Anwar Aleegi Urdu Novels

Bichoo Novel By Anwar Aligi – Episode 22

Bichoo Novel By Anwar Aligi
Written by Peerzada M Mohin
ناولکانام – قسط نمبر 22

–**–**–

“ہاں بابا میں جانتی ہوں۔‘‘ رشا ملوک کی اچانک دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ ساحل عمر کوہ ویراں کی مہم پر نکلا ہوا تھا۔ خدانخواستہ بابا نے اس کے بارے میں تو کوئی خواب نہیں دیکھ لیا۔
’’با با جلدی بتائیں آپ نے کیا دیکھا ہے۔“
’’اے رشا ملوک میں نے دیکھا کہ وہ سب کے سب مارے گئے۔ بکوزان بچا نہ اس کے ساتھ گئے نو جوان نہ بچے۔ انہیں موت کا طوفان لے اڑا یہ دیکھا ہے میں نے‘‘ سمار ملوک نے افسردگی سے کہا۔
“یہ تو آپ نے بہت برا دیکھا ہے. اب کیا ہوگا ؟‘‘ رشا ملوک کو ساحل عمر کی طرف سے اطمینان ہو گیا۔
پہلے میرا خیال تھا کہ میں ساحل عمر کو اس وقت بھیجوں گا جب مجھے راعین کے ٹھکانے کا معلوم ہو جاۓ گا لیکن اب مجھے اندازہ ہوا کہ یہ ہماری بستی کے لوگوں کے بس کی بات نہیں۔ ہمارے تین ہنرمند مارے گئے۔ تیس نوجوانوں کی جانیں تلف ہوئیں۔ اب مجھے تیرے مور کو اس مہم پر روانہ کرنا پڑے گا۔ اب وہی اسے ڈھونڈے گا اور وہی اس سوئے فتنے کو نیست نابود کرے گا۔ میرا علم کہتا ہے کہ اسے اس بستی میں اس کام کے لئے بھیجا گیا ہے۔ وہ اس بستی کا نجات دہندہ ہے۔ جا اسے اٹھا کر لا وہ سو رہا ہو گا اسے کہنا تھے اس بستی کے رمز شناس سمار ملوک نے طلب کیا ہے۔” سمار ملوک یہ کہ کر بڑے اطمینان سے ٹانگیں پھیلا کر بیٹھ گیا۔
“اچھا ٹھیک ہے بابا میں جاتی ہوں اسے بلا کر لاتی ہوں آپ آرام سے بیٹھیں۔‘‘ رشا ملوک نے یہ بات اتنے آرام سے کہ تو دی لیکن وہ اندر سے پریشان ہوگئی۔
وہ جانتی تھی کہ ساحل عمر کمرے میں نہیں ہے وہ کوہ ویراں کی مہم پر گیا ہے وہ اسے کہاں سے بلاۓ۔ بہر حال اس نے سوچا ۔ اس کمرے سے تو باہر نکلے۔ وہ ایک دروازے سے باہر نکل کر ساحل عمر کے کمرے کی طرف چل دی۔ ساحل عمر کا کمرہ محل کے ایک گوشے میں تھا۔ وہ مینار سے نکل کر اس کے گنبد کی طرف بڑھ رہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ اب کیا کرے۔ پھر ایک فکر نے اسے اور آن گھیرا۔ ساحل عمر ان تیس نوجوانوں کے ساتھ مہم پر نکلا تھا اور انہی جیسا بن کر گیا تھا۔ بابا نے ان نوجوانوں کو مرتے دیکھا ہے کہیں ایسا تو نہیں… آگے وہ سورچ نہ سکی ۔ اس کا کلیجہ ایک دم منہ کو آ گیا۔ کہیں اس کا مور ان نوجوانوں کے ساتھ طوفان کی نذر تو نہیں ہو گیا۔ اگر ایسا ہو گیا تو وہ کہیں کی نہ رہے گی۔ زندہ درگور ہو جاۓ گی۔
سردست تو یہ مسئلہ تھا کہ وہ سمار ملوک کو کیا جواب دے۔ کیا وہ انہیں سچ سچ بتا دے کہ وہ ان کی خواہش سے پہلے ہی مہم پر جا چکا ہے۔ کہیں یہ جواب انہیں غضبناک نہ کر دے۔ کہیں وہ غصہ نہ ہو جائیں کہ ان کی اجازت کے بغیر خطرناک کام کیوں کیا گیا۔ بازغر بے چارہ مفت میں لپیٹ میں آجاۓ گا۔ بابا جانے اس کا کیا حشر کر یں۔ پھر اس کے کمرے کی طرف بڑھتے ہوۓ اچانک ہی ایک ترکیب اس کے ذہن میں آ گئی اور وہ اس کے دروازے سے واپس پلٹ آئی۔
جب وہ اپنے کمرے میں داخل ہوئی تو اس بستی کا رمز شناس سمار ملوک بے چینی سے کمرے میں ٹہل رہا تھا۔ اس نے ایک نظر اپنی بیٹی کے چہرے پر ڈالی اور پھر پوچھا۔ ’’ہاں کیا ہوا.؟ کہاں ہے ساحل عمر؟‘‘
“بابا غضب ہو گیا۔‘‘ رشا ملوک نے گھبرا کر کہا۔
”کیا ہوا؟‘‘ سمار ملوک نے پوچھا۔
“میرا مور اپنے گنبد میں نہیں ہے۔“
”کیا تو نے اچھی طرح گنبد دیکھ لیا؟‘‘
“ہاں بابا. میں نے اچھی طرح گنبد دیکھ لیا۔ وہ وہاں نہیں ہے۔‘‘ رشا ملوک نے بڑے یقین سے کہا۔
“وہ آخر کہاں جا سکتا ہے۔‘‘ سمار ملوک سوچ میں پڑ گیا۔
“میں کیا کہ سکتی ہوں بابا۔. میری سمجھ میں خود کچھ نہیں آ رہا۔”
“یہ بہت برا ہوا. اچھا تو پریشان مت ہو. میں بابا صاعق سے مشورہ کرتا ہوں۔” یہ کہہ کر سمار ملوک اس کے کمرے سے نکل گیا اور رشاملوک کمرے کے درمیان پریشان کھڑی رہ گئی۔
•●•●•●•●•●•●•●•
راستے کٹھن ہوں اور منزل کا دور تک کہیں پتہ نہ ہو پھر یوں ہو کہ منزل پلک جھپکتے ہی سامنے آ جاۓ تو بندے پر خوشگوار حیرت کی کیفیت طاری ہونا لازمی امر ہے۔ ساحل عمر کا اس وقت یہی حال تھا۔ اس کا دل خوشی سے بلیوں اچھل رہا تھا۔
سامنے چبوترے پر برف کا ڈھیر تھا اور اس برف میں ایک تابوت نظر آ رہا تھا۔ اس تابوت کا اوپر کا کچھ حصہ شیشے کا تھا۔ اس شیشے سے ایک شخص کی صورت نظر آ رہی تھی۔
یہ یقیناً راعین تھا۔ وہ ایک خبیث صورت شخص تھا۔ طوطے جیسی ناک، بھاری بھنویں، گنجا سر، بند آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی، دہانہ باہر کو نکلا ہوا۔ اس کے چہرے کے سہارے دائیں بائیں دو کتابیں کھڑی ہوئی تھیں۔ یہ کتاب سحر کی دونوں جلدیں تھیں۔ اس کتاب نے کیسی کیسی قیامتیں ڈھائی تھیں۔ ساحل عمر نے چبوترے پر چڑھ کر اس برف میں دبے تابوت کا اچھی طرح جائزہ لیا۔ تابوت دو تین فٹ برف کے اندر تھا۔ برف شفاف تھی۔ ساحل عمر نے اپنے ہاتھ میں دبے تیز دھار کے خنجر سے برف کی نرمی کا جائزہ لینے کے لئے برف پر خنجر مارا۔ خنجر کی نوک جیسے ہی برف سے ٹکرائی تو ایک دم نیلا سا شعلہ لپکا۔ یہ شعلہ ویسا ہی تھا جے ویلڈنگ کرتے ہوۓ سولڈر سے نکلا ہے۔ ساتھ ہی اس کے ہاتھ کو جھٹکا لگا۔ یہ جھٹکا بجلی کے کرنٹ جیسا تھا۔ ساحل عمر چبوترے سے گرتے گرتے بچا۔ ساحل عمر نے اس جگہ غور سے دیکھا جہاں اس نے۔ خنجر مارا تھا وہاں کوئی اثر نہ تھا برف پر خراش تک نہ پڑی تھی۔ اسے لگا یہ برف نہ ہو کرسٹل ہو۔
ساحل عمر نے خنجر جیب میں ڈال کر ڈرتے ڈرتے اپنی ایک انگلی سے اس برف کو چھوا۔ انگلی برف پر لگتے ہی شعلہ تو نہ لپکا لیکن اسے احساس ہوا جیسے جلتے توے پر انگلی رکھ دی ہو۔ وہ دھکتی برف تھی ۔
اب وہ پیچھے ہٹ آیا اور پیچھے پلٹ کرستون کا جائزہ لینے لگا ان ستونوں کا مقصد سمجھ میں نہ آیا۔ یہ آخر چبوترے کے ساتھ کیوں بناۓ گئے تھے۔ ان چاروں ستونوں میں ساحل عمر نے ایک خاص بات محسوس کی کہ ہرستون میں ایک ہی جگہ ایک مختلف رنگ کا چوکور پتھر لگا تھا۔ یہ پتھر کچھ اس انداز سے لگا ہوا تھا کہ اگر چاقو کی نوک سے اس پتھر کو ہلایا جاۓ تو وہ تھوڑی سی محنت کے بعد نکل سکتا تھا۔ ساحل عمر نے اہرام مصر کے بارے میں خاصا پڑھا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ جب کوئی فرعون مرتا تو اس کی ممی کے ساتھ بہت ساخزانہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ ساحل عمر نے سوچا کہ کہیں ان ستونوں میں خزانہ ہی تو بھرا ہوا نہیں ہے کیا حرج ہے اگر ایک ستون سے پتھر نکال کر دیکھ لیا جاۓ۔ ایک مرتبہ پھر اس نے مختلف رنگ کے اس چوکور پتھر کا اچھی طرح جائزہ لیا اور پھر اپنے کوٹ کی جیب سے خنجر نکال لیا۔
اس وقت پیچھے سے دو کالے ہاتھ اس کی طرف بڑھے۔
یہ قیامت کے ہاتھ تھے۔ یہی وہ ہاتھ تھے جو کسی کی گردن میں حمائل ہو جاتے تو پھر اس کا نرخرہ ادھڑنا چند لمحوں کی بات ہوتی۔ اسی وقت اس کی زندگی کی شام ہو جاتی۔ وہ چل بستا ۔
اب یہی ہاتھ ساحل عمر کی طرف بڑھے تھے۔ ساحل عمر اپنے خنجر سے پتھر کے اس چوکور کو ڈھیلا کر کے نکالنا چاہتا تھا جو اس ستون میں نصب تھا۔ اس کا خنجر والا ہاتھ پتھر کی طرف بڑھ رہا تھا۔ وہ اس بات سے قطعاً بے خبر تھا کہ اس کی موت کالے ہاتھوں کی صورت میں اس کے پیچھے کھڑی ہوئی ہے اور قیامت کے آنے میں بس چند ساعتوں کی دیر ہے۔
وہ کالے ہاتھ جیسے ہی اس کی گردن میں حمائل ہوۓ اور اس نے اس کی گردن جکڑ کر اپنے نوکیلے دانتوں سے اس کا نرخرہ ادھیڑنا چاہا تھا تو اسے ایک جھٹکا سا لگا۔ اس کی گرفت ایک دم ڈھیلی ہو گئی۔ وہ قیامت بے اختیار پیچھے ہٹ گئی۔
اس قیامت کا ہاتھ چاندی کے تعویز پر پڑ گیا تھا جسے ابھی کچھ دیر پہلے ساحل عمر نے چھو کر کپڑوں سے باہر نکال لیا تھا۔ ساحل عمر کو جیسے ہی کسی کی گرفت میں آنے کا احساس ہوا۔ وہ بہت تیزی سے پلٹ کر پیچھے ہٹا۔ ٹارچ کی روشنی ایک دم اس کے چہرے پر پڑی۔ اس کی شکل دیکھ کر ساحل عمر کانپ گیا
وہ کالے رنگ کی کوئی چیز تھی۔ چھ فٹ قد، جسم پر ریچھ جیسے بال، سرخ انگارہ آنکھیں، دو چمکتے نوکیلے دانت باہر کو نلکلے ہوۓ۔ وہ نہ انسان تھا نہ جانور۔ جانے وہ کیا تھا۔ وہ جو بھی تھا اتنا بھیانک تھا اگر نرخرہ ادھیڑنے کے بجاۓ وہ ویسے ہی کسی کے سامنے آ جاتا تو اسے دیکھ کر ہارٹ فیل ہو جانا یقینی تھا
ایک لمحے کو ساحل عمر کی سمجھ میں نہ آیا کہ یہ کون ہے اور اچانک کہاں سے نمودار ہو گیا ہے۔ اپنے چہرے پر روشنی پڑتے دیکھ کر اس نے اپنے دہشت ناک منہ پر ہاتھ پھیر کر روشنی ہٹانے کی کوشش کی۔ اس کے منہ سے غراہٹیں برآمد ہو رہی تھیں۔ پھر اس نے اپنا بھاڑ سا منہ پھاڑ دیا۔
ساحل عمر کے پاس وقت کم تھا۔ وہ کسی لمحے اس پر حملہ کر سکتا تھا۔ ساحل عمر کے پاس محض ایک خنجر تھا۔ یہ چھوٹا ساخنجر بھلا اس کا کیا بگاڑ سکتا تھا۔ اسے اچانک تلوار یاد آئی کہ اگر وہ اس وقت اس کے ہاتھ میں ہوتی تو وہ بآسانی اسکا کام تمام کر دیتا۔
پھر ایک خیال بجلی کی سی تیزی سے اس کے دماغ میں کوندا۔ اس خیال کے آتے ہی اس نے اپنے خنجر کی نوک تیزی سے چاندی کے تعویذ پر رکھ دی۔ پھر اس نے جلدی جلدی خنجر کی نوک کو تعویذ پر رگڑا۔ اس وقت اسے یوں لگا جیسے کسی نے کہا ہو۔’’اس خنجر کو اس کے پیٹ میں گھونپ دو۔‘‘
اسی وقت وہ عفریت ساحل عمر کی طرف بڑھا اس نے اپنے ہاتھ بڑھا کر اسے گرفت میں لینا چاہا۔ ساحل عمر اس کے ہاتھوں کی گرفت سے بچنے کے لئے نیچے جھکا اور پھر تیزی سے آگے بڑھ کر وہ خنجر اس کے پیٹ میں گھونپ دیا۔ خنجر گھونپتے ہی وہ کسی غبارے کی طرح پھٹ گیا۔ جس طرح ایک غبارے کو کسی سوئی کی نوک چھو کر پھاڑ دیا جائے تو اس کے نتیجے میں جو آواز آتی ہے بالکل ویسی آواز خنجر گھونپتے ہوئے ہوئی اور پھر وہاں کچھ نہیں رہا۔
ساحل عمر نے ٹارچ کی روشنی میں اچھی طرح چبوترے پر دیکھ لیا۔ اب وہاں کچھ نہیں تھا۔ فرش پر کوئی نشان تک نہیں تھا۔ اس عفریت سے نجات پا کر اس نے اطمینان کا ایک لمبا سانس لیا۔ اپنے گلے میں پڑے ہوۓ تعویذ کو ہلکی سے تھپکی دی۔ اب اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ مشکل وقت میں اس تعویذ کے ذریعے اس کی کس طرح مد د ہو جاتی تھی۔ فورا ہی کوئی خیال اس کے دماغ میں آ تا تھا جس پر عمل کر کے اس کے دماغ میں کوئی آواز گونجتی تھی اور اس طرح اسے مصیبت سے نجات مل جاتی تھی تعویز کے استعال کا ایک طریقہ کار اس کے ہاتھ آ گیا تھا۔
اب وہ پھر ستون کی طرف متوجہ ہوا۔ ستون میں لگا یہ مختلف رنگ کا پتھر بار بار اسے اپنی طرف متوجہ کر رہا تھا اس نے خنجر کی نوک پتھر کی دراڑ میں ڈالی پھر کچھ سوچ کر اس نے خنجر اٹھا لیا اس نے سوچا پتھر نکالنے کی وجہ سے وہ پھر کسی نئی مصیبت میں پھنس سکتا ہے یہ ضروری نہیں کہ اس ستون میں خزانہ ہی ہو فرض کرو اگر اس میں خزانہ ہوا بھی تو وہ اسکا کیا کرے گا اسکا اصل مسئلہ تو راعین تھا جو اس وقت برف میں دفن تھا۔
ایک مرتبہ پھر اس نے برف میں خنجر مارا۔ نتیجہ وہی برآمد ہوا۔ ایک نیلا شعلہ نکلا اور اس کے ہاتھ کو بجلی کا سا جھٹکا لگا۔ اسے اندازہ ہوا کہ یہ خنجر اس برف کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔ برف کے اس تودے کو توڑنے کے لئے کچھ سوچنا پڑے گا۔ بستی واپس جا کر ان لوگوں سے مدد لینا ہو گی۔ ایک بڑا مسئلہ تو حل ہو ہی گیا تھا۔ اسے راعین کا مدفن معلوم ہو گیا تھا اور ابھی اس عفریت کے جاگنے میں کئی ہفتے باقی تھے۔ پھر کسی قسم کی جلد بازی کا شکار ہو کر کوئی اقدام اٹھانے سے کہیں بہتر تھا کہ بستی واپس چلا جائے
پھر واپسی کا خیال اس کے دل میں جڑ پکڑتا گیا اور وہ فورا ہی اس غار سے نکل آیا۔
•●•●•●•●•●•●•
بستی کے رمز شناس سمار ملوک کا خواب سن کر بابا صاعق پر جیسے بجلی سی گر پڑی۔ وہ جانتے تھے کہ سمار ملوک سچے خواب دیکھتا ہے لیکن یہ اس نے کیا دیکھ لیا تھا۔ ایسے بھیانک خواب کا تو وہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ اتنا بڑا حادثہ بستی کے تیس خوبرو نوجوان….. اور ایک ہنرمند ۔ اس خواب کی اندوہنا کی کا دھیرے دھیرے اثر بڑھتا گیا۔ یہاں تک کہ ان کا دل بھر آیا۔ آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔
“اے سمار ملوک صبح صبح تم نے کیا خواب سنا دیا۔‘‘ وہ گلو گیر آواز میں بولے۔
“بابا، میں کیا کروں۔ آپ کو نہ سناؤں تو پھر کس سے کہوں۔ اس خواب نے خود میری حالت بگاڑ دی ہے۔‘‘ وہ ہاتھ ملتے ہوۓ بولا۔ ’’میں بستی والوں کو کیا جواب دوں گا۔ انہیں کیا بتاؤں گا کہ ان کے نوجوان کہاں گئے؟‘‘
“بستی والوں کو سمجھانا ہو گا۔ یہ کام میں کروں گا۔ تم پریشان مت ہو۔‘‘ انہوں نے تسلی دی۔
“بابا پریشان کیسے نہ ہوں کوئی ایک پریشانی ہو تو برداشت کر جاؤں۔ یہاں تو پریشانیوں۔ کی زنجیر ہے۔ میرے علم نے مجھے بتایا تھا کہ راعین کے مدفن کا پتہ چلانا ہم بستی کے لوگوں کے بس کی بات نہیں۔ یہ کام بس ساحل عمر کرسکتا ہے۔ سوچا اس سے بات کروں اسے کوہ ویراں کی طرف روانہ کروں..” اتنا کہہ کر سارملوک رک گیا۔ اس نے اداس نظروں سے بابا صاعق کیطرف دیکھا۔
“پھر کیا ہوا.؟ اسے تم نے کیوں نہیں بھیجا۔‘‘ بابا صاحق نے پوچھا۔
“بابا کسے بھیجوں۔‘‘ سمار ملوک نے سرد آہ بھری۔ ’’وہ اپنے گنبد میں نہیں… غائب ہے۔”
“ہیں یہ کیا کہہ رہے ہو تم؟” بابا صاعق پریشان ہوکر سمار ملوک کی طرف دیکھنے لگے۔
“جو کہہ رہا ہوں. سچ کہہ رہا ہوں۔” سمار ملوک نے ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا۔
ابھی بابا صاعق کچھ کہنے کے لئے لب کھولنے والے تھے کہ راہداری میں دوڑ تے قدموں کی آواز سنائی دی۔ ساتھ ہی کوئی پکار رہا تھا۔ ’’بابا بابا‘‘
“ارے یہ تو رشاملوک کی آواز ہے؟” سمار ملوک چونک کر کھڑا ہو گیا۔
وہ پلٹ کر دروازے طرف جانے ہی والا تھا کہ رشا ملوک ہانپتی کانپتی کمرے میں داخل ہوئی۔
اس نے جلدی جلدی دونوں کو احترام دیا اور پھر چڑھتی ہوئی سانسوں کے دوران بولی ۔’’بابا “میرامور آ گیا۔ اس کے پاس بہت بڑی خوشخبری ہے۔”
“وہ چلا کہاں گیا تھا؟‘‘ بابا صاعق نے پوچھا۔
“بابا مجھ سے ایک غلطی ہو گئی ہے۔‘‘ رشا ملوک اپنے باپ کا ہاتھ پکڑتے ہوۓ بولی۔ “میں نے آپ کی اجازت کے بغیر اپنے مور کو تیس نوجوانوں کے ساتھ مہم پر بھیج دیا تھا۔ بابا میں مجبور ہوئی تھی اس نے مجھے قسم دے دی تھی۔ اب وہ اس مہم سے واپس آ گیا ہے اور اپنے ساتھ ایک ایسی خوشخبری لایا ہے کہ آپ سن کر جھوم جائیں گے۔“
“پہلے خوشخبری سنا تا کہ تیری معافی کے بارے میں سوچوں۔‘‘ سمار ملوک نے سنجیدگی سے کہا۔ “تو نے جو غلطی کی ہے اس کی سزا تو اچھی طرح جانتی ہو گی۔ اب اس سزا کا انحصار خوشخبری پر ہے…چل جلدی کر سنا”
“بابا، میرے مور نے، میرے بہادر مور نے، میرے انو کھے مور نے، راعین کا مدفن معلوم کر لیا ہے۔‘‘ رشا ملوک نے بڑے فخریہ انداز میں اعلان کیا۔
“کیا؟” بابا صاعق اور رمز شناس سار ملوک دونوں ہی بیک وقت چیخ اٹھے۔
“ہاں بابا. یہ کارنامہ انجام دیا ہے میرے مور نے۔‘‘ اس کی آنکھوں میں بے پناہ چمک تھی
“کہاں ہے وہ؟‘‘ بابا صاعق نے پوچھا۔
“اپنے گنبد میں۔‘‘ رشا ملوک نے جواب دیا۔
“چلو سمار ملوک اٹھو. آؤ اس کے پاس چلیں. اس سے مل کر احوال پوچھیں۔ بابا صاعق کھڑے ہوتے ہوۓ بولے۔
پھر وہ تینوں کمرے سے باہر نکل آئے۔ رشاملوک ان دونوں کے آگے آگے چل رہی تھی خوشی سے جھومتی ہوئی۔
سمار لوک نے دین کا کھوج لگتے ہی سب سے پہلا کام یہ کیا کہ وہاں مستعد اور مسلح جوانوں کا پہرہ بٹھا دیا۔ پھر اس نے اپنے علم کو آزمایا۔ مختلف زائچے تیار کئے۔ ستاروں کی چال دیکھی۔ تب وہ ساعت نکلی۔ یہ ساعت اس فتنے راعین کے جاگنے سے تین دن پہلے کی تھی۔
راعین کو نیست و نابود کرنے کی ساعت نکالنے کے بعد اس نے بستی کے ایک ایک نوجوان بوڑھے اور بچے کوہ ویراں کے سفر پر روانہ کر دیا۔ ابھی اس فتنے کے جاگنے میں اکیس دن باقی تھے۔ ان اکیس دنوں میں اس کے مدفن سے لے کر کوہ ویراں کے دامن تک جہاں تک ممکن ہو سکا راستہ ہموار کیا گیا۔
یہ راستہ ہموار کرنا اس لئے بھی ضروری تھا کہ بابا صاعق اور سمار ملوک دونوں نے مدفن تک جانے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ سمار ملوک کا وہاں تک جانا اتنا مشکل نہ تھا اس کی صحت بہت اچھی تھی اور بابا صاعق کے مقابلے میں عمر خاصی کم تھی لیکن بابا صاعق کا پہنچنا واقعی دشوار تھا۔ اس مشکل کام کو آسان بنایا گیا ان کے لئے۔
پھر وہ گھڑی آئی جب کوہ ویراں کی طرف کوچ کا ارادہ کیا گیا۔ بازغر نے ایک سونے کے تھال میں رکھا بندھا ہوا صافہ سمار ملوک کے سامنے پیش کیا۔ سمار ملوک نے اس صافے کو اٹھا کر ساحل عمر کے سر پر رکھا۔ اپنی خاندانی تلوار جو وہ پہلے ہی اسے تحفہ میں دے چکا تھا۔ دوبارہ اس کے ہاتھ میں پکڑائی۔ پھر سمار ملوک نے خود اسے ایک خوبصورت گھوڑے پر سوار کیا اور کوچ کا اعلان کیا۔
رات ہوتے ہوتے یہ قافلہ کوہ ویراں کے دامن میں پہنچ گیا۔ رات گزارنے کے لئے خیمے لگاۓ گئے۔ سمار ملوک نے ساحل عمر کو اپنے ساتھ خیمے میں رکھا۔ اس خیمے کی حفاظت کے لئے ایک خصوصی دستہ متعین کیا گیا تھا۔ ویسے بھی بستی کے لوگوں سے ساحل عمر کو دور رکھا گیا تھا تا کہ وہ کم سے کم بستی والوں کی نظروں میں آۓ۔ صبح ہوتے ہی خیمے اکھاڑ لیے گئے اور جہاں تک گھوڑے جا سکتے تھے وہاں گھوڑوں پر سفر کیا راستہ ہموار کئے جانے کی وجہ سے گھوڑے خاصے اونچائی تک چلے گئے تھے۔ پھر جب گھوڑوں کا کوہ ویراں پر چڑھنا نا گزیز ہو گیا۔ گھوڑے پھسلنے شروع ہو ئے تو گھوڑے روک دیئے گئے ۔
پھر ان لوگوں نے پیدل سفر شروع کیا۔ سب سے آ گے ساحل عمر تھا۔ اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار تھی۔ وہ اس تلوار کی نوک کو جگہ جگہ برف میں گاڑتا چل رہا تھا۔ ساحل عمر کے پیچھے بابا صاعق تھے ۔ان کے ہونٹ مستقل ہل رہے تھے ۔وہ زیر لب کچھ پڑھ رہے تھے۔ ان کے پیچھے رمز شناس سمار ملوک تھا۔ اس کا دماغ حساب کتاب میں الجھا ہوا تھا۔
ان تینوں کے بعد بستی کے مستعد اور مسلح نوجوان تھے۔ ایک دستہ پہلے ہی مدفن پر متعین تھا۔ جب یہ لوگ دفن کے دہانے پر پہنچے تو سمارملوک نے وہاں موجود نوجوان سے مدفن کا احوال پوچھا۔ ’’کہوکوئی پریشانی تو نہیں ہوئی۔”
“نہیں رمز شناس سب خیر ہے۔‘‘ مستعد نو جوان نے جواب دیا۔
’’اچھا‘ پھر سامنے سے ہٹو. ہمیں اندر جانے دو۔‘‘ سمار ملوک نے حکم دیا۔
وہ مستعد نو جوان فورا ایک طرف ہو گیا اور سر جھکا کر کھڑا ہو گیا۔
“دیکھو ہم تینوں اندر جار ہے ہیں ہمارے بعد کوئی اندر نہ آئے۔ اس وقت تک جب تک میں اندر آنے کا نہ کہوں۔‘‘ سمار ملوک نے وہاں موجود نوجوانوں کو مخاطب ہو کر کہا۔
“ٹھیک ہے رمز شناس ایسا ہی ہو گا۔‘‘ ایک نو جوان نے بڑی فرمانبرداری سے کہا۔
ساحل عمر جو سب سے آگے تھا جھک کر اس غار میں داخل ہونے لگا تو سمار ملوک بولا۔
“ایک منٹ ساحل عمر ۔‘‘
ساحل عمر اندر جاتے جاتے رک گیا۔ پھر وہ واپس نکل کر سیدھا کھڑا ہو گیا۔
“ذرا تلوار مجھے دو۔‘‘ سمار ملوک نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔
ساحل عمر نے اس کے ہاتھ میں تلوار تھما دی۔
سمار ملک نے تلوار پکڑ کر اس کی نوک سے زمین پر کچھ آڑی ترچھی لکیریں بنائیں۔ اس کے بعد ان لکیروں کو ایک دائرے میں بند کر دیا۔ اس کے بعد تلوار اس کی طرف بڑھاتے ہوۓ کہا۔ ’’اے ساحل عمر اس دائرے پر پیر رکھ کر اندر جاؤ۔‘‘
ساحل عمر نے تلوار تھام کر پیر دائرے میں رکھا اور جھک کر غار میں داخل ہوا اس کے ساتھ سمار ملوک اور بابا صاعق تھے۔ بابا صائق کچھ اجنبی لفظوں کا ورد کرتے آگے بڑھ رہے تھے
ساحل عمر کے ایک ہاتھ میں ٹارچ اور دوسرے میں تلوارتھی۔ جب وہ سیڑھیاں اتر کر چبوترے کے سامنے پہنچا اور ٹارچ کی روشنی ڈال کر اس نے تابوت کا جائزہ لیا تو اسے اندازہ ہوا کہ تابوت پر سے برف خاصی کم ہو چکی ہے۔ اب تابوت پر صرف ایک فٹ اونچی تہہ تھی۔ اس فتنے کے آنے میں ابھی تین دن باقی تھے۔ ان تین دنوں میں شاید یہ برف تابوت سے بالکل ختم ہو جاتی۔
ساحل عمر کے ساتھ وہ دونوں بھی چبوترے پر چڑھ آۓ۔ بابا صاعق اور سمار ملوک نے بغور راعین کا چہرہ دیکھا۔ اس کے چہرے پر نحوست برس رہی تھی۔
“اے رمز شناس. پہلے جب میں یہاں آیا تھا تو اس تابوت پر خاصی برف جمی تھی۔ اگرچہ اب پہ برف کم ہوگئی ہے ۔ اس کے باوجود اس کا توڑنا آسان کام نہیں۔ یہ برف کسی پتھر کی طرح سخت ہے اور خنجر مارنے پر نیلا شعلہ نکلتا ہے اور ہاتھ میں بجلی کا سا جھٹکا لگتا ہے۔‘‘ ساحل عمر نے بتایا۔
“اے ساحل. وہ خنجر تھا یہ مقدس تلوار ہے۔ ذرا اس کو آزماؤ۔‘‘ سمار ملوک نے ہدایت کی
ساحل عمر نے تھوڑا پیچھے ہٹ کر تلوار کی نوک اس برف میں چبھوئی…..تلوار کی نوک ٹکرانے سے نہ کوئی شعلہ برآمد ہوا اور نہ کوئی جھٹکا لگا۔ اسے خوشگوار حیرت ہوئی۔ پھر اس نے تلوار کی نوک پر دباؤ ڈالا تو آہستہ آہستہ برف میں دھنسنے لگی۔
ساحل عمر نے فورا تلوار ہٹالی تو برف پر تلوار کا نشان واضح ہو گیا۔ چلو یہ مسئلہ تو حل ہوا اب اس تلوار کے ذریعے تابوت کی برف ہٹائی جا سکتی تھی۔
ساحل عمر تابوت کے پاس سے ہٹ کر ایک ستون کے پاس آیا اور اس نے مختلف رنگ کا وہ پتھر سمار ملوک اور بابا صاعق کو دکھایا۔ اس پتھر کو نکالتے کے لئے ساحل عمر کا دل بے چین تھا۔ اس دن تو اکیلا تھا اس لئے اس نے اس پتھر کو نکالنے کا خطرہ مول نہیں لیا تھا لیکن آج وہ اکیلا نہ تھا۔ اس کے ساتھ دو طاقتور بندے موجود تھے۔ پھر کسی ایمرجینسی کی صورت میں غار کے باہر مستعد اور مصلح نوجوان ایک اشارے کے منتظر تھے۔ آج خطرہ مول لینے میں کوئی حرج نہ تھا۔ اسے جانے یہ یقین کیوں تھا کہ ان ستونوں میں خزانہ بھرا ہوا ہے۔
بابا صاعق اور سمار ملوک دونوں نے چاروں ستونوں کا اور ان ستونوں میں لگے مختلف رنگ کے پتھروں کا اچھی طرح جائزہ لیا۔ پھر وہ دونوں اپنا اپنا علم آزما کر اس بات پر متفق ہو گئے کہ واقعی ان ستونوں میں خزانہ ہے جو اس پتھر کو نکالتے ہی باہر آ نا شروع ہو جاۓ گا۔
“بابا صاعق کیا خیال ہے ایک ذرا سا پتھر نکال کر دیکھ نہ لوں۔” ساحل عمر نے پوچھا۔
“کیوں رمز شناس کیا کہتے ہو۔‘‘ بابا صاعق نے خود فیصلہ دینے کے بجائے فیصلہ سمار ملوک پر چھوڑ دیا۔
“میرا خیال ہے کہ پہلے وہ کام کیا جائے جس کے لئے ہم یہاں آئے ہیں۔ پھر اس خزانے کو دیکھیں گے۔‘‘ سار ملوک نے کہا۔
’’پھر شاید دیر ہو جاۓ۔‘‘ بابا صاعق نے دھیرے سے کہا۔
یہ بات ساحل عمر نے سنی نہ سمار ملوک نے .. وہ دونوں فورا ہی تابوت کی طرف متوجہ ہو گئے
“اے رمز شناس اب کیا کروں.؟ کیا اس تلوار سے برف کو توڑ نا شروع کروں۔” ساحل عمر نے تابوت کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
“نہیں تلوار سے توڑ نا نہیں ہے. لاؤ یہ روشنی مجھے دو۔ میں روشنی دکھا تا ہوں۔ تم دونوں ہاتھ میں تلوار لے کر اس برف کی قبر پر زور سے وار کرو۔‘‘ یہ کہہ کر سمار ملوک نے اس کے ہاتھ سے ٹارچ لے لی۔
ساحل عمر نے دونوں ہاتھ سے تلوار پکڑنے سے پہلے اپنے گلے میں پڑا تعویذ کپڑوں سے باہر نکالا۔ پھر اس نے اپنے دائیں ہاتھ کی مٹھی میں اسے لے لیا۔ تعویذ کو زور سے دبایا۔ اسے قوت کی ایک لہر پورے بدن میں سرایت کرتی ہوئی محسوس ہوئی۔
پھر اس نے اس تعویذ کو بائیں ہاتھ کی مٹھی میں تھام کر زور سے بھینچا۔ فورا ہی طاقت کا دریا اس اپنے بدن میں موجزن محسوس ہوا پھر جیسے کسی نے کہا۔ “وار کر فتح تیری ہوگی۔‘‘
اس اشارے کے بعد اب ساحل کو کسی مزید اشارے کی ضرورت نہیں تھی۔ اس نے اللہ کام نام لے کر برف کی قبر پر دونوں ہاتھوں سے وار کیا۔ تلوار برف میں پھنس گئی اور برف کا شیشہ چٹخ گیا۔ جب اس نے تلوار کھینچی تو پوری تلوار خون آلود تھی۔ برف پر بھی خون دکھائی دے رہا تھا۔ اس خون کو دیکھ کر سمار ملوک کے چہرے پر خوشی دوڑ گئی۔ اس کا ایک اور خواب سچا ہو گیا تھا۔ اس نے فخر سے بابا صاعق کی طرف دیکھا۔ بابا صاعت نے مسکرا کر گردن اثبات میں ہلائی جیسے کہہ رہے ہوں میں جانتا ہوں کہ تم سچے خواب دیکھتے ہو۔ چند لمحوں بعد وہ خون اچانک تلوار سے غائب ہوگیا۔ برف پر بھی خون کا کوئی نشان باقی نہ رہا۔ اب ساحل عمر نے ذرا سا فاصلہ دے کر دوسرا وار کیا تلوار با ہر نکالی تو وہ خون آلودتھی۔ برف پر بھی تازہ خون دکھائی دے رہا تھا۔ چند لمحوں بعد تلوار پھر صاف ہوگئی۔ اس طرح ساحل عمر نے فاصلہ دے کر سات وار کئے۔ جب اس نے ساتواں وار کر کے تلوار اوپر اٹھائی تو وہ برف کی قبر سات حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ برف کی سلیں پھسل پھسل کر چبوترے سے نیچے گرنے لگی چبوترے پر صرف تابوت رکھا رہ گیا۔
ساحل عمر نے پھر تلوار اٹھائی اور شیشے والے حصے پر ایک زور دار ضرب لگانا چاہی تو سمارملوک نے فورا اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ “اے ساحل عمر نہیں۔ “
“کیوں آخر؟‘‘
“ہم اسے مع تابوت اپنی بستی میں لے جائیں گے۔ وہاں جا کر بستی والوں کے سامنے اس کا حساب کتاب کریں گے۔‘‘ سمار ملوک نے یہ فیصلہ اچانک ہی کیا تھا۔ اس فیصلے کی تائید کے لئے اس بابا صاعق کی طرف دیکھا۔
’’کیوں بابا کیا کہتے ہو؟‘‘
“ہاں تم نے ٹھیک سوچا۔‘‘ صاعت آپ ساحل عمر کو لے کر نیچے پہنچیں میں تابوت اٹھوا کر آپ کے پیچھے آتا ہوں”
“اور اے رمز شناس. اس خزانے کو کب نکالیں گے ۔‘‘ ساحل عمر نے سوال کیا۔
“سال عمر. یہ خزانہ نکالنے کا مناسب وقت نہیں۔ خزانہ یہاں سے کہیں نہیں جاۓ گا۔ خزانے کو راعین کے خاتمے کے بعد نکالیں گے۔‘‘
پھر وہ بابا صاعق سے مخاطب ہوا۔’’ کیوں بابا ٹھیک ہے”
“ہاں ٹھیک ہے۔‘‘ بابا صاحق نے گردن ہلائی۔
”تو پھر چلیں آپ۔‘‘ سار ملوک نے کہا۔
بابا صاعق ساحل عمر کو ساتھ لے کر غار سے باہر نکل آۓ اور دھیرے دھیرے قدم جماتے ہوۓ کوہ ویراں سے نیچے اترنے لگے۔
ان کے جانے کے بعد رمز شناس سمار ملوک نے بستی کے نوجوانوں کی مدد سے رائین کے تابوت کو غار سے باہر نکالا اور پھر وہ اس تابوت کو لے کر بہت احتیاط سے نیچے اترنے لگا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: