Anwar Aleegi Urdu Novels

Bichoo Novel By Anwar Aligi – Episode 24

Bichoo Novel By Anwar Aligi
Written by Peerzada M Mohin
 بچھو از انوار علیگی – قسط نمبر 24

–**–**–

جشن کی تیاریاں زور شور سے جاری تھیں۔ میدان جشن کونت نئی چیزوں سے سجایا جا رہا تھا۔
اس جش کو یادگار بنانے کے لئے ہر سطح پر کوششیں کی جا رہی تھیں اس جشن کو آخر یادگار کیوں نہ بنایا جاتا اس مرتبہ اس بستی کے رمز شناس کی اکلوتی بیٹی کی شادی تھی۔
اس جشن کے ہر طرف چرچے تھے۔ بستی کی لڑکیاں ایک دوسرے سے پوچھ رہی تھیں۔ کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا کہ رشا ملوک نے آخر کس کو اپنا مور منتخب کیا ہے محض اندازے تھے اور قیاس آرائیاں تھیں۔
جشن شادی میں ابھی دو راتیں باقی تھیں۔ اس رات مویا اسے کھانا کھلا کر گئی تو وہ اس گول کمرے میں کچھ دیر چہل قدمی کرتا رہا۔ جیسے جیسے شادی کا وقت نزدیک آ رہا تھا اسے اپنے لوگ یاد آتے جا رہے تھے۔ کاش! وہ اس شادی میں اپنے دوستوں کو شریک کر سکتا۔ اپنی ماں کو اس خوشی میں شامل کر سکتا۔ انہیں کتنی آرزو تھی اس کی شادی کی۔ جب انہیں معلوم ہو گا کہ وہ شادی کر لایا ہے تو وہ لوگ کس قدر ناراض ہوں گے۔ پھر وہ کیا کرے۔ یہ اس کے بس کی بات نہیں۔ وہ یہ بات اچھی طرح جانتا تھا کہ ان کی شمولیت کسی طور ممکن نہیں۔
پھر وہ سونے کے لئے لیٹا تو اس کی آنکھوں میں بڑی دیر تک یادوں کی شمعیں جھلملاتی ر ہیں۔ وہ یادوں کی برات میں گھرا جانے کب سو گیا۔ جانے وہ رات کا کون سا پہر تھا کہ اچانک اس کی آنکھ کھل گئی۔ کمرے میں ہلکی روشنی موجود تھی۔ اس روشنی میں اس نے دیکھا کہ اسکے کمرے کا دروازہ خوف میں مبتلا کر دینے والی چرچراہٹ کے ساتھ کھل رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سردی کی ایک تیز لہر اندر داخل ہو رہی ہے۔
یہ بات اسے اچھی طرح یاد تھی کہ وہ رات کو سونے سے پہلے دروازہ اچھی طرح بند کر کے سویا تھا۔ پھر یہ دروازہ کیسے کھلا یہ اتنی برفانی ہوا اندر کس طرح آ رہی ہے۔ کیا باہر کا دروازہ بھی کھلا ہوا ہے
وہ فورا اٹھ کر بیٹھ گیا اور اس نے سرہانے رکھی تلوار فورا اپنے ہاتھ میں اٹھالی۔ اسے دروازے میں کوئی دکھائی نہ دیا لیکن وہ دروازہ اب بھی آہستہ آہستہ کھل رہا تھا۔
جب وہ پورا درواز کھل گیا تو ساحل عمر نے اسے دہلیز پر دیکھا۔ وہ بڑے اطمینان سے اندر داخل ہو رہا تھا۔ اس کا رخ سیدھا بستر کی طرف تھا۔ جوں جوں وہ بستر کی طرف بڑھتا آ رہا تھا رفتہ رفتہ اس کا سائز بڑا ہو رہا تھا۔ یہاں تک کہ وہ ایک بڑے کچھوے کے برابر ہو گیا وہ بچھو تھا اعور تھا۔
اس سے پہلے کہ اعور بستر پر چڑھ کر اس پر حملہ آور ہو جاتا ساحل عمر بہت تیزی سے بستر سے نکل کر ایک طرف ہوا اور اس نے تلوار کا ایک بھر پور وار کیا۔
اس وار کا اعور پر کوئی اثر نہ ہوا۔ تلوار جیسے کسی پتھر کے ٹکڑے سے ٹکرائی۔ اس وار پر بس وہ ایک لمحے کے لئے رکا اس کے بعد وہ بستر پر سے گزرتا آ گے بڑھ گیا۔ اس نے ساحل عمر کی طرف کوئی توجہ نہ کی۔
ساحل عمر اسے حیرت زدہ ہو کر دیکھنے لگا۔
اعور پورے اطمینان سے چلتا ہوا ساحل عمر کی تصویر کے پاس پہنچا جو دیوار پر بنی ہوئی تھی۔
وہ بچھو تصویر پر چڑھ کر اس کی پیشانی تک پہنچا اور پھر ساحل عمر نے اعور کو صافے کے نیچے گھستے ہوئے دیکھا۔ ساحل عمر نے یہ یقین کرنے کے لئے کہ وہ جو کچھ دیکھ رہا ہے صحیح دکھ رہا ہے اپنی پلکیں جھپکائیں اتنی دیر میں وہ بچھو اس کے صافے میں داخل ہو چکا تھا۔ اب تصویر پر کوئی چیز نہ تھی۔
اس منظر نے ساحل عمر پر گھبراہٹ طاری کردی۔ اس کے ہاتھ سے تلوار چھوٹ کر فرش پر گری اس وقت اس کی آنکھ کھل گئی۔ اس کا دل زورزور سے دھڑک رہا تھا۔ اس پر گھبراہٹ طاری تھی جب اس نے سامنے دروازے پر نظر ڈالی تو اسے بند پایا۔ کمرے میں ہلکی روشنی تھی۔ اس نے پلٹ کر تصویر کی طرف دیکھا وہ جوں کی توں اپنی جگہ موجود تھی اسکی تلوار بھی اپنی جگہ موجود تھی
اس نے اٹھ کر دروازہ چیک کیا۔ دروازہ اچھی طرح بند تھا۔ پھر اس نے نزدیک سے اپنی تصویر دیکھی۔ صافے پر ہاتھ پھیر کر دیکھا۔ تصویر میں کوئی فرق موجود نہ تھا۔
اب اسے یقین ہو گیا کہ اس نے جو کچھ دیکھا خواب تھا مگر یہ خواب کتنا خطرناک بھیانک تھا وہ خواب کو دیکھ کر فکر مند ہوگیا تھا۔ جانے کتنی دیر وہ یونہی بستر پر گم سم بئٹھا رہا تھا
آج جشن کی رات تھی۔ آج کی رات تیرہ لڑکیوں کی شادی ہونا قرار پائی تھی۔ چودھویں رشا ملوک تھی۔
جشن کا میدان بقعہ نور بنا ہوا تھا۔ بستی کے تمام لوگ اکٹھا ہو چکے تھے اور اپنی اپنی نشست سنبھال چکے تھے اب سب کی نظریں استقبالی محراب پر لگی ہوئی تھیں۔ سب سے پہلے رشاملوک نے اپنے مور کے ساتھ اس محراب سے نکل کر میدان میں آنا تھا۔ سب رشا ملوک کے لئے بے چین تھے۔ وہ رشا ملوک کے مور کو دیکھنے کے لئے بے قرار تھے آخر بستی کا وہ کون سا نوجوان ہے جو رشاملوک کا انتخاب بن گیا ہے۔ پھر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں۔ موسیقی کی آواز بلند ہوتے ہی رشا ملوک محراب میں نظر آئی اس کے پیچھے اس کا مور تھا جس کا اس نے ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور وہ اسے تیزی سے کھینچتی ہوئی محراب سے نکل کر میدان میں داخل ہوئی۔
رشاملوک کے مور کو دیکھ کر چند لمحوں کے لئے ہجوم پر سکتہ طاری ہو گیا۔ سب خوشگوار حیرت میں ڈوب گئے۔
پھر اچانک سب کو ہوش آیا تو ایک دم شور اٹھا۔ تالیاں سیٹیاں ہاؤ ہو. موسیقی کے دھماکے
رشا ملوک ساحل عمر کو تیزی سے دوڑاتی ہوئی سیڑھیاں چڑھ کر اس گھومنے والے سجے ہوۓ تخت پر بیٹھ گئی جو اونچائی پر میدان کے درمیان نصب تھا
تخت گھومتا رہا اور لوگ شور مچا مچا کر دادتحسین دیتے رہے اور رشا ملوک فخر سے گردن اکڑائے دادتحسین وصول کرتی رہی۔ وہ بہت خوش تھی۔ آج اسے اپنے خوابوں کا شنہزادہ مل گیا تھا۔
جب تخت نے تین چکر لگا لئے اور ساری بستی نے اسے اور اس کے مور کو دیکھ لیا وہ تخت سے اتر آئی۔ رشاملوک نے پھر اس کا ہاتھ پکڑا اور دوڑتی ہوئی سمار ملوک کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ تب سار ملوک اور اس کی بیوی عروہ اپنی کرسیاں چھوڑ کر کھڑے ہو گئے۔ ان کے کھڑے ہوتے ہی میدان میں موجود ہر شخص کھڑا ہو گیا۔ اب یہ وقت تھا شادی کے بندھن کا۔ سمار ملوک نے باری باری دونوں کی طرف دیکھا اور با آواز بلند بولا۔
’’اے رشا ملوک کیا تو اپنے مور کے ساتھ خوش ہے۔‘‘
’’ہاں بابا میں خوش ہوں۔‘‘ رشا ملوک نے فورا جواب دیا۔
پھر اس جملے کو اس نے تین بار دہرایا۔
“اور تیرا مور کیا کہتا ہے۔ کیا یہ بھی خوش ہے۔” یہ کہ کر سار ملوک نے ساحل عمر کی طرف دیکھا
رشاملوک نے اس کا ہاتھ دبا کر اشارہ کیا۔’’بولو!‘‘ تب ساحل عمر فورا بولا ۔ ’’ہاں بہت خوش ہوں”
پھر یہ بات اس نے تین مرتبہ دہرائی۔ اس ایجاب وقبول کے بعد بستی کا ہر شخص بیٹھ گیا۔
پھر کوئی کچھ نہ بولا۔ ایک منٹ کے لئے میدان میں مکمل خاموشی چھائی رہی۔ جیسے دل میں ہر نفس اس نو بیاہتا جوڑے کے لئے دعا کر رہا ہو۔ اس لمحے سمار ملوک نے اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور با آواز بلند بولا۔ ’’وقت تمہاری حفاظت کرے۔ قسمت تم پر مہربان ہو۔ ستارے تمہیں اپنا بنائیں۔” سمار ملوک خاموش ہوا تو پوری فضا بیک وقت مبار کباد سے گونج اٹھی۔ موسیقی نے انگڑائی لی۔ فضا پر ایک خوشگوار تاثر چھا گیا۔ ماحول مہک اٹھا۔ میدان جگمگا اٹھا۔
“مبارک ہو. اے رشا تجھے تیرا مور مبارک ہو۔‘‘ پوری بستی بیک وقت پکار اٹھی۔
جب آخری لڑکی کی بھی شادی پایہ تکمیل کو پہنچی تو پھر شربت کی دیگ کھل گئی۔ بستی کے لوگ بڑے اطمینان اور سکون سے دیگ کے سامنے سے گزرتے گئے اور شربت کا گلاس لے کر آگے بڑھتے گئے۔
جوشربت پی لیتا نو بیاہتا جوڑوں کی کرسیوں کے سامنے سے گزرتا ہوا انہیں مبارکباد دے کر محراب سے باہر چلا جاتا۔ بالآ خرجشن کا میدان بستی والوں سے خالی ہو گیا۔ اب میدان میں نوبیاہتا جوڑے اپنے لواحقین کے ساتھ رہ گئے۔
پھر وہ بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔ ساحل عمر کا ہاتھ رشاملوک کی ماں عروہ نے تھاما اور رشاملوک کا ہاتھ اس کے باپ سمار ملوک نے پکڑا۔ اس طرح وہ اس محراب سے نکل کر باہر آ گئے۔
باہر دو سفید گھوڑوں کی ایک چھوٹی سی کٹاری موجود تھی ساحل عمر اور رشا ملوک کو اس پر سوار کرا دیا گیا۔ اس کے بعد کٹاری کا پردہ گرادیا گیا۔ بازغر نے کٹاری پر چڑھ کر آواز لگائی۔
”رشا ملوک چلوں۔‘‘
”ہاں چلو بازغر۔‘‘ رشا ملوک نے پردے کے پیچھے سے جواب دیا۔
اس جواب کے فورا بعد کٹاری ہوا سے باتیں کرنے لگی۔
کٹاری کے رکتے ہی ساحل عمر کے کان میں نقرئی قہقہوں کی آوازیں پڑیں۔ اس نے پردہ ہٹایا تو کٹاری کے سامنے رشا ملوک کی سہیلیوں کو پایا۔ مویا سب سے آگے تھی اس کے ہاتھ میں سونے کی چمکتی ہوئی تھالی تھی۔ اس تھالی میں سات مختلف رنگوں کی موم بتیاں روشن تھیں۔۔ ساحل عمر کو کٹاری سے اتار کر مویا نے اپنی سات سہلیوں کے ساتھ ساحل عمر کے گرد سات چکر کاٹے۔ پھر یہی عمل رشا ملوک کے ساتھ دہرایا گیا۔ اس کے بعد مویا نے تھالی بائیں ہاتھ پر رکھ کر دائیں ہاتھ سے ساحل عمر کا ہاتھ پکڑ لیا اور دروازے کی طرف بڑھنے لگی۔
یہ اسی کا گنبد تھا لیکن جب وہ دروازے سے اندر داخل ہوا تو اسے محسوس ہوا جیسے وہ کسی اور کمرے میں آ گیا ہے۔ وہ کمرہ جس میں ایک بستر کے سوا کچھ نہ تھا اب ایک خوبصورت بیڈ روم میں تبدیل ہو چکا تھا۔ اگر اس کمرے میں دیوار پر بنی تصویر نہ ہوتی تو وہ یہی سمجھتا کہ کسی اور کمرے میں آ گیا ہے۔
مویا نے اس کمرے میں دو اونچی مرصع کرسیوں میں سے ایک پر ساحل عمر کو بٹھایا اور خاموشی سے واپس پلٹی تھی۔ چند لمحوں بعد وہ پھر کمرے میں داخل ہوئی۔ اس مرتبہ اس کے ساتھ رشا ملوک تھی۔ اس نے رشاملوک کو اس کے برابر بٹھایا۔
پھر اس نے اس روشن تھالی کو ساحل عمر کے قدموں میں رکھا۔ پھر خود بھی بیٹھ گئی۔ اس نے سات موم بتیوں کو ایک ایک کر کے اٹھایا۔ اس کے چہرے کے نزدیک کیا اور پھر تھالی میں جما دیا۔
ساتوں موم بتیوں کی روشنی دکھا کر اس نے تھالی اٹھائی اور خود بھی کھڑی ہوگئی۔ اس کے بعد وہ سات قدم پیچھے ہٹی۔ مسکرا کر باری باری دونوں کی طرف دیکھا اور پھر میٹھے لہجے میں بولی۔ ’’رشاملوک تجھے یہ شادی مبارک ہو۔ اب میں چلتی ہوں۔ وقت تجھ پر مہربان ہو۔”
“شکریہ مویا۔” رشا ملوک نے مسکرا کر کہا۔
مویا نے دروازہ کھولا اور بغیر پیچھے دیکھے دروازہ آہستہ سے بند کیا اور باہر چلی گئی۔
اب وہ کمرے میں اکیلے رہ گئے تو ساحل عمر نے برابر بیٹھی رشا ملوک کی طرف ذرا سا جھک کر دیکھا۔ اسے اپنی طرف دیکھتے پا کر رشا ملوک نے اپنا چہرہ جلدی سے دوسری طرف گھما لیا۔
“اے رشا کیا اب بھی کوئی رسم باقی ہے۔ آج تو مجھے رسموں نے مار ڈالا۔“
“ہاں ایک رسم اور باقی ہے۔“ رشا ملوک نے منہ پھیرے پھیرے کہا۔
ساحل عمر نے اس کی تھوڑی پکڑ کر چہرہ اپنی طرف گھمایا اور گہری نظروں سے دیکھتا ہوا بولا۔ “کونسی رسم!‘‘
“آخری رسم” رشاملوک نے دھیرے سے اپنی جھکی پلکیں اٹھائیں۔ اپنی نیم باز آنکھوں سے دیکھا۔ اور پھر فورا ہی اپنی آنکھوں پر پلکوں کا شامیانہ ڈال لیا۔ اس کا چہر شرم سے گلنار ہونے لگا
’’وہ کیا؟‘‘ ساحل عمر نے شرارت سے پوچھا۔
’’میں کیا جانوں۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے اپنا سراس کے بازو پر رکھ دیا۔
ساحل عمر نے اس کا چہرہ اس کی تھوڑی پر اپنی انگلی رکھ کر اٹھایا اور پھر اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر اسے غور سے دیکھنے لگا۔ رشا ملوک ایک بے حدحسین لڑکی تھی۔ ایک ایسی لڑکی جسے دیکھ کر فورا اس کے خالق کی یاد آتی تھی۔ اس کا حسن بے مثال تھا۔ بےنظیر تھا. ایسی حسین کہ آدمی دیکھے تو پلکیں جھپکانا بھول جاۓ۔ اسے کچھ یاد نہ رہا بس وہ یاد رہ جاۓ۔
اس کا چہرہ دیکھتے دیکھتے ساحل کی کمر کو اچانک ایک جھٹکا لگا۔ اس نے دیکھا کہ وہ اس کے چہرے پر موجود ہے اور اس جگہ موجود ہے جہاں اس نے اسے بھی بنایا تھا۔
اس نے فورا اپنی پلکیں جھپکائیں۔ سوچا یہ اس کا وہم ہے۔ جو کچھ دیکھ رہا ہے فریب نظر ہے
رشا ملوک کوفورا ہی خطرے کا احساس ہو گیا۔ اس نے آنکھیں کھول کر ساحل عمر کی طرف دیکھا
“اتنے غور سے کیا دیکھ رہے ہیں۔” اس کے لہجے میں پریشانی تھی۔
“دیکھ تو خیر میں تمہیں رہا تھا لیکن اس وقت تمہاری پیشانی پر مجھے وہ منحوس نظر آ رہا ہے۔”
“یہ کیسے ہوسکتا ہے؟” یہ کہہ کر رشا ملوک نے فورا اپنی پیشانی پر ہاتھ رکھا۔
اس کے ہاتھ رکھتے ہی وہ غائب ہو گیا۔
“یہاں تو کچھ نہیں۔” رشا ملوک نے اپنی پیشانی پر اچھی طرح ہاتھ پھیر کر دکھایا۔
جب اس نے اپنا ہاتھ نیچے کیا تو وہ ساحل عمر کو وہیں بیٹھا نظر آیا۔ وہ اس کی پیشانی کا جھومر بنا ہوا تھا
رشا ملوک نے ساحل عمر کی آنکھوں میں دیکھا تو اسے وہاں پر یشانی نظر آئی۔ رشا ملوک نے اپنی آ نکھوں سے سوال کیا۔ ساحل عمر نے اپنی آنکھیں بند کر کے دھیرے سے گردن ہلائی۔ جس کا مطلب تھا کہ وہ اب بھی اسے دیکھ رہا ہے۔
رشا ملوک نے پھر اپنی پیشانی پر ہاتھ لے جانا چاہا تو ساحل عمر نے اس کا ہاتھ روک دیا۔ تعویذ چھونے کا خیال اس کے دل میں پیدا ہو چکا تھا۔ اس نے کوٹ کے بٹن کھول کر تھویذ کو اندر ہی اپنے ہاتھ میں تھاما تو فورا ہی آواز سنائی دی۔ ’’لاحول پڑھو۔”
یہ سنتے ہی ساحل عمر نے فورا لاحول پڑھی تو وہ بچھو رشا ملوک کی پیشانی سے اس طرح غائب ہوا جیسے گدھے کے سر سے سینگ…
ساحل عمر یہ اندازہ نہ کر پایا کہ بچھو کی موجودگی اس کاوہم تھا…..حقیقت….جو بھی تھا….ضرور کچھ نہ کچھ، اگر کچھ نہ ہوتا تو اسے لاحول پڑھنے کو نہ کہا جاتا۔ اب اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ شیطانی قوتیں مسلسل اس کے پیچھے لگی ہوئی تھیں۔ ان طاغوقی قوتوں نے اسے فریب کے جال میں پھنسایا ہوا تھا۔ وہ چاہتی تھیں ساحل عمر کسی طرح چین نہ پاۓ۔
اور دوسری طرف اس بستی کے رمز شناس اس بستی کے مالک سمار ملوک کی کوشش تھی کہ وہ قرار پاۓ۔ اسے یہاں ہر طرح کا آرام اور سکون میسر آۓ۔ ایک چین رشاملوک کی صورت میں اس کے سامنے بیٹھا تھا۔ اس نے سوچا کہ اب کچھ وقت کے لئے سب کچھ بھول جاۓ سب کو بھول جائے بس رشا ملوک کو یاد ر کھے۔ رشا ملوک کا ہو جاۓ۔ اسے قرار دے کر خود بھی قرار پائے۔
تب وہ کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا اس نے بڑی نرمی سے رشا ملوک کا ہاتھ تھاما اور مخمور نگاہوں سے سجی ہوئی سیج کو دیکھنے لگا۔
•●•●•●•●•●•●•
پھر وہ وقت آیا جو ہر بیٹی کے باپ پر آ تا ہے۔ اس کی ماں پر آتا ہے۔ رشا ملوک کی ماں عروہ صبح سے روئے جاتی تھی۔ اس کی آنکھ کے آنسو تھمتے ہی نہ تھے۔ اس بستی کا رمز شناس رشا ملوک کا باپ اپنی بیوی کو روتے ہوئے دیکھ رہا تھا اور خاموش تھا۔ وہ کیا کہتا وہ کیا کرتا وہ خود رو رہا تھا۔ یہ اور بات تھی کہ اس کے آنسو کسی کو دکھائی نہ دے رہے تھے۔ وہ آنسو اندر ہی اندر کہیں دل پر گر رہے تھے
رشا ملوک کی رخصتی مکمل ہو چکی تھی۔ اب وہ چند الفاظ باقی تھے جو رخصتی سے پہلے سمار ملوک نے رشاملوک سے کہنے تھے۔ اس کے بعد چاند کے پیالے میں بھرا وہ مشروب رشا ملوک کو پلا دیا جانا تھا
تب سمار ملوک نے عروہ کو اشارہ کیا۔ اشارہ پا کر عروہ نے میز پر رکھا چاندی کا پیالہ اٹھایا اور اپنے شوہر کے برابر آ کر کھڑی ہوگئی۔ رشا ملوک سامنے کرسی پر بیٹھی تھی۔ اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری تھیں اور سر جھکا ہوا تھا۔
تب رشا ملوک کا باپ سمار ملوک گو یا ہوا۔
“اے رشا ملوک. اب وقت رخصت ہے تو اچھی طرح جانتی ہے کہ ہماری حالت کیا ہوگا۔ ہمارے دل پر کیا گزرتی ہو گی۔ تیری ماں اور میں نے یہ سب اس لئے قبول کرلیا کہ تیری خوشی اسی میں تھی۔ ہم تیری خوشی پر قربان ہو گئے ہم نے تیری خوشی کو احترام بخشا۔ ساحل عمر تیرا خواب تھا۔ اس خواب کو تو نے حقیقت کرلیا۔ وہ حقیقت کا روپ دھار کر تیرے سامنے آ گیا۔ تو نے اسے اپنے لئے منتخب کرلیا۔ تیرا انتخاب لا جواب ہے لیکن تو جانتی ہے کہ وہ کون ہے. کہاں سے آیا ہے۔ خیر جب نے اسے اہم جانا تو وہ ہمارے لئے بھی قابل احترام ہوا ویسے بھی وہ اس بستی کا نجات دہندہ ہے۔ اس بستی کا محسن ہے۔ اے رشاملوک اب تو جان لے کہ تجھے ساحل عمر کی دنیا میں جانا ہے۔ تیرے پاس۔ کتناوقت ہے تو جانتی ہے یہ بات بھی تو اچھی طرح جانتی ہے کہ تیرے لئے یہ وقت وقت کے خالق سے لیا گیا ہے اور یہ کام بابا صاعق نے کیا ہے۔ جب وقت پتھر ہونے لگے تو سمجھ لینا کہ اب تیرا وقت پورا ہوا پھر تو جانتی ہے کہ تجھے کیا کرنا ہو گا۔ تو جانتی ہے ناں۔”
“ہاں بابا۔. جانتی ہوں اچھی طرح جانتی ہوں۔” اس کی آواز میں لرزش تھی۔
“بس پھر رشا ملک تو ہم سے رخصت ہو۔ وقت تیرا حامی و ناصر ہو۔‘‘ سمار ملوک نے چاندی کا پیالہ اپنی بیوی عروہ سے لے لیا اور اسے رشا ملوک کی طرف بڑھاتے ہوۓ بولا۔ ’’لے یہ پی لے….. الوداع اے رشا ملوک۔“
“الوداع.. میرے باپ۔‘‘ رشا ملوک نے ڈبڈبائی آنکھوں سے سمار ملوک کو دیکھا۔ مشروب پیا او پر اٹھ کر اپنے بستر پر لیٹ گئی۔ الوداع میری ماں۔ اس کے آنسو اب آنکھوں میں ٹھہر نہ سکے۔ روتے روتے اس نے وہ مشروب پیا اور اٹھ کر بستر پر لیٹ گئی
بازغر نے رات ہی کو آ گاہ کر دیا تھا کہ کل صبح ہی صبح آپ کا سفر شروع ہو جاۓ گا۔ ساحل عمر تیار ہو کر بیٹھا تھا اور بازغر کا انتظار کر رہا تھا۔ کچھ دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی۔ دروازہ اندر سے بند نہ تھا۔ اس نے بلند آواز میں کہا۔ ’’کون ہے آ جاؤ۔”
جب دروازہ کھلا تو اسے دروازے پر عروہ نظر آئی۔ اس کے ہاتھ میں چاندی کا ایک پیالہ تھا۔ عروہ کے پیچھے سمار ملوک تھا۔ اور سمار ملوک کے بعد بازغر نظر آیا۔ ساحل عمر عروہ کو دیکھ کر فورا احتراماً کھڑا ہو گیا۔ سمار ملوک نے نزدیک آ کر اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ ساحل عمر کرسی پر دوبارہ بیٹھ گیا۔ سمار ملوک اور عروہ برابر برابر اس کے سامنے کھڑے ہو گئے جبکہ بازغر ان دونوں کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔
“اے ساحل عمر تمہارے جانے کی تیاریاں مکمل ہیں۔ رشا ملوک تمہاری منتظر ہے۔ مجھے تم سے زیادہ کچھ نہیں کہنا بس اتنا کہوں گا کہ رشا موک کا خیال رکھنا. وہ دور دیس جا رہی ہے اور وہاں تمہارے سوا اس کا کوئی اور نہیں۔ اس بستی کا بچہ بچہ تمہارا احسان مند ہے۔ یہاں کے لوگ تمہیں کبھی نہ بھول پائیں گے۔ تمہارا تو ذکر ہی کیا تم تو ہمارے دل میں بس گئے ہو اور ہمیشہ بسے رہو گے۔“ پھر سمار ملوک عروہ سے مخاطب ہو کر بولا۔ ’’لاؤ یہ پیالہ مجھے دو۔”
عروہ نے مشروب سے بھرا پیالہ سمارملوک کے ہاتھ میں دے دیا اور رخصتی نگاہوں سے ساحل عمر کو دیکھنے لگی
“لو ساحل عمر یہ مشروب پی لو اور ہم سے رخصت ہو جاؤ۔ وقت تمہاری نگہبانی کرے۔” ساحل عمر نے ہاتھ بڑھا کر وہ پیالہ سمار ملوک سے لے لیا اور پیالے میں بھرے مشروب کو غور سے دیکھنے لگا۔ وہ سرخ رنگ کا نہایت خوشبودار مشروب تھا۔ اس نے خاموشی سے اس پیالے کو ہونٹوں سے لگا لیا اور پھر تیزی سے مشروب اپنے حلق سے اتارنے لگا۔
“الوداع اے ساحل عمر…الوداع‘‘ سمار ملوک نے بڑے رقت آمیز لہجے میں کہا۔
ساحل عمر نے اس الوداع کا جواب دینا چاہا لیکن وہ باوجود کوشش کے کچھ بول نہ سکا۔ اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔ چند لمحوں بعد وہ اپنے ہوش سے بیگانہ ہو گیا اور اس سے پہلے کہ وہ کرسی سے لڑھک کر فرش پر گرتا بازغر نے بہت تیزی سے آگے بڑھ کر اسے سنبھال لیا۔
پھر بازغر نے اسکے بازو میں اپنی گردن ڈال کر اسے کرسی سے اٹھالیا۔ سمار ملوک آ گے بڑھا دونوں نے مل کر اسے بآسانی بستر پر لٹا دیا۔ ساحل عمر اب مکمل بے ہوش ہو چکا تھا۔
پھر جب ساحل عمر کو ہوش آیا تو اس نے خود کو ایک خیمے میں پایا۔ اس نے اچھی طرح آنکھیں کھول کر خیمے کا جائزہ لیا۔ یہ وہی خیمہ تھا جس میں جھیل سیف الملوک کے کنارے اس نے رات گزاری تھی۔ خوبصورت چاندنی رات میں جھیل پر رشاملوک کی آمد. اسے سب کچھ یاد آ گیا۔
اس رات جب وہ چاندنی رات میں ٹہل ٹہل کر تھک گیا اور چاندنی بے نور ہونے لگی تو وہ خیمے میں آ کر لیٹ گیا تھا۔ وہ کمبل اوڑھ کر جب اس نے آسودگی سے پاؤں پھیلاۓ تو پر نیند نے اسے آغوش میں لینے کی دیر نہ کی۔
اس وقت وہ اسی خیمے میں تھا۔ اس نے دو کمبل اوڑھے ہوئے تھے اور اس طرح لیٹا تھا جس طرح وہ سونے سے پہلے لیٹا تھا۔
یہ کیا ہوا؟
اس کے دل میں سناٹا اترنے لگا۔
کیا اس نے یہ سب خواب میں دیکھا ہے۔ اتنا حسین اور طویل خواب۔ اس کی تو رشاملوک سے شادی ہو گئی تھی۔ پھر وہ کہاں گئی۔ کیا ان لوگوں نے اس کے ساتھ دھوکا کیا ہے۔ یہ شادی فراڈ تھی۔ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔
پھر اس نے اپنے اوپر سے کمبل اتار پھینکا۔ اپنے لباس پر نظر ڈالی یہ تو وہی لباس تھا جو اس نے شادی کی رات پہنا تھا۔ اگر یہ سب خواب تھا تو پھر لیٹے لیٹے لباس کس طرح تبدیل ہو گیا۔ تب اس کی نظر گلے میں پڑی اس انگوٹھی پر پڑی جو سمار ملوک نے شادی کی رات اسے بخشی تھی۔ اس نے تو اسے اپنی خاندانی تلوار بھی دی جسے وہ مقدس تلوار کہتا تھا اور اس تلوار سے اس نے راعین کا خاتمہ کیا تھا۔
تب اسے فورا ہی تلوار کا دستہ نظر آیا۔ اس نے کمبل ہٹایا۔ تلوار بستر پر اس کے پہلو میں موجود تھی۔ اب اس نے سوچا کہ تلوار موجود ہے۔ گلے میں انگوٹھی پڑی ہے جسم پر شادی والا لباس موجود ہے۔ تو پھر یہ خواب نہیں ہوسکتا۔ اگر یہ خواب نہیں ہے تو پھر رشا ملوک کہاں ہے۔
کیا سمار ملوک نے رشا کو روک کر اسے دھکا دلوا دیا۔ اسے خیمے میں لا ڈالا گیا لیکن یہ تو یہ تو بد عہدی ہے۔ وہ لوگ ایسے نہ تھے ۔اسے خیمے سے باہر نکل کر دیکھنا چاہئے کہ باہر کیا جگہ ہے۔ اس کا خیمہ کہاں نصب ہے۔
اس خیال کے آتے ہی وہ گھٹنوں کے بل چلتا خیمے کے پردے کے نزدیک آ گیا۔ اس نے جوتے پہن کر خیمے کی ڈوریاں کھولیں اور پھر تیزی سے باہر آ گیا۔ یہ وہی مقام تھا جہاں اس نے رات گزاری تھی۔ اب صبح ہو رہی تھی ۔ جھیل پر اب بھی سناٹا تھا
پھر جب اس نے چاروں طرف نظریں گھما کر دیکھا تو اپنے خیے کے پیچھے ایک اور خیمے کو پایا۔ اس کا اپنا خیمہ سرخ رنگ کا تھا جبکہ اس کے پیچے والا خیمہ سبز رنگ کا تھا۔
اس نے جلدی جلدی خیمے کی ڈوریاں کھولیں اور پھر فورا ہی پردے کے دونوں پٹ الٹ دیے۔ اس خیمے میں کون ہے؟ اس کے دل میں خوشی سی جاگی۔
وہ دوڑ کر اپنے خیمے کے پیچھے گیا۔ سامنے جو کچھ تھا اسے دیکھ کر ساحل عمر حیران رہ گیا۔
حیرت سے زیادہ اسے خوشی ہوئی۔ خوشی کیوں نہ ہوتی سامنے رشا ملوک جو بیٹھی تھی۔ وہ اسے دیکھ کر بے اختیار مسکرائی اور گہری نگاہوں سے دیکھتے ہوۓ بولی۔ ’’ کیا ہوا؟‘‘
ہوا کچھ نہیں…..اگرتم نہ ملتیں تو پھر ضرور کچھ ہو جاتا۔‘‘ وہ گردن ہلا کر بولا۔
’’کیا ہو جاتا ؟‘‘ وہ خیمے سے باہر نکلتے ہوۓ بولی
’’میں پاگل ہو جاتا۔‘‘ ساحل عمر اس کا ہاتھ پکڑتے ہوۓ بولا۔
“واقعی. آپ میرے لئے پاگل ہو جاتے۔‘‘ رشا ملوک خوشگوار حیرت سے بولی۔ جیسے اسے یقین نہ آیا ہو۔
“ہاں واقعی…..اس میں اتنی حیرت کی کیا بات ہے۔“
“اتنی محبت کرتے ہیں مجھ سے۔‘‘ اس نے جیسے تصدیق چاہی۔
“یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے۔” اس نے کہا۔
“ہاں کیوں نہیں۔ یہ پوچھنے کی بات بھی ہے اور کہنے کی بات بھی ہے۔”
“گویا میں یہ کہوں کہ مجھے تم سے پیار ہے۔”
“ہاں کہیں۔ ایسا سننا اچھا لگتا ہے۔‘‘
’’اور کہنا؟‘‘ اس نے پوچھا۔
” کہنے سے زیادہ سننا اچھا لگتا ہے۔” اسکی آنکھوں میں شرم اترنے لگی۔ اس کی آنکھیں جھکنے لگیں۔
”اور اگر سامنے والا بھی یہی چاہے۔”
“تو میں اسے ایسا سناؤں گی کہ زندگی بھر یادر کھے گا۔‘‘ اس کے لہجے میں شرارت تھی ۔
’’اچھا۔‘‘ ساحل عمر اس کی ذومعنی بات سن کر مسکراۓ بنا نہ رہ سکا۔
وہ باتیں کرتے جھیل کے کنارے آ گئے۔
صبح ہو رہی تھی۔ سردی اپنے عروج پر تھی۔ پہاڑوں پر بادل دھویں کی صورت نظر آ رہے ۔ تھے۔ چاند ماند پڑ چکا تھا۔ مشرق سے اجالا پھوٹتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ ٹھنڈی اور تازہ ہوا۔ ہوا کے زور پر لہریں لیتا جھیل کا پانی۔ اس وقت ایسا حسین منظر تھا۔ ایسا دلکش سماں تھا کہ ساحل عمر کے دل پر سکون کی شبنم سی گرنے لگی تھی۔
”اے رشا ملوک ذرا یہ بتاؤ کہ یہ جھیل کتنی گہری ہے؟‘‘ ساحل عمر نے سوال کیا۔
“مجھے کیا معلوم”
“تمہاری آنکھوں جتنی گہری تو ہوگی۔” وہ یہ کہہ کر مسکرایا۔
“مجھے کیا پتا”
طرف اشارہ کیا۔
“تمہیں نہیں معلوم حیرت ہے کیا تم اس رات جھیل میں نہائی نہیں تھیں۔”
“کیا آپ نے نے دیکھا تھا۔‘‘ وہ چونک بولی۔
“ضرور دیکھتا لیکن تمہاری سہیلیوں نے اتنا ڈرایا تھا کہ اندھا ہونے کی ہمت نہ کر پایا۔”
“بہت اچھا کیا ورنہ تمہاری آنکھوں کو نقصان پہنچ جاتا“
“رشا ملوک. ایک بات بتاؤ. تمہاری بستی کہاں ہے؟‘‘ ساحل عمر نے پہاڑوں کی طرف اشارہ کیا۔ ’’کیا ان پہاڑوں کے پیچھے؟‘‘
“میں نہیں جانتی کہ میری بستی کہاں ہے؟‘‘ وہ کھوۓ ہوۓ انداز میں بولی۔
“اب اگر ہم وہاں جانا چاہیں تو کیا نہیں جاسکتے ؟‘‘ ساحل عمر نے سوال کیا۔
“نہیں. ہرگز نہیں۔‘‘ وہ دوٹوک لہجے میں بولی۔
” کیوں آخر؟‘‘ سوال ہوا۔
“میری بستی گم ہوگئی۔ میرا اس سے رابطہ منقطع ہوگیا. وہ ماضی کا حصہ بن گئی۔‘‘
“میں تمہاری بستی میں زیادہ دن نہیں رہا…..لیکن جتنے دن بھی رہا وہاں کی یادیں میرے دل پر نقش ہیں۔ میں تمہارے والدین کو تمہاری سہیلی مویا کو بابا صاعق اور بازغر کو۔۔۔کسی کو نہیں بھول سکوں گا۔ بہت اچھے لوگ تھے۔ بہت پیارے لوگ تھے“
“وہ بستی بادل تھی اور وہ لوگ پانی تھے۔ بارش برس چکی۔ بادل چھٹ چکے۔ اب آسمان پر کھ نہیں۔ سب وقت کی دھند میں گم ہو گئے‘‘ وہ بہت سنجیدگی سے بول رہی تھی۔ اس کی آواز کانپ رہی تھی۔
پھر اس نے ساحل عمر کی طرف دیکھا اور اس کے کندھے پر سر رکھ دیا۔ ’’اب میں آپ کی دنیا میں ہوں اور آپ جیسی ہوں۔‘‘
“آو پھر سامان سمیٹو. چلو یہاں سے. تمہاری دنیا تمہارا گھر تمہیں آواز دے رہا ہے”
“ہاں چلیں۔” رشاملوک نے خوشی بھرے لہجے میں کہا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: