Anwar Aleegi Urdu Novels

Bichoo Novel By Anwar Aligi – Episode 15

Bichoo Novel By Anwar Aligi
Written by Peerzada M Mohin
بچھو از انوار علیگی – قسط نمبر 15

–**–**–

“میں ذرا گیٹ سے اندر جھانک کر دیکھ لوں۔ ممکن ہے گاڑی اندر کھڑی نظر آ جاۓ۔
دونوں نے باری باری گیٹ کے درمیان جو خلا تھا اس سے اندر جھانک کر دیکھا۔ سامنے کا ایک محدود حصہ نظر آ رہا تھا وہاں گاڑی نہ تھی۔
“مسعود کیا خیال ہے بنگلے کے پیچھے نہ چلیں۔‘‘ ناصر مرزا نے پوچھا۔ ’’ایک نظر پچھواڑے بھی ڈال لیں۔”
“چلو!‘‘ مسعود آفاقی نے اتفاق کیا۔
وہ دونوں اپنی گاڑیاں وہیں چھوڑ کر بنگلے کے پیچے آگئے۔ دو پہر کا وقت تھا۔ اچھی خاصی گرمی تھی۔ پچھلی گلی میں کوئی نہ تھا۔ دیوار اونچی تھی لیکن اتنی او نچی نہ تھی کہ اس پر چڑھا نہ جاسکے۔ دیوار میں ایک جگہ بلاک ٹوٹا ہوا تھا۔ ناصر مرزا نے پیر اس میں لگایا اور ذرا سا اچھل کر دیوار کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا۔ جب اس نے سامنے نظر ڈالی تو اس کی آنکھیں چمک اٹھیں ۔ ساحل عمر کی گاڑی ایک درخت کے نیچے کھڑی تھی۔ وہ فورا دیوار سے اتر آیا اور مسعود آفاقی کوفورا اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا وہ جلد سے جلد یہاں سے ہٹ جانا چاہتا تھا۔
“ساحل کی گاڑی اندر موجود ہے۔‘‘ ناصر مرزا نے راستے میں بتایا۔
“پھر کیا کہتے ہو۔ گھر میں گھس جائیں۔” مسعود آفاقی کو جوش آ گیا۔
“برکھا بڑے اثر ورسوخ والی عورت ہے گھر میں زبردستی داخل ہونے کی صورت میں ہم پر کیس بھی بن سکتا ہے۔” ناصر مرزا نے اسے سمجھایا۔ پھر چند لمحے توقف کر کے بولا ”گھر چلو وہاں کچھ بیٹھ کر سوچتے ہیں۔”
“یار معاملہ بہت سنگین ہو گیا ہے۔ مجھے یوں لگتا ہے جیسے میرا دوست کسی مشکل میں گرفتار ہو گیا ہو۔” مسعود آفاقی نے بڑے تشویش بھرے انداز میں کہا اور اپنی گاڑی کا دروازہ کھول کر اس میں بیٹھ گیا
پھر دونوں گاڑیاں آگے پیچھے اپنے رستے پر ہولیں۔
دونوں گاڑیوں کے جانے کے بعد وہ شخص درخت کی اوٹ سے نکل آیا۔ قریب ہی اس کی موٹر سائیکل کھڑی تھی۔ موٹر سائیکل کی گدی پر بیٹھ کر اس نے اپنی شرٹ کی جیب سے موبائل فون نکالا اور کسی کا نمبر ملانے لگا۔ مشکل سے تیسی سیکنڈ اس نے کسی سے بات کی۔ پھر موبائل فون اپنی جیب میں ڈال لیا۔ وہ اگر چہ ورشا کے بنگلے سے ذرا فاصلے پر کھڑا تھا لیکن اتنی دور نہ تھا کہ اسے بنگلے کا گیٹ دکھائی نہ دے رہا ہو۔
وہ وہاں انجان بنا کھڑا تھا لیکن اس کی نظریں بنگلے کے گیٹ پر تھیں۔ وہ وہاں کئی گھنٹے سے تھا کبھی وہ اپنی موٹر سائکل چیک کرنے بیٹھ جاتا۔ کبھی بنگلے کے گیٹ تک آ کر واپس اپنی جگہ پہنچ جاتا کبھی درخت کے سہارے کھڑے ہو کر سگریٹ پینے لگا۔ وہ ورشا کے بنگلے کی نگرانی کر رہا تھا۔ اس بات میں کسی قسم کا شبہ نہ تھا۔ وہ نگرانی کیوں کر رہا تھا۔ یہ بات ابھی راز میں تھی۔
پھر یہ بات بھی زیادہ راز میں نہ رہ سکی۔ جیسے ہی بنگلے کے گیٹ سے گاڑی نکلی وہ بجلی کی سی تیزی سے موٹر سائیکل پر سوار ہو گیا ۔موٹر سائیکل پر سوار ہوتے ہوۓ اس نے یہ چیک کر لیا تھا کہ گاڑی کون چلا رہا ہے
گاڑی میں ورشا تھی۔ زرد ساڑھی اور سرخ بلاؤز میں۔ اس نے اپنے بال سنوار لیے تھے۔ چہرے کی نوک پلک درست کر لی تھی۔
ورشا کی گاڑی آ گے نکلتے ہی اس نے موٹر سائکل پر بیٹھے بیٹھے موبائل فون کا نمبر ڈائل کیا اور بڑے کرخت لہجے میں کہا۔ ”موسم بہت خوشگوار ہے۔“
پھر اس نے فون اپنی جیب میں ڈالا۔ موٹر سائیکل کو کک لگائی۔ گاڑی اسٹارٹ ہو تے ہی وہ کسی گولی کی طرح ورشا کی گاڑی کی طرف چلا۔ ورشا کی گاڑی بڑی سڑک پر آئی تو وہاں سے ایک پجیرو اس کے پیچھے لگ گئی۔ اس جیپ میں چار خونخوار بندے موجود تھے۔ ورشا کی گاڑی برج کراس کر کے تین تلوار والی چورنگی کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ورشا کو پتہ تھا کہ اس کی گاڑی کے ساتھ ایک موٹر سائیکل سوار اور اس کے پیچھے ایک جیپ مسلسل تعاقب میں ہے۔ اس نے اپنی پسند کا ایک کیسٹ لگایا ہوا تھا اور وہ برق رفتاری سے اڑی جارہی تھی۔
آگے جا کر اس کی گاڑی سپر مارکیٹ سے دائیں جانب گھومی۔ اس کے بعد اس نے خرکار چورگی کی طرف رخ کیا۔ ابھی وہ چورنگی کے قریب پہنچنے والی تھی کہ موٹر سائیکل سوار اچانک اس کی گاڑی کے سامنے آ گیا۔ ورشا نے اپنی گاڑی بچا کر دائیں جانب نکلنے کی کوشش کی تو پجیر و نے اسے دوسری سائیڈ سے گھیر لیا۔
ورشا کو اب گاڑی رو کے بنا چارہ نہ تھا۔
گاڑی رکتے ہی پجیرو سے چاروں خونخوار بندے گوریلوں کی طرح باہر نکلے۔ ان کے ہاتھوں میں آتشیں ہتھیار تھے۔ ورشا ابھی مسئلے کو سمجھ بھی نہ پائی تھی کہ اسے اٹھا کر پجیر و میں ڈال دیا گیا اور پجیرو آندھی طوفان کی طرح وہاں سے نکل گئی۔
موٹر سائیکل سوار نے اپنی گاڑی ایک سائیڈ پر کھڑی کر کے ورشا کی گاڑی سڑک کے کنارے کھڑی کی۔ گاڑی لاک کر کے اس کی چابی اپنی جیب میں ڈالی پھر وہیں کھڑے ہو کر موبائل فون کا نمبر ڈائل کیا اور بڑے مودبانہ انداز میں بولا۔
“سر آپریشن کٹی پتنگ بخیر و خوبی پایہ تکمیل کو پہنچا۔‘‘
ٹیلی فون بند کر کے اس نے جیب میں ڈالا اور پھر موٹر سائیکل اسٹارٹ کر کے واپس شہر کی طرف چل دیا۔
⁦ ﹏۔﹏۔﹏۔﹏
ٹیلی فون کی گھنٹی مسلسل چیخ رہی تھی ۔ ریسیور اٹھانے والا کوئی نہ تھا۔برکھا اپنے بیڈروم میں نہ تھی وہ واش روم میں تھی۔ گھنٹی کی آواز اسے سنائی دے رہی تھی لیکن وہ فورا نکل نہیں سکتی تھی وہ نہانے میں مصروف تھی۔ اس اثناء میں ٹیلی فون کی گھنٹی وقفے وقفے سے بج کر بند ہو چکی تھی۔ کوئی برکھا کو مسلسل فون کر رہا تھا۔ ٹیلی فون کی گھنٹی بار بار بجنے کی وجہ سے وہ جلدی جلدی نہا کر نکل آئی۔اس نے اپنے جسم کے گرد ایک بڑا سا تولیہ لپیٹا ہوا تھا۔ بالوں سے پانی بوند بوند موتی کی طرح ٹپک رہا تھا۔
اس نے جلدی سے ریسیور اٹھایا۔’’ہیلو!‘‘
“برکھا جی اتنی دیر سے ٹیلی فون کر رہا ہوں کہاں تھیں آپ؟‘‘ ادھر سے بے چینی سے پوچھا گیا
” بھی نہا کر نکلی ہوں۔‘‘ برکھا نے بتایا۔’’ورشاتو وقت پر پہنچ گئی ناں۔‘‘
“اس لیے فون کر رہا ہوں۔ صاحب آنے والے ہیں اور ورشا ابھی تک نہیں پہنچی ہیں۔”
“یہ کیا کہہ رہے ہو تم‘‘ برکھا ایک دم پریشان ہوگئی۔ ’’وہ یہاں سے ٹھیک وقت پر نکلی ہے۔ اسے تو وہاں کب کا پنچ جانا چاہیئے“
”وہ یہاں ابھی تک نہیں پہنچیں۔” اس کے لہجے میں گھبراہٹ تھی۔’’صاحب کا فون آ چکا ہے۔ وہ آنے والے ہیں برکھا جی بڑا غضب ہو جاۓ گا۔ میری نوکری خطرے میں پڑ جاۓ گی۔“
“ارے بھاڑ میں گئی تمہاری نوکری۔‘‘ برکھا کو ایک دم غصہ آ گیا۔’’مجھے اپنی بیٹی کی فکر پڑی ہے۔ وہ اب تک وہاں کیوں نہیں پہنچی۔ کہاں رہ گئی وہ۔“
”اب میں کیا کہہ سکتا ہوں۔” اس نے پریشان لہجے میں کہا۔ ’’اب میں صاحب کو کیا جواب دوں گا۔‘‘
”تم پریشان مت ہو صاحب سے میری بات کرا دینا میں سنبھال لوں گی۔ تم ایسا کرؤ فوراً کھی آدمی کو بھیجو۔ کہیں اس کی گاڑی نہ خراب ہوگئی ہو ویسے ایسا امکان تو نہیں احتیاطا کہہ رہی ہوں۔ ٹائر پنچر نہ ہو گیا ہو۔‘‘ برکھا نے اسے تسلی دینے کی کوشش کی۔
“ٹھیک ہے برکھا جی میں آدمی بھیج کر راستہ چیک کراتا ہوں۔‘‘ اس نے کہا ’’آپ دس منٹ بعد ذرا فون کر لیجئے گا۔ میں آپ کی صاحب سے بات کرادوں گا۔ ان کو بس آپ ہی سنبھال سکتی ہیں”
“مرو مت….میں فون کر لوں گی تم فورا بندہ بھیجو۔” یہ کہہ کر برکھا نے ریسیور رکھ دیا۔
⁦ ෴෴෴෴෴
ورشا کی آنکھوں پر کس کر پٹی باندھ دی گئی تھی اور اس کے برابر ایک بندہ بیٹھ گیا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ریوالور تھا اور اس ریوالور کی نال اس کی پسلیوں میں چبھ رہی تھی۔ چلتے ہوۓ اس سے کہا گیا “اگر زندگی چاہتی ہو تو خاموش بیٹھی رہنا۔‘‘
لیکن وہ خاموش نہیں بیٹھی رہ سکی تھی۔ اسے یہ تو اندازہ ہو گیا تھا کہ اسے اغوا کیا گیا ہے لیکن وہ یہ نہیں سمجھ پائی تھی کہ اسے کس کے ایما پر اغوا کیا گیا ہے اور وہ اسے کہاں لیے جا رہے ہیں۔ اس نے پوچھا تھا “مجھے صرف اتنا بتا دو کہ اس واردات کے پیچھے کون ہے یہ معلوم ہونے کے بعد میں لفظ بھی نہیں بولوں گی۔“
“یہ بات ہم میں سے کوئی نیں جانتا۔ بس اب سوال مت کرنا۔” اس کے برابر بیٹھے شخص نے سخت لہجے میں کہا۔
“کیا تم لوگوں سے کوئی غلطی تو نہیں ہوگئی۔ کیا تم جانتے ہو کہ میں کون ہوں۔ کیا تم یہ بھی جانتے ہو کہ میں جس سے ملاقات کرنے جا رہی تھی وہ کتنا بڑا آدمی ہے ۔ کہو تو اس کا نام بتاؤں۔”
“بس بہت ہوگئی۔ اب تم بولیں تو میں گولی چلا دوں گا۔” یہ بات اس نے کچھ اس انداز میں کہی کہ ورشا نے خاموش ہو جانا ہی بہتر جانا۔
پھر اس کے بعد کوئی نہ بولا۔ گاڑی میں موت کی سی خاموشی چھائی رہی۔ ورشا اندازہ نہیں کرسکی کہ اسے کہاں لے جایا گیا۔ ویسے سفر زیادہ طویل نہیں تھا۔ وہ محسوس کر رہی تھی جیسے وہ ابھی شہر میں ہی ہے۔ گاڑی سے اتار کر اسے کسی اچھے گھر میں لے جایا گیا۔ اس گھر کی سٹرھیاں چڑھنے سے لے کر جہاں تک اسے لے جایا گیا وہاں اس کے پیروں میں قالین رہا۔
اس نے ایک دروازے کے تالے میں چابی گھومنے کی آواز سنی۔ ہینڈل گھما کر درواز کھولا گیا۔ دروازے کی ہلکی سی چر چراہٹ محسوس ہوئی۔ پھر اسے ایک بیڈ پر بٹھا دیا گیا۔ جب اس کی آنکھوں سے پٹی کھولی گئی تو اس نے خود کو ایک عالیشان بیڈروم میں پایا۔ ورشا کو اندازہ تھا کہ آنکھیں کھلتے ہی اسے منحوس چہروں کو دیکھنا پڑے گا لیکن اس وقت کمرے میں کوئی خونخوار چہرہ نہ تھا۔ اس کی آنکھوں کی پٹی جس نے کھولی تھی وہ کوئی مرد نہ تھا عورت تھی۔ وہ ایک ادھیڑ عمر کی عورت تھی۔اس کی آنکھوں میں زندگی کے تجربے کی چمک تھی۔ وہ شلوار قمیص میں تھی اور وہ ورشا کو پڑی دلچسپی سے دکھ رہی تھی۔
⁦ ᴥᴥᴥᴥᴥᴥᴥᴥ
برکھا نے نمبر ملا کر ریسیور کان سے لگایا۔
“ہیلو!” ادھر سے بھاری آواز میں کہا گیا۔ اس آواز کو وہ اچھی طرح پہچانتی تھی۔ اسے امید نہ تھی کہ وہ براہ راست فون اٹھالیں گے۔
“اوہ سر میں برکھا بول رہی ہوں۔” برکھا نے بڑی تھکاوٹ سے کہا۔
’’برکھا جی آپ نے ہم پر بڑا ظلم کیا۔ اب دیکھو ناں قوم نے ہمارے کاندھے پر بھاری ذمہ داری ڈال دی ہے۔ اس قومی وقت میں سے ہم نے دو گھنٹے کس مشکل سے نکالے ہیں۔ آپ یہ بات نہیں جانتی ہوں گی۔ ہمارا خیال تھا کہ یہ دو گھنٹے ہم کسی کی حسین رفاقت میں گزاریں گے لیکن یہاں آ کر تو بد مزگی ہوگئی۔ برکھا جی آپ نے ہم پر بڑاظلم کیا۔‘‘
“میں معذرت چاہتی ہوں۔ آپ یقین کریں ورشا یہاں سے بالکل ٹھیک وقت پر نکلی تھی۔ وہ وہاں ابھی تک نہیں پہنچی یہ سن کر میں خود پریشان ہوگئی ہوں۔ میں نے کچھ دیر پہلے عرفی سے بات کی تھی۔ پتہ نہیں اس نے راستہ چیک کرنے کے لیے کسی بندے کو بھیجا یا نہیں۔”
“یہ عرفی میرے سامنے بیٹھا ہے۔ اس سے بات کرلیں۔‘‘ سر نے کہا اور موبائل فون اس کے ہاتھ میں دینے کے بجاۓ آف کر دیا اور موبائل میز پر پھینک کر کھڑے ہو گئے ۔’’ناٹک کرتی ہے ہمارے ساتھ۔“
ہر وقت قوم کا درد دل میں لیے پھرنے والے کا دل خراب ہو چکا تھا۔ وہ یہاں اپنا ”غم غلط کرنے آیا تھا۔ کسی اور کے غم میں مبتلا نہیں ہونے آیا تھا۔اس نے جلتی آنکھوں سے عرنی کو دیکھا اور پھنکارتا ہوا بولا۔ “ڈرائیور سے کہو گاڑی باہر نکالے۔‘‘
“جی سر۔‘‘عرفی کانپتا ہوا بولا ۔’’مجھے معاف کر د یجیئے، غلطی ہوگئی۔‘‘
قوم کا درد بانٹنے والے نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ اسے غصے سے دیکھتا ہوا کمرے سے نکل گیا
⁦ ⊚⊚⊚⊚⊚⊚⊚
”کیا دیکھ رہی ہو؟‘‘ورشا نے اس عورت کو اس قدر محویت سے دیکھتے ہوۓ پایا تو سوال کر بیٹھی
“تمہیں دیکھ رہی ہوں اتی سندر اتنی سوہنی لڑکی میں نے آج تک نہیں دیکھی۔ بالکل ہرنی جیسی ہو۔ تمہیں کہاں سے پکڑا گیا ہے؟‘‘ وہ اسے بدستور دیکھ رہی تھی۔
“مجھے آدمیوں کے جنگل سے پکڑا گیا ہے۔‘‘ ورشا نے ہنس کر کہا۔
“سوہنی ہونے کے ساتھ ساتھ ہمت والی بھی ہو ۔‘‘ اس نے راۓ دی۔
” کیسے پہچانا!‘‘ وہ متعجب ہوئی۔
“اس کمرے میں جب میں کسی لڑکی کی آنکھوں سے پٹی کھولتی ہوں تو وہ تھرتھر کانپ رہی ہوتی ہے۔ خوف کے مارے زبان نہیں کھلتی۔ تم تو ہنس رہی ہو کون ہو تم ؟‘‘ اس تجربے کار عورت نے اپنا تجربہ بیان کیا۔
“اب تک کتنی پٹیاں کھول چکی ہو۔” ورشا نے سادگی سے سوال کیا۔
“یہ بتانے سے تمہیں کیا حاصل ہوگا۔‘‘ وہ نرم لہجے میں بولی۔
’’میں کہاں ہوں. کیا یہ بتا سکتی ہو؟‘‘ ورشا نے دوسرا سوال کیا۔
“بتانا چاہوں تو بتا سکتی ہوں لیکن اس سے بھی تمہیں کوئی فائدہ نہ ہو گا ۔‘‘
“تم بتا سکتی ہوتو بتا دو ۔ فائدہ نقصان مجھ پر چھوڑ دو۔” اس نے دوٹوک انداز اختیار کیا۔
“تم ڈیفینس کے ایک بنگلے میں ہو؟‘‘ اس نے انکشاف کیا۔
“اتنی مہربان ہوگئی ہو تو یہ بھی بتا دو کہ مجھے یہاں کس کے حکم پر لایا گیا ہے۔” اس نے پانسہ پھینکا
“یہ بات میں تمہیں نہیں بتا سکتی لیکن یہ بات زیادہ عرصے راز میں رہے گی نہیں تم خود اپنی آنکھ سے دیکھ لو گی کہ کون ہے وہ ؟” اس نے سنجیدگی سے کہا۔
“تم کون ہو؟‘‘ ورشا نے سوال کیا۔
میں ایک خادمہ ہوں اور یہاں تمہاری خدمت کرنے کے لیے حاضر ہوئی ہوں۔ تمہیں کیا چاہیے۔ ٹھنڈا پیو گی یا گرم۔‘‘ اس نے بڑے مودبانہ لہجے میں کہا۔
“شکریہ فی الحال مجھے کچھ نہیں چاہیے۔”
“ٹھیک ہے پھرتم آرام کرو۔ اگر میری ضرورت پڑے تو یہ بیڈ کے اوپر دیوار میں لگا گھنٹی کا بٹن دبا دینا۔ میں حاضر ہو جاؤں گی۔ میں اب چلتی ہوں۔ جاتے ہوئے باہر سے دروازہ لاک کر جاؤں گی۔اس بیڈروم میں تم آزاد ہو جو مرضی آۓ کرو۔‘‘
“جاتے جاتے اپنا نام بتاتی جاؤ۔‘‘ ورشامسکرائی۔ ’’اگر بتانا چاہو تو‘‘
“میرا نام چندن ہے اور تم؟” اس نے سوال کیا ۔
”میں ورشا ہوں۔‘‘ ورشا نے اپنا نام بتایا۔
اچھا نام ہے۔ کم سننے میں آتا ہے۔ کس نے رکھا یہ نام؟‘‘ اس نے ایسے ہی پوچھا۔
”میری ممی نے ان کا نام برکھا ہے۔” ورشا نے بتایا۔
’’اوہ۔” برکھا کا نام سن کر چندن ایک دم چونک گئی۔ ’’تو تم برکھا جی کی بیٹی ہو؟‘‘
“ہاں کیا تم میری ممی کو جانتی ہو؟‘‘ ورشا نے خوشگوار حیرت سے اسے دیکھا۔
“ہاں بہت اچھی طرح وہ بڑے صاحب کے پاس آیا کرتی تھیں۔ انہوں نے ان کے بہت کام کیے۔ انہوں نے ایک کام میرا بھی کیا تھا۔ میرا شوہر مجھے بہت تنگ کرتا تھا۔ بات بے بات لڑتا تھا۔ انہوں نے مجھے ایک پڑیا دی۔ اس میں را کھ جیسی کوئی چیز تھی۔ وہ میں نے اپنے شوہر کو چائے میں گھول کر پلا دی۔ بس وہ دن اور آج کا دن پھر کبھی اس نے مجھ پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔ بڑے صاحب کی زندگی تک وہ یہاں آتی رہیں۔ اس بنگلے میں جب ان کا انتقال ہو گیا تو انہوں نے آنا چھوڑ دیا۔‘‘ چندن نے بتایا۔
“چندن میری ماں نے تم پر احسان کیا ہے۔ آج اس کی بیٹی تمہارے سامنے ہے۔ کیا تم اس پر کوئی احسان نہیں کرسکتی ہو۔‘‘ ورشا نے امید بھری نظروں سے دیکھا۔
“ورشا بی بی مجھے مشکل میں مت ڈالو۔ وہ بڑا جلاد آدمی ہے۔ ایک سیکنڈ میں بندے کی پیشانی پر ریوالور رکھ کر گولی چلا دیتا ہے۔ بی بی مجھے معاف کرنا. میں تمہارے لیے کچھ نہیں کرسکتی۔” اس نے گھبرا کر کہا اور تیزی سے کمرے سے نکل گئی۔
پھر ورشا نے دروازے کے تالے میں چابی گھومنے کی آواز سنی۔ وہ بند دروازے کو دیکھتی رہ گئی۔
⁦←←⁩⁦←←⁩⁦→→⁩⁦→→⁩
یہ ایک وسیع وعریض فارم تھا۔اس فارم میں خاصا اندر جا کر کاٹیج بنا ہوا تھا۔ واسم نے اپنی گاڑی کاٹیج کے دروازے سے ملا کر کھڑی کی اور ہارن دیا۔
چند لمحوں بعد کاٹیج کادروازہ کھلا۔ سوناں مسکراتی ہوئی باہر آئی۔
“واسم تمہیں آنے میں کچھ دیر نہیں ہوگئی۔‘‘ سوناں نے گاڑی میں جھانک کر ساحل عمر کو دیکھتے ہوئے کہا۔
“راستے میں ایک جگہ چیکنگ ہو رہی تھی۔ راستہ بدل کر آیا ہوں ۔‘‘ واسم نے بتایا۔
پھر ان دونوں نے ساحل عمر کو سہارا دے کر گاڑی سے اتارا ۔گاڑی سے اترتے ہوئے ساحل عمر نے ایک دم آ نکھیں کھولیں۔ خالی نگاہوں سے باری باری دونوں کو دیکھا اور پھر ان کے کندھوں کا سہارا لے کر یوں چلنے لگا جیسے وہ دونوں اس کی مرضی کے مطابق اسے کہیں لیے جا رہے ہوں
اسے کچھ ہوش نہ تھا۔ وہ کہاں ہے۔ کیا کر رہا ہے۔
“برکھا جی نے اس کے بارے میں کیا ہدایت کی ہے۔ اسے کہاں رکھنا ہے…؟” سوناں نے کاٹیج کی سیڑھیاں چڑھتے ہوۓ پوچھا۔
“اندروالے کمرے میں رکھنا ہے۔ سیج پر لٹانا ہے۔‘‘ واسم نے اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوۓ کہا۔
“واسم تم بھی خوب ہو اسے تم سیج کہتے ہو۔“ سوناں نے اسے ترچھی نظروں سے دیکھا۔
”اچھا چلو سیج مت کہو..موت کی سیج کہہ لو۔ اب تو ٹھیک ہے۔“
“ہاں وہ کمرہ تو قربان گاہ ہے ۔“ سوناں نے گہرا سانس لے کر کہا۔
“سوناں ایک بات کان کھول کر سن لو کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے۔ برکھا جی نے بہت سخت تنبیہہ کی ہے۔ اگر ذرا بھی کوئی گڑ بڑ ہوئی تو ہم لوگوں کی خیر نہیں۔‘‘ واسم نے کمرے میں داخل ہوتے ہوۓ اسے سمجھایا۔
“نہیں کوئی غلطی نہیں ہوگی۔ تم بے فکر رہو۔‘‘ سوناں نے اسے یقین دلایا۔ پھر توقف کرکے بولی۔ ”برکھا جی کب آ ئیں گی؟”
“ان سے فون پر بات کرنا ہوگی۔ پھر جب وہ کہیں گی انہیں جا کر لانا ہوگا۔‘‘ واسم نے بتایا
پھر وہ دونوں اندر والے کمرے کے دروازے پر رک گئے۔ سوناں نے اپنا کندھا اس کے بازو سے نکالا اور واسم سے بولی۔ ’’واسم ذرا سنبھالو اسے۔”
وام نے جھولتے ساحل عمر کو مضبوطی سے تھام لیا۔ تب وہ زمین پر بیٹھ کر ساحل عمر کے جوتے اتارنے لگی ۔ پھر ان دونوں نے بھی اپنے جوتے اتارے اور دروازہ کھول کر اندر داخل ہوۓ۔ یہ ایک چوکور کمرہ تھا۔ سرخ رنگ کا قالین بچھا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ اس میں کوئی سامان نہ تھا۔ اس کمرے کے درمیان میں شاید ایک تخت پڑا ہوا تھا۔ وہ چاروں طرف سے ایک کالی چادر سےڈھکا ہوا تھا۔ ساحل عمر کو اس پر احتیاط سے لٹا دیا گیا اور پھر دونوں الٹے قدموں واپس دروازے کی طرف گئے اور باہر نکل کر دروازہ مقفل کر دیا۔
صبح ہو چکی تھی۔ سورج کی روشنی ایک دم ہی اس کی آنکھوں پر پڑی تھی۔ اس کی بند آنکھوں پر تمازت محسوس ہوئی تو اس نے فورا آ نکھیں کھولیں اور پھر فورا ہی اٹھ کر بیٹھ گیا۔ سورج کی روشنی اوپر بنے روشندان سے آرہی تھی اور ایک مخصوص جگہ پر پڑ رہی تھی۔ساحل عمر نے نظریں گھما کر چاروں طرف دیکھا۔ یہ ایک عجیب وغریب کمرہ تھا۔ وہ جس چیز پر بیٹھا ہوا تھا وہ پتھر کی طرح سخت تھی اور اس پر ایک بڑی سی کالی چادر پڑی ہوئی تھی۔
اس نے کھڑے ہو کر جب یہ دیکھنے کے لیے چادر کھینچی کہ وہ کہاں لیٹا ہوا تھا۔
دکھ کی ایک لہر اس کے اندر اترتی چلی گئی۔
وہ کسی کی قبر تھی ۔
اور اس قبر کا کتبہ سرہانے کے بجاۓ درمیان میں لگا ہوا تھا۔ جس پر صاحب قبر کا نام سن ولادت اور سن وفات لکھا ہوا تھا۔ اسے دکھ اس بات کا ہوا تھا کہ وہ کسی کی قبر پر لیٹا ہوا تھا۔ شاید وہ رات کو سویا بھی اس قبر پر تھا۔
اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کہاں ہے؟ یہ کیا جگہ ہے؟ اور اسے یہاں کون لایا ہے؟ اسے
اتنا یاد تھا کہ رات کو برکھا کا فون آیا تھا۔ اس نے اسے آنے کے لیے کہا تھا۔ اس کی آواز میں
جانے ایسا کیا جادو تھا کہ وہ فورا اس کے پاس جانے کے لیے بے قرار ہو گیا تھا اور ایک منٹ ضائع کے بغیر گاڑی میں بیٹھ کر اپنے گھر سے نکل گیا تھا۔ اس کے دماغ میں یہ خیال تھا کہ جلد از جلد برکھا کے پاس پہنچ جانا ہے۔ اس کے خیال کے علاوہ سارے خیال اس کے دماغ سے مٹ گئے تھے۔ اس کی نظروں کے سامنے بس برکھا کا چہرہ تھا۔ اس چہرے کے علاوہ اسے کوئی چہرہ یاد نہ رہا تھا۔ حتی کہ ورشا کا چہرہ بھی غبار راہ ہو گیا تھا۔
پھر برکھا نے اسے اپنے بیڈ روم میں لے جا کر جانے کیا پلا دیا تھا کہ اس کے پیتے ہی وہ اپنے ہوش گنوا بیٹھا تھا۔ اس کے بعد اس کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ اسے کچھ یاد نہ تھا۔ اس پر خواب کی سی کیفیت چھائی ہوئی تھی۔ اسے یہ احساس تو تھا کہ اس کے ساتھ کچھ ہو رہا ہے۔ کیا ہو رہا ہے اس کا پوری طرح ادراک نہ تھا۔ کبھی وہ برکھا کا چہرہ دیکھتا کبھی اسے واسم نظر آ تا کبھی وہ خود کو گاڑی میں بیٹھا ہوا پاتا۔ کبھی وہ کہیں لیٹا ہوا محسوس کرتا۔
اس وقت وہ ذرا ہوش میں آیا تھا۔ اس کی آ نکھیں پوری طرح کھلی تھیں۔ اسے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے اسے گہری نیند سے جھنجھوڑ کر اٹھا دیا گیا ہو۔ سر چکرا رہا تھا اور جسم سن سا ہو رہا تھا۔ اس نے ورزش کے انداز میں ہاتھ پیروں کو حرکت دی اور سوچنے لگا کہ یہ کیا جگہ ہے؟ یہ برکھا کا بیڈ روم تو نہ تھا۔
یہ بڑا عجیب وغریب کمرہ تھا۔ کمرے میں ایک قبر بھی تھی اور دیوار سے دیوار تک سرخ قالین بچھا ہوا تھا۔ اس کمرے میں دو روشندان تھے جو آمنے سامنے تھے اور خاصے اونچے تھے۔ کوئی کھڑ کی نہ تھی۔ سامنے ایک دروازہ تھا۔ وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا دروازے تک گیا۔ چلتے ہوئے اس کے قدم ڈگمگا رہے تھے۔ اس نے دروازے کا ہینڈل نیچے کر کے دروازہ کھولنا چاہا لیکن دروازه لاک تھا۔
اب اس کا دماغ آہستہ آہستہ بیدار ہوتا جا رہا تھا اور وہ سوچ رہا تھا کہ کسی مصیبت میں گرفتار ہو گیا ہے۔
⁦ ☞⁩⁦☞☞⁩⁦☜☜☜
برکھا کا بنگلہ اس وقت تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ ناصر مرزا اسی جگہ سے دیوار پھلانگ کر آیا تھا جس جگہ سے اس نے دن کی روشنی میں ساحل عمر کی گاڑی کھڑی دیکھی تھی۔ دیوار کود کر وہ چند لمحے اطمینان سے کھڑا رہا۔ اس نے بنگلے کی پچھلی سائیڈ کو بغور دیکھا۔ عمارت میں کہیں بھی روشنی نہ تھی۔
اسے اس بات کا خدشہ تھا کہ بنگلے میں کوئی کتا نہ ہو۔ اگرچہ وہ پوری تیاری سے بنگلے میں داخل ہوا تھا اور ہر خطرے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ پھر بھی وہ چاہتا تھا کہ بنگلے میں کتا وغیرہ نہ ہو تو بہتر ہے۔ خواہ مخواہ اسے ختم کرنا پڑے گا۔ جب اسے یقین ہو گیا کہ بنگلے میں کوئی کتا موجود نہیں ہے۔ تو وہ نپے تلے قدموں سے آگے بڑھا۔ اسٹریٹ لائٹ جہاں تک اندر آرہی تھی وہاں تک وہ اس کی۔ روشنی میں آگے بڑھتا رہا اور جب اندھیرا بڑھنے لگا تو اس نے محدود دائرے والی چھوٹی سی ٹارچ آن کرلی۔
یہ بنگلہ درخت اور بے ترتیب جھاڑیوں سے گھرا ہوا تھا۔ جھینگروں کی آوازیں آ رہی تھیں بنگلے کی ویرانی اندھیرے میں مزید بڑھ گئی تھی۔ بنگلے کی طرف بڑھتے ہوۓ دل میں ہول اٹھتی تھی ناصر مرزا مضبوط اعصاب کا مالک تھا۔ وہ بغیر پریشان ہوۓ محتاط انداز میں آگے بڑھتا رہا۔
اس وقت اسے حیرت کا جھٹکا لگا جب وہ اس جگہ پہنچا جہاں دن میں ساحل عمر کی گاڑی کھڑی تھی وہاں اب گاڑی موجود نہ تھی۔ وہ پیچھے سے گھومتا ہوا آگے آ گیا۔ مین گیٹ تک چلا گیا لیکن اسے گاڑی کہیں نظر نہ آئی۔ اس پر مایوسی چھانے لگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ساحل عمر یہاں سے نکل گیا۔ وہ مین گیٹ سے یہ سوچتا ہوا پھر پچھلی طرف آیا۔ تب اسے ایک جگہ جھاڑیوں کے اندر ایک ہیولا سا محسوس ہوا۔ اس نے ٹارچ کی روشنی ڈالی تو ساحل عمر کی گاڑی پر نظر پڑی۔ وہ ایک دم کھل اٹھا۔
اب سوال یہ تھا کہ اس بنگلے میں بے شمار کمرے تھے اور ایک بھی روشن نہ تھا۔ پھر وہ کیسے اندازہ کرے کہ ساحل عمر کس کمرے میں موجود ہے۔ اسے ایک ایک کمرہ جھانکنا ہوگا۔ اب اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ اس نے ٹارچ بائیں ہاتھ میں تھام لی اور جیب سے چاقو نکال کر کھول لیا اور ایک ایک کمرے کو چیک کرتا آگے بڑھنے لگا۔
بیشتر کمرے اندر سے بند تھے اور جو کھلے تھے وہ خالی پڑے ہوئے تھے۔ ان میں کوئی انسان تک نہ تھا۔ اس طرح کمروں کی تلاشی لیتا جب وہ ایک کمرے کے سامنے آیا تو اس کا دروازہ بھی حسب معمول بند تھا۔ اس نے دروازے کو آہستہ سے دھکا دیا تو وہ کھل گیا۔ ٹارچ روشن کر کے سامنے دیکھا اسے اس کمرے میں قالین بچھا نظر آیا۔ پھر ٹارچ کے دائرے نے ایک بیڈ دریافت کیا۔
ناصر مرزا ابھی بیڈ پر ٹارچ کی روشنی ڈال کر یہ دیکھنے ہی والا تھا کہ آیا بیڈ پرکوئی موجود ہے کہ نہیں کہ اچانک کمرہ تیز روشنی میں نہا گیا۔ کمرے میں برکھا موجود تھی۔ بیڈ سے اٹھ کر اس نے لائٹ روشن کی تھی۔ اپنے سامنے ناصر مرزا کو پا کر اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔
“شکاری تو… تو یہاں کیا سوچ کر آیا ہے۔ وہ ناگن کی طرح بل کھا کر بولی۔
“میرا دوست کہاں ہے….. میں اپنے دوست کو لینے آیا ہوں۔ اسے میرے حوالے کردے۔ میں یہاں سے خاموشی سے چلا جاؤں گا۔‘‘ ناصر مرزا نے دوٹوک انداز میں بات کی۔
“کس دوست کی بات کرتا ہے. میں تیرے کسی دوست کونہیں جانتی۔”
“اس دوست کی جس کی گاڑی تیرے گھر کی جھاڑیوں میں چھپی ہوئی ہے۔“ ناصر مرزا نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔
“اچھا تو تو پورے گھر کی تلاشی لے آیا ہے۔” برکھا جو اب تک کھڑی تھی بیڈ پر بیٹھ گئی اور اسے گھورتے ہوۓ بولی۔ “تو نے میرے گھر میں داخل ہو کر اچھا نہیں کیا؟‘‘
“میں نے یہاں آ کر اچھا کیا ہے یا برا کیا ہے اس بات کو چھوڑ۔ مجھے باتوں میں الجھانے کی کوشش نہ کر۔ دو پہر کو بھی تو نے یہی کہا تھا خود سامنے آئی نہیں مجھے دیکھ کر ڈر گئی۔ اپنی بیٹی کو دروازے پر بھیج دیا۔ اس نے غلط بیانی سے کام لیا جبکہ ساحل عمر اس گھر میں موجود تھا۔ تو اس لڑکے کے پیچھے کیوں پڑ گئی ہے۔ وہ میرا بہت پیارا دوست ہے۔ اگر اس کو کچھ ہو گیا تو پھر تجھے زندہ نہیں چھوڑوں گا”
“میرے گھر میں گھس کر مجھے قتل کی دھمکی دیتا ہے۔ ابھی اگر میں پولیس کو کال کرلوں تو تو جانتا ہے تجھ پر کتنے مقدمے بن جائیں گے۔ تو یہ بات اچھی طرح جانتا ہوگا۔ جانتا ہے ناں؟” برکھا نے ترچھی نگاہوں سے دیکھا۔
“میں تیرے گھر کی دیوار پھلانگ کر آیا ہوں۔ میں اس طرح کود کر اندر آیا ہوں تو کچھ سوچ کر ہی آیا ہوں گا۔ تو اپنا شوق پورا کر پولیس کو کال کر۔ پھر دیکھ تماشا۔” ناصر مرزا پولیس بلانے کی دھمکی پر تھوڑا پریشان ہو گیا تھا لیکن اس نے اپنی پریشانی ظاہر نہ ہونے دی۔ اس نے اسے الٹی دھمکی دے کر چکرا دیا۔ اگر وہ ڈر جاتا تو وہ اسے اور ڈراتی لیکن وہ ڈرنے والوں میں سے نہ تھا۔
“تو کیا چاہتا ہے؟‘‘برکھا کا لہجہ تھوڑا نرم ہوا۔
“میں یہاں ساحل عمر کو لینے آیا ہوں۔ اسے میرے حوالے کردے۔“
“اور میری بیٹی کا کیا ہوگا؟‘‘ ایک انوکھا سوال ہوا۔
“کہیں تو ساحل عمر اور ورشا کی شادی کے چکر میں تو نہیں ہے۔ یاد رکھ میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔“
“میں کیا کہ رہی ہوں تو کیا کہہ رہا ہے؟“
“تو جو کہنا چاہ رہی ہے میں اچھی طرح سمجھتا ہوں۔” “ورشا کہاں ہے؟”
ناصر مرزا اس سوال پر چونکا۔ “اس سوال کا کیا مطلب ہے؟“
تمہارے جانے کے بعد سے میری ورشا غائب ہے۔ اس کی گاڑی کلفٹن چورنگی کے نزدیک سے ملی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ تم لوگوں نے اسے اغوا کروایا ہے۔‘‘ برکھا نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ کہا۔
“اوہ تو ورشا اغوا ہو چکی ہے….” ورشا کے اغوا کا ذکر سن کر ناصر مرزا کے دل میں ٹھنڈک سی پڑ گئی کوئی تو ان ظالموں کو نقصان پہنچانے والا پیدا ہوا جس نے بھی ورشا کو اغوا کیا ہے۔ اس کے لیے اس کے دل سے دعا نکلی۔ واہ بھائی تو نے کمال کیا۔ اللہ تیرا بھلا کرے۔
ناصر مرزا نے ایک سیکنڈ کے ہزار ویں حصے میں یہ بات طے کرلی کہ وہ اغوا کے معاملے کو ہرگز کلیئر نہیں کرے گا۔ برکھا خود بخو د جال میں پھنس گئی تھی۔ اب وہ بارگینگ پوزیشن میں آ گیا تھا۔ وہ اس بات سے فائدہ اٹھاۓ گا۔
لیکن وہ بھی کچی گولی نہیں کھیلے ہوئے تھی۔ وہ ایک شاطر عورت تھی۔ جب سے اس کے علم میں یہ بات آئی تھی کہ ورشا کی گاڑی کلفٹن چورنگی کے نزدیک کھڑی ہے تب سے اس نے اپنے تمام ہرکارے ادھر ادھر دوڑاۓ ہوئے تھے۔ جن جن لوگوں پر اسے شبہ تھا وہاں وہاں وہ چیک کر رہی تھی۔ اس کے ساتھ ہی وہ پورے بنگلے میں اندھیرا کر کے اپنے بیڈ پر بیٹھ کر ایک عمل کر رہی تھی کہ ناصر مرزا اس کے گر میں آ کودا تھا۔
یہ لوگ اس کی فہرست میں شامل نہ تھے۔ ناصر مرزا کا چہرہ دکچھ کر اچانک اس کے دل میں یہ خیال آیا کہ ہوسکتا ہے یہ کام ان لوگوں نے کیا ہو. یہ سوچ کر اس نے اندھیرے میں تیر چھوڑ دیا تھا۔ اگر ناصر مرزا کے اشارے پر یہ اغوا ہوا ہے تو یہ فورا اگل دے گا۔ اس طرح ورشا کے بدلے میں ساحل عمر کو دے دیا جائے گا۔ اور آیندہ وہ ورشا کو محفوظ کر کے ساحل عمر کو دوبارہ اپنے قبضے میں لے گی۔
“تم کسی کو اغوا کرسکتی ہو تو کوئی اور بھی تمہاری بیٹی کو اغوا کروا سکتا ہے۔ سیر کوسوا سیر ملنا کون سا مشکل ہے۔” ناصر مرزا نے طنزیہ لہجہ اختیار کیا۔
“میں نے ساحل عمر کو اغوانہیں کیا۔” برکھا نے کہا۔
“پھر اس کی گاڑی تمہارے گھر میں کیسے موجود ہے؟‘‘ ناصر مرزا نے سوال کیا۔۔ “ہو سکتا ہے تمہاری بیٹی کو بھی کسی نے اغوا نہ کیا ہو۔ وہ اپنی مرضی سے کسی کے ساتھ گئی ہو”
“شکاری میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ جو کچھ کہنا ہے صاف لفظوں میں کہو۔” یہ کہ کر اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھا ہوا جگ اور گلاس اٹھایا۔ جگ سے پانی نکال کر پورا گلاس بھرا۔
اتنی دیر میں اس نے کچھ پڑھ کر گلاس پر پھونکا اور بیڈ سے اچانک اٹھ کر دوقدم آگے بڑھی اور اس سے پہلے کہ ناصر مرزا کچھ سمجھتا۔ اس نے پانی سے بھرا گلاس اس کے اوپر پھینک دیا۔
بظاہر پانی نظر آنے والی چیز اس کے پڑھ کر پھینکتے ہی پانی نہ رہی تھی تیزاب بن گئی تھی۔ ناصر مرزا کی جگہ اس وقت اگر کوئی اور شخص ہوتا تو وہ جل کر رہ جاتا۔اس کا چہرہ اور جسم جھلس جاتا۔
مگر یہ پانی ناصر مرزا کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔ پانی پڑتے ہی اس کے جسم میں آگ لگنی شروع ہوئی تھی کہ ناصر مرزا کو فورا ہوش آ گیا۔ اس کے ہاتھ میں کھلا ہوا چاقو موجود تھا۔ وہ چاقو فورا اس نے اپنے جسم سے لگالیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ پانی بھاپ بن کر اڑ گیا۔
برکھا اسے آنکھیں پھاڑ کر حیرت سے دیکھنے لگی۔
•●•●•●•●•●•●•
ورشا بیڈ پر پاؤں لٹکاۓ بیٹھی تھی۔ اس کی نظریں دروازے پر جمی تھیں ۔ وہ اس شخص کا انتظار کر رہی تھی جس نے یہ سارا کھیل رچایا تھا…. اسے بند درواز ے کے کھلنے کا شدت سے انتظار تھا
یہ وہ بیڈ روم نہ تھا جہاں اس کی چندن نے پٹی کھولی تھی۔ وہ بیڈ روم تو ڈیفنس کے ایک بنگلے کا تھا۔ اس بنگلے میں وہ اندھیرا ہونے تک رہی تھی۔ اندھیرا ہوتے ہی چندن دروازہ کھول کر اندر آئی تھی۔ اس مرتبہ وہ اکیلی نہ تھی اس کے ساتھ کچھ منحوس شکلیں بھی تھیں اور یہ شکلیں ان سے مختلف تھیں جو اسے پجیرو میں ڈال کر یہاں تک لاۓ تھے۔
وہ دو تھے اور دونوں کے ہاتھوں میں کلاشنکوفیں تھیں۔ “ورشا بی بی….چلنا ہے۔” چندن نے اس کے قریب پہنچ کر آہستہ سے کہا۔
“یہاں سے کہاں جانا ہے؟‘‘ ورشا نے پوچھا۔
“میں نہیں جانتی. مجھے حکم ملا ہے کہ میں آپ کو جیپ میں لے آؤں۔” اس نے بتایا۔
’’اچھا چلو!‘‘ ورشا کھڑے ہوتے ہوۓ بولی۔
“ایک منٹ بی بی۔‘‘ چندن نے کہا۔
“اب کیا ہے؟” ورشا اسے دیکھتے ہوۓ بولی۔
“ذرا بیٹھ جائیں۔ آپ کی آنکھوں پر پٹی باندھنی ہے۔‘‘ اس نے وضاحت کی۔
“چندن کاش تم اس شخص کی عقل پر پٹی باندھ سکتیں جس نے مجھے اغوا کروا کے ایک قیامت کو دعوت دے دی ہے۔‘‘
“ایسی قیامتیں ہمارے راجہ سائیں نے بہت دیکھی ہیں۔” ان میں سے ایک نے کلاشنکوف سیدھی کی اور چندن سے مخاطب ہو کر بولا: ’’چل چندن جلدی کر باندھ پٹی لمبا سفر ہے۔”
ورشا نے ایک نظر اس شخص کو دیکھا سوچا کچھ پوچھے۔ پھر کچھ سوچ کر رہ گئی۔ چندن نے جلدی سے ورشا کی آنکھوں پر کالی پٹی باندھ دی اور اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
پچھلی سیٹ پر ورشا کے ساتھ چندن بیٹھ گئی اور پھر سفر شروع ہو گیا۔ رات کو تین چار بجے تک یہ لوگ اپنے ٹھکانے پر پہنچے۔ گاڑی بڑی سی حویلی کے بڑے سے گیٹ میں داخل ہو گئی اور اندر جا کر اس عمارت کے سامنے رکی۔ چندن نے ورشا کو گاڑی سے اتارا۔ ہاتھ پکڑ کر اسے مختلف راستوں سے گزارتی ہوئی بلآخر ایک کمرے میں داخل ہوئی اور دروازہ اندر سے بند کر کے ورشا کی آنکھوں سے پٹی کھول دی
پٹی کھلنے کے بعد ورشا نے آہستہ سے اپنی آنکھوں کو ملا آ نکھیں میچیں اور کھولیں۔ پھر کمرے پر ایک طائرانہ نظر ڈالتی ہوئی بولی ۔’’پوری رات سفر میں گزرگئی۔‘‘
“جی بي بي. ہم کراچی سے بہت دور نکل آۓ ہیں۔‘‘
“یہ کیا جگہ ہے؟‘‘ ورشا نے حسب معمول اپنی معلومات میں اضافہ چاہا۔
’’اس جگہ کا نام میں نہیں جانتی….. میں پہلی بار یہاں آئی ہوں۔” چندن نے دھیرے سے کہا۔
ورشا نے محسوس کیا کہ وہ سفید جھوٹ بول رہی ہے۔ وہ اس کی مجبوری سمجھتی تھی ۔ لہذا اس نے جگہ سے متعلق کوئی اور سوال نہ کیا۔
“بی بی آپ کچھ پیں گی۔‘‘
“ہاں چائے پیوں گی۔‘‘ ورشا نے انگڑائی لیتے ہوۓ کہا۔ ’’تھکن ہوگئی ہے۔“
“آپ چہرے پر چھینٹے مار لیں….. میں چاۓ لے کر آتی ہوں۔‘‘ اس نے مشورہ دیا۔
“ورشا نے باتھ روم میں جا کر اپنا چہرہ اچھی طرح دھویا۔ سامنے لگے آئینے میں اپنی شکل دیکھی۔ چہرے پر تھکن برس رہی تھی۔ یہ ایک مشکل اور دشوار گزار سفر تھا۔ آخری دس میل انتہائی تکلیف دہ تھے۔ راستہ اونچا نیچا اور کچا تھا۔ آنکھوں پر پٹی ہونے کی وجہ سے وہ بار بار چندن پر گر رہی تھی گاڑی کو خاصے جھٹکے لگ رہے تھے۔
دس منٹ میں چندن چاۓ لے آئی۔ چاۓ کے ساتھ کھانے کی کچھ اشیا بھی تھیں۔ چندن نے یہ بہت اچھا کیا تھا۔ اسے بھوک بھی لگ رہی تھی۔ اس نے چند بسکٹ لیے تھوڑا سا خشک میوہ چکھا اور چائے پی کر تازہ دم سی ہو گئی
“ورشا بی بی چار بجنے والے ہیں۔ اب آپ سو جائیں اور مجھے بتائیں کہ آپ کو کتنے بجے آ کر اٹھاؤں۔“
“ایک قیدی کو اپنی مرضی سے سونے کی اجازت ہے؟‘‘ ورشا نے مسکرا کر پو چھا۔
“آپ چاہیں تو پورا دن سو سکتی ہیں. آپ کو مکمل آزادی ہے. آنے والا تو رات کو آئے گا
’’اچھا‘‘ ورشا نے چندن کو گہری نظروں سے دیکھا۔ ’’تم اسے جانتی ہو۔“
“نہیں بی بی…. میں کسی کو نہیں جانتی۔‘‘ چندن نے پھر سفید جھوٹ بولا
“چندن تمہیں جھوٹ بولنا اچھا لگتا ہے؟‘‘ ورشا نے اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا۔
چندن نے اس کے سوال کا کوئی جواب نہ دیا۔ اس کے چہرے پر یکدم اداسی پھیل گئی۔ پھر وہ مری سی آواز میں بولی :
“ورشا بی بی میں کب آ کر اٹھاؤں۔“
“گیارہ بجے تک آ جانا ۔‘‘ ورشا نے اسے بتایا۔
“اچھا ٹھیک ہے بی بی“
“چندن سنو۔‘‘ جب وہ جانے لگی تو ورشا نے پیچھے سے آواز دی۔
چندن فورا رک گئی۔ اس نے پلٹ کر دیکھا۔’’جی بی بی‘‘
چندن میری ماں میرے لیے تڑپ رہی ہو گی تم ایک کام کر دو۔ میں تمہیں ایک فون نمبر دیتی ہوں۔ اس نمبر پر فون کر کے صرف اتنا بتا دو کہ میں خیریت سے ہوں۔‘‘ ورشا نے کہا۔۔
” کاش بي بي …. میں ایسا کرسکتی۔ بی بی یہ حویلی ہے۔ آپ حویلی میں ہیں اور میں اس حویلی کا تنکا ہوں۔ ایک تنکا فون تک کیسے پہنچے گا اس کا اندازہ آپ بخوبی کرسکتی ہیں۔” اس نے التجا آمیز لے میں جواب دیا۔
“اچھا یوں کرو میں چند لائنیں تمہیں لکھ کر دے دیتی ہوں تم یہ خط لفافے میں رکھ کر اس پر پتہ لکھ کر پوسٹ کر دینا یہ تو کرسکتی ہو؟” ورشا نے ایک اور راستہ بتایا۔
“ابھی جب میں یہاں سے باہر نکلوں گی تو میری اچھی طرح سے تلاشی لی جاۓ گی۔ بی بی پھر اگر آپ چاہتی ہیں کہ میں خط لے جانے کے جرم میں پیشانی پر گولی کھا کر ماری جاؤں تو لائیں دیں میں لے جاتی ہوں۔‘‘
چندن نے یہ بات کچھ اس انداز میں کہی کہ ورشا پھر اسے مزید کچھ نہ کہہ سکی۔
اس نے خاموشی سے گردن ہلا کر اسے جانے کی اجازت دے دی چندن بوجھل قدموں سے باہر نکل گئی اور اس نے باہر سے دروازہ بند کر کے تالا ڈال دیا۔ چندن کے جانے کے بعد ورشا کروٹ لے کر بیڈ پر لیٹ گئی۔ رات بھر کی جاگی ہوئی تھی۔ اس لیے آرام ملتے ہی اس کی آنکھوں میں نیند اترنے گی۔ وقت مقررہ پر چندن نے اسے آ کر اٹھا دیا۔ دوپہر کے کھانے کے بعد وہ پھر سو گئی۔ شام کو اٹھی۔ چندن نے چاۓ کی ٹرے مع لوازمات اس کے سامنے رکھی۔ اس نے صرف چاۓ پی۔ شام کو سات بجے کے قریب چندن پھر آئی۔ اس نے رات کے کھانے کے بارے میں پوچھا۔ ورشانے کوئی فرمائش نہ کی۔ ساڑھے آٹھ بجے کے قریب اسے کھانا پیش کیا گیا۔ نو بجے کے قریب جب ورشا کھانے اور چاۓ وغیرہ سے فارغ ہو گئی تو چندن نے ورشا سے کہا: ’بی بی آپ منہ ہاتھ دھو لیں میک اپ وغیرہ کر لیں کپڑے تبد یل کر لیں۔“
“یہ سب میں کیوں کروں؟ تم نے مجھے کیا سمجھ رکھا ہے؟‘‘ ورشا یکدم بپھر گئی۔
“بی بی مجھ پر غصہ نہ ہوں. میں نے آپ کو کچھ نہیں سمجھا۔ مجھے جیسے جیسے حکم ملتا جا رہا ہے میں آپ کو بتاتی جاتی ہوں۔ میں حکم کی غلام ہوں۔‘‘
“تمہیں جو کہا گیا وہ تم نے مجھے بتا دیا تمہارا کام ختم ہوگیا۔ بس اب تم جاؤ مجھے جو کرنا ہو گا کر لوں گی آ نے والے کو آنے دو۔ میں اسے اچھی طرح سمجھا دوں گی۔ اس نے مجھے کوئی معمولی لڑکی سمجھ لیا ہے۔ شاید وہ نہیں جانتا کہ میں اس پر کس طرح قیامت بن کر ٹوٹوں گی۔”
“بي بي . میں آپ کو ایک مرتبہ پھر سمجھاۓ دیتی ہوں۔ وہ بہت ظالم ہے۔ ایک لمحے ممیں ریوالور پیشانی پر رکھ کر گولی داغ دیتا ہے۔ کوئی ایسا کام مت کیجئے گا کہ آپ کی ممی زندگی بھر روتی رہیں۔” چندن نے بہت محبت سے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔ انہی محبت بھرے لفظوں میں دھمکی بھی چھپی تھی۔
“تم فکر مت کرو اس ظالم کو آنے دو میں اسے دیکھ لوں گی.” وہ دھمکی میں آنے والی نہ تھی۔
چندن کے جانے کے بعد وہ بیڈ سے اٹھی۔ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہو کر اس نے اپنا جائزہ لیا۔ بہت ہلکا سا میک اپ کیا۔ کئی ڈریس وارڈ روب میں موجود تھے۔ وہ ڈریس بھی تبدیل کرسکتی تھی۔ اس زرد ساڑھی کو پہنے چوبیس گھنٹے سے زائد ہو گئے تھے۔ مسلسل باندھنے سے ساڑی میں شکنیں پڑ گئی تھیں لیکن وہ اس ساڑھی کو تبد یل کرنا نہیں چاہتی تھی۔ لہذا اس نے ڈریس چھوڑ دیا۔ گلے میں ہلکا سا زیور پہن لیا اور پھر پاؤں لٹکا کر بیڈ پر بیٹھ گئی۔ اس کی نظریں بند دروازے پر تھیں اور وہ اس شخص کا بے چینی سے انتظار کر رہی تھی جس نے یہ سارا کھیل رچایا تھا۔ بالآ خر اس کا انتظار ختم ہوا۔
چند لمحوں کے بعد دروازہ کھلا اور ایک نو جوان بڑی تیزی سے اندر داخل ہوا اور پھر اس نے ایک جھٹکے سے دروازہ بند کر دیا۔ دروازہ ایک زور دار آواز کے ساتھ بند ہوا۔
پھر وہ ایک خاص اسٹائل سے چلتا ورشا کی طرف بڑھا اور اس سے چند قدم کے فاصلے پر رک گیا۔
وہ سفید قمیص شلوار میں تھا۔ گہرے نیلے رنگ کی کوٹی پہن رکھی تھی۔ سانولا رنگ، گھنے سیاہ بال، بھاری مونچھیں جو نیچے کولٹکی ہوئی تھیں۔ بڑی بڑی نشیلی آنکھیں، چوڑی پیشانی، اونچاقد
ورشا نے اسے اندر آتے ہوۓ بڑی دلچسپی سے دیکھا۔ اسے وہ نوجوان کچھ جانا پہچانا سا لگا لیکن وہ اسے پہچان نہ پائی لیکن اس کی چال ڈھال اور انٹری سے اندازہ لگا لیا کہ کوئی چھوٹے دماغ م کا بگڑا ہوا رئیس ہے۔
اس طرح کے لوگ اس نے بہت دیکھے تھے۔ دن رات اس کی ممی کے گرد اسی طرح کے لوگوں کا جمگھٹا رہتا تھا۔ وہ اس سے کیا خوفزدہ ہوتی۔ · “مجھے پہچانا۔” اس کے لہجے میں تکبر تھا۔
“ہاں ایسا لگا جیسے میں کسی فلم کے سیٹ پر دلہن بنی بیٹھی اپنے شوہر کا انتظار کر رہی ہوں کہ درمیان میں کوئی اور شخص کمرے میں داخل ہو جا تا ہے۔ میرا جی چاہا کہ آپ کے اندر داخل ہونے کے بعد کٹ کہوں اور شاٹ او کے ہونے کی نوید سنا کر آپ کی انٹری پر داد دوں۔ سائیں آپ تو پکے دلہا لگتے ہو۔“ ورشانے کچھ اس انداز سے یہ بات کہی کہ وہ قہقہ لگاۓ بنا نہ رہ سکا۔
“بہت خوب….. آپ یہی سمجھو کہ کسی فلم کے سیٹ پر ہو۔ آج ایسی ادا کاری کرو کہ دل خوش ہو جائے۔ شاید تم نے مجھے پہچانا نہیں۔”
“کچھ پہچان گئی ہوں۔ کچھ اور پہچان جاؤں گی۔ کچھ اور کھل جائیں گے دوچار ملاقاتوں میں‘‘ وہ ہنسی۔
“واہ تم آرٹ کا شاہکار تو ہو ہی با تیں بھی خوب کرتی ہو۔‘‘ وہ خوش ہو کر بولا۔
“سائیں! آپ نے یہ ظلم مجھ پر کیوں کیا؟ کیا تاوان کے لیے۔“
“ظاہر ہے۔‘‘ وہ ایک کرسی اٹھا کر بیڈ کے نزدیک بیٹھ گیا۔’’ہماری واردات کا طریقہ ذرا مختلف ہے ہم تاوان اس کے گھر والوں سے وصول نہیں کرتے جس کو اٹھاتے ہیں تاوان اسی سے وصول کرتے ہیں۔
“اچھا جی“ ورشا نے مسکرا کر کہا۔ ’’مجھ پر یہ عنایت کس لیے‘‘ اس کے لہجے میں طنز تھا
“ہم نے تمہیں دیکھا، تمہیں چاہا اور پالیا۔” اس نے دونوں ہاتھ اٹھا کر ڈرامہ بولا۔
“سائیں اس جملے میں تھوڑی سی ترمیم کر لیں۔ ابھی آپ نے مجھے دیکھا ہے۔ مان لیتی ہوں چاہا بھی ہو گا لیکن ابھی پایا نہیں ہے۔” یہ کہہ کر وہ ایک خاص انداز میں مسکرائی۔
“پانے میں دو قدم کا فاصلہ ہے۔‘‘
“کبھی دو قدم کا فاصلہ… صدیوں کا فاصلہ بن جاتا ہے…” اس کے لہجے میں بڑا یقین تھا۔
“تم نہیں جانتیں کہ وقت ہماری مٹھی میں ہے۔ زمین ہمارے قدموں تلے اور آسمان ہماری گرفت میں ہے۔
“بڑے ولوے ہیں صاحب ۔‘‘ وہ ہنسی ۔
“لگتا ہے کچھ زیادہ چڑ ھا گئے ہیں۔“
“ورشا۔۔۔تم خود ایک نشہ ہو….تم”
“بس بس .. میرے بارے میں کوئی عامیانہ سا جملہ نہ کہنا۔‘‘ اس نے اسے فورا روک دیا
“چلو نہیں کہتا۔ کیا تم جانتی ہو کہ میں نے تمہیں پہلی بار کہاں دیکھا؟‘‘ اس نے بات کا رخ بدلا۔
“نہیں جانتی۔‘‘ ورشا نے اس کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔ میں نے تمہیں پہلی بار طاہرہ زیدی کے ساتھ دیکھا تھا. اس کی تصویروں کی نمائش میں۔ اس نے بتایا۔
ایک دم ورشا کے ذہن میں جھماکا ہوا وہ اسے فور یاد آگیا۔
“اچھا تو تم ہو وہ”
“وه کون؟‘‘ اس نے حیران ہو کر پو تھا۔
“جس نے طاہرہ زیدی کی ایک شاہکار پینٹنگ کا ستیاناس مار دیا تھا۔ وہ تم تھے جس نے گولی چلا کر اس کی پینٹنگ میں سوراخ کر دیا تھا۔ سائیں آپ تو بڑے بد ذوق آ دمی ہیں۔”
“یہ مت بھولو کہ میں نے تمہیں پسند کیا ہے کیا تمہیں پسند کرنے والا کوئی بدذوق ہوسکتا ہے”
“ہر گز نہیں. لیکن اس کی نیت میں فوتو ہو سکتا ہے۔” ورشا نے اسے ترچھی نظروں سے
دیکھا۔ ”اچھا خیر پھر ہوا کیا ؟ اس شام تو آپ مجھ تک نہیں پہنچے۔“
”بھئی اس شام یہ ہوا کہ جب میں نے آپ کو طاہرہ زیدی کے ساتھ کھڑا ہوا دیکھا تو میں ساری تصویروں کو بھول گیا۔ سوچا کہ اس آرٹ کے شاہکار کو حاصل کرلوں جب میں طاہرہ زیدی کے پاس پہنچا تو تم وہاں نہیں تھیں۔ میں بالکل اس کے سامنے پہنچ چکا تھا۔ تمہیں نہ پا کر میرا دماغ بھنا گیا۔ طاہرہ زیدی اس وقت مجھ سے مخاطب ہو چکی تھی۔ میں نے اس سے ایسے ہی تصویر خریدنے کی بات کردی۔ بات بڑھ گئی۔ مجھے غصہ آ گیا۔ بس پھر ایک بار مجھے غصہ آ جاۓ تو میرے ہاتھ سے گولی ضرور چل جاتی ہے اور اس کی پیشانی ضرور داغدار ہو جاتی ہے۔” یہ بات کہتے کہتے اس کی آنکھوں میں درندگی عود کر آئی۔
“ہاۓ !‘‘ اس نے فورا اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیے۔
“سائیں مجھے ڈرائیں نہیں۔” یہ کہہ کر اس نے فورا اپنے دونوں پاؤں اٹھا کر بیڈ پر رکھ لیئے وہ ایک دم گھوم گئی تھی۔ اب اس کی طرف ورشا کی پیٹھ تھی۔
ورشا ویسے ہی کسی قیامت سے کم نہ تھی۔ وہ یونہی اچھے اچھوں کے ہوش اڑا دیتی تھی۔ اس وقت تو اس کی پیٹھ پر ساڑھی کا پلو بھی نہ تھا۔ چھوٹا سا بلاؤز نیم عریاں پیٹھ. وہ تو پاگل ہو اٹھا۔
“سائیں آپ کا نام کیا ہے؟‘‘ وہ پیٹھ موڑے موڑے بولی۔ اس کی آواز میں ہیجان تھا۔
وه محو نظارہ تھا۔ ایک دم چونکا اور بولا ۔ “میرا نام اختر شاہ ہے۔”
کرسی پر مزید بیٹھے رہنا۔ اب اختر شاہ کے بس سے باہر تھا۔ وہ بے قرار ہو کر اٹھا۔ ورشا بھی چاہتی تھی کہ وہ اٹھ کر اس کے نزدیک آۓ۔ وہ زیرلب کوئی منتر پڑھ رہی تھی اور ساتھ ہی کہتی جاتی تھی
“اعور مدد……اعور آ…”
اختر شاہ بالکل اس کے پیچھے کھڑا ہو گیا اور اس کے بے چین ہاتھوں نے وہ کر دیا جس بات کی وہ منتظر تھی ۔ بلاؤز کھلتے ہی اختر شاہ کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں۔ ایک خوفناک بچھو اس کی پیٹھ پر حرکت میں تھا۔ وہ اس نظارے کی تاب نہ لا سکا۔ پلٹ کر دروازے کی طرف بھاگا۔ اس نے دھاڑ دهاڑ دروازہ کھٹکھٹایا۔ دروازہ بلا تاخیر کھل گیا۔ ورشا نے اپنا بلاؤز درست کر کے پلٹ کر دروازے کی طرف دیکھا تو وہ اسے تیزی سے نکلتا ہوا نظر آیا۔ فورا دروازہ بند ہو گیا۔ ورشا نے اس کی اس حالت پر ایک زور دارقہقہا لگایا۔ “چھوٹے دماغ کا آیا تھا مجھے پانے…..”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: