Anwar Aleegi Urdu Novels

Bichoo Novel By Anwar Aligi – Episode 19

Bichoo Novel By Anwar Aligi
Written by Peerzada M Mohin
 بچھو از انوار علیگی – قسط نمبر 19

–**–**–

“پھر کیا ہوا؟” ساحل عمر نے اسے خاموشی اختیار کرتے دیکھ کر پوچھا۔
“بس پھر کیا ہونا تھا۔ روز آپ کی تصویر کو دیکھتی تھی اور سوچتی تھی۔” رشاملوک بولی۔
“کیا سوچتی تھیں؟‘‘ اس نے پوچھا۔
“سوچتی تھی اور اپنے آپ سے مخاطب ہو کر سوال کرتی تھی. کہ رشا ملوک تو نے سپنوں کے شہزادے کی تصویر تو بنا لی۔ پر اب تو اسے پاۓ گی کس طرح؟ اس تصویر سے تو تیری شادی ہو نہیں سکتی۔ اسے ڈھونڈ اسے تلاش کر پھر میں نے آپکو ڈھونڈنا شروع کیا میرے پاس جو بھی ذرائع تھے سب استعمال کر ڈالے لیکن یہ معلوم نہ ہو سکا کہ آپ کہاں ہیں؟ اتنا مجھے یقین تھا کہ جب آپ میرے خوابوں میں آتے ہیں تو آپ کا وجود کہیں نہ کہیں ضرور ہے۔ جب میں بہت زیادہ پریشان ہوئی تو بابا صاعق کی خدمت میں حاضری دی۔ ان سے اپنا مسئلہ بیان کیا تو انہوں نے تین راتوں کے بعد مجھے بلایا۔ یہ تین راتیں میں نے بڑی بے قراری سے گزاریں جب میں چوتھی رات ان کی خدمت میں حاضر ہوئی تو ان کے ہونٹوں پر تبسم تھا۔ میں سمجھ گئی کہ میرا گو ہر مراد مل گیا۔ انہوں نے آپ کے ملنے کی خوشخبری سنائی۔ ساتھ میں کچھ پریشان کن باتیں بھی بتائیں۔ میں نے ان باتوں کو صبر وسکون کے ساتھ سنا اور انہیں اپنا فیصلہ سنایا کہ اب جو بھی ہو میں نے اسے اپنا مور چن لیا۔ میرا فیصلہ سن کر بابا صاعق خاموش ہو گئے۔ پھر مجبور ہو کر انہوں نے آپ کے حصول کے لیے کارروائی شروع کی۔ ایک طرف آپ کی حفاظت کا مسئلہ تھا تو دوسری طرف آپ کو اپنی بستی کی طرف لانا تھا۔ اس کام کو بابا صاعق نے بڑی دانائی سے کیا۔ انہوں نے آپ کے پاس بازغر کو روانہ کیا۔ اس کے بعد جو کچھ آج تک ہوا اس سے آپ واقف ہیں۔‘‘ رشا ملوک یہ کہہ کر خاموش ہو گئی۔
” کچھ اس طرح کا قصہ میرے ساتھ بھی ہوا….تم تو جانتی ہوگی؟‘‘
“ہاں کچھ جانتی ہوں کچھ نہیں جانتی. آپ سنائیں۔ آپ کی زبانی سن کر دل کو سکون ملے گا۔‘‘
“جس طرح تم نے مجھے خوابوں میں دیکھا ویسے ہی تم میرے خوابوں میں آ گئی۔ میں نے تمہیں خوابوں میں دیکھا۔ پھر میں نے سینکڑوں لڑکیوں کی تصویریں دیکھ کر ان میں سے تمہیں نکالا۔ تمہاری تصویر بناتا گیا۔ میں نے تمہیں دلہن والا لباس پہنا دیا اور تمہاری تصویر کو انوکھا بنانے کے لیے تمہاری پیشانی پر جھومر کی جگہ ایک بچھو کو بٹھا دیا۔ “ساحل عمر نے اس کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“کتنا برا کیا آپ نے۔‘‘ وہ ناراضگی سے بولی۔
“ہاں واقعی میں نے برا کیا. وہ بچھو میری جان کا عذاب بن گیا۔”
’’ہاں جب بازغر آپ سے مل کر آیا تو اس نے بڑی حیرت سے بتایا کہ آپ نے میری تصویر بنا لی ہے۔ پھر ساتھ ہی غصے کا اظہار کیا کہ اس نے تمہاری پیشانی پر اعور کو بٹھا دیا ہے۔ مجھے جان کر بڑی خوشی ہوئی کہ یہ آگ یکطرفہ نہیں۔ اگر میں نے آپ کو اپنا مور منتخب کر لیا تو آپ نےبھی اپنے مور ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ البتہ اعور کا میری پیشانی پر ہونا میرے لیے بھی باعث پریشانی تھا لیکن اس میں آپ کا کوئی قصور نہ تھا۔ یہ لوگ ہیں ہی اسی قسم کے.. وہ اعور جن کا بیٹا ہے ان کا کام ہی لوگوں کو تکلیف میں مبتلا کرنا ہے۔ وہ اس تصویر کے ذریعے مجھ پر اپنا تسلط جمانا چاہتا تھا لیکن وہ ایسا نہ کر سکا بلآخر اسے میری پیشانی کو چھوڑنا پڑا پھر اس نے وہاں جو جال پھیلایا اس سے میں اچھی طرح واقف ہوں اور ابھی خطرہ پوری طرح ٹلا نہیں ہے۔ ہمیں پوری طرح چوکنا رہنا ہے۔ وہ یہی چاہتا ہے کہ میں اسے اپنا مور منتخب کر لوں۔‘‘ رشا ملوک نے انکشاف کیا۔
“ارے نہیں۔‘‘ ساحل عمر بے اختیار چونک اٹھا۔ ’’ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟
”یہ میں سچ کہہ رہی ہوں۔‘‘ رشا ملوک نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’اس کا قبیلہ ہماری بستی کے نزدیک ہی آباد ہے لیکن آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ اس وقت محفوظ ترین مقام پر ہیں۔”
“رشاملوک کیا تم جانتی ہو کہ یہ لوگ میرے پیچھے کیوں لگے ہوئے ہیں؟‘‘
“سب کی اپنی اپنی غرض ہے۔ اعور کچھ اور چاہتا ہے اور وہ جادوگرنیاں کچھ اور چاہتی ہیں۔”
“کیا یہ صحیح ہے برکھا مجھے زندگی سے محروم کر کے اپنی ساحرانہ قوتیں بڑھانا چاہتی ہے؟ “
“ہاں یہ بات بالکل ٹھیک ہے .وہ ایک خطرناک ساحرہ ہے ۔ اسے اعور اور اس کے باپ کی پشت پناہی حاصل ہے۔ اس نے ایک لمحہ توقف کیا اور پھر مسکرا کر بولی۔ ’’اچھا چھوڑیں ان باتوں کو میں بھی آتے ہی کیا قصہ لے بیٹھی۔‘‘
“نہیں ایسی کوئی بات نہیں … تمہاری باتوں سے میری کئی الجھنیں دور ہوگئیں۔‘‘
“اور مجھ سے ملنا کیسا لگا؟‘‘ رشاملوک نے اپنی شرمگیں آنکھیں اٹھائیں۔
“یوں لگا جیسے میں نے چاند کو چھولیا ہو۔‘‘
“آپ نے بڑی سچی اور اچھی بات کہی… مجھ سے ملنا مجھے دیکھنا واقعی ایسا ہے جیسے کوئی چاند کو چھو لے۔”
“اس کا کیا مطلب ہے میں نے اور کوئی بات کہی تم نے کوئی اور بات کہی ہے۔“
“جو آپ نے کہا وہ بھی سچ اور جو میں نے کہا وہ بھی سچ۔‘‘
“کیا تمہارا تعلق چاند سے ہے؟‘‘ ساحل عمر نے وضاحت چاہی۔
“میرا تعلق چاند سے ہو یا زمین سے۔۔۔ رشا ملوک تو اب آپ کی ہو گئی۔” اس نے ایک اداۓ خاص سے کہا۔ وہ اصل بات کا جواب گول کر گئی۔
“میں اسے اپنی خوش نصیبی سمجھتا ہوں. میری اماں گھر پر تمہارا انتظار کر رہی ہیں۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ میں انہیں تمہاری تصویر دکھا کر تمہیں دلہن کہہ چکا ہوں۔ تم میرے خوابوں کی تعبیر ہو۔ مجھے ایسی ہی شریک زندگی کی تلاش تھی۔ تمہارا حسن بے مثال ہے۔ تم ایک انوکھی چیز ہو۔”
“اور آپ میں کیا کمی ہے۔ رشا ملوک کا مور کوئی عام سی چیز ہو ہی نہیں سکتا۔ آپ ایک بے مثال آدمی ہیں۔ رشا ملوک کا انتخاب۔ جسے رشا ملوک منتخب کر لے پھر اسے منتخب کرنے کی کوئی جرات نہیں کرسکتا۔ بالاخر برکھا اور ورشا منہ دیکھتی رہ گئیں۔” یہ کہہ کر وہ ہنسی اور ہنستی چلی گئی۔
ساحل عمر اسے ہنستے ہوئے بڑی محویت سے دیکھنے لگا۔ اس کی ہنسی کی آواز اس کی ہنسی کا انداز اتنا دل فریب تھا کہ ساحل عمر نہیں چاہتا تھا کہ وہ اپنی ہنسی روکے۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ ہستی رہے اور وہ اسے یونہی دیکھتا رہے۔ تب وہ ہنستے ہنستے اچانک رک گئی اور پریشان نظروں سے دروازے کی طرف دیکھنے لگی۔
ساحل عمر نے جب ہنسی رکتے اور اس کے چہرے پر پریشانی پھیلتے دیکھی تو اس نے اس کی نظروں کا تعاقب کیا۔ اس کی نظریں دروازے پر جمی ہوئی تھیں لیکن دروازہ بند تھا۔ ساحل عمر کو بڑی حیرت ہوئی کہ رشا ملوک آخر کس چیز کو دیکھ کر پریشان ہوگئی۔
اس سے پہلے کہ ساحل عمر اس سے کوئی سوال کرتا وہ ہڑ بڑا کر اٹھ کھڑی ہوئی اور تیزی سے دروازے کی طرف بڑھی۔ دروازے کی طرف جاتے ہوۓ اس نے خود کلامی کی۔ ’’ارے بابا صاعق یہاں کیسے آ گئے۔‘‘
’’بابا صاعق‘‘ ساحل عمر نے دہرایا۔ اسے تو بابا صاعق کہیں نظر نہ آۓ۔ بھلا وہ نظر آتے بھی کیسے جبکہ دروازہ بند تھا پھر رشا ملوک کو بند دروازے سے وہ کیسے نظر آ گئے۔
ابھی وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ رشا ملوک نے آہستگی سے دروازہ کھولا اور بڑے احترام سے دروازے کے ایک طرف ہو گئی۔ اس کے ہونٹوں سے بے اختیار نکلا۔ ’’بابا آپ۔“
ساحل عمر دروازے پر نظریں جماۓ ہوۓ تھا۔ جب دروازہ کھلا تو اسے دروازے پر ایک اونچے قد کا سفید ریش شخص نظر آیا۔ وہ ایک عمر رسیدہ آدمی تھا۔ نوے سے اس کی عمر کیا کم ہو گی بھنویں تک سفید ہو چکی تھیں۔ سر پر کڑھی ہوئی ایک گول ٹوپی تھی۔ سر کے بال سفید، بھنویں سفید، داڑھی سفید اور چہرے کی رنگت سرخ و سفید۔ زرد رنگ کا تہبند اور اس پر اسی رنگ کی چادر اوڑھے کمر نیلے رنگ کی ریشمیں ڈوری سے گسی ہوئی تھی۔ تہبند ٹخنوں سے اوپر تھا اور پیروں میں ایک ہلکی سی چپل تھی۔ ایک نظر میں بابا صاعق کی شخصیت بڑی دلفریب جاذب نظر اور وجیہہ محسوس ہوئی تھی ۔
“ایک بہت ضروری کام سے آیا ہوں۔‘‘ بابا صاعق نے دروازے پر کھڑے کھڑے بڑے شیریں لہجے میں کہا۔
“بابا آپ کمال کرتے ہیں۔ آپ نے خواہ مخواہ تکلیف کی۔ مجھے بلوالیا ہوتا۔ “
“ہمارا شوق ہمیں یہاں لے آیا۔” یہ کہہ کر انہوں نے چپل دروازے پر اتار دیے اور سفید اونی قالین پر چلتے ہوۓ آگے بڑھے۔
رشاملوک نے فورا دروازہ بند کر دیا اور بھاگتی ہوئی بابا صاعق کے نز دیک آئی اور ان کا بازو پکڑتے ہوۓ بولی ۔’’میں سمجھ گئی کہ آپ کیوں آۓ ہیں۔ آخر صبر نہیں ہو سکا ناں آپ میرے مور کو دیکھنے آۓ ہیں۔‘‘
“ہاں۔‘‘ انہوں نے مسکرا کر کہا۔ ’’میں تیرے مور کو دیکھنے آیا ہوں اور اس کیلئے ایک تحفہ آیا ہے۔ وہ اسے دینے آیا ہوں۔‘‘ پھر وہ اچانک ساحل عمر سے مخاطب ہوۓ جو بڑی دلچسپی سے انہیں دیکھ رہا تھا اور انہیں اپنے نزدیک آتے دیکھ کر وہ کب کا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ ’’اے لڑکے تو ہمیں تو پہچان گیا ہو گا۔‘‘
“جی بابا صاعق…..میں جانتا ہوں کہ آپ اس بستی کے دانا ہیں۔ آپ کو بہت ہنر آتے رشا ملوک پر آپ خاص طور پر مہربان ہیں”
“اے لڑکے ہماری مہربانیاں تم پر بھی کچھ کم نہیں ہیں۔۔۔تو یہاں تک بحفاظت پہنچ گیا ہے۔ یہ بات اگر سو چی جاۓ تو بہت بڑی ہے۔‘‘ انہوں نے احسان جتایا۔
“میں آپ کی اس مہربانی کا شکر گزار ہوں۔‘‘ وہ واقعی ممنون احسان تھا۔
“خالی خولی شکر گزار ہونے کا کیا فائدہ۔ ہمارے حضور کوئی نذر پیش کر“
“بابا آپ میرے مور کو پریشان کیوں کر رہے ہیں.. آپ جانتے ہیں کہ وہ یہاں کس طرح پہنچا ہے۔ اس کے پاس اس وقت کچھ دینے کو کہاں ہے۔ آپ کی نذر کی ہے۔ جب یہ آپ کی مختاری پرآ ئیں گئے تو خالی ہاتھ نہیں آئیں گے۔‘‘ رشا ملوک نے بابا صاعق کو ترچھی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا
“اے لڑکی تو ناراض کس لئے ہوتی ہے۔ ہم مذاق کر رہے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ جب یہ ہماری مختاری پر آۓ گا تو خالی ہاتھ نہیں آۓ گا۔ اس وقت تو ہم اس کے لئے کچھ لاۓ ہیں۔” یہ کہہ کر بابا صاحق نے اپنی چادر میں ہاتھ ڈالا اور جب ہاتھ باہر نکالا تو ان کے ہاتھ میں چاندی کے خول میں بند ایک تعویذ تھا۔ یہ تعویذ کالی ڈوری میں بندھا ہوا تھا۔ بابا صاعق نے یہ تعویذ ساحل عمر کی طرف بڑھایا۔ “یہ لو اسے گلے میں ڈال لو”
“بابا یہ کیا ہے؟‘‘ رشا ملوک نے اس تعویذ کو حیرت زدہ ہو کر دیکھا اور اسے اپنے ہاتھ میں لے لیا
“یہ تعویذ ہے۔ اس کی بستی سے آیا ہے۔ اسے حافظ موسی نے بھیجا ہے۔ وہ اپنی بستی کا بڑا دانا شخص ہے۔ اس جیسا شخص آس پاس کوئی نہیں۔ یہ تعویذ اس کی حفاظت کرے گا۔‘‘
’’حافظ موسی‘‘ ساحل عمر نے خود کلامی کی۔ یہ نام اس کے حافظے میں موجود تھا۔ ناصر مرزا ان بزرگ سے ملا تھا تو انہوں نے اس سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ ناصر مرزا اسے ان کے پاس لے جانا چاہتا تھا لیکن اس وقت وہ برکھا کے فریب میں مبتلا تھا۔ اس کا جادو اس کے سر چڑھ کر بول رہا تھا وہ اسی سحر کے زیر اثر گھر سے نکل آیا تھا۔ اس طرح حافظ موسی سے اس کی ملاقات ہوتے ہوتے رہ گئی۔ اب انہی حافظ موسی نے اس کیلئے تعویذ بھیجا تھا تاکہ اس کی حفاظت میں رہ سکے۔ سوال یہ تھا کہ تعویز انہوں نے اتنی دور کس کے ہاتھ بھیجا تھا۔ یہی سوچ کر اس نے بابا صاعق سے سوال کرنا چاہا
“محترم بزرگ….”
“اے لڑکے ذرا ٹھہرنا. میرے ساتھ بڑے بڑے القاب لگانے کی ضرورت نہیں میں پوری بستی کا بابا صاعق ہوں۔ تم بھی مجھے اس نام سے پکارو. اگر بہت زیادہ ہی احترام کرنا ہے تو چلو نام مت لو صرف بابا کہہ لو ہاں تو میں کون ہوں؟‘‘
“بابا صاعق‘‘ ساحل عمر کے منہ سے بے اختیار نکلا۔ اس کے اس انداز پر دونوں ہی ہنس پڑے۔
“یہ ہوئی ناں بات… اب کہو کیا کہتے ہو۔‘‘
“بابا میں یہ پوچھنا چاہ رہا تھا کہ یہ تعویذ آپ تک کیسے پہنچا حافظ موسی کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ میں یہاں ہوں آپ کی بستی میں۔
”اے لڑ کے…“
“بابا ذرا ٹھہریئے میرا نام اے لڑ کے نہیں ساحل عمر ہے۔ آپ مجھے میرے نام سے پکاریں تو مجھے خوشی ہو گی۔‘‘ ساحل عمر نے مسکرا کر بڑے مودبانہ انداز میں کہا تو رشا ملوک منہ پھیر کر مسکرانے لگی۔
“اچھا ٹھیک ہے۔ میں آئندہ تجھے تیرے نام سے پکاروں گا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تیرا نام بہت اچھا ہے۔ ہاں تو ساحل عمر وہ تیری بستی کا حافظ موسی بڑا زبردست دانا ہے۔ اس کے بہت سے کارندے ہیں ۔ وہ جس جگہ چاہے اور جب چاہے کوئی بھی چیز منتقل کر سکتا ہے۔ اگر وہ خود سفر کرنا چاہے ۔ تو اسے یہاں آنے میں چند ساعتیں درکار ہوں۔ اس کے رابطے بہت دور تک ہیں۔ تیری کچھ سمجھ میں۔ آیا کہ میں نے کیا کہا۔‘‘
“ہاں بابا میں کچھ سمجھا اور کچھ نہیں سمجھا۔‘‘ ساحل عمر نے جواب دیا۔
“تو جتنا سمجھ گیا اسے بہت سمجھ۔ میں نے تو خیر اتنا بتا بھی دیا حافظ موسی تو اس موضوع پر ایک لفظ نہ بولتا اور وہ ایسا کر کے ٹھیک کرتا ہے۔ یہ دنیا ہی الگ ہے۔ مخفی باتوں کو مخفی ہی رہنا چاہیے۔” بابا صاعق نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ کہا۔ ’’اب یہ تعویذ کو گلے میں ڈال لے۔“
یہ تعویذ رشا ملوک کے ہاتھ میں تھا۔ اس نے فورا ساحل عمر کی طرف بڑھا دیا۔ ساحل مرنے وہ تعویذ اپنے گلے میں ڈال لیا۔ اس تعویذ کو گلے میں ڈالتے ہی اسے شدت کا پسینہ آیا۔ حالانکہ اس وقت وہ جہاں تھا وہاں سخت سردی تھی۔ اس کے باوجود اس کے کپڑے پسینے میں تر ہو گئے۔ پر اس کے جسم پر لرزہ طاری ہو گیا۔
بابا صاعق اس کی بدلتی ہوئی کیفیت کو بغور دیکھ رہے تھے۔ جب اس کا جسم لرزنے لگا انہوں نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور بولے۔ ’’ساحل عمر میرا ہاتھ پکڑ لے۔“
ساحل عمر نے فورا ان کا ہاتھ تھام لیا۔ ہاتھ تھامتے ہی جسم پر طاری ہونے والی کپکپی فورا ختم ہوگئی۔ پسینہ آنے کے بعد اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کا جسم ہلکا پھلکا ہو گیا ہو طبیعت کا بوجھل پن دور ہو گیا ہو سحر کے اثرات سے نکل گیا ہو۔
“اب ٹھیک ہے۔ کوئی پریشانی تو نہیں۔‘‘ بابا صاعق اپنا ہاتھ کھینچے ہوۓ بولا۔
“نہیں بابا. میں بالکل ٹھیک ہوں۔ اس تعویذ کو پہن کر بڑا سکون ملا ہے۔” ساحل عمر نے کہا۔
”اے لڑ کی . اب میں چلتا ہوں تو اپنے مور کی خاطر مدارات کر..سورج ڈھلنے تو اسے میری مختاری پر لے آنا ضروری نہ ہوتا تو میں مشورہ دیتا کہ اسے یہیں چھپا کر رکھ..”
“بابا آپ فکر نہ کریں. میں انہیں سب کی نظروں سے بچا کر آپ کے پاس لے آؤں گی آپ بے فکر ہو کر جائیں۔‘‘ رشا ملوک نے بڑے یقین سے کہا
“اے لڑکی… میں جانتا ہوں کہ تو بڑی ذہین ہے۔ دیکھ ذرا ہوشیاری سے۔۔۔” بابا صاعق نے چلتے چلتے ہدایت کی۔ پھر ساحل عمر کا ایک کان چھوا اور دروازے سے باہر نکل گیا۔
“اے لڑکی… انہوں نے میرا کان کس خوشی میں پڑا‘‘ ساحل عمر بابا صاعق کے جانے کے بعد رشا ملوک سے مخاطب ہوا۔
“یہ اس بستی کی رسم ہے۔ ابھی تو دیکھیں کون کون آپ کے کان پکڑتا ہے۔‘‘ رشا ملوک ہنس کر بولی “اچھا اب باتیں بہت ہو چلیں میں آپ کے کھانے پینے کا بندوبست کرتی ہوں۔ آپ کچھ کھانے سے پہلے نہانے کا ارادہ تو نہیں رکھتے۔”
“ایسی سردی میں نہاؤں گا میں؟‘‘ ساحل عمر نہانے کے تصور سے ہی کانپ اٹھا۔
“آیئے. پہلے حمام ملاحظہ فرما لیجئے۔ ہو سکتا ہے اسے دیکھ کر آپ اپنے ارادے میں تبدیلی کر لیں۔‘‘ یہ کہہ کر رشاملوک دروازے کی طرف بڑھی۔
وہ بھی اس کے پیچھے پیچھے چلا۔ دروازہ کھلا تو اسے سامنے ایک لمبی سی راہداری نظر آئی۔ بالکل سامنے ایک اور دروازہ تھا۔ وہ شاید باہر جانے کا راستہ تھا۔ اس دروازے کے بائیں جانب دو دروازے اور نظر آ رہے تھے۔ رشا ملوک نے ایک دروازے کی طرف اشارہ کیا۔
’’یہ حمام اور وہ بیت الخلا ہے۔ آپ نہانے دھونے کی تیاری کریں میں آدھے گھنٹے تک آتی ہوں۔ امید ہے آپ اس وقت تک ترو تازہ ہو جائیں گے۔‘‘ رشا ملوک نے راہداری کے آخر میں بنا دروازہ کھولا اور باہر چلی گئی۔ ساحل عمر کو دروازہ کھلنے کے بعد اندھیرے کے سوا کچھ نظر نہ آیا۔ اس کے جانے کے بعد جب دروازہ بند ہو گیا تو اس دروازے کی طرف بڑھا۔ اس نے اس دروازے کو کھولنے کی کوشش کی لیکن وہ دروازہ نہ کھلا۔ شاید رشا ملوک جاتے ہوئے دروازہ باہر سے بند کر گئی تھی۔
وہ واپس لوٹ آیا۔ اب اس نے وہ دروازہ کھولا جسے رشا ملوک نے حمام کہا تھا۔
دروازہ کھلتے ہی اندر سے مسحور کن خوشبو کا جھونکا آیا۔ وہ گہرا سانس لیتا ہوا حمام میں داخل ہوگیا۔ یہ ایک وسیع وعریض حمام تھا۔ اس کے ذہن میں واش روم کا جو تصور تھا اس سے بالکل مختلف۔ درمیان میں ایک سفید پتھروں کا بنا حوض تھا۔ اس کے اندر جو پانی تھا وہ متحرک تھا۔ یہ بہتا ہوا پانی تھا۔ ایک طرف سے پانی اندر داخل ہو رہا تھا تو دوسری طرف سے باہر نکل رہا تھا۔ حمام کی دیواریں سرخ پتھروں کی تھیں۔ چھت وہی گنبد نما اور اطراف سے کھلی ہوئی۔ حمام گول تھا جبکہ حوض مستطیل تھا۔ حمام میں خوشگوار گرمی تھی اور یہ گرمی دیواروں کی وجہ سے تھی۔ حمام کی دیواریں گرم تھیں۔ پھر اس نے حوض کے پانی کو چھو کر دیکھا۔ وہ پانی مناسب حد تک گرم تھا۔ حمام میں داخل ہو کر اسے احساس ہی نہیں ہو رہا تھا کہ باہر اس قدر سردی ہے۔
حمام کے ایک طرف بڑا آئینہ فریم شدہ لکڑی کے سٹینڈ میں لگا ہوا تھا۔ اس فریم کو آگے پیچھے اپنی مرضی سے کیا جا سکتا تھا اس کے ساتھ ہی ایک سٹینڈ اور تھا جس پر بڑے سائز کا نرم ملائم تولیہ پڑا ہوا تھا۔ لکڑی کے ایک خانے میں چند جوڑے کپڑے موجود تھے۔
ساحل عمر جب اپنے گرم کپڑے اتار کر حوض میں داخل ہوا تو جب اسے پانی کی روانی کا اندازہ ہوا۔ یہ حوض کسی بہتے چشمے کی طرح تھا۔ حوض کی گہرائی کہیں کم اور کہیں زیادہ تھی۔ بندہ اپی مرضی سے پانی کی گہرائی کا انتخاب کر سکتا تھا۔
ساحل عمر کے لئے اس طرح کے حمام میں غسل ایک نیا تجربہ تھا اور بہت خوشگوار. رشا ملوک نے ٹھیک ہی کہا تھا۔ یہ حمام اس قدر خوبصورت اور خوشگوار تھا کہ یہاں سے نکلنے کو جی ہی نہیں چاہتا تھا۔
جب وہ حمام سے باہر آیا تو بے حد تروتازہ تھا۔ اسے زبردست بھوک لگی ہوئی تھی۔ کمرے میں آ کر وہ بستر پر بیٹھ گیا۔ اس کمرے میں کسی قسم کا کوئی فرنیچر نہ تھا لہذا اس نے بستر پر بیٹھ کر کمبل اپنے کندھوں پر ڈال لیا۔
وہ تعویذ اس کے گلے میں موجود تھا۔ پچھلا تعویذ جو عابد منجم نے دیا تھا اسے وہ نہاتے وقت اتار دیا کرتا تھا تاکہ بھیگ نہ جاۓ۔ وہ تعویذ کپڑے میں سلا ہوا تھا۔ اتارنے کی وجہ سے ایک دن و تعویذ رشا ملوک کی تصویر پر ٹنگا رہ گیا اور وہ برکھا کے سحر میں مبتلا ہو گیا۔ اس مرتبہ اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ اس تعویذ کو کسی قیمت پر گلے سے نہیں اتارے گا۔ ویسے بھی یہ تعویذ چاندی کے خول میں بند تھا۔ تعویذ کے حوالے سے اسے رشا ملوک کی تصویر یاد آئی جس کے بارے میں اماں نے بتایا تھا کہ اسے بازغر لے اڑا۔ وہ اس سلسلے میں بازغر سے بات کرنا چاہتا تھا لیکن باوجود کوشش کے نہیں کر سکا تھا۔ پتہ نہیں اب بازغر سے اس کی ملاقات ہو گی یا نہیں۔ اگر وہ کہیں نظر آ گیا تو وہ اس مسئلے پر اس سے ضرور باز پرس کرے گا۔
ابھی وہ انہی خیالات میں غلطاں تھا کہ بڑی آ ہستگی سے دروازہ کھلا۔ سب سے پہلے ساحل عمر کی نظر ٹرے پر پڑی پھر ٹرے اٹھانے والی پر پڑی۔ ٹرے میں ناشتہ تھا لیکن ٹرے اٹھانے والی رشا ملوک نہ تھی۔ وہ کوئی اور لڑ کی تھی۔ جو بھی تھی اچھی پیاری سی تھی ۔ اس لڑکی کے پیچھے رشا ملوک تھی۔ اس کے ہاتھ میں ایک تھالی تھی۔
وہ دونوں ہنستی مسکراتی اندر آ ئیں۔ اس لڑکی نے بیضوی ٹرے اس کے سامنے رکھی اور پر پیچھے ہٹ کر کھڑی ہو گئی۔ تب رشا ملوک آ گے بڑھی۔ وہ ٹرے کے نزدیک ہی بیٹھ گئی اور اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھالی ٹرے کے برابر رکھ دی اور من موہنے انداز میں مسکرائی۔
“ناشتہ فرمایئے!‘‘ اس نے شیریں لہجے میں کہا۔
ٹرے میں دو پلیٹوں میں پھل سجے تھے اور درمیان میں دودھ سے بھرا گلاس موجود تھا۔
تھالی میں کیک جیسی کوئی چیز تھی۔ اس کے ساتھ ایک چمکتی چھری رکھی تھی۔
”تم نے ناشتہ کر لیا۔‘‘ ساحل عمر نے ناشتے پر نظر ڈالتے ہوۓ کہا۔
“جی کب کا ؟‘‘ رشا ملوک بولی۔
“میرے ساتھ نہیں کروگی۔
“ناشتہ تو نہیں کروں گی لیکن اس ناشتے کی ابتداء مجھ سے ہو گی‘‘ اس نے عجیب بات کہی۔
“دانا یہ شگون کی روٹی ہے اسے کاٹ کر پہلے آپ کو اپنے ہاتھ سے رشا ملوک کو کھلانا ہو گی” اس مرتبہ وہ لڑکی بولی جو رشاملوک کے ساتھ آئی تھی۔
یہ سن کر رشا ملوک نے نظریں جھکا لیں۔ اس کے چہرے پر شرم چھا گئی تھی۔
’’یہ کون ہیں؟‘‘ ساحل عمر نے رشا ملوک سے پوچھا۔۔
“یہ مویا ہے میرے بچپن کی سہیلی…. آپ کو پسند آئی۔‘‘ رشا ملوک نے اپنی گھنیری پلکیں جھپکائیں
“اچھی ہے۔‘‘ ساحل عمر نے اسے تعریفی نظروں سے دیکھا۔
تب رشا ملوک مویا سے مخاطب ہوئی ۔’’اور مویا تجھے میرا مور پسند آیا؟‘‘
“ہاں بہت. واقعی میں یہ تو خوابوں کا شہزادہ ہے۔ کوئی خواب زادہ‘‘ مویا نے خوش ہو کر کہا
“ہے ناں.انوکھا۔” رشاملوک اس کے منہ سے تعریف سن کر کھل اٹھی۔ ’’سب سے الگ ہے ناں سب سے جدا بستی میں ہے کسی کا ایسا مور؟‘‘
“نہیں بالکل نہیں۔“ مویا نے زور زور سے گردن ہلائی۔
“خدا کے واسطے رشا ملوک میرے پاؤں زمین پر ہی رہنے دو۔ مجھے اتنا اونچا نہ اڑاؤ کہ میں زمین پر پاؤں رکھنا ہی بھول جاؤں۔” ساحل عمر نے انکساری سے کہا۔
“دانا زمین تو آپ کے پاؤں سے کب کی نکل چکی ہے۔ اب تو آپ کے پاؤں چاند پر پڑ رہے ہیں۔” رشا ملوک کے بجاۓ مویا نے جواب دیا۔
“مویا چل چپ ہو جا۔ انہیں بھوک لگی ہو گی ناشتہ کرنے دے۔” وہ راز کھولنے لگی تھی اسے خاموش کرنا ضروری تھا۔
“میں نے دانا کا ہاتھ تو نہیں پکڑا ہوا. یہ چھری اٹھا کرشگون کی روٹی کاٹتے کیوں نہیں۔‘‘ مویا نے یاد دلایا۔ اس کے لہجے میں شوخی تھی۔
“اوہ اچھا‘‘ ساحل عمر نے شگون کی روٹی کی تھالی اپنے آ گے کھسکا لی اور چھری سے کیک کی طرح اس کا ایک چھوٹا سا پیس کاٹا اور اسے اپنے ہاتھ میں اٹھا کر بولا ۔’’لو رشا ملوک اپنا نازک سا منہ کھولو”
رشاملوک نے فورا اپنا منہ کھول دیا اور تھوڑا سا جھک کرشگون کی روٹی کا پیس منہ میں لے لیا اور بڑی شائستگی سے منہ چلانے گی۔ پھر بولی۔ ’’چل مویا۔‘‘
مویا فورا رشاملوک کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔ تب رشاملوک ساحل عمر سے مخاطب ہوئی۔’’اسے بھی شگون کی روٹی کھلایئے۔“
“اسے بھی میں کھلاؤں؟” ساحل عمر حیران ہوا۔
’’جی اسے بھی آپ کھلائیں گے۔ یہ میری بچپن کی سہیلی ہے آخر.
’’اچھا۔‘‘ یہ کہہ کر ساحل عمر نے اس’’روٹی‘‘ کا ایک ٹکڑا اور کاٹا اور اس کی طرف بڑھا دیا۔ مویا نے فورا بڑا سا منہ پھاڑ دیا اور پھر وہ رشا ملوک اور ساحل عمر کی خوشگوار زندگی کی دعائیں دیتی مزے سے کھانے لگی۔
“اب آپ ناشتہ کیجئے ۔ ہم چلتے ہیں۔‘‘ رشا ملوک کھڑے ہوتے ہوۓ بولی۔
اس کے ساتھ مویا بھی کھڑی ہو گئی اور پھر وہ دونوں خاموشی سے کمرے سے نکل گئیں۔ وہ بند دروازے کو دیکھتا رہ گیا۔
اس کا خیال تھا کہ رشا ملوک بھی جوابا اسے ’’شگون کی روٹی‘‘ کھلائے گی. لیکن ایسا کچھ نہ ہوا تب اس نے تھالی میں رکھی سنہری گول روٹی کا ایک پیس کاٹا اور منہ میں رکھ لیا۔ وہ بناوٹ کے اعتبار سے سادہ کیک جیسی تھی لیکن اس کا ذائقہ انوکھا تھا۔
اس نے سیر ہو کر ناشتہ کیا۔ پھلوں کی حلاوت اور شیر ینی کا کوئی جواب نہ تھا۔ دودھ کی خوشبو اور ذائقہ بالکل جدا تھا۔ اس ناشتے نے اس کے دل کو فرحت بخش دی تھی۔ دوپہر کا کھانا بھی بڑا لذیذ تھا۔ دو پہر کے کھانے کے بعد قہوہ دیا گیا تھا۔ اس قہوہ کی خوشبو دیر تک اس کے منہ میں بسی رہی۔ جب سورج پہاڑوں کی اوٹ میں چھپ گیا تو رشا ملوک اس کے کمرے میں داخل ہوئی۔ وہ اکیلی نہ تھی ۔ اس کے ساتھ بازغر تھا۔ وہ بازغر کو دیکھ کر مسکرانے لگا۔ اس نے چاہا کہ اس سے پوچھے کہ وہ جھیل سیف الملوک پر اسے تنہا چھوڑ کر کہاں چلا گیا تھا لیکن وہ باوجود کوشش کے سوال نہ کر پایا۔ بازغر نے اپنی موٹی اور غلافی آنکھوں سے بس ایک بار اسے دیکھا تھا۔ اس کی آنکھوں میں جانے کیا بات تھی کہ اس کے ذہن میں اٹھنے والے سارے سوال بھاپ کی طرح اڑ گئے تھے۔
“بابا صاعق کی مختاری پر چلنا ہے ۔‘‘ بازغر نے اسے اپنی تیز نگاہوں سے دیکھتے ہوۓ کہا۔
“چلیں ۔‘‘ ساحل عمر بستر سے فورا کھڑا ہو گیا۔
“یہ لیں‘‘ رشا ملوک نے اس کی طرف ایک چھوٹا سا مخملی ڈبہ بڑھاتے ہوۓ کہا۔
“یہ کیا ہے؟”
’’یہ بابا صاعق کی نذر ہے۔‘‘ رشا ملوک بولی۔
“آپ بازغر کے ساتھ چلیں یہ آپ کو بہت احتیاط سے بابا کی مختاری پہنچا دے گا۔ میں آپ کے ساتھ نہیں جاسکتی۔ میں آپ کو وہیں ملوں گی۔“
’’آئیے ساحل صاحب۔‘‘ بازغر نے اسے باہر نکلنے کا اشارہ کیا۔
ساحل عمر جب دروازے سے باہر نکلا تو اسے سیڑھیوں کے سامنے ایک گاڑی نظر آئی۔ چھ سات سڑھیاں اتر کر اس کے نزدیک پہنچا۔ یہ ایک بیل گاڑی جیسی چیز تھی لیکن اس میں بیل کے بجاۓ سفید گھوڑا جتا ہوا تھا۔ ساحل عمر کو بازغر نے گاڑی پر چڑھنے میں مدد کی پھر وہ خود گاڑی بان کی جگہ بیٹھ گیا اور اس نے اگلے پچھلے دونوں پردے گرا دیئے۔ ساحل عمر کسی پردے والی خاتون کی طرح گاڑی میں بند ہو گیا۔
چند لمحوں بعد بازغر نے پردے کے باہر ہی سے پو چھا ’’چلوں جناب!‘‘
“ہاں چلو۔‘‘ گاڑی کے اندر سے جواب آیا۔
تب بازغر نے منہ سے ایک عجیب سی آواز نکالی۔ ساحل عمر کو ایک دم جھٹکا لگا۔ اس نے گاڑی کو مضبوطی سے تھام لیا۔ گاڑی نے دیکھتے ہی دیکھتے رفتار پکڑ لی۔ محسوس ہی نہیں ہو رہا تھا کہ اس گاڑی میں گھوڑا جتا ہوا ہے۔ یہ محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کسی موٹر کار پر بیٹھا ہے۔ گاڑی میں گھوڑا جتا ہوا تھا ہے لیکن اس کی ٹاپوں کی آواز قطعا نہیں آ رہی تھی۔ اور یہ بات بہت حیرت میں ڈالنے والی تھی۔
ساحل عمر نے ذرا سا پردہ ہٹا کر باہر کا جائزہ لیا۔ باہر بالکل اندھیرا تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے گاڑی کسی سرنگ میں سے گزر رہی ہو۔
کچھ دیر کے بعد گاڑی کی رفتار کم ہوئی۔ ٹاپوں کی آواز بھی آنے لگی۔ پھر گاڑی دھیمی ہوتے ہوئے ایک دم رک گئی
“آئیے ساحل صاحب!‘‘ بازغر کی آواز آئی تو وہ پردہ ہٹا کر گاڑی سے نیچے کود آیا۔
نیچے اتر کر اس نے چاروں طرف دیکھا تو خود کو کسی عمارت کے احاطے میں پایا۔ سامنے ایک بڑی سی گنبد نما عمارت تھی۔ اس میں ایک بڑا سا دروازہ تھا اور ایک چھوٹی سڑک تھی جس کے دونوں طرف ستونوں میں روشنیاں کی گئی تھیں۔ یہ سڑک اس عمارت تک گئی تھی۔ بازغر اور وہ دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہوۓ اس گنبد نما عمارت کے بڑے سے گیٹ میں داخل ہو گئے جو کھلا ہوا تھا۔ گیٹ میں داخل ہوتے ہی ساحل عمر کی نظر رشا ملوک پر پڑی۔ وہ سامنے ہی کھڑی تھی۔ انہیں دیکھ کر وہ آ گے بڑھی۔
’’آپ آ گئے۔‘‘ رشا ملوک قریب آ کر بولی۔
“جی۔” ساحل عمر بولا ۔ وہ حیران تھا کہ رشا ملوک اس سے پہلے کس طرح مختاری پہنچ گئی۔
“اندر میری ضرورت تو نہیں۔” بازغر رشاملوک سے مخاطب تھا۔
“ہیں. تم باہر گاڑی میں بیٹھو۔‘‘ رشا ملوک نے جواب دیا۔ ’’اگر تمہاری کوئی ضرورت ہوئی تو تمہیں اشارہ مل جائے گا۔‘‘
“ٹھیک ہے۔” بازغر نے مودبانہ انداز میں کہا اور پھر وہ واپس چلا گیا۔
“آئیے۔‘‘ رشاملوک نے اپنی بڑی بڑی چمکتی آنکھوں سے اسے دیکھا۔
ساحل عمر خاموشی سے اس کے ساتھ ہو گیا۔ رشا ملوک مختلف راہداریوں سے گزرتی ہوئی بلآخر ایک دروازے پر ٹھہر گئی۔ دروازے پر لو ہے کا ایک موٹا کڑا لگا ہوا تھا۔ اس نے چار مرتبہ اس کڑے کو دروازے پر مارا اور پھر ساحل عمر کے ساتھ کھڑی ہو گئی۔ چند لمحوں بعد اس دروازے کے دونوں پٹ ایک ساتھ کھلے۔ دروازہ کھولنے والا نظر نہ آیا شاید دروازہ کھولنے والے کواڑوں کے پیچھے چلے گئے تھے۔ دردازہ کھلتے ہی سامنے بابا صاعق نظر آئے۔ وہ ایک اونچی کرسی پر بیٹھے تھے۔ یہ ایک مرصع کرسی تھی۔ اس پر قیمتی پتھر جڑے ہوئے تھے۔ یہ کرسی دوفٹ اونچے چبوترے پر رکھی ہوئی تھی۔ چبوترے پر ایک بہت خوبصورت قالین بچھا ہوا تھا اور اس چبوترے پر کرسی کے ساتھ لگا تہکال بیٹھا ہوا تھا۔ ہاہا صاعق کا ایک ہاتھ اس کے سر پر تھا اور وہ بار بار اپنی زبان باہر نکال کر اپنے منہ پر پھیر رہا تھا۔
بابا صاعق کی پشت پر ایک بڑا آ تش دان تھا جس میں آگ روشن تھی۔ بابا صاعق ان دونوں کو آتا دیکھ کر مسکراۓ۔ رشاملوک کرسی کے ایک طرف بابا صاعق کے قدموں میں بیٹھ گئی۔ بابا صاحق نے اپنا دوسرا ہاتھ رشا ملوک کے سر پر رکھ دیا۔ اب ساحل عمر آ گے بڑھا۔ اس کے ہاتھ میں وہی ڈبہ تھا۔ وہ ڈبہ اس نے چبوترے کے قریب ہو کر بابا صاعق کی طرف بڑھایا۔
“ساحل عمر اس ڈبے کو کھول۔‘‘ بابا صاعق نے بہت دھیمے لہجے میں کہا۔
یہ ایک ایسا ڈبہ تھا جس میں عام طور پر زیورات رکھے جاتے ہیں۔۔ ساحل عمر نے اس کا ڈھکن اٹھایا تو اسکی آنکھیں خیرہ ہوگئیں ڈبے کے درمیان میں ایک بڑا سا ہیرا رکھا تھا اس ہیرے سے شعائیں پھوٹ رہی تھیں۔ ساحل عمر نے ہیرا دیکھ کر ڈبے کا رخ بابا صاعق کی طرف کر دیا۔ بابا صاعق نے ڈبے کی طرف ایک نظر کی اور پھر شیریں لہجے میں بولے۔ ’’نذر نکال کر میرے ہاتھ پر رکھ۔‘‘
ساحل عمر نے وہ ہیرا ڈبے سے نکال کر بابا صاعق کے پھیلے ہاتھ پر رکھ دیا اور خالی ڈبہ بند کر کے ان کے قدموں میں ڈالنے لگا تو رشا ملوک نے اس ڈبے کو تھام لیا۔
بابا صاعق نے اپنے ہاتھ پر رکھے ہیرے کو بغور دیکھنا شروع کیا۔ کچھ ہی دیر میں ان کے ہاتھ پر رکھا ہوا ہیرا گھل گیا۔ پانی ہو گیا۔ بابا صاعق نے دوسرے ہاتھ کی ایک انگلی اس پانی میں بھگوئی اور رشا ملوک سے مخاطب ہو کر بولے۔ ’’رشا ملوک سامنے آ۔“ رشاملوک ان کے گھٹنے سے لگی بیٹھی تھی فورا اس نے رخ بدل لیا۔ اب اس کا چہرہ بابا صاعق کے سامنے تھا۔ انہوں نے اپنی بھیگی ہوئی انگلی اس کی مانگ میں پھیری۔ انہوں نے کئی مرتبہ ایسا کیا یہاں تک کہ رشاملوک کی مانگ کے بال اچھی طرح اس ہیرے کے پانی میں بھیگ گئے۔
پھر انہوں نے ساحل کو آگے آنے کو کہا۔ رشا ملوک پھر ان کے گھٹنے سے لگ کر بیٹھ گئی۔
’’اپنا سینہ کھول۔‘‘ بابا صاعق ساحل عمر سے مخاطب ہوۓ۔
ساحل عمر نے اپنے دونوں ہاتھوں سے سینے کے سامنے سے لباس ہٹا دیا۔ گورے بدن پر گھنے سیاہ بال سامنے آ گئے۔ پھر بابا صاعق نے اپنی ہتھیلی کا بقیہ پانی اپنی انگلی سے سینے کے بالوں پر لگا دیا۔ یہ پانی انہوں نے چھوٹے سے دائرے کی صورت میں لگایا۔ پانی لگاتے ہوۓ وہ زیر لب کچھ پڑھتے جارہے تھے۔
“پھر یہ عمل ختم ہوا۔‘‘
ان کے ہاتھ پر اب بھی تھوڑا سا پانی لگا ہوا تھا۔ ان کی ہتھیلی گیلی تھی۔ تب انہوں نے اپنا ہاتھ تہکال کے سامنے کر دیا تہکال نے انکا ہاتھ چاٹ لیا تہکال نے انکی ہتھیلی مزید گیلی کر دی۔ تب انہوں نے اپنا ہاتھ تہکال کے بالوں سے صاف کیا۔ تہکال دوبارہ ان کے قدموں میں بیٹھ چکا تھا۔ وہ پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگے۔
اس کے بعد وہ کرسی سے کھڑے ہو گئے۔ رشا ملوک بھی فورا ان کے قدموں سے اٹھ گئی۔ بابا صاعق ایک قدم آگے بڑھے۔ پھر انہوں نے رشا ملوک کو اشارہ کیا۔ وہ ساحل عمر کے برابر کھڑی ہو گئی بابا صاعق نے اپنے دونوں ہاتھ آگے پھیلاۓ۔ رشا ملوک نے اپنا بایاں ہاتھ ان کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ ساحل عمر نے اس کی دیکھا دیکھی اپنا دایاں ہاتھ بڑھایا اور ان کے داہنے ہاتھ پر رکھ دیا۔
اتنے میں تہکال جو بڑے اطمینان سے اپنی ٹانگیں پھیلاۓ بیٹھا تھا ایک دم اٹھا اور پھر پلٹ کر واپس چلا۔ اس نے چبوترے سے چھلانگ لگائی۔ ساحل عمر نے اسے ذرا سا جھک کر دیکھا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ آتش دان کی دیوار سے ٹکرا کر پیچھے گرے گا لیکن ایسا نہ ہوا وہ بھڑکتی آگ اور پتھر کی دیوار دونوں سے گزر کر ایک ساعت میں غائب ہو گیا۔ تہکال واقعی کوئی انوکھی شے تھا۔
بابا صاعق کے ہاتھ پر دونوں کے ہاتھ رکھے تھے اور انہوں نے آنکھیں بند کر کے کچھ پڑھنا شروع کر دیا تھا۔ ساحل عمر ان کے ہونٹوں کو ہلتا ہوا بغور دیکھ رہا تھا۔ کچھ دیر پڑھنے کے بعد انہوں نے اچانک آ نکھیں کھولیں اور دھیرے سے بولے۔ ’’میرے ہاتھ پر جو آیا ہے اسے اٹھا کر مٹھیاں بند کر لو۔‘‘
ساحل عمر اور رشا ملوک نے ایسا ہی کیا۔ بابا صاعق تب پیچے ہٹے اور پھر سے کرسی پر برا جمان ہو گئے اور بولے۔ ’’چلو دونوں مٹھیاں کھولو۔“
دونوں نے اپنی اپنی مٹھیاں کھولیں تو دونوں کی ہتھیلی پر ایک چھوٹا سا سرخ رنگ کا بیضوی پتھر نظر آیا
رشاملوک کے چہرے پر ایک دم مسرت کی لہر دوڑ گئی۔
“اے رشا تجھے مبارک ہو. اے ساحل تجھے مبارک ہو….. وقت نے اپنا فیصلہ دے دیا۔ تم دونوں یک رنگ ہو گئے۔‘‘ بابا صاعق کے لہجے میں خوشی تھی۔ ۔
“بابا صاحق…. یہ سب آپ کی دعاؤں کا اثر ہے۔‘‘ رشا ملوک ممنون انداز میں بولی۔
”بابا ہم آپ کے مشکور ہیں۔‘‘ ساحل عمر نے احسان مندی سے کہا۔
“ساحل اس پتھر کو چاندی کی انگوٹھی میں جڑوا لینا اور رشا تجھے یہ پتھر گلے میں ڈالنا ہو گا۔” بابا نے ہدایت کی۔
“ٹھیک ہے بابا۔” دونوں نے بیک وقت اقرار کیا۔
“جب تک وقت تم دونوں کے ساتھ رہے گا ان پتھروں کا رنگ نہ بدلے گا۔ اور جب وقت بدلے گا تو وقت کے ساتھ ہی پتھروں کا رنگ بھی تبدیل ہو جاۓ گا۔ یہ لال سے کالے ہو جائیں گے۔“ بابا صاعق نے انکشاف کیا۔
“آپ ہمارے لئے دعا کریں کہ وقت کبھی نہ بدلے ۔‘‘ رشا ملوک نے فکر مندی سے کہا۔
“میری دعا تم دونوں کے ساتھ ہے۔ اچھا رشا اب رخصت. تجھے تیرا مور مبارک ہو۔‘‘
وہ یہ کہہ کر کھڑے ہوگئے اور اس وقت تک کھڑے رہے جب تک وہ دونوں کمرے سے باہر نہ نکل گئے۔
رشا ملوک نے پلٹ کر دروازہ بند کیا اور مسکرا کر ساحل عمر کی طرف دیکھا۔ اس شرمیلی مسکراہٹ میں جانے کتنے دنوں کی جان تھی۔ کتنے موسموں کی بہار تھی کتنے پھولوں کی خوشبو تھی کتنی تتلیوں کے رنگ تھے۔ غرض اس ایک مسکراہٹ میں جانے کتنی عشقیہ داستانیں چھپی تھیں
ساحل بھی جوابا مسکرایا اور اس کی طرف بڑی محبت سے ہاتھ بڑھایا۔ وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لینا چاہتا تھا۔ اسے چھونا چاہتا تھا۔
رشا ملوک ایک دم گھبرا کر پیچھے ہٹ گئی۔ ’’نہیں۔‘‘
’’کیا ہوا؟‘‘ ساحل عمر اسے اس طرح گھبرا کر پیچھے ہٹتے دیکھ کر خود بھی پریشان ہو گیا۔
“آپ پتھر کے ہو جائیں گے ۔‘‘ رشا ملوک نے بڑی سنجیدگی سے کہا۔
’’مذاق کرتی ہو۔‘‘ وہ ہنسا۔ “نہیں سچ کہتی ہوں. میں بالکل سنجیدہ ہوں اور یہ بات انتہائی توجہ طلب ہے۔” رشا ملوک خوفزدہ تھی ۔
“چلو میں نہیں چھوؤں گا. لیکن آخر کب تک؟”
“اس وقت تک جب تک میں خود آپ کا ہاتھ نہ پکڑوں۔‘‘ رشا ملوک نے اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے دیکھا۔
’’جشن کی رات میں خود آپ کا ہاتھ پکڑ کر لگن زار میں داخل ہوں گی۔ پھر اس کے بعد میرا ہاتھ پکڑ کر جہاں چاہے لے جایئے گا۔
’’اچھا ہوا ! تم نے بتا دیا ورنہ جانے کیا سے کیا ہو جا تا‘‘
پھر رشا ملوک اس عمارت کے گیٹ تک اس کے ساتھ آئی ۔ گیٹ پر بازغر موجود تھا۔ اس نے ساحل عمر کو بازغر کے حوالے کیا اور خود واپس پلٹ گئی۔
بازغر اور ساحل عمر اس گھوڑا گاڑی کی طرف بڑھے جس کا نام کٹاری تھا۔ راستے میں بازغر نے پوچھا۔’’نذر ہوگئی۔‘‘
“ہاں ہو گئی‘‘ ساحل عمر نے بتایا۔
“مٹھی میں کیا نکلا‘‘ اس نے بڑی دلچسپی سے پوچھا۔
“لال پتھر ۔“ ساحل عمر نے مختصر جواب دیا۔
’’دونوں پتھروں کا رنگ ایک ہی تھا؟‘‘ پھر سوال ہوا ۔
“ہاں ایک ہی تھا۔‘‘ جواب دیا گیا۔
“آپ خوش قسمت ہیں. آپ کو مبارک ہو۔‘‘ بازغر نے خوش ہو کر کہا۔
“بازغر ایک بات بتائیں۔ کیا مختلف رنگوں کے پتھر بھی نکلتے ہیں؟‘‘ ساحل عمر نے اپنی معلومات میں اضافہ چاہا۔
“جی کبھی ایسا بھی ہو جاتا ہے۔ آپ کو وقت نے بچالیا۔‘‘ بازغر نے کہا۔
’’ورنہ کیا ہوتا ؟‘‘ وہ پریشان ہوا۔
“آپ کے لئے برف میں قبر کھودی جاتی اور اس میں زندہ دفن کر دیا جا تا‘‘ بازغر نے انکشاف کیا۔
“اور رشاملوک پر کیا گزرتی؟‘‘ اس نے تشویش بھرے لہجے میں پوچھا۔
“اسے بستی سے نکال دیا جا تا۔‘‘ بازغر نے بتایا۔
اس طرح تو وہ خودبخود اعور کے قبضے میں چلی جاتی۔”
“وہ اعور کے قبضے میں جاتی یا کوئی اور اس پر قبضہ کرتا. بستی والوں کو اس کی فکر نہ ہوتی۔‘‘
“بڑے ظالم ہو تم لوگ۔‘‘ ساحل عمر نے اسے گھور کر دیکھا۔
“نہیں جناب ہم ظالم نہیں وقت کے فیصلے کے پابند ہیں۔ وقت سے کون لڑ سکتا ہے“
باتیں کرتے ہوۓ وہ کٹاری کے نزدیک آ پہنچے۔ بازغر نے ساحل کو گھوڑا گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ وہ فورا پہیئے پر پاؤں رکھ کر گاڑی میں بیٹھ گیا۔ بازغر نے پردہ ڈال دیا اور خود بھی اچھل کر کٹاری پر بیٹھ گیا۔ چندلمحوں بعد کٹاری ہوا سے باتیں کرنے لگی۔
پھر وہ جلد ہی اپنے ٹھکانے پر پہنچ گیا۔
کوئی آدھ گھنٹے کے بعد جب وہ اپنے گول کمرے میں ٹہل رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ کیا کرے اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی۔ دروازہ اندر سے بند نہ تھا۔ اس نے ٹہلتے ٹہلتے آواز لگائی۔ ’’دروازہ کھلا ہے۔ آ جاؤ بھائی۔‘‘ فورا ہی دروازہ کھلا تو مویا کی مسکراتی صورت نظر آئی۔ اس کے ہاتھ میں ایک تھال تھا۔ اس تھال میں ابلے ہوئے چاول اور اس پر سالم مرغی رکھی ہوئی تھی۔ تھال کے کنارے پر پانچ کٹوریاں تھیں۔ جس میں مختلف اقسام کی چٹنیاں اور مرچ مصالحے بھرے ہوۓ تھے۔
”رشا کے مور…. آپ کے لئے کھانا۔‘‘ مویا ہنس کر بولی۔ ’’کہاں رکھوں؟‘‘
“رشا کی سہیلی. جہاں چاہے رکھ دو….کھانے کا شکریہ!‘‘
”بے شک میں رشا کی سہیلی ہوں لیکن میرا بھی ایک نام ہے. مجھ مویا کہو۔‘‘
”بے شک میں رشا کا مور ہوں لیکن میرا بھی ایک نام ہے. مجھے ساحل عمر کہو۔” ساحل عمر کا ترکی بہ ترکی جواب سن کر وہ بے اختیار ہنس پڑی۔
’’بڑے باتونی ہیں. اچھا ہے رشا ملوک کا دل لگا رہے گا۔ وہ بہت کم گو ہے”
مویا نے وہ تھال ساحل عمر کے بستر پر ہی رکھ دیا۔ ساحل عمر نے ایک نظر تھال پر ڈالی۔ یہ عجیب وغریب ڈش تھی۔ اسے بڑی شدید بھوک لگ تھی۔ وہ ہاتھ دھو کر کھانے بیٹھا تو اندازہ ہوا کہ وہ ابلے ہوئے چاول انتہائی خوشبو دار اور لذیذ تھے۔ مرغی اتنی خستہ کے ہاتھ کے اشارے سے ٹوٹ رہی تھی۔ اس پر مرچ مصالحے اور چٹنیاں۔ اس نے خوب مزے لے کر اور خوب سیر ہو کر کھانا کھایا۔ وہ پوری مرغی اور آدھے سے زیادہ چاول کھا گیا۔ وہ جب سے یہاں آیا تھا اس کی بھوک خوب کھل گئی تھی
لیکن اسے یہ اندازہ نہ تھا کہ اس کی بھوک اتنی کھل گئی ہے کہ وہ پوری مرغی با آسانی چٹ کر جاۓ گا ڈکار بھی نہیں لے گا۔
مویا اسے بڑی دلچسپی سے کھاتا دیکھتی رہی۔ اس نے پانی پیا۔ یہ پانی خوش ذائقہ اور خوشبودار تھا۔
”اب آپ یقینا قہوہ پینا چاہیں گے۔‘‘ مویا نے تھال اٹھاتے ہوۓ کہا۔
’’یقینا‘‘ ساحل عمر نے بڑے زور سے گردن ہلائی۔
“پھر میرے پیچھے پیچھے آ جایئے۔‘‘ مویا یہ کہہ کر دروازے کی طرف بڑھی۔
جب ساحل عمر اس کے پیچھے پیچھے دروازے سے باہر نکلا تو چاندنی چٹکی ہوئی تھی۔ سردی بھی ٹھیک ٹھاک تھی۔ اس نے اپنے سر پر جمی بالوں والی ٹوپی کو مزید جمایا۔
کوٹ کا کالر ٹھیک کیا اور اپنے ہاتھ جیبوں میں ڈال لئے۔ تھوڑا آگے جانے پر ایک لڑکی کھڑی دکھائی دی۔ اس نے مویا سے وہ تھال لے لیا اور ایک طرف چلی گئی۔
ساحل عمر اس کے پیچھے پیچھے چلتا رہا۔ پھر ایک چھوٹا سا مینار نظر آیا۔ وہ اس کا دروازہ کھول کر داخل ہو گئی۔ ساحل عمر کا خیال تھا کہ مینار میں اوپر جانے کا زینہ ہو گا لیکن ایسا نہ تھا اس میں سٹرھیاں نیچے جا رہی تھیں ۔ یہ ایک کشادہ زینہ تھا۔ زینہ کے بعد ایک چوڑا راستہ دکھائی دیا۔ اس راستے میں اچھی خاصی روشنی تھی ۔
کچھ دور چلنے کے بعد یہ راستہ آگے بند ہو گیا تھا۔ سامنے ایک بڑا سا لکڑی کا لچکدار محرابی دروازہ تھا۔ اس نے دروازے کو آہستہ سے دھکا دیا۔ دروازہ کھلتا چلا گیا۔
’’آیئے!‘‘ مویا نے اس سے مڑ کر کہا۔ جب ساحل عمر اندر آ گیا تو مویا نے دروازہ بند کر دیا۔ ساحل عمر نے اس ہال نما کمرے پر ایک طائرانہ نظر ڈالی پھر ایک مقام پر اس کی نظریں مظہر گئیں۔ وہ حیران ہو کر دیکھنے لگا۔
اس کے بالکل سامنے رشا ملوک کی تصویر لگی ہوئی تھی۔ حیرانی کی بات یہ تھی کہ یہ پینٹنگ اس کی بنائی ہوئی تھی۔ یہ وہ تصویر تھی جسے بازغر اس کے گھر سے سب کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اٹھا لایا تھا
یہ کمرہ ساحل عمر کے کمرے جیسا تھا۔ فرق یہ تھا کہ اس سے چار گنا بڑا تھا۔ وہی طرز تعمیر پتھر کی دیواریں گنبد نما چھت جو اطراف سے کھلی ہوئی تھی۔ کھڑ کی کوئی نہ تھی۔ البتہ دروازے تین تھے۔ دیوار سے دیوار تک قالین دیوار کے ساتھ رکھی ہوئی سات اونچی کرسیاں ان کے سامنے ایک بیضوی میز ایک طرف دوفٹ اونچا بستر سرہانے کی طرف سے گول اور آگے سے مستطیل۔ اس پر آسمانی رنگ کی چادر گہرے نیلے گاؤ تکیے موجود تھے۔ دروازوں پر پردے نہ تھے لیکن دروازے ایسے چمکیلے تھے لگتا تھا آج ہی پالش کی گئی ہو۔
“آپ تشریف رکھئے۔ چاہے کرسی پر چاہے بستر پر۔ میں چلتی ہوں۔ رشا ملوک آ کر آپ کو قہوہ پلاۓ گی۔ وقت آپ کی نگہبانی کرے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ جس دروازے سے آئی تھی اسی دروازے سے باہر نکل گئی۔
اس کے جانے کے بعد وہ اپنی بنائی ہوئی تصویر کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ رشا ملوک کی تصویر کو غور سے دیکھنے لگا۔ یہ وہ تصویر تھی جس نے ایک فسانے کو جنم دیا تھا۔ اسے نہیں معلوم تھا جس مثالی لڑکی کے وہ خواب دیکھ رہا ہے وہ واقعی کہیں موجود ہو گی۔ آئیڈ یل کے بارے میں تو یہ کہا جا تا ہے کہ وہ بھی نہیں ملتے۔ اگر وہ مل جائے تو پھر آئیڈیل نہیں رہتا لیکن اس کے خوابوں میں بسنے والی تو حقیقت کا روپ دھار گئ تھی۔ وہ مجسم ہو کر اس کے سامنے آ گئی تھی۔ وہ اس قدر پیاری تھی کہ اس پر دیوان پر دیوان لکھے جاسکتے تھے۔ وہ شاعر نہیں تھا مصور تھا۔ اس لئے اس نے اسے رنگوں میں ڈھال لیا تھا لیکن یہ رنگ تو کچھ بھی نہ تھے۔ جو رنگ اصل میں تھے اوپر والے نے اسے جو روپ دیا تھا اس کی نقل تو ممکن ہی نہ تھی۔
رشاملوک کی تصویر کو وہ بڑی محویت سے دیکھ رہا تھا کہ کسی نے بڑی آ ہستگی اور شائستگی سے کہا۔ ”کیا دیکھتے ہیں؟‘‘
وہ اس مانوس آواز پر پلٹا تو اس نے رشا ملوک کو اپنی پشت پر پایا۔ پھر وہ اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا۔ “تمہیں دیکھتا ہوں اور کسے دیکھوں گا۔‘‘
“آیئے ادھر میز پر آ جائیے۔ آپ کیلئے قہوہ لائی ہوں۔‘‘ رشا ملوک نے میز کی طرف اشارہ کیا
ساحل عمر خاموشی سے میز کی طرف چل دیا اور ایک کرسی پر بیٹھ گیا پھر بولا۔ “رشا ملوک یہ تصویر تمہارے پاس کیسے آئی؟‘‘
“میری تصویر تھی میں نے اپنے بندے سے اسے منگوا لیا۔” شاملوک نے بڑے فخریہ انداز میں اور بے نیازی سے کہا۔
“منگوالی یا چرالی…..منگوانے اور چرانے میں بڑا فرق ہے۔‘‘
’’ہو گا۔‘‘ وہ شرارت سے ہنسی ’’ہم تو ہیں ہی سدا کے چور دیکھیں ناں… یہ تصویر ہی کیا ہم نے تو آپ کو بھی منگوا لیا۔ ہمارا مطلب ہے چروالیا۔‘‘
“یہ چوری تمہاری عادت ہے یا پیشہ ہے۔” ساحل عمر نے قہوہ پیتے ہوۓ کہا۔
“جو آپ سمجھ لیں. ہم تو بس اتنا جانتے ہیں کہ ہم آپ کے دیوانے ہیں اور محبت آدمی سے بہت کچھ کروا لیتی ہے ۔‘‘ رشاملوک نے اپنی آنکھیں جھکا کر کہا۔ اس کے ہونٹوں پر شرمیلی مسکراہٹ کھیلنے لگی تھی۔
“رشاملوک یہ تمہارا کمرہ ہے؟‘‘ ساحل عمر نے پوچھا۔
“ہاں”
“رشاملوک کیا یہ تمہارا گھر ہے؟‘‘
“ہاں”
“کیا تم اکیلی رہتی ہو؟ تمہارا کوئی نہیں. میرا مطلب ہے تمہارے ماں باپ؟”
“ماں ہیں…..والد ہیں والد کا نام سمار ملوک ہے۔ وہ اس بستی کے رمز شناس ہیں۔ آپ انہیں سردار سمجھ لیں۔ جو بچے خواب دیکھتے ہیں۔ ان خوابوں کی بنیاد پر وہ پیشگوئی کرتے ہیں۔ وہ اب تک سیکڑوں پیشگوئیاں کر چکے ہیں جو سب کی سب سچ ثابت ہوئی ہیں۔‘‘ رشا ملوک نے بتایا۔
“کیا ان سے میری ملاقات نہیں ہوسکتی؟‘‘
“ہاں کیوں نہیں. یہاں آپ کو بلایا ہی اس لئے گیا ہے۔‘‘ رشا ملوک نے انکشاف کیا۔
اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی۔ رشاملوک دستک کی آواز سن کر فورا کھڑی ہوگئی۔ “لیجیئے وہ آ گئے۔‘‘

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: