Anwar Aleegi Urdu Novels

Bichoo Novel By Anwar Aligi – Episode 21

Bichoo Novel By Anwar Aligi
Written by Peerzada M Mohin
ناولکانام – قسط نمبر 21

–**–**–

ابھی وہ تھوڑا سا ہی آ گے چلا تھا کہ اسے ایک محنتی نظر آ گیا۔ اس نے اسے فوراً ہدایت دی۔ وہ اس کی ہدایت پر عمل کرتے ہوۓ اپنے چاروں ساتھیوں کو اس پہاڑی پر لے آیا۔ سب نے مل کر بزبران کے پتھر جسم کو اتارا اور پھر اس جسم کو ایک خچر پر لاد کر واپسی کا سفر شروع کر دیا۔
بکوزان جب بزبران کا جسم لے کر بستی میں داخل ہوا تو پوری بستی میں ایک کہرام مچ گیا۔ بزبران کوئی معمولی شخص نہ تھا۔ وہ اس بستی کے ستونوں میں سے تھا۔ تین بڑے ہنر مندوں میں سے ایک تھا۔ موسم کی نبض پر ہر وقت اس کی انگلیاں رہتی تھیں۔ اب وہی انگلیاں پتھر کی ہو چکی تھیں۔ ریت کے مطابق یہ قافلہ رمز شناس سمار ملوک کے محل کے دروازے پر پہنچا۔ سمار ملوک کو جیسے ہی محل میں اطلاع ملی وہ فورا باہر آ گیا۔ بابا صاعق کو بھی بلوا لیا گیا۔
بزبران کی لاش کومحل کے سامنے سرخ پتھر کے بنے چبوترے جس پر سبز قالین بچھا ہوا تھا رکھ دیا گیا۔ بابا صاعق اور سمار ملوک نے اس کی لاش کا معائنہ کیا۔ بکوزان کی طرح ان کی سمجھ میں بھی نہ آیا کہ بزبران کو کس جانور نے ہلاک کیا۔ اس بستی میں اس نوعیت کی یہ پہلی ہلاکت تھی۔
رسم کے مطابق بزبران کے پتھر جسم کو سولہ گھوڑوں کی کٹاری پر رکھا گیا اور یہ گاڑی دھیرے دھیرے میدان فنا کی طرف چلنا شروع ہوئی۔ اس گاڑی کے پیچھے بابا صاعق اور رمز شناس سمار ملوک چل رہے تھے۔ جب یہ گاڑی میدان فنا میں پہنچی تو اس بستی کی تمام عورتیں وہاں پہنچ چکی تھیں۔ اس ماتمی جلوس میں کوئی مردشر یک نہ تھا۔ علاوہ بابا صاعق اور رمز شناس کے۔ اجتماعی دعا کے بعد بابا صاعق نے دو بندوں کی مدد سے جو اس کام کی غرض سے اس میدان ہی موجود تھے بزبران کے پتھر جسم کو کھڑا کر دیا۔ پہلا پتھر بابا صاعق نے اس کے پیر کے پاس رکھا پھر رمز شاس سمار ملوک نے دوسرا پتھر دوسرے پیر کے پاس رکھا اور وہ دونوں دور ہٹ گئے۔ اس کے بعد ایک ایک عورت آتی گئی اور اس کے جسم کے ساتھ پتھر رکھتی گئی۔ کچھ ہی دیر میں بزبران کا پتھر جسم سینے تک پتھروں میں چھپ گیا۔ پتھر رکھنے کا سلسلہ ابھی تک جاری تھا۔ جب بستی کی تمام عورتوں نے اپنے اپنے حصے کا پتھر بزبران کی چٹان موت پر رکھ دیا تو بابا صاعق نے ان پتھروں پر مقدس پانی کا چھڑکاؤ کیا اور اس طرح یہ تدفین مکمل ہوئی۔ اس میدان فنا میں اس طرح کی بہت سی پتھر کی قبریں تھیں اور ان کے جسم اس طرح سینے تک پتھروں سے ڈھکے کھڑے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ مردہ جسم سخت سے سخت ہوتے چلے جاتے تھے۔ ایک وقت آ تا تھا کہ اگر ان کھڑی لاشوں پر بھاری ہتھوڑے برسائے جائیں تب بھی ان کا کچھ نہ بگڑے۔ میدان فنا بظاہر ایک قبرستان تھا لیکن اسے ہماری دنیا کا آدمی دیکھتا تو اسے یوں محسوس ہوتا بے کسی آرٹ نے سینکڑوں مجسمے تراش دیے ہوں۔ یہ بڑے انو کھے مجسمے تھے۔
خیر اس بستی کا ایک بڑا ہنر مند بزبران ابدی سفر پر روانہ ہو چکا تھا اور اس کی موت کے اسباب پر غور کرنے کیلئے بابا صاعق اور سمار ملوک سر جوڑے بیٹھے تھے لیکن ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔ وہ دونوں بار بار اپنا سر کھجا رہے تھے اور ایک دوسرے کو خالی نگاہوں ہے دیکھ رہے تھے۔ ابھی تہکال کے بارے میں یہ طے نہیں ہو سکا تھا کہ اسے کس قسم کا حادثہ پیش آیا ہے۔ آیا زندہ ہے یا زندگی کی بازی ہار چکا ہے۔ اگر اس کی موت واقع ہو چکی ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟
یہ کس کی مذموم حرکت ہے۔ اس بستی میں جرائم کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی ۔ سب بھلے مانس لوگ بستے تھے۔ جو ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھتے تھے۔ اور بستی کے قوانین پر سختی سے عمل کرتے تھے
راعین کی تلاش کے سلسلے میں دو کوششیں نا کام ہو چکی تھیں اور ان کوششوں کے نتائج انتہائی سنگین نکلے تھے۔
اب سناتن میدان میں تھا۔ اس نے اپنے کچھ شکاری میدان میں اتارے تھے۔ ان کا انتظار تھا کہ وہ کیا کر کے لوٹتے ہیں۔
بابا صاعق نے وہ پورا دن سمار ملوک کے نیلے گنبد میں گزارا۔ رشا ملوک دو پہر کا کھانا خود لے کر آئی۔ اس نے اپنی گرانی میں ان دونوں کو کھانا کھلوایا۔
جب وہ دونوں کھانا کھا چکے تو سمار ملوک کو ساحل عمر کا خیال آیا۔ اس نے فورا پوچھا۔ ’’رشا ملوک تم نے اپنے مور کو کھانا کھلایا؟”
“جی بابا‘ میں نے مویا کو بھیج دیا تھا کھانا لے کر ۔‘‘ رشا ملوک نے بتایا۔ ’’اب قہوہ لے کر میں خود جاؤں گی۔‘‘
“اسے یہیں نہ بلوا لیں‘‘ سمار ملوک نے بابا صاعق سے پوچھا۔ ’’ہاں بلوا لو… ہوسکتا ہے وہ ہم سے بہتر کوئی بات سوچ لے۔‘‘ بابا صاعق نے بڑی صاف گوئی سے کہا۔
“ٹھیک ہے میں جاؤں گی تو انہیں ساتھ لے آؤں گی۔ ویسے انہیں میں نے حالات سے باخبر رکھا ہوا ہے۔‘‘ رشا ملوک نے اپنے باپ سے مخاطب ہو کر کہا۔
“اچھا کیا تم نے ۔‘‘ سمار ملوک نے اسے تعریفی نظروں سے دیکھا۔
کوئی ایک گھنٹے کے بعد ساحل عمر رشا ملوک کے ساتھ مہمان خانے میں آ پہنچا۔ اس نے باری باری دونوں داناؤں کا ہاتھ چوما اور بڑے ادب سے دوزانو ہوکر قالین پر بیٹھ گیا۔ تہکال کے اچانک غائب ہو جانے کا اسے بھی صدمہ تھا۔ اس نے اس کی تصویر بنائی تھی اور بہت دل لگا کر بنائی تھی۔ اس تصویر کے حوالے سے وہ اس کے بہت قریب تھا۔ پھر اس نے اسے چترو بھیل کے چنگل سے نکالا تھا۔ نہ صرف چترو بھیل کے شکنجے سے نکالا تھا بلکہ رشا ملوک سے ملاقات کا ذریعہ بھی بنا تھا۔ اس طرح تہکال کے بہت احسان تھے اس پر۔ وہ اس کا ایک طرح سے محسن تھا۔ اس کی گمشدگی اس کیلئے باعث تشویش تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ کسی طرح اس کی تلاش میں نکل جائے لیکن اسے ابھی اسے بستی میں یا بستی سے باہر جانے کی اجازت نہیں مل رہی تھی۔ ویسے بابا صاعق تہکال کی زندگی کی طرف سے مایوس ہو چکے تھے۔ اگر تہکال اس دنیا میں نہیں رہا تھا تو پھر دو دنوں میں یہ دو اموات ہوئی تھیں اور ان اموات کے پیچھے کوئی گہری سازش کام کر رہی تھی۔ سوال یہ تھا کہ وہ کون تھے جو ان معصوم لوگوں کے پیچھے لگ گئے تھے۔ راعین تو ابھی اپنے مدفن میں تھا۔
سہ پہر کو سناتن کے آنے کی اطلاع ملی۔ اسے فورا اندر بلوا لیا گیا۔ اور ساحل عمر سے کہا کہ وہ رشا ملوک کے ساتھ اندر چلا جائے۔ کسی مصلحت کی بنا پر ابھی وہ بستی والوں کے سامنے ساحل کی آمد ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ساحل عمر فورا اٹھ کر رشا ملوک کے ساتھ اندر محل میں چلا گیا۔ سناتن کے چہرے پر اداسی چھائی ہوئی تھی۔ وہ خاموشی سے ان دونوں کے سامنے دوزانو ہو کر بیٹھ گیا۔
“اے سناتن ! اس بستی کے بڑے ہنر مند کیا تو بھی ناکام ہو گیا۔‘‘ بابا صاعق نے اس کے چہرے پر نظر ڈالتے ہوۓ کہا۔
“ناکام تو خیر میں نہیں ہوا لیکن کوئی اچھی خبر میرے پاس نہیں ہے۔” وہ اداس لہجے میں گویا ہوا
“جو کچھ کہنا ہے جلد کہو اور صاف صاف کہو۔‘‘ سمار ملوک نے ذرا تیز لہجے میں کہا۔
“میں نے تہکال کی تلاش میں چھ شکاری روانہ کئے تھے۔ دو باز دو لومڑیاں اور دو سانپ ان میں سے صرف ایک باز واپس آیا ہے اور اس کا بھی ایک بازو زخمی ہے۔ شاید اس پر بھی افتاد پڑی ہے۔”
“یہ کیا ہو رہا ہے۔ ہماری بستی کس طوفان کی لپیٹ میں ہے۔‘‘ بابا صاعق نے آہ بھری
“ضرور ہم سے کوئی گناہ ہوۓ ہیں کہ اوپر والے نے ہم پر آفتیں نازل کرنا شروع کر دی” سمار ملوک نے کہا۔
“تہکال کے بارے میں کوئی خبر لایا ہے تیرا شکاری؟‘‘ بابا صاعق نے سوال کیا۔
“ہاں بابا… لایا ہے۔” سناتن بولا۔
“جلد بتا. تہکال زندہ تو ہے۔‘‘
“کچھ کہا نہیں جاسکتا۔. اس باز کے ساتھ جا کر دیکھنا ہوگا کہ وہ کس حال میں ہے۔”
“تجھے کیسے معلوم ہوا کہ وہ کہاں ہے؟“
“یہ بات میں نہیں جانتا کہ تہکال کہاں ہے؟ میں بس اتنا جانتا ہوں کہ وہ بستی کے باہر موجود ہے۔ میرا شکاری اس کے چند بال اپنی چونچ میں دبا کر لایا ہے۔‘‘
“وہ بال کہاں ہیں کیا تو اپنے ساتھ لایا ہے۔“
“لایا ہوں۔” یہ کہہ کر سناتن نے جیب میں احتیاط سے رکھے ہوئے بال نکال کر بابا صائق کے ہاتھ پر رکھ دیے۔
بابا صاعق نے ان بالوں کو غور سے دیکھا۔ وہ واقعی تہکال کے بال تھے۔ ان بالوں کو دیکھ کر بابا صاعق کی آنکھوں میں امید کی کرن جاگی ۔ وہ ان بالوں کو پہچانتے ہوۓ بولے۔ ’’ہاں یہ بال میرے تہکال کے ہیں۔ اے سناتن تو دیر نہ کر فورا اپنے شکاری کو لے کر بستی سے نکل جا. تجھے جو چاہیے وہ میں مہیا کر دیتا ہوں۔“
“بابا مجھے کچھ نہیں چاہیے۔ جو مجھے چاہیے اس کا انتظام میں خود کر لوں گا۔‘‘ سناتن نے اٹھتے ہوۓ کہا۔ “اچھا میں جاتا ہوں۔ دعا کریں کہ تہکال تک پہنچ جاؤں۔”
“ہاں تو جا۔ میں دعا کروں گا۔‘‘
ساتن دونوں داناؤں کے ہاتھ چوم کر نیلے گنبد سے نکل گیا پھر اس نے اپنے ساتھ دومحنتی لئے۔ اپنے باز کو کندھے پر بٹھایا اور خود گھوڑے پر سوار ہو کر سوچنے لگا کہ کدھر جاۓ ۔ اتنے میں باز اس کے کندھے سے ایک سمت اڑ ا اور تھوڑا دور جا کر واپس اس کے کند ھے پر آ بیٹھا۔ باز نے سمت کا تعین کر دیا تھا۔ سناتن اس کی بتائی ہوئی سمت کی طرف چل پڑا۔ یہ سمت کوہ ویراں کی طرف اشارہ کر رہی تھی۔
کوہ ویراں کی اپنی کہانی تھی جوصدیوں سے چلی آ رہی تھی۔
کوئی نہیں جانتا تھا کہ کوہ ویراں کے اس طرف کیا ہے۔
اس بستی کے لوگوں نے ادھر جانا چھوڑ دیا تھا۔ اب تو کہانیاں ہی رہ گئی تھیں۔ کہانیاں جو بستی والے اپنے بزرگوں سے سنتے چلے آۓ تھے۔ یہ کہانیاں سینہ بہ سینہ چلی آ رہی تھیں کبھی بہت سالوں پہلے اس بستی کے چند سر پھرے نو جوانوں کے دل میں کوہ ویراں کے اس پار جانے کی خواہش نے شدت اختیار کی۔ وہ نو جوان یہ دیکھنے کیلئے کہ اس پار کیا ہے کوہ ویراں کی مہم پر نکل کھڑے ہوئے۔ وہ پانچ نو جوان تھے۔ وہ گئے تو پھر ان میں سے چار نو جوان واپس نہ آ سکے۔ کافی عرصے کے بعد ایک نو جوان خستہ حالت میں اپنی بستی میں پہنچا تو وہ کوہ ویراں کے بارے میں کچھ نہ بتا سکا کیونکہ اس کے منہ میں زبان موجود نہ تھی۔
یہ جاننے کیلئے کہ ان چاروں نو جوانوں کے ساتھ کیا ہوا وہ کہاں گم ہو گئے اور جو نوجوان واپس آیا اس کی زبان نکال کر کس نے اپنے پاس رکھ لی دو سر پھرے نو جوان اس مہم پر نکل کھڑے ہوئے
بستی والے ان نوجوانوں کا انتظار کر تے ہی رہ گئے۔ ایک طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود ان دونوں سے کوئی واپس نہ پلٹا۔ ان دونوں جوانوں کے دو بھائی اور بستی میں موجود تھے۔ وہ اپنے گمشدہ بھائیوں کی محبت کے جنون میں مبتلا ہو کر بستی والوں کے منع کرنے کے باوجود کوہ ویراں کی مہم پر نکل کھڑے ہوۓ۔ نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات بستی والے ان کا بھی انتظار کر تے رہ گئے۔ پھر بستی کے ایک ہنر مند نے اپنے کچھ جانور کوہ ویراں کی مہم پر روانہ کئے۔ ان مہم جو جانوروں میں سے صرف ایک باز واپس آیا۔ اس باز کے پنجوں میں ایک نوجوان کے لباس کا ٹکڑا تھا۔ لباس کے اس ٹکڑے کو دیکھ کر اندازہ کر لیا گیا کہ وہ دونوں نو جوان کوہ ویراں کی نذر ہو گئے۔ تب اس وقت کے بستی کے رمز شناس نے پوری بستی میں منادی کرا دی کہ آئندہ بستی کا کوئی شخص کوہ ویراں کا رخ نہ کرے۔ اگر کسی کو کوہ ویراں کی مہم پر جانے کا بہت شوق ہوتو وہ ضرور جاۓ لیکن کوہ ویراں کے ادھر ہی رہے اس کے پیچھے جانے کی کوشش نہ کرے۔ اتنے لوگوں کی گمشدگی کے بعد اب اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ کوئی نو جوان خواہ مخواہ اپنی جان گنوانے کوہ ویراں کی مہم پر چلا جاۓ۔
اس اعلان کے باوجود ایک دو متجسس نو جوانوں نے خفیہ طور پر کوہ ویراں کا راز معلوم کرنے کیلئے سفر اختیار کیا مگر وہ یہ بتانے کیلئے کہ وہاں کیا ہے بستی میں واپس نہ آ سکے۔ پھر کوہ ویراں کے بارے میں نت نئے افسانے تراش لئے گئے۔ خوفناک کہانیاں گھڑ لی گئیں اور یہ کہانیاں سینہ بہ سینہ آج بھی ایک دوسرے کو سنائی جاتی ہیں۔ کوہ ویراں آج بھی ایک سربستہ راز ہے۔ اس بستی کے لوگ نہیں جانتے کہ کوہ ویراں کے پیچھے کیا ہے۔ لوگ ادھر جاتے ہیں تو وہاں سے واپس کیوں نہیں آتے۔ ان پر کیا بیتی ہے۔ وہ کہاں کھو جاتے ہیں۔
جہاں بہت سی کہانیاں مشہور تھیں ان میں ایک کہانی یہ بھی تھی کہ کوہ ویراں کے پیچھے کالے لوگوں کی بستی ہے۔ ایسے لوگ جن کی رگوں میں شیطان خون بن کر دوڑتا ہے۔ جو اچھائی کے دشمن ہیں۔ انسانیت کی دھجیاں بکھیر کر خوشی محسوس کرتے ہیں۔
یہ بات بلکل ٹھیک تھی کوہ ویراں کے پیچھے کالے لوگوں کی بستی تھی کالے اور برے لوگ آباد تھے۔ ایسے لوگ جو دوسروں کی زندگیوں میں زہر گھول کر خوش ہوتے تھے۔ یہ بستی اونچے اونچے پہاڑوں
میں گھری تھی اور بہت گہرائی میں تھی اتنی گہرائی میں کہ سورج محض ایک گھنٹہ دکھائی دیتا تھا یہ بستی دن میں بھی اندھیرے میں ڈوبی رہتی تھی۔ اندھیرے لوگ تھے اندھیرے میں رہ کر ہی خوش رہتے تھے۔ یہاں اتنی کثافت تھی کہ روشنی کا ایک گھنٹے میں بھی دم گھٹنے لگتا تھا۔ وہ اپنی جان چھڑا کر نکل جاتی تھی۔
سناتن اپنے باز کی رہنمائی میں آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ وہ باز جس کا ایک بازو زخمی تھا اور وہ اونچی اور لمبی اڑان بھرنے سے قاصر تھا۔ چھوٹی چھوٹی اڑانیں بھر کر سناتن کی رہنمائی کرتا اور پھر اس کے کندھے پر آ بیٹھتا تھا۔ جب سناتن اس کے بتاۓ ہوۓ راستے پر سفر کر لیتا تو پھر وہ اڑ کر اسے آگے کا راستہ دکھاتا۔ اس طرح آگے بڑھتے بڑھتے اندھیرا جھکنے لگا مگر منزل نہ آئی۔
جب گہرا اندھیرا چھا گیا اور آگے سفر کرنا ممکن نہ رہا تو سناتن نے ایک مناسب جگہ دیکھ کر پڑاؤ ڈال دیا۔ وہ اپنے ساتھ دومحنتی لایا تھا۔ ان ماہر محنتیوں نے آنا فانا اس کے لئے خیمہ لگا دیا۔ کھانا تیار کر کے اس کے سامنے رکھ دیا اور پھر وہ دونوں اپنے خیمے میں چلے گئے۔
صبح کا اجالا پھوٹتے ہی سفر شروع ہو گیا۔ سناتن کے سامنے اب یہ بات واضح ہو کر آ گئی تھی۔ کہ اس کا باز اسے کوہ ویراں کی طرف لئے جا رہا تھا۔ وہ اس کے اشارے پر چلتا رہا کہ یہاں ک کو ویراں کی چڑھائی شروع ہوگئی۔ یہ پہاڑ زیادہ اونچا نہ تھا۔ پھر اس پر چڑھنا زیادہ مشکل نہ تھا۔ ڈھلانی راستے تھے۔ ان پر چل کر چوٹی پر پہنچا جا سکتا تھا لیکن یہ سفر گھوڑوں کے بس میں نہ تھا۔ لہذا گھوڑوں کو نیچے ایک مناسب جگہ پر چھوڑ دیا گیا اور سناتن دونوں محنتیوں کے ساتھ اوپر چڑھنے لگا۔ باز اڑ اڑ کر ان کی رہنمائی کر رہا تھا۔
دوپہر تک سناتن کوہ ویراں کی چوٹی پر پہنچ گیا۔ باز اس کے کندھے پر موجود تھا۔ سناتن نے چوٹی پر کھڑے ہو کر جب نیچے نظر ڈالی تو اسے گہری کھائی کے سوا کچھ نظر نہ آیا۔ نیچے اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔ ستاتن نے بھی کوہ ویراں کے بارے میں بہت کچھ سنا ہوا تھا لیکن اوپر پہنچ کر اسے احساس ہوا کہ یہ محض کہانیاں ہیں۔ اسے وہاں کچھ نظر نہ آیا۔
کوہ ویراں پر سمندر کے جاگ جیسی برف جمی ہوئی تھی۔ یہ گلیشیر نیچے تک گئے تھے۔ درخت برف کے درمیان سے سر ابھارے کھڑے تھے۔ ڈھلان خطرناک تھے لیکن ان ڈھلانوں پر قدم جما کر نیچے پہنچا جا سکتا تھا۔
سناتن نے دور تک نظر دوڑائی لیکن اسے کہیں تہکال نظر نہ آیا۔ سناتن نے اپنے کندھے پر بیٹھے باز کی پیٹھ پر تھپکی دی۔
’’ہاں بھئی. اب کدھر؟‘‘
باز فورا اس کے کند ھے سے اڑ گیا اور اڑتا ہوا نیچے ڈھلانی راستے کی طرف جانے لگا۔ کافی نیچے جانے کے بعد وہ ایک درختوں کے جھنڈ میں گھس گیا۔ پھر وہاں سے واپس اڑ کر اوپر آ گیا اور سناتن کے کند ھے پر اپنے پاؤں جما لئے اور اپنی چونچ کھول کر سناتن کے کان کی لو کو دبایا۔
“اچھا بھائی. چلتا ہوں۔” اس نے باز کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ کہا۔
پھر سناتن نے سنبھل سنبھل کر نیچے اترنا شروع کیا۔ محنتی بھی اس کے ساتھ نیچے اترنے لگے
دونوں مختی نیچے جانے سے ڈر رہے تھے لیکن سناتن کے سامنے انکار کی جرات نہ تھی۔ وہ دونوں بہت دھیرے دھیرے نیچے اتر رہے تھے۔ سناتن اور ان کے درمیان فاصلہ بڑھتا جا رہا تھا۔ پھر ایک وقت آیا کہ سناتن فاصلہ طے کرتا ہوا ایک پہاڑی کی اوٹ میں چلا گیا۔ دونوں محنتیوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں طے کیا کہ واپس چلے جانا چاہئے کہ سناتن پہاڑی کی اوٹ سے نکل کر واپس آیا اور غصے سے بولا ۔ ’’کیا کرتے ہو جلدی نیچے آؤ“
“آتے ہیں ہنر مند آتے ہیں۔‘‘ وہ دونوں محنتی بیک وقت بولے اور گھبرا کر جلدی جلدی نیچے اترنے لگے۔ گھبراہٹ میں ایک کا پاؤں پھسلا اس نے خود کو پھسلنے سے بچانے کیلئے دوسرے محنتی کا پاؤں پکڑنا چاہا۔ وہ اپنا توازن قائم نہ رکھ سکا۔ اس کے پاؤں اکھڑ گئے۔ اب دونوں محنتی ڈھلان پر لڑھکنے لگے۔
پھر نہ جانے کیسے ان کے ہاتھ درختوں سے لپٹ گئے۔ دونوں نے ان درختوں کو مضبوطی سے تھام لیا اور اپنی خوش قسمتی پر ناز کرنے لگے جب انہوں نے اوپر نظریں اٹھا کر دیکھا کہ وہ کس درخت سے لپٹے ہوۓ ہیں تو وہ دونوں ان درختوں کی صورت دیکھ کر اپنے ہوش گنوا بیٹھے۔
وه درخت نہ تھے۔ برفانی ریچھ تھے۔ لحیم شیم اور تناور وہ دونوں ریچھ برابر برابر کھڑے تھے۔ وہ سفید رنگ کے تھے جبکہ ان کے منہ کالے تھے۔ یہ گوشت خور ریچھ تھے۔ ان دونوں خونخوار ریچھوں نے چند لمحوں میں دونوں محنتیوں کو چیر پھاڑ کر رکھ دیا۔ انہوں نے پیٹ پھاڑ کر دونوں کی آنتیں باہر نکال دیں ۔ دونوں محتیوں نے آخری چیخ ماری پھر ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئے۔ سنا تن جو آ گے جا چکا تھا۔ وہ ان کے کے لڑھکنے کے شور پر پہاڑی کی اوٹ سے دوبارہ واپس آیا تو اس نے ان دونوں کو تیزی سے نیچے جاتے دیکھا۔ وہ ان کے راستے میں آ کر انہیں روکنا چاہتا تھا لیکن جانتا تھا کہ وہ اتنی تیزی سے لڑھک رہے ہیں کہ وہ انہیں روکنے کی بجاۓ خود بھی ان کے ساتھ لڑھکنا شروع ہو جائے گا۔ اس لئے وہ ان کے سامنے آنے سے باز رہا۔ پھر سناتن نے ان دونوں کو کافی نیچے ریچھوں کے پیروں سے لپٹ کر رکتے دیکھا اور پھر چند لمحوں میں ہی ریچھوں نے دونوں محنیوں کا حشر کر کے رکھ دیا۔ سناتن نے ان کی آخری چخیں سنیں۔ انہیں ادھڑ تے دیکھا تو اسے اپنے ہوش اڑتے ہوۓ محسوس ہوۓ ۔ اب اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھاکہ وہ آگے جانے کے بجاۓ پلٹ کر اوپر بھاگے۔ اس نے اپنے کندھے پر سوار باز کو او پر واپس جانے کا اشارہ کیا۔ باز فوزا اڑ گیا۔ سناتن نے اس کے اڑتے ہی تیزی سے اوپر کی طرف چڑھنا شروع کیا۔ وہ پتھروں اور درختوں کی شاخوں کا سہارا لے کر چڑھنے لگا۔
تھوڑا سا اوپر چڑھ کر اس نے پلٹ کر نیچے دیکھا۔ وہ دونوں ریچھ اپنے اردگرد سے بے نیاز ان دونوں مختوں کی لاشوں سے لپٹے ہوئے تھے۔ ویسے بھی وہ دونوں ریچھ اتنے نیچے تھے کہ انہیں اوپر آنے میں وقت لگتا۔ اتنی دیر میں سناتن کو امید تھی کہ وہ ان کی پہنچ سے دور نکل جاۓ گا۔ تازہ صورت حال میں تو اسے اور مہلت مل گئی تھی۔ پھر بھی اس نے غفلت سے کام نہ لیا۔ وہ کسی بندر کی طرح اچھلتا چھلانگیں گاتا بڑی مستعدی اور پھرتی سے اوپر چلا آ رہا تھا۔ پھر وہ جلد ہی اوپر چوٹی پر پہنچ گیا۔ وہ بہت خوش تھا کہ اس کی جان بچ گئی تھی۔ وہ موت کی وادی سے بخیریت اوپر پہنچ گیا تھا۔ وہ چوٹی پر ہاتھ پاؤں پھیلائے لمبے لمبے سانس لے رہا تھا۔ اس نے چوٹی سے نیچے دیکھا۔ اسے کچھ نہ دکھائی دیا۔ نیچے اندھیرا تھا۔ وہ دونوں ریچھ درختوں اور چٹانوں کے پیچھے کہیں چھپ گئے تھے۔ ایک دم اسے ایک چیخ سنائی دی۔ یہ اس کے باز کی چیخ تھی جواسے خطرے سے آگاہ کر رہی تھی۔ سناتن نے گردن گھما کر باز کو دیکھنا چاہا کہ وہ کہاں ہے اور کس قسم کا خطرہ لاحق ہے کہ پیچے سے دو کالے ہاتھ اس کے گلے میں آۓ اور پھر تیز دانتوں نے آ ناً فاناً اس کی گردن ادھیٹر دی۔ سناتن یہ بھی نہ دیکھ پایا کہ اس پر حملہ کرنے والا کون ہے۔ اب وہ تیزی سے برف پر پھسلتا جا رہا تھا۔ اس کی گردن میں جیسے آ گ لگی تھی۔ اس پر غشی طاری ہوتی جارہی تھی۔ پھر وہ پھسلتے پھسلتے جہاں رکا۔ وہاں اس کا گھوڑا موجود تھا۔ سناتن اپنے گھوڑے کی گردن سے جھول کر کسی طرح اس کی پیٹھ پر سوار ہو گیا اور بیٹھا۔ تب وہ گھوڑا سنبھل سنبھل کر مگر تیزی سے نیچے اترنے لگا۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے گھوڑے کی گردن پکڑ لی۔ چند لمحوں بعد باز بھی گھوڑے کی پیٹھ پر آ بیٹھا
جب وہ گھوڑا سناتن کو اپنی پیٹھ پر لادے تھکن سے چور شام ڈھلے بستی میں داخل ہوا تو سب سے پہلے بکوزان کی اس پر نظر پڑی۔ وہ اپنی کٹاری میں کہیں باہر کا چکر لگا کر بستی میں داخل ہو رہا تو وہ اپنی کٹاری روک کر گھوڑے کی طرف بھاگا۔ جب اس نے گھوڑے پر لدے شخص کی صورت دیکھی تو اس کے دل میں سناٹا اتر گیا۔
ایک اور موت! ابھی تو بز بران کاغم ہلکا نہ ہوا تھا کہ بستی کے ایک اور اہم ستون کی لاش آ گئی۔ بکوزان نے سناتن کی لاش جواب پتھر ہو چکی تھی گھوڑے کی پیٹھ سے اٹھا کر اپنی کٹاری میں ڈالی اور رمز شناس کے محل کی طرف روانہ ہو گیا۔
بستی ایک مرتبہ پھر غم کی لپیٹ میں آ گئی۔ جس جس کو خبر ہوتی گئی وہ بکوزان کی کٹاری کے ساتھ ہوتا گیا۔ بکوزان نے سناتن کی پتھر لاش کو دوسروں کی مدد سے رمز شناس کے محل کے سامنے بنے چبوترے پر رکھ دیا۔ رمز شناس سمار ملوک فورا ہی محل سے باہر نکل آیا۔ بابا صاعق کو بھی وہاں پہنچتے دیر نہ لگی تھی
دونوں نے مل کر سناتن کی لاش کا معائنہ کیا۔ اس کی گردن کا بھی وہی حال تھا جو بزبران کی گردن کا تھا۔ کسی وحشی جانور نے اس کا نرخرہ چبا ڈالا تھا۔
“یہ کیا ہو رہا ہے؟. ہماری بستی کے امن کو کس کی نظر کھا گئی۔‘‘ بابا صاعق کے لہجے میں اداسی تھی۔
“ابھی تو وہ بد بخت اپنے مدفن میں موجود ہے اس پر اس نے لاشوں کے انبار لگا دیئے ہیں۔ کہیں وہ اپنے مدفن سے نکل آیا تو جانے کیا ہو۔ کیسی تباہی پھیلے۔‘‘ سمار ملوک نے الجھے ہوۓ انداز میں کہا۔
“سناتن کے پانچ جانور ہلاک۔۔ ہمارے دو ہنرمند بز بران اور سناتن اور دو محنتی. سب کی زندگیاں چھین لی گئیں اور ہم کچھ نہیں کر سکے۔ ابھی تو اس کے مدفن کے علاقے کا تعین بھی نہیں ہوسکا مدفن کا پتہ چلانا تو دور کی بات ہے۔‘‘ بابا صاعق فکر میں ڈو بے بول رہے تھے۔
“ارے بابا تعین تو ہو گیا ہے۔ میں اب یقین سے یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ راعین کا مدفن کوہ ویراں پر کسی جگہ ہے۔ ہو سکتا ہے یہ مدفن کوہ ویراں کے اس طرف ہو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہماری طرف ہو لیکن یہ بات یقینی ہے کہ وہ منحوس کوہ ویراں پر کسی جگہ دفن ہے۔‘‘ بکوزان نے بڑے یقین سے کہا
“اب کوہ ویراں پر کون جاۓ گا….وہاں تو پہلے ہی جانا مشکل تھا۔ ان نئے واقعات کے بعد اب میں کس سے کہوں کہ کوہ ویراں کا سفر کریں میں بستی کا رمز شناس ہوں۔ میں کسی کو جان بوجھ کر موت کے منہ میں نہیں دھکیل سکتا۔“ سمار ملوک نے افسردگی سے کہا۔
“اے رمز شناس آپ فکر نہ کریں. کوزان کوہ ویراں کا سفر کرے گا۔‘‘ بکوزان نے بڑے پر جوش انداز میں کہا۔
“نہیں بکوزان میں تجھے وہاں اکیلا جانے کی اجازت نہیں دے سکتا۔“
“اے رمز شناس میں اکیلا نہیں جاؤں گا پوری تیاری سے جاؤں گا۔ میرے ساتھ کم از کم تیس نوجوانوں کا قافلہ ہو گا۔ اب تک تو یہ ہوا ہے کہ جو گیا ہے اس کے بارے میں کچھ نہیں معلوم ہو سکا کہ اس پر کیا بیتی لیکن اب ایسا نہیں ہوگا۔ ہم میں سے کوئی تو زندہ بچے گا۔ وہ آ کر پوری روداد سنائے گا۔ اس طرح بستی کے رمز شناس آپ کو معلوم ہو جاۓ گا کہ وہاں ہم پر کیا بیتی؟“
“ایسی بد فال منہ سے کیوں نکالتا ہے۔ یہ کیوں نہیں کہتا کہ تو جاۓ گا اس مرتبہ راعین کے مدفن کا کھوج لگا کر آئے گا۔‘‘ سمار ملوک نے اسے ڈانٹ پلائی۔
“ہاں رمز شناس! ایسا بھی ہوسکتا ہے۔“
“ایساہی ہوگا۔” اس مرتبہ بابا صاعق نے زور دے کر کہا۔
رات ہو چکی تھی اس لئے اس وقت فوری تدفین ممکن نہ تھی۔ یہ کام صبح کے لئے چھوڑ دیا
صبح تدفین کے بعد میدان فنا میں جمع ہونے والی خواتین سے بستی کے رمز شناس سمار ملوک نے بڑا جذباتی خطاب کیا۔ اس نے راعین کے بارے میں پوری کہانی سنائی۔ اس نے پھر یہ بتایا کہ اس بد بخت کی تلاش میں ہمارا کتنا جانی نقصان ہو چکا ہے۔ نیز یہ کہ اس کے بارے میں صحیح معلومات حاصل نہیں ہوسکی ہیں۔ آخر میں وہ بستی کی خواتین سے مخاطب ہو کر بولا ۔’’اس بستی کی معزز عورتو اب کو قربانی دینے وقت آ گیا ہے۔ بکوزان کو اس مہم کو سر کرنے کے لئے بستی کے تیس نوجوانوں کی ضرورت ہے۔ تم اپنے بیٹے یا بھائی بھتیجے کو اس مہم میں بھیجنا چاہو تو اسے زاد راہ کے ساتھ بابا صاعق کی مختاری پر بھیج دو۔ بعد دوپہر یہ قافلہ اپنی مہم پر روانہ ہو جاۓ گا۔
بستی کے رمز شناس کی بات سب عورتوں نے بڑی توجہ سے سنی۔ اس کی بات سنتے ہی بستی کی عمروں میں کھلبلی مچ گئی۔ وہ سناتن کی قبر پر پتھر نچھاور کرتی اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو گئیں۔
دوپہر کو بابا صاعق بکوزان کے ساتھ اپنی مختاری سے باہر آئے تو انہوں نے اپنی مختاری کے احاطے میں تیس کے بجائے سو نو جوانوں کو سفر کیلئے تیار پایا۔
اپنی بستی کے نوجوانوں کا جوش دیکھ کر بابا صاعق کی گردن فخر سے بلند ہو گئی۔ جس بستی میں ایسے جان نچھاور کرنے والے نو جوان ہوں اس بستی کا بھلا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے۔
بکوزان جس مہم پر جانے والا تھا اس کے بارے میں وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ وہاں کس قدر خطرہ تھا۔ وہ تیس سے زائد نو جوانوں کو لے جا کر خواہ خواہ ان کی ہلاکت کا باعث بننا نہیں چاہتا تھا۔ اس نے ان نوجوانوں میں سے تیس کو منتخب کر لیا۔ جن نو جوانوں کا انتخاب نہ ہو سکا وہ بڑے مایوسانہ انداز میں مختاری کے احاطے سے نکل گئے۔
بکوزان نے ان تیس منتخب نوجوانوں کوسفر کی مشکلات اور حالات کے خطرات سے اچھی طرح آ گاہ کیا اور آخر میں کہا۔ ’’اب کوئی نو جوان اس مہم سے دستبردار ہونا چاہے تو خوشی سے ہو سکتا ہے۔ اسے کچھ نہیں کہا جاۓ گا۔”
لیکن کسی نو جوان نے جانے سے انکار نہ کیا۔ دوپہر کے بعد بستی کارمز شناس بابا صاعق کی مختاری آ پہنچا۔ اس کی آمد کے بعد مہم جوؤں کا یہ قافلہ کوہ ویراں کی طرف روانہ ہوا۔ بابا صاعق نے ان کی کامیابی کی دعا کی۔ رمز شناس سمار ملوک نے رخصت ہوتے وقت ہر نوجوان کی پیٹھ تھپکی ۔
’’جاؤ اور خوشخبری لے کر آؤ۔“
بکوزان تیس نوجوانوں کو جو ہر طرح سے لیس تھے جب اپنے ساتھ لے کر چلا تو اس کے ہے دل میں متضاد قسم کے جذبات پیدا ہو رہے تھے۔ کبھی وہ نا امیدی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ڈوب جاتا کبھی کامیابی کے چراغ اس کے دل کی فصیلیں روشن کر دیتے۔
بہر حال وہ تذبذب کے عالم میں بستی سے نکلا اور اس نے منہ سے ایک عجیب سی آواز نکالی۔ پھر اس کا گھوڑا ہموار راستے پر سرپٹ دوڑ نے لگا۔ اس کی تقلید میں تیس نوجوان گھڑ سواروں نے اپنے اپنے گھوڑوں کو ایڑ لگائی اور پھر وہ چند ثانیوں کے بعد ہی ہوا سے باتیں کرنے لگے۔
رشاملوک بستی کے باہر اپنی شاہی کٹاری میں بیٹھی پردہ ہٹائے نو جوانوں کے قافلے کو اس وقت تک دیکھتی رہی جب تک وہ پورا قافلہ اس کی آنکھوں سے اوجھل نہ ہو گیا۔ جب نو جوانوں کو یہ معلوم ہوا کہ رمز شناس کی بیٹی رشا ملوک انہیں رخصت کرنے بستی کے باہر تک جارہی ہے تو ان کا جوش دو چند ہو گیا۔ وہ بار بار پیچھے مڑ کر دیکھ رہے تھے۔ رشا ملوک اپنی بند کٹاری میں تھوڑا سے پردہ ہٹائے ان نو جوانوں کو دیکھتی جارہی تھی لیکن کسی نو جوان کا اسے دیکھ لینا ممکن نہ تھا
رشاملوک کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ وہ ابھی تک یہ طے نہیں کر پائی کہ اس نے جو کچھ کیا تھا ٹھیک کیا تھا یا اپنے ہاتھوں اپنی بدقسمتی کو دعوت دے دی تھی ۔ لیکن وہ کیا کرتی۔ وہ ایسا کرنے پر مجبور تھی۔ ساحل عمر کو جب یہ معلوم ہوا کہ سناتن بھی لاش کی صورت میں بستی میں واپس آ گیا ہے تو اس نے رشاملوک سے بات کی۔ “رشا میں مہم پر میں جانا چاہتا ہوں۔‘‘
“آپ تو بستی میں نہیں جا سکتے آپ مہہم پر جانے کی بات کرتے ہیں؟‘‘ رشاملوک نے سختی سے منع کر دیا۔
ساحل عمر اپنا من مار کر رہ گیا۔ وہ اصل میں بند کمرے میں رہتے رہتے پریشان ہو گیا تھا۔ اب باہر نکلنا چاہتا تھا۔ پھر اسے جانے یہ یقین سا کیوں تھا کہ اس بستی کا کوئی شخص راعین کا مدفن تلاش نہیں کر سکتا وہ کر سکتا تھا۔
رشا ملوک کے منع کرنے پر اس نے خاموشی اختیار کر لی۔ پھر دوسرے دن مویا نے اسے اطلاع دی کہ بکوزان کی قیادت میں تیس نو جوانوں کا قافلہ راعین کی تلاش میں جا رہا ہے۔ یہ سن کر وہ مچل اٹھا۔ اس نے مویا سے کہا کہ اس قاقے میں شامل ہونے کی وہ کوئی ترکیب بتاۓ ۔ تب مویا نے اس کا اصرار دیکھ کر ایک ترکیب بتادی اور تاکید کر دی کہ وہ اس سلسلے میں اس کا نام نہ لے۔ مویا کے جانے بعد جب رشا ملوک اس کے لئے قہوہ لے کر آئی تو اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ رشاملوک کے سر پر دھیرے سے ہاتھ رکھ دیا اور بولا ۔
’’اے رشا ملوک تجھے اپنے مور کی قسم اگر تو مجھے مہم پر نہ بھیجے تو میرا مرا منہ دیکھے۔“
یہ سن کر رشا ملوک ایک دم سناٹے میں آ گئی۔ یہ ساحل عمر نے کیا کر دیا تھا۔ اس نے کیا کہہ دیا تھا کیسی قسم دے دی تھی۔ وہ اب مجبور ہو گئی تھی۔ اس بستی کی ریت کے مطابق اگر وہ ساحل عمر کو اس مہم پر نہ بھجواتی تو قسم پوری نہ کرنے کی پاداش میں ضرور اس کا مرا منہ دیکھتی۔
یہ ایک بہت خطرناک بات تھی۔ سنگین مسئلہ تھا۔ اس کا کوئی بھی خوفناک نتیجہ نکل سکتا تھا لیکن اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔ اس سلسلے میں وہ اپنے باپ سے بھی اجازت نہیں لے سکتی تھی کیونکہ وہ یہ بات اچھی طرح جانتی تھی کہ وہ کسی قیمت پر اسے اس مہم پر جانے کی اجازت نہ دیں گے۔ اس طرح اس کی قسم ادھوری رہ جاۓ گی اور یوں وہ اپنے مور سے ہاتھ دھو بیٹھے گی۔
تب رشا موک نے بازغر کو اپنا ہم راز بنایا۔ اس نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے سر پر رکھ کر قسم دی کہ وہ اس راز کو کسی قیمت پر فاش نہیں کرے گا۔ اس قسم کے بعد وہ بھی مجبور ہو گیا اور اس نے وہ کر دیا جو رشاملوک چاہتی تھی۔ بازغر نے ساحل عمر کو ہر وہ چیز مہیا کر دی جس کی سفر کے لئے ضرورت تھی۔ پھر تیس نوجوانوں کے قافلے میں اکتیسویں نو جوان کی شمولیت کوئی ایسا مشکل کام نہ تھا۔ جب یہ قافلہ بستی سے نکلا تو ساحل عمر ایک چٹان کی اوٹ سے نکل کر ان میں شامل ہو گیا۔ سارے نو جوانوں کے لباس یکساں تھے ان میں ساحل عمر کو الگ کرنا آسان نہ تھا۔ پھر چہرے پر ہر نو جوان نے ایک خاص قسم کا کنٹوپ پہنا ہوا تھا۔ اس اونی کنٹوپ کی وجہ سے سر چہرہ اور گردن بھی چھپ گئی تھی۔ صرف آنکھیں دکھائی دے رہی تھیں۔
قافلہ روانہ ہوا تو ساحل عمر جو سب سے آخر میں تھا اس نے مڑ کر رشا ملوک کی کٹاری کی طرف دیکھا۔ رشا مموک نے اپنا نازک ہاتھ باہر نکال کر لہرایا اور پھر فوڑا ہی اپنا ہاتھ اندر کر لیا اور وہ اس قافلے کو اس وقت تک دیکھتی رہی جب تک ساحل عمر اس کی آنکھوں سے اوجھل نہ ہو گیا۔ قافلے کے جانے کے بعد بازغر اچھل کر کٹاری پر بیٹھا۔ اس نے پانچ گھوڑوں کی اس شاہی کٹاری کی باگیں سنھالیں اور پیچھے مڑ کر بولا۔
“اے رشاملوک کا اب چلیں؟‘‘
“ہاں بازغر چلو۔ دعا کرو کہ میرا مور بخیریت واپس آ جاۓ۔”
“میں دعا کروں گا لیکن یہ کام ہوا غلط ہے۔‘‘ بازغر نے گاڑی بستی کی طرف موڑ تے ہوۓکہا
’’جو ہونا تھا ہوگیا میں کیا کرتی مجبور تھی۔‘‘ وہ پردے کے پیچھے سے بولی۔
“اب دعا کرو کہ ان لوگوں کے مہم سے واپس آنے تک رمز شناس یا بابا صاعق تیرے مور کو طلب نہ کریں۔ اگر ایسا ہوا تو غضب ہو جاۓ گا۔ جانے میرا کیا حشر ہو؟‘‘
“بازغر کچھ نہیں ہو گا۔ میں سنبھال لوں گی۔‘‘ رشا ملوک نے بڑے اعتماد سے کہا۔ ’’تم فکر نہ کرو۔“
جانبازوں کا یہ قافلہ اندھیرا ہونے تک کوہ ویراں کے دامن میں جا پہنچا۔ بکوزان نے یہاں پہنچ کر نو جوانوں کو اپنے خیمے کھولنے کا حکم دیا۔ اس نے بتایا کہ اب صبح ہوتے ہی سفر کا آغاز کیا جاۓ
پھر اجالا ہوتے ہی خیمے سمیٹ لئے گئے۔ بکوزان نے پانچ پانچ نو جوانوں کی ٹولیاں بنا کر انہیں کوہ ویراں کے مختلف راستوں پر روانہ کیا۔ ان تمام ٹولیوں کو مختلف راستوں سے گزر کر کوہ ویراں کی چوٹی پر پہنچنا تھا۔ وہاں اکٹھا ہو کر پھر آگے کا لائحہ عمل طے کرنا تھا۔ بکوزان نے ان نو جوانوں کی ٹولیوں کو اچھی طرح سمجھا دیا تھا کہ کوہ ویراں پر چڑھتے ہوۓ اگر کسی قسم کے کوئی آ ثار کوئی نشانی یا کوئی غیر معمولی صورت حال دکھائی دے تو اس سے کس طرح نمٹا جاۓ۔ آخری ٹولی کو ہدایت دے کر بکوزان خود بھی ان کے پیچھے چل دیا۔ ابھی چڑھائی ایسی تھی کہ گھوڑے ان راستوں پر چل سکتے تھے۔ بکوزان نے پورے تیس نوجوان آ گے روانہ کئے تھے۔ پانچ پانچ کی چھ ٹولیاں بھی تھیں۔ اکتیسواں نو جوان غائب تھا۔
ساحل عمر ان لوگوں کے خیمے سمیٹنے سے پہلے ہی اپنا خیمہ سمیٹ کر کب کا اوپر جا چکا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ کوہ ویراں پر پورا قافلہ ایک ساتھ نہ جا سکے گا اور ایسی صورت میں اس کا نظروں میں آ جانا عین ممکن تھا۔ لہذا اس نے اپناراستہ الگ کر لیا تھا۔ وہ درختوں اور چٹانوں میں سے اپنا راستہ بناتا آگے بڑھ رہا تھا۔ جہاں تک اس کا گھوڑا اوپر جا سکا وہ اس پر سوار رہا۔ جب اس نے دیکھا کہ اب گھوڑے کے لئے راستہ خطرناک ہو گیا ہے تو اس نے اپنے گھوڑے کو وہیں چھوڑا اور پھر پیدل ہی اوپر چل دیا۔ یہ ایک دشوار گزار راستہ تھا۔ پہاڑ پر چڑھنا آسان کام نہ تھا۔ ہر قدم پر موت اپنا جال بچھاۓ بیٹھی تھی. لیکن سال عمر پر ایک دھن سوار تھی ۔ وہ ایک جوش اور ولولے کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا۔ وہ اس انسانیت کے دشمن کو جاگنے سے پہلے ہی ختم کر دینا چاہتا تھا۔
اس عفریت کوختم کرنا ابھی دور کا مسئلہ تھا سردست تو یہ معلوم کرنا تھا کہ وہ خبیث دفن کہاں ہے۔ بکوزان کا خیال تھا کہ وہ کوہ ویراں پر ہی کہیں فن ہے۔ یہ ممکن تھا کہ وہ کوہ ویراں کے دوسری طرف دفن ہو۔ وہ سوچتا ہوا بہت سنبھل سنبھل کر اوپر چڑھ رہا تھا کہ اچانک اسکا پاؤں پھسل گیا۔ اس نے خود کو بہت سنبھالنے کی کوشش کی لیکن نہیں سنبھال پایا۔ وہ بہت تیزی سے نیچے گرنے لگا۔
اب اسے یقین ہو گیا کہ اس کا بچنا محال ہے۔ ابھی اس کا سرکسی پتھر سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جاۓ گا اور پھر وہ آٹے کی بوری کی طرح کوہ ویراں کے دامن میں جا گرے گا۔
کبھی کبھی برائی میں بھی اچھائی کا پہلو ہوتا ہے۔ اوپر والے کی مصلحت اوپر والا ہی جانتا ہے۔ اسکا پاؤں پھسلا تو وہ نیچے جانے کی بجاۓ برف کے ڈھیر پر گرا۔ یہ نرم برف تھی۔ وہ تھوڑا سا اس میں دھنس گیا۔ اس کی جان بچ گئی تھی۔ اس نے اللہ کا شکر ادا کیا۔
پھر اس نے بیٹھے بیٹھے اپنے سامنے کا جائزہ لیا۔ اس کے سامنے آٹھ دس فٹ کے فاصلے پر ایک بڑا سا سوراخ تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے برف اس سوراخ سے باہر نکالی گئی ہو یا یوں کہنا چاہئے تھا برف کھود کر سوراخ کیا گیا ہو اسے آس پاس کوئی نظر نہ آیا نہ برف پر کسی قسم کے نشانات تھے اس نے سوچا کہ وہ آ گے بڑھ کر اس سوراخ میں جھانک کر دیکھے پھر اسے خیال آیا کہ کہیں یہ برفانی ریچھوں کا بھٹ نہ ہو۔ وہ اس سوراخ میں گھسے اور وہ اندر سے نکل کر اس پر حملہ کر دیں۔
وہ سار ملوک کی بخشی ہوئی تلوار اپنے ساتھ لایا تھا لیکن وہ کمبل میں لپٹی گھوڑے کی پیٹھ پر بندھی تھی اور گھوڑا نیچے تھا۔ بازغر نے اسے ایک خنجر بھی دیا تھا جو اس کی پنڈلی سے بندھا ہوا تھا۔ اس نے وہ خنجر اپنی پنڈلی سے کھینچ لیا اور اسے اپنے ہاتھ میں لے کر اس سوراخ میں جانے کی ٹھان لی۔ یہ برف کا ڈھیر اونچا تھا اور سوراخ نیچے تھا اس سوراخ تک ایک ڈھلانی راستہ بنا ہوا تھا۔ وہ کچی برف پر قدم جماتا ہوا اس سوراخ کی طرف بڑھا۔ جب وہ سوراخ کے سامنے پہنچا تو اسے سوراخ گہرائی میں نظر آیا۔ سامنے اندھیرا تھا لہذا وہ یہ اندازہ نہ کر پایا کہ سوراخ کتنا اندر تک گیا ہے۔ یہ ایک چارفٹ اونچا اور دو ڈھائی فٹ چوڑا سوراخ تھا۔ وہ اس سوراخ میں جھک کر داخل ہوسکتا تھا۔ کچھ دیر تک وہ سوچتا رہا کہ کیا کرے۔ وہ فورا فیصلہ نہ کر پایا۔ تب اسے اپنے گلے میں پڑے تعویذ کا خیال آیا۔ اس نے اپنے کوٹ کا ایک بٹن کھول کر اندر ہاتھ ڈال کر تعویذ کو چھوا تعویذ چھوتے ہی اس کے کانوں میں ایسی آواز آئی جیسے کسی نے کہا ہو۔ ’’جاؤ۔“
اس آواز کے ساتھ ہی اس کا دل مضبوط ہو گیا۔ وہ اب بے دھڑک اس برفانی غار میں داخل ہو گیا۔ وہ غار میں پاؤں جما کر اور جھک کر چل رہا تھا لیکن جیسے جیسے وہ آگے قدم بڑھا رہا تھا یہ غار اونچا ہوتا جا رہا تھا۔ جب وہ دس پندرہ قدم اندر چلا گیا تو اس نے محسوس کیا کہ وہ اپنے پورے قد سے کھڑا ہو سکتا ہے۔ لہذا وہ پورے قد سے کھڑا ہو گیا۔ راستہ ابھی بند نہیں ہوا تھا۔ سامنے اندھیرا تھا وہ اندازہ نہیں کر سکتا تھا کہ آگے کیا ہے؟ باہر سے آنے والی روشنی دم توڑتی جارہی تھی۔
وہ کم ہوتی روشنی میں دھیرے دھیرے ایک مرتبہ پھر آ گے بڑھنے لگا۔ راستہ سیدھا اور ہموار تھا اسے آگے بڑھتے ہوئے کسی قسم کی دشواری محسوس نہیں ہورہی تھی لیکن اندھیرا برابر بڑھ رہا تھا۔ جب اندھیرا خاصا بڑھ گیا تو اس نے کھڑے ہو کر اپنی پیٹھ پر لکے ہوئے بیگ کو آ گے کیا۔ اس کی زپ کھول کر اس میں سے ٹارچ نکالی۔ زپ بند کر کے بیگ پیچھے کیا اور ٹارچ روشن کر لی۔ اب اس کے بائیں ہاتھ میں ٹارچ اور دائیں ہاتھ میں خنجر تھا۔ وہ پھر محتاط انداز میں بڑھنے لگا۔ ابھی تک اندر سے کسی قسم کی آواز یا حرکت محسوس نہیں ہوئی تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے اندر مکمل سناٹا ہے۔
چند قدم مزید آ گے چلنے کے بعد اسے محسوس ہوا کہ غار آ گے جا کر چھوٹا ہو گیا ہے۔ لیکن ایسے نہ تھا آ گے اصل میں سیڑھیاں تھیں۔ وہ ٹارچ کی روشنی میں سیڑھیاں اترنے لگا مگر غار کی اونچائی اتنی ہی رہی۔ آٹھ دس سیڑھیاں اتر کر وہ ایک گول چھت کے نیچے پہنچ گیا۔ اس نے ٹارچ کی روشنی میں چاروں طرف کا جائزہ لیا۔ سامنے ایک پتھر کا چبوترہ تھا اور اس چبوترے کے چاروں کونوں پر پتھر سے تراشے گئے ستون تھے۔ ان ستونوں کے درمیان چبوترے پر ایک ایسی چیز تھی جسے دیکھ کر ساحل عمر کے دل کی دھڑ کن اچانک تیز ہوگئی۔
•●•●•●•●•●•●•●•
وہ پانچ پانچ کی ٹولیاں مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی اوپر چوٹی پر پہنچ رہی تھیں۔ ابھی صرف دوٹولیاں چوٹی پر تھیں ۔ بکوزان سب سے پیچھے تھا۔ کوئی ایک گھنٹے کے اندر سارے نوجوان بخیریت و عافیت اوپر پہنچ گئے۔ جب بکوزان بھی اوپر پہنچ گیا تو اس نے ایک ایک نو جوان کو بلا کر نیچے سے اوپر آنے کا احوال پو چھا۔ جس پر جو بیتی تھی وہ اس نے کہہ سنائی مگر ان کی کہانیوں میں اس کے مطلب کی کوئی کہانی نہ تھی۔
کوہ ویراں کے اس طرف تو کچھ ہاتھ نہ لگا تھا۔ اب بکوزان اپنے قافلے کو لے کر کوہ ویراں کے اس طرف اترنا چاہتا تھا۔ اس مرتبہ اس نے حکمت عملی میں تبدیلی کر دی۔ نیچے سے اوپر آتے ہوۓ اس نے نو جوانوں کو پانچ پانچ کی ٹولیوں میں بانٹ دیا تھالیکن اب اس نے نو جوانوں سے کہا کہ وہ دو دو کر کے نیچے اتریں گے اور ہر پارٹی کے درمیان پانچ قدم کا فاصلہ رہے گا تا کہ کسی خطر ناک صورت میں اجتماعی طور پر نمٹا جا سکے۔ بکوزان نے کوہ ویراں کی پراسرار کہانیوں کے پیش نظر اور حالیہ اموات کے حوالے سے ہر بات سمجھا دی تھی اور ہرلمحہ مستعد اور چوکس رہنے کی تا کید کی تھی۔ بکوزان کی ہدایت کے مطابق دو دو نو جوان پانچ قدم کا فاصلہ رکھ کر نیچے اترنے لگے۔ اس مرتبہ بکوزان سب سے آگے تھا۔
جب آخری دو نو جوان بھی نیچے اترنے لگے اور وہ اتنے نیچے پہنچ گئے کہ کسی نا گہانی آفت کے پیش نظر ان کا بچ نکلنا ممکن نہ ہو تو وہ ناگہانی آفت ان پر اچانک ٹوٹ پڑی۔ دیکھتے ہی دیکھتے طوفان بادو باراں نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا۔ ہوا اور بارش اس قدر تیز تھی کہ درخت اکھڑ اکھڑ کر نیچے جارے تھے۔ ایسی طوفانی ہوا اور وہ بھی ڈھلانی راستے پر کسی کا قدم جما کر کھڑے رہناممکن نہ تھا۔ نو جوان لڑھکنے لگے۔ دس منٹ کے اندر آندھی طوفان اور بارش نے وہ تباہی مچائی کہ ایک نوجوان بھی زندہ سلامت نہ رہ سکا۔ وہ لڑ ھکتے ہوئے اتھاہ گہرایوں میں جا گرے۔ کچھ درختوں کے نیچے دب کر اپنی جان گنوا بیٹھے۔ بکوزان کا کچھ پتہ نہ چلا کہ اس پر کیا بیتی؟ جب طوفان تھما تو ایک نوجوان جو دو درختوں کے درمیان دبا تھا اس نے اپنی آنکھیں کھول دیں۔
وہ درختوں کے درمیان کچھ اس طرح پھنسا تھا کہ اس کے جسم پر ایک خراش بھی نہیں آئی تھی۔ مصیبت اس کو چھوتی ہوئی گزر گئی تھی۔ وہ درخت ایک چٹان پر گرے تھے اور وہ نو جوان خلا میں ہونے کی ہے وجہ سے بچ گیا تھا۔ وہ خلا اتنا بڑا تھا کہ وہ نو جوان کوشش کر کے اس سے باہر نکل سکتا تھا۔ بلآ خر وہ اپنی کوششوں سے باہر نکل آیا۔
اس نے سیدھا کھڑے ہو کر گہرا سانس لیا اور وہ نیچے اوپر جہاں تک دیکھ سکتا تھا اس نے دیکھا۔ اسے دور تک کچھ نظر نہ آیا۔ اس کے ساتھی شاید لڑھکتے ہوئے بہت نیچے تک چلے گئے تھے۔ وہ جانتا تھا کہ ایسے طوفان میں ایک بھی زندہ نہ بچا ہو گا۔ کوہ ویراں کے بارے میں اس نے جو کچھ سنا تھا وہ سب سچ تھا۔ واقعی ادھر آنے والا کبھی لوٹ کر واپس نہیں جا سکتا تھا۔ اس طوفان کے دور تک کوئی آثار نہ تھے بس اچانک ہی تیز ہوا چلنے لگی اور وہ منٹوں سیکنڈوں میں موت کی شکل اختیار کر گئی تھی۔ اس نو جوان نے سراٹھا کر اوپر دیکھا۔ کوہ ویراں کی چوٹی زیادہ اوپر نہ تھی۔ اس نے طے کیا کہ وہ فوڑا اوپر پہنچے۔ اس کے بعد سوچے کہ اب کیا کرنا ہے۔ وه نوجوان جلدی جلدی او پر چڑھنے لگا۔ وہ بار بار پیچھے مڑ کر بھی دیکھتا جاتا تھا۔ اسے بار بار یہ احساس ہوتا تھا کہ جیسے کوئی اس کا تعاقب کر رہا ہے لیکن اسکے تعاقب میں کوئی نہ تھا یا اگر کوئی تھا تو اسے نظر نہیں آرہا تھا۔ جب وہ نوجوان چوٹی پر پہنچ گیا تو اس نے بیٹھ کر اطمینان کا گہرا اور ٹھنڈا سانس لیا۔ وہ یہاں کچھ دیر سستا کر نیچے اتر نا چاہتا تھا۔ اب تو نیچے ہی جانا تھا۔ کوہ ویراں کا یہ حصہ محفوظ تھا۔ وہ آرام سے جا سکتا تھا۔ اس نے سوچا تھوڑی دیر یہاں بیٹھ کر نیچے اترنا شروع کرے۔ ہوسکتا ہے اتنی دیر میں کوئی اور ساتھی نظر آ جائے۔ فورا ہی اس نے گردن گھما کر کوہ ویراں کے پراسرار حصے پر نظر ڈالی۔ اسے دور تک تباہی کے سوا کچھ نہ دکھائی دیا۔ درخت جڑوں سے اکھڑے ہوۓ ایک دوسرے پر گرے ہوۓ تھے اور نیچے اندھیرے کے سوا کچھ نہ تھا۔ اب وہ نو جوان گردن موڑ کر اٹھنا ہی چاہتا تھا کہ دو کالے ہاتھ اس کے گلے میں آۓ اور آنا فانا اس کا گلا ادھڑ گیا۔ اس کی چیخ گلے میں گھٹ کر رہ گئی۔ اب وہ تیزی سے نیچے لڑھکتا ہا رہا تھا۔ اس کی گردن میں جیسے آگ لگی تھی ۔ تھوڑا سا نیچے جا کر وہ ایک گرے ہوۓ درخت میں اٹک گیا۔
پھر اسے پتھر ہوتے دیر نہ لگی۔
•●•●•●•●•●•●•
“نہیں۔‘‘ وہ بہت زور سے چیخا۔ اچانک اس کی آنکھ کھل گئی۔ اسے اپنی چیخ کی آواز اجنبی لگی۔ وہ اس سردی میں بھی پسینے میں نہایا ہوا تھا تھوڑی دیر میں جب حواس بحال ہوئے تو اس نے خود کو اپنے کتب خانے میں پایا۔
تب اسے یاد آیا کہ وہ رات کو حساب کتاب لگاتا، کتب خانے میں لگے ایک بستر پر ہی سو گیا تھا۔
اس نے جو خواب دیکھا تھا وہ بہت بھیانک تھا۔ اس خواب نے اس کے ہوش اڑا دیئے تھے۔
ی لئے وہ چیخ مارے بنا نہ رہ سکا تھا۔
بستی کے رمز شناس سمار ملوک نے گھڑی پر نظر ڈالی۔ صبح ہونے والی تھی۔ سمار ملوک اپنے کتب خانے کی سیڑھیاں اتر کر اپنی خواب گاہ میں پہنچا۔ وہاں اس کی بیوی اطمینان سے سوئی ہوئی تھی۔ وہ وہاں سے نکل کر رشا ملوک کے کمرے کی طرف بڑھا۔ اس نے بند دروازے پر مخصوص انداز میں دستک دی۔
دستک کی آواز سن کر رشا ملوک کسمسائی۔ وہ اپنے نرم بستر پر بڑے مزے کی نیند لے رہی تھی کہ اس مخصوص دستک نے اسے چونکا دیا۔ اس کی آنکھیں فورا پوری کھل گئیں اور وہ ہڑ بوا کر اٹھ بیٹھی
وہ بھاگتی ہوئی دروازے پر پہنچی۔
دروازہ کھلتے ہی اسے باپ کی صورت نظر آئی۔ باپ کو پریشان دیکھ کر وہ ایک دم گھبرا گئی۔ وہ اپنے باپ کو احترام دینا بھول گئی۔ گھبرا کر بولی۔’’بابا خیریت ہے۔“
“رشاملوک پہلے باپ کو احترام دے پھر بات کر‘‘ سمار ملوک نے خشک لہجے میں کہا۔
“اوہ بابا معاف کیجئے گا۔ آپ کو اس وقت اور اس حالت میں دیکھ کر میں پریشان ہی ہو گئی۔ آپ کو احترام دینا بھی بھول گئی۔” یہ کہ کر وہ گھٹنوں کے بل بیٹھی۔ اس نے سمار ملوک کا ہاتھ تھام کر چوما اور پھر کھڑی ہو گئی۔ تب سار ملوک تیزی سے اس کے کمرے میں آیا اور سات کرسیوں میں سے ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔
“رشا ملوک میں نے بہت برا خواب دیکھا ہے اور تو جانتی ہے کہ میں کتنے سچے خواب دیکھتا ہوں۔“

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: