Anwar Aleegi Urdu Novels

Bichoo Novel By Anwar Aligi – Episode 16

Bichoo Novel By Anwar Aligi
Written by Peerzada M Mohin
 بچھو از انوار علیگی – قسط نمبر 16

–**–**–

تھوڑی دیر کے بعد دروازہ کھلا۔ وہ دونوں اندر داخل ہوئے۔ اسے دیکھ کر ایک دم پریشان ہو گئے۔ وہ قالین پر بیٹھا ہوا تھا وہ اپنے ہوش و حواس میں تھا۔ کالی چادر قبر پر سے اتری ہوئی تھی۔
واسم نے سوناں کو اور سوناں نے واسم کو سہمی ہوئی نظروں سے دیکھا۔ برکھا نے کہا کہ کوئی غلطی نہ ہو لیکن غلطی ہو گئی تھی۔ وہ شیشی جس میں سرخ پانی تھا وہ ڈیش بورڈ میں رکھی رہ گئی تھی۔
“سوناں آؤ۔‘‘ واسم نے اس کا ہاتھ پکڑ کر گھسیٹا۔
وہ دونوں تیزی سے باہر نکل گئے اور دروازہ پھر سے بند ہو گیا۔ ان دونوں کو دیکھ کر ساحل عمر کو یہ اندازہ تو ہو گیا کہ وہ کن لوگوں میں ہے لیکن یہ اندازہ نہ کر پایا کہ وہ کس جگہ پر ہے۔ اس کمرے میں ایک قبر ہے۔ یہ کس کی قبر ہے؟
قبر پر جو پتھر نصب تھا اس پر صاحب قبر کا نام چترو بھیل لکھا تھا۔ اس شخص کا پانچ سال پہلے انتقال ہوا تھا۔ پتہ نہیں یہ کون شخص تھا اور اسے بے ہوش کر کے اس کی قبر پر کس مقصد کے لیے لٹایا گیا۔ اس کام کے پیچھے کوئی نیک مقصد تو ہو نہیں سکتا تھا۔
ساحل عمر ابھی اس طرح کی با تیں سوچ رہا تھا کہ دروازے پر کھڑ کھڑاہٹ ہوئی چند لمحوں بعد پھر دروازہ کھلا۔ درواشے پرسوناں نظرآئی۔ اس کے ہاتھ میں ٹرے تھی جس میں چاۓ اور کچھ کھانے پینے کا سامان نظر آ رہا تھا۔ سوناں چپل اتار کر اندر آئی۔ اس نے خاموشی سے ساحل عمر کے سامنے ٹرے رکھ دی۔
ساحل عمر کو بہت زور کی بھوک لگی تھی۔ سامنے ناشتے کا بھر پور سامان موجود تھا۔ وہ سوناں سے بغیر کوئی بات کیے ناشتے میں مصروف ہو گیا
سوناں نے کالی چادر جو قالین پر پڑی تھی دوبارہ قبر پر ڈال دی اور دو زانو ہو کر اس کے سامنے بیٹھ گئی۔ ناشتہ کرتے کرتے جب ساحل عمر نے سوناں کی طرف دیکھا تو اس نے اسے آنکھیں موندے کچھ پڑھتے ہوئے پایا۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ سر پر رکھے ہوۓ تھے اور وہ بہت تیزی سے کچھ پڑھ رہی
ساحل عمر اسے دیکھتا رہا اور ناشتہ کرتا رہا۔ سرخ پانی کی دو بوندیں چاۓ میں اس طرح شیروشکر ہوئی تھیں کہ یہ احساس ہی نہیں ہوا کہ چائے میں کچھ ملایا گیا ہے لیکن یہ دو بوندیں اس قدر تیز تھیں کہ چائے کا کپ خالی ہوتے ہوتے اس کے دماغ میں غبار چھانے لگا ۔غنودگی سے آنکھیں بند ہونے لگیں۔
کچھ دیر کے بعد اس نے ایک زور دار جمائی لی اور پھر قالین پر لڑھکتا چلا گیا۔
اسے لڑھکتا دیکھ کر سوناں فورا اٹھی۔ اس نے ٹرے اٹھائی اور دروازے سے باہر نکل گئی۔ کچھ دیر کے بعد واسم اور سوناں دونوں کمرے میں داخل ہوئے۔ دونوں نے مل کر اسے پھر قبر پر لٹایا۔ اس کے ہاتھ پاؤں ہلا کر دیکھے۔ وہ بے جان ہو چکے تھے۔ ساحل عمر اب ہوش و حواس سے بےگانہ ہو چکا تھا۔ ساحل عمر کی طرف سے اس نے جیب سے موبائل فون نکالا ۔ گھڑی پر نظر ڈال کر اس نے برکھا کا نمبر ڈائل کیا اور ادھر سے ریسیور اٹھاۓ جانے کا انتظار کرنے گا۔ “کون ؟‘‘ ادھر سے برکھا کی آواز سنائی دی۔
“برکھا جی.” واسم بول رہا ہوں۔
“ہاں واسم ادھر سب خیر ہے۔ جو بتایا تھا اس پر عمل ہورہا ہے؟‘‘ بر کھا نے پوچھا۔
“ہاں برکھا جی. آپ کے حکم کے مطابق حرف بہ حرف عمل ہو رہا ہے۔” واسم نے بڑے یقین سے جھوٹ بولا۔
“اس وقت کہاں ہے وہ؟‘‘ پو چھا گیا۔
“استھان پر لیٹا ہے۔‘‘ جواب دیا گیا۔
“لیٹا نہیں لیٹے کو۔۔۔تم داس ہو اس کے. کیا تم نہیں جانتے کہ اس کا مقام کیا ہے؟” برکھا کی آواز کرخت ہوگئی ۔
“برکھا جی غلطی ہوئی۔ آیندہ ایسا نہ ہوگا‘‘ واسم نے فورا معافی مانگ لی۔
”سوناں کہاں ہے؟‘‘
“وہ یہیں ہے؟‘‘
“اسے فون دو۔” برکھا نے حکم دیا۔
“جی اچھا۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے موبائل سوناں کے ہاتھ میں دے دیا۔ موبائل سنبھال کر وہ بڑے مودبانہ لہجے میں بولی۔
“جی برکھا جی…”
“تیرا پاٹھ جاری ہے؟‘‘
“جی برکھا جی. پاٹھ جاری ہے۔‘‘ اس نے فورا کہا۔
“چترو بھیل نظر آیا۔‘‘ برکھا نے پوچھا۔
“ابھی نہیں۔“ سوناں نے جواب دیا۔
“برکھا جی آپ کب آرہی ہیں۔”
“میں اب تک وہاں پہنچ جاتی مگر ادھر ایک گڑ بڑ ہوگئی ہے.کسی نے ورشا کو اغوا کرلیا”
“ارے. یہ کس کی کم بختی آئی جو ہماری را جکماری کو اٹھا لیا۔ آپ کہیں تو واسم کو ادھر بھیج دوں”
سوناں نے واسم کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔
“نہیں اس کو وہیں رہنے دو.۔ میں دیکھ رہی ہوں جب اس کی ضرورت ہوئی بلالوں کی‘‘ برکھا نے کہا۔ “دیکھو ایک بات کا خیال رکھنا فارم کا کوئی ملازم کاٹیج میں داخل نہ ہو۔“
“آپ بے فکر رہیں پر کھا جی‘‘ سوناں نے اسے یقین دلایا۔
پھر جیسے ہی اس کی نظر قبر پڑی تو وہ خوفزدہ ہو کر چیخی ۔’’ارے یہ کیا ہو رہا ہے؟‘‘
سوناں کی یہ بات سن کر برکھا پریشان ہو گئی۔ اس نے ادھر سے پرتشویش لیجے میں پوچھا۔ “سوناں کیا ہوا”
موبائل فون سوناں کے کان سے لگا ہوا تھا اور آنکھیں قبر پر جمی ہوئی تھیں۔ سامنے جو ہو رہا تھا اس نے زبان گنگ اور کان بہرے کر دیئے تھے۔ وہ سن رہی تھی لیکن سمجھ نہیں رہی تھی۔ بولنا چاہ رہی تھی لیکن زبان ساتھ نہیں دے رہی تھی۔
تب برکھا بہت غصے سے چینی ۔’’کتیا کی بچی بولتی کیوں نہیں؟‘‘
“برکھا جی….بتاتی ہوں….بتاتی ہوں۔‘‘ وہ بہ مشکل بولی۔
“فون واسم کو دے۔‘‘ برکھا نے حکم دیا۔
سوناں نے فون فورا واسم کی طرف بڑھا دیا۔ وہ خود پریشان ہو گیا تھا۔ وہ قبر کو بغور دیکھ رہا تھا۔ وہ سمجھا برکھا نے فون بند کر دیا ہے لہذا سوناں نے اسے موبائل فون واپس کر دیا ہے کہ وہ جیب میں ڈال لے ۔ واسم نے فون آف کر کے جیب میں ڈال لیا۔ اس کی نظریں قبر پر جمی ہوئی تھیں۔
جو کچھ ہوا تھا آنا فانا ہوا تھا۔ بس چند لمحوں میں کھیل مکمل ہو گیا تھا۔ قبراچانک دوحصوں میں تقسیم ہوئی تھی اور ساحل عمر جو قبر پر لیٹا ہوا تھا مع چادر اندر چلا گیا تھا اور وہ پھر قبر اپنی جگہ آ گئی تھی۔
وہ دونوں گم صم حیران پریشان اس قبر کو دیکھ رہے تھے جو ساحل عمر کو نگل گئی تھی۔اب یہ احساس ہی نہ رہا تھا کہ چند لمحے قبل یہ قبر شق ہوئی تھی۔
فون بند ہونے پر برکھا کو غصہ آیا۔ اس نے جلدی جلدی دوبارہ ڈائل کیا۔ رنگ ہونے پر وام نے جلدی سے موبائل فون جیب سے باہر نکالا اور کان سے لگا کر بولا: “ہیلو”
“ہیلو کے بچے. تو نے فون کیسے بند کیا؟‘‘ برکھا دھاڑی۔
“برکھا جی. مجھے سوناں نے فون دیا تو میں سمجھا اس نے مجھے فون رکھنے کو دیا ہے۔” اس نے ڈرتے ڈرتے کہا۔
“تم دونوں پاگل ہو گئے ہو کیا؟ آخر ہوا کیا ہے؟‘‘
برکھا جی. استھان دوحصوں میں تقسیم ہوا اور ساحل صاحب اندر چلے گئے۔“
“یہ کیا بکواس کر رہا ہے تو؟‘‘
“میں سچ کہہ رہا ہوں برکھا جی.” بے شک آپ سوناں سے بات کرلیں۔
“سوناں بر کھاجی سے بات کرو۔‘‘ واسم نے موبائل فون اس کی طرف بڑھاتے ہوۓ کہا۔
’’ہیلو!‘‘ سوناں نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا۔
”سوناں. یہ کیا بکواس کر رہا ہے؟‘‘
“ایسا ہی ہوا ہے برکھا جی. استان نے ساحل جی کو نگل لیا۔ چترو بھیل لے گیا انہیں۔” سوناں نے مزید وضاحت کی۔
“میں دیکھ لوں گی اس نٹ کی اولاد کو یہ سب میری غیر موجودگی کی وجہ سے ہوا ہے۔ میں وہاں ہوتی تو وہ ایسی جرات نہ کر پاتا۔ میں ادھر ورشا کی وجہ سے پھنس گئی۔ میں نمٹ لوں گی اس سے۔ تم لوگ وہیں رہو۔ سوناں تو نے استھان ایک منٹ کو خالی نہیں چھوڑ نا ہے تو سمجھ گئی ہے ناں؟”
’’جی برکھا جی۔” وہ سہم کر بولی۔
’’اور سن. میں تجھے کچھ پاٹھ بتاتی ہوں۔ وہ وہاں بیٹھ کر پڑھ۔ مجھے جیسے ہی ورشا کے بارے میں کچھ معلوم ہوا تو اس معاملے سے نمٹ کر میں فورا وہاں پہنچ جاؤں گی ۔ ٹھیک ہے سوناں۔ دیکھ ذرا ہوشیاری سے رہنا۔ بس تو استھان سے ضرورت کے وقت نکلے گی۔ تیرا کھانا پینا وہیں ہوگا۔ وام تیرے کھانے پینے کا بندوبست کرے گا۔” یہ کہہ کر برکھا نے فون بند کر دیا اور ایک گہرا سانس لیا۔
وہ خاصی پریشان ہوگئی تھی۔ ہر طرف سے اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑ رہا تھا۔
ورشا کو اس نے ایک خاص مشن پر بھیجا تھا۔ ورشا وہاں وقت پر نہ پہنچ سکی جس کی وجہ سے برکھا کی ایک بڑے آدمی کے ساتھ ناراضگی ہوگئی۔ چلو ناراضگی تو کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہ تھا وہ کسی اور موقع پر اس بڑی شخصیت کو منا لے گی۔ مسئلہ ورشا تھی۔ جانے وہ کہاں غائب ہوگئی۔ جانے اس پر کیا بیتی۔
ابھی وہ ورشا کے غائب ہونے کا معمہ حل نہ کر پائی تھی کہ وہ شکاری ناصر مرزا گھر میں کودا۔ اس نے اسے سزا دینا چاہی تو وہ صاف بچ نکلا۔ برکھا کو اپنے وار کی ناکامی پر بڑی حیرت ہوئی۔ وہ شاید کہیں سے کچھ سبق پڑھ کر آ گیا تھا۔ خیر اس سے وہ اچھی طرح نمٹ لے گی۔
اس کا اصل مشن تو ساحل عمر تھا۔ اس کی زندگی کا حاصل جسے اس نے بڑی مشکل سے تلاش کیا تھا اور ایک لمبے عرصے سے اس کے پیچھے لگی تھی ۔اب جبکہ کامیابی نزد یک تھی وہ اس کی بلی دے کر’’مانا‘‘ کو حاصل کرسکتی تھی اور مانا کے ذریعے کتاب سحر ’’ربطول‘‘ تک رسائی ممکن تھی کہ درمیان میں یہ حادثہ پیش آ گیا۔
چترو بھیل آخر رہا جنگلی کا جنگی۔ یہ ٹھیک ہے کہ وہ صحرا کا بڑا جادوگر تھا اور اس کا استھان ساحل عمر کی بلی کے لیے ایک سیڑھی تھا لیکن معلوم ہوتا ہے کہ چترو بھیل کی ساحل عمرکو دیکھ کر خود نیت خراب ہوگئی۔ سوال یہ ہے کہ اسے دنیا سے اٹھے ہوۓ پانچ سال ہو چکے ہیں۔ ساحل عمر سے اب ! کیا فائدہ حاصل کرسکتا ہے۔ وہ اسے کیوں لے گیا؟‘‘
وہ سوچتی رہی اور اپنی ناکامیوں پر پریشان ہوتی رہی۔ بالآخر اس کا دماغ سن ہو گیا۔ اس نے پوری رات جاگ کر گزاری تھی۔ اس کی آنکھوں میں نیند اتر نے لگی۔ تھوڑی دیر میں وہ سو گئی۔
وہ جانے کب تک سوتی رہتی کہ کسی نے گیٹ پر لگی کال بیل کا بٹن دبایا۔ وہ ہڑ بڑا کر بیٹھی۔ اس نے دیوار پر لگی گھڑی پر نظر ڈالی۔ وہ کئی گھنٹے سو چکی تھی۔ وہ تیزی سے اٹھ کر گیٹ کی طرف بیل ایک مخصوص انداز میں بجائی جا رہی تھی اور یہ وہ انداز تھا جس سے برکھا کے دل کی دھڑ کن تیز تر ہوتی جا رہی تھی۔
گیٹ پر پہنچنے سے پہلے پرکھا نے زور سے آواز لگائی۔ “آرہی ہوں۔“
پھر گیٹ کھولنے سے پہلے اس نے گیٹ کے درمیان سے جھانک کر دیکھا۔ وہ سامنے نا
کھڑی تھی۔ برکھا نے بڑی بے قراری سے گیٹ کھولا۔
گیٹ کھلتے ہی وہ اندر آ گئی اور اس سے لپٹ گئی۔ وہ ورشا تھی۔
’’اوہ میری جان…..تو کہاں چلی گئی تھی‘‘ برکھا نے اسے اپنی بانہوں میں سمیٹ لیا۔
”مائی سویٹ ممی.۔۔‘‘ یہ کہہ کر وہ آ ہستگی سے الگ ہوگئی جبکہ بر کھا چاہتی تھی کہ وہ اس کے سینے سے لگی رہے تاکہ وہ اسے بھینچ بھینچ کر پیار کر سکے مگر برکھا کے جسم سے اٹھتی بدبو نے اسے مجبور کردیا کہ وہ فورا اس کے سینے سے الگ ہو جاۓ ۔
بر کھا نے جلدی سے گیٹ بند کیا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر بڑے پیار سے دیکھتی ہوئی اپنے بیڈ روم میں لے آئی۔ راستے میں اس نے اس سے کوئی بات نہ کی۔
ورشا انہی کپڑوں میں تھی جن میں گھر سے نکلی تھی لیکن ان کپڑوں کی حالت تباہ ہو رہی تھی۔ بکھا نے اسے فورا بیڈ پرلٹا دیا اور نرم ملائم تکیئے اس کے سر کے نیچے رکھ دیئے اور ورشا کا حسین ہاتھ پکڑ کر اسے پیار بھری نظروں سے دیکھنے لگی۔
“کیا دیکھ رہی ہو ممی؟‘‘ ورشا نے پوچھا۔
”تجھے دیکھ رہی ہوں میری جان… تو خیریت سے تو ہے ناں!‘‘
“ہاں ممی میں خیریت سے ہوں بس ذرا تھک گئی ہوں. لمبا سفر کر کے آئی ہوں”
“ہوا کیا تھا؟‘‘
“مجھے اغوا کیا گیا تھا۔“
“کون تھے وہ لوگ؟‘‘ پر کھا نے غصے سے کہا۔
“ممی تھے نہیں…تھا…اغوا تو مجھے خیر کئی بندوں نے کیا تھالیکن اغوا کروانے والا ایک تھا.”
“کون ہے وہ کتے کا بچہ… میں اس کی سات پشتوں کوجلا کر راکھ کر دوں گی۔” وہ طیش میں آگئی۔
“ممی اختر شاہ….تم اسے ضرور جانتی ہوگی۔‘‘
“اختر شاه…” برکھا نے اپنی یادداشت کو کھنگالا۔
“ارے وہ فیروز شاہ کا بیٹا تو نہیں۔”
“جی ممی… وہی‘‘ ورشا نے بتایا۔
“باپ کے مرنے کے بعد اب وہ بالکل ہی بے لگام ہو گیا معلوم ہوتا ہے۔ اپنی زندگی میں بھی فیروزشاہ اس کی آ وار گیوں پر نالاں رہتے تھے۔ اچھا تو یہ حرکت اس کی تھی۔ کیا چاہتا تھا وہ؟‘‘
“ایک آوارہ نوجوان جس کے پاس بے پناہ دولت ہو کیا چاہ سکتا ہے؟‘‘ ورشا نے سوال میں جواب دیا۔
“لیکن اس نے تجھے دیکھا کہاں؟” برکھا حیرت زدہ تھی۔
“میرا فیروز شاہ کے پاس آنا جانا تھا لیکن میں نے آج تک اختر شاہ کو نہیں دیکھا تھا۔ اس نے تجھے کیسے دیکھ لیا۔”
“اس نے مجھے ایک پینٹنگ کی نمائش میں دیکھا تھا۔ اسی نمائش میں جہاں ساحل عمر سے۔میری پہلی ملاقات ہوئی تھی۔‘‘ ورشا نے بتایا۔
“وہ جاہل پینٹنگ کی نمائش میں کہاں آ پہنچا۔”
” پتہ نہیں ممی. ویسے وہ ہے بہت وحشی…ایک لمحے میں بندے کی پیشانی پر ریوالور رکھ کر سے ختم کر دیتا ہے اس کے لوگوں میں اسکی بڑی دہشت ہے وہاں ایک چندن نام کی عورت بھی تھی اس کو جب معلوم ہوا کہ میں آپ کی بیٹی ہوں تو اس نے میرا بہت خیال رکھا لیکن وہاں سے نکالنے میں وہ میری کوئی مدد نہ کرسکی۔ وہ اختر شاہ کے نام سے کانپتی تھی“۔
”چندن وہ گوری سی چھوٹے قد کی عورت تو نہیں۔” برکھا نے پہچان بتائی۔
“جی وہی۔‘‘ ورشا نے تصدیق کی۔ وہ فیروز شاہ کی خاص خادمہ تھی مجھ سے اس نے اپنے شوہر کے لیے ایک پڑیا لی تھی۔”
’’ہاں وہ بتا رہی تھی۔‘‘ ورشا نے کہا۔ پھر مسکرا کر بولی: “ممی یہ اختر شاہ تو بہت ڈر پوک نکلا۔‘‘
’’کیا ہوا؟‘‘ برکھا نے حیران ہو کر اسے دیکھا۔
“میں نے پیٹھ موڑ کر جب اعور کی ایک جھلک دکھائی تو وہ اس بری طرح بھا گا کہ میں قہقہہ لگائے بنا نہ رہ سکی۔ ممی ایک اتنا نڈر شخص کہ ایک لمحے میں گولی مار کر بندے کو پرے پھینکوا دے اتنا بزدل بھی ہو سکتا ہے کہ پیٹھ پر حرکت کرتا ہوا بچھو دیکھے اور خوفزدہ ہو کر کمرے سے بھاگ جاۓ۔ نہ صرف بھاگ جائے بلکہ اپنے قیدی کو آزاد کرنے کا حکم بھی دے دے ۔‘‘ ورشا اس وقت کا تصور کرکے پرہنس پڑی۔
’’ہاں ایسا ہو سکتا ہے میری جان. دور کیوں جاؤں تمہارا باپ ایک انتہائی نڈر شخص تا لیکن کبھی ٹہلتے ہوۓ سڑک پر کوئی کتا دکھائی دے جا تا تو یقین کرو وہ میرے پیچھے ہو جاتا تھا۔ یہ کہہ کر وہ مسکرائی ۔
“میں ایک اور ایسے شخص کو جانتی ہوں کہ اگر اس کے سامنے کوئی شیر آ جاۓ تو وہ اس سے نہ ڈرے لیکن لال بیک کو دیکھ کر اس کی جان نکل جاتی تھی۔ اسے صوفے کے پیچھے سے نکالے کے لیے مجھے لال بیگ کو مارنا پڑتا۔“
“صوفے کے پیچھے سے نکالنے کے لیے؟‘‘ ورشا نے دہرایا۔ ’’میں سمجھی نہیں۔”
“لال بیگ کو دیکھ کر وہ صوفے کے پیچھے چھپ جاتا تھا۔‘‘ برکھا نے وضاحت کی۔
’’اچھا!‘‘ ورشا نے ہنستے ہوۓ کہا۔
’’ورشا تیرے یوں اچانک غائب ہو جانے کی وجہ سے میں بہت پریشان ہو گئی تھی۔ رات بھر میں نے جاگ کر گزاری ہے۔ بس اب تھوڑا سا سوئی تھی۔ اب تو یوں کر کہ نہا دھولے۔ کپڑے تبدیل کرلے۔ میں تیرے لیے چاۓ بناتی ہوں۔ چاۓ پی کر تم سو جانا ‘‘ برکھا نے اسے پیار بھری نظروں سے دیکھتے ہوۓ مشورہ دیا۔
”ٹھیک ہے ممی۔‘‘ ورشا نے بڑی فرماں برداری سے کہا اور واش روم کی طرف چلی گئی۔
دس پندرہ منٹ کے بعد جب شاور لے کر نکلی تو برکھا اس کے لیے چائے تیار کر چکی تھی۔ وہ ٹرے سجاۓ اس کی منتظر تھی۔ سرخ پانی کے دو قطرے اس نے ورشا کے خالی کپ میں ڈال دیئے جب وہ نہا دھو کر نکلی تو اس نے کپ میں چاۓ انڈیل دی۔ ورشا پاپڑ بہت شوق سے کھاتی تھی۔ دوسرے لوازمات کے ساتھ اس کے لیے چند پاپڑ بھی تل دیے تھے۔
چائے سے فراغت کے بعد ہی ورشا کو نیند نے آ گھیرا۔ اس نے منہ پھاڑ کر جمائی لی اور اٹھتے ہوۓ بولی۔’’اچھا می میں اپنے کمرے میں چلتی ہوں۔ مجھے نیند آ رہی ہے۔”
“ٹھیک ہے۔ تم سو جاؤ۔‘‘ برکھا نے کہا۔ ’’میں رات کا کھانا ہاٹ پاٹ میں تمہارے کمرے میں رکھ دوں گی۔ جب آنکھ کھلے کھا لینا۔ تم کچن میں جانے کھانا گرم کرنے کی الجھن سے بچ جاؤ گی”
“اچھا می۔” ورشا پر نیند طاری ہو رہی تھی اس لیے اس نے آدھی بات سنی۔ آ دھی نہیں سنی ور اپنے کمرے میں آ کر کسی شہتیر کی طرح بیڈ پر گری اور سو گئی۔
برکھا کچھ دیر کے بعد ورشا کے بیڈ روم میں داخل ہوئی۔ وہ بالکل بے خبر بکھری ہوئی بیڈ پر سو ری تھی۔ برکھا نے اپنے بیٹی کے چہرے پر نظر ڈالی۔ وہ کچھ دیر پہلے نہائی تھی اس لیے اس کے بال کھلے ہوئے تھے۔اس کے ریشم جیسے بال تکیے پر ڈھیر تھے۔ چہرے پر جوانی کی چمک تھی۔گھنیری پلکیں خوبصورت آنکھوں پر پہرہ دے رہی تھیں ۔ بھرے ہوۓ گلابی لب دو کلیوں کی طرح لپٹے ہوئے تھے۔ برکھا اسے کچھ دیر بڑے غور سے دیکھتی رہی۔ اچانک اسے اپنی جوانی یاد آ گئی۔ کبھی وہ بھی اتنی ہی حسین تھی یا شاید ورشا سے بھی دلکش. یہ حسن چلا کیوں جاتا ہے؟ جوانی ختم کیوں ہو جاتی ہے؟ جوانی آکر ٹھہر کیوں نہیں جاتی۔ اگر ایسا ہوتا کہ جوانی آ کر جانے کا نام نہ لیتی تو کس قدر اچھا ہوتا۔ وہ اس مسئلے پرتحقیق کرے گی۔ کوئی ایسا عمل ضرور ہوگا جس کے کرنے سے جوانی ٹھہر جاتی ہوگی یا گزری ہوئی جوانی کو واپس لایا جاسکتا ہو گا۔ اس کا شیطانی ذہن اس مسئلے کی طرف راغب ہو گیا تھا۔ پھر فورا ہی اسے ساحل عمر کا خیال آیا۔ ابھی تو ساحل عمر فوری مسئلہ تھا۔ وہ ہاتھ سے نکلا جا رہا تھا۔ پہلے اسے حاصل کرنا تھا۔ پھر اس کی بلی دے کر’’مانا‘‘ کا مالک بنا تھا۔ مانا کے مل جانے کے بعد اس سے مدد لی جاسکتی تھی۔ طویل عمر کے ساتھ مستقل جوانی کا راز معلوم کیا جاسکتا تھا۔ برکھا اصل میں ورشا کے کمرے میں یہ دیکھنے آئی تھی کہ وہ گہری نیند سو گئی یا نہیں۔ یہاں آ کر وہ اس کے چہرے میں کھو گئی اور کہاں سے کہاں بھٹک گئی۔ اسے گہری نیند میں دیکھ کر وہ واپس اپنے کمرے میں آ گئی۔ اپنے کمرے میں آ کر وہ ٹیلی فون ملانے لگی۔
“ہیلو” ادھر سے واسم نے کال ریسیو کی۔
“ہاں واسم کیا صورت حال ہے؟‘‘ برکھا نے واسم کی آواز پہچان کر سوال کیا۔
“ابھی تو کچھ پتہ نہیں چلا۔‘‘ واسم نے صورت حال بتائی۔
”سوناں کہاں ہے؟‘‘
“اندر استھان پر…..آپ کے حکم کے مطابق وہاں سے ہلی نہیں ہے۔”
“بہت اچھی بات ہے. ذرا اس کوفون دو‘‘
کچھ دیر فون پر خاموشی چھائی رہی پھر سوناں کی آواز سنائی دی۔’’جی برکھا جی”
“ہاں سوناں پاٹھ جاری ہے۔”
“برکھا جی پاٹھ تو جاری ہے لیکن وہ پکڑ میں نہیں آ رہا۔‘‘
“وہ جنگلی اتنی آسانی سے پکڑ میں نہیں آۓ گا۔ ٹھہر میں آتی ہوں۔ سوناں ایسا کرو واسم کو فورا میرے پاس بھیج دو۔‘‘ اس نے حکم دیا۔
“جی…اچھا۔‘‘سوناں نے فرماں برداری سے کہا۔
واسم اس کا حکم سنتے ہی فورا چل پڑا۔ جب وہ بنگلے پر پہنچا تو برکھا اس کا بے چینی سے انتظار کر رہی تھی۔ اس نے ورشا کے لیے کھانا رکھ دیا تھا اور اس کے کمرے کو باہر سے تالا لگا دیا تھا۔ وہ ورشا پر یہ ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی کہ وہ گھر میں نہیں ہے۔ گھر سے نکل کر اس نے بنگلے کے گیٹ پر بھی تالا لگا دیا اور واسم کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر فورا ہی ’’استھان‘‘ کی طرف چل دی۔
کوئی سوا بارہ کا عمل ہو گا کہ اچاتک ورشا کی آنکھ کھل گئی۔ کمرے میں گہرا اندھیرا تھا۔ اس نے اٹھ کر لائٹ جلائی۔ گھڑی میں وقت دیکھا تو آدھی رات گزرنے کا احساس ہوا۔ بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر ہاٹ پاٹ موجود تھا۔ اسے بڑی حیرت ہوئی کیونکہ برکھا کچن میں بالکل نہیں گھستی تھی۔ کچن کا زیادہ تر کام ورشا کو کرنا پڑتا تھا لیکن آج وہ اتنی مہربان ہوئی تھی کہ شام کو اس نے نہ صرف چاۓ مع لوازمات بنا کر پلائی تھی اور اب کھانا بھی تیار کر کے اس کے سرہانے رکھ دیا تھا کہ رات کو جب بھی اس کی آنکھ کھلے تو گرما گرم کھانا مل جاۓ۔ پھر ایک دم ہی ایک خیال اس کے دماغ میں آیا۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اسے کھانا دے کر کمرے میں بند کر دیا گیا ہو۔ وہ فورا دروازے کی طرف بڑھی۔ دروازہ کھول کر دیکھا تو وہ نہیں کھلا۔اس کا خیال درست نکلا آ ج پھر اس کی ممی کسی’’داردات‘‘ میں مصروف تھی۔
اسے بے اختیار ساحل عمر یاد آیا۔ ساحل عمر کے بارے میں برکھا نے صرف اتنا بتایا تھا کہ ساحل عمر بنگلے پر آیا تھا اور اس نے اسے واسم کے ساتھ کہیں بھیجا ہے۔ یہ بات بھی ورشا کو اس وقت بتائی گئی تھی جب ناصر اور مسعود اس کی تلاش میں بنگلے پر آ گئے تھے اور انہیں ٹالنے کے لیے برکھا نے اسے گیٹ پر بھیجا تھا۔ اس نے بیڈ پر بیٹھ کر فون اپنی گود میں رکھا اور ساحل عمر کے گھر کا نمبر ڈائل کرنے لگی۔ اس کی نظریں گھڑی پر تھیں۔ یہ وقت اگرچہ فون کرنے کا نہ تھا پھر بھی وہ فون کرنے بیٹھ گئی ۔اگر اس نے دوگھنٹیوں کے بعد فون اٹھا لیا تو ٹھیک ہے ورنہ بند کر دے گی۔
فون تو ادھر سے اٹھا لیا گیا لیکن یہ آواز ساحل عمر کی نہ تھی۔ اماں ” ہیلو ہیلو” کرتی رہ گئیں۔
ورشا نے خاموشی سے فون بند کر دیا۔ اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ فون اماں نے کیوں اٹھایا کیا ساحل عمر گھر پر نہیں ہے یا اتنی جلدی سو گیا ہے۔
وہ سویا کہاں تھا اسے تو سلا دیا گیا تھا اور کوشش یہ تھی کہ وہ سوتا ہی رہے۔ اسے سرخ پانی کے قطرے مسلسل دیے جا رہے تھے۔ بیچ میں ذرا وقفہ آیا تو وہ جاگ گیا تھا اور ہوش آنے پر اس نے خود کو کسی قبر پر لیٹا پایا تھا۔ ابھی وہ حالات کا جائزہ ہی لے رہا تھا اور معاملات کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ پھر سے اس پر نیند کا غلبہ ہو گیا تھا۔
اس مرتبہ جو اس کی آنکھ کھلی تو اس نے خود کو ریت پر لیٹا ہوا پایا۔ شام کا وقت تھا۔ سورج آگ کا گولا بنا زمین کے اوپر جھک رہا تھا۔ ساحل عمر کے پیروں کی طرف کوئی بیٹا تھا۔ وہ جو بھی تھا اپنامنہ گھٹنے میں دہاۓ بیٹھا تھا۔ اس کا سر گنجا تھا۔ وہ گیروے رنگ کے کپڑے پہنے ہوۓ تھا۔ اس کے کندھے پر گیروے رنگ کی ہی چادر پڑی تھی۔ ابھی ساحل عمر اس بیٹھے ہوئے شخص کو حیرت سے دیکھ رہا تھا کہ اس نے اچانک اپنا سر گھٹنوں کے درمیان سے نکالا اور گردن موڑ کر ساحل عمر کی طرف دیکھا
وہ ایک لمبے چہرے کا کرخت صورت شخص تھا۔ وہ کلین شیو تھا حتی کہ اس کی بھنویں تک صاف تھیں۔ اس کے چہرے میں جو سب سے زیادہ نمایاں چیز تھی وہ اس کی آنکھیں تھیں۔ انتہائی بڑی ار بالکل گول اس کی آنکھیں دیکھ کر الو کی آ نکھیں یاد آتی تھیں۔
وہ اسے دیکھ کر فورا کھڑا ہو گیا۔ اس نے کندھے پر پڑی چادر کو اپنے سر پر صافے کی طرح باندھا اور ساحل عمر کو ایک انگلی سے اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کیا اور یہ دیکھے بغیر کہ ساحل عمر اس کے پیچھے چل پڑا ہے یا نہیں وہ ایک طرف چل دیا۔
ساحل عمر فورا اٹھا اور یہ سوچے بغیر کہ اس کے ساتھ جانا چاہیے یا نہیں وہ کسی معمول کی طرح اس کے پیچھے چل دیا۔ وہ دونوں آگے پیچھے چلتے رہے۔ وہ لمبے چہرے والا وقفے وقفے سے ساحل عمر کو مڑ کر دیکھ لیتا تھا۔ اس کے دیکھنے کے عمل میں جانے کیا بات تھی کہ ساحل عمر کے جسم میں سنسنی پھیل جاتی تھی۔ پھر وہ مزید تیز تیز اس کے پیچھے چلنے لگتا تھا۔
سورج چھپنے تک وہ میدانی علاقے سے جنگل میں داخل ہو گئے۔ جنگل میں گھستے ہی اندھیرا گہرا ہو گیا۔ تب وہ شخص رکا۔ ساحل عمر دس پندرہ قدم پیچھے تھا۔ ساحل کو اب چلنے میں دشواری ہو رہی گیا۔ تب وہ اس کے نزدیک پہنچا اور اس نے ساحل عمر کا ہاتھ پکڑ لیا۔ ساحل عمر نے محسوں کیا کہ اس کا ہاتھ برف کی طرح ٹھندا ہے۔
اب گہرا اندھیرا پھیل چکا تھا۔ جنگل میں اتنی تاریکی تھی کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دے رہا تھا لیکن اس شخص کی آنکھیں پتہ نہیں بلی کی تھیں یا وہ الو کی نسل سے تھا کہ وہ بڑی تیزی سے آگے چلتا جارہا تھا۔ اور ساحل عمر اس کے ہاتھ کے سہارے کھنچا چلا جا رہا تھا۔
ساحل عمر اندازہ نہیں کر پایا کہ وہ اس طرح اندھیرے میں کتنی دیر چلے لیکن اب سفر اتنا لمبا ہو گیا تھا کہ اس پر تھکن طاری ہو گئی تھی۔ وہ چاہ رہا تھا کہ کچھ دیر کہیں بیٹھ کر سستا لے لیکن وہ شخص رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
اس سے پہلے کہ ساحل عمر چلنے سے انکار کر دیتا کہ اس شخص کی منزل آ گئی۔
مکمل تاریکی ہونے کی وجہ سے ساحل عمر اندازہ نہیں کر پایا کہ وہ کہاں پہنچا ہے۔ یہ کس قسم کی جگہ ہے۔ ابھی وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ یہ شخص چراغ روشن کرے گا تو اسے اندازہ ہو گا کہ کیسی جگہ ہے لیکن اس شخص نے چراغ روشن کرنے کے بجاۓ اپنے ٹھنڈے ہاتھوں سے ساحل عمر کا سر پکڑ کر زور سے دبایا۔ اس عمل کے کرتے ہی اس کا دماغ تاریکی میں ڈوبتا چلا گیا۔ اس کی آ نکھیں پہلے ہی تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھیں۔ اسے کوئی ہوش نہ رہا۔
جب اسے ہوش آیا تو اچھا خاصا اجالا پھیل چکا تھا۔ وہ ایک بڑے سے پتھر پر لیٹا ہوا تھا۔ اس پتھر کے اطراف میں کٹے ہوئے درخت تھے۔ یہ درخت چونکہ اونچے تھے اور چارفٹ ان کا قطر ہوگا یوں محسوس ہوتا تھا کہ ان درختوں کو ایک سائز میں کسی آرے سے کاٹا گیا ہو۔ کیونکہ یہ درخت محض تنے تھے اس لیے روشنی کے لیے رکاوٹ نہ تھے۔ باقی چاروں طرف جنگل تھا۔
ساحل عمر اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اس کے سر میں شدید قسم کا درد ہو رہا تھا۔ وہ شخص جو اسے یہاں تک لایا تھا وہاں موجود نہ تھا۔ اس پتھر کے بائیں جانب ایک بانس گڑا ہوا تھا۔ اور اس بانس میں جو چیز لگائی گئی تھی وہ ایک ہوش مند کے ہوش اڑانے کے لیے کافی تھی۔
وہ چھ عدد کھوپڑیاں تھیں۔ جن کے سر میں سوراخ کر کے اس بانس میں پرو دیا گیا تھا۔ یہ ایک دوسرے پر اس طرح رکھی تھیں کہ مینار بن گیا تھا۔
ساحل عمر پتھر پر بیٹھا اطراف کا جائزہ لے ہی رہا تھا کہ وہ شخص اچانک سامنے سے آ تا ہوا دکھائی دیا۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ کسی کئے ہوۓ درخت کی اوٹ سے نکلا ہو۔ وہ ایک اونچے قد کا شخص تھا۔ اس وقت اس کی چادر کندھے پر پڑی تھی اور اس کی کھوپڑی روشنی میں چمک رہی تھی۔ اس شخص نے اپنے ہاتھوں میں ایک تھال اٹھایا ہوا تھا۔ وہ تھال اس نے پتھر پر سال عمر کے سامنے رکھ دیا۔ اس تھال میں چھوٹی چھوٹی کٹوریاں رکھی ہوئی تھیں۔ ان میں مختلف قسم کی چٹنیاں تھیں۔ ایک پلیٹ میں آلو کی بجھیا تھی اور گھی میں تر بتر پوریاں تھیں۔
ساحل عمر کوسخت بھوک لگی تھی ۔ اس نے یہ سوچنے میں اپنا وقت ضائع نہ کیا کہ اس جنگل میں یہ ناشتہ وہ کہاں سے لے آیا۔ وہ فورا تھال پر ٹوٹ پڑا۔ جلد ہی اس نے تھال میں رکھا ناشتہ اپنے پیٹ میں اتار لیا۔ اس تھال میں ایک مٹی کا برتن تھا جس میں پانی بھرا ہوا تھا پانی ٹھنڈا اور میٹھا تھا۔ اس نے خوب سیر ہو کر پانی پیا۔ جب وہ ناشتے سے فارغ ہو چکا تو اس نے اس شخص کی طرف دیکھا جو ایک پتھر کے کونے پر بیٹھا اسے بڑی دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔
اس سے پہلے کہ ساحل عمر اس سے کوئی سوال کرتا اس سے پوچھتا آپ کون ہیں اس نے خود ہی جواب دے دیا۔
وہ بولا “میں چترو بھیل“
“چترو بھیل” ساحل عمر نے دہرایا۔ بڑا عجیب نام تھا۔ اس نام کو اس نے کہاں سنا تھا۔ پھر ایک دم اسے یاد آیا کہ اس نے اس نام کو سنا نہیں بلکہ لکھا ہوا دیکھا تھا۔ اس قبر پر اس کے نام کا کتبہ لگا تھا
“ہاں چترو بھیل۔ میں تمہیں برکھا کے چنگل سے چھڑا کر لایا ہوں۔” چترو بھیل نے بتایا۔
“میں برکھا کے قبضے میں تھا لیکن مجھے تو یاد پڑتا ہے کہ میں قبر والے کمرے میں تھا اور وہاں برکھا نہ تھی۔“
“کیا اس استھان پر برکھا کے بندے نہ تھے؟‘‘ چترو بھیل نے سوال کیا۔
“ہاں وہ تو تھے۔‘‘ساحل عمر نے اقرار کیا۔ ’’لیکن برکھا کہاں تھی؟”
میں تمہیں سمجھاتا ہوں کہ برکھا نے تمہارے ساتھ کیا کھیل کھیلا ہے۔ چترو بھیل نے کہا۔ اس نے جادو کے زور پر تمہیں اپنے بنگلے پر بلایا پھر سرخ پانی کی بوندوں کے ذریعے تمہیں بیہوش کر کے میرے استھان پر پہنچایا۔ میں اپنے وقت کا بہت بڑا جادوگر ہوں۔ اس نے میرے سہارے تمہیں بلی کے لیے تیار کرنا تھا لیکن جب میری نظر تم پر پڑی تو میں نے اس سے تمہیں چھین لیا۔ میں نے تمہاری زندگی بچائی ہے۔ میں تمہیں یہاں ایک خاص مقصد کے لیے لایا ہوں۔ جب میرا کام ہو جائے گا تو میں تمہیں ہمیشہ کے لیے برکھا سے آزادی دلا دوں گا۔ وہ پھر تم پر کبھی قبضہ نہیں جما سکے گی۔”
“آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں مجھے کیا کرنا ہوگا؟‘‘
“تمہیں کچھ نہیں کرنا ہوگا۔ صرف ایک قتل کرنا ہوگا۔“
“ہیں کیا کہا؟‘‘ ساحل عمر سنبھل کر بیٹھ گیا۔ ’’قتل کرنا ہوگا. مجھے؟‘‘
“ہاں تمہیں۔‘‘ چترو بھیل نے انتہائی سنجیدگی سے کہا۔ ’’تمہیں ۔‘‘
“گویا قتل کرنا آپ کے نزدیک کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ آپ مجھے قتل کرنے کے لیے اس طرح کہہ رہے ہیں جیسے آئس کریم کھانے کے لیے کہہ رہے ہوں؟‘‘ وہ خفگی سے بولا۔
“ہاں تم نے ٹھیک سمجھا قتل کرنا میرے لیے آئس کریم کھانے جیسا لذت آمیز عمل ہے۔ افسوس کہ اب میں اس لذت سے محفوظ نہیں ہوسکتا۔” چترو بھیل کے لہجے میں بڑی افسردگی تھی۔ کچھ دیر خاموش رہ کر وہ پھر بولا:
”یہ جوتم بانس میں لگی ہوئی چھ کھوپڑیاں دیکھ رہے ہو یہ سارے بندے میں نے قتل کیے ہیں۔ ان کو میں نے کیسے قتل کیا۔ کس طرح ڈھونڈ کر مارا یہ ایک طویل داستان ہے۔ اس داستان میں میں تمہیں الجھانا نہیں چاہتا۔ بس اتنا سن لو کہ ان لوگوں نے میری بیوی اور بیٹیوں کو مارا تھا۔ مجھے اپنا انتقام لینے میں سات سال لگے۔ پھر مجھے ایک عورت ملی۔ اس عورت نے میرے دل پر قبضہ کر لیا۔ میں اسے پہچان نہ سکا۔ وہ ان چھ بھائیوں میں سے ایک کی بیوی تھی۔ اس نے اپنے شوہر کی موت پر قسم کھائی تھی کہ وہ مجھے ختم کر کے رہے گی اور پھر اس نے ایسا کر دکھایا میں اپنے علاقے کا بڑا جادو گر تھا جادو کے نشے میں مست۔ اس نشے میں میں کاویری کو پہچان نہ سکا۔ وہ ایک دن مجھے دریا کنارے ہے ہوش ملی بھیگی ہوئی۔ میں روز دریا کنارے پوجا پاٹھ کے لیے جاتا تھا۔ وہ اس بات کو جانتی تھی کہ میں ایک خاص وقت میں دریا کے کنارے آتا ہوں تب اس وقت اس نے ناٹک کھیلا اور میں اس کے جال میں پھنس گیا۔ بھیگی ہوئی کاویری نے میرے ہوش اڑا دیئے۔ میں پوجا پاٹھ بھول کر اسے اپنے استھان پر اٹھا لایا۔ اور پھر وہ میرے من مندر کی داسی بن گئی۔ جب اس نے مجھ پر اچھی طرح قبضہ جمالیا۔ اور میرے بارے میں ہر وہ راز جان لیا جو جاننا چاہتی تھی تو ایک رات اس نے اپنا ہاتھ دکھا دیا۔ میرے پاس ایک نایاب سانپ کا زہر تھا جو ایک چھوٹی سی شیشی میں موجود تھا۔ یہ زہر میں نے ایک جوگی سے حاصل کیا تھا۔ یہ زہر مجھے ایک جادو کے عمل میں درکار تھا۔ یہ زہر اتنا تیز تھا کہ اس کا ایک قطرہ انسان کی ہلاکت کا باعث بن سکتا تھا۔ اس نے اس زہر کا ایک قطرہ دودھ میں ملا دیا۔ میں روز رات کو ایک گلاس دودھ پی کر سونے کا عادی تھا۔ کاویری نے اس رات میری طرف دودھ کا گلاس بڑھاتے ہوۓ شرارت آمیز لہجے میں کہا: .
”چترو اس دودھ کو سنبھل کر پینا۔‘‘
وہ اس طرح کی شوخیاں اکثر کیا کرتی تھی۔ اور ان شوخیوں کی وجہ سے وہ مجھے اچھی لگتی تھی۔ اس کی طنز آمیز گفتگو دھمکی آمیز لہجہ مجھے بہت پسند تھا۔ میں بھی اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ رکھتا تھا۔ میں جب بھی اسے تنگ کرتا وہ لہجے میں مٹھاس بھر کر کہتی: ’دیکھ چترؤ مان جا ورنہ میرے ہاتھوں قتل ہو جاۓ گا۔‘‘
اس رات جب اس نے مجھے دودھ کا گلاس پکڑایا تو میں نے گلاس پکڑتے ہوۓ اس کا ہاتھ بھی تھام لیا اور ہنس کر بولا: ”کیا اس میں زہر ملا ہے۔“
“ہاں یہی سمجھ لے۔‘‘ وہ ناک چڑھا کر بولی۔
“کاویری کیا تو مجھے زہر بھی دے سکتی ہے؟‘‘ میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ کہا
“ہاں کیوں نہیں دے سکتی۔ تو کیا سمجھتا ہے کہ میں تجھ سے بہت پیار کرتی ہوں۔” وہ ہنس کر بولی۔
“ہاں میں یہی سمجھتا ہوں کہ تو مجھ سے بہت پیار کرتی ہے اور جو پیار کرتا ہے وہ کبھی اپنے پیار کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔“
پھر میں نے اس کا ہاتھ چھوڑ کر گلاس تھام لیا اور اس کی طرف دیکھتا ہوا بولا:
“کاویری تیرے ہاتھوں سے تو زہر پینا بھی منظور ہے۔” یہ کہہ کر میں نے گلاس اپنے منہ سے لگا لیا اور چند لمحوں میں بغیر سانس لیے دودھ غٹاغٹ کر کے چڑھا گیا۔ دودھ حلق سے اترتے ہی مجھے یوں لگا جیسے بھونچال آ گیا ہو۔ میری زندگی کا دروازہ دهڑ سے بند ہو گیا اور میں چل بسا۔”
“چل بسا” ساحل عمر نے حیرت سے دہرایا۔ ’’تم اس وقت زندہ نہیں ہو۔”
“نہیں میں زندہ نہیں ہوں زندگی تو مجھ سے کاویری چھین کر لے گئی۔‘‘ چترو بیھل کے لہجے میں تپش آ گئی۔
میں مرنے کے بعد اپنی لاش کے نزدیک موجود تھا۔ یہ بات تو مجھے فورا معلوم ہوگئی تھی کہ
کاویری نے مجھے زہر دے دیا ہے۔ میری زندگی بن کر میری زندگی مجھ سے چھین لی ہے لیکن میں یہ نہیں جان سکا تھا کہ اس نے ایسا کیوں کیا۔ یہ بات بھی مجھے فورا ہی معلوم ہو گئی۔ اس نے میری لاش کو حیرت سے دیکھتے ہوۓ کہا۔
“چترو تو نے میرے شوہر اور اس کے بھائیوں کو بھائیوں کو مارا، میں نے تجھے مار دیا۔ تو نے گھات لگا کر بے خبری میں مارا لیکن میں نے تجھے جتا کر مار دیا میں عورت ہو کر تجھ سے بہادر نکلی ۔لعنت ہے تجھ پر۔‘‘
“اوه ده عورت تو بڑی چالباز نکلی۔” ساصل عمر نے بڑی سادگی سے کہا۔
“ہاں ایسی ویسی۔ اس کی اس حرکت نے میری روح تک میں شعلے بھڑ کا دیے۔ اس آگ میں جلتے ہوۓ مجھے پانچ سال ہو گئے۔ ان پانچ سالوں میں تم پہلے آدمی تھے جسے میرے حوالے کیا گیا۔ اگر چہ برکھا کا مقصد کچھ اور تھا لیکن میں نے تمہیں اپنے کام کے لیے چن لیا۔ اب تم نے میری مدد کرنی ہے۔ میری بے سکون روح کو سکون پہنچانا ہے اور یہ سکون اس طرح پہنچ سکتا ہے کہ تم کاویری کوقتل کر دو۔
میں جانتا ہوں کہ وہ اس وقت کہاں ہے۔ وہ روز دریا پر کپڑے دھونے آتی ہے۔ تم بھی اسی کی طرح دریا کے کنارے بے ہوش ملو گے۔ تمہاری خوبصورتی اس کے دل کی دنیا تہس نہس کر دے گی۔ وہ تمہیں اپنے گھر لے جاۓ گی۔ ہوش میں آنے پر تم اسے خودکشی کی فرضی داستان سناؤ گے، جیسے اس نے مجھے سنائی تھی۔ چند دن تم اس کے ساتھ رہو گے۔ تم اس کے ساتھ محبت کا ناٹک کھیلو گے۔ وہ تمہارے فریب میں آ جائے گی۔ پھر میں تمہیں زہر فراہم کروں گا۔ تم اسے دودھ میں ملا کر دو گے اور وہی مکالمے بولوگے جو اس نے بولے تھے۔ وہ تمہارے ہاتھوں انجانے میں زہر پینے پر راضی ہو جاۓ گی۔ جیسے میں ہوگیا تھا۔ اس کے زہر پینے کے بعد میں تمہیں وہاں پہنچا دوں گا جہاں تمہاری رہائش ہے۔ میں اس بات کی گارنٹی دیتا ہوں کہ برکھا سے تمہیں نجات مل جاۓ گی۔ تم نہیں جانتے کہ وہ تمہیں قتل کر کے کالی دنیا کی ایک زبردست طاقت” مانا” کو حاصل کرنا چاہتی ہے۔
بولؤ اب تم کیا کہتے ہو۔ میری مدد کر کے زندگی چاہتے ہو یا انکار کر کے برکھا کے ہاتھوں قتل ہونا چاہتے ہو۔ اگر تم نے کاویری کوقتل نہ کیا تو میں پھر تمہیں برکھا کے حوالے کر دوں گا۔ اب تم اچھی رطرح سوچ لو کہ تم کیا چاہتے ہو قتل کے بدلے زندگی چاہتے ہو یا انکار کے بدلے خود اپنا قتل۔” یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گیا۔
ساحل عمر کو چترو بھیل نے عجیب مخمصے میں ڈال دیا تھا۔ یہ انکشاف بھی اس کے لیے ہولناک تھا کہ برکھا اپنی ساحرانہ قوتوں میں اضافے کے لیے اسے بھینٹ چڑھانا چاہتی ہے۔ اس کی بلی دینا چاہتی ہے۔ اسے قربانی کا بکرا بنانا چاہتی ہے۔ اب اس کی سمجھ میں آیا کہ وہ یوں آدھی رات کو اس کی ٹیلی فون کال پر کس طرح سب کچھ چھوڑ چھاڑ دیوانوں کی طرح اس کے بنگلے پر پہنچ گیا تھا۔ وہ اس کی ساحرانہ قوتوں کے زیر اثر آ گیا تھا۔ اس کے اثر سے نکلنے کے لیے چترو بھیل اس کی مدد کرنے کو تیار تھا لیکن اس آزادی کے عوض وہ اسے قاتل بنا دینا چاہتا تھا۔ اب وہ انکار کرسکتا تھا نہ اقرار……
“نو جوان تو کب تک سوچے گا۔ جلدی فیصلہ کر میرے پاس وقت کم ہے۔ میں دھول اڑتی ہوئی دیکھ رہا ہوں۔ برکھا نے میرے استھان پر میری واپسی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ تو اپنا فیصلہ جلدی سنا۔ میں دس تک کنتی گنتہا ہوں۔ “ایک..دو….تین” اور اس سے پہلے کہ وہ دس تک پہنچتا۔ ایک آواز گونجی۔ ’’میں کاویری کو قتل کروں گا۔‘‘
یہ آواز ساحل عمر کی نہ تھی۔
اسے اپنی آواز بڑی اجنبی لگی۔ اسے اپنی آواز پر یقین نہ آیا۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ کسی کے قتل پر راضی ہو جاۓ گا۔ یہ فیصلہ اس نے دل سے نہیں کیا تھا۔ یہ اس کے دل کی آواز نہیں تھی۔ بس لاشعوری طور پر اس کے منہ سے نکل گیا تھا کہ وہ کاویری کو قتل کرنے پر راضی ہے۔ ساحل عمر کا فیصلہ سن کر چترو بھیل کی بانچھیں کھل گئیں۔ شاباش نوجوان تم نے دل خوش کر دیا۔ اب میں برکھا کو دیکھ لوں گا۔ اسے میری فکر نہیں ہے۔ اسے تمہاری فکر ہے۔ میں اپنے استھان پر جاؤں نہ جاؤں۔اسے میری واپسی سے کچھ فرق نہیں ہے لیکن اگر تم اسے واپس نہ ملے تو اس کی زندگی بھر کی کمائی منٹوں میں لٹ جائے گی اور ایسا وہ کبھی نہیں ہونے دے گی۔
“وہ کیا کرے گی؟‘‘ ساحل عمر نے فکرمند لہجے میں پوچھا۔
“وہ ہوا کا جال بھیجے گی تمہاری گرفتاری کے لیے۔‘‘ چترو بھیل نے کہا۔
“ہوا کا جال.. میں سمجھا نہیں۔‘‘ ساحل عمر حیران ہوا۔
“تم سمجھو گے بھی نہیں… جب تک تم دیکھ نہیں لو گے سمجھو گے نہیں۔ ویسے وہ دکھائی دینے والی چیز ہے بھی نہیں۔ تم صرف محسوس کر سکو گے۔ تمہیں یوں محسوس ہو گا کہ اچانک ہی کوئی ان دیکھا جال تم پر گرا ہے اور اس جال میں تم جکڑتے جا رہے ہو۔ پھر اس جال کی گرفت سخت سے سخت ہوتی جاۓ کی اور تمہارے پاؤں زمین سے اکھڑ جائیں گے۔ پھر یہ ہوا کا جال تمہیں اڑا لے جاۓ گا اور تمہیں بر کھا کے سامنے جا کر ڈال دے گا۔‘‘
“اوہ پھر کیا ہوگا.؟ مجھے کون بچاۓ گا۔”
“میں بچاؤں گا. میرے سامنے ابھی وہ بچی ہے۔ وہ اگر ہوا کا جال بھیج سکتی ہے تو میں اس ہوا کے جال کی کاٹ تمہیں بتا سکتا ہوں۔ تم پریشان نہ ہو۔”
“تم کہ رہے ہو کہ وہ جال اچانک ہی مجھ پر گرے گا اور دکھائی بھی نہ دے گا تو ایسی صورت میں میرے پاس بچاؤ کا راستہ موجود ہونا چاہیے۔ پتہ نہیں وہ جال کب مجھ پر آ گرے۔”
“ابھی اس کا عمل ختم ہونے میں کچھ وقت ہے۔ چلو تمہاری تسلی کے لیے تمہیں اس کی کاٹ بتائے دیتا ہوں بلکہ تمہارے حوالے کیے دیتا ہوں چند لمحے انتظار کرو۔” یہ کہہ کر وہ کٹے ہوۓ درخت کے پیچھے چلا گیا۔
چند لمحوں بعد وہ اس کی اوٹ سے مسکراتا ہوا نکلا۔اس کے ہاتھوں میں ایک چمکتا ہوا استرا تھا۔ وہ اس کے نزدیک آ کر استرا اس کے حوالے کرتا ہوا بولا : ’’یہ لو‘‘
“استرا…..” ساحل عمر نے چمکتے استرے کو ہاتھ میں لیتے ہوۓ حیرت سے کہا۔ “اس سے کس طرح کاٹ ہوگی۔‘‘
”میں تمہیں بتا تا ہوں کہ کیا کرنا ہے۔ میری بات پوری توجہ سے سنو۔‘‘ یہ کہہ کر چترو بھیل نے اسے ساری بات تفصیل سے سمجھا دی۔
وہ ساری بات اچھی طرح سمجھ گیا۔ اس نے استرے کو بند کر کے اپنی جیب میں رکھ لیا۔
’’اب میرے ساتھ آؤ!‘‘ چترو بھیل نے پھر سے اٹھتے ہوۓ کہا۔
’’ کہاں؟‘‘
وہ بولا۔ “تمہیں دریا کی سیر کروا دوں۔ نزدیک ہی وہ دریا ہے جہاں تم کاویری کو بے ہوش ملو گے تمہیں وہ جگہ دکھا دوں۔‘‘ چتر وبھیل اٹھتے ہوۓ بولا۔
“چلو…” ساحل عمر اس کے ساتھ ہولیا۔
’’کاویری کہاں رہتی ہے؟‘‘
’’وہ دریا کے اس پار رہتی ہے۔‘‘ چترو بھیل نے بتایا اور پھر تیز تیز چلنے لگا۔
اب وہ دونوں آ گے پیچھے چل رہے تھے۔ چترو بھیل اےڈ مڑ کر دیکھ لیتا تھا۔ جب ان دونوں کے درمیان فاصلہ زیادہ بڑھ جاتا تو وہ ٹھہر جاتا اور جب ساحل قریب آنے لگتا تو چترو بھیل پھر قدم بڑھانے لگتا۔
اس وقت وہ گھنے جنگل سے گزر رہے تھے۔ اگر چہ آفتاب پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا، لیکن اس جنگل میں اس کی روشنی کا زیادہ گزر نہ تھا۔ درخت آپس میں اس طرح لمے ہوئے تھے کہ روشنی کی کرنیں کہیں کہیں سے چھن کر زمین پر پڑ رہی تھیں۔ یہی حال کچھ ہوا کا بھی تھا۔ اس جنگل میں ہوا کا بھی گزر نہ تھا۔ گرمی نہ تھی بلکہ دھوپ نہ ہونے کی وجہ سے ٹھنڈک کا احساس تھا۔
ابھی وہ زیادہ دور نہ گئے ہوں گے کہ ساحل عمر کو اچانک اپنے گرد تیز ہوا محسوس ہوئی۔ سال عمر چلتے چلتے فورا کھڑا ہو گیا۔ اسے ایک دم خطرے کا احساس ہوا۔ اس نے جیب سے فورا استرا نکال کر کھول لیا۔ ہوا مزید تیز ہوتی جا رہی تھی اور اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ہوا اسے اپنی گرفت میں لیتی جا رہی ہے۔
یہی عمل کا وقت تھا۔ اس میں ذرا بھی غفلت، ذرا بھی دیر ساحل عمر کو کہاں سے کہاں پہنچا سکتی تھی ۔ ساحل عمر فورا ایکشن میں آ گیا۔ اس نے اپنا بایاں بازو کھول کر جلدی جلدی استرا چلایا جیسے اپنے اوپر پڑے جال کو کاٹ رہا ہو۔ پھر یہی عمل اس نے دائیں بازو کے نیچے بغل کے نزدیک کیا۔ پھر وہ فورا ہی جھک گیا اور اس نے ٹانگوں کے درمیان بہت تیزی سے استرا چلانا شروع کردیا۔
چترو بھیل چلتے چلتے رک گیا تھا۔ اب وہ بڑی دلچسپی سے ساحل عمر کو دیکھ رہا تھا۔ وہ خوش تھا کہ اس نے جس طرح اسے بتایا تھا وہ بالکل ویسے ہی عمل میں مصروف تھا۔
ساحل عمر کو یکایک محسوں ہوا کہ ہوا کی گرفت ڈھیلی پڑتی جا رہی ہے۔ جو بات اس نے ابتداء میں محسوس کی تھی وہ بات اب نہیں رہی تھی۔ وہ ہوا کی رگوں کو کاٹنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ وہ احتیاطاً استرا چلانے کے عمل کو اب بھی جاری رکھے ہوۓ تھا۔
تب چترو بھیل جلدی سے اس کے نزدیک آیا اور زور سے بولا:
“بس…..بس… کام ہوگیا۔”
چترو بھیل کی آواز سن کر اس نے فورا اپنا ہاتھ روک لیا۔ اس نے دیکھا کہ ہوا کا تیز جھونکا اس سے الگ ہو کر سامنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ مٹی کے ذرے اور سو کھے پتے اس کے ساتھ چل رہے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہوا کے اس مرغولے میں کوئی چیز ظاہر ہوئی۔ وہ سرخ رنگ کی کوئی چیز تھی جو تیزی سے چھوٹی ہوتی جا رہی تھی۔ پھر وہ زمین پر گری اور ہوا ایک دم ساکت ہوگئی۔
یہ سرخ رنگ کا ریشمیں دھاگوں کا کوئی جال سا تھا جو سمٹتا سکڑتا جا رہا تھا۔ پھر اس کا ایک گولا سا بن گیا اور اس میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ یہ بہت تیز آگ تھی۔ چند سیکنڈ میں گولا جل کر کوئلہ ہو گیا
“دیکھ لیا تم نے۔‘‘ چترو بھیل اس کے قریب آ کر بولا۔
“میں نے جیسا کہا تھا ویسا ہی ہوا نا۔ اب تمہیں اچھی طرح اندازہ ہو گیا ہو گا کہ برکھا کس طرح تمہارے پیچھے لگی ہوئی ہے۔”
“ہاں واقعی“
ساحل عمر اس جلے ہوۓ کوئلے پر نظریں جماۓ ہوۓ بولا۔ “شروع میں تو یہ سجھا تھا کہ تم محض ڈرا کر مجھ سے اپنا کام کروانا چاہتے ہو لیکن اب مجھے یقین ہو گیا ہے کہ برکھا واقعی میری جان کی لاگو ہوئی ہے”
“تم فکر مت کرو. پریشان ہونے کی بالکل ضرورت نہیں ہے میں تمہیں اس کے چنگل سے نکال دوں گا۔ بس تم میرا یہ کام کردو۔“
“ٹھیک ہے۔ آؤ دریا کی طرف چلیں ۔‘‘ ساحل عمر نے کہا اور پھر وہ دونوں ساتھ ساتھ چلنے لگے
چترو بھیل کسی سانپ کی طرح ’’موذی‘‘ تھا۔ انتہائی خبیث شاطر اور بے وفا شخص۔ وہ اپنے وقت کا ایک بڑا ساحر تھا۔ اس نے جو قتل کیے تھے۔ خباثت اس میں کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ جس طرح سانپ اپنے دودھ پلانے والے کو بھی نہیں بخشتا ویسے ہی اس نے ساحل عمر کے بارے میں فیصلہ کر لیا
فی الحال تو اس نے اسے کاویری کے پیچھے لگانے کا ارادہ کر لیا تھا۔ کاویری کے قتل کے بعد اس نے آئندہ کا لائحہ عمل سوچ لیا تھا۔ اس نے طے کر لیا تھا کہ وہ ساحل عمر کو کسی قیمت پر آزاد نہیں کے گا۔
چتر بھیل اپنے جسم سے محروم ہو گیا تھا۔ اب اسے ایک جسم کی تلاش تھی۔ ساحل عمر سے اچھا جسم اسے بھلا کہاں مل سکتا تھا۔ وہ ایک تیر سے دو شکار کر رہا تھا۔ ساحل عمر سے کاویری کا قتل کروا کر ایک طرف تو وہ اپنی انتقام کی آگ بجھا رہا تھا دوسری طرف وہ اسے قاتل بنا کر گندا کرنا چاہتا تھا۔ وہ اس کے جسم پر اس صورت میں قبضہ جما سکتا تھا کہ وہ مجرم ہو جائے۔ مجرموں پر ہی اصل میں گرفت کی جاتی ہے۔ کسی بے گناہ اور معصوم شخص کو نہیں پکڑا جا تا۔
ساحل عمر کو کچھ معلوم نہیں تھا کہ آئیندہ چند روز میں اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔کاویری کے قتل پر اگرچہ وہ اوپری دل سے راضی تو ہو گیا تھا لیکن کاویری کے قتل کا تصور کر کے وہ کانپ جاتا تھا۔ اس وقت وہ چترو بھیل کے رحم و کرم پر تھا۔ وہ اس سے جان چھڑا کر یہاں سے نکل جانا چاہتا تھا۔ فی الحال اس نے یہ طے کیا تھا کہ پہلے کاویری تک پہنچا جاۓ ۔ اگر ممکن ہو سکا تو ا سے اعتماد میں لے کر راہ فرار اختیار کی جاۓ گی۔ وہ اسے اصل حقائق سے آشنا کردے گا۔ اس انکشاف کے بدلے میں کاویری ضرور اس کی مدد کرے گی۔ وہ اس علاقے سے نکلنے کا ضرور کوئی نہ کوئی بندوبست کردے گی۔ دونوں اپنے اپنے طور پر منصوبہ بندی میں لگے ہوۓ تھے اور قسمت دور کھڑی ان دونوں پر ہنس رہی تھی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: