Anwar Aleegi Urdu Novels

Bichoo Novel By Anwar Aligi – Episode 2

Bichoo Novel By Anwar Aligi
Written by Peerzada M Mohin
بچھو از انوار علیگی – قسط نمبر 2

–**–**–

ایک نا قابل یقین بات تھی۔ مسعود آفاتی نے نثار فاروقی کے حوالے سے بتایا کہ جب نثار فاروقی نے گھر پہنچ کر تصویر کی پیکنگ کھولی تا کہ گھر کے لوگوں کو یہ شاہکار تصویر دکھا سکیں اور پھر یہ طے ہو کہ اسے کمرے میں کس جگہ لگانی ہے تو وہ تصویر کا چہرہ دیکھ کر ایک دم پریشان ہو گئے۔ دلہن کی پیشانی پر بیٹھا وہ بچھو غائب تھا۔ بچھو کی جگہ اس کا سفید عکس موجود تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کسی نے دلہن کی پیشانی سے اس بچھو کو نوچ کر پھینک دیا ہو۔
نثار فاروقی ابھی حیران کھڑے اس تصویر کو دیکھ ہی رہے تھے کہ ان کی ایک بیٹی نے اچانک چیخ کر کہا۔ ’’ڈیڈی بچھو‘‘
نثار فاروقی نے ہاتھ سے تصور چھوڑ دی اور بولے ۔’’کہاں ہے؟‘‘
’’ڈیدی تصویر کے پیچھے۔‘‘ بیٹی خوفزدہ ہو کر بولی ۔
نثار فاروقی نے اپنی بیٹی کو پیچھے ہٹنے کا اشارہ کر کے احتیاط سے تصویر الٹ دی لیکن تصویر کے پیچے بچھو موجود نہ تھا۔ انہیں خیال آیا کہ بیٹی کو ایسے ہی وہم ہوا ہے لیکن بیٹی نے ان کے اس خیال کی سختی سے تردید کی۔ وہ اس بات پر ڈٹی رہی کہ اس نے یقینی طور پر تصویر کے پیچھے بچھو دیکھا ہے۔ اگرچہ یہ ایک نا قابل یقین خیال تھا لیکن احتیاط کے طور پر کمرے کا کونا کونا چھان مارا گیا۔ بچھو کا کوئی سراغ نہ ملا۔
تب پریشان ہو کر نثار فاروقی نے مسعود کو فون کیا اور سارا قصہ بتایا۔ مسعود نے اس قصے کو ساحل عمر کے گوش گزار کیا۔ ساحل کو یقین نہ آیا۔ اس نے ساری بات سن کر کہا۔
“ایسے کیسے ہوسکتا ہے یار؟”
”میری خود عقل نہیں کام کر رہی۔” مسعود نے فکر مند ہو کر کہا
’’لیکن فاروقی صاحب اچھے خاصے پریشان تھے۔‘‘
ان سے کہو پریشان نہ ہوں ۔ تصویر مجھے واپس کر دیں۔ ان کا چیک میری پینٹ کی جیب میں جوں کا توں پڑا ہے۔ یقین کرو میں نے اس کی رقم بھی نہیں دیکھی۔
’’او نہیں شہرادے. وہ رقم کیلئے پریشان نہیں اتنی تمناؤں اور آرزوؤں کے بعد انہیں تمہاری پینٹنگ ملی اور وہ انہیں ضرورت سے زیادہ پسند بھی آئی لیکن اس پینٹنگ کا حشر کیا ہوا۔“ مسعود نے کہا۔ ’’ویسے یار میری سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ ہوا کیا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ تم نے اس بچھو کو ایک کاغذ پر بنا کر دلہن کی پیشانی پر چپکا دیا ہو اور وہ وہاں سے اکھڑ گیا ہو۔‘‘
“اگر ایسا ہوتا تو پر پریشانی والی بات نہیں تھی۔ میں تصویر پر دوسرا بچھو بنا کر چپکا دیتا لیکن وہ بچھو تصویر پر بنا ہوا تھا اور اس پر میں نے بہت محنت کی تھی۔ اس محنت کا نتیجہ عجیب پراسرار انداز میں نکلا۔ میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ یہ کیا ہوا ہے۔‘‘ ساحل عمر پریشانی سے بولا۔
“میں نے فاروقی صاحب سے تصویر واپس لانے کو کہا ہے جیسے ہی وہ آ تے ہیں۔ میں تصویر لے کر آ تا ہوں تم گھر پر ہی ہونا؟‘‘ مسعود نے پوچھا۔
“ہاں میں گھر پر ہوں۔ کہیں جا بھی رہا ہوتا تو ایسی خبر سن کر رک جاتا۔ میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔” ساحل عمر نے کہا
اور ریسیور رکھ دیا۔ اس نے گہرا او ر ٹھنڈا سانس لیا اور گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ اس پر اسرار واقعہ کی کوئی توجیہ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہی تھی۔
پراسرار واقعہ کی توجیہہ ہوتی کب ہے۔ ان معاملات میں عقل کہاں کام کرتی ہے۔ کوئی دلیل نہیں دی جاسکتی اور وہ تو بچپن ہی سے اس قسم کے واقعات کا شکار تھا۔
بچپن کا وہ واقعہ ابھی تک اس کے ذہن پر نقش تھا۔ وہ چیتے سے مشابہ دھاریوں والی بلی اب بھی کبھی کبھی اس کے خوابوں میں چھلانگیں مارتی نظر آ جاتی تھی۔ اسے یہ بات آج بھی اچھی طرح یاد تھی کہ وہ چیتے کی شکل والی بلی کب اس کے پیچھے لگی تھی۔ وہ چھٹی کا دن تھا۔ گرمیوں کے دن تھے اور دوپہر کا وقت ساحل عمر اپنے ایک دوست کے ساتھ کرکٹ کھیل کر آ رہا تھا۔ بیٹ اس کے کندھے پر تھا اور وہ ایک ہاتھ سے گیند او پر اچھالتا اور اس کو کیچ کرتا اپنے دوست کے ساتھ باتیں کرتے چل رہا تھا کہ ایک دم لڑ کھڑا گیا۔ اچانک ہی کوئی چیز اس کے پیروں میں آ گئی تھی ۔ جب ساحل عمر نے سنبھل کر ادھر ادھر دیکھا کہ وہ کس چیز سے ٹکرایا تو اسے نزدیک ہی ایک بلی کھڑی ہوئی نظر آئی۔
وہ اس کو دیکھ کر عجیب انداز سے میاؤں میاؤں کر رہی تھی۔ ساحل عمر نے بیٹ سڑک پر مار کر اسے دھمکانے کی کوشش کی تو وہ بجاۓ بھاگنے کے اس کے نزد یک آ گئی اور کسی پالتو بلی کی طرح اس کے قدموں میں لوٹنے گی۔ وہ بڑی تیزی اورسختی سے اپنا بدن اس کی ٹانگوں سے رگڑ رہی تھی اور اس کے دائیں بائیں گھوم رہی تھی۔
ساحل عمر اگرچہ بلیوں سے نہیں ڈرتا تھا لیکن اس وقت اس کو خوف محسوس ہوا اور وہ تیزی سے اپنے گھر کی پرف بھاگا اس کا دوست بلی کے نزدیک آنے سے پہلے ہی فرار ہو چکا تھا۔
ساحل عمر بھاگتے ہوئے جب بھی پلٹ کر دیکھتا کہ وہ بلی اس کے پیچھے آ رہی ہے یا نہیں تو وہ اس کو اپنے تعاقب میں پاتا۔ اس دن وہ بلی اس کے پیچھے پیچے گھر کے گیٹ تک آئی اور اس کے گھر میں داخل ہو جانے کے بعد واپس لوٹ گئی۔
اس کے بعد تو وہ چیتے نما بلی مستقل اس کے پیچھے لگ گئی۔ وہ گھر سے کھیلنے کیلئے نکلتا تو اس بلی کو گیٹ پر اپنا منتظر پاتا۔ وہ اس کے ساتھ ہو لیتی۔ ایک بار ’میاؤں میاؤں کر کے اس کی ٹانگوں سے اپنا بدن رگڑتی اور پھر اس کے ساتھ ساتھ یا آگے پیچھے چلنے لگتی۔ وہ صبح اسکول گاڑی میں جاتا تھا۔ اس کی ممی اسے اسکول چھوڑتی تھیں اور وہی لے کر آتی تھیں۔ جب وہ گاڑی میں جا رہا ہوتا تو وہ بھی سڑک کے کنارے کھڑی ہوتی یا بھاگتی ہوئی دکھائی دے جاتی۔
پھر ایک دن اس کی ممی نے اس بلی کو ساحل عمر کی ٹانگوں سے لپٹتے ہوئے دیکھا تھا۔ ہوا یہ کہ اسکول کی چھٹی ہوئی تو ساحل کی ممی گاڑی کے باہر ساحل کی آمد کی منتظر تھیں کہ انہوں نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ سامنے سے ساحل عمر چلا آ رہا ہے اور ایک بلی اس کے تعاقب میں ہے۔؟ کبھی وہ اس کی ٹانگوں سے لپٹتی کبھی اچھل کر آ گے چلی جاتی۔ ساحل نزدیک پہنچا تو وہ اس کی ٹانگوں کے درمیان سے نکل جاتی۔ سائل عمر لڑکھڑا جاتا۔ کبھی وہ اس کی دائیں ٹانگ سے اپنا جسم رگڑتی گزر جاتی اور کبھی بائیں ٹانگ پر پنجے آزمائی کرتی۔ جب ساحل عمر گاڑی کے نزدیک پہنچا تو اس بلی نے ایک نظر اس کی ممی کی طرف دیکھا۔ میاؤں کی آواز نکالی اور ایک گاڑی کے نیچے گھس گئی۔
ممی نے حسب معمول اس سے بستہ لیا۔ ہلکا سا گلے لگایا اور گاڑی کا دروازہ کھول کر اسے بٹھایا اور پھر گھوم کر اپنی ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی۔ اس کا بستہ پچھلی سیٹ پر ڈال دیا اور گاڑی اسٹارٹ کی۔
“ساحل یہ بلی کون تھی؟‘‘ ممی نے ایک نظر اسے پیار سے دیکھتے ہوئے کچھ اس طرح سوال کیا جیسے انہوں نے کسی لڑکی کے ساتھ دیکھ لیا ہو۔
“ممی پہ نہیں۔‘‘ ساحل عمر نے بے نیازی سے کہا۔’’یہ کافی عرصے سے میرے پیچھے لگی ہوئی ہے “
“لیکن تم نے مجھے بھی بتایا نہیں میں نے اسے پہلی بار تمہارے ساتھ دیکھا ہے۔” وہ بولیں۔
“آپ نے اسے پہلی بار اس لئے دیکھا ہے کہ یہ آج پہلی بار اسکول گیٹ پر ملی ہے۔“
’’ہیں” ممی نے چونک کر ساحل عمر کی طرف دیکھا۔’’اس سے پہلے کہاں ملتی رہی ہے۔
“گھر کے گیٹ کے آس پاس گھومتی رہتی ہے جیسے ہی میں باہر نکلتا ہوں میرے پیچھے لگ جاتی ہے ۔‘‘ ساحل عمر نے بتایا۔
“آخر یہ تم سے چاہتی کیا ہے۔”
“ممی شاید مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہے۔‘‘ ساحل عمر نے یہ بات اتنی معصومیت سے کی کہ ممی بے اختیار ہنس پڑیں اس کا گال تھپتھپائے بنا نہ رہ سکیں۔ وہ بڑے پیار سے بولیں ۔’’ناٹی‘‘
ساحل عمر بچپن میں ذہین ہی نہیں خوبصورت بھی تھا۔ خوبصورت تو وہ خیر سے آج بھی تھا لیکن بچپن میں اسکے چہرے پر جو بھولپن تھا اس کا کوئی جواب نہ تھا۔ انتہائی خوبصورت اور چمکتی ہوئی نیلی آ نکھیں۔ ہلکے براؤن بال سرخ و سفید رنگت بچپن میں اسے جو بھی دیکھتا پیار کئے بنا نہ رہتا۔ اس میں ایک خاص کشش تھی۔
شاید یہی کشش اس بلی کو ساحل کے نزد یک کھینچ لائی تھی۔ وہ بلی گھر سے باہر اس کی منتظر رہتی تھی لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ ساحل عمر کے ساتھ کبھی گھر میں داخل نہیں ہوئی تھی۔ نہ ہی وہ کبھی گھر کے کسی گوشے میں دکھائی دی تھی۔ وہ بس گھر کے باہر اس کا پیچھا کرتی تھی اور اس کے قدموں میں لوٹتی تھی۔ ممی نے ساحل کے پاپا عمر عابد سے اس بلی کا ذکر کیا تو وہ تھوڑے سے فکر مند ہوئے اور بولے “کہیں وہ ہمارے بیٹے کو نقصان نہ پہنچا دے۔”
“ابھی تک تو اس نے کوئی نقصان پہنچایا نہیں ہے۔ بس وہ اس کی ٹانگوں میں گھستی ہے۔ اس کے گرد چکر کاٹتی ہے۔ آگے پیچھے چلتی ہے اور اسے گھر تک پہنچا کر اپنا رستہ لیتی ہے۔‘‘ ممی نے کہا
“تم نے دیکھا ہے اس بلی کو؟‘‘ عمر عابد نے پوچھا۔
’’ہاں میں نے دیکھا ہے بالکل چیتے جیسی شکل کی ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا۔
“کیوں پیچھے لگی ہے اس کے…؟ کیا ساحل اس کو کچھ کھلاتا پلاتا ہے۔“
”بقول ساحل وہ اس سے شادی کرنا چاہتی ہے۔‘‘ ممی نے ہنس کر بتایا۔
’’اچھا۔‘‘ عمر عابد بھی ہنسنے لگے۔
’’پھر جلدی اس بلی کا گھر معلوم کرو تاکہ ہم اس کا رشتہ لے کر چلیں ۔“
“اس بلی کی حرکات بے ضررتھیں۔ اس نے ساحل عمر کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا تھا۔ وہ تو آج تک اس کے گھر میں بھی داخل نہیں ہوئی تھی۔ وہ گھر سے باہر ہی اس کے تعاقب میں رہتی تھی۔ آگے پیچھے گھومتی اس کی ٹانگوں سے لپٹتی اس کے قدموں میں لوٹتی اس چیتے نما بلی کا اس تواتر سے۔ ساحل عمر کا پیچھا کرنا باعث پریشانی ہوتا جا رہا تھا۔ ایک دو دن کی بات ہوتی تو اسے نظر انداز کر دیا۔ جاتا لیکن اسے پیچھے لگے ہوۓ دو ماہ ہونے کو آئے تھے۔ اس کی ممی پاپا اب فکر مند رہنے لگے تھے ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اپنے بیٹے کا اس بلی سے کس طرح پیچھا چھڑوائیں۔“
پھر ایک دن مولوی صاحب نے اس بلی کو ساحل کی ٹانگوں سے لپٹتے ہوئے دیکھ لیا۔ مولوی صاحب گھر پر ساحل عمر کو قرآن شریف پڑھانے آتے تھے۔ ایک دن ان کی آمد پر ساحل نے گیٹ کھولا تو وہ بلی جو گیٹ پر اس کی منتظر تھی چھلانگ لگا کر ساحل کے نزدیک پہنچ گئی اور اس کے چاروں طرف گھوم کر اپنا بدن اس کی ٹانگوں سے رگڑ نے لگی مولوی صاحب نے بغور اس بلی کو دیکھا اور پھر اپنی سائیکل لے کر اندر آ گئے۔
ساحل عمر گیٹ بند کر کے اندر جانا چاہ رہا تھا لیکن وہ بلی اسے گیٹ بند کرنے کی مہلت نہیں دے رہی تھی۔ وہ اس بری طرح اس کی ٹانگوں سے لپٹ رہی تھی کہ وہ گیٹ بند نہیں کر پا رہا تھا۔ اتنے میں ساحل کی ممی گھر کے دروازے پر آ گئیں۔ انہوں نے بلی کو دیکھا تو وہ بھاگتی ہوئی گیٹ پر آئیں۔ممی کو آ تا دیکھ کر وہ بلی چند لمحے کو ساکت ہوئی تو ساحل عمر نے جست لگا کر گیٹ بند کر دیا۔
کچھ دیر باہر سے میاں میاؤں کی آوازیں آتی رہیں پھر خاموشی چھا گئی۔
ممی گھر کے اندر چلی گئیں اور ساحل عمر مولوی صاحب کے ساتھ ڈرائنگ روم میں داخل ہوا
مولوی صاحب ساحل عمر سے بلی کے بارے میں سوالات کرنے لگے۔ وہ بلی کو اس عجیب وغریب انداز سے لپٹتا دیکھ کر کچھ پریشان سے ہو گئے تھے۔ ابھی وہ ساحل سے بلی کے بارے میں بات ہی کر رہے تھے کہ عمر عابد اندر آ گئے۔ “مولوی صاحب مجھے آپ سے کچھ بات کرنا تھی‘‘ عمر عابد مولوی صاحب سے مخاطب ہوۓ ۔ ان کا لہجہ فکر میں ڈوبا ہوا تھا۔
“جی فرمایئے ۔‘‘ مولوی صاحب ہمہ تن گوش ہو گئے ۔
ابھی آپ نے اس بلی کو گیٹ پر دیکھا ہو گا یہ دو ماہ سے ساحل کے پیچھے لگی ہوئی ہے۔ کیا آپ اس سلسلے میں کچھ کر سکتے ہیں؟‘‘ عمر عابد خاصے پریشان تھے۔
“آپ پریشان نہ ہوں میں ایک دو دن میں اس کا بندوبست کردوں گا۔” مولوی صاحب نے بڑے یقین سے کہا۔
اور انہوں نے واقعی ایسا کر دکھایا۔ تیسرے دن انہوں نے ایک تعویذ اور شیشی میں پڑھا ہوا پانی لا کر دیا۔ تعویذ ساحل عمر کے بازو پر باندھ دیا گیا اور پڑھا ہوا پانی پندرہ دن تک پینے کی ہدایت کی۔
ساحل عمر دوسرے دن شام کو جب کرکٹ کھیلنے کیلئے باہر نکلا تو خلاف تو قع بلی کہیں دکھائی نه دی۔ وہ ادھر ادھر دیکھتا ہوا میدان میں پہنچ گیا۔
میدان میں پہنچا تو اچانک اسے وہ دکھائی دی۔ وہ چھلانگیں بھرتی ہوئی ساحل عمر کی طرف بڑھ رہی تھی۔
“ساحل وہ تمہاری دوست ‘‘ ایک لڑ کے نے ساحل عمر کی توجہ بلی کی طرف دلائی۔
“ہاں دیکھ رہا ہوں۔‘‘ ساحل عمر بڑے سٹائل سے بیٹ کندھے پر رکھے اسے بغور دیکھ رہا تھا
وہ چیتا نما بلی چار قدم کے فاصلے پر رک گئی۔ ۔ ساحل کو بڑی حیرت ہوئی کیونکہ آج تک ایسا نہ ہوا تھا۔ وہ بلی اسے دیکھ کر اس طرح جھپٹتی تھی جیسے چلتی ٹرین دیکھ کر کوئی مسافر۔
اس بلی نے بڑی بے چارگی سے اسے دیکھا۔ دو چار بار درد بھری میاؤں میاؤں کی آواز نکالی اور پھر ایک طرف دوڑتی چلی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے نظروں سے غائب ہو گئی۔
پھر وہ بلی اسے کبھی نہ دکھائی دی۔ البتہ آج بھی بھی بھی وہ اس کے خوابوں میں چھلانگیں مارتی دکھائی دیتی تھی
•●•●•●•●•●•●•●•●•
” بیٹا کھانا نکالوں؟‘‘ اماں نے پوچھا۔ ساحل عمر ڈائننگ ٹیبل کی ایک کرسی پر بیٹھا ہوا بچپن کی یادوں میں گم تھا۔ اماں کے پوچھنے پر سامنے دیوار پر لگی گھڑی پر اس نے نظر دوڑائی۔ دوبج رہے تھے۔ یہ اس کے کھانے کا وقت تھا وه آرٹسٹ ضرور تھا لیکن زندگی کے معاملات میں کوئی بے ترتیبی نہ تھی۔ اس کی زندگی میں بڑا نظم و ضبط تھا۔ اسے اچھی خاصی بھوک لگ رہی تھی۔ سامنے ہی کیک رکھا تھا۔ اس نے چھری سے تھوڑا سا کیک کاٹ کر منہ میں رکھا اور اماں سے مخاطب ہو کر بولا ۔’’ہاں اماں کیوں نہیں ۔‘‘
ابھی وہ کھانے سے فارغ ہی ہوا تھا کہ بیل ہوئی۔ اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ مسعود نثار فاروقی کو لے کر آ گیا ہے۔
اس نے گیٹ کھولا تو واقعی وہ دونوں گیٹ پر موجود تھے۔ مسعود کے ہاتھ میں کاغذ میں لپٹی ہوئی تصویر تھی۔ ساحل نے مسعور سے پینٹنگ لے لی اور دونوں کو ڈرائنگ روم میں لے آیا ۔ پینٹنگ اس نے ایک صوفے کی پشت سے لگا کر کھڑی کر دی۔ نثار فاروقی کے چہرے پر خجالت سی تھی۔ وہ چور سے بنے ہوئے تھے۔ اتنی تمناؤں اور آرزوؤں کے بعد تو انہیں سائل کی پینٹنگ نصیب ہوئی تھی اور وہ پینٹنگ چند گھنٹوں بعد ہی واپس کرنا پڑ رہی تھی ۔
”سر آپ پریشان نہ ہوں۔ آپ کا چیک میری جیب میں قطعاً محفوظ ہے اور شاید آپ کو یقین نہ آۓ میں نے اب تک اس چیک کی رقم بھی چیک نہیں کی ہے۔ آپ کی یہ امانت بغیر دیکھے ہی لوٹا رہا ہوں۔ قبول فرمایئے ‘‘ ساحل عمر نے اپنی جیب سے تہہ کیا ہوا چیک نکالا اور بہت احترام کے ساتھ انہیں پیش کر دیا۔
نثار فاروتی نے وہ چیک بغیر کسی پس و پیش کے اس کے ہاتھ سے لے کر اپنی جیپ میں ڈال لیا۔ مسعود کو ان کے اس رویے پر بڑی حیرت ہوئی لیکن ساحل ذرا بھی حیران نہ ہوا۔ چیک واپس کر کے وہ اپنی پینٹنگ کی طرف متوجہ ہوا۔ اس نے پینٹنگ پر ڈھکا ہو کاغذ ایک جھٹکے سے الگ کر دیا۔
نثار فاروقی اور مسعود کی بیک وقت نظریں اس تصویر پر پڑیں۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو حیران نظروں سے دیکھنے لگے جبکہ ساحل عمر کے چہرے پر سوال ابھر آیا۔ یہ سوال چند لمحوں کیلئے اس کے چہرے پر جھلکا۔ اس نے مڑ کر دونوں کو دیکھا۔ پھر اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی۔ اس مسکراہت میں بڑی جان تھی۔
وہ تصویر جوں کی توں تھی۔ وہ بچھو اس کی پیشانی پر موجود تھا۔ ساحل عمر بہت نزدیک سے اپنی پینٹنگ کا معائنہ کر رہا تھا۔ تصویر سے بچھو کے الگ ہونے کے کوئی آثار موجود نہ تھے۔ حتی کہ ساحل نے بچھو پراپنی انگلی پھیر کر بھی دیکھا۔ اس کی مکمل طور پرتشفی ہو گئی۔
“مسعود تم نے تو مجھے فون پر کچھ اور بتایا تھا۔‘‘ ساحل عمر اطمینان سے صوفے پر بیٹھتا ہوا بولا
“مجھے نثار صاحب نے جو بتایا تھا وہ میں نے تمہیں بتایا۔‘‘ مسعود نے اپنی صفائی پیش کی۔
نثار فاروقی کی حالت غیرتھی ۔ ان کا سانولا چہرہ سفید پڑ چکا تھا۔ وہ پھٹی ہوئی آنکھوں سے اس تصویر کو دیکھ رہے تھے۔ تصویر پر بچھو موجود تھا۔ یہ کیسے ہو گیا تھا۔ گھر پر تو یہ بچھو اس کی پیشانی پر نہ تھا اور یہ بات گھر کے تمام لوگوں نے نوٹ کی تھی۔ بلکہ ان کی بیٹی نے تو اس بچھو کو تصویر کی پشت پر چلتے ہوئے دیکھا تھا۔ یہ کیسا فریب تھا۔ کیا پورا گھر فریب نظر کا شکار ہو گیا تھا۔
“میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا۔‘‘ نثار فاروقی نے بمشکل کہا۔ ’’یہ سب کیا ہوا ہے میں نہیں جانتا”
”سر آپ ساری بات بھول جائیں۔” میری پینٹنگ مجھ تک پہنچ گئی۔ آپ کو آپ کی رقم واپس مل گئی۔ حساب برابر ہو گیا۔‘‘ ساحل عمر یہ کہہ کر کھڑا ہو گیا۔
اب نثار فاروقی کیلئے وہاں بیٹھنے کا کوئی جواز نہ تھا۔ وہ بھی کھڑے ہو گئے اور پھر خاموشی سے دروازے کی طرف بڑھے۔ ”میں انہیں گیٹ تک چھوڑ آتا ہوں ۔‘‘ مسعود نے آہستہ سے کہا اور ان کے ساتھ باہر نکل گیا۔
ساحل عمر ان دونوں کے جانے کے بعد بڑے پیار سے اپنی بنائی ہوئی پینٹنگ کو دیکھنے لگا۔ اس تصویر میں بڑی کشش تھی ۔ کوئی خاص بات تھی۔ ایسی خاص بات کہ آ دمی اس تصویر کو ایک نظر دیکھ لے تو پھر اس پر سے نظر ہٹانا مشکل ہو جاتی۔
ایک تو دلہن بہت خوبصورت تھی دوسرے ٹیکے کی جگہ بیٹھا ہوا بچھو آ دمی کو دم بخود کر دیتا تھا۔
تصویر دیکھتے دیکھتے اس نے طے کر لیا کہ وہ اس پینٹنگ کو کبھی اپنے سے جدا نہیں کرے گا
“یار شہزاد ے یہ کیا ڈرامہ ہے؟‘‘ مسعود ڈرائنگ روم میں داخل ہو تے ہوۓ بولا ۔
”چلے گئے؟‘‘ ساحل نے پوچھا۔
”ہاں۔‘‘ مسعود نے جواب دیا۔ کچھ کہہ رہے تھے؟‘‘ ساحل عمر نے سوال کیا۔
“نہیں کچھ نہیں بولے۔” البتہ پریشان اور شرمندہ شرمندہ سے ضرور تھے۔‘‘ مسعود آفاقی نے کہا
“میں تمہیں ایک بات بتاؤں یقین کرو گے‘‘ ساحل عمر اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا
“ہاں بولو۔” اس نے الجھے ہوۓ لہجے میں کہا۔
“بچھو غائب ہونے کا قصہ سفید جھوٹ تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ وہ جوش میں آ کر تصویر لے تو گئے لیکن بعد میں تصویر ان کو پسند نہ آئی۔ اس لئے ڈرامہ کر کے واپس کر گئے۔‘‘ ساحل عمر نے ہنستے ہوۓ کہا۔ ’’خیر کوئی بات نہیں۔ میں اس تصویر کی واپسی پر خوش ہوا ہوں تم جانتے ہو کہ میں اسے ویسے بھی دو چار دن اپنے پاس رکھنا چاہتا تھا لیکن اب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اس تصویر کو میں کسی کو نہیں دوں گا۔ چاہے کوئی اس تصویر کا معاوضہ ایک کروڑ روپے ہی کیوں نہ دینے کو تیار ہو”
“یار میں اس بات کو ماننے کیلئے تیار نہیں ہوں ‘‘ مسعود بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا تھا۔
’’ایک کروڑ رو پے معاوضے والی بات کو؟‘‘ ساحل نے پوچھا۔
”او نہیں یار۔‘‘ مسعود آفاتی نے تصویر کو گہری نظر سے دیکھتے ہوۓ کہا۔ ’’تصویرہ پسند نہ آنے کی بات کر رہا ہوں۔ وہ تمہاے شیدائی ہیں اگر انہیں تصویر پسند نہ آتی تو وہ فورا چیک کاٹ کر نہ دیتے۔ دوسرے تصویر لے جاتے ہوئے وہ بہت خوش تھے۔ مجھ سے مشورہ کرتے رہے کہ یہ تصویر اپنے گھر میں لگائیں یا اپنے آفس میں۔ پھر ایک بات اور ہے اگر انہیں تصویر واپس کرنی ہوتی تو ایسا بچگانہ ڈرامہ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ تم مانو نہ مانو لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ اس تصور سے خوفزدہ ضرور ہوئے ہیں”
“اچھا لعنت بھیجو اس ذکر پر آؤ اندر چلو۔ آؤ تمہیں کیک کھلاؤں۔” ساحل عمر نے تصویر اٹھالی اور ڈرائنگ روم کے اندرونی دروازے کی طرف بڑھا۔
“ایک بات بتاؤ کیا تم نے اپنی سالگرہ منائی ہے۔‘‘ مسعود نے چلتے ہوئے شکایتی لہجے میں کہا۔
“نہیں بھئی سالگرہ مناتا تو کیا تمہیں نہ بلاتا “ ساحل عمر نے وضاحت کی۔
“پھر کیک کہاں سے آ گیا؟‘‘ مسعود نے پوچھا۔
“کسی نے بھیجا ہے۔ ساحل عمر نے لطف لیتے ہوۓ بتایا۔
“کس نے؟‘‘ مسعود نے پوچھا۔ وہ حیران تھا۔
“نام تو خیر سے مجھے بھی معلوم نہیں…” ساحل عمر نے کہا۔
“یہ کیسے ہوسکتا ہے۔؟“
“سب کچھ ہو سکتا ہے تم کیک کھاؤ تمہیں نام سے کیا لینا ہے‘‘ ساحل عمر نے اس کے ہاتھ میں چھری دیتے ہوئے کہا۔
مسعود آفاقی نے کیک کا چھوٹا سا پیس کاٹ کر منہ میں رکھا اور انگلی چاٹتا ہوا بولا۔ “شہزادے کیک تو زبردست ہے۔“
”مجھے امید ہے کہ وہ بھی زبردست ہو گی۔” ساحل عمر مسکراتے ہوۓ بولا۔
“بھائی کون؟”
“وہی ٹیلیفون والی۔” ساحل عمر نے بتایا۔
’’ہیں‘‘ مسعود آفاقی کی آنکھیں حیرت سے پھٹ گئیں۔
’’اس نے بھیجا ہے یہ کیک؟
’’ہاں بھئی ۔‘‘ ساحل عمر نے بڑے پرسکون انداز میں کہا۔
“شکاری کو بتایا ؟‘‘ مسعود نے سوال کیا۔
“نا صر مرزا کو ۔‘‘ ساحل عمر نے وضاحت چاہی۔
’’ہاں۔‘‘ مسعود نے اثبات میں گردن ہلائی ۔
’’ملاقات ہو گی تو بتاؤں گا ۔‘‘ ساحل عمر نے کہا۔
’’اور یار دیکھا تم نے ۔‘‘ مسعود کی آواز میں ہلکا سا خوف تھا۔ وہ اس تصویر کو جو ڈائننگ ٹیبل کی کرسی پر رکھی تھی بغور دیکھ رہا تھا۔ ساحل عمر بھی اس تصویر کو دیکھنے لگا۔ اسے کوئی خاص بات نظر نہ آئی۔
’’ کیا ہوا؟‘‘ ساحل نے پوچھا۔ ’’بھائی کوئی گڑ بڑ ضرور ہے ۔‘‘ مسعود کے لہجے میں خوف تھا۔
’’ہوا کیا بولو تو ۔‘‘ ساحل عمر پریشان تھا۔
’’یار اس بچھو کو میں نے ہلتا ہوا محسوس کیا ہے؟‘‘ مسعود نے بتایا۔
’’اب تمہیں کیا ہوا؟‘‘ ساحل عمر نے اپنی پیشانی پر ہاتھ مارا۔ “یار میں سچ کہہ رہا ہوں ایک لمحے کو ایسا محسوس ہوا جیسے بچھو نے اپنا سر ہلایا ہو۔”
“لیکن بچھو تو اپنی جگہ جوں کا توں موجود ہے۔” ساحل نے تصویر پر نظر جماتے ہوئے کہا۔
“وہ تو میں بھی دیکھ رہا ہوں۔” مسعود آفاقی نے تصویر کے نزدیک جاتے ہوۓ کہا۔ “لیکن جو میں نے دیکھا وہ بھی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ تم جانتے ہو میں فوٹو گرافر ہوں۔ میری نظریں بہت تیز ہیں ۔‘‘
’’خدا کے واسطے مسعود مجھے الجھاؤ مت ‘‘ ساحل عمر نے احتجاج کیا۔۔
“تمہیں الجھا نہیں رہا میں خود الجھ گیا ہوں۔‘‘ مسعود کی نظریں تصویر پر تھیں ۔
’’ساحل یارتم نے کمال کیا ہے۔ یہ بچھو اس قدر شاندار بنایا ہے کہ ہرلمحہ یوں لگتا ہے جیسے اب حرکت میں آ جاۓ گا۔” یہ تم نے کسی ریفرنس سے بنایا ہے؟”
“ہاں ایک انگلش رسالے میں چھپی ہوئی تصویر سے بنایا ہے۔‘‘ ساحل نے کہا۔’’ذرا وہ ریفرنس دکھاؤ‘‘ مسعود بولا۔
آؤ اسٹوڈیو میں آ جاؤ وہیں پڑا ہے وہ ریفرنس‘‘ یہ کہہ کر ساحل عمر نے اپنی پینٹنگ اٹھا لی اور وہ دونوں اسٹوڈیو میں داخل ہو گئے ۔ مسعود ایک اسٹول پر بیٹھ گیا اور ساحل ریفرنس ڈھونڈ نے لگا۔ جب دو چار منٹ تک ساحل کو ریفرنس نہیں ملا تو مسعود نے پوچھا۔
’’نہیں مل رہا؟‘‘
“یار ابھی تک تو میرے سامنے ہی پڑا تھا۔ پتہ نہیں کدھر گم ہو گیا۔
“چلو چھوڑو ‘‘ مسعود نے بے نیازی سے کہا۔
“ایک منٹ۔‘‘ ساحل عمر کو جیسے کچھ خیال آیا۔ وہ اٹھ کر ٹیلیفون کے نزدیک پہنچا۔ ٹیلیفون انگلش کے دو موٹے رسالوں پر رکھا ہوا تھا۔ اس نے ٹیلیفون اٹھا کر فرش پر رکھا اور ایک موٹا رسالہ اٹھا کر اس کے ورقوں میں ریفرنس تلاش کرنے لگا۔ وہ ریفرنس اس رسالے میں رکھا نظر آ گیا۔ “مل گیا ۔‘‘ ساحل عمر نے رسالے سے ریفرنس نکالتے ہوۓ کہا۔’’ یہ لو‘‘
مسعود نے وہ ریفرنس اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اسے بغور دیکھنے لگا۔ ایک ہاتھ تھا ہاتھ پر وہ بچھو تھا اور پس منظر میں ناریل کے درخت تھے اور کچھ گول جھونپڑے بنے ہوۓ تھے۔ یہ ہاتھ زنانہ تھا اور کسی افریقن عورت کا تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ عورت اس بچھو کو اپنی ہتھیلی پر رکھ کر کسی کو دکھا رہی ہو۔ ہاتھ کیونکہ قریب تھا اس لئے وہ بچھو بہت واضح تھا۔ فوٹوگرافی کے اعتبار سے یہ ایک بہت اچھا ایکسپوژر ہے لیکن تمہارے بچھو میں جو جان ہے وہ اس میں نہیں ہے۔‘‘ مسعود نے اس کی طرف تحسین آمیز نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا اور اس لڑکی کا ریفرینس کہاں ہے”
یہ لڑکی میں نے کئی ریفرنس دیکھ کر بنائی ہے۔ کہیں سے آنکھیں لی ہیں کہیں سے ہونٹ لئے ہیں کہیں سے ناک لی ہے اور کچھ میں نے اپنے خوابوں سے لیا ہے۔” ساحل عمر نے انکشاف کیا
’’خوابوں سے!‘‘ مسعود نے حیرت سے دہرایا۔
“ہاں میں نے اس لڑکی کو اپنے خوابوں میں کئی بار دیکھا ہے۔ اس تصویر میں تو اس کے حسن کا پچاس فیصد بھی مکس نہیں ۔ وہ لڑکی مجھے کسی پہاڑی علاقے میں نظر آتی ہے۔ صاف آسمان
برف پوش پہاڑیاں سبزی مائل پانی اور وہ لڑ کی۔‘‘
وہ لڑ کی جہاں نظر آتی ہے کیا وہ علاقہ تمہیں دیکھا ہوا لگتا ہے؟‘‘ مسعود نے پوچھا۔
“نہیں اس طرح کے علاقے میں میں آج تک نہیں گیا۔‘‘ ساحل نے بتایا۔
“ایک بات میری سمجھ میں ابھی تک نہیں آئی۔ یہ اتنی پیاری سی لڑکی کی پیشانی پر بچھو بٹھانے کی آخر تمہیں کیا سوجھی؟‘‘ مسعود نے سوال کیا۔
“مسعود آفاقی یہ تخلیق کا معاملہ ہے۔ یہ بٹن دبانے والوں کی سمجھ میں آسانی سے نہیں آتا”
’’اچھا۔‘‘ مسعود آفاقی نے اس کے طنز کا برانہیں مانا۔ وہ ہنس کر بولا ۔’’یار مجھے تو تو کوئی اہرام مصر کی بھٹکی ہوئی روح لگتا ہے اس طرح کا کام وہی کرسکتی ہے۔”
اس کی یہ بات سن کر ساحل عمر نے زور دار قہقہا لگایا۔ مسعود بھی اس کے قہقہے میں شامل ہو گیا۔ “اچھا بھائی میں اب چلتا ہوں۔ اس ہفتے کی ملاقات ناصر مرزا کے یہاں ہے نا۔” مسعود نے تصدیق چاہی۔
“ہاں بالکل‘‘ ساحل عمر نے تصدیق کی۔
’’شہزادے میں تمہاری اس پینٹنگ کو ایکسپوز کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ مسعود نے پینٹنگ کوغور سے دیکھتے ہوۓ کہا۔
شوق سے جب چاہے کر لو۔‘‘ ساحل عمر نے خوشد لی سے کہا۔
مسعود کے جانے کے بعد اس نے اسٹوڈیو والے کمرے کو لاک کیا اور اپنے بیڈ روم میں جا کر لیٹ گیا۔ کچھ دیر میں ہی اسے نیند نے آ لیا۔ وہ نہ جانے کب تک سوتا رہا کہ اماں نے اسے آ کر جگا دیا۔’’ ساحل اٹھو آ خر کب تک سوؤ گے؟”
“اماں کیا وقت ہوا ہے؟‘‘ ساحل نے پوچھا۔ آٹھ بج رہے ہیں رات کے۔” اماں نے بتایا۔
“ہیں اتنی دیر ہو گئی مجھے سوتے ہوئے۔“
“تو اور کیا؟‘‘ اماں نے اسے پیار سے دیکھتے ہوۓ کہا۔’’ کوئی آیا ہے تم سے ملنے ۔‘‘
”کون ہے؟‘‘ ساحل عمر نے بیڈ چھوڑ تے ہوۓ پوچھا۔
“کوئی بالکل نیا بندہ ہے اس سے پہلے نہیں دیکھا۔‘‘ اماں نے بتایا۔
“اماں تم نے اسے بتایا نہیں کہ میں سو رہا ہوں۔”
“بتا دیا تھا لیکن وہ واپس گیا ہی نہیں کہنے لگا میں ان کے جاگنے کا انتظار کروں گا۔ جب وہ جاگ جائیں تو آ کر بتا دیجئے گا۔ میں یہیں دروازے پر کھڑا ہوں۔ مجھے بہت ضروری کام ہے۔ میں ان سے ملے بغیر نہیں جا سکتا۔ تب میں نے سوچا کہ یہ دروازے پر کہاں کھڑا رہے گا۔ میں نے اسے ڈرائنگ روم کھول کر بٹھا دیا۔ وہ دو گھنٹے سے تمہارا منتظر ہے اور تم ہو کہ سوۓ چلے جا رہے تھے۔ مجبورا مجھے آ کر تمہیں اٹھانا پڑا۔ کسی مہمان کو اس قد ر انتظار کرانا کوئی اچھی بات تھوڑی ہی ہے۔ کیوں ساحل؟‘‘ اماں نے ساحل سے تائید چاہی۔
“اماں. آپ بالکل صحیح فرما رہی ہیں۔‘‘ ساحل کے پاس تائید کیئے بنا کوئی چارہ نہ تھا “میں فریش ہو کر آ تا ہوں۔ مہمان کیلئے چاۓ وغیرہ بنوا دیں۔
“ٹھیک ہے تم منہ ہاتھ دھو کر آؤ۔“ اماں نے خوش ہو کر کہا۔
ساحل عمر جب فریش ہو کر ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تو وہ شخص اسے دیکھ کر کھڑا ہو گیا۔ وہ ایک درمیانے قد کا گٹھے ہوئے جسم کا مالک شخص تھا۔ اس نے شلوارقمیض اور شیشے لگی کوٹی پہنی ہوئی تھی۔ سر پر ایک مخصوص ٹوپی تھی جس پر ایک پر لگا ہوا تھا۔ وہ شخص ایک نظر میں شمالی علاقہ جات کا رہنے والا دکھائی دیتا تھا۔ اس کے چہرے پر ایک پروقارسنجید گی تھی۔
“معاف کیجئے گا۔ آپ کو میرا خاصا انتظار کرنا پڑا۔ میں شرمندہ ہوں۔‘‘ ساحل عمر نے معذرت چاہی
اس میں شرمندہ ہونے کی کیا بات ہے۔‘‘ اس شخص نے دو قدم آگے بڑھ کر ہاتھ ملایا۔
اس کا ہاتھ بڑا مضبوط اور بھاری تھا۔
’’میں تو ان خاتون کا بڑا احساس مند ہوں کہ انہوں نے مجھے ڈرائنگ روم میں بٹھا لیا ورنہ اگر مجھے پوری رات باہر کھڑے ہو کر انتظار کرنا پڑتا تو کرتا۔”
’’ایسا آپ کو مجھ سے کیا کام آ پڑا۔ میں ایک معمولی آرٹسٹ ہوں۔ کوئی سرکاری افسر نہیں ۔‘‘ ساحل عمر نے ہنستے ہوۓ اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ ’’ آپ تشریف رکھئے۔‘‘
میز پر ایک درمیانے سائز کا چرمی بیگ رکھا تھا اس نے اس کی زپ کھول کر ایک سفید رنگ کا بڑا لفافہ نکالا اور اس کی طرف بڑھاتے ہوۓ بولا۔ ’’میں آپ کیلئے ایک تصویر لایا ہوں۔ یہ تصویر آپ کو پینٹ کرنا ہو گی۔‘‘
ساحل عمر کو یہ بات کچھ عجیب سی لگی۔ وہ کوئی کمرشل آرشٹ نہ تھا۔ اس کا پیشہ بھی آرٹ نہ تھا۔ تصویر بنانا اس کا شوق تھا۔ وہ اپنی مرضی سے تصویریں بناتا تھا اور یہ شخص اس سے فرمائشی تصویر بنوانے آ پہنچا تھا۔ ایک اجنبی شخص اور کہتا تھا کہ یہ تصور آپ کو بنانا ہو گی۔
ساحل عمر نے وہ لفافہ اس کے ہاتھ سے لے لیا اور انکار کر نے سے پہلے اس نے سوچا کہ ایک نظر اس تصویر کو د یکھ لے تا کہ یہ تو معلوم ہو سکے کہ وہ اس سے کیا بنوانے کا خواہش مند ہے۔
جب ساحل عمر نے وہ تصویر لفافے سے نکالی تو اس تصور کو دیکھ کر ایک لمحے کو اسے سانپ سونگھ گیا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: