Anwar Aleegi Urdu Novels

Bichoo Novel By Anwar Aligi – Episode 18

Bichoo Novel By Anwar Aligi
Written by Peerzada M Mohin
 بچھو از انوار علیگی – قسط نمبر 18

–**–**–

ساحل عمر ریسیور رکھ کر سوچ میں پڑ گیا۔ بازغر اس کے گھر جا کر رشا ملوک کی تصویر کیوں لے آیا؟ اسے یاد آیا کہ وہ رشا ملوک کی تصویر خریدنا چاہتا تھا۔ ساحل عمر کو یہ بھی یاد آیا کہ وہ اس تصویر کو خریدنے کے لیئے ایک کروڑ سے زائد دینے کو تیار تھا۔ بالاخر وہ اس تصویر کو گھر میں موجود لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اڑا لایا اور اس نے ساحل عمر کو اس سلسلے میں کچھ بتایا بھی نہیں۔ بازغر کے بارے میں وہ پہلے ہی مشکوک تھا۔ اس لیے اس نے اس سے پوچھا تھا کہ آپ کون ہیں؟ اور وہ اس بات کا جواب غیر واضح انداز میں دے کر اپنا پہلو بچا گیا تھا۔ اب اماں نے جس طرح اس کے گھر میں داخل ہونے کی تصویری کشی کی ہے۔ اس سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ وہ انسان نہیں ہے کوئی اور مخلوق ہے یا پھر کوئی بڑا ساحر ہے اور آج اس نے جس انداز کی باتیں کیں اس سے اندازہ ہوا کہ وہ نہ صرف ایک ذہین شخص ہے بلکہ جدید معلومات بھی رکھتا ہے۔
وہ اس سے کیا چاہتا ہے۔ اسے جھیل سیف الملوک کیوں لے جانا چاہتا ہے۔ رشا ملوک کی تصویر اس نے کیوں اڑائی وہ اسے اس قدر اہمیت کیوں دے رہا ہے ان ساری باتوں کے پیچھے کیا سازش چھپی ہوئی ہے؟ برکھا اور چتر وبھیل کی طرح کیا یہ بھی کوئی مذموم مقاصد رکھتا ہے۔
وہ بازغر کے بارے میں سوچتا رہا اور الجھتا رہا لیکن کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا۔
ساحل عمر کی آنکھ کسی آواز پر کھلی تھی۔ آ نکھ کھلنے پر احساس ہوا کہ کوئی دروازے پر بڑے مہذبانہ انداز میں دستک دے رہا ہے۔ کمرے میں روشنی ہو رہی تھی۔ اس سے اس نے اندازہ لگایا کہ صبح ہو چکی ہے۔ پھر اس نے تکیے کے نیچے سے اپنی رسٹ واچ نکال کر ٹائم دیکھا۔ صبح کے آٹھ بج رہے تھے۔
وہ جلدی سے اٹھا۔ اٹھ کر دروازہ کھولا تو سامنے ہنستا مسکراتا بازغر نظر آیا۔ وہ شلوار قمیص پر کڑھی ہوئی کوٹی پہنے ہوۓ تھا۔ سر پر گول ٹوپی تھی اور اس ٹو پی کے سامنے ایک چھوٹا سا رنگ برنگا پر لگا ہوا تھا۔ وہ اس وقت خاصا ترو و تازہ نظر آ رہا تھا۔
“آپ ابھی تک سو ر ہے ہیں؟‘‘ اس نے کمرے میں داخل ہوتے ہوۓ پوچھا۔
“رات کو ذرا دیر سے نیند آئی۔‘‘ ساحل عمر نے اس کا چہرہ بغور دیکھتے ہوئے کہا۔ اس کے ماغ میں کل شام اماں سے ہونے والی گفتگو گونجنے لگی۔
یہ شخص کس قدر معصوم بنا ہوا ہے۔ اس کے گھر جا کر اس کی غیر موجودگی میں پینٹنگ چرا لایا اور اس بات کا ذکر ابھی تک نہیں کیا۔ ساحل عمر کو بڑا غصہ تھا۔ وہ چاہ رہا تھا کہ اس کے کمرے میں داخل ہوتے ہی اس پینٹنگ کے بارے میں سوال کرے۔ پھر کچھ سوچ کر رک گیا۔ ابھی کچھ دیر انتظار کرنا چاہیے ہوسکتا ہے وہ خود ہی ذکر کر دے۔
“کیوں کیا سوچتے رہے؟‘‘ بازغر نے پوچھا۔
“بازغر صاحب! میں آپ کے بارے میں سو چتا رہا۔” وہ واش روم جاتے جاتے رک گیا۔ ۔اس نے اسے ترچھی نظروں سے دیکھا۔
“میرے بارے میں سوچتے رہے۔ میں بھی کوئی سوچنے کی چیز ہوں۔” اس کے لہجے میں بڑی انکساری تھی۔
“کیوں نہیں… کل آپ نے بہت اچھی باتیں کیں میں آپ کی باتوں سے خاصا متاثر ہوا”
’’آپ کیوں مجھے بنارہے ہیں۔‘‘ “میں بنارہا ہوں یا آپ مجھے بنا رہے ہیں؟‘‘ یہ بات اس نے کہنا چاہی لیکن ضبط کر گیا۔ “میں ذرا منہ ہاتھ دھو لوں۔ آپ اتنی دیر میں اپنی پسند کا ناشتہ منگوا لیجیے۔ آپ نے ابھی تک ناشتہ تو نہیں کیا ہوگا؟‘‘
”میں تمام کاموں سے فارغ ہو کر آ رہا ہوں۔‘‘ وہ خوشدلی سے بولا۔
“رات کو آپ کہاں رہے؟‘‘ ساحل عمر نے سوال کیا۔
“ارے ساحل عمر صاحب! ہم غلاموں کا کیا ہے۔ جہاں جگہ ملی سو گئے۔‘‘ بازغر نے گول مول سا جواب دیا۔ پھر فورا ہی بولا۔ ’’آپ جلدی سے منہ ہاتھ دھو لیجیے میں ناشتہ منگوا رہا ہوں۔ ذرا جلدی نکلنا ہے۔
“اچھا ٹھیک ہے۔” یہ کہہ کر ساحل عمر واش روم میں گھس گیا۔
ناشتے سے فارغ ہو کر بازغر نے کہا۔’’آیئے اب چلیں. جیپ والا ہمارا انتظار کر رہا ہے”
ساحل عمر فورا کھڑا ہو گیا۔ وہ دونوں کاؤنٹر پر آۓ۔ بازغر نے کمرے کی چابی واپس کی۔ ہوٹل کا حساب کتاب کیا اور ساحل عمر کی طرف مسکرا کر دیکھا اور آنکھ سے باہر نکلنے کا اشارہ کیا۔ بازغر نے ہوٹل کا حساب کر دیا تھا۔ چابی بھی واپس دے دی تھی۔ اس سے ساحل عمر نے اندازہ لگایا کہ اب ادھر لوٹ کر نہیں آ نا یا اگر آنا ہے تو اس ہوٹل میں واپس نہیں آنا۔ ساحل عمر کو یہ بات معلوم تھی کہ جھیل سیف الملوک پر کوئی ہوٹل نہیں۔ لوگ وہاں صبح جاتے ہیں اور شام تک ناران واپس آ جاتے ہیں۔ ہوسکتا ہے بازغر کا واپسی پر ناران رکنے کا ارادہ نہ ہو۔ وہ سیدھا کاغان نکل جانا چاہتا ہو۔ اس نے اس مسئلے پر بازغر سے کوئی بات نہ کی۔ وہ اس کے پیچھے پیچھے ہوٹل سے باہر نکل آیا۔
پھر وہ جیپ میں بیٹھ کر جھیل سیف الملوک کی طرف چل دیئے۔ ان کی جیپ کچے اور پتھر یلے راستے پر چل رہی تھی۔ یہ ایک خطرناک راستہ تھا۔ کبھی اونچائی کبھی ڈھلان جیپ موڑ کاٹتی تو سینے میں دم اٹکتا۔ یوں محسوس ہوتا کہ جیپ اب کھائی میں گری تب گری۔ جیپ کا ڈرائیور ایک ماہرشخص تھا۔ وہ بڑی مشتاقی سے جیپ چلا رہا تھا۔ پھر بھی دل لرز رہا تھا۔
جیپ میں خاموشی چھائی تھی۔
خدا خدا کر کے یہ سفر ختم ہوا۔ گلیشئر آ گیا تھا۔ اس ایک فرلانگ کے گلیشئر کو پیدل طے کرنا تھا۔ یوں گلیشئر کے اس پار پہنچانے کے لیے گھوڑے بھی یہاں موجود تھے لیکن ساحل عمر نے پیدل چلنے کو ترجیح دی۔ یہ ایک خطرناک برفانی راستہ تھا۔ سیمینٹ کی طرح جمی ہوئی برف اس پر اس طرح سنبھل سنبھل کر چلنا کہ پاؤں نہ پھسلے۔ ایک طرف برف کی دیوار دوسری طرف کھائی اور مشکل سے ایک فٹ چوڑا راستہ۔
شروع میں ساحل عمر کو تھوڑی سی دقت ہوئی لیکن پھر اسے اس گلیشیئر کو پار کرنے میں مزہ آنے لگا ابھی صبح کا وقت تھا۔ اس لیے لوگوں کا زیادہ رش نہیں تھا۔ پھر بھی کئی فیملیاں ان کے آگے پیچھے تھیں اور جھیل سیف الملوک جانے والوں میں عورتیں بھی تھیں بچے بھی تھے جوان بھی تھے۔ سبھی اپنی اپنی ہمت اور جرات کا مظاہرہ کرتے گلیشیئر پار کر رہے تھے۔
برف کا تنگ اور پھسلواں راستہ طے کرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر جیپ کا سفر شروع ہوا۔ اچانک تیز اور ٹھنڈی ہوا چلنے لگی۔ بادل گھر آۓ اور بارش کے آثار پیدا ہو گئے۔ ساحل عمر کو ہلکی سی سردی لگنے گی۔
بازغر نے اپنے کندھے سے اتار کر ایک گرم چادر اس کے کندھے پر ڈال دی۔ ساحل عمر نے شکریہ کہہ کر اس چادر کو کھول کر اوڑھ لیا۔ پھر وہ ایک جیپ میں سوار ہو گئے ابھی اور بلندی پر جانا تھا۔
یہ سب سے خطرناک راستہ تھا۔ بے حد تنگ پتھر یلا اور جان لیوا۔ یہاں چلنے والی جیپیں بھی خاص تھیں۔ طاقتور انجنوں والی ان کو چلانے والے بھی انتہائی ماہر ڈرائیور تھے۔ موت کے کنویں میں شاید جیپ چلانا آسان ہو لیکن ان راستوں پر جہاں ہر فٹ کے فاصلے پر موت کا جال بچھا ہوا تھا جیپ پار کرنا آسان نہ تھا۔ ایک تو راستہ اتنا خطرناک اوپر سے بارش شروع ہو گئی۔ ایک قیامت پر دوسری قیامت ساحل عمر دم سادھے بیٹھا تھا۔ ہر موڑ پر ہر چڑھائی پر ہر ڈھلان پر اللہ یاد آ تا تھا اور موت سامنے کھڑی دکھائی دیتی تھی۔
ساحل عمر کیونکہ ڈرائیور کے برابر والی سیٹ پر بیٹھا تھا۔ اس لیے راستے کی ہولنا کی پوری طرح اس کی نظر میں تھی۔ جب بارش اور تیز ہو گئی تو اس نے پیچھے مڑ کر بازغر سے کہا۔ ’’بارش رکنے کا انتظار نہ کر لیں ۔ راستوں پر پھسلن ہو گئی ہوگی‘‘
اس سے پہلے کہ بازغر کچھ بواتا برابر بیٹھا ہوا ڈرائیور بولا۔
“صاحب ڈرو مت یہ بارش ابھی رک جاۓ گی۔ راستوں پر پتھر پڑے ہیں۔ اس لیے راستوں پر پھسلن نہیں ہوتی۔ آپ آرام سے بیٹھے رہیں۔ یہ ہمارا روز کا کام ہے آپ بے فکر رہیں”
ڈرائیور کے بیان سے ساحل عمر کوتسلی نہ ہوئی۔ اس نے بازغر کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تب بازغر بولا “آپ پریشان نہ ہوں کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔۔”
“اچھا” یہ کہہ کر ساحل عمر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ اس کی تھوڑی سی تسلی ہو گئی۔ بارش کی وجہ سے جیپ کے پسلنے کا جو خوف اس کے دل میں پیدا ہوا تھا وہ ڈرائیور کی وضاحت میں اور بازغر کی تائید کے ساتھ گم ہو گیا لیکن راستے کی خطرناکی اپنی جگہ موجودتھی ۔
خدا خدا کر کے یہ سفر ختم ہوا آگے راستہ بند تھا۔ جیپ اس سے آگے نہیں جا سکتی تھی۔ بارش رک چکی تھی اب جھیل سیف الملوک تک جانے کے لیے پیدل سفر کرنا تھا۔ چاروں طرف اونچے اونچے پہاڑ تھے جن پر برف جمی ہوئی تھی۔ ہر طرف سحرانگیز مناظر تھے۔ اللہ نے یہ حسن کہاں لا کر بکھیرا تھا۔
وہ دونوں خاموشی سے کبھی ایک ساتھ اور کبھی آ گے پیچھے چلے جارہے تھے۔
پھر اچانک وہ لمحہ آیا۔ لمحہ حیرت سانس جہاں ہؤ وہیں رک جائے ۔
ایک موڑ مڑتے ہی جیسے ہی سامنے نگاہ اٹھی تو آ نکھیں پلک جھپکنا بھول جائیں۔ سانس اوپر کا اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ روح پر ایک دم سرشاری سی چھا گئی۔ سبحان تیری قدرت۔
سامنے جھیل سیف الملوک تھی۔
ساحل عمر آرٹسٹ تھا۔ نازک دل اور حساس دماغ رکھنے والا۔ وہ تو اس منظر کو دیکھ کر مبہوت رہ گیا۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے ہر چیز ایک لمحے کو ساکت ہو گئی ہو۔ اس نظارے کے علاوہ ہر نظاہ مٹ گیا ہو۔ اس جھیل کے حسن کے بارے میں اس نے جو کچھ سنا تھا اس سے بڑھ کر پایا تھا۔
جھیل تخلیق کرنے والے کی نادر پینٹنگ تھی۔ ایک ایسی پیٹنگ جسے دیکھ کر قدم چلنا بھول جائیں۔ آنکھیں پلکیں جھپکانا بھول جائیں دل دھڑ کنا بھول جائے اور روح کو سانس لینا یاد نہ رہے۔
اے اللہ تیرا کوئی جواب نہیں۔ تو نے کہاں لا کر یہ پینٹنگ نصب کی اور پھر اسے نمائش کے لیے انسانوں کے لیے کھولا۔ وہ پہلا شخص کون ہوگا جس نے جھیل سیف الملوک کو دریافت کیا۔ پھر پہاڑوں کا سینہ چھلنی کر کے ان پر راستوں کا جال بچھایا گیا۔ یہ راستے اگرچہ بے حد خطرناک اور جان لیوا ہیں لیکن اس جھیل کی کشش انسانوں کو اپنی طرف کھینچ لیے جاتی ہے۔ بازغر نے ٹھیک ہی کہا تھا جب اللہ کوئی چیز تخلیق کرتا ہے تو اس کی نمائش کا انتظام بھی کرتا ہے۔ وہ خود کو چھپا کر نہیں رکھنا چاہتا۔ کائنات کا ذرہ ذرہ اس کا مظہر بن جاتا ہے۔ وہ ہر طرف دکھائی دینے لگتا ہے۔ بس ذرا سی توجہ چاہیے دیکھنے والی آ نکھ چا ہیے۔
جھیل سیف الملوک جہاں سے اچانک دکھائی دیتی ہے اور بندے پر سحر طاری کر دیتی ہے وہ مقام اونچائی پر ہے جبکہ جھیل سیف الملوک گہرائی میں ہے اور اس مقام سے ایک ڈیڑھ فرلانگ کے فاصلے پر ہے۔ تھوڑا سا آ گے بڑھ کر یہاں چند دکانیں اور ایک چھوٹا سا ریستوران ہے۔ اس کے بعد ڈ ھلان شروع ہو جاتی ہے۔ جھیل پر کسی قسم کا کوئی ہوٹل وغیرہ نہیں۔
جھیل سیف الملوک برف پوش پہاڑوں میں گھری ہے۔ ان پہاڑوں کے دامن میں یہ پیالہ نما جھیل ہے۔ یہ ہے وہ جھیل جس کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ یہاں پریاں اترتی ہیں۔ ساح عمر نے سوچا کہ اگر یہ بات مشہور ہے تو اس میں ضرور صداقت ہوگی کیونکہ پریوں کو اترنے کے لیے اس سے کم حسین جگہ نہیں چاہیے۔ اگرچہ ساحل نے پریاں نہیں دیکھی تھیں لیکن بچپن میں جو کہانیاں سنی تھیں۔ ان سے یہ تصور ہی ابھرتا تھا کہ پریاں بہت خوبصورت ہوتی ہیں۔ ہر خوبصورت چیز کے لیے خوبصورت جگہ ہی درکار ہوتی ہے۔
ساحل عمر نے جھیل کے کنارے کنارے دور تک چکر لگایا۔ پھر وہ برف پوش پہاڑ پر چڑھا۔
موسم بہت خوشگوار تھا۔ جھیل پر اب خاصے لوگ آ چکے تھے۔ بازغر اور ساحل عمر نے اوپر آ کر کھانا کھایا چائے پی۔ کچھ دیر بیٹھ کر ادھر ادھر کی باتیں کیں۔ پھر وہ دونوں جھیل پر آ گئے۔
ساحل عمر جھیل کے نظاروں میں محو تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اگر اس کے پاس کاغذ اور پینسل ہوتی تو وہ مختلف منظروں کو اسکیچ کر لیتا۔ اس کے پاس تو کیمرہ بھی نہیں تھا۔ اگر کیمرہ بھی ہوتا تو وہ ان کی عکسبندی کرنے کے بعد انہیں دیکھ کر پینٹنگ بنالیتا۔ ابھی وہ انہی سوچوں میں غلطاں تھا کہ اچانک اس نے محسوس کیا کہ بازغر اس کے آس پاس نہیں ہے۔ اس نے جلدی جلدی آس پاس نظریں دوڑائیں۔ پھر اس کی نظر سامنے اونچائی پر پڑی وہ اونچائی پر برف پر چلتا ہوا دکھائی دیا۔ پھر وہ پہاڑ کے پیچے گم ہو گیا۔ اسے بڑی حیرت ہوئی کہ وہ پہاڑ کے پیچھے اتنی آسانی سے کیسے چلا گیا۔
ابھی وہ سوچ ہی رہا تھا کہ کیا کرے کہ اتنے میں ایک چھوٹی سی بچی نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر زور سے ہلایا اور بولی۔’’انکل انکل “
وہ پانچ سال کی پیاری سی بچی تھی۔ ساحل عمر نے سوچا کہ اس بچی نے کسی غلط فہمی میں اس کا ہاتھ پکڑ لیا ہے۔ اس نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“انکل انکل!” اس نے پھر کہا۔
“جی‘‘ ساحل عمر اس کی طرف متوجہ ہوا۔
”آپ کو ہماری باجی بلا رہی ہیں۔”
“کہاں ہیں آپ کی باجی؟‘‘
“وہ سامنے۔” لڑکی نے ایک طرف اشارہ کیا۔
ساحل عمر نے نظر اٹھائی تو قریب ہی ایک فیملی موجودتھی۔ ان میں تین چار لڑکیاں آگے کھڑی تھیں۔ ان چاروں لڑکیوں میں ایک لڑ کی سب سے آگے تھی۔ وہ حیرت زدہ ہو کر اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔
ساحل عمر اس لڑکی کو یا ان لڑکیوں میں سے کسی کو نہیں جانتا تھا۔ بچی ہاتھ پکڑ کر اسے آگے کی طرف کھینچے لگی تو وہ اس کے ساتھ چلا۔
کچھ یہ آگے بڑھا۔ کچھ وہ لڑکیاں اس کی طرف بڑھیں۔قریب ہونے پر وہ لڑکی بولی۔ “معاف کیجیے گا. میں یہ پوچھنا چاہ رہی تھی کہ کیا آپ ساحل عمر ہیں؟‘‘۔
“جی، میں ساحل عمر ہوں لیکن آپ نے مجھے کیسے پہچان لیا۔‘‘ ساحل عمر حیرت زدہ ہو کر بولا
“ایک رسالے میں پینٹنگ کے ساتھ آپ کی تصویر چھپی تھی۔ اس تصویر سے آپ کو پہچانا۔ میں نے اپنی بہنوں کو بتایا تو یہ لوگ شک وشبہ میں پڑ گئیں۔ انہیں یقین نہیں آیا لیکن مجھے یقین تھا کہ آپ ضرور ساحل عمر ہیں۔ اس لیے میں نے گڑیا کو آپ کے پاس بھیجا۔ آئے میں آپ کو اپنے ڈیڈی اور بڑے بھائی سے ملاؤں۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے پیچھے دیکھا۔
ساحل عمر نے دس بارہ قدم کے فاصلے پر دو مردوں کو کھڑے ہوۓ پایا۔ وہ ادھر ہی دیکھ رہے تھے۔
“میرا نام شگفتہ ہے۔‘‘ پھر اس نے اپنی بہنوں کے نام بتاۓ اور آگے بڑھی۔
’’ آپ کے ساتھ کون ہے؟‘‘ شگفتہ نے آگے چلتے ہوۓ سوال کیا۔
“میرے ساتھ میرے ایک دوست ہیں۔ وہ ابھی اس پہاڑ کے پیچھے گئے ہیں۔“
“کس پہاڑ کے پیچھے؟‘‘
’’وہ سامنے۔‘‘ ساحل نے ادھر اشارہ کیا۔
“لیکن وہاں وہ کیا کرنے گئے ہیں اور وہاں تک چلے کیسے گئے۔ کسی بندے کا وہاں جانا آسان نہیں۔” وہ لڑ کی حیرت زدہ رہ گئی۔
“تو وہ بندہ ہے کب ہے وہ تو جن ہے جن ۔‘‘ ساحل عمر نے ہنس کر کہا اور اس طرح بات ہنسی مذاق میں اڑ گئی۔
شگفتہ نے اپنے ڈیڈی کے نزدیک پہنچ کر ساحل عمر کا تعارف کرایا۔ شگفتہ کے ڈیڈی اور بڑے بھائی ساحل عمر سے اچھی طرح ملے۔ انہوں نے اسے اپنے ساتھ چاۓ پینے کی دعوت دی جو ساحل عمر نے فورا قبول کر لی۔ شگفته فائن آرٹس کی طالبہ تھی۔ وہ کراچی کے ایک اسکول سے فائن آرٹس میں ڈپلومہ کر رہی تھی۔ اس کے علاوہ وہ ایک بولڈ اور بولنے والی لڑ کی تھی۔ اس لیے زیادہ وہی اس سے سوال جواب کرتی رہی
ساحل عمر ان لوگوں کے ساتھ دری پر بیٹھ گیا اور گپ شپ میں مشغول ہو گیا۔ وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد اپنے دائیں بائیں اور سامنے نظریں اٹھا کر دیکھ لیتا تھا لیکن بازغر کا کہیں پتہ نہ تھا۔ پڑے نہیں وہ کہاں چلا گیا تھا اور کہیں گیا تھا تو اسے بتا کر کیوں نہیں گیا تھا۔
خیر کوئی بات نہیں اگر اسے اکیلے واپس جانا پڑا تو وہ اس فیملی کے ساتھ واپس چلا جاۓ گا؟ پریشانی کی اب کوئی بات نہ تھی۔ یہ لوگ بھی کراچی کے تھے۔
اب شام ہونے کو تھی بہت سے لوگ واپس جا چکے تھے کچھ راستے میں تھے اور کچھ ہوٹل سے اٹھنے کی تیاری میں تھے۔ ساحل عمر اب بازغر کی طرف سے مایوس ہو چکا تھا لہذا اس نے اس فیملی کے ساتھ ہی واپسی کا سفر کرنے کی ٹھان لی تھی۔
جب یہ لوگ واپس جانے کے لیے اٹھے تو وہ بھی ان کے ساتھ باتیں کرتا چل پڑا۔ اابھی ساحل عمر اوپر ان دکانوں تک ہی پہنچا تھا کہ کسی نے اس کے کندھے پر بڑی نرمی سے ہاتھ رکھ دیا۔ ساحل عمر نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو بازغر شرمندہ سا کھڑا تھا۔
“میں معافی چاہتا ہوں مجھے دیر ہو گئی۔‘‘
بازغر کو دیکھ کر اس کی جان میں جان آئی۔ خوامخواہ اس فیملی کا احسان لینا پڑتا۔ اس کی جیب میں ایک پیسہ نہ تھا۔ اس کی کلائی پر ایک قیمتی گھڑی ضرور تھی۔ اس گھڑی کو فروخت کرنا پڑتا یا ان لوگوں سے پیسے ادھار مانگنے پڑتے تبھی کراچی واپسی ممکن تھی۔
“کوئی بات نہیں۔ آیئے واپس چلیں۔” ساحل عمر نے نرم لہجہ اختیار کیا۔
“ہم ابھی یہاں رکیں گے۔‘‘ بازغر نے یہ بات اتنی زور سے کہی کہ وہ لوگ بھی سن لیں۔
“اچھا ٹھیک ہے ساحل صاحب آپ رکیں ہم چلتے ہیں اب آپ سے ناران میں ملاقات ہوگی۔ آپ ہمارے ہوٹل آ جایئے گا۔ دیکھئے آیئے گا ضرور۔‘‘ شگفتہ نے اپنے ہوٹل کا نام اور کمرہ نمبر بتایا۔
“جی ٹھیک ہے۔ میں ضرور آؤں گا۔‘‘ ساحل عمر نے ایسے ہی وعدہ کر لیا۔
اس فیملی کے آگے بڑھ جانے کے بعد اس نے بازغر کو آڑے ہاتھوں لیا۔
“بازغر صاحب آپ بغیر بتاۓ کہاں غائب ہو گئے تھے؟‘‘
“میں اس سلسلے میں آپ سے معذرت کر چکا ہوں۔‘‘ بازغر نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
“میں سمجھتا ہوں کہ آپ نے مجھے معاف کر دیا ہوگا۔ آیئے اب میرے ساتھ جھیل پر چلیے۔‘‘
“اب جھیل پر کیا ہے؟ اندھیرا ہونے والا ہے۔ سب لوگ واپس جا رہے ہیں۔ اب ہم وہاں کیا کریں گے؟‘‘
“ساحل عمر صاحب! اصل نظارہ تو اب شروع ہوگا۔ آج چودھویں رات ہے اور چودھویں کی بھی ایک خاص رات ہے۔ چاند اس قدر روشن ہو گا کہ آپ چاندنی میں جھیل کو دیکھ کر پتھر کے ہو جائیں گے”
“کیا مطلب ہے۔ آپ رات یہاں گزارنا چاہتے ہیں؟‘‘ ساحل عمر نے حیران ہو کر سوال کیا
“اسی لیے تو میں آپ کو یہاں لایا ہوں۔ اس رات کا بڑی بے قراری سے انتظار تھا۔‘‘
“آپ کا کیا خیال ہے کہ یہ رات ہم کسی پتھر پر بیٹھ کر ٹھٹھرتے ہوۓ گزار یں گے۔“ “ارے نہیں جناب. یہ آپ کا خادم آپ کے ساتھ ہے۔ آپ کو ذرا بھی تکلیف پہنچ جائے تو میرے سر پر سات جوتے مارئے گا۔”
چاندنی رات میں جھیل سیف الملوک کا نظارہ… ساحل عمر کا اندر کا آرٹسٹ ایک دم مچل اٹھا ایک نیا تجربہ ہوگا۔ یہ نظارہ بہت کم لوگوں نے کیا ہوگا۔ چلو ایک رات یہاں ٹھہر کر دیکھتے ہیں۔ جو ہوگا دیکھا جائے گا۔
جب وہ جھیل پر واپس پہنچے تو وہاں سے سب لوگ جا چکے تھے۔ ایک شخص بھی وہاں موجود نہ تھا۔ البتہ جھیل کے دوسرے کنارے پر ایک چھوٹا سا سرخ خیمہ ضرور نظر آ رہا تھا۔ ساحل عمر نے اس طرف اشارہ کر کے پوچھا۔ ’’اس خیمے میں کون ہے؟‘‘
چند لمحوں تک جب کوئی جواب نہ آیا تو اس کا دل زور زور سے دھڑ کنے لگا۔ اس نے فورا اپنے دائیں بائیں پھر پیچھے دیکھا۔ بازغر کا کہیں پتہ نہ تھا۔
ساحل عمر کے ہوش اڑ گئے۔ اب واپسی کا وقت نہیں رہا تھا۔ ساری جیپیں واپس جا چکی ہوں گی۔ سامنے ایک خیمہ تھا اور وہ تھا۔۔
ابھی تھوڑا سا اجالا باقی تھا۔ وہ دھڑ کتے دل کے ساتھ اس خیمے کی طرف بڑھنے لگا۔
بازغر کے اچانک اس طرح غائب ہو جانے پر ساحل عمر کو شدید غصہ تھا۔ دو پہر کو بھی اس نے یہی کیا تھا۔ ساحل عمر کسی نظارے میں محو ہوا تو بازغر اس کے برابر سے غائب ہو گیا۔ خیر وہ تو دن کا وقت تھا۔ کسی نہ کسی طرح وہ یہاں سے واپس چلا جا تا لیکن اس وقت تو اس کی کیفیت ایسی تھی جیسے اس کے ہاتھ پاؤں باندھ کر کسی اندھے کنویں میں پھینک دیا گیا ہو۔ واپسی کے تمام راستے بند ہو چکے تھے۔ اسے ہر قیمت پر رات گزارنی تھی۔ اب وہ رات کیسے گزرے گی اس کے بارے میں اسے کوئی اندازہ نہیں تھا
اب وہ اس خیمے کے نزدیک پہنچ چکا تھا۔ یہ سرخ رنگ کا خیمہ چھوٹا سا تھا۔ اتنا چھوٹا کہ اس میں ایک دو آدمیوں سے زائد کی گنجائش نہ نکلتی۔ خیمے کے دروازے پر پردہ پڑا ہوا تھا۔ وہ خیمے کے نزدیک پہنچ کر رک گیا۔ ایک مرتبہ اس نے چاروں طرف نگاہ دوڑا کر بازغر کو تلاش کیا۔ بازغر کا دور تک پتہ نہ تھا۔ اندھیرا تیزی سے پھیل رہا تھا۔ دور پہاڑوں کی برف پوش چوٹیوں پر سنہری دھوپ سنولاتی جا رہی تھی
اس نے اندھیرا بڑھتے دیکھ کر گھبرا کر سوچا۔ کیا کرے؟ پردہ اٹھا کر خیمے میں جا کے یا آواز دے کر معلوم کرے کہ خیمے میں کون ہے؟ اس نے آواز دینا ہی مناسب سمجھا۔
“اندر کوئی ہے کیا؟‘‘ ساحل عمر نے جھک کر آواز لگائی۔ پھر چند لمحے انتظار کیا۔ کوئی جواب آیا تو پھر آواز لگائی ۔’’اندر کون ہے؟‘‘
اندر سے پھر کوئی جواب نہ آیا۔ اسے خیمے پر سناٹا طاری نظر آیا۔ خیمے میں شاید کوئی نہیں تھا۔
اب اس نے آگے بڑھ کر پردہ ہٹا کر اندر جھانکنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے سامنے پردے کو ہاتھ لگایا تو وہ نہیں کھلا۔ دونوں پردوں کو بڑے بڑے سوراخوں میں سفید رسی پرو کر بند کیا گیا تھا۔ اس رسی کو اندر کی طرف سے بھی کھولا جا سکتا تھا اور باہر کی طرف سے بھی۔
ساحل عمر نے اکڑوں بیٹھ کر پردے کی رسی کھولی۔ پھر رسی ڈھیلی کر کے پردے کو نیچے سے تھوڑا سا اوپر اٹھایا۔ اندر جا کر دیکھا۔ اندر کوئی نہ تھا۔ اس نے خیمے کے اندر گھسنے کا فیصلہ کر لیا۔
اندر جانے سے پہلے اس نے کھڑے ہو کر ایک مرتبہ پھر چاروں طرف نظریں گھمائیں لیکن اسے کہیں بازغر نظر آیا نہ اس خیمے کا مالک۔ اس نے برف پر بیٹھ کر اپنے جوتے اتارے اور ہاتھوں کے بل گردن جھکا کر اندر داخل ہو گیا۔ اندر بیٹھ کر اس نے اپنے جوتے اٹھاۓ اور اندر ایک کونے میں رکھ دیئے
پھر اس نے خیمے کا جائزہ لیا۔ اس خیمے میں ضرورت کی ہر چیز موجود تھی۔ آرام دہ بستر زبردست اونی کمبل پہننے کے لیے گرم کپڑے کھانا چائے ایمرجنسی لائٹ کیا چیز تھی جو وہاں نہیں تھی
اس خیمے میں بڑے آرام سے رات گزاری جا سکتی تھی۔ بشرطیکہ خیمے والے نے اسے آکر باہر نہ نکال پھینکا۔
آج کا پورا دن سال عمر نے جھیل پر گھومتے پھرتے گزارا تھا۔ اس پر تھکن طاری ہو رہی تھی ایسا پر آسائش خیمہ دیکھ کر اسکا فل مچل گیا
اس نے ایمرجنسی لائٹ جلا کر ہاٹ پاٹ پر رکھی اور اس کے برابر رکھا ہوا تھر ماس اٹھالیا۔ اس کا ڈھکن کھول کر جھانکا تو اس میں سے بھاپ اڑاتی چائے نظر آئی۔ وہ پورا تھرماس نفیس چاۓ سے بھرا ہوا تھا۔ ایک کپ میں چاۓ بھر کر اس نے تھرماس بند کر دیا اور کمبل اپنے جسم پر ڈال کر نیم دراز ہو کے چائے پینے لگا۔ چاۓ کا پہلا گھونٹ لیا تو ایک لطیف ذائقہ حلق سے اتر تا چلا گیا۔ وہ بہت مزیدار چائے تھی۔
چاۓ پی کر وہ تکیہ سر کے نیچے کھسکا کر کچھ دیر آرام کی غرض سے لیٹ گیا۔ اس نے کمبل اپنے سینے تک ڈال لیا۔ سردی آہستہ آہستہ بڑھ رہی تھی۔ جسم کو تھوڑا آرام ملا تو اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔ پھر وہ یہ سوچتا سوچتا نیند کی آغوش میں چلا گیا کہ جانے کب خیمے والا آ جاۓ اور اسے خیمے سے باہر کر دے۔
دو گھنٹے کے بعد اس کی آنکھ کھلی۔ اس نے گھبرا کر چاروں طرف دیکھا کہ وہ کہاں لیٹا ہے۔ وہ ابھی خیمے میں ہی تھا اور خیمے کی ہر چیز اپنی جگہ جوں کی توں موجودتھی ۔ کلائی کی گھڑی دیکھنے سے اندازہ ہوا کہ وہ دو گھنٹے نہایت اطمینان سے سویا ہے۔ اٹھا تو بھوک کا شدت سے احساس ہوا۔ اس نے ایمرجنسی لائٹ بستر پر رکھی اور ہاٹ پاٹ کھول کر اس نے کھانا پلیٹ میں نکال لیا۔ بڑے مزے سے اس نے روسٹ مرغی تنوری نان سے کھائی۔ اس کھانے کا ذائقہ بھی بالکل مختلف اور بہترین تھا۔ پانی کے بھرے ہوۓ کین سے پانی گلاس میں نکال کر خوب سیر ہو کر پیا۔ یہ پانی نہایت شفاف اور لطیف تھا۔
جانے یہ کس کا خیمہ تھا۔ جانے کون اتنے اہتمام سے یہاں رات گزارنے آیا تھا۔ جانے خیمہ چھوڑ کر کیوں چلا گیا تھا۔ ساحل عمر نے بڑے اطمینان سے اس خیمے پر قبضہ کر لیا تھا اور اپنے اباجی کا مال سمجھ کر یہاں رہنے اور کھانے پینے میں مشغول تھا۔ اندر سے اس کا دل ملامت کر رہا تھا لیکن و یہاں رہنے اور یہاں موجود چیزوں کو استعمال کرنے پر مجبور تھا۔
پھر اس نے باہر نکلنے کا ارادہ کیا۔ اس نے اونی اوور کوٹ پہنا۔ بالوں والی گول اور اونی ٹوپی سر پر رکھی۔ دستانے اور موزے چڑھاۓ۔ اپنے چپل پہنے لگا تو ایک طرف جوتے رکھے ہوۓ نظر آۓ۔ اس نے وہ بوٹ پہن لیے اور ایمرجنسی لائٹ لے کر خیمے سے باہر آ گیا۔
باہر گہرا سناٹا طاری تھا۔ اتنا گہرا سناٹا کہ اگر کوئی سوئی زمین پر پھینکی جاۓ تو شاید اس کی آواز بھی سنائی دے جاۓ۔ ساحل عمر ایک پرشور شہر کا باسی تھا۔ اتنا گہرا سناٹا اس نے کا ہے کو دیکھا تھا۔ یہ سناٹا اس کی روح میں اترا جاتا تھا
چاند نکل آیا تھا لیکن وہ ابھی پہاڑوں کے پیچے تھا۔ چاندنی برف پوش پہاڑوں پر برس رہی تھی۔ یہ برف پوش چوٹیاں برف کا لبادہ اوڑھے چاند کی روشنی میں چمک رہی تھیں۔ یہ ایک سحر انگیز نظارہ تھا۔ ساحل عمر ان چمکتی چوٹیوں کو مبہوت ہو کر دیکھنے لگا۔ یہ ایک نادر حسن تھا۔ ایسا حسن دیکھنے کو کہاں ملتا ہے۔ بلنگ کر واپس آ جاتی تھیں۔
وہ پھر جھیل کے اطراف ٹہلنے لگا۔ اسے بازغر کا انتظار تھا۔ اس کی تلاش میں نظریں ادھر ادھر بھٹک کر واپس آ جاتی تھیں
آسمان روشن تھا۔ بالکل صاف تھا۔ چاند دھیرے دھیرے اوپر اٹھتا جا رہا تھا۔ ساحل عمر کا جہاں خیمہ تھا وہاں ابھی اندھیرا تھا۔ وہ جگہ پہاڑ کے ساۓ میں تھی ۔ پھر اچانک ہی چاند پہاڑ کی اوٹ سے نکل آیا۔ جھیل سیف الملوک ایک دم روشن ہو گئی۔ اس پیالہ نما جھیل میں چاند کا عکس نظر آنے لگا۔ چاروں طرف دودھیا چاندنی پھیل گئی۔ برف سے ڈھکے پہاڑوں پر چاندنی کچھ اس طرح منعکس ہو رہی تھی کہ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے اچانک چاندنی کا سیلاب آ گیا ہو۔ آج چاند کچھ ضرورت سے زیادہ روشن تھا۔ بازغر نے صحیح کہا تھا۔ یہ چودھویں کے چاند کی کوئی خاص رات تھی۔ چاندنی رات میں نہائی جھیل سیف الملوک دن کی روشنی کے مقابلے میں کہیں حسین نظر آ رہی تھی۔ یہ ایک ایسا نظارہ تھا جس کے لیے پےھر کا ہوا جا سکتا تھا۔
ساحل عمر چاندنی رات میں نہائی جھیل سیف الملوک کو دیکھ کر وجد میں آ گیا۔ اسے بے اختیار اللہ یاد آیا ور خدائی مسکرا اٹھی۔ دیکھا میرا جمال میں یہاں ہوں میں کہاں نہیں ہوں۔
پھر ایک گونج سی پیدا ہوئی جیسے پوری فضا گنگا اٹھی ہو۔ جیسے یہاں کی ہر شے پکار اٹھی ہو۔ اللہ ہو اللہ ہو۔‘‘
اور یہ وہ لمحہ تھا جب ساحل عمر نے سوچا کہ وہ کھڑے کھڑے پتھر کا ہو جاۓ۔ بس اسے دیکھنے والی آنکھ مل جائے اور یہ نظارہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کی آنکھوں میں منجمد ہو جاۓ۔ وہ اس فارے کو دیکھ کر کبھی نہ تھکے ۔ تب اسے بازغر یاد آیا وہ اسے بہت اچھا لگا۔ اس نے اسے فورا معاف کر دیا۔ یہ بازغر ہی تو تھا جس کی بدولت وہ جھیل کے اس حسن سے روشناس ہوا تھا۔
ساحل عمر نے گھڑی دیکھی ۔ گھڑی میں اس وقت رات کا ایک بجا تھا۔ چاند اپنے پورے شباب پر تھا۔ گہرا سناٹا، سخت سردی، بڑھتی ہوئی چاندنی، گنگناتی فضا، وہ اس نظارے کو اپنی آنکھوں میں لینا چاہتا تھا۔ اپنی روح میں اتار لینا چاہتا تھا۔ وہ اپنے آپ کو بھول جانا چاہتا تھا۔ اس وادی میں کھو جانا چاہتا تھا۔
تب اچانک اسے ہنسی کی آواز سنائی دی۔ وہ چونکا۔ ارے یہاں کون ہے۔ اس کے علاوہ بھی یہاں کوئی ہے۔ وہ ایک ہنسی کی آواز نہ تھی۔ وہ کئی ہنسیوں کی آواز تھی۔ ارے یہاں کون ہنس رہا ہے شاید یہ وادی ہنس رہی ہے۔ کائنات گنگا رہی ہے۔
پھر اس نے سامنے نگاہ کی تو پہاڑ کے پیچے سے ان ہنسنے والیوں کو آتے دیکھا۔ وہ بڑی تیزی سے لہراتی ہوئی چلی آ رہی تھیں۔ چھن چھن گھنگھرو بج رہے تھے۔ نقرئی ہنسی کے فوارے پھوٹ رہے تھے۔
ساحل عمر جلدی سے خیمے کی اوٹ میں چلا گیا۔ پھر جب اس نے دیکھا کہ وہ اس طرف آرہی ہیں تو وہ جلدی سے خیمے میں گھس گیا اور پردے کی اوٹ سے باہر جھانکنے لگا۔ آٹھ سبز لبادے میں تھیں اور ان میں سے ایک جوان کے درمیان تھی وہ سفید ریشمی لبادے میں تھی۔ اس کے سر پر رومال بندھا ہوا تھا۔ باقی آٹھوں ننگے سر تھیں اور ان کے سنہری بال کھلے ہوئے تھے
وہ ابھی ذرا دور تھیں اس لیے ان کے چہرے واضح نہ تھے۔ پھر جب وہ قریب آ گئیں تو ساحل عمر نے دیکھا کہ وہ آٹھوں کی آٹھوں اپنے حسن میں یکتا ہیں اور وہ نویں جوان کے درمیان تھی جو سبز پتوں میں کھلے کسی سفید پھول کی طرح تھی اس کے حسن کی کوئی مثال نہ تھی۔ وہ بے نظیر تھی۔ اپنے حسن کی مثال آپ تھی۔
اور یہ وہ تھی جس نے اس کے خوابوں میں آ کر ہلچل مچا دی تھی۔
وه رشا ملوک تھی۔
جس کے اس نے خواب دیکھے تھے۔ پھر اس نے رشا ملوک کو اپنے خوابوں سے چرالیا تھا۔ اس نے اسے کاغذ پر اتار دیا تھا۔ ایک ایسی حسین پنٹنگ بنائی تھی کہ جو دیکھتا تھا دیکھتا رہ جاتا تھا۔ آج وہی پینٹنگ اس کے سامنے زندگی کا لبادہ اوڑھے پوری آب و تاب سے چمک رہی تھی۔ وہ بہت خوبصورت تھی۔ اتنی خوبصورت کہ آدمی پلکیں جھپکانا بھول جاۓ۔ وہ اس کے تصور سے بھی کہیں حسین تھی۔
اس کا بے اختیار جی چاہا کہ وہ خیمے سے باہر نکل کر اس کے سامنے آ جاۓ اور کہے۔ ’’دیکھو میں ہوں ساحل عمر۔ جس کے خوابوں میں آ کر تم نے قیامت مچا دی تھی۔ کیا تم مجھے پہچانتی ہو؟”
لیکن اس نے ایسا نہ کیا۔ اپنے دل کو سنبھال لیا۔ باہر جانے سے رک گیا۔ ہوسکتا ہے وہ اسے پہچانتی نہ ہو۔ کیا ضروری ہے کہ وہ اگر اس کے خوابوں میں آتی تھی تو وہ بھی اس کے خوابوں میں آ تا ہوگا۔ اگر اس نے پہچاننے سے انکار کر دیا تو پھر کیا ہوگا۔ اگر اس کے پاس رشا ملوک کی پینٹنگ ہوتی تو پھر کچھ بات بن سکتی تھی۔ وہ ثبوت کے طور پر اس پینٹنگ کو پیش کر سکتا تھا۔
ابھی وہ انہی سوچوں میں غلطاں تھا کہ باہر ہلچل مچی۔ وہ آ ٹھوں حسینائیں چھن چھن کرتی رشا ملوک سے دور ہوئیں۔ وہ چاروں طرف پھیل گئیں۔ انہوں نے اپنے نازک ہاتھوں کے پیالے بنا کر منہ پر رکھے اور مترنم آواز میں اعلان کرنے لگیں۔
“یہاں کون ہے. اگر یہاں کوئی ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لے رشاملوک کو ہم نہلائیں گے۔ اگر کسی نے دیکھنے کی کوشش کی تو اس کی آ نکھیں جاتی رہیں گی۔”
آٹھوں باندیاں یہ اعلان بار بار کر رہی تھیں اور اس اعلان کی گونج پہاڑوں تک سنائی دے رہی تھی ساحل عمر کا دل بہت مچلا کہ وہ اپنی آ نکھیں کھلی رکھے اور وہ جلوہ دیکھے جس کی تاب نہ لا کر اس کی آ نکھیں بے نور ہو جائیں۔ پھر اس نے سوچا کہ اگر واقعی اس کی آنکھیں بے نور ہو گئیں تو وہ کیا کرے گا۔ آ نکھیں ہیں تو جہان ہے یہ نظارے ہیں۔ اسے کسی قسم کی حماقت نہیں کرنا چاہیے۔
وہ نہ چاہتے ہوۓ بھی اپنے دل پر جبر کر کے خیمے کے پردے کے پاس سے ہٹ گیا۔ وہ بستر پر سیدھا لیٹ کر خیمے کی چھت کو گھورنے لگا۔
خیمے کے باہر سے نقرئی قہقہوں کی آوازیں آتی رہیں
یہ ایک خاص رات تھی۔ چودھویں کا چاند یوں تو ہر ماہ ہی طلوع ہوتا تھا لیکن یہ رات سال میں ایک مرتبہ آتی تھی۔ اس رات رشا ملوک اپنی ہمجولیوں اور باندیوں کے ساتھ جھیل پر نہانے کے لیے آتی تھی۔ یہ خاص غسل اس کے حسن میں مزید چار چاند لگا دیتا تھا۔ اس رات رشا ملوک کے حسن بے مثال کو بے نقاب چاند نے دیکھا ستاروں نے دیکھا پہاڑوں نے دیکھا جھیل کے پانی نے اسے اپنی آغوش میں لیا۔ محروم رہا تو صرف ساحل عمر۔
دو باندیوں نے رشا ملوک کو ہاتھ پکڑ کر جھیل میں اتارا۔ جھیل میں اتر کر انہوں نے رشا ملک کولباس سے آزاد کیا اور اسے مل مل کر نہلانے لگیں۔ پھر وہ اسے جھیل کے اندر اتنی دور تک لے گئی کہ وہ سر تک ڈوب گئیں۔ پھر چندلمحوں بعد وہ اچانک تجھیل سے ابھری تو پوری جھیل اس کے بدن کی روشنی سے منور ہو گئی
اس کے بدن کی چاندنی کے آگے چاند کی روشنی بھی جیسے ماند پڑ گئی تھی۔
جھیل سے نکلتے ہی اسے لباس پہنا دیا گیا اور پھر اعلان ہوا۔
“اب کوئی چاہے دیکھے یا سوئے اس کی مرضی ہم تو چلے۔“
یہ اعلان دیر تک گونجتا رہا۔ ساحل عمر بڑی بے تابی سے خیمے کے دروازے پر آیا۔ اس نے باہر جھانک کر دیکھا اب وہاں کچھ نہ تھا۔ نہ رشا ملوک تھی نہ اس کی ہمجولیاں۔ وہ ایک دم ہی فضا میں تحلیل ہو گئیں تھیں
ساحل عمر تڑپ کر خیمے سے باہر نکل آیا۔ اس نے چاروں طرف آ نکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھا مگر بے سود وہاں دور تک کوئی نہ تھا۔ وہی سناٹا تھا وہی چاند تھا اور نکھری ہوئی چاندنی تھی۔ وہی سحر انگیز فضا تھی۔
ساءل عمر کو جیسے شبہ ہوا کہ کہیں وہ کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہا۔
اس نے دستانہ اتار کر اپنے گال پر چٹکی بھری۔ فورا ہی اس کے منہ سے کراہ نکل گئی۔ یہ خواب نہ تھا اس نے جو دیکھا تھا وہ کھلی آنکھوں سے دیکھا تھا۔
کچھ دیر جھیل پر ٹہلتا رہا۔ بار بار پلٹ کر ادھر دیکھ لیتا تھا جدھر سے رشا ملوک ہنستی مسکراتی آئی تھی۔ جس طرح روز روز عید نہیں ہوتی ویسے ہی روز روز محبوب کی دید نہیں ہوتی ۔ رشا ملوک کو جھیل سے گئے ہوئے تو ابھی آدھا گھنٹہ بھی نہ ہوا تھا۔
پھر وہ پوری رات اس نے جاگ کر اور ٹہل کر گزار دی۔
ایسی حسین جگہ ہو فضا خوابناک ہو اور محبوب کی دید کا امکان ہو تو پھر کس کافر کو نیند آتی ہے وہ چار ساڑھے چار بجے تک جھیل کے کنارے ٹہلتا رہا۔
جب چاندنی بے نور ہونے لگی۔ منظر دھندلانے لگا اور اس کی آنکھوں میں نیند اتر نے لگی تو وہ خیمے میں چلا گیا۔ خیمے کی ڈوریاں کس کر وہ بستر پر دراز ہو گیا۔ اتنی سردی میں ایسا نرم گرم بستر۔۔ اسے نیند کی آغوش میں جاتے ہوۓ چند منٹ سے زیادہ نہ لگے۔
جب ساحل عمر گہری نیند میں ڈوب گیا تو خیمے کے باہر آ ہٹ ہوئی۔ قدموں کی چاپ خیمے کے دروازے پر آ کر رک گئی۔ آنے والے نے پردے کے درمیان سے اندر جھانک کر دیکھا۔ اندر ایمرجینسی لائٹ روشن کی تھی اور ساحل عمر منہ پر کمبل ڈالے پرسکون انداز میں سو رہا تھا۔
آنے والے نے خیمے کے پردے کی رسیاں کھول ڈالیں اور پردے کے پٹ خیمے کے اوپر دائیں بائیں ڈال دیئے۔ پھر وہ کسی بندر کی طرح چاروں ہاتھ پاؤں پر چلتا ہوا پڑی احتیاط کے ساتھ خیمے میں داخل ہوا۔ اس نے آہستہ آہستہ ساحل عمر کے چہرے سے کمبل کھینچا۔ جب کمبل ساحل عمر کی ناک تک ہٹ گیا تو آنے والے نے اپنی جیب سے ایک پتھر کا لکڑا نکالا اور اس کی ناک پر رکھ دیا۔ چند لمحے اس نے اس پتھر کو اس کی ناک پر رکھا رہنے دیا۔ پھر تین بار اس نے اس پتھر کو اس کی ناک پر رگڑا اور اطمینان بھرا سانس لے کر اس نے اس پتھر کو دوبارہ جیب میں ڈال لیا اور کمبل سے اس کا منہ ڈھک دیا۔
پھر آنے والا خیمے سے باہر نکل آیا باہر ذمآ کر ایک عجیب سی آواز نکالی۔ یہ آواز کسی چیخ سے مشابہ تھی۔
اس چیخ کے نمودار ہوتے ہیں پتھر کی ایک گاڑی پہاڑ کی اوٹ سے برآمد ہوئی اور بہت تیز رفتاری سے چلتی خیمے کے پاس آ کر ٹھہر گئی۔ یہ ایک کھلی گاڑی تھی۔ اس میں دو پہیے لگے ہوئے تھے اور آگے تہکال اس میں جتا ہوا تھا۔ گاڑی بان کوئی نہ تھا تہکال خود ہی اس کو چلاتا ہوا لایا تھا۔
اس گاڑی کے پیچھے البتہ چار بندے ساتھ ساتھ بھاگتے ہوۓ آۓ تھے۔ “دانا! کیا حکم ہے؟‘‘ وہ چاروں ہاتھ باندھ کر غلاموں کی طرح اس شخص کے سامنے کھڑے ہو گئے جس نے چیخ مار کر انہیں طلب کیا تھا۔ وہ بازغر تھا۔
“خیمہ اکھاڑو“ بازغر نے چاروں کو حکم دیا۔
چند لمحوں میں ان چاروں نے خیمے کے چاروں کھونٹے اکھاڑ لیے اور خیمہ اس آہستگی سے۔ساحل عمر کے اوپر سے اتارا کہ ذرا سا بھی شور نہ ہوا۔
“دانا کو احتیاط سے اٹھا کر مع بستر گاڑی پر رکھ دو۔” بازغر نے دوسرا حکم دیا۔
ان چاروں غلاموں نے ساحل عمر کو مع بستر اٹھا کر گاڑی پر رکھ دیا۔ بازغر نے ساحل عمر کو کمبل اچھی طرح اڑھا دیا اور پھر ایک ریشمی ڈوری سے ساحل عمر کو اس طرح باندھ دیا کہ وہ گاڑی سے پھسل کر نہچے نہ گرے اسکے بعد بازغر نے تہکال کے سر پر ہاتھ رکھا اور بولا: ” تہکال دیکھ دانا کو کوئی تکلیف نہ ہو۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے منہ سے’’خ‘‘ کی آواز نکالی اور بڑی تیزی سے پیچھے ہٹ گیا۔ تہکال ساحل عمر کو بڑی برق رفتاری سے لے چلا۔ چند لمحوں میں وہ پہاڑ کی اوٹ میں چلا گیا
“تم لوگ خیمہ اور اس کا سامان سمیٹ کر پہنچو میں چلتا ہوں۔” بازغر ان سے مخاطب ہوا۔
“اچھا دانا۔‘‘ اس میں سے ایک غلام نے مودبانہ کہا۔
بازغر نے اپنے دونوں ہاتھ فضا میں لہراۓ۔ پھر وہاں کچھ نہ رہا۔
جب ساحل عمر کی آ نکھ کھلی۔ پہلے تو اس کی سمجھ میں ہی نہ آیا کہ وہ کہاں ہے۔ وہ تو جھیل سیف الملوک کے نزدیک نصب ایک پر آسائش خیسے میں سویا تھا۔ اب نہ وہ خیمہ تھا نہ وہ مقام تھا۔ البتہ بستر وہی تھا۔ وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھا وہ کہاں آ گیا۔
یہ ایک چھوٹا سا کمرہ تھا۔ اس کمرے کی دیواریں پتھروں کی تھیں۔ کمرہ گول تھا۔ زمین پر سفید بالوں کا قالین بچھا ہوا تھا۔ اس قالین کے اوپر ساحل عمر کا بستر تھا اور یہ بستر کمرے کے عین درمیان میں تھا۔ گنبد نما چھت تھی اور یہ چھت اطراف سے کھلی ہوئی تھی جس سے روشنی اندر آ رہی تھی۔ سامنے ایک دروازہ تھا جو بند تھا۔
پھر ساحل عمر نے اپنی پشت کی طرف گھوم کر دیکھا تو حیران رہ گیا۔ سامنے دیوار پر ایک قد آدم تصور لگی ہوئی تھی۔ یہ تصویر ساحل عمر کی تھی ۔ صورت تو ساحل عمر کی تھی لیکن لباس ساحل عمر کا نہ تھا۔ وہ ایک بند گلے کا کوٹ پہنے ہوۓ تھا۔ سر پر آسمانی رنگ کا صافہ تھا۔ کوٹ کے کالر پر دو ہیرے لگے ہوئے تھے جو جگمگا رہے تھے۔ گلے میں ایک کالی ڈوری میں بندھی انگوٹھی پڑی تھی۔ یہ چاندی کی انگوٹھی تھی اور اس میں سبز رنگ کا گول پتھر لگا ہوا تھا۔ کوٹ کا رنگ سرمئی تھا۔
ساحل عمر بستر کو چھوڑ کر اپنی اس تصویر کے پاس آ کھڑا ہوا۔ اس نے پہلے تو چیک کیا کہ یہ تصور کس چیز سے بنائی گئی ہے۔ یہ تصویر چھوٹے چھوٹے رنگین پتھروں سے بنائی گئی تھی اور اتنی نفاست سے بنائی گئی تھی کہ دور سے دیکھنے پر پینٹنگ نظر آتی تھی۔ اس تصویر کو بہت محنت اور بڑی مہارت سے بنایا گیا تھا۔ یہ ایک جیتی جاگتی تصویر تھی۔ ساحل عمر اپنی اس تصویر کو دیکھ کر ششدر رہ گیا۔
اگر اس تصویر کا خالق اس کے سامنے ہوتا تو وہ بے اختیار اس کے ہاتھ چوم لیتا۔
تبھی دروازہ کھلا اور وہ ہستی پوری شان سے چلتی ہوئی اندر آئی جس نے اس تصور کو تخلیق کیا تھا۔ ساحل عمر اپنی تصویر کو دیکھنے میں اس قدر محو تھا کہ اسے یہ بھی پتہ نہ چلا کہ کوئی خاموشی سے اس کے پیچھے آ کھڑا ہوا ہے۔
ایک دلفریب خوشبو نے اچانک اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔ اس سے پہلے کہ وہ پیچھے مڑ کر دیکھتا عقب سے آواز آئی۔ “کیا دیکھتے ہیں؟‘‘ یہ ایک مانوس آواز تھی۔
ساحل عمر بڑی بے قراری سے پلٹا۔ وہ کیا پلٹا جیسے اس کی دنیا ہی پلٹ گئی۔ جیسے اس کی تقدیر بدل گئی۔ اسے اپنے خوابوں کی تعبیر مل گئی۔ گویا اسے وہ مل گیا جو سب کو کہاں ملتا ہے۔محبوب تو نصیبوں والے کو ملتا ہے۔ وہ نصیبوں والا تھا۔
اس کے سامنے رشاملوک کھڑی تھی شرمیلے چہرے اور نیچی نگاہوں کے ساتھ۔ “کون ہیں آپ؟‘‘ ساحل عمر کے ہونٹوں پر شریر مسکراہٹ تھی۔ وہ اسے پہچان کر بھی نہ پہچانا۔
’’کون ہوں میں..؟‘‘ رشا ملوک نے اپنی جھیل جیسی آنکھوں سے پلکوں کا شامیانہ بنایا اور اسے گہری نگاہوں سے دیکھا۔ ’’میں وہ ہوں جس کے آپ خواب دیکھتے تھے‘‘
“کیا یہ خواب میں نے اکیلے دیکھے تھے؟‘‘ ساحل عمر نے مڑ کر اپنی تصویر کو دیکھا اور رشاملوک کے چہرے پر معنی خیز نگاہیں ڈالیں۔ “نہیں اس جرم میں میں برابر کی شریک ہوں۔‘‘ یہ کہ کر وہ شرم سے گلنار ہو گئی۔
“یہ میں ہوں؟‘‘ ساحل عمر نے اپنی تصویر کی طرف اشارہ کیا۔ اس کی نگاہوں میں سوال تھا
“آپ کو کوئی شبہ ہے؟‘‘
“میں اتنا اچھا تو نہیں۔‘‘ ساحل عمر نے سادگی سے کہا۔
“تصویر کی برائی کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ رشاملوک نے اس بات کو کسی اور زاویئے سے پرکھا۔
“اتنی اچھی تصویر کی کون برائی کر سکتا ہے؟ یہ کس نے بنائی ہے؟“
”میں نے۔‘‘ رشاملوک نے شرمیلی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ ’’رشا ملوک نے”
“تم نے .. واقعی؟‘‘ وہ بہت حیران ہوا۔
“ہاں۔ واقعی میں نے بنائی ہے۔ یہ تصور پتھروں کے ٹکڑوں سے بنائی گئی ہے۔ اس فن کا نام طبرہ ہے۔ اس فن کو میں نے بابا صاعق سے سیکھا۔‘‘ رشا ملوک نے خوش ہو کر بتایا۔
“بہت عمده. یہ ایک شاہکار تصویر ہے اور اصل سے کہیں بہتر ہے۔‘‘ ساحل عمر ہنس کر بولا
“کوئی چیز۔اصل سے کبھی بہتر نہیں ہوسکتی۔‘‘ رشا ملوک نے بڑی سنجیدگی سے کہا۔
“ایک بات پوچھوں؟‘‘ ساحل عمر نے اپنے بستر سے کمبل بٹا کر ایک طرف رکھ دیا اور تکیے ٹھیک کر کے اس نے رشاملوک کو بستر پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ وہ تکیوں سے ٹیک لگا کر بڑے شاہانہ انداز میں بیٹھ گئی۔ پھر اس نے ساحل عمر سے کہا۔ ’’آپ بھی بیٹھ جائیں۔‘‘ ساحل عمر اس کے سامنے دو زانو ہو کر بستر کے ایک کنارے پر بیٹھ گیا۔
“آپ کچھ پوچھ رہے تھے؟‘‘
“ہاں میں یہ پوچھنا چاہ رہا تھا کہ میری تصویر تم تک کیسے پہنچی؟ میرا مطلب ہے یہ تصویر تم نے میری کس تصویر کو دیکھ کر بنائی اور وہ تصویر تم نے کہاں سے حاصل کی؟”
“میں نے یہ تصویر کسی اور تصویر کو دیکھ کر نہیں بنائی ہے۔ یہ صورت میرے خوابوں نے تراشی”
“میں سمجھا نہیں۔” سال عمر نے اس کی بات کو شاعری جانا۔
“یہ بات خیر اتنی مشکل بھی نہیں۔‘‘ رشا ملوک نے اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے اسے گھورا۔
“میں سمجھاتی ہوں۔ اصل میں بات یہ ہے کہ اس بستی میں جب کوئی لڑکی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی ہے اس خوشی کی رات اس سے اس کی ماں کہتی ہے کہ اپنے لیے مور تلاش کرو۔ ہماری بستی میں زندگی کا ساتھی تلاش کرنے کی پوری آزادی ہے اور یہ آزادی یہاں صرف لڑکی کو ہے۔لڑکی اپنے لیے مور کا انتخاب کرتی ہے۔ یہاں ہر چھٹے مہینے شادی کا جشن منایا جا تا ہے۔ بہت سی لڑکیاں اپنے موروں کا انتخاب کر چکی ہوتی ہیں وہ اس جشن میں ان کا ہاتھ پکڑ کر آتی ہیں اور اس طرح ان کی شادی ہو جاتی۔ یہاں انتخاب پر کوئی قید نہیں۔ یہ لڑکی پر منحصر ہے کہ وہ جتنی جلد چاہے اپنے مور کا انتخاب کر لے۔ یہاں انتخاب پر کوئی پابندی ہے اور نہ وقت کی کوئی قید۔ جسے چاہو اور جب چاہو منتخب کرو۔ خیر میں اپنی بتسی کی اس رسم سے واقف تھی۔ مجھے معلوم تھا کہ یہ رات مجھ پر بھی آۓ گی جب میری ماں مجھے مور تلاش کرنے کا مشورہ دے گی۔ جوں جوں میری عمر سن بلوغت کی طرف بڑھ رہی تھی اور مشورے کی رات نزدیک آتی جارہی کی توں توں میری پریشانی بڑھتی جا رہی تھی کیونکہ میرے خوابوں میں جو بسا ہوا تھا ایسا پوری بستی میں کوئی نہ تھا۔ یہ ٹھیک ہے کہ یہاں انتخاب کے سلسلے میں کوئی قید نہیں۔ پھر بھی یہاں لڑکیاں مشورے کی رات آتے ہی اپنے لیے مور تلاش کر لیتی ہیں اور پہلے ہی جشن میں شریک ہو کر شادی کر لیتی ہیں۔ یہی بات اچھی سمجھی جاتی ہے. لیکن میری مشکل پسند طبیعت نے مجھے مشکل میں ڈال دیا۔ میں نے طے کر لیا کہ چاہے کتنا ہی وقت لگ جاۓ میں اپنے لیے ایسے مور کا انتخاب کروں گی جو اپنی مثال آپ ہوگا۔ جب لگن سچی ہو تو راستے خودبخود کھلنے لگتے ہیں۔ پھر اس رات جب چاند پر نظریں جماۓ اپنے مور کے تصور میں کھوئی تھی تو ایک شبیہہ ابھری۔ پھر وہ یہ واضح ہوتی گئی۔ میں آپ کے خواب دیکھنے لگی۔ آپ کو خواب میں دیکھنے لگی۔ پھر میں نے بابا صاعق سے آپکی شکل بیان کی ۔ بابا نے ایک عمل بتایا وہ عمل کر کے سوئی تو آپ واضح طور پر میرے سامنے آ گئے۔ پر میں نے آپ کا چہرہ بنانا شروع کیا۔ اس کے بعد آپ میرے خوابوں میں آتے گئے اور میں آپ کی صورت کو پتھروں کے ٹکڑوں میں ڈھالتی گئی۔ میں نے آپ کو اپنی پسند کا لباس پہنایا۔ بالاخر شب و روز کی محنت رنگ لے آئی اور میں آپ کی تصویر بنانے میں کامیاب ہو گئی۔
ساحل عمر بڑی محویت سے اس کی بات سن رہا تھا۔ ساتھ ہی اس کی نظریں اس کے چہرے کے نقوش پر جمی تھیں۔ اسے اپنے آپ پر بڑا فخر ہو رہا تھا کہ ایک حسین ترین لڑکی کا وہ آئیڈیل تھا اس کے خوابوں میں بستا تھا۔ کچھ اس انداز سے کہ اس نے اس کے نقوش پتھر کی دیوار پر پتھروں میں ڈھال لیے۔ میرا شوق دیکھ میرے شوق کا حصول دیکھ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: