Anwar Aleegi Urdu Novels

Bichoo Novel By Anwar Aligi – Episode 25

Bichoo Novel By Anwar Aligi
Written by Peerzada M Mohin
 بچھو از انوار علیگی – قسط نمبر 25

–**–**–

جھیل سیف الملوک سے انہوں نے ناران تک سفر کیا۔ ایک رات ناران میں رہے۔ دوسرے دن کاغان پہنچے۔ ایک رات وہاں قیام کیا۔ پھر راستے میں جو قابل دید مقامات آتے گئے ان کا سیر کرتے ہوئے مری کا رخ کیا۔ ناران اور ججیل سیف الملوک دیکھنے کے بعد مری آنکھوں میں بلکل نہ جچی۔ یوں لگا جیسے کسی سرسبز وادی سے نکل کر اجاڑ جگہ پر آ گئے ہوں۔ وہاں ایک رات سے زیادہ قیام نہ کیا اور دوسرے دن مری سے اسلام آباد پہنچے پورا دن گھوم پھر کر رات پنڈی کے ایک ہوٹل میں قیام کیا اور دوسرے دن ٹرین میں سوار ہو کر کراچی کی طرف روانہ ہو گئے۔
جوں جوں کرا چی نزدیک آ تا جا رہا تھا ساحل عمر کا دل جوش اور ولوے سے بھرتا جارہا تھا۔ اپنے شہر سے نکلے ہوۓ اسے کافی عرصہ ہو چکا تھا۔
جانے اماں کا کیا حال ہو گا۔ وہ اس کی شدت سے منتظر ہوں گی۔ واپسی کے سفر میں اس نے کئی بار سوچا بھی کہ گھر فون کر کے اماں کو مطلع کر دے کہ وہ کراچی پہنچ رہا ہے لیکن پھر کچھ سوچ کر رہ جاتا۔ اچانک پہنچنے میں جو بات ہے وہ مطلع کر کے پہنچنے میں کہاں؟ اماں کے لیے تو وہ دہری خوشی لے کر جا رہا تھا۔ ایک تو وہ خود جا رہا تھا۔ دوسرے اپنے ساتھ ایک ایسی ہستی کو لے جا رہا تھا جس کی آس میں وہ زندگی کی سانسیں گن رہی تھیں۔ وہ رشاملوک کو دلہن کے روپ میں دیکھیں گی تو کس قدر خوش ہوں گی۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ خوشی سے مر ہی جائیں۔
ساحل عمر انہیں خوش تو دیکھنا چاہتا تھا لیکن مارنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ اماں رشا ملوک کے ساتھ ایک طویل عرصے تک رہیں۔
بالاخر ٹرین دھیمی ہونے لگی۔ کراچی آ گیا تھا۔ ساحل عمر جلدی سے برتھ سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ وہ تیزی سے سامان سمیٹنے لگا۔ رشا ملوک اسے حیرت سے دیکھنے لگی تو وہ بولا ۔’’رشا ملوک شہر آ گیا۔”
اس کے لہجے میں بے پناہ خوشی تھی ۔
’’اچھا۔‘‘ یہ کن کر وہ بھی خوش ہو گئی۔ گاڑی کے پلیٹ فارم پر رکتے ہی دھڑا دھڑ قلی اندر آنے لگے۔ ساحل عمر کے پاس زیادہ سامان نہ تھا لیکن اتنا کم بھی نہ تھا کہ وہ خود اٹھا کر اسٹیشن سے باہر نکل آتا۔ راستے میں اس نے خاصی شاپنگ کی تھی۔ اسکے پاس دو بڑے سوٹ کیس تھے اور ایک بڑا بیگ تھا۔ اس نے ایک قلی کرلیا۔ قلی سامان اٹھا کر چلنے لگا تو ساحل عمر رشا ملوک کا ہاتھ پکڑ کر ڈبے سے نکل آیا۔ پہلے وہ خود پلیٹ فارم پر اترا پھر اس نے سہارا دے کر رشا ملوک کو نیچے اتار لیا۔ پھر وہ ساتھ ساتھ چلنے لگے۔ جب وہ کراچی کینٹ کے گیٹ کی سیڑھیاں اتر رہے تھے تو سامنے ذرا فاصلے پر وسام ایک ٹیکسی میں ابھی ابھی سوار ہوا تھا۔ ٹیکسی چلنے ہی والی تھی کہ اچانک اس کی نظر ساحل عمر پر پڑی۔ وہ بری طرح چونک گیا۔ اس کے جسم میں زبردست بجلی کا سا جھٹکا لگا۔ اس نے ٹیکسی والے کا ہاتھ پکڑ کر اسے رکنے کا اشارہ کیا۔
اس کی نظریں سامنے جمی ہوئی تھیں۔ وہ بہت غور سے ساحل عمر کو دیکھ رہا تھا۔ ساحل عمراکیلا نہ تھا اس کے ساتھ ایک بے حد حسین لڑ کی بھی تھی۔ صاف پتہ لگ رہا تھا کہ وہ ساحل عمر کی بیوی ہے۔ اس نے شادی کر لی تھی اور اس وقت شاید وہ ہنی مون منا کر واپس آ رہے تھے۔
ساحل عمر کو دیکھ کر واسم جیسے جی اٹھا تھا۔ اس کا رواں رواں خوشی سے سرشار تھا۔ آج صبح ہی صبح اس کے ہاتھ زبردست خبر لگ گئی تھی۔ وہ برکھا کو بہ خبر سنا کر اسے خوش کر دے گا۔ وہ ٹیکسی میں بیٹھا اس وقت تک ساحل عمر اور رشا ملوک کو دیکھتا رہا جب تک وہ ٹیکسی میں بیٹھ کر اس کے سامنے سے گزرنہیں گئے۔
ان کے جانے کے بعد واسم اپنے ٹیکسی والے سے سے بولا۔”چلو استاد“
“صاحب جی. کیا اس ٹیکسی کے پیچھے جانا ہے۔” ٹیکسی والے نے واسم کو مسکرا کر دیکھا۔
“بڑے استاد ہو…..تم نے اندازہ لگا لیا کہ میں نے تمہیں کیوں روکا۔‘‘ واسم نے کہا۔
“سرجی ہم بھی اس شہر میں رہتے ہیں۔ دن رات ہر طرح کے بندوں سے واسطہ پڑتا ہے” وہ بڑے فخریہ انداز میں بولا۔
“اچھا اب جلدی نکلو تم یہاں سے. گارڈن ایسٹ چلو۔‘‘
“سر جی ابھی تو آپ رام سوامی جا رہے تھے۔”
“اب نہیں جارہا۔‘‘ واسم نے بات ختم کرنے کے انداز میں اس کی طرف فیصلہ کن نگاہوں سے دیکھا۔
“ٹھیک ہے. جی آپ کی مرضی. ہمارے لئے دونوں جگہ ایک کی ہیں۔” یہ کہہ کر اس نے ٹیکسی اسٹارٹ کر دی اور پھر انگلش گالوں کا کیسٹ لا کر مزے سے ڈرائیونگ کرنے لگا۔ ٹیکسی والا اپنے حلیے اپنے چہرے مہرے سے قطعا پڑھا لکھا نہ لگتا تھا لیکن گانے وہ انگلش سن رہا تھا۔ واسم کی سمجھ میں یہ راز نہ آیا۔ اس نے سوچا۔ اس سے پوچھے کہ کیا وہ اس گانے کے بول سمجھ رہا ہے۔ پھر وہ یہ سوچ کر سوال کرنے سے باز رہا کہ یہ اس کا ذاتی معاملہ ہے۔ وہ جو مرضی آۓ سنے وہ اس پر اعتراض کرنے والا کون؟
برکھا کے بنگلے پر گاڑی رکوا کر اس نے کرایہ کی ادائیگی کی تو ٹیکسی والے نے پیسے لے کر کھڑکی سے باہر منہ نکالا اور بڑی سنجیدگی سے بولا۔ ’’سر جی آپ کو یہ کیسٹ کیسا لگا۔‘‘
“یار میں انگلش تھوڑی بہت جانتا ہوں۔ یہ انگلش گانے تو میری بالکل سمجھ میں نہیں آتے”
“تو سرجی مجھے کون سی انگریزی آتی ہے۔ مجھے ان گانوں کا میوزک پسند ہے. بس اس لئے سنتا ہوں۔” وہ ہنس کر بولا۔ پھر اس نے اپنی گردن اندر کی۔ گاڑی اسٹارٹ کی اور یہ جا وہ جا۔
واسم اس کی گاڑی کو حیرت سے دیکھتا رہ گیا۔ عجیب شخص تھا۔ پھر وہ بر کھا کے بنگلے کی طرف متوجہ ہوا۔ گیٹ حسب معمول بند تھا۔ اس وقت دن کے گیارہ بج رہے تھے۔ ہوا ٹھنڈی تھی اور دھوپ میں زیادہ تیزی تھی۔ موسم تبدیل ہو رہا تھا۔ واسم نے گیٹ کے نزدیک پہنچ کر اس کے درمیانی خلا سے اندر دیکھا جہاں تک وہ دیکھ سکتا تھا وہاں تک اسے کوئی نظر نہ آیا
تب اس نے کال بیل کے بٹن پر ہاتھ رکھا۔ اسے تین مرتبہ وقفے وقفے سے بجایا۔
برکھا اپنے بیڈ پر براجمان تھی ار کسی سے ٹیلی فون پر محو گفتکو تھی گھنٹی کی آواز سن کر اس نے ٹیلی فون ہولڈ کرایا اور پھر گیٹ کی طرف جانے کی بجاۓ ورشا کے کمرے کی طرف گئی۔ ورشا کے کمرے کا دروازہ کھلا تھا۔ وہ آرام سے لیٹی رسالہ پڑھ رہی تھی۔
“ورشا، ذرا دیکھو گیٹ پر کون ہے؟‘‘ وہ دروازے پر کھڑے ہو کر بولی۔ ’’میں ٹیلی فون پر بات کر رہی ہوں۔‘‘
“ٹھیک ہے ممی. آپ بات کیجئے۔ میں دیکھتی ہوں۔” یہ کہہ کر ورشا فورا کھڑی ہوگئی۔
ابھی ورشا گیٹ کے نزدیک نہ پہنچی تھی کہ ایک مرتبہ پھر بیل بجی۔ اس نے جلدی جلدی قدم بڑھائے اور پھر گیٹ کے نزدیک پہنچ کر گیٹ کے درمیانی خلاء سے باہر جھانکا۔ سامنے ہی واسم کھڑا تھا
ورشا نے واسم کو دیکھ کر فورا ہی گیٹ کھول دیا۔
گیٹ پر ورشا کو دیکھ کر اس نے ادب سے سلام کیا اور پھر پوچھا۔’’برکھا جی ہیں؟‘‘
“ہاں ہیں. اپنے کمرے میں ہیں۔‘‘ ورشانے گیٹ بند کر تے ہوۓ کہا۔
”کیا میں وہاں چلا جاؤں۔“
“ہاں چلے جاؤ۔. وہ فون پر کسی سے بات کر رہی تھیں. اب کر چکی ہوں گی۔”
”ٹھیک ہے۔ یہ کہہ کر واسم برکھا کے کمرے کی طرف بڑھ گیا اور ورشا اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔
واسم نے برکھا کے کمرے میں قدم رکھا تو وہ اس وقت ریسیور رکھ چکی تھی۔ واسم کو دیکھ کر چونکی۔ اس کے چہرے کو بغور دیکھا۔ اس کا چہرہ غیر معمولی طور پر تمتمایا ہوا تھا۔ اس کے چہرے سے خوشی پھوٹی پڑتی تھی
“واسم تو بہت خوش نظر آرہا ہے. خیر تو ہے۔‘‘ برکھا نے اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوۓ کہا۔
“پرکھا جی بالکل خیر ہے۔ میں آپ کے لئے ایک زبردست خبر لے کر آیا ہوں۔”
“خبر سنا…..خبر سناۓ گا تو پتہ چلے گا کہ کیسی خبر ہے۔”
“برکھا جی. ایسی خبر ہے کہ آپ سن کر مجھے انعام دیئے بنا نہ رہیں گی۔“
“اچھاخبر سنا. کہیں ایسا نہ ہو کہ الٹا تجھ کو جرمانہ پڑ جاۓ۔‘‘ برکھا نے ہنس کر کہا۔
“سوال ہی نہیں پیدا ہوتا برکھا جی۔‘‘ وہ بڑے یقین سے بولا۔ ’’ میں اس وقت کینٹ اسٹیشن سے آرہا ہوں۔ ایک دوست کے لئے سیٹ ریزرو کروانے گیا تھا۔ جب میں واپسی کے لئے ٹیکسی میں بیٹھ چکا اور ٹیکسی چلنے ہی والی تھی کہ میری ان پر نظر پڑگئی۔ برکھا جی بس چند لمحوں کا فرق تھا۔ اگر میری ٹیکسی آگے بڑھ گئی ہوتی تو میں کتنی بڑی خبر سے محروم ہو جاتا جانتی ہیں برکھا جی میں نے اسٹیشن پر کس کو دیکھا؟“
’’واسم بس اب بہت ہوگئی. اب تو راه راست پر آجا…..سیدھی طرح خبر سنا. کون تھا”
“ساحل عمر۔‘‘ واسم نے بڑی آہستگی سے اس کا نام لیا۔
“کون کیا کہا۔‘‘ برکھا کے جسم میں جیسے بجلی بھر گئی۔ وہ بستر پرفوا سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔ ’’واسم تو نے کس کو دیکھا؟‘‘
“ساحل عمر صاحب کو۔‘‘ واسم نے پر زور لہجے میں ساحل کا نام دہرایا۔
تب برکھا بیڈ سے اتر کر اس کے نزدیک آ گئی اور اپنے زور زور سے دھڑ کتے دل پر قابو پاتے ہوۓ بولی۔ ’’واسم کیا تو ٹھیک کہہ رہا ہے۔ تجھے کوئی دھوکا تو نہیں ہوا؟‘‘
“نہیں. برکھا جی. میری آنکھوں نے جو دیکھا وہ صیح دیکھا. وہ ساحل عمر ہی تھے اور وہ اکیلے نہ تھے۔“
”کون تھا… اس کے ساتھ ؟‘‘
“ان کے ساتھ ایک بے حد حسین لڑکی تھی جیسے کوئی ابلا پری. جس انداز سے وہ ان کے ساتھ چل رہی تھی اس سے ظاہر ہوتا تھا جیسے وہ ان کی بیوی ہے۔“
“اوہ…ساحل عمر نے شادی کر لی۔‘‘ برکھا پر جیسے بجلی گر پڑی۔ ’’واسم یہ تو بہت برا ہوا۔ جتنی خوشی ساحل عمر کی آمد کی خبر سن کر ہوئی تھی اتنی ہی تکلیف اس کی شادی کی خبر سن کر ہوئی ہے۔ واسم تو نہیں جانتا کہ یہ کتنی بری خبر ہے۔ اس خبر نے میری ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا۔”
“برکھا جی یہ تو بہت برا ہوا۔‘‘ واسم کا منہ لٹک گیا۔
“اس میں تیرا کیا دوش. اچھا بتا کیا تیری ورشا سے کوئی بات ہوئی ؟‘‘
“نہیں برکھا جی. میں نے انہیں کچھ نہیں بتایا۔”
“بس پھر اب تو جا… اور میری کال کا انتظار کر…“
“ٹھیک ہے رکھا جی. میں جاتا ہوں۔” یہ کہہ کر وہ مڑا اور بوجھل قدموں سے دروازے سے نکل گیا۔
اسکے جانے کے بعد بھی وہ گم صم کھڑی رہی۔ اس خبر نے اسے اندر سے ہلا کر رکھ دیا تھا۔ پھر اس نے سوچا ممکن ہے یہ خبر غلط ہو. یہ ضروری تو نہیں کہ اس کے ساتھ آنے والی لڑکی اس کی بیوی ہی ہو یہ اچانک وہ شادی کہاں سے کر لایا۔ پھر وہ ورشا کے کمرے کی طرف چل دی اس کی ٹانگیں لرز رہی تھیں اور دماغ میں آندھیاں سی چل رہی تھیں۔
☆☆☆☆☆☆☆
ساحل عمر نے اپنے گھر کے سامنے پہنچ کر ٹیکسی روکنے کا اشارہ کیا۔ ٹیکسی سے اترتے ہوئے اس کے دل کی دھڑکن اچانک تیز ہو گئی۔ وہ رشا ملوک سے مخاطب ہو کر بولا۔ ’’لو رشا ملوک اترو تمہارا گھر آ گیا“
“آ گیا. میرا گھر۔” وہ بے اختیار خوش ہو کر بولی اور پھر فورا ہی ٹیکسی سے اتر آئی۔
ساحل عمر نے ٹیکسی سے سامان اتار کر گیٹ پر رکھا۔ ٹیکسی کا کرایہ ادا کر کے ٹیکسی والے کا شکریہ ادا کیا۔
ٹیکسی کے اسٹارٹ ہوتے ہی اس نے کال بیل کے بٹن کو اپنے مخصوص انداز میں دبایا اور ذرا سا پیچھے ہٹ کر کھڑا ہو گیا۔ گھر پر سناٹا چھایا ہوا تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے گھر میں کوئی نہیں ہے۔ گھر میں مر جینا موجود تھی۔ وہ اس وقت کچن کی صفائی میں مصروف تھی۔ گھر کی کھنٹی ایک مخصوص انداز میں بجتے سن کر وہ ایک دم چونک اٹھی۔ برتن چھوڑ کر اس نے فورا اپنے ہاتھ دھوئے اور دوپٹے سے پونچھتی گھر سے باہرنکل آئی۔
اتنی دیر میں گھنٹی ایک بار اور بج اٹھی۔ مرجینا دوڑتی ہوئی گیٹ تک پہنچی۔ اس نے جلدی جلدی گیٹ کھولا اور پھر وہ گیٹ پر ساحل کو کھڑا دیکھ کر مسرت سے جی اٹھی۔ ساحل عمر اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔
“صاحب جی آپ؟‘‘
’’ہاں میں۔‘‘ ساحل عمر نے اسے دیکھتے ہوۓ کہا۔ پھر وہ مڑ کر رشا ملوک سے مخاطب ہوا۔ ’’رشا ملوک یہ مرجینا ہے۔ میں تمہیں اسکے بارے میں بتا چکا ہوں۔ اس نے ہمارا گھر سنبھالا ہوا ہے۔”
رشاملوک نے بڑی دلچسپی سے مرجینا کو دیکھا اور اسے دیکھ کر نرمی سے مسکرائی۔ اب مرجینا نے رشا ملوک کی طرف توجہ کی اور جھجکتے ہوۓ انگلی سے اشارہ کر کے بولی۔ “صاحب جئ یہ…..”
”مرجینا پہچانو… یہ کون ہیں؟‘‘
“میں نے پہچان لیا۔”
“پہچان لیا تو اچھا کیا…..ہمیں اندر آنے کا راستہ تو دو ۔‘‘ ساحل عمر گیٹ میں داخل ہوتے ہوۓ بولا۔
پھر اس نے سامان اٹھا کر گیٹ کے اندر رکھا۔ مرجینا نے گیٹ اندر سے بند کر دیا اور ساحل عمر سے مخاطب ہو کر بولی۔ ’’صاحب جی آپ اندر چلیں میں سامان اٹھا کر لاتی ہوں۔”
“نہیں تم ہمارے ساتھ آؤ سامان یہیں رہنے دو۔ خاصا وزنی ہے۔ میں آ کر لے جاؤں گا۔ اچھا یہ بتاؤ اماں کہاں ہیں؟“ ساحل عمر نے آگے بڑھتے ہوۓ پوچھا۔
’’کیا انہوں نے میری گھنٹی کی آواز نہیں سنی۔‘‘
“نہیں صاحب جی. وہ سو رہی ہیں۔ جب سے آپ گئے ہیں ان کی طبعیت ٹھیک نہیں رہتی۔ خاصی دبلی ہو گئی ہیں۔ آج بھی ان کی طبعیت ٹھیک نہیں تھی۔ ناشتہ کرنے کے بعد اپنے کمرے میں جا کر سو گئیں۔‘‘ مرجینا نے بتایا۔
“کوئی بات نہیں. اب میں آ گیا ہوں۔ ان کی طبیعت منٹوں میں ٹھیک کر دوں گا۔” ساحل نے چٹکی بجا کر کہا۔
’’اچھا مر جینا یہ تو بتاؤ یہ کون ہیں؟”
“بتاؤں صاحب جی..؟ یہ ہماری مالکن ہیں۔‘‘ مرجینا نے رشا ملوک کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔ ’اللہ کتنی پیاری ہیں۔‘‘ پھر ایک دم جیسے اسے کچھ یاد آ گیا۔ ’’ارے یہ یہ تو تصویر والی ہیں۔”
’’تصویر والی؟‘‘ ساحل عمر نے سوالیہ انداز میں پوچھا۔
“آپ نے ان کی تصویر نہیں بنائی تھی کیا. صاحب جی وہ تصویر جو آپ کے بیڈ روم میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ مرجینا نے بتایا۔
“ہاں مرجینا…..تم نے ٹھیک پہچانا، میں وہی ہوں۔‘‘ ساحل عمر کی بجائے رشاملوک نے جواب دیا
“کتنی اچھی آواز ہے ہماری مالکن کی ۔” مرجینا خوش ہو کر بولی۔
“اچھا مر جینا تم انہیں میرے کمرے میں لے کر چلو ۔ انہیں دلہن بنا کر بیڈ پر بٹھاؤ۔ میں اماں کو اٹھا کر لاتا ہوں” ساحل عمر گھر میں داخل ہو کر بولا۔
“جی صاحب. ٹھیک ہے۔‘‘ مرجینا نے رشا موک کو فورا دلہنوں کی طرح تھام لیا اور دھیرے دھیرے بیڈ روم کی طرف بڑھی۔
ساحل عمر نے اماں کے کمرے کی طرف رخ کیا۔ اماں کے کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ وہ اندر داخل ہوا اماں بیڈ پر ایک ہلکا سا کمبل اوڑ ھے لیٹی تھیں۔ ان کا چہرہ کھلا ہوا تھا اور آنکھیں بند تھیں۔ مرجینا نے ٹھیک کہا تھا۔ وہ واقعی دبلی ہوگئی تھیں۔ ان کا چہره ذرا سا نکل آیا تھا۔ وہ چندلحوں تک اماں کا چہرہ غور سے دیکھتا رہا۔ پھر اس نے دھیرے سے ان کی آنکھوں پر اپنا ہاتھ جما دیا۔ تب اماں نے اپنے دونوں ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھ کر ہٹانے کے لئے زور لگایا۔ پھر اچانک ہی انہیں احساس ہوا کہ یہ تو ساحل عمر کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر اس کی ہاتھ پراپنا ہاتھ پھیرا اور گلوگیر آواز میں بولیں۔ ’’میرے بچے میرے ساحل۔“
ساحل عمر نے فورا اپنا ہاتھ ان کی آنکھوں سے ہٹا لیا اور ان کے پاس ان کے سامنے بیٹھ گیا۔ اماں اسے دیکھتے ہی اٹھ کر بیٹھ گئیں جیسے تن مردہ میں جان پڑ گئی ہو۔ انہوں نے اسے لپٹا لیا اور رو پڑیں۔ ’’میرے ساحل تم کہاں چلے گئے تھے۔‘‘
“اماں رونے کی نہیں ہو رہی ہے۔” ساحل عمر نے ان کی آنکھوں کے آنسو اپنی انگلی سے صاف کرتے ہوئے کہا۔ ’’میں آپ کے لئے زبردست خوشخبری لے کر آیا ہوں۔”
“ہیں جلدی بتاؤ‘‘ اماں کے چہرے پر ایک دم رونق آ گئی۔
“بتاؤ نہیں دکھاؤ۔‘‘ ساحل عمر اٹھتا ہوا بولا۔ ’’ آیۓ میرے کمرے میں چلیں۔” ساحل عمر نے اماں کا ہاتھ پکڑ لیا اور پھر وہ دھیرے دھیرے اپنے بیڈ روم کی طرف بڑھا۔
اتنی دیر میں مرجینا رشاملوک کو بیڈ پر بٹھا کر دو پٹہ اڑھا چکی تھی۔ اس نے رشاملوک کا چہرہ گھونگھٹ میں چھپا دیا تھا۔
ساحل عمر اپنے کمرے کے دروازے پر پہنچ کر رکا۔ دروازے پر مر جینا کھڑی تھی۔ اس نے اماں کو دیکھ کر خوشی سے نعرہ لگایا۔ ’’ماں جی آپ کو مبارک ہو۔“
یہ کہہ کر وہ سامنے سے ہٹ گئی۔
اب ان کی نظر بیڈ پر پڑی۔ انہوں نے بیڈ پر کسی کو گھونگٹ نکالے بیٹھے دیکھا۔ یہ منظر دیکھنے کے لئے تو وہ ایک عرصے سے آرزو مند تھیں۔ وہ ساحل عمر سے ہاتھ چھڑا کر بیڈ کی طرف لپکیں اور پھر بیڈ پر بیٹھ کر رشا ملوک کا گھونگٹ الٹنے لگیں۔
پھر وہ گھونگٹ الٹتے الٹتے رک گئیں۔ ”ابھی آئی۔‘‘ یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گئیں۔
پھر وہ فورا ہی واپس آئیں۔ تو ان کی آنکھوں پر چشمہ لگا ہوا تھا اور ہاتھ میں زیور کا ایک ڈبہ تھا۔ اماں نے دوبارہ بیڈ پر بیٹھ کر رشا موک کا گھونگٹ اٹھایا اور دھیرے دھیرے الٹ دیا۔ وہ اس کی شکل دیکھتے ہی’’سبحان اللہ‘‘ پکار اٹھیں۔
پھر جب انہوں نے اس کے چہرے پر غور کیا تو ایک دم پکار اٹھی.. ’’ارے یہ تو تصویر والی دلہن ہے۔” رشاملوک نے آ نکھیں کھول کر اماں کو دیکھا۔ پھر بڑی مترنم آواز میں بولی۔ ’’ہاں اماں میں وہی ہوں۔‘‘
“ماشااللہ خوب ہو.. اللہ تمہیں نظر بد سے بچاۓ۔‘‘ اماں نہال ہوتے ہوۓ بولیں
انہوں نے جانے کب سے ایک سونے کا سیٹ بنوا کر رکھا ہوا تھا۔ وہ سیٹ انہوں نے بڑے چاؤ سے ساحل عمر کی دلہن کو پہنا دیا اور پھر جھٹ پٹ اس کی بلائیں لیں۔
اور جب یہ اطلاع ناصر مرزا اور مسعود آفاقی تک پہنچی تو وہ دونوں بے قرار ہو کر اس وقت اس کے گھر پہنچ گئے ۔ وہ دونوں سخت غصے میں تھے۔ ایک تو غصہ یہ تھا کہ وہ ایسا غائب ہوا کہ اس نے پلٹ کر اپنے بارے میں اطلاع بھی نہیں دی کہ کہاں ہے۔ بس ایک فون اماں کو کیا اور بس… دوسرے خاموشی سے دلہن لے آیا۔ کسی کو کانوں کان ہوا بھی نہ لگنے دی۔ ان دونوں کو غصہ کرتے دیکھ کر اماں بھی ان کی ہم نوا بن گئیں۔
“ہاں بھیا تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔“
پھر جب ساحل عمر نے ان دونوں کو گھر سے نکل کر گھر واپس آنے تک کی روداد سنائی تو ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا….لیکن شادی کے معاملات سے دستبردار ہونے کے لئے وہ پھر بھی تیار نہ تھے۔ ان دونوں نے مل کر منصوبہ بنایا اور اس معاملے میں اماں نے بھر پور ساتھ دیا۔
“ہم اس شادی کو نہیں مانتے. یہ شادی دوبارہ ہو گی ۔‘‘ مسعود آفاتی نے فیصلہ سنایا۔
“ہاں اور کیا بھیا. ایسی شادی کا کیا فائدہ. جس میں اپنے شریک ہی نہیں ہوۓ۔”
اماں نے ان کے فیصلے سے اتفاق کیا۔
“اچھا بھائی ٹھیک ہے جیسے تم لوگوں کی مرضی۔” بالآ خر ساحل عمر نے ہتھیار ڈال دیے۔
بس پر کیا تھا دونوں دوستوں نے شادی کے انتظامات سنبھال لئے۔ کسی نے ہال بک کرایا۔ کسی نے کھانے کا انتظام کیا۔ کسی نے شادی کے جوڑے سلوائے۔ کسی نے زیورات بنواۓ ۔ ان دنوں اماں کی حالت تو دیکھنے والی تھی ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ ہر کام میں خوب بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی تھیں۔ ادھر سے ادھر بھاگی پھرتی تھیں۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے پھر سے جوان ہو گئی ہوں۔
ایک ہفتے کے اندر شادی ہونا طے پائی تھی۔ سارے انتظامات بہت تیزی سے جاری تھے۔
ساحل عمر کو واپس آۓ تین دن ہو چکے تھے کہ اس دن عجیب واقعہ پیش آیا۔
تیسرے دن کی شام. اس وقت ناصر مرزا اور مسعود آفاقی بھی اتفاق سے گھر پر موجود تھے۔ وہ اس سے کچھ بات کرنے آۓ تھے۔ چاۓ چل رہی تھی کہ کسی نے کال بیل بجائی۔
بیل کی آواز سن کر مر جینا دروازے پر جانے لگی تو ساحل عمر نے اسے اشارے سے روک دیا۔ پھر وہ خود اٹھ کر گیٹ پر چلا گیا۔
گیٹ کھولا تو ساحل عمر سامنے کھڑے شخص کو دیکھتا رہ گیا۔ تہبند اور کرتہ پہنے، ہاتھ میں لاٹھی لیئے، سرخ سفید چہرہ، لمبی سفید داڑھی، آنکھیں کھلی ہوئی مگر بے نور۔ آنکھوں کی پتلیاں نہ تھیں۔ اس کے باوجود ان کے چہرے پر اتنا نور تھا۔ ان کی شخصیت میں اتنی کشش تھی کہ آ دمی انہیں دیکھتا تھا تو پھر نظر ہٹانے کو جی نہیں چاہتا تھا۔
ساحل عمر کی بھی انہیں دیکھ کر عجیب حالت ہوگئی۔ زبان گنگ ہوگئی ۔
“بھائی کیا یہ ساحل عمر کا گھر ہے۔” آنے والے نے انتہائی نرم لہجے میں پوچھا۔
ان کی آواز سن کر ساحل عمر ایک دم چونک اٹھا۔ یہ آواز مانوس سی تھی لیکن فورا اسے یاد نہ آیا کہ یہ آواز اس نے کہاں سی ہے۔ اس نے بڑے مئودہانہ لہجے میں کہا۔’’ جی یہ میرا گھر ہے۔ میں ساحل عمر ہوں۔‘‘
“بھائی میں موسی خان ہوں لوگ مجھے حافظ موسی کہتے ہیں۔” انہوں نے اپنا تعارف کرایا۔
ان کا نام سن کر ساحل عمر کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ ناصر مرزا کے توسط سے وہ حافظ موسی کا خاصا ذکر سن چکا تھا۔ پھر رشا ملوک کی بستی تک اس نام نے اس کا پیچھا کیا۔ اس نام نے اسے تحفظ فراہم کیا بابا صاعق کے ذریعے حافظ موسی کا بھجوایا ہوا تعویذ ملا۔ اس تعویذ نے کہاں کہاں اس کی مدد کی۔ اس کے دل میں تعویذ چھونے کا خیال پیدا ہوتا وہ تعویذ پکڑتا تو ایک آواز سنائی دیتی جو مسئلے کا حل بتاتی. اوہ ہاں اسے یاد آیا یہ آواز تو حافظ موسی کی ہی ہوتی تھی۔
ساحل عمر نے جلدی سے آگے بڑھ کر حافظ موسی کے دونوں ہاتھ چوم لئے اور بڑی عقیدت سے بولا۔ “اعلی حضرت آپ کی آمد میرے لئے کسی عید سے کم نہیں۔ آئیے اندر تشریف لائے۔“ حافظ موسی نے پیچھے مڑ کر کسی سے کہا۔ ’’اچھا بیٹا آپ جائیں۔ ہم صبح ٹھکانے پر پہنچ جائیں گے”
ساحل عمر نے بڑی حیرت سے سامنے دیکھا۔ ادھر ادھر دائیں بائیں. سب طرف دیکھا مگر اسے وہاں آ دم نہ آدم زاد. کوئی نظر نہ آیا۔ پھر حافظ موسی کس سے مخاطب تھے یہ بات اس کی سمجھ میں نہ آئی۔
چند لمحے وہ سڑک کی جانب دیکھتے رہے جیسے نظروں نظروں میں کسی کو رخصت کر رہے ھوں۔ پھر انہوں نے اپنی گردن سیدھی کی اور لاٹھی بجاتے ہوئے گیٹ میں داخل ہو گئے۔
ساحل عمر نے جلدی سے گیٹ بند کیا اور آگے بڑھتے ہوۓ حافظ موسی کا ہاتھ تھام لیا۔ حافظ موسی نے بڑی نرمی سے کہا۔
”شکریہ بھائی اس کی ضرورت نہیں. تم بس میرے آگے آگے چلوا‘‘
یہ کہہ کر انہوں نے اپنا ہاتھ چھڑا لیا اور لاٹھی ٹیکتے ہوۓ اس انداز میں چلنے لگے جیسے سب دکھائی دے رہا ہو۔
ساحل عمر نے گھر کے دروازے کے نزدیک پہنچ کر دو چار تیزی سے قدم اٹھا کر جلدی سے گھر میں جانا چاہا تا کہ ناصر مرزا کو ان کی آمد کی اطلاع دے دے۔ اس کی تیزی سے قدم اٹھاتے ہی پیچھے سے آواز آئی۔
“بھائی آخر ایسی جلدی کیا ہے اب ہم گھر میں تو جا ہی رہے ہیں۔”
“جی اعلی حضرت… آپ نے صحیح فرمایا۔”
“بھائی میں اعلی ہوں نا ادنی ہوں. میں بس موی خان ہوں۔” انہوں نے ملائم لہجے میں کہا۔ ’’تم مجھے حافظ موسی کہ لو. بس اس سے زیادہ نہیں“
“جی بهتر….. حافظ صاحب!‘‘ جب ساحل عمر ان کو لئے لاؤنج میں پہنچا تو ناصر مرزا حافظ موسی کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وہ ایک دم اچھل کر کھڑا ہو گیا اور لپک کر ان کے نزدیک پہنچا۔
’’حافظ صاحب آپ!‘‘
“اچھا یہاں ناصر مرزا بھی براجمان ہیں‘‘ انہوں نے ناصر مرزا کی آواز پہچان کر کہا۔
ناصر مرزا نے ان کا لاٹھی والا ہاتھ پکڑ کر ایک صوفے پر بٹھایا اور خود قالین پر ان کے قدموں میں بیٹھ گیا تو حافظ موسی گویا ہوۓ۔
“ناصر مرزا کیا یہاں صوفوں کی کمی ہے۔“
“نہیں. حافظ صاحب یہاں بیٹھنے کی بہت جگہ ہے۔‘‘ پھر وہ ان کا مطلب سمجھ کر ان کے نزدیک ہی دوسرے صوفے پر بیٹھ گیا۔
مسعود آفاقی انہیں بڑے غور سے دیکھ رہا تھا۔ ان کے بارے میں اس نے ناصر مرزا کی زبانی بہت کچھ سن رکھا تھا۔ اب اپنی آنکھوں سے دیکھا تو وہ اسے کسی اور دنیا کی مخلوق محسوں ہوۓ۔
’’بھائی ہم یہاں اپنی امانت واپس لینے آۓ ہیں۔‘‘ حافظ موسی نے کہا۔ ان کی بات کسی کی سمجھ میں نہ آئی۔ ساحل عمر نے ناصر مرزا کو دیکھا۔ ناصر مرزا نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ساحل عمر سے سوال کیا۔ مسعود آفاقی نے باری باری دونوں کی طرف دیکھا. ہرایک نظر میں سوال تھا جواب کسی کے پاس نہ تھا۔
’’ساحل عمر۔‘‘ حافظ موسی براہ راست ساحل عمر سے مخاطب ہوۓ۔
’’بابا صاعق نے ہمارے نام سے تمہیں کچھ دیا تھا؟“
“جی حافظ صاحب دیا تھا۔” ساحل عمرکو فورا وہ تعویذ یاد آ گیا جو اب بھی اس کے گلے میں پڑا تھا۔
“بس بھائی. ہم وہی لینے آۓ ہیں۔‘‘ حافظ موس بولے۔
پھر تھوڑے سے توقف کے بعد ناصر مرزا کو مخاطب کیا۔ ’’ناصر مرزا تم ساحل عمر کے گلے سے وہ تعویذ اتار کر ہمارے گلے میں ڈال دو”
“جی بہت بہتر ۔‘‘ ناصر مرزا فورا اٹھا۔ ساحل عمر کے نزدیک پہنچا۔ اس کے گلے سے تعویذ نکال کر حافظ موسی کے گلے میں ڈال دیا۔ انہوں نے اس تعویذ کو چھو کر دیکھا اور پھر بے اختیار مسکراۓ ۔ ناصر مرزا کو احساس ہوا کہ جیسے وہ کچھ بولیں گے لیکن وہ کچھ نہ بولے۔ چند لمحوں بعد ان کے ہونٹوں سے وہ مسکراہٹ بھی غائب ہوگی۔
“بھئی وہ لڑ کی کہاں ہے؟‘‘ حافظ موسی اماک گویا ہوئے۔ ’’ ساحل عمر تم نے کمال کیا۔ اس بستی کا قیمتی ہیرا نکال لاۓ۔ وہ بڑے دل گردے کے لوگ ہیں۔ انہوں نے کبھی تردد نہ کیا۔ راضی بہ رضا اس لڑکی کو تمہارے ساتھ کر دیا۔ ساحل عمر تمہیں وہ لڑ کی مبارک ہو. کیا نام ہے اس کا۔”
“رشا ملوک۔” ساحل عمر نے بتایا۔
“اچھا ہاں۔‘‘ جیسے انہیں اس کا نام یاد آ گیا۔ ’’رشاملوک بھی رشا ملوک کو عذرا ملوک بناؤ۔ ہمیں نکاح کے چھوہارے کھلاؤ۔ بھئی شادی کرو…ہم نکاح پڑھائیں گے اور نکاح سے پہلے ہم اسے عذرا ملوک بنائیں گے۔“
ساحل عمر نے خوش ہوکر کہا۔ “یہ تو بہت خوشی کی بات ہے۔ اس سے بڑا اعزاز ہمارے لئے اور کیا ہوسکتا ہے۔ ساحل عمر نے خوش ہو کہا
“حافظ صاحب چار دن بعد ساحل عمر کی شادی ہے۔ میں آپ کو خود لینے آؤں گا۔” ناصر مرزا مودبانہ انداز میں بولا۔
“بھائی ہمیں ڈھول ڈھمکوں سے کیا لینا. ہم تو ابھی آ گئے ہیں۔اسے عذرا بنائیں گے۔ دونوں کا نکاح پڑھائیں گے چھوہارے کھائیں گے اور اپنے گھر کا رستہ لیں گے۔‘‘ حافظ موسی نے اپنا سارا پروگرام بتا دیا۔
“حافظ صاحب اس سے اچھی بات اور کیا ہوسکتی ہے۔ آپ تشریف رکھیں۔ میں ابھی چھوہاروں کا انتظام کرتا ہوں۔ یہ کہہ کر ناصر مرزا اٹھنے لگا۔
“ارے بھائی ناصر اتنا وقت ہمارے پاس کہا۔. اب تم کہاں چوہارے لینے جاؤ گے۔ ہمہاری جیب میں چھوہارے پڑے ہیں…لو ذرا آؤ یہاں سے نکال لو۔” حافظ موسی نے اپنے کرتے کی جیب کو ہاتھ سے کھولتے ہوئے کہا۔
ناصر فورا اٹھا۔ ان کی جیب میں ہاتھ ڈالا تو چھوہاروں سے مٹھی بھر گئی۔ اس نے مٹھی باہر نکال کر مسود آفاقی کو اشارہ کیا۔ وہ اسکے نز دیک آ کر کھڑا ہو گیا اور اپنی قمیض کا دامن پھیلا دیا۔ ناصر مرزا نے اپنی بھری ہوئی مٹھی اس کے پھیلے ہوئے دامن میں کھول دی۔
“اب دامن پھیلایا ہے تو ہمیں شرمندگی سے بچاؤ اور نکال لو چھوہارے۔‘‘ حافظ موسی نے بدستور اپنی جیب چوڑی کئے ہوۓ کہا۔
ناصر مرزا کے ہاتھ موقع آ گیا۔ وہ مٹھی بھر بھر کر چوہارے نکال کر مسعود آفاقی کے دامن میں نکالنے لگا۔ یہاں تک کہ اسکا دامن چھوہاروں سے بھر گیا۔ اتنی دیر میں ساحل عمر ایک ٹرے کچن سے لے آیا۔ اس طرح وہ چھوہارے بڑے میں منتقل کر دیئے گئے ۔ سب حیران تھے کہ اتنی سی جیب سے اتنے ڈھیر سارے چھوہارے کیسے نکل آۓ۔
پھر حافظ موسئ نے ایک سفید چادر قالین پر بچھانے کے لئے کہا ساحل عمر نے فورا حکم کی تعمیل کی۔ جب سفید چادر قالین پر بچھ گئی تو حافظ موسی صوفے سے نیچے اتر آۓ ۔ وہ آلتی پالتی مارکر ، اطمینان سے چادر پر بیٹھ گئے۔ پھر بولے۔
’’لاؤ بھئی لڑکی کو بلاؤ….. وہ کہاں ہے۔ اسے قل پڑھائیں۔ نکاح پڑھائیں اور اپنے گھر کو جائیں۔”
’’جی اچھا۔‘‘ ساحل عمر یہ کہ کر بیڈ روم کی جانب بڑھا کہ اتنے میں ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔
گھنٹی کی آواز سن کر حافظ موسی کے کان کھڑے ہو گئے۔ ان کا چہرہ ایک دم سرخ ہو گیا۔ ساحل عمر ٹیلی فون کا ریسیور اٹھانے ہی والا تھا کہ حافظ موسی چیخ اٹھے۔
’’نہیں……ریسیور نہ اٹھانا ۔‘‘

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: