Anwar Aleegi Urdu Novels

Bichoo Novel By Anwar Aligi – Episode 17

Bichoo Novel By Anwar Aligi
Written by Peerzada M Mohin
 بچھو از انوار علیگی – قسط نمبر 17

–**–**–

صبح تڑکے کا وقت تھا۔سورج ابھی نہیں نکلا تھا لیکن ہلکا ہلکا اجالا پھیل گیا تھا۔ ساحل عمر کٹے ہوئے درختوں کے درمیان اس بڑے سے پتھر پر لیٹا تھا جہاں کل اس کی آنکھ کھلی تھی۔ چترو بھیل اسے کھلا پلا کر رات اس پتھر پر گزارنے کا کہہ کر چلا گیا تھا۔ وہ صبح ہی صبح آنے والا تھا تاکہ ساحل عمر کو دریا کے کنارے بے ہوشی کے عالم میں لٹاۓ اور پھر کسی درخت کے پیچھے چھپ کر کاویری کی آمد اور ساحل عمر کو وہاں سے اٹھالے جانے کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ سکے ۔اسے یقیں ہو جائے کہ مچھلی نے کانٹا نگل لیا ہے. اس کے بعد تو اسے محض ڈور کھینچے جانے کا انتظار کرنا تھا
رات کو ساحل عمر بہت دیر میں سویا تھا۔ وہ دنیا جہاں کی باتیں سوچتا رہا تھا۔ پھر نرم گداز بستر پر سونے والے شخص کو بستر کی جگہ پتھر فراہم کیا گیا تھا وہ کیسے سوتا۔ کہتے ہیں نیند تو سولی پر بھی آ جاتی ہے وہ تو ایک بینچ نما پتھر تھا وہ اپنے بازو پر سر رکھ کر سوچتے سوچتے جانے کب سو گیا۔ اس وقت بھی وہ سو رہا تھا۔ صبح قریب تھی۔ اندھیرا ملگھے اجالے میں تبدیل ہو رہا تھا۔
چتر وبھیل ابھی تک نہیں پہنچا تھا۔ لیکن وہ چھلانگیں مارتا ہوا کسی راکٹ کی رفتار سے چلا آ رہا تھا۔ پھر وہ بینچ نما پتھر کے قریب آ کر رک گیا۔ اس نے بڑی تیزی سے چاروں طرف گردن گھما کر دیکھا۔ ہر طرف سکون پھیلا ہوا تھا۔ اس نے دوقدم آگے بڑھ کر چہرہ ساحل عمر کے چہرے کے قریب کر دیا۔ جیسے ہی ساحل عمر نے اپنے چہرے پر غیرانسانی سانسوں کو محسوس کر لیا۔
فورا اس کی آ نکھ کھل گئی۔اسے نزدیک پا کر وہ فورا اٹھ بیٹھا۔ اس کے سامنے ایک چیتا موجو تھا۔ روشنی زیادہ نہ ہونے کے باوجود اس نے پہچان لیا کہ وہ تہکال ہے۔ وہ اسے کیسے نہ پہچانتا اس نے اس کے جسم کے ہر حصے پر برش چلایا تھا۔ اس نے اسے پینٹ کیا تھا۔
تہکال نے کسی پالتو بلی کی طرح اپنا جسم اس کی ٹانگوں سے رگڑا۔ اسے نزدیک پا کر ساحل عمر نے ذرہ بھر بھی خوف محسوس نہیں کیا بلکہ اسے دیکھ کر اس کے دل میں محبت کے جذبات ابھرے۔ اس نے اس کی گردن میں بانہیں ڈال دیں۔ تہکال تھوڑا سا پیچھے ہوا تو وہ مزید اس پر جھک گیا۔ تہکال مزید پیچھے ہو کر ایک دم اس کے نزدیک آیا۔ اس آگے پیچھے ہونے میں یہ ہوا کہ وہ تہکال کے اوپر سوار ہو گیا
تہکال کے لیے اتنا ہی موقع کافی تھا۔ اس نے اپنی کمر ہلا کر ساحل عمر کو اپنی پیٹھ پر سوار کیا اور تیزی سے دوڑ لگائی۔
ساحل عمر نے خود کو گرنے سے بچانے کے لیے اس کی گردن کو مضبوطی سے اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور اس کی کمر پر اچھی طرح جم گیا۔
تہکال نے جب دیکھا کہ سوار نے اپنی نشست اچھی طرح سنبھال لی ہے تو پھر اس نے ایک لمبی زقند بھری اور چند لمحوں میں وہ ہوا سے باتیں کرنے لگا۔ ساحل عمر بہت مضبو طی سے اس کی گردن سے چمٹا ہوا تھا۔
چترو بھیل جھومتا جھامتا بڑی تیزی سے چلا آ رہا تھا۔ وہ بہت خوش تھا۔ وہ آگ جواس کی روح میں لگی ہوئی تھی اس آگ کے ٹھنڈی ہونے کے آثار پیدا ہو چلے تھے۔ منزل بہت قریب تھی۔ وہ ساحل عمر کو دریا میں ایک غوطہ لگا کر کنارے پر لٹا دے گا۔ ایک ٹانگ اس کی دریا میں ہو گی باقی جسم خشکی پر ہو گا اوروہ بے سدھ لیٹا ہوگا۔ کاویری جب اسے دیکھے گی تو اس کے چلتے قدم رک جائیں
ارے..! کاویری کے چلتے قدم اسے دیکھ کر پتہ نہیں رکتے کہ نہیں لیکن سامنے کا منظر دیکھ کر چترو بھیل کے چلتے قدم ضرور رک گئے اور منہ سے بے اختیار حیرت کا کلمہ نکل گیا۔ درختوں کے درمیان اسے وہ بینچ نما پتھر صاف نظر آیا جو خالی تھا۔ اس نے جلدی جلدی چاروں طرف نظریں دوڑائیں۔ اس نے سوچا شاید ساحل عمر ضرورتاً اٹھا ہولیکن وہ آس پاس کہیں نظر نہیں آیا۔
یہ بات اس کے لیے سوہان روح ہو گئی۔ وہ خود روح تھا۔ وقت اور جگہ کی قید سے آزاد اس نے جلدی جلدی آس پاس کا علاق چھان مارا دریا کے دونوں کنارے خالی پڑے تھے۔حتی کہ کاوریی بھی اپنے گھر میں موجود تھی ۔
چترو بھیل ایک موہوم سی امید پر اسے جگہ جگہ تلاش کرتا رہا اب تو سورج بھی نکل آیا تھا۔
ہر سو سورج کی کرنیں بکھر چکی تھیں لیکن ساحل عمر کا دور دور تک پتہ نہیں تھا۔
کہاں گیا وہ؟ اسے زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا۔ چترو بھیل سوچ سوچ کر پریشان ہونے لگا۔ اس کی خوشی لمحوں میں غائب ہوگئی۔ ساری منصو بہ بندی دھری کی دھری رہ گئی۔ بنا بنایا کھیل بگڑ گیا۔
تب اسے برکھا کا خیال آیا۔ کہیں یہ کام اس عیار لومڑی نے تو نہیں کر دکھایا۔ اس سے غلطی ہوگئی کہ وہ برکھا کی طرف سے غافل ہو گیا۔ اس نے سمجھ لیا کہ ہوا کے جال کے کٹ جانے کے بعد اب ادھر سے کوئی خطرہ نہیں اسے جاتے ہوۓ کوئی ’’نشانی‘‘ لگا کر جانا چاہیے تھا۔ اگر اس کے ہاں ’’نشانی‘‘ لگی ہوتی تو اس کے بارے میں فورا نشاندہی ہو جاتی۔ لگتا ہے برکھا ہاتھ دکھا گئی۔ اگر واقعی ایسا ہے تو وہ اسے بخشے گا نہیں۔ وہ غصے سے کھول اٹھا۔
⁦⁦⁦▽▽▽▽▽▽▽▽
برکھا کے ہوش اڑے ہوۓ تھے۔ اس پر پاگل پن کا دورہ پڑنے والا تھا۔ ایک جنون کی سی کیفیت طاری ہو رہی تھی۔ وہ غصے میں چترو بھیل کے ’’استھان‘‘ کے چاروں طرف چکر کاٹ رہی تھی۔ سوناں اور واسم دیوار سے لگے بیٹھے تھے۔ وہ پریشان نظروں سے برکھا کو چکر کاٹتا دیکھ رہے تھے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ ایسا کیوں کر رہی ہے۔
“برکھا جی. کچھ بتائیں تو آخر ہوا کیا؟‘‘ واسم نے ہمت کر کے پوچھا۔
“وہ ہو گیا جو آج تک نہیں ہوا‘‘ برکھا نے افسردگی سے کہا۔ “میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اس طرح مجھے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔ میری کئی راتوں کی محنت یوں اکارت چلی جاۓ گی۔‘‘
“کچھ بتائیں تو۔‘‘ سوناں نے اس مرتبہ لب کھولے۔ واسم کے بولنے سے اس میں ہمت آ گئی تھی۔
“ہوا کا جو جال میں نے ساحل عمر کی گرفتاری کے لیے بھیجا تھا وہ جال ساحل عمر نے کاٹ دیا”
”کیسے پتہ چلا۔‘‘ سوال ہوا۔ “یہ تم اندھوں کو جلا ہوا گولا نظر نہیں آ رہا یہ کیا ہے؟ یہ وہی کٹا ہوا جال ہے۔” برکھانے اس جلے ہوۓ گولے کی طرف اشارہ کیا۔ جو اچانک ہی کہیں سے قالین پر نمودار ہو گیا تھا۔
اس گولے کو ان دونوں نے بھی دیکھا تھا لیکن وہ اس بات کو سمجھ نہ پائے تھے اور برکھا سے پو چھنے کی ان میں ہمت نہ تھی کہ یہ کیا ہے؟ صورت حال سے آ گاہی پر دونوں کو افسوس ہوا سوناں بولی: ”یہ تو بہت برا ہوا؟‘‘
ابھی برکھا جواب دینے کے لیے منہ کھول ہی رہی تھی کہ وہ چکر کاٹتے کاٹتے ایک دم ٹھٹک گئ۔
سوناں اور واسم نے برکھا کو اس طرح رکتے دیکھا تو وہ دونوں فورا چوکنا ہو کر اس کی طرف دیکھنے لگے۔ سوناں نے گھبرا کر پوچھا۔’’کیا ہوا ؟ برکھا جی!‘‘
”وہ آرہا ہے؟“
یہ کہہ کر برکھا جہاں کھڑی تھی وہیں آ سن جما کر بیٹھ گئی اور تیزی سے منہ ہی منہ میں کچھ منتر پڑھنے لگی۔ منتر پڑھتے پڑھتے اس نے ہاتھ سے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔
سوناں اس کا اشارہ سمجھتے ہوۓ فورا اٹھی اور تیزی سے آگے بڑھ کر استھان کا دروازہ کھول دیا دروازہ کھلتے ہی چترو بھیل کسی آندھی کی طرح اندر داخل ہوا اور اپنے استھان کے نزدیک پہنچ کر برکھا کوقہر آلود نگاہوں سے دیکھنے لگا
“کیا دیکھتے ہو مجھے۔‘‘ برکھا ایک دم کھڑی ہوگئی اور غصے سے بولی۔ ’’اب یہاں کیا لینے آئے ہو؟”
“بتا کہاں چھپایا ہے تو نے اسے….. اگر تو نے اسے میرے حوالے نہ کیا تو یاد رکھ تیرا استھان بھی یہیں بنے گا۔” چترو بھیل کے لہجے میں آ گ بھری تھی
“ارےا لٹی مجھے دھمکی دے رہے ہو۔ میں نے اپنا بڑا سمجھ کر اپنی تپسیا کو تمہارے استھان پر بھیجا تاکہ تمہارے ذریعے میری کچھ راہیں آسان ہو جائیں گی۔ مجھے آسانی مہیا کرنا تو در کنار تم میری بلی کو ہی لے اڑے۔ تم جانتے نہیں کہ میں اس پر کب سے محنت کر رہی ہوں تم نے ایسا کیوں کیا؟ کیوں لے گئے اسے مجھ سے چھین کر۔ بولو جواب دو۔‘‘
“ٹھیک ہے کہ میں اسے تجھ سے چھین کر لے گیا لیکن تو نے اسے میرے پاس رہنے کب دیا۔ میری غفلت سے فائدہ اٹھا کر اسے اپنے پاس بلا بھیجا۔ مجھے نہیں پتا تھا کہ ہوا کا جال کاٹنے کے باوجود تو اسے اپنے پاس پکڑ بلائے گی۔ تو اتنی طاقتور ہوگئی ہے؟‘‘ اس کے لہجے میں حیرت تھی۔
“چترو بھیل تم یہ کیا کہ رہے ہو؟‘‘ برکھا اس سے زیادہ حیران ہوئی۔
“دیکھ برکھا۔ میرے پاس وقت نہیں ہے۔ تو بس چند روز کے لیے اسے میرے حوالے کردے۔ میں تجھ سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں خود اسے تیرے پاس چھوڑ جاؤں گا اور تیری راہیں بھی آسان کر دوں گا۔” اس نے چال چلی۔
“ارے چترو بھیل کیا ساحل تمہارے پاس نہیں۔ کیا تم اسے یہاں سے نہیں لے گئے”
“اسے میں لے گیا تھا میں اس بات سے کب انکاری ہوں. لیکن اب وہ میرے پاس نہیں ہے۔“
“یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟‘ برکھا کی آ نکھیں حیرت سے پھٹ گئیں۔ ’’جو کچھ کہہ رہے ہو سچ کہہ رہے ہو؟”
“ہاں۔ کالی دیاہ کی قسم سچ کہہ رہا ہوں۔“
“لیکن چترڈلو پھر وہ کہاں گیا۔ وہ میرے پاس تو نہیں۔ کالی دیواہ کی قسم وہ میرے پاس نہیں”
“ہیں”
یہ سن کر چترو بھیل پر اس قدر صدمہ طاری ہوا کہ وہ اپنے قدموں پر کھڑا نہ رہ سکا۔ اس کی۔ آنکھیں کاپنے لگیں۔ وہ فورا قالین پر بیٹھ گیا اور بے حد اداس لہجے میں بولا ۔ “پھر اسے کون لے اڑا”
“اوہ” برکھا نے ایک ٹھنڈا سانس بھرا۔ ’’چترو یہ کیا کیا تم نے؟ اسے نہ میرا رہنے دیا نہ اپنا۔“
’’وہ کہاں جاسکتا ہے؟‘‘ چترو بھیل نے سوال کیا۔
“اسے ڈھونڈ نا ہوگا۔‘‘ برکھا بولی۔
“ڈھونڈ یں گے… ہم دونوں مل کر اسے تلاش کر یں گے۔‘‘
“ہم دونوں مل کر نہیں۔‘‘ برکھا نے فورا تردید کی۔ “میں اسے تنہا ڈھونڈوں گی۔ اب تم اسے بھول جاؤ۔ تمہارا اس پر کوئی حق نہیں سمجھے۔ میں یہاں سے جاؤں گی تو تمہیں استھان پر باندھ کر جاؤں گی۔ پھر تم یہاں سے ہل بھی نہ سکو گے۔ تمہاری اس حماقت نے نا قابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ میں تمہیں بخشوں گی نہیں۔“
”تم ایسا نہیں کرو گی برکھا. ورنہ مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا۔‘‘
“یہ بات تو نے ٹھیک کیا تجھ سے برا واقعی یہاں کوئی اور نہیں. لے دیکھ میں نے باندھ دیا۔ اب تو اس کمرے کی دیواروں سے باہر نہیں نکل سکتا۔ اگر تو نے یہاں سے نکلنے کی کوشش کی تو تیری روح میں شعلے بھڑک اٹھیں گے۔ اتنی بات تو تو خود بھی سمجھتا ہوگا۔ تو نے کالی دنیا کا اصول توڑا ہے تو نے جادوگر ہو کر ایک دوسری جادوگر کو دھوکا دیا ہے۔ میں تیری شکایت کالی دیاہ سے کروں گی۔ تجھے دوسرے جنم میں ضرور کتا بنایا جاۓ گا۔‘‘ یہ کہہ کر برکھا اٹھ کر کھڑی ہوئی۔
چتر بھیل نے جب چاروں طرف نظر یں گھمائیں تو اسے ہر طرف آ گ بھڑکتی ہوئی دکھائی دی۔ یہ ایسی آ گ تھی جوصرف اسے ہی دکھائی دے رہی تھی اور صرف اس کے لیے تھی۔
“واسم……سوناں..‘‘ برکھا غصے سے چیخی۔
’’جئ برکھا جی ۔‘‘ وہ دونوں بھاگ کے اس کے قدموں میں آ گرے۔
’’آؤ چلو…. آؤ یہاں دروازے کو تالا لگاؤ اور چابی مجھے دو۔” یہ کہہ کر وہ دروازے سے باہر آ گئی۔ اس نے پلٹ کر بھی نہ دیکھا کہ چترو بھیل پر اس عمل کا کیا رد عمل ہوا۔ باہر نکل کر سوناں نے دروازے کو لاک کیا اور چابی برکھا کی طرف بڑھا دی۔ برکھا نے چابی کو ہاتھ میں لے کر کوئی منتر پڑھا اور پھر اسے اپنی ساڑھی کے پلو میں باندھ لیا۔ اور کاٹیج سے باہر نکل آئی۔
☆…..☆…..☆
اماں ناصر مرزا کے سامنے بیٹھی ہچکیوں سے رو رہی تھیں۔ ناصر مرزا کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ انہیں کیسے چپ کرواۓ ۔ انہیں کیا کہہ کر تسلی دے۔ وہ آج حافظ موسی سے ملاقات کے لیے نکلا تھا۔ اس نے سوچا کہ اماں کو بھی دیکھتا چلے۔ وہ جب یہاں آیا تو اسے دیکھتے ہی اماں کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ “ارے اماں کیا ہوا؟ آپ کیسی ہیں۔‘‘ ناصر مرزا نے فکر مندی سے کہا۔
بس اتنا سننا تھا کہ وہ پھپک کر رو پڑیں۔ ان کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ وہ اس طرح رو رہی تھیں جیسے خدانخواستہ ساحل عمر چل بسا ہو۔ وہ ڈائننگ ٹیبل پر اس کرسی پر بیٹھی تھیں جس پر بیٹھ کر ساحل عمر ناشتہ کیا کرتا تھا۔ گھر میں مرجینا بھی موجود تھی۔ اب وہ اماں کے ساتھ چوبیس گھنٹے رہ رہی تھی۔ ساحل عمر کے لاپتہ ہونے کے بعد مرجینا نے ان کے ساتھ مستقل رہنا شروع کردیا تھا۔ یہ بات ناصر مرزا نے اس سے کہی تھی کیونکہ اماں کا اس عمر میں تنہا رہنا ٹھیک نہ تھا۔ ناصر مرزا نے تو انہیں اپنے ساتھ اپنے گھر لے جانے کا کہا تھا لیکن وہ مانی نہیں۔ کہنے لگیں۔ ’’نہیں بھیا… میں اپنے ساحل کا گھر نہیں چھوڑ سکتی‘‘
تب مجبور ہو کر ناصر مرزا نے مرجینا کو ہدایت کی تھی کہ ساحل عمر کے آنے تک وہ اس گھر میں مستقل رہنا شروع کر دے۔ اس نے خوشی سے یہ بات مان لی تھی۔
اماں روئے جا رہی تھیں اور ناصر مرزا خاموشی سے انہیں تکے جا رہا تھا۔ رونے کی آواز سن کر مر جینا بھی کام چھوڑ کر ان کے پاس آ گئی تھی۔ وہ انہیں تسلیاں دے رہی تھی۔ صاحب کی واپسی کا یقین دلا رہی تھی لیکن اماں پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔
ناصر مرزا نے مرجینا سے ایک گلاس پانی لانے کو کہا۔ وہ فورا ہی پانی لے آئی۔ ناصر مرزا نے گلاس پکڑ کر کچھ پڑھا اور پھر تین بار پانی میں پھونکیں ماریں۔ پھر بولا: ’’اماں یہ پی لیں”
ان کے دل میں جو غبار تھا وہ آ نسو بہہ جانے کی وجہ سے خاصا دب گیا تھا۔ انہوں نے ناصر مرزا کی آواز سن کر سر اٹھایا۔ دوپٹے سے اپنے آنسو پونچھے اور پھر پانی اس کے ہاتھ سے لے کر گھونٹ گھونٹ پینے لگیں۔ اس پانی کو پی کر اماں کو خاصا سکون ملا۔
” بھئی۔۔۔۔میں نے اپنے ساحل کو خواب میں دیکھا ہے ۔‘‘ یہ کہہ کر وہ پریشان سی ہوگئیں۔
ناصر مرزا نے ان کا چہرہ دیکھ کر اندازہ لگا لیا کہ اماں نے ساحل عمر کے بارے میں ضرور کوئی الٹا سیدھا خواب دیکھ لیا ہے۔ اس نے کہا : ’’اماں خوابوں کا کیا بھروسہ آپ نے ساحل کے بارے میں ضرور کوئی برا خواب کچھ لیا ہے۔“
”ناصر جب سے میں نے ساحل کو خواب میں دیکھا ہے میرا دل پریشان ہے۔ کسی طرح بہلتا ہی نہیں۔ میرا ساحل ضرور کسی مصیبت میں مبتلا ہے۔”
“آپ نے کیا دیکھا؟‘‘ ناصر مرزا نے پوچھا۔
“میں نے ایک جنگل بیابان دیکھا. اس جنگل میں میرا ساحل ننگے پاؤں ایک کالی چادر اوڑھے مارا مارا پھر رہا ہے۔ میں اسے دیکھ کر اس کے پیچھے بھاگتی ہوں۔ اسے آوازیں دیتی ہوں لیکن وہ کوئی بات سنتا ہی نہیں۔ میں چیخ چیخ کر اس کا نام پکارتی ہوں لیکن اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اتنے میں مرجینا مجھے اٹھادیتی ہے۔ اماں اٹھ جاؤ کوئی خواب دیکھ رہی ہو گیا؟ فورا ہی میری آ نکھ کھل جاتی ہے۔‘‘ اماں اپنا خواب سنا کر پھر پریشان ہو گئیں۔
ناصر مرزا کو محسوس ہوا جیسے وہ پھر رونے والی ہیں۔ ناصر مرزا فورا بولا: ’’اماں آپ بالکل پریشان نہ ہوں۔ خواب کی تعبیر ہمیشہ الٹی ہوتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ساحل عمر جہاں ہو گا آرام سے ہوگا۔ آپ بے فکر رہیں۔ میں ابھی حافظ موسی کی طرف جا رہا ہوں۔ ان سے اسسلسلے میں بات کرتا ہوں۔”
“چلو ٹھیک ہے۔‘‘
ناصر مرزا اٹھنے لگا تو اماں نے مرجینا کو اشارہ کیا۔ ’’چاۓ لاؤ۔‘‘
’’اچھا اماں جی ابھی لائی۔‘‘ یہ کہہ کر وہ تیزی سے کچن کی طرف بڑھی۔
“ارے مرجینا رکو. میں چاۓ نہیں پیوں گا۔ ابھی ناشتہ کر کے آرہا ہوں۔ وہ اماں سے مخاطب ہو کر بولا
“اچھا اماں میں چلتا ہوں۔ جو بھی بات ہو گی میں آپ کو فون پر بتا دوں گا۔“
“اچھا بھیا….اللہ تمہیں خوش رکھے‘‘
اماں ناصر مرزا کو گھر کے دروازے تک چھوڑ نے آئیں اور جب تک وہ گاڑی میں بیٹھ کر۔ روانہ نہیں ہو گیا گیٹ پر کھڑی رہیں۔
•●•●•●•●•●•
ناصر مرزا جب حافظ موسی کے گھر میں داخل ہوا تو اسے امید تھی کہ وہ حسب معمول چار پائی پر لاٹھی تھامے بیٹھے ہوں گے لیکن آج ناصرمرزا کو گھر کے پچھلے حصے میں جانے کی ضرورت نہ پڑی۔ وہ اسے گیٹ کے اندر آتے ہی نظر آ گئے۔ وہ املی کے درخت کے نیچے ایک مونڈھے پر بیٹھے تھے ہاتھ میں لاٹھی تھی۔ وہ لاٹھی کو دونوں ہاتھوں میں تھامے سر جھکائے بیٹھے تھے۔ ناصر مرزا نے نزدیک جا کر انہیں سلام کیا۔ سلام کا جواب دے کر انہوں نے پوچھا :
’’ناصر مرزا کیسے ہو؟‘‘
“حضرت میں تو ٹھیک ہوں لیکن ساحل عمر ابھی تک واپس نہیں آیا۔‘‘ ناصر مرزا نے وقت ضائع کیے بنا فورا ساحل عمر کا تذکرہ چھیٹر دیا۔
”میں نے تم سے کہا تھا کہ اسے ڈھونڈ نا ہوگا تم نے اسے کہاں تلاش کیا؟“
“حضرت میں نے اسے ڈھونڈا تھا۔ میں تو برکھا کے گھر میں بھی کود گیا تھا۔ وہ وہاں بھی نہیں تھا البتہ اس کی گاڑی ضرور وہاں کھڑی تھی۔ میں اس کی گاڑی وہاں سے نکال لایا۔ اس دن میں اس چاقو کی وجہ سے بچ گیا ورنہ برکھا نے مجھے جلانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔‘‘ ناصر مرزا نے ساری روداد سنائی۔
“اچھا وہ سفلی والی.اللہ اس سے بچاۓ۔ وہ پکی شیطان کی خالہ ہے۔” وہ مسکراۓ اور پھر لاٹھی میں بنی آنکھ سے اپنی آنکھ لگا لی۔
“حضرت پھر ساحل عمر کا کیا کروں. مجھے یقین ہے کہ وہ برکھا کے چنگل میں ہے۔” ناصر مرزا نے پوچھا۔
“ہاں وہ تھا اس کے چنگل میں… سفلی والی نے اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اب وہ اس کے چنگل سے نکل گیا۔‘‘ حافظ موسئ لاٹھی سے اپنی آ نکھ لگاۓ لگاۓ بولے۔
“اب وہ کہاں ہے؟‘‘ ناصر مرزا نے پھر سوال کیا۔
“اب وہ محفوظ ہاتھوں میں ہے…… اچھے لوگوں میں ہے۔۔‘‘ گول مول سا جواب ملا۔
“مجھے بتائیں. وہ کہاں ہے میں جا کر اسے لاؤں اماں نے رو رو کر برا حال کر رکھا ہے”
“اماں!‘‘ انہوں نے حیرت آمیز لہجے میں دہرایا…..
“اصل میں وہ ان کی گود میں پلا بڑھا۔ آپ آیا سمجھ لیں اس کی.‘‘ ناصر مرزا نے وضاحت کی
“اچھا. میں اس کے لیے تمہیں ایک چیز بتا دیتا ہوں ۔ ایک بوتل پانی پر پڑھ کر دے دینا۔ اسے پیتے ہی قرار آ جاۓ گا۔ اسے میرے حوالے سے بتا دینا کہ ساحل عمر کی طرف سے بالکل پریشان نہ ہو ۔ اسے آنے میں تھوڑا وقت لگے گا۔‘‘
“حضرت میں ساحل سے ملنا چاہتا ہوں… کیا وہ اسی شہر میں ہے؟‘‘
“نہیں. وہ یہاں سے بہت دور جا چکا ہے۔ میں اگر بتا بھی دوں کہ وہ کہاں ہے .تو تم اس سے مل نہ پاؤ گے۔ یوں سمجھو کہ وہ کسی اور دنیا میں اور لوگوں میں چلا گیا ہے۔ میں ہوں اس کی دیکھ بھال کے لیے ۔ تم پریشان مت ہو۔‘‘ انہوں نے تسلی دیتے ہوۓ کہا۔
“اب آپ کی زبان سے سن لیا ہے کہ وہ جہاں ہے ٹھیک ہے تو میرے دل کو قرار آ گیا ہے۔ اب میں اس سفلی والی کی خبر لیتا ہوں۔“
“کوشش کر دیکھو۔. ویسے وہ تمہارے قابو میں آۓ گی نہیں. وہ بہت عیار عورت ہے۔”
“اس نے میری بھتیجی کو مارا ہے۔ اس نے عابد منجم کو قتل کیا ہے ۔‘‘ ناصر مرزا کے لہجے میں تپش آ گئی۔
“تو کیا تم اسے قتل کر کے خود قاتل بننا چاہتے ہو؟‘‘ حافظ موسی نے تنبیہہ کی ۔
“جی تو یہی چاہتا ہے۔‘‘ ناصر مرزا نے کہا۔
“تو پھر اس میں اور تم میں کیا فرق رہے گا۔ تم بھی قاتل وہ بھی قاتل. تم بھی حرم وہ بھی مجرم- تم بھی سزا کے مستحق وہ بھی سزا کی مستحق۔‘‘
“پھر میں کیا کروں. میرے اندر انتقام کی آگ بھڑک رہی ہے۔”
“صبر کرو. وقت کا انتظار کرو۔ میں بھی یہیں ہوں۔ تم بھی یہیں ہو۔ میں بھی دیکھوں گا تم بھی دیکھو گے”
“جی بہت بہتر ‘‘ ناصر مرزا نے یہ بات بڑی مایوسی سے کہی۔
“بہت بہتر کہا ہے. تو میری بات کو بہتر سمجھو بھی‘‘ حافظ موسی نے اچانک اپنی آنکھ لاٹھی سے ہٹا لی اور اسے اپنی بے نور آنکھوں سے دیکھا۔
ناصر مرزا کو یوں محسوس ہوا جیسے وہ واقعی اس کو دیکھ رہے ہوں ۔ناصر مرزا نے فورا اپنی آنکھیں نیچی کر لیں۔ انہوں نے اس کے دل کا چور پکڑ لیا تھا۔
“اماں کے لیے آپ جو چیز بتانے والے تھے وہ بتا دیں میں پڑھ کر پانی کی بوتل ان سے حوالے کر دوں گا۔“
“ہاں. دیکھو ایسا کرنا۔” پھر ایک لمحے انہوں نے توقف کیا اس کے بعد بتا دیا کہ کیا پڑھ کر پھونکنا ہے۔ اس کے بعد بولے : ’’ ٹھیک ہے ناصر مرزا تم جاؤ‘‘
“اچھا حضرت.. میں چلتا ہوں۔” یہ کہ کر وہ اٹھا اور خاموشی سے ان کے گھر سے نکل آیا۔
•●•●•●•●•●•
تہکال نے تھوڑی ہی دیر میں ساحل عمر کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ اس کی گردن کو مضبوطی سے تھامتے ہی اس پر غنودگی کی سی کیفیت طاری ہوگئی تھی۔ جب ذرا اسے ہوش آیا تو اس نے خود کو ایک دریا کے کنارے پایا لیکن یہ دریا میدانی علاقے کا نہ تھا پہاڑی علاقے کا تھا۔ چاروں طرف خوبصورت مناظر پھیلے ہوۓ تھے۔
وہ چھوٹے مگر گول پتھروں پر لیٹا ہوا تھا۔ اس کے برابر سے ٹھنڈے اور شفاف پانی کا دریا جھاگ اڑاتا بہ رہا تھا سامنے پانی میں تہکال بیٹھا تھا۔ وہ اپنے پاؤں کسی بلی کی طرح چاٹ رہا تھا۔ ساحل عمر اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اس نے دریا کے کنارے بیٹھ کر ٹھنڈے میٹھے پانی سے اپنا منہ دھویا۔ پھر چلو میں پانی لے کر خوب سیر ہو کر پیا۔ پانی بہت لطیف تھا۔ کوئی آ دم نہ آدم زاد۔ اس نے تہکال کی طرف دیکھا۔ تہکال نے اپنا پاؤں چاٹنا فورا چھوڑ دیا اور اپنی خوبصورت آنکھوں سے اسے دیکھا۔ اٹھ کر آیا اور اس کی پیٹھ سے پیٹھ لگا کر بیٹھ گیا۔
ساحل عمر نے اپنا ایک ہاتھ پیچھے کر کے اس کے سر پر پھیرا اور بولا : ’’تم مجھے کہاں لے آۓ ہو؟“
“اس وقت آپ کاغان میں ہیں؟‘‘
“ہیں. وہ کون بولا۔ کیا تہکال؟” اس نے فوراً مڑ کر اس کی طرف دیکھا۔ تہکال بڑے آرام سے لیٹا ہوا تھا۔ ساحل عمر نے اس کی طرف دیکھتے ہوۓ پوچھا: ’’یہ کاغان ہے؟‘‘
“جی یہ کاغان ہے۔‘‘ فوراً جواب ملا لیکن یہ جواب تہکال نے نہیں دیا تھا۔
یہ جواب اس شخص نے دیا تھا جو تہکال کی انتہائی بائیں جانب دم کے نزدیک کھڑا تھا اور اسے دیکھنے کے لیے ساحل عمر کوا پنی گردن خاصی گھمانا پڑی اور جب اس شخص پر نظر پڑی تو وہ حیران ہو کر ایک دم کھڑا ہوگیا۔
“بازغر تم. یہ تم ہو؟‘‘ ساحل عمر نے کہا۔
“جی ساحل صاحب۔ یہ میں ہوں۔ آپ کا خادم !‘‘ بازغر کے لہجے میں بڑی فرمانبرداری تھی
“تم میرے کب سے خادم ہو گئے. اور یہ سب کیا ہے؟‘‘
“کچھ نہیں ہے…. یہ تہکال ہے۔ اس علاقے کا نام کاغان ہے۔ اب ہمیں یہاں سے نکلنا ہے۔ آگے چلنا ہے۔ ابھی ہماری منزل نہیں آئی۔” اس نے مسکرا کر کہا۔
“ہمہاری منزل کہاں ہے؟‘‘۔
“زیادہ دور نہیں ہے. چند گھنٹوں کا سفر ہے. چلئیے چلیں۔ پہلے چل کر کچھ کھا پی لیں۔” ان دونوں کے چلتے ہی تہکال بھی اٹھ کھڑا ہوا اور پھر وہ دریا میں اتر گیا۔ کچھ دیر تو وہ پانی میں نظر آیا پھر اچانک ہی غائب ہو گیا۔ یوں محسوس ہوا جیسے وہ پانی میں غوطہ لگا گیا ہو۔
“کیا دیکھ رہے ہیں؟‘‘ بازغر نے ساحل عمر کو دریا کی جانب حیرت آمیز انداز میں دیکھتے ہوۓ پایا تو پوچھا۔
“تہکال کو دیکھ رہا تھا۔‘‘ ساحل عمر نے جواب دیا۔ ’’ دیکھتے ہی دیکھتے غائب ہو گیا۔“
“اب تو آپ کو اس بات کا عادی ہو جانا چاہیے۔ وہ آپ کو کہاں سے کہاں لے آیا. اور کتنے کم وقت میں اس بات کا اندازہ ہے آپ کو۔ تہکال بہت زبردست چیز ہے۔ اس کا کوئی جواب نہیں” بازغر نے دریا کی طرف دیکھتے ہوۓ تہکال کی تعریف کی۔
“مجھے اس بات کا بخوبی اندازہ ہے۔ واقعی تہکال کوئی انوکھی شے ہے۔‘‘ ساحل عمر بولا ۔
“آپ ننگے پاؤں ہیں. یہ لیجئے میرے چپل پہن لیجئے۔” بازغر نے اپنے سینڈل اتارتے ہوئے کہا۔ “ابھی آپ کو پیدل چلنا پڑے گا۔ اوپر کا غان کے بازار میں پہنچ کر آپ کے لیے کچھ انتظام کرتا ہوں۔”
ساحل عمر کو یاد آیا کہ جب وہ قبر والے کمرے میں تھا۔ اس کے پاؤں میں جوتے نہ تھے۔ وہاں سے چترو بھیل اسے لے اڑا۔ چترو بھیل کے ساتھ اس نے جتنا سفر کیا۔ ننگے پاؤں ہی کیا۔ اب اسے پھر ننگے پاؤں چلنا تھا۔ یہ پہاڑی علاقہ تھا۔ یہاں ننگے پیر چلنا آسان نہ تھا۔ اس لیے اس نے بازغر کے چپل پہن لینے میں ہی عافیت جانی۔ اگرچہ وہ سینڈل اس کے پاؤں میں تھوڑے سے بڑے تھے لیکن ننگے پاؤں چلنے سے کہیں بہتر تھا کہ بڑے سینڈل پہن لیے جائیں۔
بازغر نے کاغان کے ایک اچھے ہوٹل میں اسے ٹھہرایا اور کمرے میں پہنچ کر بولا ۔ ’’آپ اتنی دیر میں نہا دھولیں میں ذرا بازار گھوم کر آ تا ہوں۔”
ساحل عمر جب نہا دھو کر باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ بیڈ پر شلوار قمیص کا ایک جوڑا رکھا ہے اور اس کے ساتھ نئے سینڈل نما چپل رکھے ہیں۔ اس نے فورا کپڑے تبدیل کر لیے اور بیڈ پر نیم دراز ہو گیا
چند لمحوں بعد دروازے پر دستک ہوئی۔ ساحل عمر نے دروازے کی طرف منہ کر کے زور سے کہا۔ “آ جاؤ بھئی”
اس کا خیال تھا کہ ہوٹل کا کوئی بیرا ہوگا۔ کچھ کھانے پینے کا پو چھنے آیا ہوگا لیکن جب دروازہ کھلا تو اسے سامنے بازغر نظر آیا جس کے ہاتھ میں لوازمات سے بھری ٹرے تھی۔
“ارے یہ آپ کیوں لاۓ؟ ہوٹل کے کسی بندے سے کہہ دیا ہوتا۔” ساحل عمر اٹھتا ہوا بولا۔
“یہ سب چیزیں میں اپنی نگرانی میں تیار کر وا کر لایا ہوں۔ آپ کو بھوک لگی ہوگی۔”
“ہاں بھوک تو شدید لگی ہے۔‘‘ ساحل عمر نے ناشتے کے سامان سے بھری ٹرے کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔
“بس تو پھر شروع ہو جایئے۔ میں جب تک جیپ کا انتظام کر کے آتا ہوں۔ آپ کچھ دیر آرام کر یں گے یا فورا ہی چلیں گے۔‘‘ جاتے جاتے اس نے پوچھا۔
“ناشتہ کرنے کے بعد مجھے بس ایک گھنٹے کا ریسٹ دے دیں۔ پھر جہاں کہیں گے چلوں گا۔ ویسے جانا کہاں ہے؟‘‘ ساحل عمر نے پوچھا۔
“آپ کبھی اس علاقے میں آۓ ہیں؟‘‘ بازغر نے سوال کیا۔
“نہیں آج تک نہیں…. ویسے سوات گلگت کشمیر اور مری وغیرہ میں نے دیکھ رکھے ہیں“ اس نے بتایا۔
“بس تو پھر اب اس علاقے کا حسن دیکھئے میں آپ کو جھیل سیف الملوک تک لے چلوں گا۔”
“وہ جھیل سیف الملوک جس کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ وہ اتنی حسین ہے کہ وہاں پریاں اترتی ہیں۔ کیا واقعی ایسا ہے؟‘‘ ساحل عمر نے بڑے اشتیاق بھرے لہجے میں پوچھا۔
”کیا آپ پریوں پر یقین رکھتے ہیں؟‘‘ وہ جاتے جاتے ٹھہر گیا اور ایک کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا
“میں نے آج تک کوئی پری نہیں دیکھی۔‘‘ ساحل عمر نے ہنس کر جواب دیا۔ ’’پھر یقین کیونکر آۓ ۔“
“کیا آپ نے کوئی جن دیکھا ہے؟‘‘ بازغر نے سوال کیا۔
“نہیں میں نے کوئی جن بھی نہیں دیکھا ۔‘‘ وہ بولا ۔
”کیا آپ ان کے وجود کے قائل ہیں؟‘‘ بازغر نے پوچھا۔
“ہاں بالکل. جنات کا ذکر اللہ کی آخری کتاب میں موجود ہے۔”
“گویا آپ کا ان چیزوں پر بھی یقین ہے جو آپ نے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھیں”۔
“جی بالکل…۔میں اپنے خالق پر یقین کامل رکھتا ہوں۔ حالانکہ میں نے اسے نہیں دیکھا۔ ۔”
“اللہ کی بات کر رہے ہیں؟‘‘ بازغر نے وضاحت چاہی۔
“جی ہاں اس عظیم ہستی کی بات کر رہا ہوں جو ازل سے ہے اور ابد تک رہے گی۔”
“آپ کیا سمجھتے ہیں ۔میرے اور آپ کے اللہ نے بس یہ دنیا ہی بنائی ہے؟” بازغر نے ایک نیا سوال اٹھایا۔
“نہیں… ہماری دنیا کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے اس کائنات میں… چاند سورج، ستارے سیارے۔ یہ ایک ہمارا نظام شمسی ہے۔ جانے ایسے کتنے نظام شمسی ہوں گے۔ ہمارے سائنسدان تحقیق میں لگے ہیں۔ مریخ پر انہوں نے زندگی کے آثار تلاش بھی کر لیے ہیں۔‘‘ ساحل عمر نے بات آگے بڑھائی
“آپ کا کیا خیال ہے ۔ ہمیں اور آپ کو تخلیق کرنے والے نے یہ چاند یہ سورج یہ ستارے یہ سیارے بس یونہی بنا کر چھوڑ دیے. بے مقصد… میں سمجھتا ہوں کہ جب اللہ کوئی چیز بناتا ہے تو دیکھنے والے بھی بناۓ۔ چاہے یہ انسان کی صورت میں ہوں یا جنات کی صورت میں یا کسی اور مخلوق کی صورت میں ہوں۔ عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنا اظہار چاہتا ہے۔ اپنے وجود کا اقرار چاہتا ہے اپنی وحدت کو تسلیم کروانا چاہتا ہے۔ یہ دنیا ہوتی لیکن دنیا والے نہ ہوتے تو پھر دنیا میں بکھرے ہوۓ حسن کو کون دیکھتا اور جب کوئی دیکھنے والا نہ ہوتا تو تخلیق والے کو کون پہچانتا۔ میں اصل میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ اللہ نے دنیا کے علاوہ جو کچھ پیدا کیا ہے وہاں ان کو دیکھنے والے بھی پیدا کیے ہوں گے۔ ممکن ہے کسی سیارے پر شیشے کے انسان بستے ہوں۔ ہوسکتا ہے کسی اور سیارے پر اسٹیل کے انسان پیدا کیے گئے ہوں۔ ممکن ہے سورج پر بھی کوئی مخلوق آ باد ہو۔ آپ دور کیوں جائیں اپنی دنیا کو ہی لے لیں ممکن ہے اس دنیا میں انسان اور جنات کے علاوہ بھی جانے کتنی مخلوق آباد ہو۔ انسان کی نظر محدود ہے۔ ممکن ہے وہ دوسری مخلوق کو دیکھ نہ پاتا ہو۔ ممکن ہے پریوں کا بھی وجود ہو۔ ہمیں سوچنا چاہیے تفکر کرنا چاہیے۔ جب آدمی سوچتا ہے تفکر کرتا ہے تو چیز یں وجود میں آنے لگتی ہیں۔ ایجادات ہونے لگتی ہیں۔ ہم جو کچھ ایجاد کر تے ہیں اس کا وجود پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ وہ ’’موجود‘‘ تفکر کے ذریعے ہمارے خیال کی گرفت میں آ جاتا ہے ۔ اس کائنات میں جتنی بھی مخلوق ہے اس کے دماغ ایک دوسرے سے خیال کی لہروں کے ذریعے جڑے ہوۓ ہیں۔ یہ انسان نے جو کمپیوٹر ایجاد کیا ہے اور ان کمپیوٹروں کو دنیا میں کھلے ہوئے کمپیوٹروں کو انٹرنیٹ کے ذریعے جو جوڑا ہے تو یہ خیال کہاں سے آیا؟ یہ سوچنے کی بات ہے۔ جس طرح کمپیوٹر کو ایک عام آدمی نہیں چلا سکتا ایسے ہی کائنات میں پھیلی دوسری مخلوق سے ہر شخص رابطہ نہیں کر سکتا۔ یہ رابطہ ایک تربیت یافتہ ذہن ہی کر سکتا ہے۔ یہ دماغ کسی خاص انسان کا ہی ہوسکتا ہے۔ ایسا انسان جسے اللہ کا قرب حاصل ہو۔‘‘ یہ کہہ کر بازغر خاموش ہو گیا۔
کچھ دیر کمرے میں گہری خاموشی چھائی رہی۔ ساحل عمر بازغر کو حیرت بھری نظروں سے دیکھتا رہا۔ وہ بازغر کو ایک عام سا آدمی سمجھ رہا تھا لیکن اس نے ابھی جو کچھ کہا تھا وہ ایک عام آ دمی کی سمجھ میں آنے والی باتیں نہ تھیں۔
“آپ کون ہیں؟‘‘ ساحل عمر نے بالاخر پوچھ ہی لیا۔
“میں. اللہ کی مخلوق ہوں۔” بازغر نے غیر واضح جواب دیا۔
“انسان ہیں؟‘‘ ساحل عمر نے وضاحت چاہی۔
“انسان ہونا کتنا مشکل ہے۔ کاش میں انسان بن سکتا ۔‘‘ بازغر نے بڑی ذہانت سے جواب
دیا۔ اس جواب سے کسی قسم کا اندازہ کرنا مشکل تھا۔
ساحل عمر نے اسے مسکرا کر دیکھا بولا کچھ نہیں وہ بھلا اس اسے اور کیا پوچھتا
تب بازغر فورا اٹھ کھڑا ہوا اور بولا ۔’’اچھا‘ میں چلتا ہوں۔ آپ کو خوامخواہ باتوں میں الجھا دیا آپ اطمینان سے ناشتہ کیجئے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گیا۔
اس نے ساحل عمر کے جواب کا بھی انتظار نہ کیا۔ ناشتہ کرنے کے بعد ساحل عمر پر نیند کا سا غلبہ ہونے لگا۔ وہ بیڈ پر پاؤں پھیلا کر لیٹ گیا۔ لیٹے لیٹے اس کا دھیان برکھا کی طرف چلا گیا۔ برکھا اپنی ساحرانہ صلاحیتوں میں اضافہ کے لیے اسے قربان کرنا چاہتی تھی۔ وہ اس کی جان کے در پے تھی۔ ساحل اس کے سحر میں مبتلا ہو کر اس کے بنگلے پر پہنچ گیا تھا۔ برکھا نے اسے چترو بھیل کے استھان پر پہنچا دیا۔ چترو بھیل صحرا کا ایک بڑا ساحر تھا اس کی موت واقع ہوۓ پانچ سال کا عرصہ ہو چکا تھا۔ چترو بھیل کی روح کاویری سے اپنی موت کا انتقام لینا چاہتی تھی۔ اس نے ساحل عمر کو برکھا سے چھین لیا۔ وہ اسے لے اڑا۔ ابھی وہ چترو بھیل کے چنگل میں پھنسا اس کے انتقام کا ذریعہ بننے والا تھا کہ کا اسے وہاں سے نکال لیا۔ فضا اور مقام بدل گیا لوگ بدل گئے۔ اب وہ ایک پہاڑی مقام پر بازغر کی تحویل میں تھا۔
ساحل عمر سوچ رہا تھا کہ شاید وہ کوئی سونے کی چڑیا ہے جسے ہر شخص حاصل کرنے کے چکر میں ہے۔ برکھا اور چترو بھیل کا معاملہ تو اس کی سمجھ میں آ گیا کہ ایک اپنی ساحرانہ قوتیں بڑھانے اور ایک اپنے انتقام کا ذریعہ بنانا چاہتا تھا۔ اب یہ بازغر کس پھیر میں ہے اور وہ اسے جھیل سیف الملوک کیوں لے جانا چاہتا تھا یہ بات اس کی سمجھ سے بالاتر تھی۔ ابھی تک اس کے رویے سے یہ تاثر نہیں ملا تھا کہ وہ اس کی قید میں ہے۔ وہ اس کے ساتھ نہایت پر وقار طریقے سے پیش آ رہا تھا۔ اسے انتہائی اہم شخص سمجھ رہا تھا۔ ساحل کے ساتھ اس کا برتاؤ ایک غیر معمولی شخص جیسا تھا۔ حالات کا تجزیہ کرتے کرتے اس کی آنکھوں میں نیند اتر نے لگی۔ چندلمحوں بعد وہ نیند میں ڈوب گیا۔
دروازے پر دستک کی آواز سے اس کی آنکھ کھلی تو اسے اندازہ ہوا کہ وہ دو گھنٹے سے زائد سو چکا ہے۔ وہ فورا اٹھ کر دروازے پر پہنچا۔ اس نے دروازہ کھولا تو بازغر کھڑا مسکرا رہا تھا۔
“آپ کو میں نے نیند سے تو نہیں اٹھا دیا۔ آپ نے مجھ سے ایک گھنٹہ آرام کی بات کی میں تو ڈھائی گھنٹے کے بعد واپس آیا ہوں۔ میں جیپ لے آیا ہوں۔ جیپ ہوٹل کے باہر کھڑی ہے۔ آپ منہ ہاتھ دھو کر باہر آ جائیے ۔ تب تک میں ہوٹل والوں کا حساب چکاتا ہوں۔” اور پھر وہ دروازے سے ہی واپس چلا گیا۔
ساحل عمر نے باتھ روم میں جا کر منہ ہاتھ دھویا۔ اس کی ساری تھکن دور ہو چکی تھی۔ وہ اس وقت خود کو تاز و دم محسوس کر رہا تھا۔ کمرے میں اس کا کوئی سامان نہ تھا۔ بس وہ کپڑے تھے جواس نے اتارے تھے۔ اس نے ان کپڑوں کو ہاتھ روم میں ہی چھوڑ دیا اور کمرے سے باہر نکل آیا۔
جب وہ ہوٹل کے دروازے سے باہر نکلا تو بازغر کو اپنا منتظر پایا۔ بازغر نے جیپ کا اگلا دروازہ کھول کر اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود وہ پیچھے چلا گیا۔ جیپ کا ڈرائیور ایک نو جوان تھا اور اپنے چہرے مہرے سے کشمیری دکھائی دیتا تھا۔
“چلو بھائی!‘‘ بازغر نے پیچھے سے گرین سگنل دیا۔ جیپ چل پڑی۔
کاغان سے ناران تک سفر ایک کچی سڑک پر طے ہوا۔ درمیان میں متعدد بار گلیشیئر آۓ۔ جیپ ہچکولے کھاتی ان گلیشیروں کے اوپر سے گزری۔ بالاخر ناران آ گیا۔
ناران کے سب سے اچھے ہوٹل میں بازغر نے ساحل عمر کو ٹھہرایا۔ کھانا کھانے تک بازغر ساحل عمر کے ساتھ رہا۔ پھر یہ کہہ کر چلا گیا کہ اب وہ کل صبح اس کے پاس آۓ گا۔ ناشتہ کرنے کے بعد وہ جھیل سیف الملوک کا سفر اختیار کریں گے۔
ساحل عمر اسے ہوٹل کے گیٹ تک چھوڑنے آیا۔ اس کے جانے کے بعد ساحل عمر نے اطراف کا جائزہ لیا۔ یہ ہوئل بہت خوبصورت جگہ واقع تھا۔ ساحل عمر یونہی ٹہلتا ہوا ہوٹل کی حدود ۔ سے باہر نکل آیا
پھر وہ تختوں والا چھوٹا سا پل کراس کر کے ناران کے بازار میں آ گیا۔ ایک لمبا اور دور تک پھیلا ہوا بازار تھا۔ اس نے بازار کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک چکر لگایا اور پھر اپنے ہوٹل واپس آ گیا۔
ہوٹل کے دروازے سے ایک فیملی باہر نکل رہی تھی۔ دو تین لڑکیوں کے ساتھ ایک بزرگ خاتون تھیں۔ ان خاتون میں ’’اماں‘‘ کی بڑی شباہت تھی۔ انہیں دیکھ کر اسے اپنی اماں یاد آ گئیں۔ اسے گھر سے نکلے کئی دن ہو گئے تھے۔ وہ گھر سے نکلا بھی کس قدر عجلت میں تھا۔ اس نے اماں سے بھی بات نہ کی۔ بس گاڑی میں بیٹھ کر گھر سے نکل آیا۔ اس کے آنے کے بعد جانے اماں کا کیا حال ہوا ہو۔ انہیں اس کی اس حرکت پر کس قدر صدمہ ہوا ہوگا۔ ناصر مرزا اور مسعود آفاقی الگ پریشان ہوں گے۔ اسے چاہیے کہ وہ یہاں سے اماں کو ٹرنک کال کرے۔ انہیں فون پر بتا دے کہ وہ کہاں ہے۔ یہ سوچ کر اس نے ہوٹل کے ٹیلی فون آپریٹر کو اپنے گھر کا نمبر دیا اور ارجنٹ کال ملانے کی ہدایت کی۔ اس کی قسمت اچھی تھی کہ کوئی دس پندرہ منٹ بعد ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ ریسیور اٹھایا تو آپریٹر کی آواز سنائی دی۔’’سرکرا چی بات کیجئے۔“
“اچھا!‘‘ سائل عمر نے بے قراری سے کہا۔’’ ہیلو!‘‘
“آپ کون؟‘‘ ادھر سے مرجینا کی آواز سنائی دی۔
“مرجینا میں ساحل بول رہا ہوں. اماں کو بلاؤ ۔‘‘ ساحل نے اس کی آواز پہچان کر کہا۔ “ارے صاحب جی آپ ماں جی جلدی آئیں‘‘ مر جنیا اس کا نام سن کر خوشی سے دیوانی ہوگئی۔ وہ زور سے چیخی ۔ “صاحب جی کا فون ہے۔”
اماں اپنے کمرے میں عصر کی نماز پڑھ کر مصلے پر بیٹھی ساحل عمر کے لیے دعامانگ رہی تھیں کہ مرجینا کی بے تابانہ آواز کان میں پڑی۔ وہ مصلہ سمیٹ کر فورا اٹھ کر بھا گیں۔ “میرے اللہ نے میری سن لی۔ میرے ساحل کا فون آ گیا۔”
“صاحب جی اماں آگئی لیں بات کریں۔” مرجینا نے یہ کہہ کر ریسیور اماں کے ہاتھ میں دے دیا اور وہیں کھڑے ہو کر اماں کی گفتگو سننے لگی۔
“میرے ساحل میری جان تم کہاں ہو؟‘‘ اماں بے قراری سے بولیں۔
’’اماں اس وقت میں ناران میں ہوں۔ میں بالکل ٹھیک ہوں۔ مجھ سے غلطی ہوگئی کہ آپ کو بتاۓ بغیر گھر سے نکل آیا۔ آپ پریشان نہ ہوں۔ میں جلد ہی کراچی واپس آ جاؤں گا۔” اس نے جلدی جلدی اپنے بارے میں بتا کر اماں کو تسلی دی۔
“ساحل عمر شکر ہے اللہ کا کہ تمہارا فون آ گیا۔ تم جہاں ہؤ خیریت سے رہو۔ بس اتنا جاننا میرے لیے کافی ہے۔ ناصر اور مسعود بھی تمہارے لیے پریشان تھے۔ اب میں فون کر کے انہیں تمہاری خیریت بتاۓ دیتی ہوں۔ تمہارے یہ دونوں دوست بہت اچھے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف میرا خیال رکھا بلکہ تمہارے لیے تو یہ بھائیوں کی طرح پریشان تھے۔‘‘ اماں نے کہا۔
“صاحب جی! اماں جی نے خود اپنا رو رو کر برا حال کیا ہوا ہے۔‘‘ مرجینا نے ریسیور کے قریب اپنا منہ کر کے کہا۔
“اماں! یہ مر جینا.کیا کہہ رہی ہے۔ آپ اپنا خیال رکھیں۔ بس اب بالکل رونے دھونے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں کل جھیل سیف الملوک جاؤں گا۔ یہاں بازغر میرے ساتھ ہے۔ اماں آپ کو دہ شخص یاد ہے ناں جو ایک چیتے کی تصویر بنوانے آیا تھا؟‘‘ ساحل عمر نے اماں کو یاد دلایا۔
“ہاں اسے میں کیسے بھول سکتی ہوں۔ وہ تمہاری غیر موجودگی میں یہاں آیا تھا۔ کیا تم نے اسے بھیجا تھا۔‘‘ اماں کو فو را بازغر کا گھر میں آنا یاد آ گیا۔
“نہیں اماں…. میں نے تو اسے نہیں بھیجا۔ وہ کیا کہنے آیا تھا۔‘‘ ساحل عمر نے سوال کیا۔
“اے بھیا. اس نے کہا وہا تو کچھ نہیں. اس وقت گھر میں ناصر اور مسعود دونوں موجود تھے۔ وہ ہم تینوں کو گھر میں چھوڑ کر گھر میں گھستا چلا گیا۔ جب ہم لوگ اس کے پیچھے گھر میں آۓ تو وہ ہمیں کہیں نہیں ملا۔ جانے وہ کدھر سے نکل گیا اور ساتھ میں تصویر بھی لے گیا۔۔”
’’ تصور!‘‘ ساحل عمر نے حیرت سے پوچھا۔ ’’اماں! کون سی تصویر؟ کہیں وہ رشا ملوک کا تصویر میرا مطلب ہے وہ دلہن والی تصویر تو نہیں لے گیا جو میرے بیڈ روم میں لگی تھی۔‘‘ سال عمر نے پریشان ہو کر کہا۔
”ہاں ساحل وہی تصویر.. وہ لے اڑا۔‘‘ اماں نے شکایتی انداز میں کہا۔ ’’بھیا مجھے تو وہ کوئی جن ون لگتا ہے۔ گھر میں گھستے تو سب نے دیکھا تصویر لے کر گھر سے نکلتے کسی نے نہ دیکھا۔ کوئی جادوگر ہے کہ سب کو اندھا کر کے نکل گیا۔ اب تم بتا رہے ہو کہ وہ تمہارے ساتھ ہے تو کیا اس نے یہاں آنے اور تصویر اپنے ساتھ لے جانے کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔”
“نہیں اماں! اب وہ صبح آۓ گا تو اس سے بات کروں گا۔‘‘ ساحل عمر نے فکرمند ہو کر کہا۔ ۔
’’اچھا اماں! اب آپ پریشان مت ہونا۔ میں بہت جلد آپ کے پاس پہنچ جاؤں گا۔ اچھا خدا حافظ”
“اللہ تمہیں حفظ و امان میں رکھے۔خدا حافظ !‘‘

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: