Anwar Aleegi Urdu Novels

Bichoo Novel By Anwar Aligi – Episode 13

Bichoo Novel By Anwar Aligi
Written by Peerzada M Mohin
بچھو از انوار علیگی – قسط نمبر 13

–**–**–

ورشا نے چائے بنائی۔ اسے ہلا کر اٹھایا۔ ’’جناب چاۓ، کیا نیند آرہی ہے؟‘‘
“ہاں کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا۔ مجھے نیند کیوں آرہی ہے۔ شاید میں نے زیادہ کھانا کھا لیا ہے”
“کوئی زیادہ دیادہ نہیں کھایا۔ چڑیا جیسی تو آپ کی خوراک ہے۔ آپ سے زیادہ تو میں نے کھالیا تھا۔” ورشا ہنس کر بولی۔ ’’چلیں چائے پی لیں۔ ایک دم کڑک ہے۔ آنکھیں کھل جائیں گی”
ساحل عمر نے خاموشی سے چائے کا کپ لیا اور پھر آنکھیں بند کر لیں
“کیا بہت نیند آر ہی ہے؟”
“ہاں بھئی!‘‘
“پھر بیڈ روم میں جا کر لیٹ جائیں تھوڑی دیر سولیں۔ پھر میں آپ کو اٹھا لوں گی۔‘‘ پھر اس نے ترچھی نظروں سے دیکھ کر کہا۔ ’’یہ بات یاد رکھیں کہ آپ یہاں سونے کے لیے نہیں آۓ ہیں باتیں کر یں گے تاش کھیلیں گے میوزک سنیں گے۔ میں اپنی پسند کے کیسٹ لے کر آئی ہوں“
’’اچھا ہاں ضرور۔‘‘ اس نے بمشکل آ نکھ کھول کر چاۓ کا گھونٹ لیا۔ پھر کپ اس کی طرف واپس کرتے ہوۓ بولا۔ ’’بھئی مجھے نیند آرہی ہے۔ کچھ دیر سو جاؤں۔ یہ تم نے کھانے میں کچھ ملا دیا تھا کیا؟‘‘
“میرے رانجھن ! جو کھانا تم نے کھایا ہے وہی کھانا میں نے بھی کھایا ہے۔ مجھے تو نیند نہیں آرہی۔“
“بھئی مجھے تو آرہی ہے۔” یہ کہہ کر وہ صوفے پر ہی لڑھک گیا۔
ورشانے بیڈ روم سے لپ اسٹک لگا تکیہ اٹھایا اور اس کے سر کے نیچے رکھتی ہوئی بولی۔ “سر اٹھائیں یہ تکیہ لگا لیں۔“
“اچھا!‘‘ ساحل عمر نے بمشکل سر اٹھایا۔ ورشا نے تکیہ اس کے سر کے نیچے رکھ دیا اور بولی۔ “اب آرام سے سو جاؤ میرے رانجھن. گڈ بائی”
ساحل عمر نے کچھ جواب دینا چاہا لیکن وہ بول نہ سکا۔ اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ نزم روئی میں دھنستا چلا جار ہا ہو۔ چندلمحوں کے بعد وہ اپنے ہوش گنوا بیٹھا۔
ورشا کچھ دیر بیٹھی اس کی صورت دیکھتی رہی ۔ ساحل عمر ایک خوبصورت لڑکا تھا۔ اس وقت اس کے چہرے پر بلا کی معصومیت چھائی ہوئی تھی۔ اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔ اس کے ہونٹوں کی بناوٹ ہی کچھ اس طرح کی تھی کہ وہ ہونٹ بند کرتا تو یوں لگتا جیسے دھیرے سے مسکرارہا ہو۔ ورشا اس وقت متضاد کیفیت سے دو چار تھی۔ ماں کے پلان کے مطابق اس نے ہر وہ کام کر دیا تھا جو وہ چاہتی تھی۔ وہ خوش تھی کہ اس نے اپنی ممی کے منصوبے کو بخیر و خوبی پایہ تکمیل تک پہنچا دیا تھا
ایک طرف وہ خوش تھی تو دوسری طرف وہ خوفزدہ بھی تھی افسردہ بھی تھی۔ وہ اپنی ماں کے عزائم سے اچھی طرح واقف تھی۔ وہ یہ بات اچھی طرح جانتی تھی کہ اس کی ماں نے مچھلی پکڑنے کے لیے اسے چارے کے طور پر استعال کیا ہے۔ وہ چارہ بننے پر مجبور تھی۔ اس میں انحراف کی قوت ہی نہیں رہی تھی۔ شروع میں تو وہ اسے ایک کھیل ہی بجھتی رہی تھی لیکن اب جبکہ ساحل عمر گہری نیند سو چکا تھا اس پر ایک افسردگی سی چھا گئی تھی۔ شاید وہ اپنے کیے پر پچھتا رہی تھی۔
پھر اچانک اس کے دماغ میں ایک امید کی کرن چمکی۔ اس نے ساحل عمر کے گلے کو ٹٹولا پھر قمیض کا ایک بٹن کھول کر دیکھا۔ جانے کیوں اسے دیکھ کر شاک لگا۔ اس کے گلے میں تعویذ نا تھا۔ اب ساحل عمر کو کوئی بچانے والا نہ تھا۔ اس کے بچاؤ کی کوئی صورت نہ رہی تھی۔
ورشا کچھ دیر گم صم بیٹھی رہی پھر وہ بے اختیار اس کے چہرے پر جھکنے لگی۔
اس نے اپنے ہونٹوں پر آئی بات ساحل عمر کے ہونٹوں کو سنادی۔ پھر وہ اٹھی۔ اٹھتے ہوئے اس کے دل میں آیا کہ وہ کہے۔ ’’اللہ تمہارا نگہبان ہو۔‘‘ مگر وہ دل میں آئی بات ہونٹوں پر نا لا سکی
اس نے زینے کے دروازے پر تین بار دستک دی۔ کچھ دیر توقف کیا۔ دروازے کے تالے میں چابی گھومی اور پھر دروازہ کھل گیا۔
دروازہ واسم نے کھولا تھا۔ وہ ورشا کو د یکھ کر ایک طرف ہو گیا۔ ورشا خاموشی سے زینہ طے کرنے لگی۔
◎◎◎◎◎◎◎◎
ناصر مرزا نے اپنی آنکھیں بند کر رکھی تھیں۔ کتے کے رونے کی آواز سن کر اس نے اپنی آنکھیں کھول دیں اور عمل جاری رکھا۔ کمرے میں اندھیرا ہونے کے باوجود دو چمکدار آنکھیں اسے گھورتی ہوئی نظر آ ئیں۔ ساتھ ہی غراہٹ کی آواز سنائی دی۔ وہ کتا تھا۔ بھیٹر یا تھا جو بھی تھا لیکن تھا گدھے جتنا اونچا کیونکہ اس کی آنکھیں خاصی اونچی تھیں ۔ وہ کتے کی طرح ہانپ رہا تھا اور بھیٹریئے کی طرح غرا رہا تھا۔
ناصر مرزا مضبوط دل گردے کا مالک تھا۔ پھر حافظ موسی نے اس عمل کے تمام نشیب و فراز اسے سمجھا دیئے تھے۔ خوف کی ایک ہلکی سی لہر اس کے دل میں ضرور اٹھی تھی لیکن ساتھ ہی یہ اطمینان بھی تھا کہ وہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ ناصر مرزا نے اپی آ نکھیں بند کر لیں اور عمل جاری رکھا۔
“اوہ بے وقوف تو کن چکروں میں پڑا ہے۔‘‘
کمرے میں اچانک ایک آواز گونجی۔ یہ بڑی کرخت آواز تھی۔ ناصر مرزا نے پھر آنکھیں کھول دیں۔ کمرے میں وہ موجود تھی۔ اس کی آنکھیں اندھیرے میں چمک رہی تھیں۔
“آنکھیں کھول کر کیا دیکھتا ہے۔ اپنی یہ خرافات بند کر ورنہ پچھتاۓ گا۔‘‘ پھر وہی آواز گونجی
ناصر مرزا اندازہ نہ کر پایا کہ یہ آواز کس کی ہے۔ آیا یہ کتا یا بھیٹر یا بول رہا ہے یا اس کے ساتھ کوئی اور بھی کمرے میں موجود ہے۔ ناصر مرزا نے خاموشی سے اپنا عمل جاری رکھا۔
“سنتا نہیں ہے کیا بہرہ ہے دیکھتا نہیں اندھا ہے؟ کیوں اپنی زندگی کے پیچھے پڑ گیا ہے۔ جانتا نہیں ہم جس کے پیچھے لگ جاتے ہیں اسے مار کر ہی چھوڑ تے ہیں۔” وہ جو بھی تھا مسلسل دھمکیاں دیئے جارہا تھا
ناصر مرزا مصلے پر بیٹھا تھا۔ دائیں ہاتھ میں اس کے تسبیح تھی ۔ وہ پورے اعتماد سے اپنا عمل جاری رکھے ہوئے تھا۔ اس کی انگلی کے درمیان تیزی سے تسبیح کے دانے پھسل رہے تھے۔
“او بے قوف بند کر اپنی بکواس نہیں تو میں تیرے اوپر چھلانگ لگا رہا ہوں۔ تیری کھوپڑی اتار کر لے جاؤں گا‘‘ اس کے ساتھ ہی غراہٹ میں اضافہ ہو گیا۔
ناصر مرزا نے اپنا بایاں ہاتھ بڑھایا اس کے پاس ہی ایک چھ سیل کی بڑی ٹارچ رکھی ہوئی تھی اب حد ہوگئی تھی اسکی بکواس مسلسل جاری تھی اب سے سبق سکھانا ضروری ہو گیا تھا
ناصر مرزا نے بائیں ہاتھ میں ٹارچ تھام کر اسکا بٹن آن کیا ٹارچ کی تیز روشنی اس خبیث پر پڑی۔
ایک لمحے کو ناصر مرزا کا دل کانپ کر رہ گیا۔ وہ انتہائی خوفناک شکل کا جانور تھا۔
وہ نہ کتا تھا نہ بھیڑیا تھا۔ وہ ان دونوں سے ملتا جلتا ضرور تھا لیکن وہ چیز ہی کچھ اور تھا۔ اس کا قد بھی گدھے جتنا تھا ٹارچ کی روشنی پڑتے ہی وہ کسی غبارے کی طرح پھٹ گیا ایک تیز غراہٹ سنائی دی اور پھر سامنے کچھ نہ رہا۔
ناصر مرزا نے فورا ہی ٹارچ بند کر دی اور اپنا عمل جاری رکھا۔ کمرے میں پھر سے گہری تاریکی چھا گئی۔
◎◎◎◎◎◎◎◎
ورشا اوپر پہنچی تو برکھا کو شدت سے منتظر پایا۔ وہ اسے دیکھ کر تیزی سے آگے بڑھی۔ “اوہ، میری جان!‘‘
یہ کہہ کر اس نے ورشا کو اپنے گلے سے لگا لیا۔ برکھا کے گلے لگتے ہی اسے شدید بدبو کا بھبھکا محسوس ہوا۔ وہ جلدی سے اس سے الگ ہو گئی اور زبردستی مسکرائی۔’’ہائے ممی‘‘
”کیا ہوا؟‘‘ برکھا نے ورشا کا ہاتھ پکڑ کر اسے بیڈ پر بٹھا لیا جبکہ واسم دروازہ کھول کر گیلری میں چلا گیا اور اندھیرے میں آنکھیں پھاڑ کر سمندر کو دیکھنے لگا۔ سمندر دکھائی نہیں دے رہا تھا البتہ سنائی ضرور دے رہا تھا۔ لہروں کی آواز اندھیرے میں بڑی خوفناک محسوس ہو رہی تھی۔
“ممی جوتم چاہتی تھیں وہ ہو گیا ہے۔” ورشانے گہرا سانس لے کر کہا۔ وہ چاہتی تھی کہ اسکے لہجے سے اداسی ظاہر نہ ہو اس لیے وہ تھوڑا سا مسکرائی بھی۔ ”وہ سو روہا ہے گہری نیند میں نے اسے بوٹی بھی کھلا دی ہے اور تکیہ بھی اس کے سر کے نیچے رکھ دیا ہے۔“
“اوہ میری بچی تیرا جواب نہیں۔‘‘ وہ ورشا کا ہاتھ چومتی ہوئی بولی۔”مجھے مانا حاصل ہو جاۓ پھر دیکھ میں تیرے لیے کیا کرتی ہوں۔‘‘
’’ممی بھاڑ میں جاۓ تمہارا مانا۔‘‘ اسے ایک دم غصہ آ گیا لیکن یہ ایسا غصہ تھا جس کا اظہار ممکن نہ تھا۔ وہ اندر ہی اندر غصے کو پی گئی۔ اس طرح زبان پر آئے ہوئے الفاظ بھی آواز نہ بن سکے۔ اس نے خاموش نگاہوں سے ممی کو دیکھا اور پھر دوسری طرف منہ پھیر لیا۔
“کیا ہوا ورشا. تم کچھ پریشان ہو۔؟” برکھا نے پوچھا۔
“نہیں ممی! میں ٹھیک ہوں۔”
“اچھا تم لیٹ جاؤ لاؤ میں تمہارا سر دبا دوں۔‘‘ برکھا نے تیز نظروں سے اس کی پیشانی کی طرف دیکھا اور کچھ پڑھ کر پھونکا۔ درد کی ایک تیز لہر اس کے سر میں اٹھی۔ وہ اپنا سر پکڑ کر بیڈ پر بیٹھ گئی۔ “اوہ، ممی”
“لیٹ جاؤ۔‘‘ برکھا نے حکم دیا۔ اس کے لہجے میں غراہٹ آ گئی تھی۔
“اچھا ممی۔‘‘ ورشا کے حواس یکدم جواب دے گئے۔ اسے لگا جیسے اسے جکڑ لیا گیا ہو۔ اس نے بے بسی سے برکھا کی طرف دیکھا اور بستر پر ڈھیر ہوگئی۔
برکھانے اس کے ہاتھ پاؤں سیدھے کر دیے۔ اس کے سر سے تکیہ نکال دیا۔ سر ذرا سا اوپر کر دیا۔ اس کی آ نکھیں کھلی تھیں اور وہ ایک ٹک چھت کو گھورے جا رہی تھی۔
ورشا آنکھیں بند کرلو اور یاد رکھو اب تم اس وقت تک نہیں اٹھو گی جب تک میں یہ نہ کہوں کہ اٹھ جاؤ۔ سن لیا تم نے ورشا۔” اس نے حکم دیا۔
“جی ممی میں نے سن لیا میں آنکھیں بند کر رہی ہوں۔‘‘ ورشا نے کسی معمول کی طرح آنکھیں بند کر لیں۔
“واسم‘‘ برکھا نے بیڈ سے اٹھتے ہوۓ آواز دی۔
“جی برکھا جی۔” وہ فورا اندر آ گیا۔
“دیکھو یہاں ورشا لیٹی ہے۔ میں نیچے جا رہی ہوں۔ تم گیلری میں کھڑے رہو گے۔ ذرا آنکھیں کھلی رکھنا۔‘‘
’’جی!‘‘ اس نے سر جھکا کر کہا۔
’’جاؤ!‘‘ برکھا نے تحکمانہ انداز میں کہا۔
دروازہ کھول کر واسم فورا باہر چلا گیا۔ اس نے دروازہ بند کر لیا اور گیلری میں مستعد ہو کر کھڑا ہو گیا۔
دروازہ بند ہونے کے بعد برکھا نے ہاتھ اٹھا کر ایک زور دار انگڑائی لی۔ رقص کے انداز میں گھومی اور پھر بڑے سرشار انداز میں دروازہ کھول کر نیچے اترنے لگی۔
ساحل عمر آنکھیں موندے لیٹا تھا اسے اپنی کچھ خبر نہ تھی۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ اس پر کیا گزرنے والی ہے۔ برکھا آنکھوں میں خواہشات کے خواب سجاۓ اس کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنے مذموم عزائم میں کامیاب ہوتی زینے کا دروازہ دھاڑ سے کھلا۔ واسم تیزی سے اندر آیا۔ وہ واسم کو اپنے سامنے پا کر غصے سے چیخی۔ ” کیا ہے؟”
“برکھا جی غضب ہو گیا۔” وہ بمشکل بولا ۔
واسم نے بڑے غلط وقت پر مداخلت کی تھی۔ برکھا اسے دیکھ کر ایک دم جل اٹھی تھی۔ وہ بھڑکتا شعلہ بن گئی تھی۔ لیکن جب اس نے واسم کے چہرے پر نظر کی تو اسے احساس ہوا کہ کوئی سنگین صورت حال ہے۔ واسم کا چہرہ سفید پڑ چکا تھا۔ اگر کوئی سنگین صورت حال نہ ہوتی تو واسم ہرگز مداخلت کا بے جا مرتکب نہ ہوتا۔ یہ بات وہ اچھی طرح جانتی تھی۔ واسم حکم کا غلام تھا لیکن عقل بھی رکھتا تھا۔ اس وقت اس نے اس لیے حکم عدولی کی تھی۔ اپنی حدود توڑ کر برکھا کے ’’شبتان‘‘ میں داخل ہوگیا تھا۔
“کیا ہوا؟ جلدی بولو؟‘‘ برکھا نے اپنے غصے پر قابو پاتے ہوۓ کہا۔
’’وہ تہکال آ رہا تھا؟‘‘ واسم نے پوری صورت حال ایک جملے میں بیان کردی۔
“تہکال۔‘‘ وہ کچھ حیرت اور کچھ غصے سے بولی۔
پھر وہ فورا ہی قالین پر آسن جما کر بیٹھ گئی۔ اس نے اپنے بازو پر اس جگہ انگوٹھا رکھ کر دبایا جہاں بچھو اس کے بازو پر گدا ہوا تھا۔ انگوٹھا اس
نے بچھو کے منہ پر رکھا اور پھر اس نے اپنے منہ سے کچھ عجیب سے لفظ نکالے اور گھٹی گھٹی آواز میں بولی “اعور مدد……اعور مدد…..عور ہاسکل کو بھیج”
تہکال جو اب ہٹ کے نزدیک آ پہنچا تھا اور جس کے لیے بند دروازے اور پتھر کی دیواریں کوئی معنی نہیں رکھتی تھیں۔
چند لمحوں بعد وہ برکھا کو اس کے کیے کی سزا دینے والا تھا کہ اتنے میں ۔ ۔ ہاسکل نمودار ہوا۔
وہ ہاسکل جو نہ کتا تھا اور نہ بھیٹر یا لیکن گدھے کی طرح جسیم تھا۔ اس کی خوفناک چمکتی آنکھیں. سیاہ رات جیسا رنگ۔ وہ تاریکی میں محض اپنی آنکھوں کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا۔ اس نےچھلانگیں مارتے تہکال کی ایک ٹانگ اپنے بڑے سے منہ میں دبا کر چبا ڈالی۔
تہکال اس ناگہانی مصیبت کو سمجھ نہ پایا۔ وہ تکلیف کی شدت سے بلبلا اٹھا۔ جب اس نے پلٹ کر دیکھا تو اپنے سامنے کسی ایسی چیز کو پایا جسے اس نے اس سے قبل نہیں دیکھا تھا۔
دونوں ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو گئے اور باہر کی فضا خوفناک آوازوں سے گونجنے لگی۔
کچھ دیر کے بعد ایک دم سناٹا چھا گیا۔ بس موجیں مارتے سمندر کی آواز باقی رہ گئی۔
•●•●•●•●•●•●•●•
دوسرے دن تین بجے کے قریب ساحل عمر کے گھر کے سامنے ایک گاڑی رکی۔ گاڑی کی پچھلی سیٹوں پر دونوں ماں بیٹی براجمان تھیں اور اگلی سیٹ پر ساحل عمر موجود تھا۔ وہ گاڑی سے اتر کر پچھلی کھڑکی پر آیا۔ ادھر برکھا اور دوسری طرف ورشا بیٹھی تھی۔ ساحل عمر نے جھک کر گاڑی کے اندر جھانکا
ورشا نے اسے دیکھ کر اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔ لیکن ساحل عمر نے کوئی توجہ نہ دی۔ وہ برکھا کی طرف دیکھ رہا تھا۔ تب برکھا نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔ ساحل عمر نے اس کا ہاتھ بے تابی سے تھام لیا۔ ورشا یہ دیکھ کر ایک دم بجھ سی گئی۔
“اچھا ساحل پھر ملیں گے۔ دیکھو فون کرنا نہ بھولنا۔ میں انتظار کروں گی۔‘‘ جو بات ورشا نے کہنا تھی وہ برکھا نے کہی۔
“کیوں نہیں برکھا جی میں آپ کو ضرور فون کروں گا۔‘‘ جو بات ورشا نے سننا تھی وہ برکھا نے سنی۔
’’اچھا بائے۔” برکھا نے اسے چمکتی آنکھوں سے رخصت کیا۔
”بائے۔” وہ یہ کہ کر سیدھا کھڑا ہوگیا۔
’’واسم چلو!“ برکھا نے حکم دیا۔
برکھا کے حکم کے ساتھ ہی گاڑی تیزی سے آگے بڑھ گئی۔ ساحل عمر بڑی دلچسپی سے گاڑی کو جاتا دیکھتا رہا۔ جب وہ گاڑی آنکھوں سے اوجھل ہوگئی تو اس پر اداسی سی چھا گئی اس کا جی چاہا کہ اپنی گاڑی نکال کر ان لوگوں کے پیچھے ہو لے۔ پھر وه بوجھل قدموں سے اپنے گھر کی طرف بڑھا۔ بیل بجانے پر دروازہ اماں نے کھولا وہ اسے دروازے پر پا کر ایک دم کھل گئیں ایک رات کی غیر موجودگی اماں پر بھاری پڑی تھی۔ ساحل عمر یوں گھر سے غائب تو رہتا تھا لیکن کبھی پوری رات کے لیے غائب نہ ہوا تھا۔ اماں کو اسے دیکھے بغیر کہاں قرار تھا۔
“آگئے بیٹا !‘‘ اماں نے بڑی محبت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور اس کے ہاتھ سے بیگ لینے کی کوشش کی ۔
“نہیں اماں! بیگ میں کوئی وزن نہیں ہے۔” ساحل عمر نے مسکرا کر کہا۔ ’’خیریت تو رہی؟‘‘
’’ہاں بالکل!‘‘ اماں نے گیٹ بند کر کے اس کے ساتھ چلتے ہوۓ کہا۔ ’’ساحل رات تو گزر گئی لیکن آج کا دن بڑی مشکل سے گزرا ہے۔‘‘
“کیوں اماں؟‘‘ ساحل عمر نے پوچھا۔ ..بس تم یاد آئے جار ہے تھے۔‘‘ اماں نے اسے پیار بھری نظروں سے دیکھتے ہوۓ کہا۔
“واہ اماں! میں کون سا دبئی چلا گیا تھا۔‘‘ ساحل عمر گھر میں داخل ہوتا ہوا بولا ۔’’میں نے آپ سے کہا تھا کہ گیارہ بارہ بجے تک آ جاؤں گا۔ میرا خیال تھا کہ ہم ناشتہ کر کے وہاں سے نکل آئیں گے لیکن ورشا کھانا پکانے میں لگ گئی۔ پھر ہم وہاں سے کھانا کھا کر نکلے۔ اس لیے دیر ہوگئی۔”
“تو کیا ہوا. اچھاہوا تم گھوم پھر آۓ ۔‘‘ اماں نے بیگ اس سے لیتے ہوۓ کہا۔ ’’جاؤ آرام کرلو۔ پھر رات کو با تیں ہوں گی۔‘‘
“بس اماں آ رام کیا کروں گا۔ تھوڑا سا نہالوں بدن چپک رہا ہے اور ہاں. اماں کسی کا فون تو نہیں آیا؟‘‘ ساحل عمر نے پوچھا۔
“نہیں اتفاق سے کسی کا فون نہیں آیا۔” اماں نے بتایا ۔
جب وہ اپنے بیڈ روم میں داخل ہوا تو سب سے پہلے اس کی نظر رشاملوک کی تصویر پر لکے تعویذ پر پڑی۔ اس تعویذ کو ساحل عمر نے بڑی اجنبی نگاہوں سے دیکھا اور رشاملوک کے چہرے کو تو اس نے دیکھنے کی ضرورت ہی نہ سمجھی۔ وہ اپنی تصویر کے سامنے سے اس طرح گزر گیا جیسے یہ پینٹنگ کسی اور نے بنائی ہو۔ ایسی بے رخی کہ آدمی کا دل کٹ کر رہ جاۓ ۔
جب وہ نہا کر باہر نکلا تو ایک خیال اس کے دل میں جڑ پکڑتا ہوا محسوس ہوا۔ یہ خیال اس کے دل میں نہاتے ہوۓ آیا تھا۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس خیال کو کسی نے بلند آہنگ میں اس کے دل میں ڈالا ہو۔ پھر یہ خیال بوند بوند اس کے دل پر برستا رہا اور جب وہ نہا کر باہر آیا تو یہ خیال بڑی حد تک پختہ ہو گیا تھا۔
کپڑے تبد یل کر کے اس نے بال بناۓ۔ پھر وہ کمرے میں ٹہلنے لگا۔ ٹہلتے ہوۓ اس کی نظر باربار تعویز پر پڑ رہی تھی۔
کوئی اور وقت ہوتا تو وہ کب کا اس تعویذ کو اپنے گلے میں ڈال چکا ہوتا۔ لیکن اس وقت تو اس کے دماغ میں کچھ اور ہی بات تھی۔
بالآخر اس سے رہا نہ گیا۔ اس نے تعویذ اتار کر اپنی قمیص کی جیب میں ڈال لیا اور اپنے کمرے سے باہر نکل آیا۔ اماں سامنے موجود نہ تھی۔ وہ خاموشی سے گھر کے پچھواڑے آ گیا۔
باغبانی کا اسے خاصا شوق تھا اور یہ شوق اسے اپنی ممی سے ملا تھا۔ اس گھر میں جتنے پیڑ پودے نظر آتے تھے وہ اس کی ممی کے ہاتھوں کے لگے ہوۓ تھے۔ اس کی ممی پیڑ پودوں کی دیکھ بھال میں لگی ہوتیں تو ساحل عمر بھی ان کے ساتھ چلا آ تا۔ وہ اپنی ممی کے ساتھ باغبانی میں دلچسپی لیتا ان کا ہاتھ بٹاتا۔ ان کے انتقال کے بعد تو اس نے پوری ذمہ داری اپنے سر لے لی تھی ۔ اگرچہ ہفتے میں دو تین بار ایک مالی پیڑ پودوں کی دیکھ بھال کے لیے آ تا تھا اور یہ مالی بہت پرانا تھا ممی کے زمانے سے آتا تھا۔ پھر بھی بہت کام ہوتے تھے۔ سب سے بڑا کام تو پودوں کو پانی دینے کا ہوتا ہے۔
گھر کے پچھواڑے ایک سلور کی پرانی بالٹی پڑی تھی۔ اس کے اندر کئی قسم کی کھرپیاں پڑی تھیں۔ ساحل عمر نے ایک تیز کھرپی نکال لی اور کھڑے ہوکر زمین کا جائزہ لینے لگا۔ تب اسے ایک کونہ نظر آیا۔ یہ اس کام کے لیے مناسب جگہ تھی۔ اس نے جلدی جلدی تیز کھرپی سے اس کونے کی مٹی کھودی اور جب چھ انچ گہرا ایک چھوٹا سا گڑھا بن گیا تو اس نے اپنی جیب سے تعویذ نکال کر گڑھے میں رکھ دیا اور اس گڑھے کو مٹی ڈال کر دوبارہ بھر دیا۔ پھر کھرپی سے زمین کو برابر کر دیا۔ اس کام سے فارغ ہوکر وہ بڑے اطمینان سے اٹھا اور کھرپی بالٹی میں پھینک کر جب مڑا تو اماں کو اپنے سامنے کھڑے پایا۔ ان کے ہاتھ میں چاۓ کا کپ تھا اور وہ اسے ڈھونڈتی ہوئی یہاں تک آ پہنچی تھیں۔
” کیا کررہے تھے؟ کوئی نیا پودا لگایا ہے کیا؟‘‘ اماں نے اسے اپنے دونوں ہاتھ جھاڑتے دیکھا تھا۔
“ہاں اماں!‘‘ ساحل عمر نے مسکراتے ہوئے کہا اور پھر بولا ’’اماں چاۓ اندر لے آؤ میں ذرا ہاتھ دھولوں۔‘‘
“ہاں بیٹا چلو!‘‘ اماں اس کے پیچھے پیچھے ہولیں۔
⁦⁦ ★☆★☆★☆★☆
یہ وظیفے کی دوسری رات تھی۔ پہلی رات بخیرو خوبی گزرگئی تھی۔ پہلی رات ہاسکل ڈرانے آیا تھا۔ وہ جانور جو نہ کتا تھا اور نہ بھیٹر یا۔ ناصر مرزا نے جب اس پر ٹارچ کی روشنی ڈالی تو وہ اس طرح غائب ہوا جیسے کسی غبارے میں سوئی چبھو دی جاۓ۔ غبارہ پھٹ جائے تو پھر نظر کہاں آ تا ہے۔ وہ بھی کسی غبارے کی طرح پھٹا تھا اور پھر غائب ہوگیا تھا۔ ناصر مرزا تیزی سے وظیفہ پڑھ رہا تھا۔ اس کی انگلیاں تیزی سے تسبیح کے دانے پھینک رہی تھیں۔
کمرے میں تاریکی پھیلی ہوئی تھی۔ اس وظیفے کو اندھیرے ہی میں پڑھنا تھا۔ پڑھتے پڑھے اچانک کمرے میں روشنی کا احساس ہوا انہیں حیرت ہوئی کہ یہ روشنی کہاں سے آئی۔ شبہ ہوا کہ کہیں کوئی پردہ تو ہٹا نہیں رہ گیا۔ سڑک سے کوئی گاڑی گزری ہو تو اس کی لائٹ اندر آ گئی ہو۔ ایسا نہیں تھا۔ اگر پردہ ہٹا ہوا ہوتا اور لائٹ کہیں باہر سے آئی ہوتی تو وہ اب تک ختم ہو چکی ہوتی۔ یہ روشنی تو مسلسل تھی۔ تب ناصر مرزا نے آنکھ اٹھا کر دیکھا تو اس پر منکشف ہوا کہ یہ روشنی
باہری نہیں اندر کی ہے۔ اس کے سامنے ایک دیا روشن تھا۔ ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نے ہاتھ بڑھا کر اس دیے کے ساتھ ایک اور دیا رکھ دیا ہو۔
کھیل شروع ہو چکا تھا۔ ناصر مرزا مستعد ہوگیا۔ اس کی انگلیاں مستقل دانے پھینک رہی تھیں۔ کچھ دیر کے بعد ایک اور دیے کا اضافہ ہوا۔ یہ تینوں دیے بڑے سلیقے سے برابر برابر رکھے تھے۔کوئی دیا آگے تھا نہ کوئی پیچھے تھا۔ ان کی لو بھی برابر تھی۔
کمرے میں ایک نا گوار بو پھیلنی شروع ہوگئی تھی۔
تین دیوں کی روشنی سے کمرے کی خاصی تاریکی دور ہوگئی تھی۔ ناصر مرزا چوکس تھا۔ وہ اپنا کام جاری رکھے ہوۓ تھا۔ یہ جو کچھ ہورہا تھا اس کی توجہ ہٹانے کے لیے تھا۔عمل کا تسلسل روکنے کے لیے تھا۔ حافظ موسی نے ہر بات بہت واضح طور پر سمجھا دی تھی۔ انہوں نے بتا دیا تھا کہ عمل کا تسلسل روکنے کے لیے مختلف مظاہر سامنے آئیں گے۔
مظاہرہ ہو رہا تھا۔ تین دیے روشن ہو چکے تھے۔ نا گوار بو آنی شروع ہوگئی تھی۔ جب اس سے عمل کا تسلسل نہ ٹوٹا تو نیا ناٹک رچایا گیا۔
ان تینوں دیوں کے پیچھے سے بچھوؤں نے برآمد ہونا شروع کیا۔ وہ بڑی تیزی سے چراغوں کے پیچھے سے نکل نکل کر ادھر پھیلنے لگے۔ کچھ ناصر مرزا کی طرف بڑھے۔ پھر چند لمحوں میں ان بچھوؤں کی تعداد اتنی بڑھ گئی کہ کمرے میں ہر طرف بچھو ہی بچھو دکھائی دینے لگے۔
اب ان بچھوؤں نے چاروں طرف سے ناصر مرزا کی طرف بڑھنا شروع کیا۔ یہ ایک انتہائی خطرناک مرحلہ تھا۔ یہ ایک ایسا مظاہرہ تھا کہ مضبوط سے مضبوط دل والا بھی حوصلہ چھوڑ سکتا تھا۔ لیکن ناصر مرزا حوصلہ چھوڑنے والوں میں سے نہ تھا۔ وہ وظیفه شروع کرنے سے پہلے مصلے کے چاروں طرف حصار کھینچتا تھا۔ پھر مصلے پر بیٹھتا تھا۔ وہ یہ بات اچھی طرح جانتا تھا کہ اس حصار کو توڑ کر اندر آ نا کسی بھی مخلوق کے لیئے ممکن نہ تھا۔ یہ یقین اپنی جگہ لیکن جب آ دمی کسی تجربے سے گزرتا ہے اور وہ بھی کسی بھیانک تجربے سے تو بعض اوقات یقین دھرا کا دھرا رہ جاتا ہے۔ یہ مرحلہ بھی کچھ اسی قسم کا تھا۔
یہ بچھو جب حصار تک پہنچے تو حصار کی نادیدہ لائن سے ٹکراتے ہی وہ اس طرح واپس پلٹتے۔ جیسے چوہے بلی کو دیکھ کر بھاگتے ہیں۔ ان میں بری طرح بھگدڑ مچ گئی۔ وہ ایک دوسرے سے ٹکرا ٹکرا کر غائب ہونے لگے۔
چند لمحوں بعد وہاں ایک بھی بچھو نہ رہا۔ ناصر مرزا نے وظیفہ پڑھتے پڑھتے ایک پھونک ماری۔ پھونک مارتے ہی وہ دیے تجھلملا کر بجھ گئے ۔ کمرے میں پھر سے تاریکی پھیل گئی۔ ناگوار بو بھی جاتی رہی۔
اس طرح وظیفے کی دوسری رات، بھی بخیروخوبی گزرگئی۔
⁦ ๑๑๑๑๑๑๑
اماں ایک جہاندیدہ خاتون تھیں۔ وہ اس بات کو بڑی شدت سے محسوس کر رہی تھیں۔ جب سے ساحل عمر ایک رات سمندر پر گزار کر آیا تھا اس کے اطوار تبد یل ہوگئے تھے۔ وہ ساحل عمر نہ رہا تھا کچھ اور ہو گیا تھا۔ اس کا چہرہ بڑی تیزی سے زرد ہوتا جارہا تھا۔ یوں محسوس ہوتا جیسے وہ یرقان کے مرض میں مبتلا ہو گیا ہو۔
اماں نے اسے ٹوکا تو ساحل نے اسے ان کا وہم گردانا ۔ اس نے کہا ’’اماں نہ میری صحت کو کچھ ہوا اور نہ میری رنگت کو۔ میں پہلے جیسا ہشاش بشاش ہوں۔ مکمل طور پر صحت مند آپ کو یونہی وہم ہوا ہے۔‘‘
اس کی رنگت ہی تبدیل نہیں ہوئی تھی اس کی عادتوں میں بھی تبد یلی آئی تھی۔ وہ اگر کہیں بیٹھا ہے اور اس کی نظر کسی چیز پر جم گئی ہے تو بس اسے دیکھے جارہا ہے۔ اماں اس کو ٹوکتی تو وہ حیران ہوکر انہیں دیکھنے لگتا۔ پھر سوال کرتا: ’’ کیا ہوا اماں؟‘‘
“تم دیوار کو کیا گھورے جار ہے تھے؟‘‘
“ارے نہیں اماں! یہ محض آپ کا وہم ہے۔‘‘ وہ ہنس کر انہیں ٹال دیتا۔
اماں جب بھی اسے اس کی کسی غیر معمولی حرکت سے ٹوکتیں یا نشاندہی کرتی تو وہ بڑی ۔ ۔صفائی سے ان کا وہم قرار دے دیتا۔
اماں اس کی بات سن کر چپ تو ہو جاتیں لیکن ان کا دل مطمئن نہ ہوتا وہ جو کچھ دیکھ رہی تھیں اس سے ان کی پریشانی میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ یہ ٹھیک ہے کہ اماں نے ساحل عمر کو جنم نہیں دیا تھا لیکن وہ ان کے لیے جگر کے ٹکڑے سے کم نہ تھا۔ وہ ان کی گود میں پل کر جوان ہوا تھا۔ وہ اسے کسی مصیبت میں مبتلا نہیں دیکھ سکتی تھیں۔
وہ جو کچھ محسوس کر رہی تھیں صحیح محسوس کر رہی تھیں۔ لیکن ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ساحل عمر کو ہوا کیا ہے۔ کوئی ایسا بھی نہ تھا جس سے بات کر کے وہ اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرلیتی۔
لے دے کر ایک مرجینا تھی۔ وہ ایک ہمدرد قسم کی ملازمہ تھی۔ اس نے بھی ’’ صاحب‘‘ میں ہوتی تبد یلیوں کو محسوس کیا تھا۔ اماں نے اس کی بات سن ضرور لی تھی لیکن اسے ہم راز نہیں بنایا تھا۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ مرجینا ساحل عمر کے سامنے کوئی ایسی بات کرے جو اس کی ناراضگی کا سبب بنے
وہ ساحل عمر کی طرف سے خاصی فکرمند تھیں۔ وہ چاہتی تھیں کہ اس سلسلے میں کسی سے بات کریں۔ سوچتے سوچتے ان کے ذہن میں ناصر مرزا کا نام آیا۔ بات تو خیر مسعود آفاقی سے بھی کا جاسکتی تھی۔ دونوں ہی اس کے دوست تھے اور دونوں ہی اس پر جان چھڑکتے تھے۔ لیکن مسعود آفاقی کچھ کھلنڈرا سا تھا۔ اماں کو یقین نہیں تھا کہ وہ جو کچھ اسے بتائیں گی وہ بات اس طرح اس کی سمجھ میں بھی آ جاۓ گی۔ البتہ ناصر مرزا کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ ایک جہاندیدہ شخص ہے وہ اسے جو کچھ بتائیں گی اگر وہ من وعن اس بات پر یقین نہیں کرے گا تو اس بات کو سمجھنے کی کوشش ضرور کرے گا۔
ابھی وہ یہ سوچ ہی رہی تھیں کہ ناصر مرزا کو فون کر کے ساحل عمر کے بارے میں بتائیں کہ اچانک فون کی گھنٹی بجی۔ ساحل عمر ابھی تک سور ہا تھا۔ یہ صبح دس بجے کا وقت تھا۔ اماں نے ٹی وی لاؤنج میں رکھے ٹیلیفون کا ریسیور اٹھایا۔
’’ہیلو!‘‘ اماں بولیں۔
“اماں! میں ناصر بول رہا ہوں۔ ساحل کہاں ہے؟‘‘
ناصر مرزا کی آواز سن کر اماں خوش ہو گئیں۔ اس وقت اگر وہ کچھ اور بھی سوچ لیتی تو پورا ہو جاتا انہوں نے خوش ہوکر کہا ’’بڑا اچھا ہوا جو تمہارا فون آ گیا۔”
“وہ کیوں اماں؟‘‘ ناصر مرزا نے پوچھا۔
“میں تم سے خود بات کرنے کا سوچ رہی تھی۔‘‘
“خیریت اماں! ساحل تو ٹھیک ہے؟‘‘ وہ فورا فکرمند ہوا۔
“ساحل کے بارے میں ہی بات کرنا چاہ رہی تھی۔ ساحل ٹھیک ہیں اس وقت سور ہے ہیں۔” اماں نے بتایا۔
“اب تک سورہا ہے؟ کیا رات کو دیر تک جاگتا رہا۔‘‘
“دو چار روز سے ساحل کے شب و روز بالکل تبدیل ہو چکے ہیں۔ مجھے تو ساحل ساحل ہی نہیں لگے۔‘‘ اماں نے اصل موضوع چھیڑا۔
“ارے اماں ایسا کیا ہوا؟‘‘ ناصر مرزا نے فکرمند لہجے میں پوچھا۔
اماں نے جو تبد یلیاں نوٹ کی تھیں وہ ناصر مرزا کے گوش گزار کر د یں۔ ساری باتیں سن کر ناصر مرزا نے پوچھا
’’ایسا کب سے ہوا.؟ میرا مطلب ہے اس میں تبدیلی کب سے آئی ہے۔‘‘
“دو چار دن پہلے وہ سمندر پر گئے تھے وہاں ایک رات رہے بھی۔” انہوں نے بتایا۔
’’ہیں!‘‘ ناصر مرزا حیران ہوا۔ ’’ کس کے ساتھ گیا تھاوہ سمندر پر…؟”
“ورشا کے ساتھ وہ خود لینے آئی تھی۔”
“اوه!‘‘ ناصر مرزا نے گہرا اور ٹھنڈا سانس لیا۔ ’’اچھا اماں آپ پریشان نہ ہوں میں گھر آتا ہوں۔ وہ اٹھ جاۓ تو ٹھیک ہے ورنہ میں خود ہی آ کر اٹھاتا ہوں۔”
”ٹھیک ہے۔“ اماں نے ایک پراطمینان سانس لیا۔ ناصر مرزا سے بات کر کے انہیں خاصی تشفی ہوگئی تھی ۔
⁦ ◉◉◉◉◉◉
ساحل عمر ایک اونچے پتھر پر کھڑا بھیگ رہا تھا۔ بارش بہت تیز تھی اتنی تیز کہ چاروں طرف دھواں پھیلا ہوا تھا۔ پہاڑی علاقہ، قریب میں بہتا دریا، موسلا دھار بارش، تنها بهیگتا ساحل….
اچانک ساحل کا کسی نے ہاتھ پکڑا۔ یہ ایک نرم ملائم ہاتھ تھا۔ لیکن اس ہاتھ کی گرفت سخت تھی۔ وہ اسے تیزی سے کھینچتی ہوئی ایک طرف لے جارہی تھی۔ جب وہ ایک گھنے درخت کے نیچے پہنچا تو ساحل عمر نے دیکھا کہ وہ رشاملوک ہے۔ وہی سفید ریشمی لبادہ جو بارش میں بھیگ کر اس کے جسم سے چپک گیا تھا۔ اس نے اپنے لباس کو درست کیا اور کسی قدر غصے میں بولی “تمہیں بارش میں بھیگنے کا زیادہ شوق ہے تم بھاگ کر اس درخت کے
ساۓ تلے کیوں نہیں آ گئے؟‘‘
“ہاں! مجھے بارش میں بھیگنے کا بہت شوق ہے۔ میں بھیگ رہا تھا تو بھیگنے دیتیں۔ مجھے یہاں کیوں لے آ ئیں؟‘‘ ساحل عمر نے بھی اس انداز میں جواب دیا۔ اس کے لہجے میں خفگی تھی۔۔
“تم نہیں جانتے کہ یہ کس قسم کی بارش ہے۔ تم پر یہ بارش کس قسم کے اثرات مرتب کرے گی۔ میں تمہیں کسی مصیبت میں مبتلا نہیں دیکھ سکتی۔‘‘
“تم کون ہو مجھے روکنے والی۔ میں جو چاہے کروں۔ بارش میں بھیگوں یا دریا میں نہاؤں۔۔ ہٹو میرے سامنے سے۔ کتنی خوبصورت بارش ہے اور تم خواہ مخواہ مجھے اس بارش میں نہانے سے منع کررہی ہو۔‘‘
یہ کہہ کر وہ درخت کے نیچے سے لکلا اور تیزی سے بھاگتا ہوا پھر اسی اونچے پتھر پر آن کھڑا ہوا جہاں وہ کچھ دیر پہلے کھڑا تھا۔ بارش موسلا دھار جاری تھی ۔ وہ آنکھیں موندے پھر سے اس بارش میں بھیگنے لگا۔
“ساحل میری بات مان لو مت بھیگو بارش میں.. یہ بے موسم کی بارش ہے ۔تم بیمار ہوجاؤ گے۔ کمزور ہو جاؤ گے بے بس ہو جاؤ گے۔ وہ ایسا ہی چاہتی ہے۔‘‘ رشاملوک نے اسے سمجھانے کی کوشش کی لیکن ساحل عمر نے اس کی باتوں کی طرف دھیان نہ دیا۔ وہ اس کی طرف سے پیٹھ موڑ کر کھڑا ہوگیا۔
اس کی اس بے رخی پر رشاملوک کا دل کٹ کر رہ گیا۔ وہ چاہتی تھی کہ جس بے موسم کی بارش میں وہ بھیگ رہا ہے نہ بھیگے۔ اس نے پھر اس بارش سے بچانے کے لیے قدم اٹھائے لیکن پھر رک گئی۔ وہ جانتی تھی کہ ساحل عمر ضدی ہے وہ کبھی اس کی بات نہ مانے گا۔ پھر وہ یہ بھی جانتی تھی کہ ساحل عمر انجان ہے۔ اسے ہوش نہیں ہے کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ اسے کتنا نقصان پہنچ گیا ہے اور مز ید کتا پہنچے گا
“ساحل عمر میں جارہی ہوں۔” اس نے چیخ کر کہا۔ ’’اب بھی وقت ہے اس گھنے درخت نیچے آجاؤ۔
“جاؤ!‘‘ اس نے اس کی طرف پیٹھ موڑے موڑے کہا۔ ’’ مجھے کسی بات کی کوئی پرواہ نہیں۔”
“کاش! تمہیں پرواہ ہوتی۔ کاش! تم میری بات سمجھ سکتے۔‘‘ رشالوک نے افسوس بھرے لہجے میں کہا۔
“میں کسی کی کوئی بات نہیں سمجھنا چاہتا۔ مجھے یہ بارش بہت اچھی لگ رہی ہے مجھے بہت مزہ آرہا ہے۔‘‘ ساحل عمر نے خوش ہو کر کہا اور جب اس نے پیٹھ موڑ کر دیکھا تو درخت کے نیچے کوئ نا تھا
ابھی اسے گئے ہوۓ چند لمحے ہی ہوئے تھے کہ یہ بارش خون کی بارش میں تبدیل ہوگئی
اس کے کپڑے خون میں سرخ ہو گئے۔ پھر اس نے جہاں بھی نظر ڈالی ہر طرف خون ہی خون نظر آیا۔
سارا پانی خون میں تبدیل ہو چکا تھا۔ تب گھبرا کر اس نے رشاملوک کو آواز دینا چاہی لیکن آواز گلے میں گھٹ کر رہ گئی۔
ایک دم اس کی آنکھ کھل گئی اسے کوئی آواز دے رہا تھا۔ “ساحل اٹھو بھئی. آخر کب تک سوتے رہوگے؟‘‘
جب اس کے حواس درست ہوۓ تو اس نے دیکھا کہ ناصر مرزا اس کے سامنے کھڑا ہوا ہے
وہ ایک دم اٹھ کر بیٹھ گیا اور اس نے دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ لیا۔
“کیا ہوا ساحل؟‘‘ ناصر مرزا نے اس کے ہاتھوں پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا۔
“کچھ نہیں۔‘‘ اس نے فورا ہی سر چھوڑ دیا۔ ’’تم کب آۓ؟‘‘
“ابھی آیا ہوں۔‘‘ ناصر مرزا نے کہا اور اس کا چہرہ غور سے دیکھتا ہوا بولا ’’یار! یہ تمہاری حالت کیا ہورہی ہے۔ تمہارا چہرہ ایک دم زرد ہو رہا ہے۔ تمہیں پر قان تو نہیں ہو گیا؟‘‘
“میں بالکل ٹھیک ہوں۔ یہ صور اماں نے تمہارے کانوں میں پھونکا ہوگا۔” وہ بیڈ سے اٹھتے ہوۓ بولا۔
“اماں کو کچھ کہنے کی کیا ضرورت ہے. کیا مجھے کچھ دکھائی نہیں دے رہا۔ مجھے لگتا ہے تم نے کئی دنوں سے آئینہ نہیں دیکھا۔” ناصر مرزا نے کہا
بغیر کچھ جواب دیئے وہ واش روم میں گھس گیا اور دروازہ زور سے بند کر کے اندر سے چٹخنی لگا لی۔
اماں جو دروازے پر کھڑی تھیں۔ انہوں نے ناصر مرزا کی طرف دیکھا۔ ناصر مرزا نے ان کی باہوں کا مفہوم سمجھتے ہوۓ جواب دیا۔
”اماں معاملہ گڑبڑ ہے۔ یہ وہ ساحل عمر ہی نہیں۔ آپ نے بہت اچھا کیا جو مجھے فون کر کے بتا دیا۔ میں اس سے بات کرتا ہوں۔‘‘
اس کے واش روم سے نکلنے کے بعد ناصر مرزانے اس سے جو بھی بات کی اس بات کا اس نے مختصر اور گول مول جواب دیا۔ ناصر مرزا حیرت سے اس کا چہرہ دیکھ رہا تھا اور پریشان ہوکر اس کے جوابات سن رہا تھا۔ ساحل تمہیں میرے ساتھ ڈاکٹر کے پاس چلنا ہوگا تم مجھے بیمار دکھائی دے رہے ہو۔“
“میں بالکل ٹھیک ہوں۔ بلکہ پہلے سے زیادہ چاق و چوبند ہوں۔”
“مرحوم عابد منجم نے تمہیں منع کیا تھا کہ ورشا سے اب نہیں ملنا۔ تم ملنا چھوڑنے کے بجاۓ اس کے ساتھ سمندر پر چلے گئے؟‘‘ اس کے لہجے میں خفگی تھی ۔
“عابد منجم کو بلاوجہ کوئی غلط فہمی تھی۔ ورشا بہت اچھی لڑکی ہے۔ اس سے کہیں زیادہ اچھی اس کی ماں ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ ان سے ملنے میں کوئی حرج ہے۔“
“یہ بات تم کہہ رہے ہو تم نہیں جانتے ہو کہ میری بھتیجی کی قاتلہ برکھا ہے۔‘‘
“وہ دونوں ماں بیٹیاں اتنی معصوم سی تو ہیں وہ کیا کسی کو قتل کر یں گی یار!‘‘
“ہیں!‘‘ ناصر مرزا کی آ نکھیں حیرت سے پھٹ گئی۔
”تمہیں ضرور ان منحوسوں نے کچھ گھول کر پلا دیا ہے۔ پہلے تو تم نے کبھی اس طرح کی بات نہیں کی۔“
“پہلے میں انہیں زیادہ جانتا نہ تھا۔‘‘
“تمہارے گلے میں تعویذ نظر نہیں آ رہا” اچانک ناصر مرزا کی نظر اس کے گلے پر پڑی۔قیص کے بٹن کھلے ہوۓ تھے۔ گلے میں تعویز نظر نہیں آرہا تھا
تعویذ کا ذکر سن کر ساحل عمر ایک لمحے کو چونکا۔ پھر فورا ہی اس نے خود پر قابو پالیا اور بڑے اطمینان سے بولا ’’یار پتا نہیں وہ تعویذ کہاں گیا۔ میں واش روم میں جاتا تھا تو اس تصویر کے فریم پر لٹکا دیا کرتا تھا۔ اس تصویر سے وہ غائب ہوگیا۔‘‘
اپنے اس جھوٹ پر ساحل عمر خود بڑا حیران ہوا۔ اس کا جی چاہ رہا تھا کہ وہ اصل بات ناصر مرزا کو بتا دے کہ اس نے تعویذ دفن کر دیا ہے اور یہ دفن بھی اس نے اپنی مرضی کے خلاف کیا ہے۔ وہ دفن نہیں کرنا چاہتا تھا۔ لیکن اندر سے کوئی اسے اس بات پر اکسا رہا تھا۔ یہاں تک کہ وہ اس تعویذ کو دفنانے پر مجبور کر دیا گیا۔
اس وقت بھی اس کی خواہش تھی کہ وہ ساری بات پوری ایمانداری سے ناصر مرزا کو بتا دے لیکن اندر سے اسے کوئی جھوٹ بولنے پر مجبور کر رہا تھا۔ زبان اس کی تھی لیکن بول کوئی اور رہا تھا جیسے اسے اپنے آپ پر اختیار نہیں رہا تھا۔
“ساحل تمہیں کیا ہوا ہے؟” ناصر مرزا نے تشویش بھرے لہجے میں کہا۔ “یہ بتاؤ تمہارے ساتھ سمندر پر کون کون تھا؟ کیا وہاں برکھا بھی تھی؟“
“رات کو میں اور ورشا اکیلے تھے البتہ صبح کو برکھا پہنچ گئی تھیں۔” ساحل عمر نے بتایا۔
“کیا تمہیں یقین ہے کہ وہ رات کو وہاں نہیں تھی۔”
“کیا بات کرتے ہو یار وہ وہاں ہوتیں تو کیا نظر نہ آ تیں پھر انہیں چھپنے کی کیا ضرورت تھی۔ جس طرح وہ صبح نظر آ گئیں رات کو بھی سامنے آ سکتی تھیں۔ میں نے ورشا سے تنہا رہنے کی فرمائش تو نہ کی تھی۔‘‘ ساحل عمر نے ذرا ناگوار لہجہ بنا کر کہا۔
“اچھا ساحل اب تم ایک بات کان کھول کر سن لو تم اب گھر سے کہیں نہیں جاؤ گے۔ پرسوں صبح میں آؤں گا تمہیں میرے ساتھ چلنا ہے۔تمہیں اندازہ نہیں ہے کہ تم پر کیا بیت گئی ہے۔” ناصر مرزا نے فکرمند ہو کر کہا۔
’’اوہ یار شکاری مجھے کچھ نہیں ہوا۔ تم خواہ خواہ فکرمند مت ہو۔‘‘
’’شکاری!‘‘ ناصر مرزا نے حیران ہوکر دہرایا۔ ’’یہ تم کس کی زبان بول رہے ہو؟”
“اپنی زبان بول رہا ہوں۔‘‘ سامل عمر کو اپنی آواز کھوکھلی محسوس ہوئی۔
“نہیں تم یہ اپنی زبان نہیں بول رہے۔ میں جان گیا ہوں کہ تم کس کے انداز میں گفتگو کرر ہے ہو۔‘‘ ناصر مرزا نے براہ راست اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ کہا۔
ساحل عمر نے چند لمحے اس کی طرف دیکھ کر آنکھیں جھکا لیں۔ ناصر مرزا نے واضح طور پر یہ بات محسوس کی کہ ساحل کی آنکھوں میں محبت کی چمک کے بجائے اجنبیت کا اندھیرا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج پانچویں رات تھی۔
ناصر مرزا نے چار راتیں بخیر و خوبی گزاری تھیں۔ ان چار راتوں میں ہر رات ایک نیا ڈرامہ سامنے آیا تھا۔ ناصر مرزا کو حافظ موسی جیسے زبردست شخص نے ہدایات نہ دی ہوتیں اور ہر بات اچھی طرح کھول کر نہ سجھا دی ہوتی تو وہ کب کا حوصلہ ہار بیٹھتا۔
چار راتیں صحیح سلامت نکل جانے کے بعد ناصر مرزا میں ایک نئی قوت نئی توانائی آ گئ تھی۔
بس اب آج کی رات باقی تھی۔ ناصر مرزا بڑے اہتمام سے اپنے اسٹڈی روم میں آیا تھا۔ بارہ بجنے والے تھے وظیفہ بارہ اور ایک بجے کے درمیان کیا جانا تھا۔ ناصر مرزا نے کمرے کے تمام پردے براںرکردیئے۔ پھر لائٹ بجھا کر یہ چیک کیا کہ کہیں سے روشنی تو نہیں آرہی۔ سڑک کی طرف کھلنے والی کھڑکی کی طرف ایک پردہ ذرا کھسکا ہوا تھا۔ وہاں سے تھوڑی سی روشنی اندر آرہی تھی۔ ناصر مرزا نے پردہ ٹھک کیا تو اسے ایک دم کسی کتے کے رونے کی آواز آئی۔
آواز بڑی دل ہلانے اور دہلانے والی تھی۔ اس آواز کو اس نے سن رکھا تھا۔ یہ آواز اس کی سماعت میں محفوظ تھی۔ یہ اس عجیب جانور کی آواز تھی جس کا قد گدھے کے برابر تھا اور صورت کتے جیسی تھی نہ بھیڑیے کی۔ یہ آواز اتنے قریب سے آئی تھی کہ یوں محسوس ہوا تھا جیسے وہ جانور گھر کی چاردیواری میں موجود ہو۔
ناصر مرزا نے سوچا کہ ابھی تو اس نے وظیفہ بھی شروع نہیں کیا کہ ڈرامہ شروع ہو گیا۔ آج کی رات اللہ خیر کرے۔ وہ اسٹڈی روم کو اندر سے بند کر چکا تھا اور عمل کا وقت شروع ہونے والا تھا۔ ایک بار اس کے جی میں بھی آئی کہ وہ گھر سے باہر نکل کر دیکھے کہیں کوئی کتا تو اندر نہیں آ گیا۔ لیکن پھر یہ سوچ کر رک گیا کہ ہوسکتا ہے اس طرح اسے عمل سے دور کرنے کی کوشش کی جارہی ہو۔ اس کی توجہ اور یکسوئی کو توڑنے کی ناکام جسارت کی جارہی ہو۔ وہ کسی قیمت پر اب باہرنہیں جاۓ گا چاہے کوئی کتا ہی گھر میں کیوں نہ داخل ہو گیا ہو۔ گھر میں گھر کے دیگر افراد موجود ہیں۔ اگر واقعی یہ کسی کتے کی آواز ہے تو وہ لوگ بھی سن لیں گے اور اگر محض اس کو بہکانے کے لیے یہ ناٹک کھیلا جارہا ہے
تو یہ آواز محض اس تک ہی محدود رہے گی۔
دو تین بار اور یہ آواز آئی۔ ہر مرتبہ یہ آواز قریب ہوتی گئی۔ آخری بار تو یوں محسوس ہوا یے وہ جانور کمرے میں ہی موجود ہو۔
ناصر مرزا نے روشنی چیک کرنے کے بعد لائٹ جلا دی تھی۔ وہ عمل کی تیاریوں میں مصروف تھا۔ اس نے مصلہ بچھا دیا تھا۔ مصلہ بچھاتے ہوئے بھی رونے کی آواز آخری مرتبہ سنائی دی تھی۔ اس کے بعد خاموشی چھا گئی تھی۔
مصلہ بچھا کر ناصرمرزا نے گھڑی کی طرف دیکھا بارہ بج کر پانچ منٹ ہور ہے تھے۔ وظیفے کا وقت شروع ہو چکا تھا۔ اس نے لائٹ بجھا کر اپنے گرد حصار کھینچا اور پھر مصلے پر بیٹھ گیا۔
تسبیح ہاتھ میں لے کر اس نے پڑھنا شروع کیا کہ آج مصلے پر ایک کھلا ہوا چمکدار چاقو بھی رکھا تھا۔ یہ ایک خطرناک شکاری چاقو تھا۔ اس کا پھل سات آٹھ انچ سے کم نہ تھا۔ ناصر مرزا جپ شکار پر جاتا تو اس چاقو کو وہ اپنے ساتھ ضرور رکھتا تھا۔ اس چاقو سے اس نے بے شمار جانور
زبح کیے تھے۔
ایک تسبیح مکمل کر کے وہ اس چاقو کو اٹھاتا اور اس کے پھل پر پھونک مار کر مصلے پر رکھ دیتا وظیفے کے دوران اس کی آ نکھیں بند تھیں ۔ وہ محض اندازے سے چاقو اٹھاتا ایک لمحے کے لیے آنکھیں کھول کر چمکتے پھل پر پھونک مارتا اور آ نکھیں پھر سے بند کر لیتا۔ اگر چہ اس کی آنکھیں بند تھیں لیکن اس کے کان پوری طرح کھلے ہوئے تھے کمرے میں ہونے والی ہلکی سی آہٹ بھی اس کے کانوں میں ارتعاش پیدا کردیتی تھی ۔
پڑھتے پڑھتے اچانک اس کے کانوں میں پروں کی پھڑ پھڑاہٹ سنائی دی۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے کئی چمگادڑیں کمرے میں گھس آئی ہوں۔ وہ یہ بات جانتا تھا کہ کمرے کا ہر اور ہر کھڑ کی بند تھی۔ چگادڑوں کا باہر سے آنا ممکن نہ تھا۔ یہ بات فریب سماعت بھی لیکن وہ پروں کی پھڑ پھڑاہٹ کو اپنے سر پر اس طرح محسوس کر رہا تھا جیسے حقیقت میں چمگادڑیں کمرے میں گھس آئی ہوں۔
یہ ایک خطرناک صورت حال تھی۔ حصار اس نے زمین پر کھینچا تھا۔ اس حصار کو توڑ کر اس تک پہنچنا ممکن نہ تھا لیکن اس کے سر پر تو کوئی حصار نہ تھا۔ اس طرح کی صورت حال کے بارے میں کوئی نشاندہی بھی نہیں کی گئی تھی۔ اب جو کچھ کرنا تھا اپنی حاضر دماغی سے کام لے کر ہی کرنا تھا۔
تسبیح پڑھتے ہوئے اس نے بائیں ہاتھ سے ٹارچ اٹھا کر روشنی کی اور اس کا رخ چھت کی طرف کردیا۔ کمرے میں چار پانچ چمگادڑیں موجود تھیں اور وہ بڑی تیزی سے ادھر ادھر اڑ رہی تھیں۔
⁦ ᴥᴥᴥᴥᴥ
سوا بارہ بجے کا عمل تھا۔ اچانک ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ ساحل عمر اپنے بیڈروم میں موجود تھا۔ وہ کمرے میں اندھیرا کیے میوزک سن رہا تھا۔ اس کی آنکھیں بند تھیں۔ گھنٹی کی آواز نے اسے چونکا دیا۔ ڈیک کی آواز کم کر کے اس نے ریسیور اٹھایا اور دھیرے سے کہا ’’جی!‘‘
“کیا کرر ہے ہو ساحل؟‘‘ مترنم آواز میں پوچھا گیا۔
“اچھا! آپ ہیں۔” ساحل عمر نے اس کی آواز پہچان کر کہا۔ ’’میں میوزک سن رہا تھا۔ تم وہاں اکیلے ہؤ یہاں میں اکیلی ہوں. میرے پاس آ جاؤ ناں؟‘‘ پیار سے کہا گیا۔
“اس وقت… کیا بجا ہے؟‘‘ ساحل عمر نے پوچھا۔
’’رات آدھی ہوئی ہے۔ یہی تو وقت ہے دوستوں کا دوستوں سے ملنے کا۔”
آپ کہاں ہیں؟“
”میں اپنے گھر پر ہوں اور تمہاری منتظر آ رہے ہو ناں؟‘‘
“جی میں آرہا ہوں آپ میرا انتظار کیجئے۔” یہ کہہ کر اس نے ریسیور رکھ دیا۔
لائٹ آن کر کے تیزی سے کپڑے تبدیل کیے۔ اس وقت وہ کسی روبوٹ کی طرح کام کررہا تھا۔ وہ اپنے اختیار میں نہ تھا اسے جو کہا گیا تھا اس پر عمل کرنے کے لیے وہ مجبور تھا۔ کپڑے تبدیل کر کے اس نے گھر کی اور گاڑی کی چابی اٹھائی ۔ گیٹ کھول کر اس نے گاڑی اسٹارٹ کی اور کھلے گیٹ سے وہ گاڑی لے کر نکل گیا۔ اس نے گیٹ بند کرنے کی بھی زحمت گوارا نہ کی
گھر کا گیٹ کھلنے اور گاڑی اسٹارٹ ہونے کی آواز پر جب اماں ہانپتی کانپتی گیٹ تک پہنچیں۔ اس وقت ساحل کی گاڑی گلی کا موڑ کاٹ چکی تھی۔
ساحل عمر کے اس طرح نکل جانے پر اماں کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: