Anwar Aleegi Urdu Novels

Bichoo Novel By Anwar Aligi – Episode 12

Bichoo Novel By Anwar Aligi
Written by Peerzada M Mohin
بچھو از انوار علیگی – قسط نمبر 12

–**–**–

“حافظ جی! آپ کو کچھ کرنا ہوگا۔ وہ قتل پرقتل کر رہی ہے۔ ایک اس نے میری بھتیجی کو مارا دوسرے اس نے ایک ایسے شخص کو مار دیا جس نے اس کے قاتلہ ہونے کا سراغ لگایا۔ نہ جانے وہ اب تک کتنے معصوم اور بے گناہ لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار چکی ہوگی۔ آپ اللہ کے برگزیدہ بندے ہے ہیں۔ اللہ نے آپ کو طاقت دی ہے۔ اگر آپ کچھ نہیں کر یں گے تو پھر کون کرے گا؟‘‘ ناصر مرزا نے بڑے امید بھرے انداز میں ان کی طرف دیکھا۔
“بھائی مجھے ان بکھیڑوں میں نہ الجھاؤ۔ ایک گوشے میں بیٹھا ہوں بیٹھا رہنے دو۔“
“آپ موسی ہیں فرعون کی سرکوبی آپ کا فرض ہے۔” ناصر مرزا بضد تھا۔
”بھائی میں نام کا موسی ہوں اور اس شہر میں ایک نہیں ہزاروں فرعون ہیں۔ بتاؤ میں پھر کیا کروں؟“
“اس جادوگرنی کے لیے تو آپ کو ضرور کچھ کرنا ہوگا۔‘‘ ناصر مرزا نے التجا آمیز لہجے میں کہا
”تم تو خود ایک سمجھدار آدمی ہو”
“میں سمجھدار ضرور ہوں لیکن میرے پاس لاٹھی نہیں ہے۔“
’’بھائی لاٹھی میری لے جاؤ۔‘‘ انہوں نے مسکرا کر اس کی طرف لاٹھی بڑھائی۔
“میں لاٹھی کا کیا کروں گا لاٹھی بھی اس کے ہاتھ میں سجتی ہے جو اسے چلانا جانتا ہو۔”
’’بہت ضدی ہو مانو گے نہیں۔“
“ضدی نہیں ہوں مظلوم ہوں۔ آپ کے پاس فریاد لے کر آیا ہوں۔”
“تمہارے پاس تو ایک بڑی اہم دستاویز ہے۔ ایک زبردست خزانہ۔ اسے کیوں نہیں استعال کرتے۔‘‘ حافظ موسی نے اس کتاب کی طرف اشارہ کیا جس میں بہت سے وظائف درج تھے۔
وہ ہاتھ کا لکھا ہوا مخطوطہ فارسی زبان میں تھا اور یہ کتاب اس کے دادا کے پاس سے ملی تھی۔ پتہ ہیں انہیں کتاب کے بارے میں کیسے پتہ چل گیا۔
“میں ایک گاڑی کا مالک ضرور ہوں لیکن مجھے ڈرائیونگ نہیں آتی۔“
میں ڈرائیونگ سکھا دوں گا۔‘‘ وہ بولے۔
“تو پھر میں گاڑی چلا لوں گا۔‘‘ اس نے بھی اس انداز میں کہا۔
“کتاب ساتھ لاۓ ہو؟‘‘ انہوں نے پو چھا۔
“جی لایا ہوں۔‘‘ جواب دیا گیا۔
“کتاب چار پائی پر چھوڑ جاؤ۔ چار پانچ دن کے بعد آ نا لیکن اس وقت نہیں صبح میں آنا۔ اس وقت میرے پاس کچھ بچے قرآن شریف پڑھنے آتے ہیں۔‘‘ اس نے بتایا۔
“جی بہت بہتر !‘‘ ناصر مرزا نے ہاتھ کا لکھا ہوا مخطوطہ جو اس نے کتاب کی شکل میں مجلد کروایا ہوا تھا اپنے بریف کیس سے نکال کر چارپائی کے سرہانے رکھ دیا اور پھر وہ کھڑا ہو گیا ۔
’’اچھا حافظ جی میں چلوں۔”
“نہیں بیٹھ جاؤ اور مجھے ہر وہ بات بتاؤ جوتم مجھے بتانا چاہتے ہو۔‘‘
ناصر مرزا ان کا حکم سن کر پھر چار پائی پر بیٹھ گیا اور اس نے ان واقعات کو وہاں سے شروع کیا جہاں سے وہ شروع ہوۓ تھے۔ اس نے بتایا کہ کس طرح اس کے دوست ساحل عمر نے ایک تصویر بنائی اور اس نے کیا رنگ اختیار کیا۔ اس داستان میں ورشا کا بھی ذکر ہوا برکھا پر بھی فرد جرم عاید کی گئی۔ چیتے والی تصویر کا بھی ذکر ہوا۔ عابد منجم کے ساتھ کیا بیتی یہ بھی ان کے گوش گزار کیا بھتیجی کا اغوا اور پھر اس کا قتل۔ عابد منجم کے ساتھ ہولناک واردات۔ غرض جب ہر وہ بات بتا دی گئی جو وہ بتانا چاہتا تھا تو ساری بات سن کر حافظ موسی گویا ہوۓ۔
“پانچ دن کے بعد آنا اور ساتھ اس لڑ کے کو بھی لانا کیا نام ہے اس کا؟‘‘
“جی ساحل عمر۔‘‘
اصل قصہ تو اس کا ہے۔ وہ سفلی والی شیطان کی چیلی اس کے پیچھے لگی ہے۔لو دیکھو!‘‘
حافظ موسی نے اپنی لاٹھی اس کی طرف کی۔
” کہاں دیکھوں؟”
اس آنکھ دیکھو۔‘‘ حافظ موسی نے موٹی لاٹھی میں بنی ایک آنکھ نما گڑھے کی طرف اشارہ کیا۔
حافظ موسی جب تک وہ واقعات سناتا رہا تھا اس لاٹھی میں بنی آ نکھ سے اپنی اندھی آنکھ لگاۓ بیٹے تھے۔
جب اس نے اس لاٹھی کی آنکھ پر اپنی آ نکھ رکھی تو برکھا اسے واضح طور پر نظر آئی۔
“جی یہی ہے۔‘‘ ناصر مرزا نے تصدیق کی۔
اس سفلی والی کو پچھاڑنے کے لیے بہت محنت کرنا ہوگی۔ میں تمہاری مدد کروں گا لیکن اصل محنت تمہیں خود کرنا ہوگی۔” اس نے آئندہ کا لائحہ عمل بتایا۔
“حافظ جی! آپ جو کہیں گے کروں گا۔ بس میں اسے ٹھکانے لگانا چاہتا ہوں۔‘‘ ناصر مرزا نے اپنی دلی خواہش ظاہر کی۔
“بڑی عیار لومڑی ہے بھائی۔” حافظ موسی نے پر فکر انداز میں کہا۔ ’’خیر اللہ مالک ہے۔“
“آپ کا ہاتھ میرے کندھے پر رہا تو میں اسے مار گراؤں گا۔‘‘
حافظ موسی نے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ یکایک خاموش ہو گئے۔ ناصر مرزا نے محسوس کیا کہ وہ کچھ سوچ رہے ہیں۔ انہوں نے دونوں ہاتھوں سے لاٹھی پکڑ کر سر جھکا لیا تھا۔ پھر انہوں نے کچھ دیر کے بعد سر اٹھایا اور بولے۔’’اس کتاب کا صفحہ سات کھولو ‘‘
ناصر مرزا نے ان کے سرہانے سے وہ کتاب اٹھا کر اس کا صفحہ سات کھول لیا۔’’جی‘‘
’’فارسی پڑھ لیتے ہو؟‘‘ انہوں نے پو چھا۔
“جی پڑھ تو لوں گا لیکن اچھی طرح سمجھتا نہیں ہوں۔‘‘ ناصر مرزا نے بتایا۔
’’اچھا پڑھو میں سمجھاتا ہوں۔‘‘
ناصر مرزا نے صفحہ سات پر جو درج تھا وہ پڑھ کر سنا دیا۔ “یہ ایک زبردست وظیفہ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جس طرح میدان جنگ میں اترنے سے پہلے سپاہی اچھی طرح ڈھال اور تلوار کا استعال سیکھتا ہے بالکل اسی طرح تمہیں اس سفلی والی کو پچھاڑنے کے لیے پہلے اپنی حفاظت کا طریقہ سیکھنا پڑے گا۔ بس یوں سمجھ لو کہ یہ وظیفہ ایک طرح سے لائف پروف جیکٹ ہے۔‘‘حافظ موسی نے مسکرا کر کہا۔
پھر انہوں نے اسے اچھی طرح سمجھایا کہ یہ وظیفہ کس طرح پڑھنا ہے۔ کہاں پڑھنا ہے ۔ کس وقت پڑھنا ہے اور پڑھنے کے دوران کیا کچھ ہوسکتا ہے۔ ساری بات اچھی طرح سمجھا کر بولے۔ ’’بھائی سمجھ گئے نا؟‘‘
“جی بالکل میں نے ساری بات بہت اچھی طرح سمجھ لی ہے۔‘‘ ناصر مرزا نے پر یقین اور پر مسرت لجے میں کہا۔
“بس ٹھیک ہے۔ تم اب جاؤ پانچ دن بعد اس وظیفے کے عامل بن کر میرے پاس آنا۔۔ ساتھ میں اس لڑکے کو بھی لانا میں چاہتا ہوں ذرا اسے ایک نظر دیکھ لوں۔”
“جی بہتر ۔‘‘ یہ کہہ کر ناصر مرزا کھڑا ہو گیا۔ پھر وہ دروازہ کھول کر باہر آ گیا۔
باہر کوئی نہ تھا۔ اس نے چند لمحے انتظار کیا۔ جب کوئی نظر نہ آیا تو وہ گردن جھکائے مکان کی طرف دیکھے بغیر گیٹ سے باہر نکل آیا۔ گیٹ سے باہر نکل کر اس نے کال بیل بجائی۔ کچھ دیر کے بعد وہی لڑ کا باہر نکل کر آیا۔ ’’بیٹے گیٹ بند کر لیں۔‘‘
ناصر مرزا نے کہا اور اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔ گاڑی میں بیٹھ کر جب ناصر مرزا اپنے گھر کی طرف چلا تو وہ بہت خوش تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے اس نے کوئی معرکہ سر کر لیا ہو۔ حافظ موسی سے ملاقات ہی کار دارد تھی ۔ اس کے میجر زاہد ملک نے اسے اچھا خاصا ڈرا دیا تھا کہ وہ ملاقات نہیں کرتے۔ ملاقات کرتے ہیں تو بات نہیں کرتے لیکن یہاں تو پہلی دفعہ میں ہی چھکا لگ گیا تھا۔ نہ صرف ملاقات ہو گئی تھی بلکہ انہوں نے ’’لائف پروف وظیفہ‘‘ بھی بتا دیا تھا۔ پھر انہوں نے ساحل عمر کو بھی بلا بھیجا تھا۔ ایک بات انہوں نے البتہ عجیب کی تھی کہ وہ ایک نظر ساحل عمر کو دیکھنا چاہتے ہیں لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اس نے ان کے بارے میں سنا تھا کہ وہ نابینا ہیں اور یہ بات انہیں دکھ کر صحیح ثابت ہو گئی تھی وہ واقعی اندھے تھے ۔ ان کی آنکھوں میں سفیدی کے سوا کچھ نہ تھا۔ پھر یہ دیکھنے والی بات؟
تب اسے خیال آیا کہ انہوں نے کتاب کو کھولے بغیر یہ کیسے کہہ دیا تھا کہ اس کا صفحہ سات کھول کر پڑھو۔
انہوں نے آخر اس کتاب کو کس آ نکھ سے پڑھا؟ وہ اندھے ہوتے ہوۓ بھی اندھے نہ تھے۔ اصل میں ہمارے جسم کو کچھ دیکھنے کے لیے آنکھوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ کچھ چھونے کے لیے ہاتھوں کی ضرورت پڑتی ہے لیکن وہ جسم تھے ہی کب؟ ان کا جسم روح ہو گیا تھا۔ وہ اپنے اندر سمٹ گئے تھے۔ جب چاہتے من کی آنکھ کھول لیتے اور جو چاہتے دیکھ لیتے تھے۔ انہیں اب ان ظاہری آنکھوں کی ضرورت تھی اور نہ ہاتھ پاؤں کی۔ وہ بیٹھے بیٹھے جہاں چاہے پرواز کر سکتے تھے۔
تب ناصر مرزا کو زاہد ملک کا وہ واقعہ یاد آیا تھا جو اس کے خالہ زاد بھائی ارشد کے گھر میں پیش آیا تھا۔ ارشد کے گھر میں جنات نے بسیرا کر لیا تھا اور یہ جن شریر قسم کے تھے۔ انہوں نے گھر والوں کا ناطقہ بند کر دیا تھا۔ کبھی وہ کسی گھر کے فرد کے سینے پر چڑھ کر بیٹھ جاتے کبھی چیزوں کو توڑ پھوڑ دیتے کھانے پینے کی اشیاء غائب ہو جاتیں۔ گھر میں بھی چاروں طرف گندگی پھیلا دیتے۔ چھوٹے بچوں کے سامنے خوفناک شکلوں میں آ کر انہیں چیخ مارنے پر مجبور کر دیتے۔ کبھی گھر کی لائٹیں خودبخود جل جاتیں کبھی خود بخود بجھ جاتیں۔
کئی عاملوں کو جھاڑ پھونک کر نے والوں کو بلا کر دکھایا جاتا مگر مسئلہ وہیں کا وہیں رہتا بلکہ جیسے ہی کوئی عامل گھر سے نکل کر جاتا یہ شرارتی جن مزید تخریب کاری مچا دیتے۔
بالآخر گھر کے مکینوں نے سوچا کہ اس گھر کو بیچ دینا چاہیے۔ بہت کوشش کی کہ کسی طرح یہ مکان فروخت ہو جاۓ مگر ایسا ہو نہ سکا۔ اچھا خاصا سودا ہو جاتا پھر کوئی ایسی وجہ ہو جاتی کہ بنا بنایا سودا بگڑ جاتا۔
جب گھر میں رہنا محال ہو گیا تو یہی سوچا کہ گھر کو تالہ لگا کر کراۓ پر مکان لے لیا جاۓ۔
تب مایوی کے اندھیرے میں امید کی ایک کرن نظر آئی۔ کسی نے حافظ موسی کا پتہ بتایا۔ اول تو وہ مل کر ہی نہ دیۓ۔ جب سات چکر لگ گئے اور زاہد ملک کے بھائی ارشد مایوس ہو کر واپس جانے لگے تو گیٹ کے اندر سے آواز آئی۔
’’آ جاؤ بھائی واپس کیوں جاتے ہو۔‘‘
اس کے ساتھ ہی گیٹ کھلا ۔ گیٹ ایک لڑکے نے کھولا اور اس نے ایک طرف اشارہ کیا۔۔
حافظ موڈی ایک بیری کے درخت کے نیچے گھاس پر بیٹھے تھے۔ ان کی لاٹھی ان کے نزدیک رکھی تھی اور وہ دروازے کی طرف پیٹھ موڑے بیٹھے تھے۔
ارشد اپنی بیوی کے ساتھ آیا تھا۔ دونوں میاں بیوی ان کے سامنے جاتے ہی سسک سسک کر رو پڑے اور رو رو کر اپنی بپتا بیان کی۔ ساری روداد سن کر انہوں نے صرف اتنا کہا۔ ’’کل چار بجے آنا۔ آ کر مجھے لے جانا۔ بھائی میں اندھا آدمی ہوں۔”
دوسرے دن ارشد گاڑی لے کر مقررہ وقت پر پہنچ گیا اور انہیں گاڑی میں اپنے ساتھ لے آیا۔ حافظ موسی اپنی موٹی لاٹھی ہاتھ میں تھامے کچھ پڑھتے ہوۓ گھر میں داخل ہوۓ۔ پھر وہ لاٹھی کے سہارے ڈرائنگ روم میں جا کر بیٹھ گئے۔ وہاں بیٹھ کر کچھ دیر پڑھتے رہے۔ پھر وہاں سے اٹھ کر ٹی وی لاؤنج میں آ گئے۔ وہاں بیٹھ کر کچھ دیر پڑھا۔ پھر ایک گلاس پانی مانگا۔ اس پر پھونک ماری اور
بولے۔’’گھر کا ہر فرد تھوڑا تھوڑا اس پانی کو پی لے۔“
گھر کے تمام افراد کو یہ پانی پلا دیا گیا۔ پھر وہ ارشد سے مخاطب ہو کر بولے۔”بھائی تمہارے گھر میں جنوں کا ایک خاندان آباد ہے۔ ان کے چند بچے ہیں جو بہت خبیث ہیں۔ ایک بچہ اس وقت ٹی وی پر چڑھا بیٹھا ہے۔ اس کے آدھے سر پر بال ہیں آدھا سر گنجا ہے۔ ایک بچہ ادھر فریج کے اوپر ٹانگیں پھیلاۓ بیٹھا ہے۔ ایک ادھر دروازے میں کھڑا قلابازیاں لگا رہا ہے۔ جن کی بیوی اور اس کا ایک بھائی میرے قدموں میں پڑے ہیں۔ معافی کے خواستگار ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ اگر انہیں سزا نہ دی گئی تو یہ خود اس گھر کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ جائیں گے لیکن میں نے ایسے بہت سے خبیث دیکھے ہیں۔ یہ اتنی شرافت سے جانے والے نہیں ہیں۔ میرے نکلتے ہی یہ پھیل کر بیٹھ جائیں گے آپ لوگ پریشان نہ ہوں۔ جب میں یہاں تک آ گیا ہوں تو ان کا پکا بندوبست کر کے جاؤں گا۔ میں یہاں بیٹھا ہوں۔ جب تک یہ میرے سامنے سمندر پار نہیں کر جاتے میں یہاں سے نہیں ہلوں گا“۔
پھر وہ وہاں بیٹھے پڑھتے رہے۔ پڑھتے پڑھتے کبھی کبھی وہ اس جنات گھرانے سے مخاطب بھی ہو جاتے۔ دو تین گھنٹے کی محنت کے بعد وہ اس گھر کو جنات کے خاندان سے خالی کرانے میں کامیاب ہو گئے ۔ تب انہوں نے گھر والوں کو بتایا۔ “میں نے اس خاندان کو سمندر پار کرا دیا۔ اب یہ کبھی اس طرف کا رخ نہیں کریں گے ۔ آپ لوگ مطمئن ہو جائیں۔‘‘
اس کے بعد انہوں نے پانی پڑھ کر دیا اور کہا۔’’اس پانی کے چھینٹے گھر کی دیواروں پر مار دیں”
ارشد نے پڑھے ہوۓ پانی کے چھینٹے گھر کی ہر دیوار پر مار دیے۔ بس پھر وہ دن اور آج کا دن۔ دو سال ہو گئے پھر کبھی اس گھر میں کوئی خلاف عقل واقعہ نہیں ہوا سکون ہو گیا۔
گھر کے لوگوں کو اس بات پر حیرت نہ تھی کہ حافظ موسی خان نے اس گھر کے جن نکال دیئے تھے۔ حیرت اس بات پر تھی کہ انہوں نے یہ کیسے بتا دیا کہ ٹی وی کدھر رکھا ہے اور فریج کدھر کھڑا ہے۔ وہ تو اس طرح بتا رہے تھے جیسے واقعی آنکھیں رکھتے ہوں۔
وہ واقعی آنکھیں رکھتے تھے۔ اند ھے ہونے کے باوجود جب وہ چاہتے ہر اس چیز کو دیکھ لیتے تھے جس کو وہ دیکھنا چاہتے تھے اور اس کا مشاہدہ ناصر مرزا نے خود اپنی آنکھوں سے کر لیا تھا۔
⁦・・⁦◉◉⁩⁦・・◉◉⁩⁦・・
اندھیری رات تھی۔ آس پاس کے بنگلوں کی لائٹیں بھی بجھ چکی تھیں۔ رات کا ایک بج رہا تھا۔ جھنیگروں کا شور تھا۔ برکھا نے اپنے بنگلے کے پچھلے حصے میں پیپل کے درخت کے نیچے ایک پختہ حوض بنوا رکھا تھا۔ یہ ایک چوکور حوض تھا۔ اس کی چوڑائی لمبائی چارفٹ تھی۔ اتنا ہی گہرا تھا۔ اس میں پانی بھرا رہتا تھا۔
اس حوض کے چاروں طرف دیئے روشن تھے اور برکھا رات کے گیارہ بجے سے پانی میں کھڑی کسی عمل میں مصروف تھی۔ اس کا آدھا جسم پانی کے اندر تھا اور آدھا جسم پانی سے باہر تھا۔ اس وقت اس کے جسم پر کوئی کپڑا نہ تھا وہ دونوں ہاتھ جوڑۓ سر جھکاۓ کسی مجسمے کی طرح ساکت کھڑی تھی۔ اس کے ہونٹ ہل رہے تھے۔
حوض کے چاروں طرف اکیس دیئے روشن کیے گئے تھے جو آہستہ آہستہ بجھتے جا رہے تھے۔ اب اس کے سامنے صرف تین دیئے روشن تھے۔ عمل کا وقت پورا ہو رہا تھا۔ ان تینوں دیوں کو ایک ساتھ بجھنا تھا۔ ان دیوں کے بجھتے ہی اعور کی سواری کو آنا تھا۔
اندھیری رات بھیانک سے بھیانک ہوتی جا رہی تھی۔ جھینگروں کا شور، اڑتی ہوئی چمگادڑوں کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ اور پھر علاقے کے کتوں کے بھونکنے کی آوازیں۔ یہ سب چیزیں بتا رہی تھیں
کہ اعور کی سواری کہیں نزدیک ہی ہے۔ بس آیا ہی چاہتی ہے۔
پھر وہ منحوس گھڑی آ پہنچی جو بر کھا کے لیے شبھ گھڑی تھی۔ تینوں دیئے بیک وقت بجھ گئے۔ چند لمحوں کے لیئے مہیب سناٹا چھا گیا پیپل کے پتوں کی کھڑکھڑاہٹ تک رک گئی۔ ہوا بھی جیسے ساکت ہو گئی۔
بہ سناٹا محض چند لمحوں کے لیے تھا۔ اس کی سواری آ پہنچی تھی۔ برکھا نے حوض کے کنارے رکھی ماچس سے جلدی جلدی سارے دیئے روشن کر دیے اور جب اس نے سامنے نگاہ کی تو وہ اپنی سواری پر موجود تھا۔ اس کے سامنے ایک تین فٹ لمبی چھپکلی موجود تھی جس کی زبان باہر نکل رہی تھی اور اس چھپکلی کی گردن میں ایک سانپ رسی کی طرح بندھا تھا۔ اس سانپ کی دم اعور کے دونوں ہاتھوں میں تھی۔ یہ کوئی ڈیڑھ فٹ لمبا بچھو تھا۔ اس بچھو کی دم اٹھی ہوئی تھی اور اس دم کا آخری حصہ چمک رہا تھا۔ بالکل کسی جگنو کی طرح۔
“سواگتم مہاراج، سواگتم مہاراج۔‘‘ برکھا آدھی جھک کر بولی۔
“ہاں کیوں بلایا ہے ہمیں؟ کیا تو جانتی نہیں کہ ہمارا وقت کتنا قیمتی ہے؟‘‘
جانتی ہوں مہاراج۔ میں نہیں جانوں گی تو اور کون جانے گا۔ پر کیا کروں مہاراج اکیلی ہوں۔ آپ کو نہیں پکاروں گی تو پھر کس کو پکاروں گی؟ مہاراج میری مدد کرو میں……” وہ گھگھیائی۔
“کیا ہوا؟‘‘ مہاراج اعور نے کڑک کر پوچھا۔
“ایک انکاری آڑے آ گیا ہے۔‘‘ برکھا نے فریاد کی۔
“جو انکاری ہے اسے اقراری بنا۔ تو اچھی طرح جانتی ہے کہ یہ دنیا انکاریوں سے بھری پڑی ہے۔ ہمارا کام انکاریوں کو اقراری بنانا ہے اور اقراری بناتے رہنا ہے۔ تو جتنے اقراری بناۓ گی اتنے ہی تیرے درجات بلند ہوں گے۔ میرا باپ تجھے طاقت بخشتا چلا جائے گا تو اقراریوں پر راج کرے گی۔” اعور بولا۔
“مہاراج آپ یہ بات بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ کچھ انکاری بڑے اڑیل ہوتے ہیں۔”
“ہاں جانتا ہوں۔‘‘اعور نے پر رعب آواز میں کہا۔ ’’پر ایسے انکاری کو مار مار کر سیدھا کیا جاتا ہے“
“میں نے اسے سدھو کی مار مارنی چاہی تھی لیکن وہ صاف بچ نکلا۔‘‘
’’ہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ سدھو کا وار تو ہمارا وار ہے۔ ہمارا وار کیسے خالی ہو گیا ہمارے چیلے کیسے نا کام ہو گئے۔‘‘ اعور نے غصے میں بار بار اپنی دم چھپکلی کی پیٹھ پر ماری۔
’’مہاراج یہی تو نہیں معلوم ہو رہا ہے اس لیے تو آپ کو زحمت دی ہے۔ آپ کا قیمتی وقت ضائع کیا ہے۔”
“اس کی چال بتا۔‘‘
’’وہ شنی ہے۔ وقت کا دھنی ہے۔ چاند اور سورج اس کے راستے میں ہیں۔ اس پر زحل کا سایہ ہے مشتری اس کا غلام ہے۔ عطارد اس کے سامنے ہاتھ جوڑے بیٹھا رہتا ہے۔ اس کی پیداش سات ستاروں کے گٹھ جوڑ سے عمل میں آئی ہے۔‘‘ برکھا نے جیسے سبق سنایا۔
’’ایسا انکاری تو صدیوں میں پیدا ہوتا ہے۔‘‘ اعور نے حیران ہو کر کہا۔
“ہاں مہاراج۔ وہ صدیوں میں پیدا ہوا ہے۔ اسی لیے تو میں اس کے پیچھے ہوں۔ آپ جانتے ہیں مہاراج برکھا جس کے پیچھے لگے وہ کوئی معمولی انکاری نہیں ہوتا“
“ہاں جانتا ہوں اسی لیے میرا باپ تجھ سے بہت خوش ہے۔‘‘ اعور نے کہا۔ ’’اس انکاری کا نام بتا۔‘‘
”ساحل عمر۔‘‘ برکھا نے اپنی چمکتی آنکھوں سے اعور کو دیکھا۔
“اوہ اچھا وہ ہمارا دشمن“
“ہیں مہاراج۔ آپ اس سے واقف ہیں؟‘‘
“بہت اچھی طرح۔“
“وہ کس طرح مہاراج؟‘‘
“یہ راز ابھی ہمارے من میں ہے۔”
“کوئی بات نہیں مہاراج‘ آپ نہ بتائیں۔ میرے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ آپ اس کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ مہاراج وہ کئی سالوں سے میری نظروں میں ہے۔ میں اس پر کام کر رہی ہوں۔ اس کے لیے جال بن رہی ہوں۔ جب میں نے پہلی مرتبہ اس پر سدھو کا جال پھینکا تو وہ بڑے آرام سے نکل گیا۔
’’ہوں۔‘‘ اعور نے گہرا سانس لیا۔ “فکر کیوں کرتی ہے۔ وہ اب ہم دونوں کا مشتر کہ دشمن ہے۔ اس انکاری کی کمر توڑنا اب ہمارا فرض ہے۔”
“ہاں مہاراج ۔ بہت ضروری ہے‘‘ برکھا نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔ “وہ بہت قیمتی ہے۔”
“تیرے لیے قیمتی ہے تو میرے لیے وہ بہت اہم ہے۔ وہ میرے راستے کا پتھر ہے۔ اے ٹھوکر لگانا ہی ہوگی۔“
“مہاراج میرا سدھو کیوں نا کام ہوا؟‘‘ اسے اپنے عمل کی ناکامی کا غم تھا۔ وہ جلد سے جلد اس راز کو جان لینا چاہتی تھی۔
“تیرے سدھو کو تہکال نے بھرشٹ کیا ہے۔‘‘
’’اوہ اب سمجھی۔‘‘ برکھا کی سمجھ میں فورا ہی ساری بات آ گئی۔ وہ بے قراری سے بولی۔
“مہاراج تہکال کا کچھ کر یں۔‘‘
ہاسکل کو اس کے پیچھے لگانا ہوگا۔‘‘
“ہاں مہاراج۔ وہی اس کو سبق سکھا سکتا ہے ۔‘‘
“ٹھیک ہے تو دیے بجھا۔ میں کچھ کرتا ہوں۔ تو میرے پیغام کا انتظار کرنا۔‘‘
“اچھا مہاراج۔ آپ کی بڑی مہربانی آپ آۓ ۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے دیے کی لو پر ہاتھ رکھ رکھ کر تمام دیوں کو بجھا دیا اور جب اس نے سامنے نظر کی جہاں اعور کی سواری موجود تھی وہاں اب کچھ نہ تھا۔ اندھیرا اور مہیب سناٹا تھا۔
⁦⁦ᕙ◉⁦◉◉◉◉ᕗ⁩
ساحل عمر رشا ملوک کی تصویر کے سامنے کھڑا اس پینٹنگ کو بغور دیکھ رہا تھا۔اس کے چہرے پر جمے ہوۓ آنسو کئی دن ہوۓ پگھل چکے تھے۔ اب اس کا چہرہ بالکل صاف ہو گیا تھا۔ اس لڑکی کے حسن میں کوئی ایسی بات تھی کہ جو کوئی اسے دیکھتا تھا تو بڑا لطیف احساس ذہن کے اندر جاگتا تھا ایسا حسن جو دل میں ٹھنڈک کی طرح اترتا جاتا تھا۔ جب دیکھے جتنی بار دیکھے نظر ٹھہر جائے اور دل نظریں ہٹانے کو نہ چا ہے۔
عابد منجم نے جب اس تصویر کو دیکھا تو وہ نظریں ہٹانا بھول گئے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس لڑکی کا وجود ہے۔ پھر ان کی زندگی نے وفاہی نہ کی کہ وہ ان سے مزید معلومات حاصل کرتا۔ کافی دن سے رشا ملوک اسے خواب میں بھی نظر نہ آئی تھی۔ اس کے دل میں ابھی بھی یہ خواہش جاگتی تھی کہ اگر یہ لڑ کی اس دنیا میں موجود ہے تو اس سے ملاقات کرے۔ اس نے سوچا کہ اب اگر رشا ملوک اسے خواب میں نظر آئی تو وہ اس سے ملاقات کی شدید خواہش کرے گا اور اس سے اس کا پتہ دریافت کرے گا بشرطیکہ اسے خواب میں یہ بات یاد رہی۔
اچانک ٹیلی فون کی گھنٹی چیخی۔ اس کی محویت ٹوٹ گئی۔ اس نے بیڈ پر بیٹھ کر ریسیور اٹھایا اور دھیمے لہجے میں کہا۔
“جی”
“میرے رانجھن کیسے ہو؟‘‘ وہی مترنم ہنسی وہی کھنک دار لہجہ۔
“میں بہت اچھا ہوں۔‘‘ سماحل عمر نے خوشدلی سے کہا۔
“کیا کر رہے تھے؟” پو چھا گیا۔
“تمہیں یاد کر رہا تھا۔ بے اختیار اس کی زبان سے نکل گیا۔ اپنی اس بات پر اسے حیرت بھی ہوئی کہ یہ اس نے کیا کہ دیا اور کیوں کہہ دیا۔
“بڑی خوش قسمت ہوں میں کہ تم جیسے عظیم آرٹسٹ کی یادوں میں بستی ہوں۔” اس نے
بڑے ناز سے کہا۔
“اور سناؤ ؟‘‘ ساحل نے رستہ تبدیل کیا۔
“آج شام تیار رہنا میں آؤں گی تمہیں لینے۔‘‘ اس نے ایک دم اپنا پروگرام بتایا۔
’’کیا ارادے ہیں؟‘‘اس نے پوچھا۔ وہ اس کا پروگرام سمجھ نہ سکا۔
“بہت دن ہو گئے سمندر پر گئے ہوۓ۔ سمندر پر چلنا ہے اور رات وہیں رہنا ہے۔ اس نے کھل کر بتایا۔
“چاند کی کیا تاریخ ہے؟‘‘ ساحل عمر نے پوچھا۔
“چاند کی آخری تاریخ ہے۔‘‘ ورشا بولی۔
“پھر رات کو تو وہاں اندھیرا ہوگا۔ سمندر کیا خاک نظر آۓ گا۔‘‘ ساحل عمر نے اسے سمجھایا۔ ۔
“کبھی تم نے اندھیری رات میں سمندر دیکھا ہے؟‘‘ اس نے پوچھا۔
“نہیں آج تک نہیں۔ البتہ فل مون میں سمندر کو دیکھا ہے۔ کیا قیامت خیز منظر ہوتا ہے۔”
“آج رات اندھیری رات کا سمندر دیکھا۔ اس کا اپنا ایک حسن ہوتا ہے ۔‘‘
“حسن نہ کہو احساس کہو کیونکہ حسن کا تعلق دید سے ہے اور دید بغیر روشنی کے ممکن نہیں۔“
“ہاں رانجھن یہ تم نے اچھی بات کہی اسے احساس ہی کہنا چاہیئے۔‘‘ ورشا نے ہنس کر کہا۔
“پھر چلو گے نا ہم وہاں پہنچ کر پہلے ڈوبتے سورج کا نظارہ کریں گے۔ پھر اندھیری رات میں سمندر کو محسوس کریں گے اور جب صبح ہوگی تو طلوع ہوتے سورج کو دیکھیں گے۔ آہ کتنا مزہ آۓ گا۔ وہ خوش ہو رہی تھی ۔
“اور ہٹ کا کیا ہوگا؟‘‘ ساحل عمر نے پوچھا۔
“ہٹ کی فکر مت کرو۔ وہاں ایک علیحدہ جگہ پر زبردست ہٹ ہے۔ وہاں عام لوگوں کا گزرنہیں ہے۔ ممی کے ایک جاننے والے ہیں ان کی ہٹ ہے۔ فرنشڈ‘ پانی، بجلی، ڈش، ٹیلی ویژن، وی سی آر کیا ہے وہاں جونہیں ہے۔ رات، سمندر، میں اور تم..اور کیا چاہتے ہو۔؟” یہ کہہ کر وہ ہنسی۔ اس کی یہ ہنسی اس کا دل لوٹ لیتی تھی۔ وہ پھرلٹ گیا۔
“چلو پر چلتے ہیں۔۔۔‘‘ ساحل عمر نے فوراً کہا۔ یہ بات بھی بے اختیار اس کی زبان سے نکل گئی تھی جبکہ وہ اندر سے سمندر پر جانے کے لیے راضی نہ تھا۔
“اوہ زندہ باد. میرے رانجھن زندہ باد۔ میں پھر شام کو آتی ہوں” یہ کہہ کر اس نے فورا ٹیلی فون منقطع کر دیا۔
اسی وقت اس کی نظر سامنے دیوار پر پڑی۔ تب بے اختیار اس کے منہ سے نکلا۔
“ارے…..!“
سامنے دیوار پر رشا ملوک کی تصویر موجود نہ تھی۔
وہ ریسیور رکھ کر تیزی سے بیڈ سے اٹھا۔ وہ تصور قالین پر پڑی تھی۔ وہ ورشا سے باتوں میں اس قدر مشغول تھا کہ فریم کے گرنے کا احساس ہی نہ ہوا۔ اس نے فورا تصویر اٹھا کر دیکھی تصویری کے پیچھے بندھی ڈوری کھل گئی تھی۔ دیوار پر کیل موجود تھی۔ اس نے ڈوری کو دوبارہ مضبوطی سے باندھا اور تصویر دوبارہ کیل پر لٹکا دی۔ اس نے تصویر کو اچھی طرح دیکھا۔ اسے کسی قسم کا کوئی نقصان نہ پہنچا تھا۔
اماں کمرے میں داخل ہوئیں تو انہوں نے ساحل کو رشا ملوک کی تصویر کا بغور معائنہ کرتے پایا۔انہوں نے چائے کا کپ سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر پوچھا۔ ’’ساحل! کیا ہوا؟‘‘
“کچھ نہیں اماں! تصویر کی ڈوری کھل جانے کی وجہ سے تصویر نیچے گر گئی تھی میں نے دوبارہ لگائی ہے۔” اس نے بتایا۔
“حیرت ہے۔‘‘ اماں نے کہا۔’’آج تک تو کوئی تصور نہیں گری۔‘‘
“بس اماں گر گئی۔‘‘ ساحل عمر نے بحث میں پڑنے کے بجاۓ بحث ختم کی اور پھر بولا۔ “ہاں اماں شام کو میں گھر سے باہر جاؤں گا۔ رات کو باہر ہی رہوں گا۔ کل دو پہر تک واپس آ جاؤں گا۔‘‘
“کس کے ساتھ جا رہے ہو؟‘‘ اماں نے پوچھا۔ ’’اماں ورشا ساتھ جا رہی ہے۔‘‘ ساحل عمر نے صاف گوئی سے کام لیا۔
’’جا کہاں رہے ہو؟‘‘ انہوں نے پھر سوال کیا۔
“سمندر پر۔‘‘ وہ بولا۔
”ٹھیک ہے جاؤ ۔‘‘اماں نے خوشدلی سے جواب دیا۔
“لیکن اماں مسئلہ یہ ہے کہ آپ گھر پر اکیلی کیسے رہیں گی؟‘‘ اس کا لہجہ تشویش بھرا تھا۔
”میرے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے‘‘ انہوں نے دوٹوک انداز میں جواب دیا۔
“پر بھی اماں! میں آپ کو اکیلا چھوڑ نا نہیں چاہتا۔ میں چاہتا ہوں کہ کوئی آپ کے ساتھ رہے”
“ارے نہیں بیٹا میں کوئی بچہ تھوڑی ہوں۔‘‘
“اماں ایسا کریں۔ آج کی رات مرجینا کو اپنے پاس روک لیں۔ وہ ابھی گئی تو نہیں۔”
“نہیں ابھی کہاں جائے گی ٹھیک ہے میں اسے کہے دیتی ہوں وہ تو بڑی خوشی سے رک جاۓ گی۔‘‘
“چلو اب مجھے اطمینان ہوگیا۔ خدانخواستہ کوئی مسئلہ ہو تو ناصر یا مسعود کو فون کر لینا” ساحل عمر نے ہدایت کی۔
پھر چاۓ پی کر وہ کچھ دیر آرام کرنے کے لیے لیٹ گیا۔ ایک ڈیڑھ گھنٹے کے بعد ا ٹھا تو شام ہونے والی تھی۔ وہ جلدی سے نہانے کے لیے باتھ روم میں گھس گیا۔ قمیض اتارتے ہوۓ آئینے میں نظر پڑی۔ اس نے دیکھا گلے میں تعویز موجود ہے۔ وہ نہاتے ہوۓ تعویز اتار دیا کرتا تھا۔ وہ باہر آیا۔ اس نے تعویز کو رشا ملوک کی تصویر کے فریم کے ایک کونے پر لٹکایا۔ وہ تعویز اس طرح لٹکا دیا کرتا تھا۔ باتھ روم سے نکلتا تو گلے میں ڈال لیتا۔ اگر فورا گلے میں ڈالنا بھول جاتا تو کسی نہ کسی طرح اس کی نظر تعویز پر پڑ جاتی۔
آج وہ باتھ روم سے نہا کر نکلا تو ورشا اسے لینے آ چکی تھی۔ وہ لاؤنج میں اس کی منتظر تھی۔ وہ جلدی سے کپڑے تبدیل کر کے اس کے ساتھ ہولیا۔ وہ بیگ اٹھانا نہ بھولا تھا۔
گیٹ کے باہر نکلا تو سامنے گاڑی موجود تھی۔ گاڑی میں ڈرائیور کی سیٹ پر ایک طباق سے چہرے والاشخص بیٹھا تھا۔ وہ ایک مضبوط جسم کا مالک تھا۔ اس کے چہرے سے خباثت ٹپک رہی تھی
“یہ کون ہے؟‘‘ ساحل عمر اسے دیکھ کر ایک لمحے کوٹھٹھکا۔
“یہ اس شخص کا ڈرائیور ہے جس کی ہٹ ہے۔ یہ ہمیں ہٹ تک پہنچا کر واپس آ جاۓ گا؟”
“اور گاڑی؟‘‘ ساحل عمر نے پوچھا۔
”گاڑی ہمارے پاس رہے گی۔‘‘
وہ دونوں گاڑی کے نزدیک آ گئے تو وہ شخص بڑی پھرتی سے گاڑی سے باہر آیا۔ ان گاڑی کا پچھلا دروازہ بڑے مودبانہ انداز میں کھولا۔ جب وہ دونوں پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئے تو اس نے آہستگی سے دروازہ بند کیا اور بڑی مستعدی سے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔
اماں گیٹ پر کھڑی تھیں ۔ انہوں نے جاتی ہوئی گاڑی پر پھونک ماری۔ سائل عمرے آنے ہاتھ کے اشارے سے خدا حافظ کہا۔ ورشا نے دھیرے سے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور ہولے سے دباتے ہوۓ آہستگی سے بولی ’’میرے رانجھن!‘‘
ساحل عمر نے اس کی طرف دیکھا اور بے اختیار مسکرا دیا۔ واسم نے آئینہ ٹھیک کرنے کے بہانے ایک لمحے کو ورشا کی طرف دیکھا اور پھر گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی۔
جب وہ سمندر کے کنارے پہنچے تو سورج اپنی تمازت کھو چکا تھا۔ وہ ہٹ واقعی شاندار تھی دو منزلہ اس ہٹ میں ہر سہولت موجود تھی۔ واسم نے ہٹ کھولنے کے بعد گاڑی کی ڈگی میں بھرا ہوا سامان ہٹ میں منتقل کر دیا اور پھر گاڑی کی چابی ورشا کو دیتا ہوا بولا ۔’’بی بی جی میں جاتا ہوں۔ کل صبح دس بجے تک پہنچ جاؤں گا۔”
ٹھیک ہے؟‘‘ ورشا نے اس سے چابی لیتے ہوۓ کہا۔ ’’دیکھو وقت پر پہنچ جانا۔‘‘
“آپ فکر نہ کریں۔ میں ٹھیک وقت پر یہاں پہنچ جاؤں گا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ ہٹ سے نکل گیا۔ واسم ہٹ سے ضرور نکلا لیکن وہ ہٹ سے دور نہ گیا۔ وہ بڑی احتیاط سے ہٹ کی پشت پر گیا اور دروازہ کھول کر زینہ چڑھنے لگا۔ اوپر پہنچا تو وہاں برکھا پہلے سے موجودھی۔ اس نے اشارے سے پوچھا “سب ٹھیک ہے”
“جی برکھا جی. سب ٹھیک ہے۔” یہ کہہ کر واسم نے دروازہ اندر سے بند کر لیا۔
اوپر آنے کا راستہ ہٹ کے اندر سے بھی تھا لیکن اس دروازے کو لاک کر دیا گیا تھا۔ اوپر جانے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ نچے کا پورشن خاصا کشادہ اور شاندار تھا۔ پھر ہٹ بھی خاصی بلندی پر بنی ہوئی تھی۔ پھر بھی اگر ساحل اوپر جانے کی بات کرتا تو ورشا اس دروازے کو کھولنے کی کوشش کرتی اور پھر بند پا کر غصے سے کہتی۔ ’’ بے وقوف اوپر کا پورشن کھولے بغیر ہی چلا گیا۔‘‘ ظاہر ہے اس کے جواب میں ساحل عمر کو بھی کہنا پڑتا۔ ’’ارے کوئی بات نہیں۔‘‘
واسم کے ہٹ سے جانے کے بعد ورشا نے مترنم لہجے میں کہا۔ ’’اچھا جناب پہلے میں بناتی ہوں چاۓ۔ چاۓ پی کر پھر باہر نکلتے ہیں۔ کیوں ٹھیک ہے نا؟“
“ہیں تم چائے بنالیتی ہو؟‘‘ ساحل عمر نے حیرت ظاہر کی۔
’’جناب میں کھانا بھی زبردست پکاتی ہوں۔ آج رات کا کھانا جب پکا کر کھلاؤں گی تو انگلیاں چاٹتے رہ جاؤ گے۔” اس نے ایک ادا سے کہا اور پھر کچن کی طرف بڑھ گئی۔
پھرده فوراً ہی مسکراتی ہوئی واپس آئی ۔ ٹیلی ویژن پر رکھا ہوا ریموٹ کنٹرول اٹھا کر اس کے ہاتھ میں دیا اور شوخی سے بولی۔ ’’جب تک تمہارے ہاتھ میں سویٹ ڈش آۓ اس وقت تک ورلڈ ڈش سے شوق فرماؤ ۔‘‘
“کھانے میں سویٹ ڈش بھی ہوگی؟‘‘ ساحل عمر نے ریموٹ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا
“کیوں نہیں ہوگی۔” اس نے چمکیلی نگاہوں سے ساحل کو دیکھا۔
“پھر تو تمہیں پوری رات کھانا پکاتے ہی گزر جاۓ گی ۔‘‘ ساحل عمر نے خدشہ ظاہر کیا۔
“ارے نہیں کیا سمجھا ہے مجھے۔‘‘ وہ اترا کر بولی۔’’اچھا پکاتی ہوں اور جلدی پکاتی ہوں ۔‘‘ یہ کہہ کر وہ کچن میں چلی گئی۔
کیتلی چولہے پر رکھ کر وہ ساتھ لایا ہوا سامان کھولنے لگی۔ ساحل عمر نے ٹی وی آن کر کے چینل بد لنے شروع کیے۔ چند لمحے وہ ایک چینل کا جائزہ لیتا پھر آگے بڑھ جاتا۔ بالاخر وہ ایک میوزک چینل پر شہر گیا۔ اس وقت سکرین پر میڈونا چھائی ہوئی تھی۔ میڈونا کے گانے کی آواز سن کر ورشا نے کچن سے جھانکا۔ “تھوڑی سی آواز بڑھا دو۔‘‘
“اچھا‘‘ ساحل عمر نے یہ کہہ کر تھوڑی سی آواز تیز کر دی۔
’’کیا تمہیں میڈونا پسند ہے؟‘‘
’’ہاں بہت ۔‘‘ ساحل عمر نے زور سے کہا ۔’’اور مائیکل جیکسن؟‘‘
“اس کی تو دیوانی ہوں۔‘‘ “تمهاری پسند آخر اس قدر تیزی سے تبدیل کیوں ہو جاتی ہے؟‘‘
“کیا مطلب؟‘‘ وہ کچن سے باہر نکل آئی۔
دو دن پہلے تو تم نے کہا تھا کہ میں تمہاری دیوانی ہوں۔” ساحل عمر نے بڑی معصومیت سے کہا
“وہ میں نے تمہارے ساتھ مذاق کیا ہوگا۔‘‘ اس نے بڑی سنجیدگی سے کہا اور شریر نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پھر کچن میں چلی گئی۔
دو کپ چاۓ تیار کر کے اس نے آنکھیں بند کر کے کچھ پڑھا۔ پھر ایک چمچے میں دو بوند پانی لے کر اس پر ایک بار پھونک ماری اور اس چمچے کو ایک کپ میں ڈبو کر نکال لیا۔ ٹرے میں دونوں کپ سجاۓ ۔ لاؤنج میں میز پر ٹرے رکھی۔ ساحل عمر کا کپ اس کے ہاتھ میں دیا اور اپنا کپ قالین پر رکھ کر ساحل عمر کے قدموں میں بیٹھ گئی۔
“ارے کہاں بیٹھ گئیں…..اوپر آجاؤ۔‘‘ ساحل عمر نے صوفے کی طرف اشارہ کیا۔
“نہیں میں یہیں ٹھیک ہوں۔تمہارے چرنوں میں۔” یہ کہہ کر اس نے اس کا پیر پکڑلیا اور اسے چومنے کے لیے جھکی۔
“اوہ نو‘‘ ساحل عمر نے فورا اپنا پاؤں کھینچ لیا۔ ’’خدا کے لیے ورشا مجھے انسان رہنے دیوتا نہ بناؤ”
“تم میرے لیے کسی دیوتا سے کم نہیں۔‘‘ اس نے بڑی عقیدت سے کہا۔
’’او یار میں کوئی دیوتا ویوتا نہیں تم شرافت سے صوفے پر آ کر بیٹھ جاؤ۔ چاۓ پیو اور باہر نکلو‘‘ ساحل عمر نے تنبیہی لہجے میں کہا۔
’’اچھا۔‘‘ وہ بڑی فرمانبرداری سے قالین سے اٹھ کر اس کے برابر بیٹھ گئی اور چائے پیتے ہوۓ ایک خاص انداز میں دیکھنے لگی۔
“اب کیا ہوا؟‘‘ وہ اس کی نظروں کی تاب نہ لاتے ہوۓ بولا ۔
“ساحل یو آ ر اے کلر۔‘‘ وہ ایک ادا سے بولی۔
“یہ ڈائیلاگ میں نے کسی انگلش فلم میں سنا ہے اور شاید راکیل ویلچ کے لیے کہا گیا تھا اس وقت وہ جس لباس میں تھی یقینا قاتل لگ رہی تھی۔ اچھی بات یہ ہے کہ ایسا مکالمہ کسی عورت کے لیے ہی اچھا لگتا ہے۔‘‘ ساحل عمر نے یہ کہہ کر کپ ہونٹوں سے لگا لیا۔
’’حالانکہ اصل قاتل مرد ہوتا ہے ۔‘‘ اس نے بات کو ایک نیا رخ دینے کی کوشش کا۔ ”میرا خیال ہے کہ مرد عورت کے معاملے میں خاصا بے وقوف واقع ہوا ہے۔ خوبصورت عورت کسی بھی مردکو با آسانی بے وقوف بنا سکتی ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے الو بنا سکتی ہے۔ عورت مرد کی بڑی کمزوری ہے۔“
“کیا تم انہی مردوں میں سے ہو؟‘‘ اس نے ترچھی نگاہوں سے اسے دیکھا۔
“میری کیا بات کرتی ہو. میں تو پرلے درجے کا احق ہوں۔‘‘
“پھر تمہیں کیا الو بنانا تم تو بنے بناۓ ہو۔‘‘ وہ ہنس کر بولی۔
“مجھے بے وقوف بنانے کا ارادہ تھا کیا؟‘‘ اس نے پوچھا۔
“نہیں میں بے وقوف بنانے پر یقین نہیں رکھتی۔ سچ بتاؤں ساحل میں تمہارے بارے میں تضادات کا شکار ہوں ۔‘‘ اس نے الجھے ہوۓ لہجے میں کہا۔
”کیا کہنا چاہتی ہو؟‘‘
“پتہ نہیں ساحل میں کیا چاہتی ہوں۔ تم کیا چاہتے ہو۔ کوئی اور کیا چاہتا ہے۔ وہ کھوئے ہوۓ انداز میں بولی۔
“ارے تم تو سیریس ہو گئیں۔” ساحل عمر نے اپنا کپ ٹرے میں رکھتے ہوۓ کہا۔ ’’بھی تم نے بہت اچھی چاۓ بنائی‘‘
“تھینک یو۔‘‘ ورشا نے مسکرا کر کہا۔
جب وہ بھی چائے پی چکی تو اس نے اپنا کپ میز پر رکھا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اٹھاتے ہوۓ بولی۔’’آؤ چلو سمندر پر چلیں‘‘
یہ ایک مخصوص بیچ تھا۔ یہاں عام لوگوں کا گزر نہ تھا۔ آج تو یہاں خاص لوگ بھی برائے نام تھے۔ بس دو چار جوڑے کچھ فاصلے پر اپنی اپنی خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ چھٹی کا دن جو نہ تھا۔ ساحل عمر اور ورشا دونوں ہی جینز اور شرٹوں میں تھے اور اس وقت یہ واحد جوڑا تھا جو سر سے پیر تک ڈھکا ہوا تھا جبکہ جو لوگ آس پاس نظر آ رہے تھے ان کے مرد نیکر پہنے ہوئے تھے اور عورتیں نہانے کے لباس میں تھیں ۔ یہ حسوس ہی نہیں ہو رہا تھا کہ یہ کوئی پاکستانی سمندر کا کنارہ ہے۔
سورج سمندر کی طرف جھک رہا تھا اور ورشا ساحل عمر کا ہاتھ پکڑے سمندر کی طرف بڑھ رہی تھی۔
سامنے بے کراں سمندر پھیلا ہوا تھا۔ سمندر کا اپنا ایک حسن ہے۔ آپ اسے ڈوبتے سورج کے پس منظر میں دیکھیں یا نکلتے سورج کے پیش منظر میں۔ ماہ کامل میں اس کا نظارہ کر یں یا مختلف موسموں میں اسے دیکھیں۔ آپ اسے ہر بار مختلف پائیں گے۔ یہ صبح کچھ ہوتا ہے دو پہر کو کچھ اور شام کو کچھ اور ہوتا ہے۔ اس کا مزاج بدلتے دیر نہیں لگتی۔ اس کے تیور محبوب جیسے ہوتے ہیں اور دلکشی میں بھی محبوب جیسا ہوتا ہے۔
ساحل عمر کو سمندر بہت پسند تھا۔ وہ اسے دیکھ کر پاگل ہو جاتا تھا۔ سمندر کی لہریں اس کے دل کے تاروں کو ہلا دیتیں۔ جانے کیوں اسے ایسا محسوس ہوتا جیسے سمندر اسے پکار رہا ہو بلا رہا ہوں۔ وہ سمندر میں بے پناہ کشش محسوس کرتا تھا اور یہ کشش اس وقت دگنی ہوگئی تھی۔ ایک حسین لڑکی کا ہاتھ جو اس کے ہاتھ میں تھا۔ ایک طرف پرکشش لڑکی دوسری طرف پرکشش سمندر. دو کششیں ایک ساتھ مل گئیں تھی۔ وہ پاگل کیسے نہ ہو جاتا۔
اس نے ورشا کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما اور سمندر کی طرف بھاگنے لگا۔
“رک جاؤ ساحل زیادہ اندر مت جاؤ مجھے اس کی موجوں سے ڈر لگتا ہے۔” ورشا نے اسے مزید آگے جانے سے روکنا چاہا۔۔
“ڈرتی ہو۔‘‘ ساحل عمر نے رک کر کہا۔
“ڈرتی نہیں ہوں احتیاط لازم ہے۔ سمندر چڑھا ہوا ہے۔ زیادہ اندر جانا ٹھیک نہیں۔”
اتنی دیر میں سمندر کی ایک بڑی لہر آئی۔ ان دونوں کے قدم ڈگمگا گئے۔
اس وقت واسم پردہ چھوڑ کر برکھا سے مخاطب ہوا۔ ’’وہ دونوں سمندر میں جا چکے۔” وہ بڑی دیر سے پردے سے لگا بیٹھا تھا۔ وقفے وقفے سے وہ پردہ ہٹا کر دیکھ لیتا تھا۔ بالاخر ورشا اور ساحل اسے ۔سمندر میں جاتے ہوۓ نظر آ ہی گئے۔
“آؤ‘ پھر نیچے چلو۔‘‘ برکھا نے فورا کہا۔
’’آیئے!‘‘ واسم نیچے کے دروازے کی اپنی جیب میں چابی ٹٹولتا ہوا زینہ اترنے لگا۔
⁦ ✿✿✿✿✿✿
وظائف کی کتاب کے صفحہ سات پر جو عمل دیا گیا تھا اس کو پڑھنے کے لیے حافظ موسی نے جو ہدایات دی تھیں اس کے مطابق اس عمل کو رات بارہ اور ایک بجے کے درمیان کرنا تھا۔ دوسرے کمرے میں مکمل تاریکی کا ہونا بہت ضروری تھا۔
اس عمل کے لیے ناصر مرزا کا اسٹڈی روم بہترین تھا۔ کھڑکیوں پر بھاری پردے پڑے ہوئے تھے جن کی وجہ سے کمرے میں گہری تاریکی ممکن تھی۔ کوئی پونے بارہ بجے کے قریب ناصر مرزا کمرے میں آیا۔ اس نے دروازہ اندر سے بند کر لیا۔ گھر والوں کو ہدایت کر دی کہ اسے کسی بھی صورت میں ڈسٹرب نہ کیا جاۓ۔ پردے کھلے ہوۓ تھے۔ اس نے پردے برابر کیے عمل کرنے کے لیے ایک جگہ کا انتخاب کیا۔ پھر ٹھیک بارہ بجے کمرے کی لائٹ آف کر کے وظیفہ پڑھنا شروع کر دیا۔ اس وظیفے پر کوئی خاص محنت نہ تھی۔ پانچ راتوں کا وظیفہ تھا۔ وظیفے کے دوران زیادہ پڑھنا بھی نہ تھا۔ جو بتایا گیا تھا اسے پندرہ بیس منٹ میں بآسانی ختم کیا جا سکتا تھا۔ ناصر مرزا کو ابھی وظیفہ شروع کیے پانچ سات منٹ ہی ہوۓ ہوں گے کہ اس نے اپنے بہت قریب کتے کے رونے کی آواز سنی۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کتا کمرے میں موجود ہو۔ کتے کے رونے کی منحوس آواز کوسن کر ناصر مرزا بے اختیار چونک پڑا۔
⁦ OOOOO
نیچے پہنچ کر واسم کھڑکی کا ذرا سا پردہ ہٹا کر بیٹھ گیا تاکہ اگر وہ دونوں ہٹ میں واپس آرہے ہوں تو برکھا کو بروقت اطلاع کر سکے۔ برکھا نے کچن کا رخ کیا۔ وہاں ایک ٹرے میں مرغی کا گوشت موجود تھا۔ برکھا نے گوشت میں سے مرغی کی دونوں ٹانگیں نکال لیں اور اوپر سے لائی ہوئی ایک ٹانگ اس نے گوشت میں شامل کر دی۔ اس ٹانگ پر اس نے عمل کیا ہوا تھا۔ یہ ٹانگ پروگرام کے طابق ساحل عمر کو کھلائی جانی تھی۔ نکالی ہوئی دونوں ٹانگیں اس نے ایک پلیٹ میں ڈال کر فریج میں رکھ دیں
اس کام سے فارغ ہو کر اس نے بیڈ روم کا رخ کیا۔ اس نے بیڈ پر بیٹھ کر ایک تکیہ اٹھایا اوراسے اپنی گود میں رکھ لیا۔ پھر کچن سے لائی ہوئی چھری کی نوک پر اس نے کچھ پڑھ کر پھونکا اور اس چھری سے تکیے پر ساحل کا نام لکھا۔ کوئی دس منٹ تک وہ اس طرح تیکھی چھری پر پڑھ کر پھونکتی اور ساحل کا نام لکھتی رہی۔
آخری بار جب اس چھری سے تکیے پر نام لکھا تو سفید تکیے پر اس کا نام ابھر آیا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے اس کا نام تازہ خون سے لکھا گیا ہو اور یہ خون چھری سے نکلا ہو… لیکن چھری بالکل صاف تھی۔ تکیے پر ساحل کا نام دیکھ کر وہ خوشی سے جھوم اٹھی
اس نے وہ تکیہ اپنی گود سے اٹھا کر بیڈ پر الٹ دیا اور اس پر اپنا بایاں ہاتھ رکھ کر دھیرے ۔ سے نعرہ لگایا۔ ’’کالی واہ۔‘‘
اور پھر فورا ہی تکیے کو سیدھا کر دیا۔ اب اس تکیے سے ساحل عمر کا نام صاف ہو چکا تھا۔ اس بیڈ پر دو تکیے تھے اور دونوں یکساں تھے۔ ساحل عمر کے تکیئے کی پہچان کے لیے اس نے سکے کے ایک کونے پر لپ اسٹک لگا دی۔ اس نشان کو ساحل عمر محسوس نہیں کر سکتا تھا لیکن ورشا فورا پہچان سکتی تھی۔ اس کے کو الگ رکھ کر اس نے دوسرے تکیے کو اپنے نزدیک کیا اور بیڈ پر لیٹ گئی۔ اس کے ہونٹوں پر دلفریب مسکراہٹ تھی۔ اس نے آسودگی سے آنکھیں بند کر لیں۔
باہر سورج کب کا ڈوب چکا تھا۔ اندھیرا گہرا ہوتا جا رہا تھا۔ واسم ان پر مسلسل نظر رکھے ہوئے تھا۔ وہ دونوں جب سمندر کی موجوں سے کھیل کر تھک گئے تو انہوں نے سوچا کہ اب ہٹ کی طرف چلا جائے ۔ ویسے بھی اندھیرا اب اتنا ہو گیا تھا کہ سمندر کی لہر کا ٹھیک طرح سے اندازہ کرنا ممکن
وہ دونوں جب ہٹ کی طرف بڑھنے لگے تو واسم نے فورا پردہ چھوڑ دیا۔ ہٹ کے اندر گہرا اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ واسم نے فورا جیب سے لائٹر نکالا۔ اسے جلا کر تیزی سے بیڈ روم کی طرف بڑھا اور دروازے پر پہنچ کر اس نے اندازہ کیا کہ برکھا کہاں ہے۔ لائٹر کی دھیمی روشنی میں وہ اسے بیڈ پر لیٹی ہوئی نظر آئی۔ اس نے گھبرا کر آواز دی۔
’’برکھا جی!‘‘
برکھا اس کی آواز سن کر فورا اٹھ کر بیٹھ گئی۔ ’’ہاں کیا ہوا؟‘‘
“وہ آرہے ہیں۔”
“اوہ چلو پھر نکلو یہاں سے۔ لیٹے لیٹے مجھے نیند آ گئی تھی۔‘‘ برکھا تیزی سے اٹھتی ہوئی بولی۔
لائٹر کی روشنی میں ہی وہ دونوں جس طرح اوپر سے آئے تھے ویسے ہی واپس چلے گئے۔
“اوہ یار یہاں تو بھیانک اندھیرا ہے۔‘‘ ساحل عمر نے دروازے کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا
“پریشانی کی کوئی بات نہیں تم دروازے پر رکو۔ میں اندر جا کر لائٹ جلاتی ہوں۔” یہ کہہ کر وہ دروازے کی طرف بڑھی۔۔
“ورشا کیا تم اس سے پہلے بھی یہاں آ چکی ہو؟‘‘
’’ہاں میں کئی مرتبہ یہاں آئی ہوں اپی ممی کے ساتھ۔‘‘ ورشا اندر جاتے ہوۓ بولی۔
’’لیکن تم نے یہ سوال کیوں پوچھا؟‘‘
“اس لیے کہ تمہیں اس ہٹ میں آ کر ذرا بھی اجنبیت کا احساس نہیں ہوا تم یہاں کی ہر چیز سے مانوس ہو۔ یہاں تک کہ تم یہ بھی جانتی ہو کہ لائٹ کے بٹن کہاں ہیں”
”تم نے بالکل صحیح اندازہ لگایا میرے رانجھن! تم کتنے ذہین ہو۔‘‘ ورشا نے لائٹ آن کرتے ہوۓ کہا۔
“اب یہ ذہین آ دمی تھوڑا سا نہانا چاہتا ہے۔‘‘ ساحل عمر نے اپنا بیگ کھول کر کپڑے نلالتے ۔ ہوۓ کہا۔
’’باتھ روم کدھر ہے؟‘‘
“جناب تھوڑا سا کیوں۔ بہت سا نہایئے۔ پانی کی یہاں کوئی کمی نہیں۔‘‘ ورشا نے ہنس کر کہا۔ ’’باتھ روم بیڈ روم کے ساتھ ہے وہ سامنے۔”
ساحل عمر باتھ روم میں گھسا۔ یہ ایک صاف ستھرا باتھ روم تھا۔ ہر چیز اپنے ٹھکانے پر قرینے سے رکھی تھی۔ باتھ روم میں داخل ہوتے ہی اسے اپنے تعویز کا خیال آیا۔ اس کا گلا خالی تھا۔ تب اسے یاد آیا کہ وہ گھر سے نکلتے ہوۓ عجلت میں تعویز پہننا ہی بھول گیا۔
بیگ میں دو جوڑے اور کچھ ضرورت کی چیزیں اماں نے رکھ دی تھیں۔ بس وہ ورشا کو بیٹھا دیکھ کر جلدی سے بیگ اٹھا کر گھر سے نکل آیا تھا۔
تعویز کو گلے میں نہ پا کر اس کا دل دھک سے رہ گیا۔ وہ جہاں تھا وہاں اس تعویز کی اشد ضرورت تھی اور وہیں وہ موجود نہ تھا۔ آخر وہ تعویز گلے میں ڈالنا بھولا کیسے؟ کیا اس بھول میں ورشا کا ہاتھ تھا؟ اس بات کا جواب دینے والا وہاں کوئی نہ تھا۔
وہ نہا کر باہر نکلا تو ورشا کو کچن میں مصروف پایا۔
“واہ بڑی زبردست خوشبوئیں اٹھ رہی ہیں۔” ساحل عمر کچن کے دروازے میں کھڑا ہوکر بولا
“میرے رانجھن تم یہاں کھڑے ہوئے بہت اچھے لگ رہے ہو۔ میرا جی چاہتا ہے کہ تم صدا اس طرح کھڑے رہو اور میں یونہی تمہارے لیے کھانا بناتی رہوں۔‘‘ ورشا نے الٹے ہاتھ کی پشت سے پسینہ پونچھتے ہوۓ کہا۔
“اس طرح تو میں کھڑا کھڑا سوکھ جاؤں گا۔ تم کوئی ڈھنگ کی خواہش نہیں کر سکتیں؟”۔ وہ ہنسا۔
“کیوں نہیں۔خواہشیں اتنی کہ ہر خواہش پر دم نکلے۔” اس نے ایک ادا سے دیکھا۔
“دم نہ نکالو کھانا نکالو۔“ ’’بھوک لگی ہے؟‘‘ اس نے پوچھا۔
“ایسی ویسی۔‘‘ ساحل عمرنے پیٹ پر ہاتھ پھیر کر کہا۔
“بس دس پندرہ منٹ اور لگیں گے۔‘‘ اس نے تسلی دی۔
”اوکے میں جب تک ڈش سے دل بہلاتا ہوں۔‘‘ وہ لاؤنج کی طرف جاتے جاتے رک گیا۔ پھر بولا۔ “کیا تم نہاؤ گی نہیں؟”۔
“کیوں نہیں۔‘‘ ورشا نے اسے ترچھی نظروں سے دیکھا۔ ’’شاور لینے میں مجھے دو منٹ لگتے”
“اس نے کڑھاہی گوشت اور بیسن کا حلوہ بنایا تھا۔ نان وہ ساتھ لے کر آئی تھی۔ اس نے سچ کہا تھا۔ اس نے کھانا بہت لذیذ اور منٹوں میں تیار کیا تھا۔ ساحل عمر گوشت بہت کم کھاتا تھا۔ جب اس نے تکلف دکھایا تو ورشا نے کہا۔’’آج میں جو کھلاؤں گی وہ کھانا پڑے گا۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے اس کی پلیٹ گوشت سے بھر دی۔ اس میں وہ ٹانگ بھی موجود تھی جس پر برکھا نے کچھ عمل کیا تھا۔ دوسری بوٹیوں کے ساتھ وہ ٹانگ بھی ساحل عمر کے پیٹ میں چلی گئی۔
کھانا کھاتے ہوئے ورشا اسے کچھ دینے کے لیے بار بار جھک رہی تھی۔ نہا کر اس نے پینٹ شرٹ پہن لی تھی۔ اس کی شرٹ کے دو بٹن کھلے ہوئے تھے۔ وہ بٹن لگانا بھول گئی تھی یا دانستہ اس نے گلا کھلا چھوڑ دیا تھا۔ اس پرستم بالائے ستم یہ کہ وہ کبھی پلیٹ دینے کبھی سالن نکالنے کبھی پانی دینے کے لیے بار بار جھک رہی تھی۔
ساحل عمر سے جب رہا نہیں گیا تو اس نے مہذبانہ انداز میں کہا۔ ”تمہاری قمیض کے بٹن کھلے رہ گئے ہیں شاید ؟‘‘
“اوہ سوری۔” ورشا نے پریشان ہو کر اسے دیکھا اور پھر فورا ہی اپنے گلے کو سنبھال لیا۔ اسے سال عمر سے اس جملے کی توقع نہیں تھی۔
لیکن ساحل عمر چند ایسے نوجوانوں میں سے تھا جن سے ایسے جملے کی توقع کی جانی چاہیے۔ کھانے کے بعد اس پر کچھ غنودگی سی چھانے گی تو وہ صوفے پر ہی پاؤں پھیلا کر لیٹ گیا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: