Anwar Aleegi Urdu Novels

Bichoo Novel By Anwar Aligi – Episode 14

Bichoo Novel By Anwar Aligi
Written by Peerzada M Mohin
بچھو از انوار علیگی – قسط نمبر 14

–**–**–

کچھ دیر وہ گیٹ پکڑے کھڑی رہیں۔ آنکھوں کے آگے سے اندھیرا چھٹا تو وہ گم سم ہوگئیں۔ ان کی سمجھ میں ہی نہ آیا کہ یہ اچانک ہوا کیا؟ ساحل عمر کہاں چلا گیا؟ کیسے چلا گیا؟
وہ اماں سے اس قدر بے نیاز کیسے ہو گیا۔ اس نے تو اپنے گھر کا بھی خیال نہ کیا۔ اس طرح گھر چھوڑ کر بھاگا جیسے زلزلہ آ گیا ہو۔ چند دنوں قبل جب وہ سمندر پر گیا تھا تو اماں کی تنہائی کا خیال کر کے اس نے مرجینا کو ساتھ رکھنے کی ہدایت کی تھی اور آج آدھی رات کو اماں سے اجازت لینے کی بات تو دور کی تھی وہ گھر کا گیٹ ہی کھلا چھوڑ گیا تھا۔ وہ ڈاکوؤں کو دعوت دے گیا تھا۔۔
اماں چکرائی ہوئی تھیں۔ تھوڑے ہوش و حواس بحال ہوۓ تو انہوں نے گھر کا گیٹ بند کیا۔ اندر آ کر دروازے کی چٹخنی چڑھائی اسے لاک کیا اور ساحل عمر کے بستر پر کر لیٹ گئی۔ بستر پر لیٹتے ہی ان کے دل میں جذبات کا جوار بھاٹا اٹھا اور وہ سک سک کر رونے لگیں۔
روتے روتے وہ جانے کہاں پہنچ گئیں۔ اس دن بھی تو وہ رو رہی تھیں۔ ایک دم ہی ان پر دکھ کا پہاڑ ٹوٹا تھا۔ وہ اپنے گھر میں جس طرح بیٹھی تھیں ویسے ہی اٹھ کر نکل آئی تھیں۔ انہیں کسی نے روکنے کی کوشش نہ کی تھی۔ ویسے بھی وہ رکنے والی نہ تھیں لیکن اگر انہیں کوئی روکتا تو وہ اس بات کو زندگی بھر نہ بھولتیں۔
بھولی تو خیر وہ کسی بات کو نہ تھیں۔ جب ماضی کی فلم ان کے دماغ میں چلنا شروع ہو جاتی تو پھر یہ سلسلہ دور تک چلا جاتا۔ بچپن، شادی، شادی کے بعد کی زندگی اولاد کا نہ ہونا، اولاد کے لیے سوجتن کرنا اور روز ساس کے طعنے سننا۔
وہ بے اولاد تھیں تو اس میں ان کا کیا قصور تھا۔ اولاد تو اوپر والے کی دین ہے جس کو چاہے دے جس کو چاہے نہ دے۔ دینے پر آۓ تو کچے آنگن کو بچوں سے بھر دے اور نہ دینے پر آئے تو سونے کے چمچ والے گھر میں ایک بچہ نہ پیدا ہونے دے۔ لیکن اماں کے گھر والے، اور گھر والا بھی سبھی ان کا دوش جانتے تھے۔
کئی مہینے سے ساس دوسری شادی کی کھچڑی پکا رہی تھی۔ شوہر بھی دبے دبے لفظوں میں اشارے دے رہا تھا۔ اماں ساری باتیں بڑے صبر و سکون سے سن رہی تھیں۔ آخر ایک دن ان کے شوہر نے صاف لفظوں میں دوسری شادی کا ذکر کر ہی دیا۔
اماں نے اپنے شوہر کی بات بڑے صبر کے ساتھ سنی اور صرف اتنا کہا ’’جس دن اس گھر میں میری سوکن داخل ہوگی اس دن بلکہ اس وقت میں یہ گھر چھوڑ جاؤں گی بس اتنا یاد رکھنا۔“
اماں کی بات سن کر ان کا شوہر ہنسا۔ اس نے مذاق سمجھا۔ کون عورت اس طرح اپنا گھر چھوڑتی ہے اور ایسی عورت جس کا کوئی ٹھکانہ نہ ہو۔ ان کے شوہر اور شوہر کی ماں نے اپنی سی کر لی۔ وہ دونوں مل کر گھر میں ایک نئی عورت لے آۓ۔ یہ عورت اماں کی سوکن تھی۔
اماں نے اپنا کہا سچ کر دکھایا۔ سوکن کو دیکھتے ہی وہ اٹھ کھڑی ہوئیں۔ سوکن کے قدم گھر کے اندر کی طرف اٹھ رہے تھے اور اماں کے قدم باہر کی جانب اٹھ رہے تھے۔ وہ جس طرح بیٹھی تھیں ویسے ہی پیروں میں چپل ڈال کر چل دی تھیں۔ انہوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا نہ کسی نے پیچھے سے آواز دی اماں کے شوہر اور ساس نے انہیں گھر سے نکلتے دیکھا۔ شوہر نے چاہا بھی کہ وہ دروازے پر جا کر اماں کو روک لے تب ساس نے فورا ہی اس کا ہاتھ پکڑلیا اور بے نیازی سے بولی ’’کہیں نہیں جاتی آجائے گی دھکے کھا کر‘‘
ممکن تھا کہ اماں دھکے کھا کر واقعی اس گھر کی دہلیز پر لوٹ آتیں لیکن ان کی قسمت میں دھکے نہ تھے۔ گھر سے نکل کر ان کا جدھر رخ تھا ادھر چل پڑیں۔
اور پھر وہ چلتی گئیں۔ انہیں نہیں معلوم تھا کہ وہ کدھر جارہی ہیں۔ بس دماغ میں یہ بات بیٹھی ہوئی تھی کہ اب اس گھر میں نہیں رہنا گھر سے بہت دور نکل جانا ہے۔ چلتے چلتے جب وہ تھک گئیں تو فٹ پاتھ پر بیٹھ گئیں۔
ساحل عمر کے پاپا عمر عابد اور اس کی ممی ٹہل کر آرہے تھے۔ ساحل عمر ان دنوں چھ ماہ کا تھا۔ وہ روحی کی گود میں تھا۔ عمر عابد پیچھے بیکری پر ڈبل روٹی مکھن خرید نے رک گئے تھے اور روحی ساحل کو گود میں لیے بلڈنگ کے گیٹ کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اس وقت یہ لوگ گارڈن کے علاقے میں نئے بنے فلیٹ میں رہتے تھے۔
ساحل اس وقت روحی کی گود میں بری طرح مچل رہا تھا۔ اسے اچانک جانے کیا ہوا تھا۔ ایک دم رونا شروع کردیا تھا۔ شاید اسے اپنے پاپا نظر نہیں آئے تھے یا جانے کیا بات تھی۔ فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے اچانک ہی اماں پر نظر پڑی تھی۔ وہ گھٹنوں میں منہ دیے اور ٹانگوں کے گرد ہاتھ باندھے سک سک کر رو رہی تھیں۔ روحی نے ایک عورت کو رات کے دس بجے فٹ پاتھ پر روتے دیکھا تو وہ ٹھٹھک گئی۔ اس نے اس کے پاس کھڑے ہوکر پوچھا ’’کیا ہوا؟‘‘ اماں نے کسی عورت کی آواز سنی تو فورا گھٹنوں سے اپنا سر اٹھایا۔ جلدی جلدی دوپٹے سے اپنے آنسو پونچھے تھے اور اٹھ کر کھڑی ہوگئیں۔ ساحل عمر جو ابھی تک روحی کی گود میں روئے جارہا تھا اماں کی شکل دیکھ کر ایک دم چپ ہوگیا۔ اماں نے بے اختیار اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تو وہ خاموشی سے ان کی گود میں چلا گیا۔
“بیگم صاحبہ! آپ کا بچہ بہت پیارا ہے۔ اگر آپ اجازت دیں تو اسے پیارکرلوں؟‘‘ اماں
نے بڑے مہذبانہ لہجے میں پوچھا۔
“ہاں ہاں کیوں نہیں۔‘‘ روحی نے فورا کہا۔
اماں نے ساحل کو پیار کیا تو اس نے ان میں جانے کیا دیکھا کہ گلے سے لپٹ گیا۔ روحی نے اماں کے چہرے کو ان کے لباس کو غور سے دیکھا۔ وہ اسے ایک شریف گھرانے کی عورت نظر آئیں۔ اسے اس بات پر حیرت تھی کہ وہ فٹ پاتھ پر بیٹھی رو کیوں رہی تھیں۔
’’ آپ کون ہیں؟‘‘ ساحل عمر کی ممی روحی نے پوچھا۔
’’میں کوئی نہیں ہوں۔‘‘ جواب ملا جواب میں بڑا دکھ تھا۔
“کہاں سے آئی ہیں؟‘‘ روحی نے پھر سوال کیا۔
“کہیں سے نہیں۔” وہی دکھ بھرا لہجہ۔
“یہاں کیوں بیٹھی تھیں اور رو کیوں رہی تھیں؟‘‘
“اپنے نصیبوں کو رو رہی تھی۔” یہ کہہ کر وہ پھر رونے لگیں۔ ساحل عمر نے بڑی معصومیت سے روتی ہوئی اماں کو جھک کر دیکھا تو وہ روتے روتے ایک دم چپ ہوئیں اور مسکرا کر اسے دیکھا۔ ساحل عمر پھر ان کے گلے سے لپٹ گیا اور اس طرح لپٹا کہ روحی کی بار بار کوشش کے باوجود اس کی گود میں واپس نہ آیا۔
تب روحی اماں کو اپنے گھر لے آئی۔ اماں پر جو گزری تھی وہ انہوں نے سچ سچ کہہ سنائی ان کی ساری روداد سن کر روحی نے اماں کو اپنے ساتھ رکھنے کا فیصلہ کرلیا اور اس فیصلے کی بڑی وجہ ساحل عمر تھا جسے اماں پسند آ گئی تھیں۔ روحی گھر میں اکیلی رہتی تھی۔ اماں کا ساتھ اسے سکھ دے سکتا تھا۔ سوچ کر اس نے اماں کو اپنے ساتھ رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔
اماں کو بھی ٹھکانے کی ضرورت تھی۔ روحی کے گھر سے اچھا ٹھکانہ ان کے لیے اور کیا ہوسکتا تھا۔
روحی نے اماں سے کہا ’’اس گھر میں میرے ساتھ جب تک رہنا چاہو رہو۔ جب تمہارا شوہر تمہیں لینے آ جاۓ تو چلی جانا۔”
“نہیں بیگم صاحبہ! اب میں کہیں نہیں جاؤں گی۔ شوہر کو تو میں چھوڑ آئی۔ اول تو وہ آۓ گا نہیں اگر بھولا بھٹکا کبھی ادھر نکل آیا تو میں اس کے ساتھ جاؤں گی نہیں۔ آپ نے نہ رکھا تو کوئی اور ٹھکانہ ڈھونڈ لوں گی پر شوہر کے گھر نہیں جاؤں گی۔ یہ میں عہد کر کے نکلی ہوں۔‘‘ اماں نے دوٹوک لہجے میں کہا۔
بس پھر وہ دن اور آج کا دن اماں نے اس گھر کی دہلیز کو ایسا پکڑا کہ پھر کبھی کہیں جانے کا نام نہ لیا۔ ساحل نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ اب اس گرفت سے نکلنا ان کے بس میں نہ تھا۔ ساحل عمر بھی اماں کا دیوانہ تھا وہ ان کے بغیر رہتا ہی نہ تھا پر ساحل کی ممی اور پاپا کا سلوک بھی اماں کے ساتھ بہترین تھا۔ وہ دونوں انہیں ملازم سمجھتے ہی نہ تھے۔ جس طرح گھر میں ایک بڑے کی حثیت ہوتی ہے بالکل وہی احترام اماں کو دیا جاتا تھا۔
ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے ان کے شوہر نے انہیں کبھی ڈھونڈنے کی کوشش نہ کی۔ اماں نے بھی کبھی اپنے شوہر کی جستجو نہ کی۔ وہ تو اپنا گھر جانتی تھیں لیکن انہوں نے کبھی ادھر کا رخ نہ کیا۔ اماں روحی کے ساتھ صدر گئیں تو ایک مرتبہ ان کی اپنے شوہر پر ضرور نظر پڑی اماں نے اسے دیکھتے ہی اپنا منہ چھپا لیا۔ جب انہوں نے اس سے ہمیشہ کے لیے ناتا ہی توڑ لیا تھا تو پھر اپنا آپ دکھا کر کیا کرنا تھا
وقت تیزی سے گزرتا گیا۔ ساحل عمر جو چھ ماہ کی عمر میں ان کی گود میں آیا تھا اب وہ ایک کڑیل جوان بن چکا تھا۔ لیکن جو چاہت اماں کے دل میں پہلے دن سے ساحل کے لیے تھی وہ آج تک برقرار تھی۔ وہ اس پر جان نچھاور کرتی تھیں۔ اس پر صد قے واری جاتی تھیں۔ ساحل عمر کا بھی یہی حال تھا وہ دل سے ان کی عزت کرتا تھا۔ انہیں احترام دیتا تھا۔۔
چار پانچ سال پہلے ساحل عمر کے ممی پاپا اپنی شادی کی سالگرہ منانے گھر سے نکلے تھے۔ شادی کی سالگرہ والا دن وہ دونوں گھر سے باہر ہی گزارتے تھے اور یہ سارا دن وہ سمندر پر گزارتے تھے۔ دوپہر کا کھانا وہ سمندر پر کھاتے اور شام ڈھلتے ہی وہ گھر کی طرف چل پڑتے۔ رات کا کھانا گھر پر ہوتا۔ واپسی پر وہ کیک لے آتے ۔ کیک کاٹا جاتا۔ اماں اس دن خوب اچھے اچھے کھانے تیار کرتیں۔ مزے سے کھانے کھاۓ جاتے۔ خوب ہلا گلا رہتا۔
اس دن بھی اماں نے کئی ڈشیں تیار کر لی تھیں۔ ساحل عمر اپنے ممی پاپا کا بے چینی سے انتظار کر رہا تھا انہیں اب تک آ جانا چاہئے تھا لیکن وہ ابھی تک نہیں آئے۔ گارڈن والا فلیٹ وہ کب کا چکے تھے۔ اب یہ لوگ نارتھ ناظم آباد کے ایک بڑے مکان میں رہتے تھے۔ یہ مکان عمر عابد نے بڑے شوق سے بنوایا تھا۔ اس کی تعمیر میں قدم قدم پر روحی کے مشورے بھی شامل تھے۔ مکان کے آگے اور پیچھے گارڈن ترتیب دیا گیا تھا۔ روحی کو باغبانی کا بے انتہا شوق تھا۔ اس نے جانے کہاں کہاں سے پودے اکٹھے کیے ہوۓ تھے۔ ساحل عمر گھر کے سامنے لان پر بے چینی سے ٹہل رہا تھا۔ سڑک سے گزرنے والی ہر گاڑی پراسے گمان ہوتا تھا کہ ممی پاپا کی گاڑی ہے۔ لیکن وہ ممی پاپا نہ ہوتے کسی اور کی گاڑی ہوتی ۔ پھر انتظار جب اپنی انتہا کو پہنچا تو ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ ساحل عمر نے جھپٹ کر ریسیور اٹھایا اور جلدی سے کہا ’’جی!‘‘
ادھر سے کوئی خاتون بول رہی تھیں۔ انہوں نے پہلے ٹیلی فون نمبر کنفرم کیا۔ ساحل عمر نے نمبر سن کر کہا ’’جی یہی نمبر ہے۔‘‘
“آپ عمر عابد صاحب کے کون ہیں؟‘‘ ادھر سے سوال ہوا۔
“جی میں ان کا بیٹا بول رہا ہوں۔” ساحل عمر نے جلدی سے جواب دیا۔
’’اوہ!‘‘ ادھر ایک ٹھنڈا سانس لیا گیا۔ ’’دیکھئے میں ڈاکٹر ظفرین بول رہی ہوں۔ میرے پاس آپ کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔ آپ کے ممی پاپا کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے۔ دونوں کی کنڈیشن اچھی نہیں ہے۔ آپ فورا ہسپتال آ جائیں‘‘ یہ کہہ کر اس نے ہسپتال کا نام بتایا۔
ساحل عمر جب اماں کو ساتھ لے کر ہسپتال پہنچا تو عمر عابد گزر چکے تھے اور روحی کی زندگی کے چند سانس باقی تھے۔ روحی نے چند لمحوں کے لیے آنکھیں کھولیں ساحل کو دیکھا۔ ساحل نے جھک کر اپنی ماں کی پیشانی چومی تو اس کی آ نکھیں ایک دم چھلک پڑیں۔ اس نے گردن موڑ کر اپنی آنکھیں صاف کیں۔ اتنی دیر میں روحی چل بسی۔
ساحل سمندر سے واپسی پر ان کی گاڑی کو ایک تیز رفتار ٹرک نے ٹکر ماردی تھی اور پر بدمست ڈرائیور نے پلٹ کر بھی نہ دیکھا تھا کہ گاڑی میں موجود مسافروں کا کیا بنا۔
ساحل عمر نے بڑے حوصلے سے کام لیا۔ اتنے بڑے حادثے کو اس نے دل پر پتھر رکھ کر سہہ لیا۔ اماں اس کو صبر کی تلقین کرتی تھیں اور خود کونوں بچالوں میں چھپ کر روتی تھیں۔ ساحل عمر انہیں روتا ہوا دیکھ لیتا تو بڑے حوصلے سے ان کو سمجھا تا تھا۔ ساحل عمر کا صبر دیکھ کر اماں حیران ہوتی تھیں۔
سوئم کے بعد ساحل عمر نے ایک مرتبہ بڑے دکھ بھرے لہجے میں اماں سے کہا تھا ’’اماں اب تم مجھے چھوڑ کر نہ چلی جانا۔‘‘
ساحل عمر کی اس بات پر اماں کا دل کٹ کر رہ گیا۔ انہوں نے فورا اسے اپنے گلے سے لگالیا تھا اور خوب پھوٹ پھوٹ کر روئی تھیں۔
’’میں اب کہاں جاؤں گی؟ میری جان تجھ میں ہے۔” آج وہی ساحل عمر جس نے اماں سے چھوڑ کر نہ جانے کی درخواست کی تھی آج خود ہی انہیں چھوڑ کر چلا گیا تھا۔
وہ سسک سسک کر روئے جارہی تھیں اور ان کو تسلی دینے والا کوئی نہ تھا۔
اچانک انہیں یہ احساس ہوا جیسے کسی نے ان کے سر پر ہاتھ رکھا ہو۔ انہوں نے فورا آنکھیں کھول دیں اور آنسو بھری آنکھوں سے چاروں طرف دیکھا۔ کمرے میں کوئی نہ تھا۔ یہ ان کا وہم تھا۔ تسلی دینے کی خواہش نے شاید جسم کی حیثیت اختیار کر لی تھی۔ پھر انہوں نے آنسو پونچھ ڈالے اور وضو کرنے کے لیے واش روم میں چلی گئیں۔
•●•●•●•●•●•●•
ساحل عمر جب برکھا کے بنگلے پر پہنچا تو نہ اسے ہارن بجانے کی ضرورت پڑی اور نہ بیل دینے کی۔ جب ساحل کی گاڑی گیٹ کے سامنے رکی تو گیٹ خودبخود کھلتا چلا گیا۔ ہیڈ لائٹس کی روشنی میں ساحل عمر نے دیکھا کہ گیٹ کھولنے والی خود برکھا ہے۔ اسے بڑی حیرت ہوئی وہ جانے کب سے گیٹ کے پیچھے کھڑی اس کا انتظار کر رہی تھی۔ اس احساس نے ساحل کے دل میں تفاخر پیدا کردیا۔
برکھا نے گیٹ کے ایک طرف کھڑے ہوکر اسے گاڑی اندر لے آنے کا اشارہ کیا جب گاڑی اندر آ گئی تو اس نے اسے رکنے کا اشارہ کیا۔ ساحل عمر نے گاڑی کو بریک لگایا اور برکھا کو مڑ کر دیکھنے لگا۔
برکھا نے گیٹ بند کیا اور پھر گاڑی کا دروازہ کھول کر اس کے ساتھ بیٹھ گئی اور اس کی طرف مسکرا کر ہاتھ بڑھالیا۔ ساحل عمر نے ہاتھ ملایا۔ وہ ہنس کر بولی ”مجھے یقین نہیں آرہا۔”
“برکھا جی کس بات کا؟”
“کہ میری ایک فون کال پر آدھی رات کو آ نا فانا میرے پاس پہنچ جاؤ گے‘‘
“بس مجھے نہیں معلوم کیا ہوا؟ آپ نے کہا آجاؤ. آپ کی آواز سن کر میں فورا یہاں آگیا”
“اسے جانتے ہو کیا کہتے ہیں؟‘‘ برکھا نے اس کی طرف ذرا سا جھک کر دیکھا۔
“نہیں جانتا۔‘‘
“اسے محبت کہتے ہیں تمہیں مجھ سے محبت ہوگئی ہے۔‘‘
“برکھا جی شاید آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔‘‘
“میں ٹھیک ہی کہتی ہوں میں کبھی غلط نہیں کہتی۔ چلو گاڑی آ گے بڑھاؤ گاڑی بنگلے کے پیچھے کھڑی کرنی ہے۔” برکھا نے بڑی ادا سے کہا۔
ساحل عمر نے برکھا کی ہدایت کے مطابق گاڑی بنگلے کے پیچھے جارو کی اور انجن بند کر کے گاڑی سے اتر آیا۔
“ساحل عمر مجھے حیرت ہے کہ تم نے اب تک ورشا کے بارے میں کچھ نہیں پو چھا؟”
“ہاں۔‘‘ ساحل عمر ایک دم چونکا۔ اسے فورا ورشا یاد آئی۔
’’کہاں ہے ورشا؟‘‘
’’ورشا اپنے کمرے میں ہے اور سورہی ہے۔” یہ کہ کر برکھا معنی خیز انداز میں ہنسی۔
ورشا اپنے کمرے میں ضرور تھی لیکن سو نہیں رہی تھی۔ بارہ بجے کے قریب اس نے اپنے کمرے کی لائٹ بجھا دی تھی اور سونے کی کوشش کر رہی تھی۔ اسے نیند نہیں آرہی تھی۔ بار بار اس کا دھیان ساحل عمر کی طرف جارہا تھا۔ وہ یہ بات اچھی طرح جانتی تھی کہ اس کی ماں نے ساحل عمر کو کسی مکڑی کی طرح اپنے جال میں پھنسا لیا تھا۔ اب اس کی ماں کو اس کی ضرورت نہ رہی تھی۔ اسی ادھیڑ بن میں اسے نیند نہیں آ رہی تھی کہ اس نے اپنے دروازے کی کنڈی بند ہونے اور پھر تالا ڈالے جانے کی آواز سنی۔ یہ کام بہت آ ہستگی سے کیا گیا تھا۔ اگر وہ سور ہی ہوتی تو ہرگز اسے پتا نہ چلتا۔ وہ دم سادھے لیٹی رہی۔ پھر کچھ دیر کے بعد اٹھی۔ اس نے اپنے کمرے کی اندر سے چٹخنی کھولی اور دروازے کو اپنی طرف کھینچا۔ دروازہ نہیں کھلا ۔ اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ اس کی ماں نے اسے کمرے میں بند کردیا ہے۔ وہ دوبارہ اپنے بیڈ پر آ گئی اور بڑے کر بناک انداز میں سوچنے لگی کہ آج رات اسے کیوں بند کیا گیا ہے۔ اس کی ماں آج کس’’واردات‘‘ میں مصروف ہے؟
•●•●•●•●•●•●•
ناصر مرزا کا وظیفہ آخری مرحلے میں داخل ہو چکا تھا۔ پانچویں رات تھی ۔ ٹارچ کی روشنی میں اس نے دیکھا کہ چار پانچ چمگادڑیں بڑی تیزی سے اس کے سر پر اڑ رہی ہیں۔ ٹارچ کی روشنی پڑتے ہی وہ ایک ایک کر کے دیوار سے ٹکراتیں اور پٹ پٹ کر کے فرش پر آ گرتیں۔ چند لمحوں بعد ان کا وجود عدم وجود ہو گیا۔
ناصر مرزا نے چگادڑوں کے ہوا میں تحلیل ہونے کے بعد ٹارچ بند کر دی۔ اس کا عمل جاری تھا اس کی انگلیاں تیزی سے تسبیح کے دانے پھینک رہی تھیں۔ ٹارچ بند ہوتے ہی دوبارہ پروں کی پھڑ پھڑاہٹ شروع ہوگئی۔ اس مرتبہ ناصر مرزا کو احساس ہوا کہ چمگادڑیں تعداد میں بہت زیادہ ہیں۔ کیونکہ پروں کی پھڑ پھڑاہٹ خاصی تیز تھی۔
ناصر مرزا نے فورا ٹارچ روشن کر دی ٹرچ روشن ہوتے ہی کمرے میں روشنی پھیل گئی
ناصر مرزا کا اندازہ بلکل صحیح تھا چمگادڑیں کمرے میں بھری ہوئی تھیں ناصر مرزا نے بائیں ہاتھ میں چاقو اٹھا لیا اور اس کی نوک پر پھونک مار کر چاقو کو اپنے سر پر تیزی سے گھمایا۔ چاقو گھماتے ہی چمگادڑیں اڑتے اڑتے اس طرح غائب ہوگئیں جیسے کمرے میں تھیں ہی نہیں۔
چمگادڑوں کے غائب ہوتے ہی بد بو پھیل گئی۔ اتنی شدید بدبو تھی کہ اگر ناصر مرزا اپنا سانس نہ روکتا تو اپنے حواس گم کر بیٹھتا۔ ناصر مرزا کے ہاتھ میں ابھی چاقو موجود تھا۔ اس نے اندھیرے میں مصلے پر جلدی جلدی تین دائرے بناۓ۔ وہ بدبو فورا خوشبو میں تبدیل ہوئی۔ ناصر مرزا نے پہلے ہلکا سانس لیا جب اس نے محسوس کیا کہ خوشبو پھیل چکی ہے تو اس نے گہرا سانس لیا۔
اس کے جسم میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ آخری مرحلہ بخیر وخوبی گزر چکا تھا۔ تسبیح کے چند دانے رہ گئے تھے۔ بالا آ خر تسبیح مکمل ہوگئی۔ کمرے میں بہت زبردست خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ یہ عمل کے بخیر و خوبی انجام کی نوید تھی۔
ناصر مرزا خوشی سے جھومتا ہوا اٹھا۔ اس نے سب سے پہلے کمرے کی لائٹ روشن کی مصلہ سمیٹا چاقو بند کر کے میز پر رکھا اور ٹارچ اٹھا کر میز کی دراز میں ڈالی۔ پھر اس نے کھڑکیوں سے پردے ہٹا کر کھڑکیاں کھول دیں۔ باہر گہرا سناٹا چھایا ہوا تھا۔ وہ کھڑکی کے سامنے کھڑا کچھ دیر باہر کا جائزہ لیتا رہا۔ پھر اس نے میز سے چاقو اٹھایا اور اپنے بیڈ روم میں جانے کے بارے میں سوچنے لگا۔
•●•●•●•●•●•
رات کے تین بجے تھے۔ برکھا کا بنگلہ وحشت ناک تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے بنگلے کے گرد بھوت رقص کرر ہے ہوں۔ چڑیلیں ادھر ادھر گھوم رہی ہوں۔ اس بنگلے کی طرف دیکھتے ہی خوف کی لہر دل میں اٹھتی تھی ۔
برکھا اپنے بیڈ روم میں بے چینی سے ٹہل رہی تھی۔ بار بار اس کی نظر گھڑی پر جاری تھی ۔ تین بج چکے تھے۔ اب کسی بھی وقت ایک مخصوص آواز سنائی دینے والی تھی۔ تبھی کتے کے رونے کی بھیانک آواز سنائی دینے لگی۔ یہ آواز ایک خاص وقفے سے تین بار سنائی دی۔ برکھا فورا اپنے بیڈروم سے نکل کر باہر گیٹ پر پہنچی۔ اس نے گیٹ کے اندر سے ہی پوچھا “یہ تم ہو..؟”
’’جی برکھا جی ‘‘ فورا ہی باہر سے آواز آئی۔
واسم گیٹ سے لگا کھڑا تھا۔ واسم کی آواز پہچان کر برکھا نے فورا گیٹ کھول دیا اور واسم سے کہا ”آؤ!‘‘
واسم خاموشی سے اس کے پیچھے چل دیا۔
’’ واسم!‘‘ برکھا نے پلٹ کر کہا۔
” برکھا جی!” واسم فورا دو قدم آگے بڑھ کر اس کے برابر چلنے لگا۔
“جو کچھ میں نے تمہیں بتایا ہے وہ تم نے اچھی طرح سمجھ لیا ہے ناں؟
“جی پر کھا جی۔‘‘ واسم نے فرمانبرداری سے کہا۔
ایک بار پھر تنبیہہ کر رہی ہوں اتنا جان لو کہ ساحل میری زندگی کا سرمایہ ہے۔ اس سلسلے میں تمہاری ذرا سی بھی کوتاہی مجھے تباہ کرسکتی ہے۔ تم جانتے ہو کہ اگر میں تباہ ہوئی تو پھر میرے ہاتھوں کوئی بھی نہ بچے گا” برکھا نے یہ بات انتہائی سنگین لہجے میں کہی۔
“میں یہ بات اچھی طرح سمجھتا ہوں برکھا جی…. آپ بے فکر رہیں۔ مجھ سے اس سلسلے میں کوئی کوتاہی نہیں ہوگی۔‘‘ واسم نے بڑے اعتماد سے کہا۔ ’’میں آپ کے سرماۓ کی اپنی جان پر کھیل کر بھی حفاظت کروں گا۔‘‘
“شاباش! مجھے تم سے یہی امید ہے۔” برکھا نے خوش ہو کر کہا۔
بیڈروم کے دروازے پر پہنچ کر برکھا نے دھیرے سے کواڑ کھولے اور مخاطب ہوئی۔ ’’آجاؤ!‘‘
واسم نے اپنے جوتے اتارے اور پھر بڑے احترام سے اندر داخل ہوا جیسے بیڈ روم میں نہیں کسی مندر میں داخل ہورہا ہو۔ سامنے بیڈروم پر ساحل عمر لیٹا ہوا تھا۔ اس کی آنکھیں بند تھیں اور وہ لمبے لمبے سانس لے رہا تھا۔ اس کے چہرے پر مردنی چھائی ہوئی تھی۔ رنگ زرد تھا اور ہاتھ پاؤں ڈھیلے پڑے ہوۓ تھے۔
واسم نے گردن میں ہاتھ ڈال کر ساحل کو اٹھایا تو اس نے آنکھیں کھول دیں۔لیکن نقاہت اتنی تھی کہ آنکھیں زیادہ دیر کھلی نہ رہ سکیں. وہ اپنے ہوش و حواس میں نہ تھا۔
“سر کھڑے ہو جایئے میں آپ کو لینے آیا ہوں۔‘‘ واسم نے اسے سہارا دے کر اٹھاتے ہوۓ کہا۔
ساحل عمر نے کھڑے ہونے کی کوشش کرتے ہوۓ ایک مرتبہ پھر آ نکھیں کھول کر دیکھا اور لڑکھڑاتی زبان میں بولا ”تم کون ہو بھائی؟”
” سر! میں آپ کا داس ہوں۔ خادم ہوں۔ سرونٹ ہوں۔‘‘ واسم نے بڑے مؤدبانہ انداز میں کہا۔ پھر دھیرے سے بولا ’’سر! آپ نے اتنی کیوں پی لی؟‘‘
“ارے بھائی برکھا نے پلائی ہے۔ اس نے پلائی ہم نے پی لی۔ اس کے ہاتھوں سے تو زہر بھی پیا جاسکتا ہے۔” ساحل عمر نے لڑکھڑاتے قدموں سے چلتے ہوۓ نشیلے لہجے میں کہا۔
“سر! آپ بہت اچھے آ دمی ہیں۔ برکھا جی آپ سے بہت خوش ہیں۔
“معلوم نہیں وہ ہم سے خوش ہے یا ناراض لیکن ہم اس سے بہت خوش ہیں۔ وہ چڑھتی ندی ہے سب کچھ اپنے ساتھ بہا لے جانے والی۔‘‘ پھر چلتے چلتے ایک دم جیسے اسے ہوش آیا۔ اس نے اپنی آنکھوں کو بمشکل کھولا اور پھر بولا ’’برکھا ہے کہاں؟‘‘
“میں تمہارے پاس ہوں ساحل میں بھلا کہاں جاؤں گی؟‘‘ یہ کہہ کر برکھا نے اس کا ہاتھ تھام لیا
پھر دونوں نے مل کر سڑک پر کھڑی گاڑی میں بٹھایا۔ برکھا نے واسم کو ایک چھوٹی سی شیشی دی جس میں سرخ رنگ کا پانی تھا۔ واسم نے وہ شیشی ڈیش بورڈ میں احتیاط سے رکھ دی۔
“اس پانی کے دو قطرے بہت ہوں گے۔‘‘ برکھا نے اسے بتایا۔
“ٹھیک ہے۔‘‘ اس نے ہدایت نوٹ کر لی۔
“بس پھر جاؤ‘‘ برکھا نے گاڑی کا دروازہ بند کرتے ہوئے کہا اس کے بھد وہ گھوم کر دوسری کھڑکی کی طرف آئی۔ ساحل آ نکھیں بند کیے بیٹھا تھا۔
“اچھا ساحل تم چلو میں آتی ہوں. دیکھو پریشان مت ہونا۔‘‘ برکھا نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا
ساحل عمر نے بمشکل اپنی بند آنکھیں کھولیں۔ اسے دیکھ کر مسکرایا اور فورا ہی اس کی آنکھیں بند ہو گئیں۔ اس پر نشے کی سی کیفیت طاری تھی۔
پھر واسم نے گاڑی سٹارٹ کی اور اسے تیزی سے نکال لے گیا۔ گاڑی کی لال بتی جب دکھائی دینا بند ہوگئی تو برکھا نے سکون کا سانس لیا اور گیٹ بند کر کے اپنے بیڈروم کی طرف بڑھنے لگی۔
•●•●•●•●•●•●•
صبح کا وقت تھا۔ ناصر مرزا رات کو سکون بھری نیند سویا تھا۔ صبح نہا دھو کر گھر سے نکلا تھا اب اس کا رخ ماڈل کالونی کی طرف تھا۔ حافظ موسی نے پانچ دن بعد اسے اپنے پاس بلایا تھا۔ وظیفہ مکمل کرنے کے ساتھ یہ ہدایت بھی کی تھی کہ ساحل عمر کو ہمراہ لانا اسے دیکھنا چاہتا ہوں۔ ناصر مرزا کو یہ ہدایت یاد تھی۔ اس نے ماڈل کالونی کا رخ کرنے سے پہلے ساحل عمر کو فون کیا۔ ایک تو وہ اسے وظیفے کی کامیابی کی خبر سنانا چاہتا تھا۔ دوسرے وہ اسے حافظ موسی خان سے ملانا چاہتا تھا۔ اماں نے فون اٹھایا۔ ناصر مرزا نے اماں کی خیریت دریافت کر کے ساحل عمر کے بارے میں پو چھنا چاہا تو اماں کی گھبراہٹ بھری آواز سنائی دی۔ ’’ ناصر ! خیر یت نہیں ہے۔“
“کیا ہوا اماں؟‘‘ وہ پریشان ہو کر بولا۔
“ساحل رات سے غائب ہے۔” انہوں نے بتایا۔
“غائب ہے؟‘‘ ناصر مرزا حیران ہوکر بولا ”اس بات کا کیا مطلب ہے؟“
’’وہ رات کو بارہ بجے کے قریب اچانک کہیں اٹھ کر چلا گیا۔” اماں گویا ہوئیں۔
“آپ کو بتائے بغیر ؟‘‘ ناصر مرزا نے سوال کیا۔
“مجھے بتانا تو دور کی بات ہے وہ گاڑی میں بیٹھا اور گھر کا گیٹ بھی کھلا چھوڑ گیا۔”
’’ہیں!‘‘ ناصر مرزا پریشان ہوا۔ ’’اتنی کیا ایمرجنسی تھی۔ بعد میں اس کا کوئی فون وون آیا؟“
“ابھی تک تو نہیں آیا۔ وہ تشویش بھرے لہجے میں بولیں ۔ ’’میرے ساحل کو ضرور کچھ ہوگیا ہے اس پر کسی نے جادو کروا دیا ہے۔ وہ ایسا تو کبھی نہ تھا۔ چند دنوں میں اس کی حالت ہی بدل گئی”
“اچھا اماں آپ پریشان نہ ہوں۔ اس وقت میں ماڈل کالونی جارہا ہوں۔ ضروری کام ہے۔ وہاں سے واپسی پر آپ کی طرف آ تا ہوں۔ ساحل کہیں نہیں جاۓ گا۔ ہوسکتا ہے وہ میرے آنے سے پہلے ہی گھر پہنچ جاۓ۔‘‘ ناصر مرزانے تسلی دی۔
“اللہ کرے ایسا ہی ہو۔‘‘ اماں کے دل سے دعا نکلی۔
ساحل عمر کے اس طرح اچانک چلے جانے کی وجہ سے ناصر مرزا خاصا پریشان ہوگیا تھا۔ دو دن پہلے سال کی جو حالت ناصر نے دیکھی اس سے بخوبی اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ ان جادوگر ماں بیٹی کے چکر میں آ گیا ہے۔ لیکن ناصر مرزا کو یہ پتا نہ تھا کہ ان جادوگرنیوں کے اثرات اتنے گہرے ہوگئے ہیں کہ وہ بغیر بتاۓ دیوانوں کی طرح سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر نصف رات کو اس طرح نکل جاۓ گا۔
آخراس پر ایسی کیا بیتی کہ وہ نصف رات کو گھر سے نکلنے پر مجبور ہو گیا۔
آخر وہ کہاں گیا؟
اس طرح کے سوالات اس کے دماغ میں چکراتے رہے۔ وہ اس مسئلے کے ہر پہلو پر غور کرتا رہا۔ یہاں تک کہ حافظ موسی خان کا گھر آ گیا۔ ناصر مرزا نے اپنی گاڑی ان کے گھر کے سائے میں کھڑی کر کے بیل کا بٹن دبایا۔ کچھ دیر کے بعد وہ پندرہ سولہ سال کا لڑکا گیٹ پر آیا۔ اس نے ناصر مرزا کو دیکھ کر بڑے مہذبانہ انداز میں کہا “جی فرمایئے؟‘‘
“مجھے حافظ صاحب سے ملنا ہے۔ انہوں نے مجھے آج کے دن بلایا تھا میرا نام ناصر مرزا ہے۔” ناصر مرزا نے اپنے بارے میں تمام معلومات ایک ہی جملے میں فراہم کردیں۔
“آیئے!‘‘ اس لڑکے نے راستہ چھوڑ تے ہوۓ اندر آنے کا اشارہ کیا۔
ناصر مرزا گیٹ میں داخل ہوکر رک گیا۔ لڑ کا جب گیٹ بند کر کے پلٹا تو اس نے ناصر مرزا کو اپنا منتظر پایا۔ ”تشریف لے جایئے۔ اس نے مکان کے پچھلے حصے کی طرف اشارہ کیا۔ ’’وہ وہیں ہیں۔دروازہ کھٹکا کر اپنا نام بتائے گا تو دروازہ کھل جائے گا۔” یہ کہہ کر وہ لڑکا مکان کے اندر چلا گیا
اور ناصر مرزا پختہ راستے پر چلتا ہوا بند دروازے کے سامنے آ پہنچا۔ اس نے دروازے پر ہاتھ سے دستک دی
”کون ہے بھائی؟” اندر سے ایک کڑک دار آواز سنائی دی۔
”میں ہوں جی ناصر مرزا۔“
“تو بھائی اندر آ جاؤ دروازہ کھلا ہے۔‘‘ اندر سے پھر آواز آئی۔
ناصر مرزا نے دروازے کو آہستہ سے دھکا دیا تو کواڑ کھل گئے۔ وہ اندر داخل ہوا۔ سامنے درخت کے نیچے کھری چارپائی پر موٹی لاٹھی اپنی ہاتھ میں تھامے حافظ موسی خان تشریف فرما تھے۔ وہ گویا ہوئے “بھائی دروازے کی کنڈی چڑھا کر آنا۔”
ناصر مرزا نے فورا دروازہ بند کر دیا اور ان کے نزد یک پہنچ کر سلام کیا۔ انہوں نے سلام کا
جواب دیا اور اپنے برابر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ ناصر مرزا خاموشی سے ان کی پالتی کی جانب بیٹھ گیا۔
حافظ موسی نے دونوں ہاتھوں سے لاٹھی پکڑ کر گردن جھکا لی۔ یوں لگا جیسے وہ مراقبے میں چلے گئے ہوں۔ کچھ دیر کے بعد انہوں نے سر اٹھایا اور گویا ہوۓ “اکیلے آۓ ہؤ وہ لڑکا کہاں ہے؟ کیا نام ہے اس کا؟“
“ساحل عمر۔‘‘ ناصر مرزا نے فورا بتایا۔
”میں اسے نہیں لاسکا۔‘‘
“تم اسے نہیں لا سکے یا وہ تمہارے ہاتھ سے نکل گیا؟‘‘ حافظ موسی نے سوال کیا۔
“وہ گھر میں نہیں تھا میں کیسے لاتا. رات سے غائب ہے۔‘‘
بھائی یہ اچھا نہیں ہوا۔‘‘ حافظ موسی نے کہا۔’’خیر تم اپنی سناؤ ؟‘‘
”میں نے اپنا کام کرلیا ہے۔ آپ کی ہدایت کے مطابق‘‘
“لاؤ چاقو کہاں ہے؟ اس پر مہر لگا دوں۔” حافظ موسی گویا ہوۓ۔
ناصر مرزا نے جیب سے چاقو نکال کر ان کے ہاتھ میں دینا چاہا۔
“ابھی اپنے ہاتھ میں رکھو۔‘‘ حافظ موسی نے کہا۔ پھر انہوں نے اپنی لاٹھی سے زمین پر ایک دائرہ بنایا اور ناصر مرزا سے مخاطب ہوکر بولے ’’اس دائرے میں چاقو گاڑ دو۔“
ناصر مرزا فورا نیچے بیٹھ گیا اور چاقو کھول کر گھاس کی زمین پر دائرے کے درمیان اس چاقو کو گاڑ دیا۔ حافظ موسی نے اپنی لاٹھی اس چاقو کے ہتھے پر رکھ دی۔ پھر انہوں نے کچھ پڑھتے ہوۓ اپنی لاٹھی چاقو پر آہستہ آہستہ مارنا شروع کی۔ چاقو لاٹھی کی ہلکی ضربوں سے مزید زمین میں دھنسنے لگا۔ یہاں تک کہ چاقو کا پھل بالکل غائب ہوگیا۔ تب حافظ موسی نے لاٹھی کی آخری ضرب لگائی اور پھر اپنے مخصوص انداز میں لاٹھی کو دونوں ہاتھوں میں تھام کر گردن جھکا لی اور گردن جھکاۓ جھکاۓ بولے “چاقو باہر نکال لو۔‘‘
ناصر مرزا نے فورا زمین سے چاقو نکال لیا اور بولا ’’چاقو نکال لیا جی۔‘‘
“اس کی نوک پر کیا لگا ہے؟“
’’ارے اس کی نوک تو سنہری ہوگئی ہے۔‘‘ ناصر مرزا نے چاقو کو د یکھتے ہوۓ کہا۔
’’مبارک ہو تمہاری محنت رائیگاں نہیں گئی۔ اسے آنکھیں مل گئی ہیں۔”
“حافظ صاحب میں سمجھا نہیں؟‘‘
“ارے بھائی یہ میرے جیسا اندھا نہیں رہا۔”
ناصر مرزا کی سمجھ میں بات اب بھی نہ آئی لیکن اس نے مزید سوال کرنا مناسب نہ سمجھا۔
“یہ چاقو تمہارے بہت کام آۓ گا۔ بس اس کی حفاظت کرنا۔‘‘
’’جی اچھا!‘‘ ناصر مرزا نے کہا۔ پھر چند لمحے توقف کر کے بولا ’’مجھے اپنے دوست کی فکر ہے۔”
“ساحل عمر کی بات کر رہے ہو۔”
“جی”
“اسے ڈھونڈ و۔ تلاش کرو۔‘‘ حافظ موسی نے کہا۔ ’’اب جاؤ۔”
یہ کہہ کر انہوں نے پھر دونوں ہاتھوں سے لاٹھی پکڑ لی اور اپنی گردن جھکالی۔
ناصر مرزا کچھ دیر بیٹھا رہا۔ وہ ان سے سوال کرنا چاہتا تھا کہ کہاں تلاش کروں؟ مگر وہ یہ سوال باو جود کوشش کے نہ کر پایا۔ حافظ موسی نے بھی سر نہ اٹھایا۔ بالآ خر اسے وہاں سے اٹھنا پڑا۔
•●•●•●•●•●•
وہ دونوں ساحل عمر کے گھر میں سر جوڑے بیٹھے تھے۔ ناصر مرزا نے مسعود آفاقی کو تمام صورتحال سے آ گاہ کر دیا تھا۔ وہ باتیں جو مسعود آفاقی کے علم میں نہیں تھیں وہ بھی اس نے بتا دی تھیں۔ دونوں کا ذہن بار بار ورشا اور برکھا کی طرف جارہا تھا انہیں یقین تھا کہ ساحل عمر ورشا کے گھر کی طرف گیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ کہیں نہیں جاسکتا تھا۔ اگر جاتا تو اب تک پلٹ کر آ گیا ہوتا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ ورشا کے گھر جا کر کسی مصیبت کا شکار ہوگیا ہے
اب مسئلہ یہ تھا کہ ورشا کے گھر جا کر اسے کس طرح چیک کیا جاۓ۔ دونوں میں سے کسی نے ورشا کا گھر نہیں دیکھا تھا۔ وہ اسی ادھیٹر بن میں تھے کہ ورشا کا گھر کس طرح معلوم کیا جائے کہ مسعود کے ذہن میں ایک ترکیب آئی۔ وہ بولا
“اگر ورشا کا ٹیلی فون نمبر معلوم ہو جاۓ تو پھر اس کا پتا معلوم کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے”
اماں نے صبیح سے رو رو کر برا حال کر رکھا تھا۔ اب بھی وہ بیٹھی رو رہی تھیں۔ ٹیلی فون نمبر کا ذکر سنا تو انہوں نے فورا دو پٹے سے آنسو پونچھے اور ساحل عمر کی ڈائری اٹھا لائیں جس میں اس نے ٹیلی فون نمبر لکھے ہوۓ تھے۔ مسعود آفاقی نے جلدی جلدی اس ڈائری کے ورق الٹے ۔ بالآ خر ایک جگہ اسے ورشا کا ٹیلی فون نمبر لکھا نظر آ گیا۔ مسعود آفاتی کا ایک دوست ٹیلی فون کے محکمے میں ڈی ای لگا ہوا تھا۔ اس نے اسے فون کر کے اپنا مسئلہ بتایا۔ اس نے جواب میں کہا ’’پانچ منٹ انتظار کرو۔‘‘
پانچ منٹ کے بعد جب گھنٹی بجی تو وہ ٹیلی فون کی نہ تھی بلکہ گھر کی تھی۔ اماں فورا گیٹ کی طرف بھا گیں۔ ناصر مرزا اور مسعود آفاقی بھی ان کے پیچھے چلے۔
اماں نے جلدی سے گیٹ کھولا۔ گیٹ پر جوشخص کھڑا تھا اس سے وہ دونوں واقف نہ تھے لیکن اماں اسے پہچانتی تھیں۔
وه بازغر تھا۔ کچھ عرصہ پہلے ساحل عمر سے ملنے آیا تھا۔ اماں نے اسے ڈرائنگ روم میں بٹھا کر سوتے ہوئے ساحل کو اٹھایا تھا۔ وہ ساحل سے ایک چیتے کی تصویر بنوانے آیا تھا۔ ساتھ ہی وہ رشاملوک کی تصویر بھی خریدنا چاہتا تھا۔ ساحل عمر نے اس تصویر کو فروخت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ وہ جاتے ہوۓ اپنا ٹیلی فون نمبر دے گیا تھا کہ تہکال کی تصویر مکمل ہونے پر اسے اطلاع دے دی جاۓ لیکن ساحل عمر تصویر مکمل ہونے کے بعد اسے اطلاع نہ دے سکا تھا کیونکہ پنسل سے لکھا ہوا وہ نمبر کسی طرح مٹ گیا تھا اور اب وہ تصویر نہ رہی تھی
آج وہ آیا تھا تو گھر میں تہکال کی تصویر تھی نہ وہ مصور تھا جس نے تہکال کی تصویر بنائی تھی
بازغر کا حلیہ وہی تھا۔ پہاڑی نقوش اور سر پر پر لگی ٹوپی۔
’’ جی فرمائے!‘‘ ناصر مرزا اس سے مخاطب ہوا۔
بازغر نے کوئی جواب دینے کے بجاۓ گھر کی جانب قدم بڑھاۓ۔ ناصر مرزا نے یہ سوچ کر که شاید مین گیٹ پر کھڑے رہ کر بات نہیں کرنا چاہتا اس لیے اس نے اسے اندر جانے کا راستہ دے دیا۔ راستہ ملتے ہی وہ ایک لمحے کے لیے بھی وہاں نہیں رکا۔
ناصر مرزا اور مسود آفاقی “جی کیا کام ہے کس سے ملنا ہے” پوچھتے رہ گئے
وہ بہت تیزی سے آگے بڑھا۔ اتنی تیزی سے کہ ان تینوں کو حیرت ہوئی۔ وہ اس کے پیچھے چلے اتنی دیر میں وہ گھر میں داخل ہو گیا۔
“ارے۔“ مسعود آفاقی حیران ہو کر اس کے پیچھے دوڑا۔ ناصر مرزا بھی بھاگا۔ ان دنوں کے پیچھے اماں بھی لپکیں۔
“یار یہ عجیب شخص ہے اپنے ابا کا گھر سمجھ کر اندر داخل ہو گیا۔‘‘ مسعود آفاتی نے غصے میں کہا۔
پھر ان دونوں نے پورا گھر چھان مارا لیکن وہ اندر آنے والا شخص انہیں کہیں نہیں دکھائی دیا۔ گھر کا اسٹور حتی کہ واش روم تک دیکھ لیے گئے۔ اس گھر کا ایک دروازہ پچھلے حصے کی طرف کھلتا تھا اسے چیک کیا گیا وہ لاک تھا۔ کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ وہ شخص گھر میں داخل ہونے کے بعد کدھر سے نکل گیا جبکہ وہ دونوں اس کے گھر میں داخل ہونے کے فورا بعد اندر آ گئے تھے۔ چند لمحوں بعد اماں بھی ہانپتی کانپتی گھر میں داخل ہوگئی تھیں۔
گھر کی اچھی طرح تلاشی لینے کے بعد گھر کے باہر بھی اگلے پچھلے دونوں حصوں میں اسے تلاش کر لیا گیا لیکن وہ کہیں نظر نہ آیا۔
جب یہ تینوں اس کے پیچھے بھاگے تو گیٹ کھلا ہوا چھوڑ آۓ تھے لیکن اس وقت وہ گیٹ بند تھا۔ با قاعدہ اندر سے کنڈی تو نہ لگی تھی لیکن گیٹ کے دونوں پٹ اس طرح بند تھے کہ دور سے دیکھنے میں ہی احساس ہوتا تھا کہ گیٹ اندر سے بند ہے۔
کیا وہ شخص اندر جانے کے بعد فورا ہی باہر آ گیا تھا اور باہر آ کر پورے اطمینان سے گیٹ سے نکل گیا تھا اور جاتے جاتے کھلے گیٹ کو بند کر گیا تھا۔
سوال یہ تھا کہ وہ گھر میں کیا کرنے کے لیے داخل ہوا تھا۔
اس سوال کا جواب بھی بہت آسان تھا لیکن ان کے لیے مشکل اس لیے تھا کہ وہ اس بات کی توقع نہ رکھتے تھے کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے وہ شخص محض اس کام کے لیے گھر میں داخل ہوا تھا؟ “
یہ چوری اماں نے پکڑی تھی۔ جب گھر میں داخل ہونے والے شخص کی تلاش جاری تھی تو اماں کی ایک دم نظر خالی دیوار پر پڑی تھی۔ ان کا دل دھک سے ہو کر رہ گیا تھا۔۔ ساحل عمر کے بیڈروم کی وہ دیوار جس پر رشاملوک کی تصویر سجی تھی خالی تھی۔
رشاملوک کی تصویر غائب تھی۔ بازغر وہ تصویر لے گیا تھا۔ اسے آتے ہوۓ تو سب نے دیکھا تھا وہ جاتے ہوۓ سب کی آ نکھوں میں دھول جھونک گیا تھا۔ اس نے کوئی ایسا عمل کیا تھا کہ وہ ان کی آنکھوں کے سامنے سے گزرنے کے باوجود کسی کو نظر نہ آیا تھا۔
وہ تینوں حیران تھے کہ میر سب کیسے ہوا؟ ان تینوں میں سب سے زیادہ پریشان ناصر مرزا تھا۔ اس کی تو عقل میں ہی نہیں سما رہی تھی یہ بات…..بازغر کے بارے میں اماں کے تفصیل سے بتانے پر یہ بات تو سمجھ میں آ رہی تھی کہ وہ رشا ملوک کی تصویر کیوں اٹھا کر لے گیا۔ اس کا رشاملوک سے تعلق بنتا لیکن یہ بات اس کے گلے سے نہیں اتر رہی تھی کہ وہ انسان نہیں کوئی اور مخلوق تھا۔
ابھی وہ تینوں بیٹھے اس کے بارے میں باتیں کر رہے تھے جس کے علم میں جتنی بات تھی وہ سامنے لا رہا تھا اتنے میں ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔
ناصر مرزا نے مسعودآ فاقی کو اشارہ کیا ’’ریسیور اٹھاؤ۔“ اس کا خیال تھا کہ یہ ٹیلی فون مسعود کے دوست کا ہو گا۔ اس کا یہ اندازہ درست ثابت ہوا
ادھر سے وہی بول رہا تھا۔
“ہاں مسعودتم نے جو ابھی ٹیلی فون نمبر دیا تھا اس کا ایڈریس لکھ لو“
“ایک منٹ یار۔‘‘ مسعود آفاقی نے اماں کو کاغذ پنسل لانے کا اشارہ کیا۔ اماں ایک سادہ کاغذ اور بال پوائٹ ساحل عمر کی میز پر سے اٹھا لائیں۔
ادھر سے ایڈریس لکھوایا گیا۔ پھر اس نے کہا ’’مسعود! یہ ٹیلی فون کسی مناف نامی شخص کا ہے۔ ظاہر ہے مناف اس کے باپ کا نام ہوگا تمہارا بہت شکر یہ یار تم نے ہمارا ایک بڑا مسئلہ حل کردیا۔‘‘
یہ کہہ کر مسعود آفاقی نے ریسیور رکھ دیا اور جو ایڈریس اس نے کاغذ پر اتارا تھا وہ ناصر مرزا سامنے رکھ دیا۔
“گارڈن ایسٹ ‘‘ ناصر مرزا نے پتے پر ایک نظر ڈال کر کہا۔ ’’پتہ تو زیادہ مشکل نہیں ہے۔ آسانی سے پہنچا جاسکتا ہے۔”
“کیا کرنا چاہتے ہو؟‘‘
’’ورشا کے بنگلے پر چل کر دیکھنا ہوگا۔‘‘
“تمہارا کیا خیال ہے کہ اس طرح وہ اسے ہمارے سامنے کردے گی۔“
اس سے مل کر یہ اندازہ تو ہو جائے گا کہ آیا وہ اس کے بنگلے پر گیا ہے یا نہیں۔
ورشا اگر گھر پر ہوگی تو اس سے کچھ نہ کچھ آئیڈیا ضرور ہو جاۓ گا۔”
یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ ساحل عمر اس کے گھر میں موجود ہو اور وہ جھوٹ بول دے“
“ہاں ایسا بھی ہو سکتا ہے لیکن میں اس کے گھر جا کر اس سے بات ضرور کرنا چاہتا ہوں۔ اس سے ملنے کے بعد ہی آ گے کا لائحہ عمل طے کیا جاسکتا ہے۔”
”ہم اس سلسلے میں پولیس سے مدد کیوں نہیں لیتے؟‘‘
مسعود آفاقی نے راۓ دی۔ “تمہارے وہاں تعلقات بھی ہیں ۔‘‘
“پولیس کیا کرے گی؟‘‘ ناصر مرزا بیزاری سے بولا۔
’’تعلقات کے باوجود میری بھتیجی کا قاتل آج تک نہیں پکڑا گیا۔ عابد منجم کے قتل کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ ساحل عمر کے سلسلے میں وہ کیا کرے گی۔ ابھی تو صورت حال بھی واضح نہیں ہے۔ گھر سے وہ خود گیا ہے۔ ہم پولیس سے کیا کہیں گے کس کے نام ایف آئی آر میں درج کرائیں گے۔ ابھی میں پولیس کو درمیان میں نہیں لانا چاہتا۔ خود ہی کچھ کرنا ہوگا۔‘‘ ناصر مرزا نے سمجھایا۔
“چلو پھر اٹھو چلتے ہیں۔‘‘مسعود آفاقی اچانک اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔
“ارے ابھی کہاں جا رہے ہو دوپہر کا کھانا کھا کر جانا۔“
“نہیں اماں کھانے کا تکلف نہ کریں۔ ہم لوگ چلتے ہیں۔ آپ پریشان نہ ہوں۔ تسلی رکھیں۔ انشاء اللہ جلد ہی ساحل عمر مل جاۓ گا۔”
“اللہ کرے ایسا ہی ہو۔‘‘ اماں کے دل سے دعا نکلی ۔
تب وہ دونوں اٹھ کر گھر سے باہر نکل آۓ اور اپنی اپنی گاڑیوں میں بیٹھ کر آگے پیچھے چل دیئے
گارڈن ایسٹ کا علاقہ ناصر مرزا کا دیکھا ہوا تھا۔اسے ورشا کا بنگلہ تلاش کرنے میں کوئی دقت نہ ہوئی۔ جب وہ دونوں اپنی اپنی گاڑیاں بنگلے کی دیوار کے ساتھ لگا کر گیٹ کی طرف بڑھے ناصر مرزا نے اس بنگلے پر ایک نظر ڈال کر کہا۔ ’’مسعود اس بنگلے پر تو وحشت برس رہی ہے۔“
“صحیح کہہ رہے ہو واقعی کوئی بھوت بنگلہ محسوس ہو رہا ہے۔‘‘ مسعود آفاقی نے تائید کی۔
بنگلے کی کال بیل دبا کر وہ دونوں گیٹ سے ذرا پیچھے کھڑے ہو گئے۔
تھوڑی دیر کے بعد انہیں گیٹ کے پیچھے آہٹ محسوس ہوئی۔ گیٹ کے درمیان خلا میں ایک آنکھ نظر آئی۔ پھر وہ آنکھ فورا ہی غائب ہوگئی اور آنے والا واپس چلا گیا۔ اگر ان دونوں میں سے کوئی اخلاقیات کو پرے رکھ کر آگے بڑھ کر گیٹ کے درمیان سے جھانک لیتا تو اسے اندازہ ہوجانا تھا کہ آنے والا آنے والا نہ تھا آ نے والی تھی اور یہ آنے والی برکھا کے سوا کوئی نہ تھی۔
اس نے گیٹ پر کھڑے دونوں بندوں کو صاف دیکھ لیا تھا۔ ایک کو اس نے پہچان لیا تھا۔وہ ناصر مرزا تھا۔ دوسرے شخص کے بارے میں اس نے اندازہ لگا لیا تھا کہ وہ ساحل عمر کا فوٹو گرافر دوست ہوگا۔ وہ ان دونوں کے سامنے جانا نہیں چاہتی تھی۔ ابھی وہ کچھ دیر ورشا کی آڑ لینا چاہتی تھی اسے امید تھی کہ ورشا ان دونوں کو اچھی طرح ٹکل کر لے گی۔
تھوڑی دیر کے بعد پھر کوئی گیٹ پر محسوس ہوا۔ اس نے بھی گیٹ سے باہر جھانکا اور پھر ذرا ساہٹ کر مترنم لہجے میں سوال کیا۔’’ آپ کون؟‘‘
“ہم دونوں ساحل عمر کے دوست ہیں۔ ہمیں ورشا صاحبہ سے ملنا تھا۔‘‘ ناصر مرزا نے آگے بڑھ کر کہا
’’ایک منٹ ۔‘‘ادھر سے آواز آئی۔ پھر چند لمحوں بعد ہی گیٹ کھل گیا۔ ورشا گیٹ سے تھوڑا سا باہر آئی اور بڑے مودبانہ انداز میں بولی ۔’’جی فرمائے! میرا نام ورشا ہے۔”
ناصر مرزا نے برکھا کو تو دیکھا تھا لیکن ابھی تک اس کا ورشا سے سامنا نہیں ہوا تھا۔ مسعود آفاتی نے تو برکھا کو بھی نہیں دیکھا تھا۔
اب دونوں نے ایک ساتھ ورشا کو دیکھا تو دیکھتے رہ گئے۔
وہ زرد رنگ کی ساڑھی باندھے ہوۓ تھی۔ بغیر آستین کا سرخ بلاؤز کھلے ہوئے بال شاید وہ کچھ دیر قبل نہائی تھی۔ اس کا چہرہ بے حد فریش تھا۔ آنکھوں میں بے پناہ کشش۔ ہونٹوں پر دل لبھانے والی مسکراہٹ وہ ایک قیامت تھی۔ اس لڑکی کے لیے اگر ساحل عمر گھر سے دیوانہ وار نکلا ہے تو ٹھیک ہی نکلا ہے۔ مسعود آفاقی نے اپنے دل میں سوچا اور ایک ٹھنڈا سانس لے کر ناصر مرزا کی طرف دیکھا۔ “یہاں ساحل عمر صاحب تو نہیں ہیں۔‘‘ ناصر مرزا نے ہچکچاتے ہوۓ سوال کیا۔ ’’میرا مطلب ہے یہاں آۓ تو نہیں؟‘‘
“ساحل عمر صاحب!‘‘ اس نے اپنی مترنم آواز میں دہرایا۔ پھر بے نیازانہ انداز میں بولی۔ “کیا انہوں نے یہاں آنے کو کہا تھا۔‘‘
“وہ آدھی رات سے گھر سے نکلے ہوئے ہیں۔ کچھ بتا کر نہیں گئے کہ کہاں جا رہے ہیں۔ بعد میں فون وغیرہ بھی نہیں کیا۔ ہم لوگ پریشان ہیں ۔ ان کی اماں کا برا حال ہے…..”
“اماں کا….؟ اچھا ان کی نوکرانی۔‘‘ ورشا نے بات کاٹ کر سوال کیا اور پھر خود ہی جواب دے دیا۔
“ہم انہیں صبح سے ڈھونڈ تے پھر رہے ہیں۔ کئی جگہ جا چکے ہیں۔ سوچا آپ سے بھی معلوم کرتے چلیں ۔‘‘
“آپ نے ناحق زحمت کی۔ یہ بات تو آپ ٹیلی فون کر کے بھی معلوم کر سکتے تھے۔‘‘ درشا نے یہ کہہ کر دونوں کو بغور دیکھا۔ پھر مسکرا کر بولی۔ ’’خیر کوئی بات نہیں. آپ ساحل صاحب کے دوست ہیں۔ آیئے اندر تشریف لے آئے۔ کچھ ٹھنڈا وغیرہ پی کر جایئے گا۔ میں آپ دونوں کے نام جان سکتی ہوں‘‘
“مسعود آفاقی ہوں فوٹو گرافر“
“میں ناصر مرزا ہوں شکاری۔‘‘ ناصر مرزا نے مسعود کے انداز میں جواب دیا اور ہنس پڑا۔ “اوہ” بے ساختہ ورشا کے منہ سے نکلا ناصر مرزا سمجھ نہ سکا کہ اس نے ’’اوہ” کس بات پر کی
وہ ابھی تک گیٹ پر جمی کھڑی تھی۔ اس نے انہیں اندر آنے کی دعوت ضرور دی تھی لیکن انہیں گھر میں لے جانے کے موڈ میں نہ تھی۔ دوسرے اس نے اتنے سوال جواب کر لیے تھے ان سے لیکن ساحل عمر کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا۔
ناصر مرزا نے تب براہ راست سوال کیا۔’’ جی آپ نے ساحل عمر کے بارے میں کچھ نہیں بتایا”
وہ اگر یہاں آۓ ہوتے تو میں ضرور ان کے بارے میں کچھ بتاتی‘‘ ورشا نے پھر بھی واضح جواب نہ دیا۔
“آپ کی ساحل سے کب ملاقات ہوئی تھی؟‘‘
”میری ان سے ملاقات پر کوئی پابندی تو نہ تھی۔ ہم جب چاہتے تھے مل لیتے تھے۔” ورشا نے پھر گول مول جواب دیا۔ “اچھا جی۔۔ ہم چلتے ہیں۔ آپ کو زحمت ہوئی۔ اگر ان کا کوئی فون آ جاۓ تو ہمارے بارے میں ضرور بتا دیجئے گا۔‘‘ ناصر مرزا نے کہا۔
“جی بہت بہتر۔” میں ضرور بتا دوں گی۔‘‘ یہ کہہ کر وہ واپس پلٹی۔
اس نے ان دونوں کے جانے کا بھی انتظار نہ کیا فورا گیٹ بند کردیا۔ وہ دونوں ہکا بکا گیٹ کو دیکھتے رہ گئے۔
“یار ناصر مرزا تم یہاں کیوں آۓ تھے؟‘‘ مسعود آفاقی نے اپنی گاڑی کی طرف بڑھتے ہوۓ کہا۔
ایک تو میں ان قیامتوں کا گھر دیکھنا چاہتا تھا۔ دوسرے میں ساحل عمر کے بارے میں ان سے براہ راست معلوم کرنا چاہتا تھا۔‘‘ ناصر مرزا نے وضاحت کی۔
’’چلو گھر تو تم نے دیکھ لیا۔ایک مسئلہ حل ہو گیا لیکن ساحل عمر کے بارے میں تو اس نے کچھ نہیں بتایا۔‘‘ مسعود آفاتی کے لہجے میں غصہ تھا۔
“اس کے باوجود مجھے یقین ہے کہ ساحل عمر گھر سے نکل کر سیدھا ادھر ہی آیا۔ مجھے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ گھر کے اندر موجود ہو۔ کیا تم جانتے ہو کہ ورشا سے پہلے گیٹ پر برکھا آئی تھی۔ اس نے گیٹ پر مجھے دیکھا اور واپس چلی گئی کیونکہ پہلے آنے والی کالے لباس میں تھی۔ لباس کی جھلک میں نے گیٹ کے خلا سے دیکھی تھی۔ اندر جا کر اس نے ورشا کو بھیج دیا کہ وہ گول مول جواب دے کر ہمیں ٹر خادے لیکن ہم ٹرخنے والوں میں سے نہیں ہیں۔‘‘ ناصر مرزا پرعزم لہجے میں بولا۔
’’اے بھائی کیا کرنے کا ارادہ ہے ‘‘ مسعود آفاقی ذرا چونک کر بولا۔
“یار ایک بات ہے ساحل اپنی گاڑی پر گھر سے نکلا ہے۔ اگر وہ اس وقت گھر میں موجودہے تو اس کی گاڑی بھی یہاں موجود ہوتی‘‘ ناصر مرزا نے قیاس آرائی کی ۔
”تم نے یہ بات تو عقلمندی کی کی ہے۔”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: