Anwar Aleegi Urdu Novels

Bichoo Novel By Anwar Aligi – Episode 23

Bichoo Novel By Anwar Aligi
Written by Peerzada M Mohin
 بچھو از انوار علیگی – قسط نمبر 23

–**–**–

جب یہ تابوت بستی میں پہنچا تو ہر طرف ہلچل مچ گئی۔ کیا بچے کیا عورتیں کیا بوڑھے۔ سب اسے گنبدوں سے نکل کر اس تابوت کے ساتھ ہو لئے۔
راعین کے تابوت کو چھ نوجوانوں نے اپنے کندھوں پر اٹھایا ہوا تھا۔ وہ بہت بھاری تابوت تھا اتنا بھاری کہ ان نوجوانوں کے کندھے بھاری بوجھ سے جلدی ٹوٹنے سے تھے۔ پچاس قدم چلنا بھی دو بھر ہو جاتا تھا۔ فورا ہی چھ نوجوانوں کی دوسری ٹولی ان کی جگہ لے لیتی تھی۔
تابوت کے آ گے بابا صاعق، سمار ملوک اور ان کے درمیان ساحل عمر گھوڑوں پر سوار چل رہے تھے ساحل عمر کے ہاتھ میں ننگی تلوار موجود تھی۔بستی کا بچہ بچہ جانتا تھا کہ یہ تلوار کس کی ہے۔ سب کو اس بات پر حیرت تھی کہ بستی کے رمز شناس سمار ملوک کی شاہی تلوار اس شخص کے ہاتھ میں کیسے آئی…. یہ کون ہے؟
ساحل عمر کا چہرہ کنٹوپ میں چھپا ہوا تھا صرف آنکھیں نظر آرہی تھی۔ آنکھوں سے اندازہ لگانا مشکل تھا کہ آیا یہ کوئی بستی کا نوجوان ہے یا کسی اور دنیا کی مخلوق ہے۔ کہیں اور سے آیا ہے
بابا صاعق کا خیال تھا کہ اس تابوت کو میدان فنا میں لے جایا جاۓ۔ لیکن سمار ملوک نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ہمیں اپنی بستی کا قبرستان اس خبیث کے وجود سے گندا نہیں کروانا۔ پھر یہ طے ہوا کہ اس تابوت کو ایسی جگہ لے جا کر رکھا جاۓ جہاں بستی کا ہر بچہ بآسانی اس کی موت کا نظارہ کر سکے اور اس کے وجود سے اس جگہ کا تقدس بھی خراب نہ ہو ایسی جگہ بستی کے مغرب میں ہی ہوسکتی تھی اور وہ مقام تھا کالا پہاڑ کالا پہاڑ کے بارے میں روایت مشہور تھی کہ اس کے آس پاس بھی ایک بستی آباد تھی جو اپنی نافرمانی کی وجہ سے تباہ و برباد ہو گئی۔ اس پہاڑ پر آسمانی بجلی گری جس سے پہاڑ جل کر کالا ہو گیا۔ آس پاس کی آبادی بھی جل کر راکھ ہو گئی۔ اس کے بعد سے یہ علاقہ بھی آباد نہ ہو سکا۔ یہ ایک بہت وسیع وعریض میدان تھا جس کے دمیان میں کالا پہاڑ کھڑا تھا۔ یہ پہاڑ زیادہ اونچا نہ تھا اس پر چڑھنا بھی مشکل نہ تھا۔ پھر یہی طے ہوا کہ اس تابوت کو اس پہاڑ کی چٹان پر رکھ دیا جاۓ۔
جب بستی والوں کو یہ معلوم ہوا کہ اس تابوت کو کالے پہاڑ کی طرف لے جایا جا رہا ہے تو بستی کے بچوں نے فورا ادھر کا رخ کیا۔ نوجوان لڑکیاں بھی اس طرف دوڑیں تا کہ انہیں سب سے آگے جگہ مل سکے۔
جب یہ تابوت کالے پہاڑ کے دامن میں پہنچا تو بستی کا ایک ایک بچہ یہاں پہلے سے موجود تھا۔ ایک او نچی چٹان پر اس تابوت کو رکھا گیا۔
پھر اس تابوت کو کھول کو راعین کی ’’زندہ لاش‘‘ اور کتاب سحر باہر نکالی گئی اور پھر تابوت بند کر کے اس پر ’’زندہ لاش‘‘ کو رکھ دیا گیا اور یہ کتاب اس کے سینے پر رکھ دی گئی۔
اس کے بعد اعلان ہوا کہ بستی کا جو بھی آ دمی اس ’’زندہ لاش‘‘ کا قریب سے نظارہ کرنا چاہتا ہے۔ وہ اوپر آ جاۓ۔ اس اعلان سے بستی والوں میں ایک جوش و ولولہ پیدا ہوگیا۔ بھلا کون ایسا تھا جو اس منحوس کا چہرہ دیکھنا نہ چاہتا ہو۔ فورا ایک لائن لگ گئی۔ لوگ آتے گئے دیکھتے گئے۔
اب اس عفریت کے جاگنے میں صرف چوبیس گھنٹے باقی تھے۔ اسکے چہرے پر زندگی کے آثار پیدا ہوتے جا رہے تھے۔ غور سے دیکھنے پر یوں محسوں ہوتا تھا جیسے اس کی پلکیں لرز رہی ہوں۔
پھر اس بستی کا رمز شناس سمار ملوک باوقار چال چالتا اس چٹان پر آیا جہاں تابوت پر راعین کی لاش رکھی تھی۔ اس کے اوپر آ تے ہی بستی کا کوئی بھی فرد بستی پر کھڑا نہ رہ سکا۔ سب نیچے چلے گئے تب سمار ملوک نے بابا صاعق کو اشارہ کیا تو وہ دھیرے دھیرے چلتا چٹان پر پہنچ گیا۔
پھر سمار ملوک نے راعین کے بارے میں بستی والوں کو تفصیل سے بتایا کہ وہ کون ہے؟ جب وہ اس کا مکمل تعارف کروا چکا تو پھر اس نے بتایا۔
’’بستی والو اس عفریت کے جاگنے میں صرف چوبیس گھنٹے باقی ہیں۔ اسے جاگنے سے پہلے ہی ابدی نیند سلانا ہو گا اور یہ کام کرے گا ایک بہادر نوجوان ساحل عمر”
“یہ کون ہے؟ کہاں سے آیا ہے؟‘‘ چاروں طرف سے ایک شور اٹھا۔
“بستی والو. بس اتنا جان لو کہ یہ ہماری بستی کا نہیں ہے۔ ہم سا نہیں ہے۔ ہم میں سے نہیں ہے کہیں اور سے آیا ہے لیکن یہ ہمارا نجات دہندہ ہے ہمارے لیئے قابل احترام ہے تمہیں جان کر خوشی ہو گی کہ اس نوجوان نے اس عفریت کا مدفن تلاش کیا اور اب یہ عفریت اس نو جوان کے ہاتھوں ابدی نیند سوۓ گا۔‘‘
اتنی دیر میں ساحل عمر چٹان پر پہنچ چکا تھا۔ اس کے ہاتھ میں تلوار موجود تھی اور اس کا چہرہ ابھی تک ڈھکا ہوا تھا۔ تب مجمعے سے ایک دم شور اٹھا۔
”اے رمز شناس… ہمیں اپنے نجات دہندہ کا چہرہ دکھا۔‘‘ تبھی سمار ملوک ساحل عمر کی طرف بڑھا اور اس نے کنٹوپ کا پھندا پکڑ کر ایک جھٹکے سے کھینچ لیا۔ ایک دم کنٹوپ اسکے سر چہرے اور گردن سے سرک کر سمار ملوک کے ہاتھ میں آ گیا۔
ساحل عمر کا چہرہ سامنے آیا تو بستی کے لوگ دم بخود تھے ۔ ایسا حسین نو جوان انہوں نے آج تک نہ دیکھا تھا۔ وہ اسے دیکھتے رہ گئے۔ اس بستی کی لڑکیوں کا تو سانس رک گیا۔ کئی لڑکیوں کے دل میں ہوک اٹھی۔ کاش وہ اس کا ہاتھ پکڑ سکیں وہ اس کا مور بن سکتا۔ جشن شادی میں صرف چوبیس گھنٹے باقی تھے۔ سب لڑکیاں اپنے اپنے مور منتخب کر چکی تھیں۔ تابوت کے قریب ہی الاؤ تیار کیا جا رہا تھا کہ کتاب سحر کو جلایا جا سکے۔ جب الاؤ بھڑک اٹھا تو سمارملوک نے ساحل عمر کو اشارہ کیا کہ وہ کتاب اٹھا کر الاؤ میں جھونک دے۔ ساحل عمر اشارہ پا کر “ربطول‘‘ کی طرف بڑھا۔ پھر وہ راعین کی لاش کے سامنے ٹھہر گیا۔ ربطول کو ہاتھ لگانے سے پہلے اس نے تعویذ کو اپنے کپڑوں سے باہر نکالا اور اسے اپنی مٹھی میں لے لیا۔ پھر یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے کہا ہو۔ ’’اس تعویذ کوا پنی پیشانی پر رکھ کر آہستہ سے دباؤ۔”
ساحل عمر نے وہ تعویذ فورا اپنی پیشانی پر رکھ لیا اور اسے دھیرے سے دبایا۔ دباتے ہی اس کے جسم کے اندر بجلیاں سے کوند گئیں۔ اسے اپنے اندر بے پناہ طاقت اور تحفظ کا احساس ہوا۔
پھر اس نے تعویز چھوڑ کر کتاب سحر ’’ربطول‘‘ اٹھائی۔ اس کتاب کو چمڑے کے باریک ورقوں پر سفید رنگ سے کسی نامانوس زبان میں لکھا گیا تھا۔ کتاب کے صفحات کا رنگ گہرا بھورا تھا۔ اس نے اس کتاب کا ایک ورق جھٹکے سے الگ کیا اور اس ورق کو بابا صاعق کے ہاتھ میں دے کر کہا۔ ’’بابا شروع کیجیئے“
بابا صاعق نے اس ورق کو آ گے بڑھ کر الاؤ میں ڈال دیا۔ اس ورق کو الاؤ میں ڈالتے ہی بایا صاعق کو گرمی سی لگی اور پھر یہ تپش آہستہ آہستہ بڑھنے لگی۔
دوسرا ورق پھاڑ کر اس نے سمار ملوک کو دیا۔ اس نے جلدی سے آگے بڑھ کر اس ورق کو الاؤ میں جھونک دیا۔ اس ورق کو الاؤ میں ڈالتے ہی سار ملوک کو گرمی سی لگی اور پھر یہ تپش آہستہ آہستہ بڑھنے لگی۔
تیسرا ورق پھاڑ کر اس نے پھر بابا صاعق کے حوالے کیا۔ بابا صاعق نے کتاب سحر کا تیسرا ورق پکڑ کر الاؤ میں ڈال دیا۔ ان کے اندر کی گرمی میں مزید اضافہ ہو گیا۔
ساحل عمر ایک ایک کر کے کتاب کے ورق پھاڑ پھاڑ کر باری باری دونوں کو دیتا گیا۔ جب سات سات ورق دونوں آگ میں جھونک چکے تو ان کے اندر کی گرمی نا قابل برداشت ہو گئی۔ انہیں یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ دونوں خود الاؤ میں کھڑے ہوں اور آگ انہیں جلا رہی ہو۔ یہ ایک ایسی آگ تھی جو لگی ہوئی تو تھی لیکن دکھائی نہیں دے رہی تھی جب پندرہواں ورق ساحل عمر نے سمار ملوک کی طرف بڑھایا تو وہ خوف سے پیچھے ہٹ گیا اور بولا ۔’’نہیں۔‘‘
’’ کیا ہوا؟‘‘ ساحل عمر نے اسے پریشان ہو کر دیکھا
“میرے اندر آگ لگی ہوئی ہے۔ مجھ پر پانی ڈالو‘‘ سمار ملوک اپنے دونوں ہاتھوں سے پنکھا جھلتا ہوا بولا۔
“میرا بھی یہی حال ہے۔‘‘ بابا صاعق بھی فورا گھبرا کر بولے۔ ’’ہم کس مصیبت میں پھنس گئے۔‘‘
ابھی ساحل عمر سوچ ہی رہا تھا کہ کیا کرے۔ اتنے میں جمع سے آواز آئی۔ ’’آگ آگ۔“
لیکن آگ کہیں نہیں دکھائی دے رہی تھی ۔ آخر یہ کیسی آگ تھی جو لگی ہوئی تو تھی لیکن دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ شاید وہ جسموں کے اندر لگی ہوئی تھی۔ ساحل عمر اس آگ سے محفوظ تھا۔ وہ پورے اطمینان سے کھڑا تھا۔ پھر اسے تعویذ کو چھونے کا خیال آیا۔ اس نے فورا تعویذ پر اپنا انگوٹھا رکھ دیا۔ اس وقت کہیں سے آواز آئی ۔’’اس منحوس کتاب کو فورا الاؤ میں پھینک دو۔‘‘
ساحل عمر اس ہدایت کو سنتے ہی تیزی سے آگے بڑھا اور کتاب سحر کی دونوں جلدیں الاؤ میں اچھال دیں۔ ادھر وہ کتاب آگ میں گری ادھر سمار ملوک اور بابا صاعق کے چہروں پر سکون چھا گیا۔ مجمع سے بھی آگ آگ کی آواز آنا بند ہوگئی۔
یہاں سے وہاں تک ہر شخص کا دل ٹھنڈا ہو گیا۔ اس کے جسم میں لگی ہوئی آگ پر جیسے پانی پڑ گیا
لوگوں کے اندر کی آگ بجھی تو اچانک چیخوں کی آوازیں آنے لگی۔ یہ بہت بھیانک چیخیں تھیں۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے سینکڑوں مرد اور عورتیں مل کر زور زور سے رو رہے ہوں کراہ رہے ہوں چیخ رہے ہوں۔
ساحل عمر نے گھبرا کر مجمع کی طرف نظر ڈالی لیکن مجمع بڑے اطمینان سے کھڑا ہوا تھا۔ سمار ملوک اور بابا صاحق کے چہرے بھی پرسکون تھے لیکن وہ چیخیں اب بھی بلند ہو رہی تھیں۔ پھر ان چیخوں میں بادلوں کی گرج اور بجلیوں کی کڑک بھی شامل ہو گئی۔ چند ساعتوں کو گھپ اندھیرا چھا گیا جیسے پورا سورج اچانک گر ہن میں آ گیا ہو۔ کتاب سحر دھڑ دھڑ جل رہی تھی۔ یہاں تک کہ اس کا آخری ورق بھی جل کر خاک ہو گیا۔
پوری کتاب کے جلتے ہی نہ چیخوں کی آواز رہی نہ بجلی کی کڑک اور نہ ہی اندھیرا۔ ہر چیز اپنے معمول پر آ گئی۔ بابا صاعق اور سمار ملوک نے ساحل عمر کو بڑے فخر سے دیکھا۔ اس نے اس دنیا کو اس شیطانی کتاب سے نجات دلا دی تھی جو انسانیت کی دشمن تھی جس کے شر سے کوئی بھی مخلوق محفوظ نہ تھی
کتاب شر جو اللہ کی مخلوق کے لئے باعث اذیت تھی وہ نیست و نابود ہو چکی تھی لیکن ابھی وہ فتنہ باقی تھا جسکے فتنے سے قیامت سے پہلے قیامت آ سکتی تھی۔ ابھی اس عفریت کا خاتمہ باقی تھا۔
اب ساحل عمر راعین کی لاش کی طرف متوجہ ہوا۔ اس نے اپنی تلوار کی نوک سے اس کا جسم چھوا تو وہ پتھر کی طرح سخت محسوس ہوا۔ اس نے تلوار اس کے سینے پر دوبارہ ماری۔ یوں محسوس ہوا جیسے تلوار کسی پتھر سے ٹکرائی ہو۔ کھٹ کھٹ کی آوازیں آئیں۔ تب ساحل عمر نے راعین کے جسم کا ایک ایک حصہ تلوار سے بجا ڈالا ہر حصہ پتھر کی طرح سخت تھا۔
ساحل عمر نے بابا صاعق اور سمار ملوک کی طرف باری باری دیکھا اور بولا ۔’’یہ تو چٹان کی طرح سخت ہے۔ اس پر تلوار کا وار کارگر نہ ہو گا۔“
“وار کر کے تو دیکھو۔‘‘ سمار ملوک نے ہدایت کی۔
’’اچھا‘‘ ساحل عمر نے یہ کہہ کر تلوار اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامی اور ذرا سا پیچھے ہٹ کر راعین کے پیٹ پر ایک بھر پور وار کیا۔
لاش کا کچھ نہ بگڑا البتہ ساحل کے ہاتھ ضرور جنجھنا گئے۔ تلوار جیسے کسی پتھر پر پڑی تھی۔ کھٹ کی زور دار آواز آئی تھی۔ یہ دیکھ کر سمار ملوک پریشان ہو گیا۔ اس نے ساحل عمر کے نزدیک آ کر کہا۔ ’’ذرا اس کی گردن پر وار کر کے دیکھو۔‘‘
ساحل عمر نے گردون اثبات میں ہلائی اور اس کی گردن کے سامنے کھڑے ہو کر ایک بھر پور دار کیا لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات.. لاش کا کچھ نہ بگڑا پھر سے ٹکرانے جیسی آواز پیدا ہوئی۔ وار کی ناکامی نے بابا صاعق اور سمار ملوک کے چہرے ایک دم سفید کر دیئے۔ وہ دونوں کھبرا گئے۔ اب کیا ہو گا ۔ اگر اسکو نیست و نابود نہ کیا گیا تو یہ جاگ کر وہ فتنے اٹھائے گا کہ اس بستی کا نام و نشان تک نہیں رہے گا۔
“اسے جلتے الاؤ میں ڈال کر دیکھا جائے۔‘‘ بابا صاعق نے سارملوک کی طرف دیکھا۔
“یہ پتھر کی طرح سخت ہے. بھلا پتھر کا آگ کیا بگاڑے گی۔‘‘ سمار ملوک فکر مند ہو کر بولا
تب سال عمر کے دل میں تعویذہ کو چھونے کا خیال آیا۔ اس نے دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ”پریشان نہ ہوں میں کرتا ہوں کچھ‘‘
یہ سن کر دونوں کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ ’’ہاں تم ہی کچھ کر سکتے ہو“
ساحل عمر نے اپنے گلے میں پڑے چاندی کے تعویذ کو مٹھی میں لے لیا۔ اس وقت اسے ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نے کہا ہو۔ ’’اس منحوس کی آنکھوں پر وار کرو۔‘‘
” اوہ‘‘ اس آواز کوسن کر ساحل عمر کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔’’یہ ہوئی نہ بات‘‘
وہ راعین کی لاش کے قریب ہوا۔ اس نے جھک کر اس کی آنکھوں میں بغور دیکھا۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کی پلکوں میں ہلکی سی لرزش ہو۔ اب اسے یقین ہو گیا کہ اس کی آنکھوں کے ذریعے ہی اسے مارا جاسکتا ہے۔ اس نے اللہ کا نام لے کر تلوار اونچی کی اور پوری طاقت سے اس کی دائیں آ نکھ پر وار کیا۔ تلوار کی نوک بہت آسانی سے آنکھ کے اندر گھستی چلی گئی۔ اس نے جلدی سے دائیں آ نکھ سے تلوار نکال کر بائیں آنکھ میں گھسیڑ دی۔ بائیں آنکھ سے تلوار نکلتے ہی خون ابل کر باہر آیا یہ کالے رنگ کا خون تھا اور کسی فوارے کی طرح نکلا تھا۔ ساحل عمر نے جلدی سے اس کی دائیں آ نکھ سے بھی تلوار کھینچ لی اور فوڑا پیچھے ہٹ گیا۔
دائیں آنکھ سے بھی کالا خون کسی فوارے کی مانند باہر نکلا۔ اس کی دونوں آنکھوں سے یہ کالا خون بہت تیزی سے نکل رہا تھا۔ یہ خون چٹان پر بہتا ہوا جا رہا تھا۔ جیسے جیسے اس کی آنکھوں سے خون نکلتا جا رہا تھا ویسے ویسے اس کی لاش پچکتی جا رہی تھی
کہیں دور سے زبردست دھماکوں کی آوازیں آ رہی تھیں جیسے کسی محاذ پر جنگ ہو رہی ہو۔ توپ کے گولے پھٹ رہے ہوں۔ بم گرائے جار ہے ہوں۔ ان دھماکوں کی دھمک سے کالا پہاڑ بھی لرز رہا تھا۔
پھر جب تک اس کی آنکھوں سے خون فواروں کی مانند نکلتا رہا۔ دھماکوں کی آوازیں آتی رہی جیسے ہی خون بند ہوا دھماکوں کی آوازیں آنا بند ہو گئیں۔
اب تابوت پر جو ڈھانچہ رہ گیا تھا اس کی ہڈیاں بھی پگھل کر بہہ رہی تھیں۔ کچھ دیر کے بعد یہ ہڈیاں بھی نہ رہیں۔ اس کی پوری لاش پانی بن کر بہہ گئی۔ البتہ اس کی کھوپڑی کو کچھ نہ ہوا۔ کھوپڑی کا ڈھانچہ سلامت رہا۔ ساحل عمر نے اس کی کھوپڑی کو اپنی تلوار کی نوک پر اٹھا لیا اور اپنا ہاتھ اونچا کر کے چٹان سے نیچے اترنے لگا۔
اس وقت پیچے سے آواز آئی ۔’’ٹھہرو!‘‘
ساحل عمر کوفورا ہی اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔
وہ اصل میں جوش میں آ گیا تھا۔ راعین کی موت کی خوشی میں اسے اس بات کا خیال نہیں رہا تھا کہ وہ کسی اور کی بستی میں ہے اور اس بستی کا مالک و مختار رمز شناس سمار ملوک ہے اس کی اجازت کے بغیر اسے راعین کا سر لے کر نیچے نہیں جانا چاہیے تھا۔
ٹھہرو کی آواز پر اس کے بڑھتے قدم فورا رک گئے اور پھر وہ فورا واپس آ کر سمار ملوک کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
“اے ساحل عمر ہمیں بھی اپنی خوشی میں شامل کر۔‘‘ سمار ملوک خوشدلی سے بولا۔ ’’تم اکیلے ہی نیچے بھاگے جار ہے ہو۔ ہمیں بھی اپنے ساتھ لے کر چلو“
“اے رمز شناس ضرور. مجھ سے غلطی ہوئی معافی کا طلب گار ہوں۔‘‘
ایسا نہ کہو تم ہمارے نجات دہندہ ہو ہمارے محسن ہو ہمارے لیے قابل احترام ہو۔” یہ کہہ کر سمارملوک نے ساحل عمر کا اٹھا ہوا ہاتھ جس میں تلوارتھی اور تلوار کی نوک پر کھوپڑی تھی پکڑ لیا۔ پر بابا صاعق نے بھی ایسا ہی کیا۔ اس کے بعد وہ تینوں آہستہ آہستہ چٹان سے نیچے اترنے لگے۔
ان کو نیچے اتر تا دیکھ کر مجمع میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اس عفریت کی موت نے بستی کے ہر شخص میں ایک جوش بھر دیا تھا۔ وہ اس کھوپڑی کو قریب سے دیکھنے کے لئے بے چین تھے۔ مجمع ان کو اپنے قریب دیکھ کر کائی کی طرح چھٹ گیا۔ وہ تنیوں لوگوں کے درمیان سے گزرنے لگے۔
رمز شناس کا چہرہ خوشی سے تمتمایا ہوا تھا۔ بابا صاعق کے چہرے پر بھی چمک تھی۔ ساحل عمر تو خوش تھا ہی کہ یہ سارا کارنامہ ہی اس کا تھا۔ وہ مجمع میں کسی کو ڈھونڈ رہا تھا مگر اس کی نظریں تلاش میں ناکام ہو کر بار بار پلٹ رہی تھیں بھٹک رہی تھیں ۔
ساحل عمر کو بڑی حیرت تھی۔بستی کا بچہ بچہ یہاں موجود تھا لیکن نہیں تھی تو وہ نہیں تھی۔ لیکن یہ بات قرین قیاس نہ تھی۔ یہ ممکن ہی نہ تھا کہ وہ یہاں نہ ہو۔۔ وہ یہاں ضرور ہو گی۔اتنے رش میں اسے دیکھ لینا بھی تو آسان نہ تھا۔ اگر وہ یہاں ہو گی تو خود ہی سامنے آۓ گی۔ یہ سوچ کر وہ پورے اطمینان سے مجمع کے درمیان سے گزرنے لگا۔
پھر یہ جلوس بستی کے چوک پر پہنچ کر رک گیا۔
اس کھوپڑی کو جائے عبرت بنا دینا چاہیے۔ لہذا فورا ہی اس کا انتظام کیا گیا۔ ایک مضبوط نیزے پر اس کھوپڑی کو منتقل کر دیا گیا اور یہ نیزہ چوک کے درمیان میں گاڑ دیا گیا۔
اس کے بعد بستی کے رمز شناس سمار ملوک نے ایک خاص اعلان کیا۔ کل رات کو شادی کا جشن منایا جانا تھا۔ سمار ملوک چاہتا تھا کہ اس جشن کو سات دن کے لئے ٹال دیا جاۓ لیکن اس التواء کے لئے اسے ان لڑکیوں سے اجازت لینا ضروری تھی جن کی کل شادی ہونے والی تھی۔
تب سمار ملوک نے ان لڑکیوں سے مخاطب ہو کر کہا۔ ’’اپنے اپنے موروں کو منتخب کرنے والی لڑکیو! میں چاہتا ہوں کہ تمہاری شادی کا جشن سات دن کے لئے آگے بڑھا دوں. کیا تم اس بات کے لئے راضی ہو۔“
”اے رمز شناس… آخر ایسا کیوں؟‘‘ ایک امیدوار دوشیزہ نے سوال اٹھایا۔
”میں اس جشن کو یادگار بنانا چاہتا ہوں۔” سمار ملوک نے پر جوش انداز میں کہا۔
’’وہ کیسے؟‘‘ کئی دوشیزاؤں نے بیک وقت پوچھا۔
“اگر اس جشن میں رشا ملوک بھی شامل ہو جائے تو کیا یہ جشن یادگار نہیں ہو جاۓ گا۔” سمار ملوک نے اطلاع دی۔
’’ہو جاۓ گا ضرور ہو جاۓ گا۔‘‘ کئی لڑکیوں نے بیک وقت کہا۔ ’’کیا رشا ملوک نے اپنا مور منتخب کر لیا۔“
”یہ بات تو ہمیشہ راز رہتی ہے۔ یہ بات تو اسی رات ظاہر ہو گی۔‘‘ سمار ملوک نے اس کا راز نہ کھولا۔
”ٹھیک ہے۔“
“بس تو پھر طے ہوا کہ شادی کا جشن سات دن بعد منایا جاۓ گا۔”
” طے ہوا؟‘‘ بہت سی لڑکیوں نے یک زبان ہو کر نعرہ لگایا۔
“بس پھر اپنے اپنے گنبدوں کو جاؤ اور جشن کی رات کا انتظار کرو۔“ سمار ملوک نے اعلان ختم کیا۔
یہ سنتے ہی بستی کے مرد عورتیں بچے اور لڑکیاں چھٹنے لگیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے چوک خالی ہو گیا
اب جو ساحل عمر نے نظر گھمائی تو اس کے دل میں انار پھوٹنے لگے۔ رشا ملوک اور مویاس کے سامنے کھڑی تھیں۔
رشا ملوک نے ایک نظر ساحل عمر کی طرف دیکھا اور پھر فورا ہی پلکوں کی چلمن گرالی۔ اس کے چہرے پر حیا کی سرخی دوڑ گئی۔ وہ سر جھکا کر شرمیلی مسکراہٹ کے ساتھ مویا کا ہاتھ پکڑ کر نزدیک کھڑی شاہی کٹاری کی طرف بھا گی۔ پھر وہ پردے میں چھپ کر بیٹھ گئی اور کٹاری فورا ہی محل کی جانب روانہ ہو گئی۔
راعین جہنم واصل ہو چکا تھا۔ کتاب سحر جل کر خاک ہو چکی تھی۔ دو بڑے اور اہم کام انجام پا گئے تھے لیکن ابھی ایک کام اور باقی تھا اور یہ کام بھی چھوٹا نہ تھا غیر اہم نہ تھا۔
اسے ایک مرتبہ اور راعین کے مدفن جانا ہو گا۔ ان چار ستونوں میں جوخزانہ بھرا ہے اسے لانا ہو گا۔ اگر چہ یہ بات یقینی نہ تھی کہ ان ستونوں میں خزانہ ہی بھرا ہے لیکن غالب امکان یہی تھا کہ یہ ستون خالی نہیں ہیں۔ ان میں ضرور ہیرے جواہرات بھرے ہیں۔ اچھا یہ ہوتا کہ وہ ایک پتھر نکال کر اس بات کی تصدیق کر لیتا لیکن بابا صاعق اور سمار ملوک نے ایسا نہ کرنے دیا۔ انہیں اس بات کا یقین تھا که ستونوں میں خزانے کے سوا کچھ نہیں۔ اس لئے انہوں نے وقت کے ضیاع سے بچنے کے لئے اس طرف توجہ نہ دی۔ اصل مسئلہ تو راعین اور کتاب سحر کا خاتمہ تھا۔ اس کام میں دیر نہیں ہونا چاہیے تھی۔اگر ستونوں میں خزانہ تھا تو وہ کہیں نہیں بھاگا جارہا تھا۔
اب یہ دونوں کام بخیر و خوبی ہو چکے تھے اب خزانہ نکالنے کا فریضہ انجام دے لینا چاہیئے تھا ابھی سات دن باقی تھے۔ یہ کام تین چار دن میں بآسانی انجام دیا جا سکتا تھا۔
اس کام کے لئے اس کو خود ہی جانا ہو گا۔ ممکن ہے سار ملوک بھی اس کے ساتھ جانا چا ہے۔اس سلسلے میں اس سے بات کرنا ہو گی۔
ساحل عمر کے اصرار پر سمار ملوک نے اسے اس مہم پر جانے کی اجازت تو دے دی لیکن خود نہیں گیا۔ اس نے اس کے ساتھ بازغر کو بھیج دیا۔ بازغر سمار ملوک اور بابا صاعق کا اک با اعتما شخص تھا۔ پھر ساحل عمر بھی اسے اچھی طرح جانتا تھا اس کے ساتھ وہ سفر بھی کر چکا تھا۔ اب بازغر پھر اس کے ساتھ مہم پر جا رہا تھا یہ بات ساحل عمر کیلئے خوشی کی تھی۔ بازغر ایک بہت سمجھدار شخص تھا۔ وہ بہت اچھی ہاتیں کیا کرتا تھا۔
بازغر نے اس مہم کے لئے چالیس نو جوانوں کا انتخاب کیا اس حساب سے خچر اور گھوڑوں کا انتظام کیا گیا۔ خزانہ لانے کی صورت میں کن کن چیزوں کی ضرورت پڑے گی وہ اکٹھا کی گئیں اور پھر بہ قافلہ چل پڑا۔
رات کو اس قافلے نے کوہ ویراں کے دامن میں پڑاؤ ڈالا۔ پھر صبح ہوتے ہی یہ لوگ کوہ ویراں کی بلندی کو ناپنے لگے۔ پھر ایک وقت آیا کہ انہیں اپنے گھوڑے خچر چھوڑنے پڑے۔ اب پیدل سفر شروع ہوا۔
بالآخر ساحل عمر اور بازغر نے راعین کے مدفن کو پالیا۔ ان کے پیچھے پیچھے نو جوان بھی پہنچ گے۔ ساحل عمر نے ان میں سے چار نوجوانوں کو اپنے ساتھ لیا باقی نو جوانوں کو باہر کھڑے ہو کر انتظار کرنے کا حکم دیا۔ پھر وہ بازغر اور ان چار نوجوانوں کے ساتھ برف کے غار میں داخل ہوا۔ جب وہ سیڑھیاں اتر کر چبوترے کے نزدیک پہنچا اور اس نے ٹارچ کی روشنی میں غار کا جائزہ لیا تو سب کچھ ویسا ہی پایا جیسا چھوڑ کر گیا تھا۔ البتہ اس غار کی ویرانی مزید بڑھ گئی تھی۔ ایک دہشت اور خوف کی سی فضا تھی۔
ساحل عمر نے ان چاروں نوجوانوں میں سے دو کو چبوترے پر چڑھنے کو کہا جب وہ نوجوان چڑھ گئے تو اس نے ٹارچ کی روشنی ستون کے اس چوکور پتھر پر ڈالی جو مختلف رنگ کا تھا۔
“اس پتھر کو خنجر کے ذریعے ڈھیلا کر کے بہت احتیاط سے باہر نکالو۔‘‘ ساحل نے چبوترے کے نیچے سے ہدایت دی۔
بازغر اس کے برابر کھڑا تھا۔
اس نو جوان نے ساحل عمر کا حکم سن کر اپنی کمر سے بندھا خنجر نکالا اور بہت احتیاط سے پتھروں کے درمیان درز میں خنجر ڈال کر اس پتھر کو ڈھیلا کرنے لگا۔ چند منٹ کی محنت کے بعد وہ پتھر اتنا ڈھیلا ہوگیا کہ اسے انگلی کی گرفت میں لے کر کھینچا جا سکتا تھا۔ اس نو جوان نے پتھر کھینچنے سے پہلے ساحل عمر کی طرف دیکھا۔
“نکالو۔” ساحل عمر نے کہہ کر ٹارچ کا دائرہ اس پر مرکوز کر دیا اور بازغر کا ہاتھ پکڑ کر خود سیڑھیوں کے نزدیک ہو گیا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وہ پتھر نکلتے منظر کو قریب ہو کر دیکھتا لیکن جانے کیا ہوا کہ وہ آگے بڑھنے کی بجاۓ پیچھے ہٹ گیا اور بازغر کو بھی اپنے ساتھ پیچھے ہٹالیا۔
بعض اوقات غیر ارادی حرکتوں کے پیچھے قسمت کا فیصلہ چھپا ہوتا ہے۔ اس نو جوان نے ساحل عمر کا حکم سنتے ہی پےھر باہر کھینچ لیا۔
پتھر کا باہر کھنچا تھا کہ ایک قیامت کا ظہور ہوا۔ پتھر باہر نکالتے ہی وہ ستون دولکڑیوں میں اس طرح تقسیم ہو گیا جیسے اس پتھر کے سہارے کھڑا تھا۔ ستون کا ایک حصہ نو جوان پر گرا۔ دوسرا نو جوان جو اس کے پیچھے کھڑا تھا اس نے ستون کو گرتے دیکھا تو چبوترے سے چھلانگ لگا دی۔ اس ستون کے ساتھ ہی وہ غار بیٹھنے لگا۔ اندر ایک زلزلہ سا آ گیا۔ ساحل عمر سیڑھیوں کے نزدیک تھا۔ اس نے جیسے ہی صورت حال سنگین ہوتے دیکھی وقت ضائع کئے بغیر سٹرھیوں پر چڑھ گیا اور زور سے چیخا۔ ’’بازغر بھاگو‘‘
بازغر نے بھی ستون گرتے دیکھ لیا تھا۔ وہ فورا ہی اس کے پیچھے لپکا۔ ایک ستون کے گرتے ہی دوسرا تیسرا ستون ہلا اور پھر چاروں ستون زمین پر آ گرے۔ ستونوں کے گرتے ہی غار کی چھت بیٹھ گئی۔ پتھر نکالنے والے نوجوان کو تو بھاگنے کی مہلت نہ ملی لیکن دوسرا نو جوان جس نے چبوترے سے چھلانگ لگا دی تھی وہ بھی اس غار سے زندہ نہ نکل سکا۔ سیڑھیوں پر چڑھتے ہی غار کا دہانہ بند ہو گیا۔
وہ تو خیر ہوئی کہ ساحل عمر اور بازغر نکل گئے تھے ورنہ لمحوں کی دیر انکی زندگی چھن جانے کا باعث بن جاتی۔
ساحل عمر نے اوپر والے کا شکر ادا کیا کہ ان کی زندگیاں چھن جانے سے بچ گئیں تھیں۔ اب یہاں رکنا بیکار تھا۔ جو ہونا تھا وہ ہو گیا تھا۔
ساحل عمر کے ساتھ بابا صاعق اور سمار ملوک کو بھی قوی امید تھی کہ ان ستونوں میں خزانہ بھرا ہوا ہے۔ ان ستونوں میں وہ مختلف رنگ کے پتھر کچھ اس طرح لگائے گئے تھے کہ یہ شبہ یقین میں بدل جاتا تھا۔ وہ تو اچھا ہوا کہ ساحل عمر نے اس دن پتھر کھینچ کر نہیں دیکھا ورنہ سمار ملوک اور بابا صاحق کے ساتھ وہ بھی مدفون ہو جاتا۔ وہ اس بات کو سوچ سوچ کر خوش ہو رہا تھا کہ اس دن اس نے پتھر نہ نکال کر کس قدر زبردست کام کیا تھا۔
“بازغر یہاں سے جلد نکل چلو” ساحل عمر نے تیز قدم اٹھاتے ہوۓ کہا۔ ’’ابھی ہم خطرے میں ہیں۔“
بازغر نے تائیدی انداز میں گردن ہلائی اور وہ ساحل عمر کے ساتھ تیزی سے نیچے اترنے لگا
تیسرے دن کی صبح جب یہ قافلہ بستی میں داخل ہوا تو سمار ملوک کو اطلاع پہنچائی گئی سمار ملوک اطلاع ملتے ہی اپنی شاہی کثاری پر سوار ہو کر اس قافلے کے استقبال کے لئے نکل کھڑا ہوا۔ اس وقت تک یہ قافلہ چوک تک پہنچ چکا تھا۔ اس چوک تک جہاں ایک اونچے نیزے پر راعین کی کھوپڑی لٹکی ہوئی تھی جو سب کے لئے درس عبرت تھی۔
ساحل عمر اور بازغر نے چوک میں کھڑی شاہی کٹاری دیکھی تو دونوں نے اپنے گھوڑوں کو ایڑی لگائی اور آنا فانا شاہی کٹاری کے نزدیک پہنچ گئے۔
بستی کے رمز شناس سمار ملوک نے کٹاری سے اتر کر ساحل عمر کے چہرے پر نظر ڈالی تو اسے وہاں خوشی محسوس نہ ہوئی۔ یہی حال بازغر کا تھا۔ وہ دونوں گھوڑوں سے اتر کر خاموشی سے سمار ملوک کے سامنے کھڑے ہو گئے۔
“کیا ہوا؟‘‘ سمار ملوک کے لہجے میں فکر مندی تھی۔
“ہم اس بستی کے دونو جوان گنوا بیٹھے ۔“
“کیا کہتے ہو۔‘‘ سمار ملوک کی پیشانی پر بل پڑ گیا۔ “یہ کیسے ہوا….اور خزانہ”
”اے رمز شناس ہم سے غلطی ہوئی… ہم نے غلط اندازہ لگایا۔ وہاں کوئی خزانہ نہ تھا وہ دراصل موت کا شکنجہ تھا۔ اس شکنجے سے ہم تو بچ گئے مگر ہم اپنے دونو جونواں کونہیں بچا سکے۔“ یہ کہہ کر ساحل عمر نے مختصر الفاظ میں وہاں جو بیتی تھی وہ کہہ سنائی۔
“چلو چو ہوا سو ہوا بستی کے دو نوجوانوں کا غار میں دب جانے کا دکھ ہے۔ یہ منحوس.۔”۔ سمار ملوک نے راعین کی کھوپڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’ابھی تک ہماری بستی کے لوگوں کو نقصان پہنچائے جا رہا ہے۔“
“بس یہ اس کا آخری داؤ تھا. اب یہ قصہ ختم ہوا۔ یہ کھوپڑی ہمیشہ کیلئے درس عبرت بنی رہے گی۔” ساحل عمر نے بڑے یقین سے کہا۔
“بازغر تم ساحل عمر کو لیکر اس کی رہائش گاہ جاؤ. میں جانے والے نوجوانوں کے گنبد ہوکر تا ہوں۔” سمار ملوک نے کہا اور اپنی کٹاری پر چڑھ گیا۔
ساحل عمر اور بازغر گھوڑوں پر سوار ہو کر محل کی طرف چل دیئے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: