہا۔ جب یہ عمل ختم ہوا تو کمرے کے چاروں کونوں سے بچھو نکل کر آنے لگے گے۔ برکھا نے فوراً اس تصویر کو دائرے میں رکھ دیا اور خود دائرے سے دور ہو کر بیٹھ گئی۔
دیکھتے ہی دیکھتے بچھوؤں نے تصویر کو اچھی طرح ڈھک لیا۔ جب پوری تصور پر بچھو اچھی طرح چھا گئے تو برکھا کے ہونٹوں پر ایک شیطانی مسکراہٹ پھیلنے گی۔ وہ آہستگی سے اٹھ گئی۔ کمرے سے باہر نکل کر اس نے باہر سے دروازہ بند کر دیا اور پھر اس میں ایک بڑا سا تالا ڈال دیا۔
پھر اس نے ورشا کے کمرے میں جھانکا۔ وہ آرام سے لیٹی ایک رسالہ دیکھ رہی تھی۔ ماں کو کمرے میں جانکتا پا کر اس نے پوچھا۔
“کیا رہا ممی۔“
“اعوروں نے اس کی تصویر کوگھیر لیا ہے۔ صبح تک کچھ نہ بچے گا۔‘‘ برکھا نے خوش ہوکر کہا پھر وہ پورے اطمینان سے اپنے کمرے میں جاکر پاؤں پھیلا کر سو گئی
برکھا کے جانے کے بعد اس نے رسالہ ایک طرف رکھ کر گھڑی پر نظر ڈالی۔ ساڑھے بارہ بجے کا عمل تھا۔ اس نے ٹیلی فون کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ پر بڑھا ہوا ہاتھ کھینچ لیا۔ سوچنے لگی کہ ممکن ہے ساحل سو چکا ہو نہ بھی سویا تو کسی کے گھر فون کرنے کا مناسب وقت تو نہ تھا۔
پر اس کا دل نہ مانا۔ اس نے سمجھایا کہ فون کر کے دیکھ لینے میں کیا حرج کیا۔ اگر وہ جاگ رہا ہوگا اور بات کرنے کے موڈ میں ہو گا تو بات کرے گی ورنہ ” ہیلو ہاۓ‘‘ کر کے فون بند کر دے گی۔ یہ سوچ کر اس نے دوبارہ ٹیلی فون کی طرف ہاتھ بڑھایا ٹیلی فون کو اپنی گود میں رکھ کر ساحل عمر کا نمبر ڈائل کیا۔
جلد ہی اسے ساحل عمر کی مخصوص انداز میں’’ جی‘‘ سنائی دی۔
“ہاۓ رانجھن۔” اس نے بڑے میٹھے لہجے میں اسے پکارا۔
“اوہ یہ تم ہو؟” ساحل عمر نے گھڑی پر نظر ڈالتے ہوۓ خوش اخلاقی سے کہا۔
“کیا کر رہے تھے؟‘‘
“سچ بتاؤں۔“ اس نے پوچھا
“ہاں پلیز……”
“جانے کیوں ابھی ابھی تمہارا خیال آیا تھا تم بے اختیار یاد آئی تھیں۔”
“شکر ہے …. میں تمہیں یاد تو آنے لگی۔”
“پتہ نہیں اس وقت میری عجیب سی کیفیت ہو رہی تھی۔ جی چاہ رہا تھا کہ فورا تم سے ملوں تم سے بات کروں۔ اتنے میں تمہارا فون آ گیا۔”
“اس کیفیت کو جانتے ہو کیا کہتے ہیں۔” ورشا نے پوچھا۔
“نہیں، میں نہیں جانتا۔‘‘ ساحل عمر نے صاف گوئی سے کام لیا۔
’’اس کیفیت کو محبت کہتے ہیں….. تمہیں مجھ سے محبت ہو گئی ہے۔‘‘ وہ ہنسی اور ہنستی چلی گئی ۔
’’ورشا…..میں الجھ گیا ہوں۔‘‘ ساحل عمر کچھ پریشان سا تھا۔
’’ہاں……میری زلفوں میں الجھ گئے ہو میری زلفوں کے اسیر ہو گئے ہو۔“
اپنی دھن میں مگن تھی۔
“کچھ پتہ نہیں کیا ہو رہا ہے۔ کیا ہونے والا ہے۔ میرے دل میں عجب وسوسے سے اٹھ رہے ہیں میرے دل پر بادل سے چھاۓ ہیں۔ گھبراہٹ سی ہو رہی ہے۔ اچھا ورشا میں تم سے پھر بات کروں گا۔‘‘
ساحل عمر نے یہ کہہ کر ریسیور رکھ دیا اس نے ورشا کا جواب سننے کی زحمت بھی گوارانہ کی۔ ورشا ریسیور تھامے کچھ دیر پریشانی کے سے عالم میں بیٹھی رہی پھر اس نے ایک گہرا سانس لے کر ریسیور رکھ دیا۔ پھر لائٹ بجھا کر سونے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔
بر کھا کو آج صبح تڑ کے ہی اٹھنا تھا۔ سورج نکلنے سے پہلے ہی کمرے میں جانا تھا۔ وہ فورا اٹھ کر بیٹھ گئی اور منہ ہی منہ میں کچھ پڑھتی ہوئی جاپ والے کمرے کی طرف چل دی۔ اس نے کمرے کا بڑا سا تالا کھولا اور بے تابی سے دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوئی۔ اب وہاں ایک بھی بچھو نہ تھا۔ برکھا نے جھک کر ساحل عمر کی تصویر اٹھالی اور جب اس نے خوش ہو کر
اس کی تصور پر نظر ڈالی تو خوشی ایک دم اداسی میں بدل گئی۔
بر کھا کو زبردست حیرت کا جھٹکا لگا۔
⁦✧✧⁩⁦✧✧⁩⁦✧✧⁩
حیرت کا جھٹکا آخر کیوں نہ لگتا؟ کام ہی کچھ ایسا ہوا تھا۔ اس نے یہ سوچ کر تصویر اٹھائی تھی کہ ساحل عمر کی تصویر غائب ہو چکی ہوگی وہاں صرف سادہ کاغذ رہ گیا ہوگا۔ پھر وہ اس کاغذ کے چار ٹکڑے کر کے انہیں جلائے گی اور اس کی را کھ ورشا کے حوالے کر دے گی تا کہ وہ اس را کھ کو ساحل عمر کو کھلا دے اور جونہی ساری را کھ اس کے خون میں شامل ہوگیا وہ ورشا کا مطیع ہو جائے گا۔ پھر ورشا کے ذریعے وہ ساحل عمر پر حکومت کرے گی۔ اسے دھیرے دھیرے وہاں لے جاۓ گی جہاں لے جانا چاہتی ہے۔ تصویر دیکھ کر اس کے سارے خواب چکنا چور ہو گئے۔ ساحل عمر کی تصویر کاغذ پر موجود تھی۔ البتہ یہ ضرور ہوا تھا کہ تصویر کہیں کہیں سے اڑی تھی۔ جیسے تصویر بہت پرانی ہو جائے تو اس پر ٹوٹے پھوٹے سفید دھبے پڑ جاتے ہیں۔ بس ایسی ہی ہو گئی تھی اس کی تصویر لیکن ایسا کیوں ہوا تھا آخر؟ یہ تو اس کا آزمودہ عمل تھا۔ کئی بار اس نے مختلف لوگوں کے لیے کیا تھا۔ یہ وہ عمل تھا جو سب سے پہلے اس کے باپ نے کیا تھا۔ اس سے اس نے سیکھا تھا۔ اس عمل کے ناکام ہونے کا کوئی سوال ہی نہ تھا۔
کبھی انہونی بھی ہو جاتی ہے وہ ہو گئی تھی۔
جب ساحل عمر نے ورشا سے بات کرتے کرتے اچانک ریسیور رکھ دیا تو ورشا کو عجیب سا لگا تھا اس سے پہلے اس نے کبھی ایسا نہ کیا تھا۔یہ اسکی تو عادت تھی کہ وہ بات کرتے کرتے ریسیور رکھ دیتی تھی۔شاید اسی کا سایہ اس پر پڑ گیا تھا۔ ساحل عمر کو اپنی اس حرکت پر بعد میں شرمندگی ہوئی تھی لیکن وہ ایسا کرنے پر مجبور تھا۔ اصل میں بات کرتے کرتے اچانک اس کی آنکھوں کے سامنے تارے سے ناچنے لگے تھے۔ اسے ایک زور دار چکر آیا تھا کہ اس کا ہاتھ خود بخود کریڈل پر پہنچ گیا تھا غیر ارادی طور پر ریسیور فون سیٹ پر رکھا گیا تھا۔
اس کے دل پر شدید گھبراہٹ سی طاری تھی۔ آنکھوں کے آگے اندھیرا چھایا ہوا تھا اور سر گھوم رہا تھا۔ وہ اپنا سر جھکاۓ اور اسے دونوں ہاتھوں سے تھامے بیٹھا تھا۔
تبھی اس نے دیکھا کہ کوئی چیز بڑی تیزی سے اس کے گرد چکر لگا رہی ہے۔ وہ تہکال تھا جواس کے گردگھوم رہا تھا۔ وہ بے وزن تھا بے آواز تھا اور کبھی اسے دکھائی دے رہا تھا اور بھی نہیں دکھائی دے رہا تھا۔
پھر اچانک ہی اس کی طبیعت سنبھل گئی تھی۔ وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا تھا اور چند لمحوں پہلے اس نے جو کچھ محسوس کیا تھا یا کھلی آنکھوں سے دیکھا تھا وہ اب محض ایک خواب لگ رہا تھا۔ وہ نہیں جانتا تا کہ یہ سب کیا ہوا ہے۔ تہکال اچانک کہاں سے آ گیا۔ اس نے اس کے گرد چکر کیوں لگائے۔
بہرحال جو بھی ہوا تھا لیکن کمرے میں کسی قسم کے آ ثارنہیں تھے۔ یہ ظاہرنہیں ہوتا تھا کہ اتنا بڑا جانور اس کمرے میں گھوم کر گیا ہے۔ اس وقت رات کا پون بجا تھا۔ اماں شاید جاگ رہی ہوں اس نے سوچا۔ ان سے تذکرہ کر کے دیکھے انہیں اپنا حال سناۓ اپنی کیفیت بیان کرے۔ پھر اس نے سوچا جب کمرے میں کسی چیز سے یہ ظاہر نہیں ہو رہا کہ یہاں کوئی چیتا چھلانگیں مار کر گیا ہے تو وہ اماں کو کیسے یقین دلاۓ گا۔ اسے یہ تو معلوم تھا۔ اس بات کا پکا یقین تھا کہ وہ اماں کو بتاۓ گا اس پر وہ من وعن یقین کر لیں گی مگر وہ پہ سب بتا کر انہیں پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ بیچاری اس کی طرف سے ویسے ہی خاصی پریشان رہتی ہیں۔
سوچتے سوچتے اچانک اس کی نگاہ رشا ملوک کی تصویر پر پڑی۔ وہ اس تصویر کو دیکھ کر چونک پڑا اور جس چیز نے اسے چونکایا اس کی تصدیق کے لیے تصویر کے نزدیک جانا ضروری تھا۔
اس نے محسوس کیا تھا کہ رشا ملوک کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو جو جم کر برف بن گئے تھے وہ برف کے آنسو اب پگھلنے لگے تھے۔
وہ فورا اٹھ کر تصویر کے نزدیک پہنچا۔ اس نے ان آنسوؤں کوغور سے دیکھا۔ وہ آنسو واقعی پگھل رہے تھے پانی بن رہے تھے لیکن پانی بن کر بہ نہیں رہے تھے ۔ وہ پانی ہوا میں تحلیل ہوتا جا رہا تھا۔ کچھ دیر میں وہ آنسو تصویر سے غائب ہو گئے۔ اب تصور مکمل اور صاف تھی۔
ساحل عمر کے دل پر سرشاری سی چھا گئی۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس نے خود اپنے ہاتھوں رشاملوک کے آنسو پونچھ دیے ہوں۔
⁦ ✯✯✯✯✯✯
ناصر مرزا کے چیرے پر سنجیدگی چھا گئی تھی۔ اس کی گاڑی نے میر ہالٹ کے سٹاپ سے ماڈل کالونی کی طرف رخ اختیار کر لیا تھا۔ شام کے چار بجے تھے۔ وہ حافظ موسی خان سے ملنے جا رہا تھا۔ حافظ موسی کا پتہ اس کے میجر زاہد ملک نے بتایا تھا۔
پتہ ڈھونڈنے میں ناصر مرزا کو کوئی دقت پیش نہ آئی مارکیٹ میں پانچ کر جب اس نے ایک جنرل اسٹور والے سے حافظ موسی کا پتہ معلوم کیا تو حافظ موسی کا نام سن کر اس نے بڑی عقیدت سے ناصر مرزا کو دیکھا۔ اگرچہ ان کا گھر نزد یک ہی تھا پھر بھی اس جزل سٹور والے نے اپنی دکان کے لڑ کے کو ناصر مرزا کے ساتھ کر دیا۔
گھر کے سامنے پہنچ کر اس لڑکے نے چاہا کہ وہ گیٹ پر لگی بیل بجا کر اندر سے کسی کو بلا دے مگر ناصر مرزا نے منع کر دیا۔ اس نے کہا۔
’’بس بیٹا آپ جائیں۔ میں خود دروازہ کھٹکھٹا لوں گا۔
’’اچھا جی۔‘‘ لڑ کا یہ کہہ کر واپس اپنی دکان پر چلا گیا۔
ناصر مرزا نے گیٹ کی دیوار کے ساتھ اپنی گاڑی کھڑی کی۔ پھر گیٹ پر آ کر کال بیل کا بٹن دبایا۔ چارسوگز پر بنے اس مکان کی چار دیواری اتنی اونچی تھی کہ اندر کا گھر نظرنہیں آ رہا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک پندرہ سولہ سالہ لڑکے نے گیٹ کھولا اور اپنے سامنے ایک بھاری بھرکم شخصیت کو پا کرتھوڑا سا جھک گیا۔ اس کے چہرے پر نتمی سی آ گئی تھی اور اس نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھتے ہوۓ پوچھا۔
” جی فرمایئے کس سے ملنا ہے؟‘‘
“بیٹے مجھے حافظ جی سے ملنا ہے۔‘‘ ناصر مرزا نے دھیمے لہجے میں کہا۔
“اچھا آپ ٹھہریے۔ میں ان سے پوچھتا ہوں۔ اس وقت وہ پچھلے حصے میں ہیں۔ آپ اپنا نام بتائے۔ میں دروازے کے باہر کھڑے ہو کر آپ کا نام لوں گا۔ اگر انہوں نے اجازت دے دی تو ملاقات ہو جاۓ گی ورنہ آپ کو دوبارہ زحمت کرنا پڑے گی۔”
اس لڑ کے نے خلاف توقع بڑی تفصیل سے ساری صورتحال سمجھائی۔
“ٹھیک ہے .میرا نام ناصر مرزا ہے۔ میں حسن اسکوائر سے آیا ہوں۔”
وہ لڑکا اس کا نام سن کر اندر چلا گیا۔ ناصر مرزا گیٹ کے سامنے سے ہٹ کر اپنی گاڑی کے نزدیک آ کر کھڑا ہو گیا۔ وہ سوچنے لگا کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ اس کے میجر نے بتایا تھا کہ وہ بہت کم لوگوں سے ملتے ہیں۔ ان سے ملنے کے لیے لوگ چکر پر چکر لگاتے رہے ہیں۔ وہ شخص بڑا خوش قسمت ہوتا ہے جسے پہلی ہی دفعہ میں شرف باریابی حاصل ہو جاتا ہے۔
تھوڑی دیر کے بعد گیٹ پر کھڑ کھڑاہٹ ہوئی تو ناصر مرزا فورا گیٹ کے سامنے آ گیا۔
لڑکا چھوٹے گیٹ سے برآمد ہوا اور مسکرا کر بولا ’’ آپ کو اندر بلایا ہے‘‘
“شکریہ بیٹے!‘‘ ناصر مرزا نے ممنونیت سے کہا لڑکا کچھ نہ بولا۔ جب وہ گیٹ کے اندر
داخل ہو گیا تو لڑکے نے گیٹ اندر سے بند کر دیا اور اسے اپنے پیچے آنے کا اشارہ کیا۔ ’’آیئے۔”
ناصر مرزا کا خیال تھا کہ وہ اسے گھر میں لے جائے گا لیکن اس نے گھر میں جانے کی بجاۓ گھر کے پچھواڑے کا رخ کیا۔ یہ گھر درختوں پودوں اور کیاریوں سے گھرا ہوا تھا۔ جب وہ گھر کے پچھلے حصے میں پہنچے تو ناصر مرزا کو ایک دیورا نظر آئی اس دیوار میں ایک دروازہ تھا جو بند تھا
لڑکا دروازے کے سامنے رک گیا اور زور سے بولا ۔ ’’بابا! دروازہ کھولیے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ لڑکا واپس مڑا اور ناصر مرزا سے مخاطب ہوا۔ ’’ابھی دروازہ کھلے گا آپ اندر چلے جایئے گا اور دروازہ اندر سے بند کر لیجیئے گا۔”
“ٹھیک ہے۔‘‘ناصر مرزا نے کہا۔
وہ لڑکا جس راستے سے آیا تھا اس راستے سے واپس چلا گیا۔ لڑکے کے جانے کے بعد دروازہ کھلا لیکن دروازے میں کوئی نظر نہ آیا۔ البتہ کچھ فاصلے پر نیم کے درخت کے نیچے ایک چارپائی پر بیٹھا شخص ضرور نظر آیا۔ اس شخص کا چہرہ دروازے کی طرف تھا۔
وہ بولا۔’’آؤ بھائی اندر آ جاؤ۔‘‘
وہ بہت آہستہ آہستہ بڑے مودبانہ انداز میں چار پائی پر بیٹھے شخص کی طرف بڑھا۔ یہ سن کر ناصر مرزا فورا دروازے میں داخل ہو گیا اور اس نے پلٹ کر دروازہ بند کر دیا۔ پھر ناصر مرزا نے چاروں طرف نظریں دوڑا کر دیکھا لیکن اسے وہاں حافظ موسی کے سوا کوئی نظر نہ آیا تو پھر دروازہ کس نے کھولا تھا؟ حافظ موسی اگر دروازہ کھولتے تو وہ اسے دروازے پر نظر آتے ۔ دروازہ کھلتے ہی حافظ موسی دور چار پائی پر بیٹھے نظر آۓ تھے۔ ان کے ایک ہاتھ میں ایک موٹی سی لاٹھی تھی۔ وہ چارپائی پر پاؤں لٹکائے بیٹھے تھے اور لاٹھی دونوں ٹانگوں کے درمیان تھی جو انہوں نے دونوں ہاتھوں سے تھام رکھی تھی اور ذرا آ گے کو جھکے بیٹھے تھے۔
وہ ایک بھرے بھرے چہرے والے سرخ سفید آدمی تھے ۔ اگرچہ بیٹھے تھے لیکن اندازہ ہو رہا تھا کہ اونچے قد کاٹھ کے مالک ہیں۔ انتہائی نورانی چہرہ۔ ایسا کہ ایک بار دیکھے تو پھر نظریں ہٹانے کو جی نہ چاہے۔ اندھے تھے۔ ان کی دونوں آنکھوں میں پتلیاں نہ تھیں محض سفیدی تھی اور آنکھیں قدرے سکڑی ہوئی تھیں۔ آ نکھیں نہ ہونے کے باوجود ان کے چہرے میں بے پناہ کشش تھی
ناصر مرزا جب ان کے نزدیک پہنچا تو حافظ موسئ نے کڑک دار لہجے میں کہا۔ ’’اچھا بچو اب تم جاؤ۔ کل اچھی طرح سبق یاد کر کے آنا۔“
ناصر مرزا نے بڑی حیرت سے انہیں پھر ان کے سامنے اس کے بعد چاروں طرف حتی کہ نیم کے درخت پر بھی نظر ڈالی مگر اسے وہاں کوئی بچہ نظر نہ آیا۔ دروازہ بھی جوں کا توں بند تھا۔ چند لمحے حافظ موی نے جیسے ان بچوں کے جانے کا انتظار کیا۔ پھر ناصر مرزا سے مخاطب ہو کر دھیمے لہجے میں بولے ’’ہاں بھائی آؤ بیٹھو۔ بتاؤ کیوں آئے ہو؟‘‘
ناصر مرزا ان کے قدموں میں نیچے گھاس پر بیٹھ گیا۔ حافظ موسی کوفورا احساس ہو گیا کہ وہ نیچے بیٹھ گیا ہے۔ انہوں نے کہا۔’’بھائی مجھ گنہگار کو مز ید کیوں گنہگار کر تے ہو آؤ چار پائی پر بیٹھ جاؤ ‘‘
انہوں نے اپنے سرہانے کی طرف اشارہ کیا
ناصر مرزا اب اتنا بد تہزیب بھی نہ تھا کہ ان کے سرہانے چڑھ کر بیٹھ جاتا وہ ان کی پائنتی کی طرف مؤدبانہ انداز میں بیٹھ گیا یہ ایک کھری چارپائی تھی اس پر چادر بھی نہ بچھی تھی
“ہاں اب کہو کیسے آئے ہو۔۔۔؟” وہ گویا ہوئے
“حافظ جی آپکے شہر میں ایک جادوگرنی نے ظلم کی انتہا کر رکھی ہے” ناصر مرزا نے شکوہ کیا
“بھائی میرا شہر کہاں، شہر تو شہر والے کا ہے، وہی جانے اپنی حکمت” حافظ موسی نے گریز کا راستہ اختیار کیا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: