Anwar Aleegi Urdu Novels

Bichoo Novel By Anwar Aligi – Episode 20

Bichoo Novel By Anwar Aligi
Written by Peerzada M Mohin
 بچھو از انوار علیگی – قسط نمبر 20

–**–**–

اس کمرے میں تین دروازے تھے اور تینوں برابر برابر تھے۔ رشا ملوک تیزی ہے چلتی ہوئی درمیان کے دروازے کے پاس پہنچی پھر اس نے دروازے کو کھول دیا۔ دروازہ کھلتے ہی جوشخص مسکراتا ہوا اندر داخل ہوا اسے دیکھ کر ساحل عمر کو رشا ملوک کی بنائی ہوئی تصویر یاد آ گئی۔ وہ ایک ادھیڑ عمر کا پرکشش مرد تھا۔ سر پر آسمانی رنگ کا صافہ، بند گلے کا کوٹ، کوٹ کے کالر پر دو ہیرے جڑے ہوئے، گلے میں ایک کالی ڈوری میں بندھی انگوٹھی۔ یہ چاندی کی انگوٹی تھی جس میں سبز رنگ کا گول پتھر لگا ہوا تھا۔ کوٹ اور پینٹ کا رنگ گرے تھا۔
ساحل عمر کی سمجھ میں اب آیا کہ رشا ملوک نے اس کی تصویر کو کس کا لباس پہنا دیا تھا
اس شخص کے ہاتھوں میں ننگی تلوار تھی ۔ یہ تلوار اس نے اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑی ہوئی تھی تلوار کا رخ چھت کی طرف تھا۔ کمرے کے اندر آ کر سمار ملوک نے تلوار ایک ہاتھ میں لے لی اور اسکا رخ زمین کی طرف کر لیا پھر وہ وہیں ٹھہر گیا رشا ملوک تیزی سے آگے بڑھی وہ گھٹنوں کے بل بیٹھی اور اس نے اپنے باپ کا خالی ہاتھ بڑے احترام سے چوما اور پھر کھڑی ہو گئی۔
ساحل عمر سمار ملوک کو اندر آ تا دیکھ کر احتراماً کھڑا ہو گیا تھا۔ اب وہ آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔ جب ساحل عمر اس کے نزدیک پہنچ گیا تو اس نے تلوار والا ہاتھ بڑی مستعدی سے آگے بڑھا دیا۔ تلوار کا رخ چھت کی طرف تھا۔لے۔
ساحل عمر کی سمجھ میں نہ آیا کہ اس بات کا کیا مطلب ہے۔ کیا وہ ہاتھ بڑھا کر تلوار لے لے ساحل عمر کو تذبذب میں دیکھ کر رشا ملوک نے کہا۔ ’’احترام دیجے‘‘
ساحل عمر کی سمجھ میں بات نہ آئی کہ وہ احترام کس طرح دے۔ اتنے میں رشا ملوک پھر ساحل عمر سے بولی۔ ’’ویسا احترام جیسا میں نے دیا۔‘‘
”اچھا!‘‘ اب اس کی سمجھ میں آیا کہ کیا کرنا ہے۔ اس نے سمار ملوک ہاتھ چوما تھا لیکن سوال یہ تھا کہ وہ کون سا ہاتھ چومے۔ وہ ہاتھ جس میں تلوار ہے یا وہ ہاتھ جو خالی ہے سمار ملوک نے اسے دیکھ کر تلوار والا ہاتھ بڑھایا تھا لہذا اس نے سوچا کہ اس ہاتھ کو بوسہ دینا ہے اگر کوئی گڑبڑ ہوئی تو رشا ملوک اشارہ کر دے گی۔
ساحل عمر نے جھک کر تکوار والے ہاتھ کو اپنے ہونٹوں سے چوما اور سیدھا کھڑا ہو گیا۔ ہاتھ کو چومتے ہی ساحل عمر نے دیکھا کہ سمار ملوک نے تلوار کا رخ فرش کی طرف کر لیا ہے۔ پھر وہ تلوار نیچی کیئے کئے کرسیوں کی طرف بڑھا اور پہلی کرسی پر بیٹھ گیا۔ تلوار اس نے میز پر رکھ دی۔
رشا ملوک اور ساحل عمر اس کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ سمار ملوک نے بغور ساحل عمر کی طرف دیکھا۔ سمار ملوک کی آنکھوں میں ہیرے کی سی چمک تھی۔ اس سے آنکھیں ملانا مشکل تھا۔ ساحل عمر نے اپنی آنکھیں نیچی کر لیں۔
“اپنی آنکھیں اٹھا۔ مجھے دیکھ‘‘ سمارملوک کی بارعب آواز گونجی۔
“بابا کیا آپ کی آنکھوں میں دیکھنا کوئی آسان کام ہے۔ ان آنکھوں میں صدیوں کی روشنی بھری ہے‘‘ رشاملوک نے ساحل عمر کی طرفداری کی۔
“تجھے خاموش رہنا ہو گا۔‘‘ وہی بارعب آواز گونجی۔ پھر وہ ساحل عمر سے مخاطب ہوا۔’’میری آنکھوں میں دیکھ”
ساحل عمر کے ذہن میں اچانک ایک خیال کوندا۔ اسے فورا حافظ موسی کا تعویذ یاد آیا جو اس کے گلے میں پڑا ہوا تھا اس نے اس تعویذ کو اپنی آنکھیں بند کر کے باری باری دونوں آنکھوں پر رکھا پھر تعویز ہاتھ سے چھوڑ کر ایک دم آنکھیں کھول دیں اور سمار ملوک کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں۔ اس کی آنکھوں میں اب اتنی سکت پیدا ہوگئی تھی کہ وہ سمارملوک کی آنکھوں سے آنکھیں ملاسکتا تھا۔
اسے آنکھیں ملاتے دیکھ کر سمار ملوک کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی۔ “شاباش. یہ ہوئی نا بات”
سمار ملوک کو خوش ہوتے دیکھ کر رشا ملوک فورا چہکی۔ ’’بابا آپ کو میرا مور پسند آیا۔“
’’تیرا مور؟‘‘ سمار ملوک نے الجھے ہوۓ لہجے میں سوال کیا۔
’’ہاں میرا مور۔‘‘ رشا ملوک نے بڑے یقین سے کہا۔
“رشا ملوک تیری اس سے شادی نہیں ہوسکتی‘‘ فضا میں جیسے ایک زبردست دھماکہ ہوا۔
“بابا یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ صدیوں پرانے قانون کو توڑ رہے ہیں۔ یہ آپ کو کیا ہو گیا ہے؟‘‘ رشا ملوک پریشان ہو کر بولی۔
“میں قانون نہیں توڑ رہا اس کی پیشانی دیکھ رہا ہوں۔‘‘ سمار ملوک نے عجب بات کہی۔
“ان کی پیشانی پر کیا لکھا ہے؟‘‘ رشا ملوک کو فکر ہوئی۔
’’جولکھا ہے وہ میں نے تجھے بتا دیا۔ تیری شادی نہیں ہوسکتی ۔‘‘
لیکن بابا صاعق نے نذر لے کر جو پتھر دیا ہے وہ ہم رنگ ہے. کیا بابا صائق کی نذر جھوٹی ہے۔‘‘ رشاملوک کے جسم پر لرزہ طاری ہو گیا تھا۔ وہ اس بری خبر کوسن کر پریشان ہوگئی تھی۔
“جو میں جانتا ہوں وہ بابا صاعق نہیں جانتا۔ میں اس بستی کا رمز شناس ہوں۔ ستاروں کی چال جانتا ہوں ۔ اس لڑکے کے ستارے جو کچھ کہہ رہے ہیں اس بات نے مجھے چونکا دیا ہے۔ یہ لڑکا اس بستی میں ہمارا نجات دہندہ بن کر آیا ہے۔ تین دن سے جو میں خواب دیکھ رہا تھا آج اس کی تعبیر کھل کر سامنے آ گئی۔ نہیں یہ شادی نہیں ہوسکتی۔‘‘ سمار ملوک نے بس ایک ہی رٹ لگا رکھی تھی۔
’’بابا، آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں۔ مجھ پر رحم کھائیں۔ اپنی اکلوتی اولاد کا مور تباہ نہ کریں۔“
“تیرا مور تباہ نہ کروں اپنی بستی تباہ کروا لوں۔ میں اس بستی کا رمز شناس ہوں۔ میں ایسا نہیں کر سکتا۔ اپنی بیٹی کی خاطر میں پوری بستی کو تباہی کے دہانے پر نہیں پہنچا سکتا۔‘‘ سمار ملوک نے ٹکا سا جواب دیا۔
“میری شادی سے بستی تباہ ہو جاۓ گی ۔ آخر کیسے؟‘‘ رشا ملوک کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا رہا تھا۔ ’’بابا آپ یہاں میرے مور سے ملنے آئے تھے لیکن جب سے آۓ ہیں مسلسل . پریشان کن پیشگوئیاں کئے جا رہے ہیں۔ بابا ایسا مت کر یں۔ میں نے ہزار وقتوں کے بعد اپنے مور کو پایا ہے۔“
“تو نہیں جانتی۔ یہ وقت کا فیصلہ ہے۔ یہ لڑ کا وقت کا انتخاب ہے۔ اسے وقت یہاں لے ہے۔ یہ یہاں آ گیا ہے تو ہمیں وقت کا احترام کرنا ہو گا”
“میری شادی روک کر؟‘‘ رشا ملوک تلخی سے بولی۔
”بابا اس بستی میں آج تک ایسا نہیں ہوا۔ بابا صاعق نے بھی ہمارے حق میں فیصلہ دے یا ہے۔ وہ میرے مور کو دیکھ کر بہت خوش ہیں‘‘
“خوش تو میں بھی ہوں…. میں کون سا ناخوش ہوں۔ وقت نے اس بستی میں ایک ایسا نوجوان بھیج دیا ہے جس کی پیدائش ایک خاص وقت میں ہوئی ہے۔ ایسا وقت صدیوں میں آ تا ہے۔ ایسے نوجوان صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ یہ نو جوان آج ہمارے درمیان موجود ہے میرا ایک خواب اور سچا ثابت ہو گیا ہے۔‘‘ سمار ملوک خوش ہو کر بولا۔
ساحل عمر کافی دیر سے خاموش کھڑا باپ بیٹی کی گفتگو سن رہا تھا۔ گفتگو اسی کے بارے میں ہو رہی تھی لیکن اس سے کوئی مخاطب نہ تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ سمار ملوک کو اچانک کیا ہو گیا۔ اس نے ایسا کیا خواب دیکھ لیا۔ وہ اس کو اتنی اہمیت کیوں دے رہا ہے۔ شادی سے کیوں انکاری ہے جبکہ بقول رشا ملوک نذر کے پتھر بھی ہم رنگ نکل آۓ ہیں۔ تب اس نے سوچا کہ اس گفتگو میں مداخلت کرنا چاہئے۔ سمار ملوک سے اس بارے میں آ گاہی حاصل کرنا چا ہئے۔ اگر وہ اس بستی یا بستی والوں کے کوئی کام آ سکتا ہے تو اسے وہ کام انجام دینا چاہئے۔ یہ فیصلہ کر کے اس نے لب کشائی کی۔
’’بابا آپ اجازت دیں تو میں کچھ عرض کروں۔”
“ہاں لڑکے بولو۔‘‘
“بابا میرا نام ساحل عمر ہے۔” ساحل عمر کو سار ملوک کا بار بارلڑ کا کہنا اچھا نہ لگا۔
’’ابھی تک آپ دونوں کے درمیان جو گفتگو ہوئی ہے اس سے مجھے یہ اندازہ ہوا ہے کہ آپ نے میرے بارے میں کوئی خواب دیکھا ہے اور یہ کہ آپ سچے خواب دیکھتے ہیں۔ کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ آپ نے میرے بارے میں کیا خواب دیکھا ہے۔‘‘
“اے ساحل عمر خواب سے پہلے میں تجھے ایک کہانی سناتا ہوں پہلے وہ سن. تو کھڑا کیوں ہے آ میرے برابر آ کر بیٹھ جا اور اے رشا ملوک تو ذرا صبر سے کام لے۔۔ تو بھی میرے پاس آ کر بیٹھ جا۔‘‘ سمار ملوک نے کہا۔
ساحل عمر خاموشی سے سمار ملوک کے برابر پڑی کرسی پر بیٹھ گیا۔ رشا ملوک ساحل عمر کے برابر والی کرسی پر بیٹھ گئی۔ اس کے حسین چہرے پر فکر کے بادل چھائے ہوئے تھے۔
“جی بابا۔ شروع کیجیئے کہانی۔” ساحل عمر نے سنجیدگی سے کہا۔
“یہ کہانی نہیں ایک اٹل حقیقت ہے۔ میراعلم مجھے کبھی دھوکا نہیں دے سکتا۔ میرے خواب بھی جھوٹے نہیں ہوتے۔ یہ بہت پہلے کی بات ہے ہزاروں برسوں پہلے کی بات ہے۔ فرعونوں کا زمانہ۔۔اپنے وقت کے سو بڑے ساحروں نے ’’ربطول‘‘ مرتب کیا۔ یہ کتاب سحر دو حصوں میں تیار کیا گیا۔ ایک حصے میں منتر تھے تو دوسرے حصے میں ان منتروں کو پڑھنے کی ترکیب تھی۔ یہ دونوں حصے فراعنہ کے پاس نسل درنسل چلے آ رہے تھے۔ شہنشاہ وقت ان دونوں حصوں کو الگ الگ مقامات پر رکھتا کہ ایک حصہ چوری بھی ہو جائے تو چور اس سے فائدہ نہ اٹھا سکے لیکن ستاروں کے فیصلے اٹل ہوتے ہیں۔ کسی معبد کے پروہت نے جو اپنے وقت کا بڑا ساحر بھی تھا اور اس کا تعلق سو جادوگروں کے سالار سامری کی اولادوں میں سے تھا کسی طرح اس کتاب کا ایک حصہ چرالیا۔ یہ پہلا حصہ تھا جس میں منتر درج تھے۔ پہلا حصہ چوری ہو جانے پر ربطول کا دوسرا حصہ بے اثر ہو گیا۔ چند سالوں بعد شہنشاہ وقت کا انتقال ہو گیا۔ اس فرعون کی ممی کو ہرم میں منتقل کیا گیا تو اس کے ساتھ سحر ربطول کا دوسرا حصہ بھی رکھ دیا گیا۔ وہ ساحر جو فرعون کی موت کا منتظر تھا کہ کب فرعون مرے اور کب وہ کتاب اپنے قبضے میں کرے۔ فرعون کے ہرم میں مدفون ہوتے ہی اس ساحر نے راتوں رات اس کے ہرم میں داخل ہو کر کتاب کا دوسرا حصہ بھی اڑا لیا اور وہ ساحر جو سامری کی اولادوں میں سے تھا اور جس کا نام راعین تھا فرعونوں کی سرزمین سے فرار ہو گیا۔ ربطول میں درج منتروں کے ذریعے اس نے زیردست قوتیں حاصل کر لیں۔ انہی شیطانی قوتوں میں سے ایک ’’مانا‘‘ کی قوت بھی تھی۔ پھر راعین گھومتا گھامتا ہمارے علاقے میں آ گیا۔ اسے یہ علاقہ بہت پسند آیا اور اس نے یہاں اپنا مستقل ٹھکانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی۔ اس نے کتاب سحر میں درج سب سے مشکل منتر پر عمل کرنے کی ٹھانی۔ اس منتر کی تکمیل کیلئے ضروری تھا کہ راعین خود کو زندہ دفن کرے اور ہزاروں سال بعد مقررہ وقت پر جب وہ دوبارہ اپنے مدفن سے باہر آۓ تو وہ بے پناہ قوتوں کا مالک ہو۔ مانا کے ساتھ چار گھوڑے بھی اس کے قبضے میں آ جائیں اور پھر وہ جب چاہے جہاں چاہے تباہی پھیلا دے۔ راعین برائی کاعلمبردار ہے۔ پکا شیطان ہے۔ ایک فتنہ ہے۔ ایک عفریت ہے۔ اگر وہ زندہ ہو کر اپنے مدفن سے باہر آ گیا تو پھر تبائی مقدر بن جائے گی۔ اس فتنے کے جاگنے سے پہلے اسے ہمیشہ کیلئے موت کی نیند سلانا ہے اور یہ کام اسے ساحل عمر صرف تم کر سکتے ہو. تم جو شنی ہو، وقت کے دھنی ہو، چاند اور سورج تمہارے راہبر ہیں حمل کا تم پر سایہ ہے۔ مشتری تمہارا غلام ہے عطارد تمہارے سامنے ہاتھ جوڑے بیٹھا ہے۔ تمہاری پیدائش سات ستاروں کے اجتماع کی شبھ گھڑی میں عمل میں آئی۔‘‘ اتنا سنا کر سمار ملوک خاموش ہو گیا۔ ’’تمہارا کوئی جواب نہیں ۔”
ساحل عمر بڑی محویت کے عالم میں اس کی کہانی سن رہا تھا۔ جب اس نے اس کا ذکر کیا تو وہ ایک دم چونک اٹھا اور پریشان ہو کر بولا ۔’’بابا آپ میرے بارے میں کس قسم کی باتیں کر رہے ہیں”
”اے ساحل عمر تو وہ شخص ہے جو اپنے بارے میں کچھ نہیں جانتا پر ایسا بھی ہوتا ہے۔ تو پریشان مت ہو۔ جیسا میں کہوں ویسا کرتا جا۔ تو بھی خوش رہے گا اور ہم بھی خوش رہیں گے۔“
“اور میری شادی کا کیا ہو گا بابا۔‘‘ رشا ملوک نے درمیان میں ٹانگ اڑائی۔ جب تک راعین کو ہمیشہ کی نیند سلا نہیں دیا جاتا اور کتاب سحر کو جلا نہیں دیا جاتا تب تک تو اپنے مور کا ہاتھ نہیں پکڑ سکتی تو شادی کے جشن میں شریک نہیں ہوسکتی۔ سن لیا تو نے۔” سمار ملوک نے تنبیہہ کی۔
“بابا میری شادی تو ہو جاۓ گی نا میرے مور سے‘‘ وہ خوشامدانہ لہجے میں بولی۔
’’ہاں ہو جاۓ گی۔‘‘ سمارملوک نے سپاٹ انداز میں جواب دیا۔
“پھر میں انتظار کر لوں گی۔بستی کی بھلائی کی خاطر میں انتظار کر لوں گی لیکن بابا میرے مور کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ آپ کا علم کیا کہتا ہے۔”
’’ہمیں اچھے وقت کی امید رکھنی چاہئے اور کامیابی کی دعا مانگنی چاہے ۔“
“بابا میں نے آپ کی کہانی تو سن لی لیکن اس کہانی میں اس خواب کا ذکر نہیں جس کے بارے میں آپ نے کہا تھا کہ وہ سچا ثابت ہوا اور جو میرے بارے میں تھا۔‘‘
“ہاں… میں وہ بتانے والا تھا کہ بیچ میں رشا ملوک بول پڑی۔ میں تین دن سے ایک خواب دیکھ رہا ہوں کہ ایک نو جوان سنہرے چست کپڑوں میں ہاتھ میں تلوار لیئے ایک برف کی قبر پر اپنی تلوار سے وار کرتا ہے۔ تلوار برف میں گھس جاتی ہے۔ جب وہ تلوار نکالتا ہے تو وہ خون میں نہائی ہوئی ہوتی ہے۔ برف پر بھی خون ہوتا ہے پھر یہ تلوار ایک دم صاف ہو جاتی ہے۔ خون اچانک غائب ہو جاتا ہے تو وہ نو جوان دوبارہ برف کی قبر پر وار کرتا ہے پھر تلوار خون آلود ہو جاتی ہے اور چند لمحوں بعد صاف ہو جاتی ہے ۔ اس طرح وہ نو جوان بار بار تلوار سے قبر پر وار کرتا ہے یہاں تک کہ وہ قبر اچانک سات حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ بس یہ خواب دیکھا میں نے۔ جب پہلی بار میں نے یہ خواب دیکھا تو میں نے علم نجوم کا سہارا لیا۔ ستاروں نے مجھے یہ کہانی سنائی۔ تین دن تک مسلسل یہ خواب دیکھنے کے بعد آج تمہیں دیکھا تو مجھے فورا خواب والا نوجوان یاد آ گیا۔ وہ نو جوان تم تھے اور تمہارے ہاتھ میں یہ تلوار بھی میری تھی۔ یہ ایک مقدس تلوار ہے جو نسل در نسل ہم رمز شناسوں میں چلی آ رہی ہے۔ آج میں یہ تلوار تمہارے حوالے کرتا ہوں۔ اسے قبول کرو۔‘‘ یہ کہہ کر سمار ملوک فورا اٹھ گیا۔ اس نے میز سے تلوار اٹھائی اور اپنے دونوں ہاتھوں پر رکھ کر وہ ساحل عمر کے سامنے جھک گیا
ساحل عمر کے پاس اب اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ اس تلوار کو قبول کر لے۔ رشا ملوک نے بھی آنکھ کے اشارے سے تلوار قبول کرنے کا سگنل دیا تھا۔ یہ ایک ایسا اعزاز تھا جو آج تک کسی مور کو نصیب نہیں ہوا تھا۔ رشا ملوک کے چہرے پر ایک دم رونق آ گئی تھی۔
ساحل عمر نے اپنا ہاتھ بڑھا کر تلوار سمار ملوک کے ہاتھوں پر سے اٹھالی۔ ’’شکر یہ”
پھر اس نے اس تلوار کو الٹ پلٹ کر دیکھا۔ یہ ایک خوبصورت تلوار تھی۔ اس کے دستے پر ہیرے جڑے ہوۓ تھے۔ ساحل عمر نے دستے میں ہاتھ ڈال کر تلوار کو مضبوطی سے پکڑ لیا اور ہاتھ اٹھا کر چمکتی تلوار کو چوم لیا اور پھر دل ہی دل میں دعا کی۔
“اے اللہ….اس عفریت کوختم کرنے میں میری مدد فرما۔”
دعا کر کے اسے سکون سا آ گیا۔ دعا دراصل ایک مستقل عبادت ہے۔ تمام مذاہب کی روح دعا ہے اور عبادت ہمیشہ سکون کا باعث ہوتی ہے۔
“اے ساحل عمر بس اب تو جا۔. رشاملوک تجھے تیرے ٹھکانے تک چھوڑ آۓ گی تو آرام کر” سمارملوک یہ کہہ کر کھڑا ہو گیا۔
پھر وہ رشا ملوک سے مخاطب ہو کر بولا ۔’’اے رشا ملوک جا تو اس کے ساتھ جا“
“ٹھیک ہے بابا جاتی ہوں‘‘
سمار ملوک ساحل عمر کے قریب آیا تو اس نے ہاتھ بڑھا کر ساحل کا کان چھوا اور بولا۔ “اے ساحل عمر ابھی کام شروع ہوا ہے۔ ابھی راستے میں بہت مشکلیں ہیں۔ ابھی ہمیں یہ معلوم نہیں کہ راعین کہاں دفن ہے ہمیں اس کے برفانی ہرم کا کھوج لگانا ہو گا۔ میں بستی کے کچھ ہنر مندوں کو پکڑتا ہوں۔ بابا صاعق سے بھی مشورہ کرتا ہوں۔ مل بیٹھ کر ہی راستہ نکالنا ہو گا۔ اس فتنے کا قہر باہر آنے کا صحیح وقت بھی معلوم کرنا ہو گا۔ یہ کام تو میں ستاروں کے ذریعے کر لوں گا۔ میرا علم بڑا سچا ہے مجھے کبھی دھوکا نہیں دیتا۔‘‘
’’ٹھیک ہے بابا۔ آپ اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ میں اللہ کی مخلوق کی بھلائی کیلئے جو کر سکتا ہوں اس کے لئے میں حاضر ہوں۔ مجھے اس عفریت کا خاتمہ کر کے بے پناہ خوشی میسر آۓ گی۔” ساحل عمر نے کہا اور رشا ملوک کے ساتھ چل دیا جو اس کی منتظر تھی۔
وہ دونوں جب سیڑھیاں چڑھ کر مینار سے باہر نکلے تو رشا ملوک بڑے بے تابانہ لہجے میں بولی۔ ’’یہ کیا ہو گیا۔”
“کچھ نہیں ہوا. تم پریشان کیوں ہو۔‘‘ ساحل عمر نے اسے تسلی دی۔ ’’یہ بتاؤ کہ اگلا جشن شادی کب ہے۔ ابھی کتنا وقت ہے؟‘‘
“صرف ایک ماہ. اگلے مہینے جشن شادی ہے۔ میں تو بہت خوش تھی کہ آپ بڑے صحیح وقت پر ہمارے علاقے میں آۓ ہیں۔ سارے کام بھی بالکل ٹھیک انداز میں ہو رہے تھے کہ وہ منحوس ۔ راعین درمیان میں آ گیا۔‘‘
’’ابھی پورا ایک مہینہ ہے۔ ایک مہینہ بہت ہوتا ہے۔ تم جشن کی تیاری میں لگ جاؤ۔ اس دوران میں راعین سے نمٹ لیتا ہوں۔ تمہارے بابا کی مقدس تلوار تو میرے ہاتھ لگ ہی گئی پھر اب ڈرنا کیسا؟“
“یہ کام اتنا آسان نہیں ہے۔ آپ کی زندگی بھی خطرے میں پڑسکتی ہے۔”
“موت اور زندگی تو اوپر والے کے ہاتھ میں ہے اگر اس طرح لکھی ہے تو پھر مجھے کون بچا سکتا ہے”
“اگر آپ کو کچھ ہو گیا تو میں تو پاگل ہو جاؤں گی۔‘‘ وہ بے قرار ہو کر بولی۔
’’اب پاگل نہیں ہو کیا؟‘‘ ساحل عمر نے ہنس کر کہا۔
“ہوں‘‘ رشا ملوک نے گیری نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔ ’’آپ کے لئے پاگل ہوں۔ آپ کی دیوانی ہوں۔ آپ کے بن رہنا اب محال ہے۔“
“رشا ملوک مجھ پر بھی کچھ ایسی ہی گزرتی ہے۔ میرے بس میں ہو تو تمہیں ابھی یہاں سے اڑا کر لے جاؤں لیکن میرے بس میں کچھ نہیں ہے۔ مجھے تو اپنا احوال بھی معلوم نہیں ہے۔ بس ادھر ادھر سے اپنے بارے میں سنتا ہوں کہ میں یہ ہوں میں وہ ہوں۔ کوئی بہت خاص چیز ہوں۔ اللہ جانے میں کیا ہوں؟”
“ہاں تو اس میں کیا شبہ ہے کہ آپ بہت خاص چیز ہیں۔ پھر سب سے بڑی بات رشانے جس کو اپنا مور منتخب کر لیا وہ تو کوئی عام چیز ہو ہی نہیں سکتا۔‘‘ اس طرح باتیں کر تے ساحل عمر اپنے ٹھکانے پر پہنچ گیا۔ رشا ملوک اسے کمرے میں چھوڑ کر واپس چلی گئی۔ اس کے جانے کے بعد وہ کمرے میں ٹہلنے لگا۔
رشا ملوک ڈھونڈتی ہوئی بالآخر سمار ملوک کے ٹھکانے پر پہنچ گئی۔ سمار ملوک اپنے کتب خانے میں موجود تھا اور اس وقت وہ کتابوں کے ڈھیر میں دبا ہوا تھا۔ رشا ملوک کو دروازے پر دیکھ کر اس نے اہی نظر اس پر ڈالی اور پھر اپنے کام میں مشغول ہو گیا۔
رشا ملوک بہت خاموشی سے ایک کرسی کھینچ کر میز کے ایک کونے پر بیٹھ گئی اور اپنے باپ کو دیکھنے لگی
سمار ملک کے سامنے بہت سی کتابیں کھلی پڑی تھیں۔ وہ مختلف کتابوں کو کھول کھول کر دیکھ رہا تھا۔ اس کے سامنے میز پر ایک چوڑا اور ڈیڑھ فٹ لمبا ایک شیشہ پڑا تھا۔ اس شیشے پر وہ ایک پر کے قلم سے لال روشنائی سے کچھ زائچے بنا رہا تھا یہ شیشہ ان اعداد و شمار سے بھرتا جا رہا تھا سمار ملوک کتایں پڑھ پڑھ کر لکیریں کھینچتا جا رہا تھا۔ وہ الجھن کا شکار تھا۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کا علم اس کا ساتھ نہیں دے رہا وہ مایوس ہوتا جا رہا تھا
لیکن پھر جانے کیا ہوا؟ سمار ملوک ایک دم اچھل پڑا۔ اس نے خوشی سے نعرہ لگایا اور خوش ہو کر رشا ملوک کو دیکھا اور بولا ’’اے رشا ملوک تیرا آ نا اس وقت بڑا نیک شگون ثابت ہوا۔ آخر میں نے معلوم کر لیا کہ راعین کب جاگے گا دیکھا تو نے کہ میرا علم کتنا سچا ہے۔‘‘
“بابا مبارک ہو ۔‘‘ رشا ملوک کے چہرے پر خوشی برسنے لگی۔ ’’میں جانتی ہوں کہ آپ کا علم کتنا سچا ہے آپ کو کبھی دھوکا نہیں دیتا۔ کیا تاریخ نکلی ہے۔‘‘
“ابھی پورا ایک ماہ ہے۔ ایک مہینے کے بعد رات کو بارہ بجے اس کا مدفن چٹخنا شروع ہو گا۔ بارہ بج کر پانچ منٹ پر وہ اٹھ کر بیٹھ جاۓ گا۔‘‘
“اوہ بابا یہ تو بڑی خطرناک تاریخ ہے۔‘‘ رشا ملوک نے فورا کہا۔
’’کیوں؟‘‘ سمار ملوک نے اسے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔
“بابا آپ کو یاد نہیں کہ شادی کے جشن کی بھی یہی تاریخ ہے۔ بابا یہ منحوس رائین آخر میرے پیچھے کیوں پڑ گیا ہے۔ میری خوشیوں کا قاتل؟‘‘
“اے رشا ملوک. ذرا صبر سے کام لے۔ سب ٹھیک ہو جاۓ گا۔ اچھا میں چلتا ہوں۔” یہ کہہ کر وہ جلدی سے کھڑا ہو گیا۔
“اب کہاں جائیں گے. یہ کون سا وقت ہے کہیں جانے کا۔‘‘ رشا ملوک نے کہا۔
“بابا صاعق کی مختاری پر جانا ہے۔ وہ لوگ میرے منتظر ہوں گے۔‘‘ پھر اس نے رشا ملوک کے جواب کا بھی انتظار نہ کیا ۔ وہ فورا ہی کمرے سے باہر نکل گیا۔
پانچ گھوڑوں کی شاندار کٹاری بابا صاعق کی مختاری کے سامنے رکی تو بابا صاعق نے آگے بڑھ کر بستی کے رمز شناس سمار ملوک کا استقبال کیا۔ سمار ملوک نے بابا صاعق کا ہاتھ پکڑ کر اپنے سر پر رکھا
پھر اسی ہاتھ کو چوم لیا اور احترام کے ساتھ بولا۔ ’’بابا کیسے ہیں؟‘‘
“ٹھیک ہوں..تم سناؤ… اس وقت کیا مسئلہ در پیش آ گیا۔“
“ہنر مند آ گئے؟‘‘ سار ملوک نے سوال کیا۔
“ہاں تینوں آ چکے ہیں۔ اندر بیٹھے ہیں۔”
’’ٹھیک ہے بابا پھر سب کے سامنے بیٹھ کر مسئلہ بیان کرتا ہوں۔ بابا بڑی خطرناک صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ میرا علم کتنا سچا ہے وہ مجھے بھی دھوکانہیں دیتا۔”
“میں جانتا ہوں. تمہیں بھی جانتا ہوں اور تمہارے علم کو بھی جانتا ہوں۔“
“پھر آپ یہ بھی جانتے ہوں گے کہ میرے خواب کتنے سچے ہوتے ہیں۔”
”ہاں میں تمہارے خوابوں سے بھی واقف ہوں. اب آگے کہو۔“ “بابا آ گے تو سب کے سامنے کہوں گا؟‘‘ سمار ملوک بولا۔ ”ٹھیک ہے۔“
پھر بابا صاعق سمار ملوک کو لے کر اپنے کمرے میں داخل ہوا تو انہیں دیکھتے ہی تینوں ہنر مند احتراماً اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ تینوں ہنر مندوں نے سمار ملوک کے صافے کو باری باری چھوا اور پھر اپنی اپنی نشستیں سنبھال لیں۔
اس کے بعد بستی کے پانچ بڑوں کا اجلاس شروع ہوا۔ یہ ایک اہم اجلاس تھا۔ اس لحاظ سے کہ اس میں بستی کے بہترین دماغ شامل تھے۔ اہم شخصیات کی شرکت نے اس اجلاس کو چار چاند لگا دیے تھے۔
اجلاس کا آغاز کرتے ہوئے سمار ملوک گو یا ہوا۔ ’’بابا صاعق اور اس بستی کے ہنر مندو! میں نے آپ لوگوں کو آج ایک خاص مسئلے پر بات کرنے کیلئے زحمت دی ہے۔ ہماری بستی اور دنیا تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ آج سے ٹھیک ایک ماہ بعد ہماری پر امن بستی میں وہ تباہی مچے گی کہ اس تباہی کو کوئی دیکھنے والا نہ بچے گا۔”
“اے رمز شناس..۔ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟‘‘ ایک ہنر مند بزبران بولا جوموسموں کا ماہر تھا اور محض آسمان کو دیکھ کر بتا دیا کرتا تھا کہ کتنی دیر بعد بارش شروع ہو جائے گی۔ برف باری کتنی ہو گی۔ طوفان اگر آۓ گا تو اس کی رفتار کیا ہو گی۔
”اے بز بران.۔ میں جو کہہ رہا ہوں سچ کہہ رہا ہوں تو جانتا ہے کہ میں کتنے سچے خواب دیکھتا ہوں۔ میں تین دن سے ایک خواب دیکھ رہا تھا لیکن یہ خواب کہانی کا انجام ہے۔ میں پہلے کہانی سناؤں گا جو میرے علم نے مجھے بتائی۔ اس کہانی کے سلسلے میں میں نے بہت تحقیق کی۔ بڑی پرانی تحریریں چھان ماریں پھر جو کہانی ابھر کر آئی وہ میں آپ لوگوں کو سناتا ہوں۔
پھر یہ کہہ کر سمار ملوک نے سو جادوگروں کی تیار کردہ کتاب سحر’’ ربطول‘‘ کا ذکر کیا۔ راعین کتاب کو کیسے لے اڑا۔ اس نے اس کتاب میں درج منتروں سے کس طرح مانا کی قوت حاصل کی اس کتاب میں درج آ خری قوت یعنی چار گھوڑے حاصل کرنے کیلئے خود کو کس طرح دفن کر لیا۔ ایک وقت مقررہ پر جب وہ اپنے مدفن سے باہر آۓ گا تو کتنا طاقتور ہو گا۔
پوری کہانی سنا دی اور ساتھ میں اپنا خواب بھی سنا دیا اور یہ بھی بتا دیا کہ اس عفریت کو ختم کرنے والا بھی ہاری بستی میں آ پہنچا ہے تو ان کے چہرے پرسکون ہوۓ۔
“اے رمز شناس… اب یہ بات کہاں آ اٹکی ہے؟‘‘ دوسرے ہنر مند بکوزان نے سوال کیا۔ وہ تعمیرات کا ماہر تھا۔ پہاڑ ندی نالے اس کے سامنے کوئی چیز نہ تھے۔ وہ پہاڑوں کے سینے چیر کر ان میں چھپے خزانے باہر نکال لیا کرتا تھا۔ دریاؤں کے رخ پھیر دیتا تھا۔
“راعین کا مدفن معلوم کرنا ہے؟‘‘ سمار ملوک نے اصل مسئلہ پیش کیا۔
“اے رمز شناس یہ کام تو آپ ہی بہتر طریقے پر کر سکتے ہیں یا پھر بابا صاعق سے اس معاملے میں مدد لی جاسکتی ہے۔ بز بران بولا۔
“اے بزبران. میرے علم نے یہاں تک رہنمائی کر دی ہے کہ راعین ہمارے علاقے میں ہی کہیں فن ہے۔ اس سے آگے مجھے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ اس کے مدفن کی نشاندی کیلئے کوئی اور آگے بڑھے۔“
“اے زمز شناس…میری سمجھ میں ایک بات نہیں آئی ۔ راعین اپنے مدفن سے باہر نکلے گا تو وہ ہمارے لئے تباہ کن کیوں کر ثابت ہو گا۔ یہ چار گھوڑے کیا چیز ہیں؟‘‘ اس مرتبہ تیسرا ہنر مند سناتن بولا۔ یہ چرند پرند کا شناسا تھا۔ پرندوں کا تو خیر کوئی مسئلہ نہ تھا درندے بھی اس کے سامنے کسی پالتو کتے کی طرح دم ہلاتے تھے۔
“اے سناتن تو نے اچھا سوال کیا۔ یہ سوال تو ہی کر سکتا تھا۔‘‘ سمار ملوک نے ہنستے ہوۓ کہا۔
’’یہ چار گھوڑے تباہی کی علامت ہیں۔ تو یوں سمجھ کہ جس کے قبضے میں یہ چار گھوڑے آ جائیں اس کی طاقت کا کوئی انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک گھوڑا طوفان بادو باراں لا سکتا ہے۔ ایک گھوڑا زلزلے لانے کی طاقت رکھتا ہے۔ ایک گھوڑا قحط پیدا کر سکتا ہے۔ ایک گھوڑا عیاشی اور فحاشی بستیوں میں کسی وبا کی طرح پھیلا سکتا ہے۔ اب تو خیال کر کہ مانا کی قوت کے علاوہ جب یہ چار گھوڑے کسی کے طابع ہو جائیں تو پھر وہ اس دنیا میں اس بستی میں کس طرح کی تباہی نہیں پھیلا سکتا۔ ایسے عفریت کا جاگنے سے پہلے ہی خاتمہ کر دینا بہتر ہے۔ اس فتنے کو اٹھنے سے پہلے ہی ملیا میٹ کر دینا ہے۔
“اے رمز شناس یہ تو بہت مشکل مرحلہ آن پھنسا۔ اس فتنے کے اٹھنے میں تیس روز باقی ہیں۔ ان تیس دنوں میں ہمیں اس کے ٹھکانے کا پتہ لگانا ہے۔‘‘ اس مرتبہ بابا صاعق گویا ہوۓ۔ “یہاں اس وقت سب کے سب دانائی والے جمع ہیں۔ میں خود بھی کوشش کرتا ہوں۔ آپ لوگ بھی کوشش کرو کل پھر میری مختاری پر جمع ہو اور اپنی اپنی کوششوں کا احوال سناؤ۔ میں تہکال کو طلب کرتا ہوں۔ ہوسکتا ہے وہ راعین کے دفن کی نشاندہی کر دے۔”
بس پھر یہ اجلاس کل تک کیلئے ملتوی کر دیا گیا اور بستی کے یہ پانچوں عقل والے اپنے اپنے طور پر راعین کی کھوج میں لگ گئے
اگلے دن یہ اجلاس نہیں ہو سکا۔ اس لئے کہ اجلاس میں بتانے کے لئے کسی کے پاس کچھ نہ تھا۔ ایک دن میں بھلا راعین کے مدفن کی کھوج کس طرح ممکن تھی پانچوں دانا اپنی اپنی بساط کے مطابق کوششوں میں مصروف تھے۔ پھر یہ طے ہوا کہ ان پانچوں میں سے جو بھی پہلے راعین کے مدفن کا نشان پا لے وہ بابا صاعق کی مختاری کا رخ کرے۔ پھر یہ بابا صاعق کی ذمے داری ہو گی کہ وہ کس طرح سب کو اکٹھا کرتے ہیں۔
دوسرے دن پانچوں داناؤں نے اپنے اپنے طور پر کھوج کا آغاز کر دیا۔ بابا صاعق نے تہکال کو طلب کر لیا۔ انہوں نے تہکال کو اس کی زبان میں راعین کی کھوج کے بارے میں ہدایات دیں۔ اسے سمجھایا کہ اس نے کہاں کہاں جانا ہے۔ تہکال سر جھکاۓ مگر آنکھیں اٹھائے پچھلی دوٹانگوں پر بیٹھا بابا صاعق کی باتیں بغور سن رہا تھا۔ جب انہوں نے اندازہ کر لیا کہ تہکال کی سمجھ میں کچھ کچھ بات آ گئی ہے تو پھر انہوں نے بازغر کو اشارہ کیا۔
بازغر کمرے سے باہر گیا اور پھر جب وہ کچھ دیر کے بعد واپس آیا تو اس کے ہاتھوں میں لکڑی کا ایک چوڑا سا تختہ تھا۔ اس نے یہ تختہ بابا صاعق کے قدموں میں رکھ دیا۔ اس تختے پر برف کا ایک چھوٹا سا پہاڑ کھڑا تھا۔ یہ شفاف برف تھی لیکن سیمنٹ کی طرح سخت تھی۔ اس برف کے پہاڑ میں ہے کافی نیچے ایک لکڑی کا گڈا دبا ہوا تھا یہ گڈا انسانی شکل سے مشابہ تھا۔ بابا صاعق نے اس پہاڑ کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ تہکال کو سمجھایا پھر انہوں نے اشارہ کیا کہ وہ اس برف سے گڈے کو نکال لے۔ تہکال کیلئے کوئی ٹھوس چیز ٹھوس نہ تھی۔ جس طرح وہ میدانوں میں دوڑ سکتا تھا ویسے ہی ٹھوس پہاڑوں میں بلا تکلف چھلانگیں مارسکتا تھا۔
بابا صاعق کے اس مظاہرے سے وہ اتناسمجھ گیا کہ کہیں پہاڑوں میں کوئی مخص دفن ہے اس کا کھوج لگانا ہے۔ تہکال فورا اٹھا اور بابا صاعق کے قدموں میں کسی بلی کی طرح لوٹنے لگا۔ بابا صاعق کا ہاتھ چاٹا اور پھر تیزی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
پھر اس نے آتش دان کی طرف چھلانگ لگائی اس کے بعد پتہ نہ چلا کہ وہ کدھر گیا۔ بابا صاعق کو امید تھی کہ تہکال دو تین گھنٹے میں پورا علاقہ چھان مارے گا اور کوئی نہ کوئی خبر لے کر لوٹے گا لیکن اس وقت تہکال کو گئے ہوۓ چار گھنٹے سے زائد ہو چکے تھے۔ بابا صاعق اپنے کمرے میں بہت بے چینی سے ادھر ادھر ٹہل رہے تھے۔ ان کے چہرے پر پریشانی کے گہرے بادل چاۓ تھے۔
پھر وہ ٹہلتے ٹہلتے ایک دم رک گئے۔ کوئی چیز ان کے قدموں میں اچانک آ گری تھی۔ اگر وہ ایک قدم بھی آگے بڑھاتے تو ان کا پیر اس چیز پر رکھا جاتا۔ اس چیز کو دیکھ کر بابا صاعق کی آنکھوں میں اندھیرا آ گیا۔ وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔
وہ تہکال کی کٹی ہوئی دم تھی جوفرش پر پڑی ہوئی بن جل مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی۔ تہکال کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا تھا کہ وہ اس وقت کہاں تھا اور اس پر کیا بیتی تھی۔
یہ بات اپنی جگہ طے تھی کہ وہ کسی حادثے کا شکار ہو گیا تھا۔
بابا صاعق کو اب اپنی حماقت کا احساس ہو رہا تھا۔ انہیں تہکال کو راعین کی تلاش میں نہیں بھیجنا چاہئے تھا۔ یہ اس کی سطح کا کام نہ تھا۔ وہ بے چارہ تو رسم وفا نبھانے ان کے حکم کے مطابق راعین کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا تھا۔ لیکن بابا صاعق کو اس بات کا اندازہ نہیں ہو سکا تھا کہ وہ ایک خرگوش سے گینڈے کی تلاش کروا رہے ہیں۔
سردست تو اس تڑپتی ہوئی دم کا کچھ کرنا تھا۔ یہ تہکال کی پوری دم تھی جسے جڑ سے کاٹا گیا تھا یا اکھاڑا گیا تھا۔ اگر اس دم کو محفوظ نہ کیا گیا تو تہکال کے ملنے پر اسے نہیں لگایا جا سکے گا۔ تہکال دم کٹارہ جاۓ گا۔
بابا صاعق نے فورا بازغر کو اشارہ کیا۔ وہ اشارہ بجھتے ہی فورا باہر چلا گیا ۔ تھوڑی دیر کے بعد بازغر آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک بالٹی تھی۔ اس بالٹی میں سرخ رنگ کا تیل تھا۔ اس سرخ تیل سے چوتھائی بالٹی بھری ہوئی تھی۔ بازغر نے بالٹی بابا صاعق کے سامنے رکھ دی۔
بابا صاعق نے کچھ پڑھتے ہوۓ تہکال کی دم اپنے ہاتھ میں پکڑ لی۔ دم پکڑتے ہی وہ ایک دم ساکت ہوگئی۔ انہوں نے اس دم کو آہستہ سے بالٹی میں ڈال دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے سارا تیل دم نے پی لیا۔ بابا صاعق نے بازغر سے مخاطب ہو کر کہا۔ ”تہکال کی دم کو برف میں گڑھا کھود کر دبا دو۔” “ٹھیک ہے باہا۔‘‘ بازغر نے سعادت مندی سے کہا اور بالٹی لے کر باہر نکل گیا۔
بستی کا رمز شناس سمار ملوک اس وقت کھانا کھانے کے لئے بیٹھ رہا تھا جب اسے بابا صاعق کے آنے کی اطلاع ملی۔ وہ فورا کھانا چھوڑ کر نیلا گنبد کی طرف چلا۔ نیلا گنبد مہمان خانہ تھا۔ اس ملاقات کے کمرے میں خاص لوگوں کو بلایا جا تا تھا۔ سمار ملوک جب نیلا گنبد میں داخل ہوا تو بابا صاعق کو سر جھکاۓ بیٹھا دیکھا۔
بابا صاعق کو اس طرح بیٹھا دیکھ کر اس کا دل ڈوبنے لگا۔ وہ تیزی سے بابا صاعق کی طرف بڑھا۔ ان کے قریب بیٹھ کر سمار ملوک نے بابا صاعق کا ہاتھ اپنے سر پر رکھا اور پھر وہی ہاتھ چوم کر جلدی سے بولا۔ ’’بابا خیر تو ہے۔‘‘
“اے رمز شناس خیر نہیں ہے۔‘‘ یہ کہ کر انہوں نے اپنا سر اٹھایا تو سمار ملوک نے دیکھا کہ ان کی آنکھیں بھیگی ہوئی ہیں اور چہرے پر افسردگی چھائی ہوئی ہے۔ “بابا کیا ہوا؟ آپ کی آنکھوں میں آنسو۔‘‘ سمار ملوک نے ایک مرتبہ پھر ان کاہاتھ پکڑ کر چوم لیا
“اے رمز شناس۔ میرا تہکال مجھ سے بچھڑ گیا۔ یہ کہتے ہوۓ ان کا گلا رندھ گیا۔”
“اوہ میرے خدا۔ یہ کیا ہوا؟‘‘ سمار ملوک پر جیسے بجلی گری۔ ’’وہ تو بستی کی رونق تھا۔ بچوں کا کھلونا کوئی اس کی دم کھینچا تھا تو کوئی اس کے کان مروڑتا تھا کوئی بچہ اس کے اوپر چڑھ کر بیٹھ جاتا ۔ وہ تو کبھی کسی کو کچھ نہ کہتا تھا۔ اسے آخر ہوا کیا. وہ ہم سے کیسے بچھڑ گیا؟‘‘
“میں نے اسے راعین کی تلاش میں بھیجا تھا۔ وہ راعین کو تلاش کرتا کرتا خود گم ہوگیا۔ مجھ تک اس کی دم پہنچی ہے۔ اے رمز شناس مجھے بتاؤ میں کس طرح اپنے دل کو سجھاؤں۔ میں کہاں جاؤں کیا کروں؟‘‘ بابا صاعق کی آواز بھرا گئی۔
“بابا آپ کہیں نہ جائیں میرے پاس بیٹھیں۔ میرا دل اس سانحے کو قبول کرنے پر تیار نہیں۔ آپ تھوڑی دیر یہاں بیٹھیں۔ میں اپنے کمرے سے ہو کر آ تا ہوں۔ یہ کہ کر سمار ملوک نیلا گنبد سے نکل گیا۔
سمار ملوک نے یہ خبر رشا ملوک کو سنائی اور اسے نیلا گنبد جانے کی ہدایت کی۔ رشاملوک کیلے یہ خبر بہت تکلیف دہ تھی۔ تہکال اس کا بہت چہیتا تھا۔ وہ گھنٹوں اس کے کمرے میں اس کے ساتھ بیٹھا رہتا تھا
رشا ملوک دوڑتی ہوئی نیلا گنبد میں داخل ہوئی اور دھم سے بابا صاعق کے قدموں میں جا گری۔ اس نے بابا کا ہاتھ چوما اور آنکھوں میں آنسو بھر کر بولی۔ ’’میرے بابا نے مجھے بڑی اندوہناک خبر سنائی ہے۔ آپ کہہ دیں کہ یہ جھوٹ ہے۔‘‘
“اے کاش. یہ جھوٹ ہوتا۔‘‘ بابا صاعق نے دل گرفتہ آواز میں کہا۔ ’’میرا تہکال مجھ سے بچھڑ گیا۔ ہم سب کا تہکال ہم سے دور ہو گیا۔”
“میں اس بات پر یقین کرنے کو تیار نہیں ہوں۔ بابا گئے ہیں اپنے کمرے میں زائچہ بنانے ابھی معلوم ہو جا تا ہے کہ وہ کہاں ہے کس حال میں ہے۔‘‘ رشاملوک نے تسلی دی۔
”اے رشا ملوک… مجھ سے غلطی ہوگئی۔ مجھے راعین کی تلاش میں اسے نہیں بھیجنا چاہئے تھا۔‘‘ لہجے میں پچھتاوا تھا۔
“بابا راعین تو ابھی خود مدفون ہے وہ کسی کو ابھی بھلا کیا نقصان پہنچا سکتا ہے۔ پر ہمارا تہکال اس قدر آسانی سے مار کھانے والوں میں سے نہیں ہے۔‘‘ رشا ملوک نے کہا۔
چندلمحوں بعد سمار ملوک نیلا گنبد میں داخل ہوا۔
رشا اور بابا صاعق نے بیک وقت اس کے چہرے کی طرف دیکھا۔ اس کا منہ لٹکا ہوا تھا۔ “بابا آپ کا علم کیا کہتا ہے۔ جلدی بتائیں ۔‘‘ رشالوک نے بیتابی سے کہا۔
”میرے علم نے اندھیرے کے سوا کچھ نہیں دیا۔ اوہ اس کا مطلب ہے کہ گڑ بڑ ہے۔ کوئی خطرناک صورتحال ہے۔ کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ سمار ملوک دکھی لہجے میں بولا۔
”میں ابھی ہنر مندوں کو طلب کرتاہوں۔ ہمیں تہکال کو تلاش کرنا ہوگا۔‘‘
تب سمار ملوک نے فورا اپنے ہرکارے بستی میں دوڑاۓ۔ جب وہ واپس آۓ تو ان کی زبانی معلوم ہوا کہ بزیران اور بکوزان دونوں صبح سے ایک ساتھ نکلے ہوئے ہیں البتہ سناتن اپنے گنبد میں موجود تھا۔ اسے ہر کارہ اپنے ساتھ لے آیا۔
جب سناتن کو تہکال کے بارے میں یہ خبر سنائی تو وہ پریشان ہو گیا۔ تہکال سب کو پیارا تھا سناتن تو ویسے بھی چرند پرند کا دلدادہ تھا۔
“اے سناتن ! اب تو بتا… کیا کریں۔‘‘ سمار ملوک نے اسے ساری بات بتا کر مشورہ طلب کیا
“میں اپنے گنبد واپس جاتا ہوں اور وہاں کچھ جانوروں کو اسکی تلاش میں بھیجتا ہوں جیسے ہی مجھے کچھ پتہ چلے گا اے رمز شناس میں آپ کو اطلاع دوں گا۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے بابا صاعق کی طرف اجازت طلب نظروں سے دیکھا۔ ’’ کیوں بابا ٹھیک ہے نا۔”
“ہاں سناتن ٹھیک ہے۔ ذرا یہ کام ہوشیاری سے کرنا اپنے قیمتی جانور نہ گنوا دینا۔‘‘ بابا صاعق نے کہا۔
“صورتحال کی سنگینی کا مجھے اندازہ ہو گیا ہے۔ میں اب جدھر بھی بھیجوں گا جوڑے کی صورت انہیں روانہ کروں گا اور ہوشیار جانوروں کا انتخاب کروں گا۔ بابا… آپ پریشان نہ ہوں میں تہکال کا کھوج نکال لوں گا۔ راعین کا بھی کچھ نہ کچھ ہو جاۓ گا۔” یہ کہہ کر سناتن گنبد سے نکل گیا۔
بزبران اور بکوزان دونوں بستی کے بڑے ہنر مندوں میں سے تھے۔ ایک کا ہاتھ موسم کی بغل پر ہوتا تھا تو دوسرے کی نظریں پہاڑوں کی بلندی پر۔ وہ دونوں آپس میں بہت اچھے دوست بھی تھے۔ اس لئے وہ دونوں ایک ساتھ ہی راعین کی تلاش میں نکلے تھے۔ دو دن میں انہوں نے خاصا علاقہ کھنگال لیا تھا لیکن راعین کے مدفن کے ابھی کوئی آثار نہ ملے تھے۔ وہ دونوں صبح کو گھوڑوں پر نکلتے دشوار گزار پہاڑی راستوں پر سفر کرتے۔ مدفن کے آثار ڈھونڈتے اور شام ڈھلتے ہی بستی کا رخ اختیار کر لیتے۔ ویسے ان کے پاس ایک علیحدہ گھوڑے پر زاد راہ بھی ہوتا تھا کہ اگر کہیں رات گزارنی پڑ جاۓ تو وہ آرام سے خیمہ لگا کر رات گزار لیں۔ آج بھی یہی ہوا کہ وہ دن بھر کی تلاش بسیار کے بعد شام ڈھلتے ہی بستی کی طرف چل رہے تھے۔ واپس آ رہے تھے تو ان کی نظر کوہ ویراں پر پڑی اور یہ بات دونوں نے بیک وقت نوٹ کی۔ انہوں نے کوہ ویراں سے ایک مخصوص برف کا ایک تودہ کھسکتے دیکھا۔ بزبران فورا رک گیا اور اس تودے کو غور سے دیکھنے لگا۔ بکوزان بھی اس پر نظریں جماۓ ہوۓ تھا۔
“بکوزان دیکھا تم نے؟‘‘ بزبزان نے پوچھا۔
“ہاں دیکھ رہا ہوں “ میرا علم یہ کہتا ہے کہ یہ تودے گرنے کا موسم نہیں ہے پھر یہ برف کا چھوٹا سا پہاڑ کس لئے کھسک رہا ہے۔”
“ہاں بزبران تمہارا اندازہ بالکل صحیح ہے۔ مجھے یہ مصنوعی تودہ دکھائی دے رہا ہے۔ میرا مطلب ہے کہ یہ فطری تودہ ہرگز نہیں ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے کہیں سے برف ہٹائی جارہی ہو۔
’’اوہ بکوزان اس کا مطلب ہے میں نے جو بات محسوس کی وہی تم نے بھی کی۔‘‘ بزبران نے مسرت آمیز لہجے میں کہا۔ ’’میرے خیال میں ہمیں یہیں ڈیرے ڈال لینا چاہئیں۔ کسی مناسب جگہ سے ہمیں کوہ ویراں کے اس حصے کی نگرانی کرنی چاہئے۔“
”آؤ پھر اس چٹانی چھجے کے نیچے اپنا خیمہ لگا دیتے ہیں۔ یہاں ہمیں سات دن رہنا ہو گا تب جا کر صحیح صورتحال کا اندازہ ہو گا۔‘‘
پھر دونوں نے مل کر ایک خیمہ چٹانی چھجے کے نیچے نصب کر لیا۔ یہ اتنا بڑا خیمہ تھا کہ اس میں دونوں بآسانی سما سکتے تھے ۔ اگر چہ ایک دو دن کا خوردنوش کا سامان ان کے پاس موجود تھا لیکن انہوں نے سات دن رہنا تھا۔ طے یہ ہوا کہ بکوزان اس وقت بستی چلا جاۓ اور علی الصبح کھانے ۔ اور چند محنتی اور خچر لے کر آ جاۓ اگر کوہ ویراں کا سفر کرنا پڑے تو کیا جا سکے۔
تب بکوزان صبح آنے کا وعدہ کر کے بزبران کو خیے میں چھوڑ کر بستی کی طرف روانہ ہو گیا۔ اس نے اندھیرا گہرا ہونے سے پہلے بستی میں قدم رکھ دیے ۔ سناتن کا گنبد راستے میں پڑتا تھا۔ وہ اس کے گنبد کے سامنے سے گزرا تو سناتن اپنے گنبد کے چبوترے پر جو گنبد سے باہر بنا ہوا تھا اور جو ایک طرح سے ملاقاتیوں کے بیٹھنے کی جگہ تھی بیٹھا ہوا تھا۔
اسے دیکھ کر اپنے گھوڑے سے اتر پڑا۔ سناتن نے اس کا کھڑے ہو کر استقبال کیا اور پھر کے چبوترے پر جس پر ایک سرخ رنگ کا دبیز قالین بچھا ہوا تھا اس کا ہاتھ پکڑ کر بٹھا لیا۔
“اے سناتن کیسے ہوتم ؟‘‘ بکوزان نے پوچھا۔
“اے بکوزان تم دونوں کہاں ہو؟”
“بھائی ہم دونوں اس فتنے کی تلاش میں نکلے ہوۓ ہیں۔ بزبران کو کوہ ویراں والے راستے پر ایک جگہ چھوڑ آیا ہوں۔ دونوں کی محنت بالآ خر رنگ لے آئی۔“
“ہیں. تم لوگوں کے پاس کیا خوشخبری ہے۔‘‘
“ابھی تو نہیں. ایک ہفتے کے بعد شاید ہم بستی والوں کو کوئی خوشخبری دے سکیں۔” “آج دوپہر کو رمز شناس نے بلوا لیا تھا۔ تم دونوں کو بھی بلوایا تھا مگر تم دونوں نکلے ہوۓ تھے۔ میں رمز شناس کے محل پر پہنچا تو نیلے گنبد میں بابا صاعق بھی موجود تھے۔ وہاں ایک کر بناک خبر سننے کو ملی۔“
”اے سناتن کیا ہوا؟ جلدی بتا۔‘‘
“ہماری بستی کا لاڈلا ہم سے بچھڑ گیا۔“
“کیا کہتے ہو..؟ تہکال کی بات کرتے ہو؟‘‘
“ہاں … اسی کی بات کرتا ہوں۔ اسے بابا صاحق نے راعین کی تلاش میں بھیج دیا تھا۔”
“اے سناتن یہ تم نے بڑی بری خبر سنائی۔” بکوزان پریشان ہو کر بولا۔ ’’پھر اس کی تلاش میں کسی کو بھیجا گیا یانہیں۔‘‘
“ہاں میں نے اپنے کئی کھوجی روانہ کئے ہیں۔‘‘ سناتن نے بتایا۔
“یہ معاملہ کچھ اور ہی لگتا ہے۔ تم نے ہوشیار کھوجیوں کو روانہ کیا نا؟‘‘
“ہاں دو باز بھیجے ہیں، دولومڑیاں اور دو سانپ روانہ کئے ہیں۔”
“آخر دو دو کیوں؟“
“اگر ایک کو نقصان پہنچ جاۓ تو دوسراخبر لا سکے “
“یہ تم نے اچھا سوچا۔۔۔۔اچھا میں چلتا ہوں علی الصبح مجھے بزبران کے پاس پہنچنا ہے یہاں سے کچھ محنتی اورخچروں کو لے جانا ہے دعا کرنا ہم لوگ کامیاب ہو سکیں” بکوزان اٹھتا ہوا بولا
“ہاں بکوزان میں دعا کروں گا۔ تمہاری کامیابی بستی کی کامیابی ہے۔‘‘ سناتن نے پرخلوص لہجے میں کہا۔
بکوزان نے بستی کے دل میں پہنچ کر چار مضبوط محنتیوں خچروں اور سامان خوردو نوش کا انتظام کیا اور اطمینان سے اپنے گنبد چلا گیا۔
منہ اندھیرے وہ اپنے گنبد سے نکلا تو اپنے گنبد کے دروازے پر پورے قافلے کو اپنا منتظر پایا۔ وہ فورا اچھل کر گھوڑے پر سوار ہو گیا اور اس کے پیچھے چار محنتی جو خچروں پر سوار تھے دو خچر جن پر سامان لدا ہوا تھا چلنے لگے۔
بکوزان وعدے کے مطابق بزیران کے پاس پہنچ گیا بلکہ کچھ جلدی ہی پہنچ گیا۔ ابھی سورج پہاڑوں کی اوٹ میں چھپا ہوا تھا۔ بکوزان محنتیوں کو سامان اتارنے اور خیمے لگانے کا اشارہ کر کے خود اپنا گھوڑا آ گے بڑھاتا ہوا خیمے کے نزدیک آ گیا۔ بزبران ابھی تک بیدار نہیں ہوا تھا۔ شاید وہ رات دیر تک جاگتا رہا تھا۔ بکوزان گھوڑے سے اتر کر ایک نظر اس نے محنتیوں پر ڈالی۔ وہ اپنے کام پر لگ گئے تھے۔ بکوزان نے خیمے کے باہر ہی سے نعرہ لگایا۔
“اے بزبران…تم تو سوئے پڑے ہو۔ اس طرح کوہ ویراں کی نگرانی کیا خاک ہو گی”
اندر سے اس کی بات کا کوئی جواب نہ آیا۔ پھر اس نے خیمے کا پردہ ہٹا کر اندر جھانکا۔ اگرچہ خیمے میں اندھیرا تھا لیکن اتنا نہیں کہ اس کی تیز نظریں یہ نہ دیکھ سکیں کہ بزبران خیمے میں نہیں ہے۔ پھر بھی وہ جلدی سے خیمے میں گھس گیا اور اس کا بستر اچھی طرح دیکھ لیا۔ اب یہ یقین کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی کہ بزبران سے خیمہ خالی ہے۔
اس یقین نے اس کے دل کی دھڑکن تیز کر دی۔ یہ کیا ہوا؟ پھر اس نے سوچا کہ ہوسکتا ہے کہ اٹھ کر ادھر ادھر گیا ہو۔ یہ سوچ کر وہ خیمے سے باہر آیا محنتی اپنے کام میں مصروف تھے۔ بکوزان نے اس چٹانی چھجے سے نکل کر چاروں طرف دور تک نظر دوڑائی لیکن اسے بز بران کہیں نظر نہ آیا۔ سورج آہستہ آہستہ اپنا سر ابھار رہا تھا۔ روشنی تیزی سے پھیلتی جا رہی تھی۔ اور جوں جوں روشنی پھیلتی جارہی تھی اس کے دل میں اندھیرا بڑھتا جا رہا تھا۔ ایک انجانا سا خوف اس کے جسم پر چھاتا جارہا تھا۔
اس نے میخیں گاڑتے محنتیوں کو آواز دے کر اپنے پاس بلایا اور انہیں بزبران کی تلاش میں چاروں طرف دوڑا دیا۔ محنتی خچروں پر سوار ہو کر بزبران کی تلاش میں نکل گئے۔ بکوزان گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھ کر ڈھلانوں پر نظریں دوڑانے لگا۔ اچانک اس کے سامنے سے ایک گدھ گزرا۔ اس گدہ کو دیکھ کر بکوزان کھٹک گیا۔ اس نے اڑتے گدھ کا اپنی نظروں سے تعاقب کیا۔ دور ایک پہاڑی پر وہ گدھ جا کر بیٹھ گیا۔ اسے اس پہاڑی پر اور کئی گدھ اڑ تے ہوۓ نظر آئے۔ اس پہاڑی کی طرف ابھی کوئی نہیں گیا تھا۔ بکوزان نے اپنا گھوڑا اس راستے پر ڈال دیا۔ وہ آدھے گھنٹے کے اندر اس پہاڑی پر پہنچ گیا۔ گھوڑے کو ایک جگہ چھوڑ کر تیزی سے پہاڑی پر چڑھنے لگا۔ جب وہ اوپر پہنچا تو ایک جان لیوا منظر اس کا منتظر تھا۔
ہاں وہ بز بران ہی تھا۔ اس کی آنکھیں کھلی تھیں اور جسم پتھر کا ہو چکا تھا۔ وہ مر چکا تھا۔ بکوزان نے یہ جاننے کے لیئے کہ اسکی موت کیسے واقع ہوئی اسکی لاش کا معائنہ کیا تو یہ بات سامنے آئی کہ کسی خونخوار جانور نے اسکا گلا چبا ڈالا ہے
بزبران کا یہ انجام دیکھ کر دکھ کی ایک لہر اسکے پورے جسم میں دوڑ گئی اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ بزبران اپنا خیمہ چھوڑ کر یہاں اس پہاڑی پر کس طرح پہنچا۔ وہ یہاں کیا کرنے آیا تھا۔ اگر یہ تصور کر لیا جاۓ کہ وہ یہاں سے کوہ ویراں کا نظارہ کرنے آیا تھا تو یہ انداز ہ بھی غلط تھا کیونکہ یہاں سے کوہ ویراں نظر نہیں آ رہا تھا۔ درمیان میں ایک پہاڑی حائل ہو گئی تھی ۔
بزبران کے اس پہاڑی تک آنے کا کوئی جواز نہ تھا۔ پھر بھی سوچا جا سکتا تھا کہ اسے خیمے سے اٹھا کر یہاں لایا گیا اور پھر کسی خونخوار جانور کے حوالے کر دیا گیا۔ علاقے میں ایسے خونخوار جانوروں کا کوئی وجود نہ تھا۔ اس طرح کا واقعہ بستی کے کسی شخص کے ساتھ آج تک پیش نہیں آیا تھا۔ بکوزان کا دماغ چکرا کر رہ گیا۔ ایک تو دوست کی موت کا صدمہ تھا پھر اس دوست کے ساتھ جو کچھ ہوا تھا وہ چکرا دینے کیلئے کافی تھا۔ بکوزان نے اپنے بکھرتے ہوۓ اعصاب کو جمع کیا۔ اس کے پتھر جسم کو وہیں چھوڑ کر وہ تیزی سے نیچے آیا گھوڑے پر بیٹھا اور اپنے خیمے کی طرف چل دیا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: