Anwar Aleegi Urdu Novels

Bichoo Novel By Anwar Aligi – Episode 26

Bichoo Novel By Anwar Aligi
Written by Peerzada M Mohin
 بچھو از انوار علیگی – قسط نمبر 26

–**–**–

حافظ موسی کی آواز اس قدر گر جدارتھی کہ ساحل عمر کا ہاتھ ریسیور پر جما رہ گیا۔ اس نے بڑی حیرت سے حافظ موئی کی طرف دیکھا۔ ان کا چہرہ ابھی تک غصے سے سرخ تھا۔ ٹیلی فون کی گھنٹی اب بھی بج رہی تھی لیکن ساحل عمر ٹیلی فون سے دور ہو چکا تھا۔
سات گھنٹیوں کے بعد ٹیلی فون خاموش ہو گیا۔ پورے گھر پر ایک سناٹا سا طاری تھا۔ چند لمحوں بعد حافظ موسی کے چہرے میں تبدیلی آئی۔ وہ تھوڑا سا مسکراۓ پھر بولے۔’’ہاں بھئی جلدی کرو لڑکی کو لے کر آؤ۔ اسے وضو کروا کر لانا۔“
“جی بہتر ۔‘‘ ساحل عمر نے کہا۔ اس کے دل میں سوال چل رہا تھا۔ وہ پوچھنا چاہ رہا تھا کہ کس کا فون تھا اور انہوں نے ریسیور اٹھانے سے کیوں منع کردیا. لیکن اس میں ہمت نہ ہوئی یہ سوال کرنے کی۔ وہ بیڈ روم کی طرف بڑھا۔
’’ساحل عمر۔‘‘ تب حافظ موسی نے آواز دی۔ ساحل عمر جاتے جاتے رک گیا اور دھیرے سے بولا۔”جی۔‘‘
“بھائی اس قدر بے قراری کیا ہے۔ اس کا فون دوبارہ آ جائے گا میں یہ چاہتا ہوں کہ اس کے رابطے سے پہلے تمہارا بندھن مضبوط کردوں۔‘‘ حافظ موسی نے کہا۔ ’’اس میں تمہاری بھلائی ہے۔“
“جیسی آپ کی مرضی۔‘‘ ساحل عمر کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کیا کہنا چاہ رہے تھے۔ بہر حال اس نے اس مسئلے کو پس پشت ڈالا اور کمرے میں چلا گیا۔ اس نے اماں کو ہدایت کی۔ ’’اماں رشاملوک کو وضو کروا کر لاؤنج میں لے آئیں۔”
چند منٹ کے بعد اماں رشا ملوک کو لے کر لاؤنج میں داخل ہوئیں۔ اماں اور رشا ملوک دونوں نے حافظ موسی کو سلام کیا۔ سلام کا جواب دے کر حافظ موسئ نے اپنے سامنے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
رشا ملوک ان کے سامنے ادب سے بیٹھ گئی۔ سر پر دوپٹہ تھا اور سر جھکا ہوا تھا۔ حافظ موسی نے اچانک ادھر ادھر گردن گھمائی جیسے کسی کی آمد کا احساس ہوا ہو۔ پھر وہ گویا ہوئے۔’’ساحل عمر گھر کا دروازہ کھول دو ۔ ہوا آنے دو بھائی۔“
“حافظ صاحب. دروازہ باہر کا کھولوں یا اندرکا.” ساحل عمر نے وضاحت چاہی۔
“بھائی اندر کا دروازہ کھلنا زیادہ بہتر ہو گا۔‘‘ حافظ موسی نے اپنے مخصوص انداز میں جواب دیا
ساحل عمر نے اپنے گھر کا مین دروازہ کھول دیا اور پھر ان کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔
’’ہاں رشا ملوک۔‘‘ اب وہ رشا ملوک سے مخاطب ہوۓ۔
اپنا نام سن کر رشا ملوک۔ پلکیں اٹھائیں۔ ایک لمحے کو حافظ موسی کو دیکھا اور پھر آنکھیں جھکالیں۔
“رشاملوک جو پوچھوں اس کا جواب دیتی جا. سوال کا جواب دینے میں تم مکمل طور پر آزاد ہو۔‘‘ حافظ موسی نے کہا۔ ’’میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کیا تم اپنی مرضی سے ساحل عمر کے ساتھ آئی ہو”
”جی بالکل۔‘‘ رشاملوک نے بلا جھجک جواب دیا۔
“تم جانتی ہو کہ ساحل عمر کا مذہب کچھ اور ہے تم لوگوں کا عقیدہ کچھ اور۔. میں جانتا ہوں کہ تم لوگ وقت کے ماننے والے ہو۔ ہمارے ہاں موت اور زندگی کا وقت مقرر ہے نہ ایک لمحہ پہلے نہ ایک لمحہ بعد… وقت پر اللہ کی حکمرانی ہے۔ اس کی مرضی کے بغیر ایک پتا بھی نہیں ہلتا۔ اس بستی میں جو ہوا سو ہوا۔ وہاں کا قانون کچھ اور ہے یہاں کا قانون کچھ اور ہے۔۔ یہاں تمہاری شادی اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک تم اپنے شوہر کا مذہب اختیار نہ کرلو۔ میں تم سے سوال کرتا ہوں کیا تم اپنے شوہر کا مذہب اختیار کرنے پر خوشی سے راضی ہو۔“
“جی بہت خوشی سے۔“ رشا ملوک نے اس مرتبہ بھی جواب دینے میں ایک لمحہ نہ لگایا۔
“تمہارا نام بھی تبدیل ہو گا. تمہارا نیا نام عذرا ہوگا. چاہے عذرا ملوک چاہے عذرا ساحل…..جو تمہیں پسند ہو۔‘‘ حافظ موسی نے کہا۔
’’عذرا ساحل۔‘‘ رشا ملوک نے اپنا نام منتخب کرنے میں ذرا دیر نہ کی۔
“ماشاء اللہ‘‘ حافظ موسی نے خوشی کا اظہار کیا۔ ”چلو بس اب پڑھو بسم اللہ“
تب حافظ موئی نے اسے اللہ کے آخری مذہب کے بارے میں بنیادی معلومات فراہم کیں اور پھر کلمہ پڑھا کر اسے دائرہ اسلام میں لے آئے۔ حافظ موسی سمیت سب نے عذرا ساحل کو مبارک باد دی…
اس کے بعد حافظ موسی نے نکاح پڑھا کر انہیں ازدواجی بندھن میں باندھ دیا۔ اپنے کرتے کی جیب میں ہاتھ ڈال کر دو چھوہارے نکالے۔ ایک ساحل عمر کو دیا دوسرا عذرا ساحل کے ہاتھ پر رکھا ساحل عمر نے چوہاروں سے بھری ٹرے ان کے سامنے رکھی حافظ موی نے ایک چوہارا اٹھا کر منہ میں ڈال لیا۔
پھر سب نے ساحل عمر کو مبارکباد دی۔ اس مبارک سلامت کے شور میں ساحل عمر اور عذرا پر اچانک پھولوں کی پتیاں برسنے لگیں۔ لاؤنج ایک دم خوشبو سے مہک اٹھا۔ سب حیران رہ گئے کہ یہ گلاب کے پھولوں کی ڈھیروں پتیاں اور خوشبو کہاں سے آئی۔
”تم آخر باز نہیں آۓ۔ اسی لئے تم لوگوں کو اندر نہیں بلا رہا تھا۔ اچھا چلو اب جاؤ۔‘‘ حافظ موسی جانے کن لوگوں سے مخاطب تھے۔ نظر کوئی نہ آیا۔ نہ آ تے ہوۓ نہ جاتے ہوئے۔ کچھ دیر کے بعد حافظ موسی خود بھی کھڑے ہو گئے اور ناصر مرزا سے مخاطب ہو کر بولے۔
“چلو بھائی ناصر مرزا ہمیں ہمارے ٹھکانے پر چھوڑ آؤ۔”
“حافظ موئی ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔ ہم آپ کو کھانا کھلائے بغیر نہیں جانے دیں گے۔“ ناصر مرزا نے فورا کہا
“ارے نہیں بھائی….. اتنا وقت نہیں ہے میرے پاس. میری جان کوسو بکھیڑے ہیں۔ اب میں چلوں گا۔ اچھا بھئی ساحل عمر اللہ حافظ. تم ناصر مرزا کو لے کر میرے پاس آنا اور ہاں سمار ملوک کی اس تلوار کا خاص خیال رکھنا۔ اس کے پیچھے چور لگیں گے۔ اس کی حفاظت تم پر لازم ہے۔ ٹھیک ہے میں چلتا ہوں۔“
اتنی دیر میں عذرا ساحل بھی کھڑی ہو چکی تھی ۔ اس نے دھیرے سے کہا۔ ’’حافظ صاحب اللہ حافظ۔‘‘
“اللہ تمہارے نصیب اچھے کرے۔” یہ کہہ کر انہوں نے عذرا کے سر پر دھیرے سے ہاتھ پھیرا اور دروازے کی طرف بڑھے۔ ’’چلو بھائی ناصر مرزا۔‘‘
☆☆☆☆☆☆☆
ٹیلی فون کی گھنٹی بجی تو ساحل عمر کی نظر دیوار کی گھڑی پر پڑی۔ گیارہ بج کر پانچ منٹ ہوۓ تھے۔
وہ لوگ رات کا کھانا کھا کر خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ ان دونوں کے ساتھ اماں بھی ڈائیننگ ٹیبل پر موجود تھیں۔ اماں کی خوشی دیکھنے کے لائق تھی۔ وہ عذرا ساحل کو تین دن سے بار بار اس طرح دیکھتی تھیں جیسے اسے پہلی بار دیکھ رہی ہوں۔ ان میں جان پڑ گئی تھی۔ وہ اس پر نہال ہوئی جاتی تھیں۔ ان کی ساری بیماری کافور ہو گئی تھی۔ اب وہ گھر میں اس طرح دوڑتی پھر رہی تھیں جیسے ان کے اندرکوئی ’’پاور ہاؤس‘‘ اسٹارٹ ہو گیا ہو۔
عذرا بھی ان کی اس نچھاور ہونے والی محبت سے خاصی متاثر ہوئی تھی۔ وہ اماں کو اپنے پاس ہی بٹھائے رکھتی تھی۔ اماں اسے دن بھر نت نئے قصے سناتی رہتی تھیں۔ کبھی وہ ساحل عمر کے بچپن کے قصے سناتی رہتی تھیں۔ کبھی وہ اسے ساحل کے والدین کے بارے میں بتاتیں۔ غرض عذرا کے لئے اس وقت اماں معلومات کا خزانہ ثابت ہو رہی تھیں۔
اور آج تو اماں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہ تھا۔ انہیں رشا ملوک کے بارے میں زیادہ معلومات نہ تھیں کہ وہ کون تھی کہاں سے آئی تھی نہ ہی اس سلسلے میں ان کے ذہن میں کوئی تجسس تھا۔ انہیں تو ساحل عمر کی دلہن درکار تھی سو وہ انہیں میسر آ گئی تھی۔ حافظ موسی نے اسے دائرہ اسلام میں لا کر اور نکاح پڑھا کر اضافی خوشیاں بخش دی تھیں۔ وہ کافی دیر سے ان دونوں کے ساتھ بیٹھی تھیں۔ اب وہ کافی کے مگ سمیٹ کر اٹھنے کا سوچ رہی تھیں کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بج اٹھی۔
اور یہ وہ وقت تھا جس پر بھی ساحل عمر کی دھڑکن تیز ہو جایا کرتی تھی۔
دھڑ کن تو خیر اس وقت بھی اس کی تیز ہو گئی کیونکہ حافظ موسی کے جانے کے بعد یہ پہلافون تھا۔ پہلے انہوں نے اسے ٹیلی فون کا ریسیور نہیں اٹھانے دیا تھا۔ وہ پورے استحکام کے ساتھ ٹیلی فون کا طرف بڑھا۔ اس نے ریسیور اٹھایا اور اپنے مخصوص انداز میں بولا۔ ’’جی۔‘‘
“بے مروت انسان۔‘‘ ادھر سے کوئی بولا لہجے میں بڑی کاٹ تھی بڑا جلا کٹا تھا۔
“کون ہیں آپ؟‘‘ ساحل عمر نے آواز تو پہچان لی تھی لیکن اس آواز نے بھی اس لہجے میں بات نہ کی تھی اسے لئے اس نے تصدیق کر لینا بہتر جانا۔
“کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو۔‘‘
“اچھا تو یہ آپ ہیں۔‘‘ ساحل عمر کو اب یقین ہو گیا کہ فون پر بات کرنے والی ورشا تھی
“شکر ہے پہچانا تو ور نہ رانگ نمبر کہہ کر رکھ دیتے تو میں کیا کر لیتی۔‘‘ ورشا نے بڑی چاہت سے کہا۔ ’’سنو میں نے شام کو بھی فون کیا تھا۔ کیا تم گھر پر نہ تھے۔“
“شام کو کس وقت؟‘‘ ساحل عمر نے سوال کیا۔
’’یہی کوئی پانچ بجے۔‘‘ اس نے بتایا۔
اچھا تو وہ فون اس کا تھا۔ جس کے بارے میں حافظ موسی نے کچھ نہیں بتایا تھا۔ بس اتنا کہا تھا کہ اس کے رابطے سے پہلے میں تمہارا بندھن مضبوط کر دینا چاہتا ہوں اور پھر انہوں نے ایسا ہی کیا تھا۔ ورشا کے دوبارہ فون آنے سے پہلے عذرا اور ساحل عمر کو رشته از دواج میں منسلک کر دیا تھا۔ شاید اس میں کوئی حکمت تھی ہوسکتا ہے نکاح سے پہلے دونوں کے درمیان ٹیلی فونی رابطہ کوئی گل کھلا دیتا۔ خیر جو بھی تھا اب تو وہ وقت گزر چکا تھا۔ اس کا بندھن مضبوط ہو چکا تھا اب اسے کوئی خطرہ نہ تھا۔
’’ہاں اس وقت میں باہر گیا تھا۔‘‘ ساحل عمر نے کہا۔
“کیا گھر میں کوئی بھی نہ تھا۔“
”گھر میں سب تھے۔“
“میں نے کافی دیر ریسیور اٹھائے رکھا لیکن کسی نے اٹھایا نہیں“
“ہوسکتا ہے ٹیلی فون کی گھنٹی کی آواز کسی نے بند کر دی ہو۔ صفائی کرتے ہوۓ اکثر ایسا ہو جا تا ہے ل۔‘‘ ساحل عمر نے بڑے سلیقے کا عذر تراشا۔
“کیا کر رہے تھے“
“میں بیٹھا ہوا تھا. کافی پی رہا تھا اور اماں سے باتیں کر رہا تھا۔” اس نے عذرا کا ذکر قصداً گول کر دیا۔
“اماں سے باتیں کر رہے تھے؟‘‘ یہ کہ کر وہ زور سے ہنسی۔ یہ وہ ہنسی تھی جو اس کا چین لوٹ لیا کرتی تھی۔
“ہنس کیوں رہی ہو۔ میں نے ایسی کیا غلط بات کہہ دی۔‘‘
“نہیں تم نے کوئی غلط بات نہیں کی مجھے بس ایسے ہی ہنسی آ گئی تھی۔ اچھا سنو. ایک عرصہ ہو گیا ہمیں ملے۔ کیا ملاقات ممکن ہے ‘‘ ورشا نے کہا تھا۔
”میں سوچ کر بتاؤں گا۔‘‘ ساحل عمر نے صاف جواب نہ دیا۔
“ایک ہفتے کے بعد ۔‘‘ وہ بولا۔
“ایک ہفتے کے بعد کیوں. آخر ابھی کیوں نہیں. ایک ہفتے کے بعد کوئی انقلاب آ جائے گا”
“ہاں یہی سمجھ لو۔‘‘ ساحل عمر نے سنجیدگی سے کہا۔
اتنے میں عذرا ڈائننگ ٹیبل سے اٹھ کر لاؤنج میں داخل ہو گئی۔ اس نے مسکرا کر اشارے ے پوچھا کس کا فون ہے۔ ساحل عمر نے جواب دینے کے بجاۓ اسے اپنے پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ عذرا اس کے نزدیک بیٹھ گئی۔
“تم مجھ سے کیا چھپا رہے ہو.؟ صاف کہو جو کہنا ہے۔‘‘ ورشا نے تیکھے لہجے میں کہا۔
“نہیں میں کچھ نہیں چھپا رہا. شادی بھی بھلا کوئی چھپانے کی چیز ہے۔ وہ بھی پہلی شادی۔ وہ بولا
“شادی‘‘ اس کی آواز میں ناگن کی سی پھنکار تھی۔
“چار دن کے بعد میری شادی ہے۔‘‘ ساحل عمر نے بڑے مزے سے جواب دیا۔
“تمہیں شادی مبارک ہو…. ساحل عمر مجھے اپنی شادی کا کارڈ ضرور بھیجنا میں تمہاری شادی میں ہر قیمت پر آؤں گی۔‘‘ ورشانے بڑے صاف انداز میں یہ بات کہی۔
“مجھے خوشی ہوگی ضرور آنا میں تمہیں کارڈ بھجوا دوں گا۔‘‘
ساحل عمر کا خیال تھا کہ وہ شادی کے ذکر پر گلے شکوے کرے گی۔ اپنی دوستی کے حوالے دے گی پچھلی یادیں دہرائے گی لیکن اس نے ایسا کچھ نہ کیا۔ بس خاموشی سے ریسیور رکھ دیا۔ البتہ اس نے ٹھنڈی آہ ضرور بھری۔
پھر اس نے ٹیلی فون اپنی گود سے اٹھا کر سائیڈ ٹیبل پر پچا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔ برکھا بیڈ پر اس کے برابر ہی بیٹھی تھی اس نے ورشا کو اپنی گود میں لٹا لیا اور فکر مند انداز میں بولی۔ ’’ کیا ہوا‘‘
“ممی اس نے شادی کر لی۔‘‘ ورشا نے بڑی اداسی سے کہا۔
“تجھے تو میری بات کا یقین ہی نہیں آ رہا تھا۔ اب بتا میں نے ٹھیک کہا تھا ناں۔۔ میری اطلاع کبھی غلط نہیں ہوتی۔“ برکھا نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا۔ ’’تجھے اس کی شادی کا رنج ہوا ؟“
“نہیں ممی. میرا بھلا وہ کیا لگتا تھا۔ میں کیوں رنجیدہ ہوتی۔‘‘ ورشا نے اپنی آواز میں استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن ہو نہیں سکا۔ اس کی آواز میں لرزش تھی اور اس لرزش کا صاف پتہ لگ رہا تھا
“لیکن مجھے بہت دکھ پہنچا ہے۔‘‘ برکھا نے ٹھنڈی سانس لیتے ہوۓ کہا۔ “نا قابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔”
“ممی کیا تم اس سے محبت کرنے لگی تھیں اس سے شادی کرنا چاہتی تھی۔‘‘
“نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں۔‘‘ بر کھا جلدی سے بولی۔ وہ ورشا کا سوال سن کر پریشان ہوگئی تھی
“میں تو اس کی بلی دینا چاہتی تھی اور بلی کے بدلے مانا کو حاصل کرنا چاہتی تھی۔ اس لئے میں نے تجھے اس کے پیچھے لگایا تھا تا کہ تو گھیر کر اسے میرے پاس لے آۓ اور میرے اس مقصد کو تو اچھی طرح جانتی ہے۔“
“پھر ممی.. اس کی شادی سے آپ کو کیا فرق پڑا کوئی نقصان کیسے ہوا؟‘‘
”میری بلی اب اشدھ ہو گئی ناپاک ہو گئی۔ شادی کے بعد وہ اس قابل نہیں رہا کہ اسے قربان کیا جاسکے۔ یہ سب اتنا اچانک ہو گیا کہ میں اس اطلاع پر افسوس کرنے کے سوا کچھ نہ کر سکی۔ خیر چھوڑوں گی تو میں اسے اب بھی نہیں۔ اس نے میری پوری زندگی کی تپسیا بھنگ کی ہے۔ میری ماں تھی۔’’ میری آرزوؤں کا خون کیا ہے میں اس خون کا بدلہ لے کر رہوں گی”
“می اب کیا کرو گی؟‘‘ ورشا نے سوال کیا۔
“میں اسے سسکا سسکا کر ماروں گی۔ اب تو دیکھتی جا میں کیا کرتی ہوں۔” بکھا نے اسے گود میں اٹھاتے ہوۓ کہا۔
ورشا فورا اس سے دور ہو کر بیٹھ گئی کیونکہ برکھا کے وجود سے پھوٹنے والی بدبو اب ناقابل برداشت ہو گئی تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆
ساحل عمر کی شادی میں یوں محسوس ہوتا تھا پورا شہر امڈ آیا ہے بے شمار لوگ تھے اور کیوں نہ ہوتے۔ یہ صرف ساحل عمر کی تقریب نہ تھی۔ ناصر مرزا اور مسعود آفاقی بھی اس میں برابر کے شریک تھے ۔مسعود آفاقی نے پریس کے بہترین لوگوں کو مدعو کر رکھا تھا۔ ناصر مرزا نے بزنس مینوں اور شوبز کے لوگوں کو اکٹھا کر لیا تھا۔ ساحل عمر نے آرٹ کی دنیا کے لوگوں کو بلا لیا تھا۔ اس طرح اس تقریب میں شہر کی کریم نظر آرہی تھی۔
مسعود آفاقی لڑ کے والا بن گیا تھا اور ناصر مرزا نے لڑ کی والوں کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس شادی کی سب سے اہم مہمان تھیں اماں. انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا جا رہا تھا۔ شہر کا ایک بہترین ہال بک کیا گیا تھا۔ یہ ہال بڑی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔
سٹیج پر صرف تین مرصع کرسیاں تھیں۔ ایک کری پر ساحل عمر دوسری پر عذرا اور عذرا کے برابر اماں تھیں۔ ان کرسیوں کے علاوہ اسٹیج پر صوفے رکھے ہوئے تھے۔ نکاح پہلے ہی ہو چکا تھا۔ اس لئے لوگ قاضی کی آمد اور نکاح کے انتظار کی زحمت سے بچ گئے تھے۔ لڑکی والوں نے بارات کا شاندار استقبال کیا۔ بارات کی آمد کے بعد اسٹیج پر عذرا کو لایا گیا۔ وہ سبز رنگ کے کپڑوں میں تھی اور یہ سبز رنگ کا جوڑا خود ساحل عمر نے اس کے لئے پسند کیا تھا۔ سبز رنگ کے اس انتہائی قیمتی جوڑے میں وہ بالکل سبز پری لگ رہی تھی۔ اس کا حسن ملکوتی تھا اس رنگ نے اس کے حسن کو مزید نکھار دیا تھا۔ جو ساحل عمر کی دلہن کو دیکھتا تھا اس کی نظر اس پر جم کر رہ جاتی تھی۔ سب پریشان تھے کہ اتنی حسین لڑکی ساحل عمر نے کہاں سے ڈھونڈ نکالی۔ لڑکوں کی مائیں بار بار اماں سے پوچھ رہی تھیں۔ اے کیا اس کی کوئی اور بہن بھی ہے۔
اماں کچھ جل کر اور کچھ ہنس کر جواب دیتیں۔”نہیں اللہ نے بس یہی ایک پیس بنایا تھا۔” اماں کا یہ جواب کچھ غلط بھی نہ تھا۔ اللہ نے واقعی اسے یکتا اور اکلوتا بتایا تھا۔
اسٹیج پر دھڑا دھڑ تصویریں بن رہی تھیں۔ ویڈیو فلم شوٹ کی جارہی تھی۔ مسعود آفاقی بھی فوٹو گرافی میں لگا ہوا تھا۔ وہ اس جوڑے کی اچھی سے اچھی تصویر اتار لینا چاہتا تھا۔ اماں بہت خوش تھیں۔ بات بے بات ہنس رہی تھیں۔ جو لوگ یہ جانتے تھے کہ ساحل عمر کے والدین کا انتقال ہو چکا ہے۔ ان لوگوں نے جب اماں کے بارے میں استفسار کیا کہ یہ کون ہیں؟ اور جب انہیں یہ جواب ملا کہ یہ ساحل عمر کے گھر کی پرانی ملازمہ ہیں اور ساحل عمر کو انہوں نے گودوں کھلایا ہے تو یہسن کر وہ حیران رہ جاتے تھے کہ ایک ملازمہ کی اتنی اہمیت. اتنا احترام۔
کھانے کا وقت قریب تھا۔ ڈشوں کے نیچے چراغ جلاۓ جا رہے تھے کہ کھانا ٹھنڈا نہ ہونے پاۓ۔ اتنے میں ہال میں ایک ہلچل سی مچی۔ جس نے بھی اسے دیکھا وہ چو نکے بنا نہ رہ سکا۔ وہ بڑے پروقار انداز میں میزوں کے درمیان بنے راستے پر چلی آرہی تھی۔ اس کا رخ اسٹیج کی طرف تھا۔ وہ کالی ساڑھی جس پر ستاروں کا کام تھا باندھے ہوئے تھی۔ بغیر آستین کا چھوٹا سا بلاؤز پہنے شاخ گل کی طرح مچلتی۔ شانوں پر زلفیں بکھیرے۔ شہر کے کسی بڑے بیوٹی پارلر سے میک اپ کروائے۔ لوگوں کے درمیان سے لوگوں پر بجلیاں گراتی بڑھتی جارہی تھی۔ اس پر جس کی بھی نظر پڑ رہی تھی چاہے وہ مرد ہو یا عورت… اس کو دیکھے بغیر نہیں رہ پا رہا تھا۔ اس کے بارے میں سرگوشیاں ہو رہی تھیں۔ یہ کون ہے؟ کہاں سے آئی ہے طرح طرح کے سوال ذہنوں میں اٹھ رہے تھے لیکن وہ جو بھی تھی خوب تھی۔ قابل توجہ تھی.
وہ ورشا تھی! ساحل عمر نے جب اسے اسٹیج کی سیڑھیاں چڑھتے دیکھا تو وہ دم بخود رہ گیا۔ اس لئے نہیں کہ وہ اس کے حسن سے متاثر ہو گیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں ورشا آگ تھی لیکن جو حسن اس کے پہلو میں تھا وہ بھی کسی سے کم نہ تھا وہ شبنم تھا۔ ٹھنڈا آنکھوں کی روشنی بڑھانے والا۔ وہ اس لئے دم بخود رہ گیا کہ اسے ورشا کے شادی میں شریک ہونے کی امید نہ تھی۔ اس نے اسے کارڈ ضرور بھجوایا تھا محض رسمی طور پر وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ چلی آۓ گی۔
خیر اب تو وہ کسی قیامت کی صورت بر پا ہو ہی گئی تھی۔ اب جو ہو سو ہو۔ وہ سیدھی ساحل عمر کی طرف بڑھی۔ ساحل عمر اسے دیکھ کر احتراما کھڑا ہو گیا۔ ورشا نے بے تکلفی سے اس سے ہاتھ ملانے کے لئے اپنا نرم و نازک ہاتھ آگے بڑھایا۔ ساحل عمر مخمصے میں پھنس گیا۔ پھیلے ہوئے ہاتھ کو نظر انداز کر دے یا ہاتھ ملا کر عذرا کے دل میں سوئی چبھو دے۔ ابھی وہ کچھ فیصلہ نہ کر پایا تھا کہ اماں نے فیصلہ کن انداز اختیار کیا۔
وہ بڑی برق رفتاری ۔ سے اپنی کری سے اٹھیں اور بڑے پیار سے بولتے ہوئے ورشا کا ہاتھ تھام لیا۔
“اوہ ورشا آئی ہیں۔”
“جی اماں آپ کیسی ہیں؟‘‘ اس نے اپنی سیاہ زلفوں کو جھٹک کر پوچھا۔
“میں بہت اچھی ہوں۔۔۔ آؤ ورشا ادھر صوفے پر آ جاؤ۔‘‘ اماں اسے بڑے پیار سے پکڑ کر صوفے کی طرف لے گئیں۔
”کون ہے یہ؟‘‘ عذرا نے ساحل کو ترچھی نگاہوں سے دیکھا۔
“ایسی نگاہوں سے مجھے مت دیکھو….. یہ ورشا ہے۔‘‘ ساحل عمر نے بتایا۔
’’اماں اس وقت میرے لئے فرشتہ ثابت ہوئی ہیں۔ میں ابھی دو چار منٹ میں اسے چلتا کر کے آ تا ہوں تم پورے اطمینان سے بیٹھو۔‘‘ پھر وہ اماں کے پیچھے پیچھے صوفے پر جا بیٹھا۔ اماں فورا ہی وہاں سے اٹھ کر عذرا کے پاس آ گئیں اور اسے بڑے پیار سے مسکرا کر دیکھنے لگیں۔ جیسے کہہ رہی ہوں۔ پریشان مت ہونا اس کی حیثیت پانی کے بلبلے سے زیادہ نہیں۔
“شادی مبارک ہو۔‘‘ ورشا نے مسکرا کر کہا لیکن اندر ہی اندر اس کے دل پر آنسو گرے۔
“شکریہ۔“
“اچھا انتخاب ہے۔ کہاں سے لاۓ اسے۔” ورشا نے اسے اداس نگاہوں سے دیکھا۔
“یہ تمہاری ماں کی مہربانی کا نتیجہ ہے۔”
“میری ماں تم پر مہربان ضرور ہے لیکن وہ تمہیں کچھ دے نہیں سکتی لے ضرور سکتی ہے۔“
” پرتم اپنی ماں کو اچھی طرح جانتی ہو۔‘‘
“ہاں کیوں نہیں۔ میں اپنی ماں کی رگ رگ سے واقف ہوں۔‘‘
” کیا تم جانتی ہو کہ اس نے مجھے کوئی نشہ آور دوا پلا کر کہیں سے کہیں پہنچا دیا تھا۔‘‘
”میں نہیں جانتی۔”
“تمہاری ماں نے مجھ پر بہت ظلم کئے ہیں۔ وہ مجھے قربان کر کے کوئی پراسرار قوت حاصل کرنا چاہتی تھی۔” خیر یہ لمبی داستان ہے پھر بھی سناؤں گا فی الحال اس کا موقع نہیں۔ بس تم اتنا جان لو کہ تمہاری ماں نے میری جان لینے کی پوری تیاری کر لی تھی لیکن اوپر والے نے مجھے بچالیا۔ نہ صرف بچا لیا بلکہ انعام میں ایسی حسین لڑکی بھی بخش دی۔ اب تم واپس جا کر اپنی ماں کو سارا حال بتا دینا اور اس سے کہنا کہ اب وہ میرا پیچھا چھوڑ دے۔ مجھے بھول جاۓ۔‘‘ ساحل عمر نے بہت دھیمے لہجے میں سے بات کی۔
“میں تمہارا پیغام اپنی ماں تک پہنچا دوں گی لیکن اتنا یاد رکھو کہ وہ تمہیں بھولنے والی نہیں۔”
”پھر وہ نقصان اٹھاۓ گی”
“نقصان کون اٹھائے گا یہ مجھے نہیں معلوم لیکن میں اتنا ضرور جانتی ہوں وہ بڑی خطرناک عورت ہے۔ اس کا مقابلہ کرنا کوئی آسان کام نہیں۔”
“چلو دیکھا جائے گا۔” ساحل عمر نے بات ختم کرنا چاہی
کیونکہ عذرا اس کی طرف دیکھ کر بار بار پہلو بدل رہی تھی۔
ورشا نے اپنے کندھے سے بیگ اتار کر اسے کھولا اور پھر اس میں سے ایک مخملی ڈبیہ نکال کر بیگ بند کر کے کندھے پر ڈالا اور اسے مسکرا کر دیکھا۔ ”میری طرف سے تمہاری بیوی کے لئے حقیر سا تحفہ”
“ارے اس تکلف کی کیا ضرورت تھی۔ تم آ گئیں یہی تحفہ میرے لئے بہت ہے”
“دیکھو میرا دل نه توڑنا.. اسے رسم دنیا سمجھ کر قبول کرلو‘‘
“نہیں میں تمہارا دل نہیں توڑوں گا۔ آؤ میرے ساتھ۔ تم خود ہی عذرا کو یہ تحفہ دے دو۔“ یہ کہہ کر ساحل عمر فورا اٹھ گیا۔
اس نے قریب پہنچ کر ورشا سے خالی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور عذرا سے مخاطب ہو کر بولا۔ ’’عذرا یہ ورشا ہیں تمہارے لئے تحفہ لائی ہیں قبول کرو“
اب عذرا نے گردن گھما کر ورشا کو دیکھا۔ ورشا نے بھی اس پر نظر ڈالی۔ دونوں کی نظریں ملیں۔ ایک کی نظر میں فتح رچی ہوئی تھی اور ایک کی نظر میں شکست بسی ہوئی تھی لیکن دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائیں اپنے اپنے انداز میں۔
ورشانے پھر وہ ڈبیہ کھولی۔ اس میں ایک قیمتی ہیرے کی انگوٹھی جگمگا رہی تھی۔ ساحل آپ اجازت دیں تو میں یہ انگوٹھی اپنے ہاتھوں سے انہیں پہنا دوں۔
ساحل عمر نے ایک نظر عذرا کو دیکھا۔ اس کی نگاہوں میں انکار نہ تھا۔ ساحل عمر فورا بولا۔ “بھلا مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔“
“تھینک یو۔‘‘ ورشا نے ایک ادا سے کہا اور اس نے بائیں ہاتھ کی ایک خالی انگلی میں وہ ہیرے کی انگوٹھی پہنا دی۔
“آپ کا شکر یہ‘‘ عذرا نے انگوٹھی پہننے کے بعد دھیرے سے کہا۔
تب ورشا فوڑا کھڑی ہو گئی۔ اس نے اپنی کلائی کی گھڑی میں ٹائم دیکھا اور بولی۔’’اچھا سائل صاحب میں چلتی ہوں۔”
“ارے کیوں. کھانا کھا کر جانا۔‘‘
“نہیں مجھے ایک ضروری کام ہے۔ جاؤں گی۔“
“اچھا جیسے تمہاری مرضی۔‘‘ ساحل عمر نے اسے روکنے کے لئے زیادہ اصرار نہ کیا۔ اور وہ چلی گئی.
جاتے ہوئے اس نے اماں سے سلام دعا کی نہ عذرا کی طرف دیکھا۔ اس نے یہ انتظار بھی نہ کیا کہ ساحل عمر اسے رخصت کر نے اسٹیج کی سڑھیوں تک آۓ ۔ بس وہ تیزی سے اٹھی اور اسٹیج کی سیڑھیاں کھٹ کھٹ اترتی جس طرح آئی تھی ویسے ہی لوگوں کے دلوں پر بجلیاں گراتی شادی ہال سے نکل گئی۔
بارہ بجے کے بعد رخصتی کا وقت آیا۔ عذرا ساحل کو قرآن شریف کے سائے میں رخصت کیا گیا۔ پھر اسے سجی سجائی گاڑی میں بٹھایا گیا۔ ساحل عمر آ گے بیٹھا۔ عذرا کے ساتھ ناصر مرزا کی بیوی اور اماں کو بٹھایا گیا اور پھر تین چار گاڑیوں پرمشتمل یہ قافلہ ساحل عمر کے گھر کی طرف چل پڑا۔
گھر پہنچ کر رسمیں ادا کی گئیں۔ گھر میں ایک ہنگامہ تھا۔ ہر طرف قہقہے اور خوشیاں بکھری ہوئی میں مسرت سے کھلے ہوئے چہرے…. ہرشخص اپنی اپنی بساط کے مطابق اس شادی کو انجواۓ کر رہا تھا۔ سب خوش تھے۔ اس شادی میں ہرشخص کو بہت مزہ آیا تھا۔ رات کے ایک بجے کے قریب ناصر مرزا اور مسعود اپنی اپنی فیملیوں کو لے کر نکلنے کی تیاری کر رہے تھے ادھر دلہن کو بھی تیار کیا جا رہا تھا۔ وہ زیور سے لدی ہوئی تھی اور پریشان تھی۔ اس نے اماں سے زیور اتارنے کو کہا۔ اماں اس کی پریشانی دیکھ کر اس کے پاس بیٹھ گئیں تو سب سے پہلے اس نے اپنا بایاں ہاتھ آگے کر کے کہا۔
’’اماں سب سے پہلے اسے اتاریں یہ میری انگلی میں چبھ رہی ہے۔“
“ہاں لاؤ. اسے اتار دوں پتہ نہیں کیسی نیت سے دی ہے یہ انگوٹھی۔‘‘
اماں نے جب ورشا کی دی ہوئی انگوٹھی اس کی انگلی سے نکالنا چاہی تو وہ نہیں اتری۔ وہ انگلی کی ہڈی پر اٹک رہی تھی۔ جب وہ زور لگانے کے باوجود نہ اتری تو اماں کریم لے آئیں۔ انہوں نے اس کی انگلی چکنی کر کے وہ انگوٹھی اتارنا چاہی لیکن وہ پھر بھی نہ اتری۔ وہ تنگ سے تنگ ہوتی جارہی تھی۔ پھر اماں نے واش روم میں لے جاکر صابن لگا کر اس انگوٹھی کو اتارنے کی کوشش کی لیکن نتیجہ کچھ نہ نکلا۔
ابتداء میں تو یہ خیال تھا کہ انگوٹھی چھوٹی ہے اس لئے نہیں اتر رہی کسی چکنی چیز سے اتر آۓ کی لیکن وہ انگوٹی چھوٹی نہ تھی بلکہ انگلی نے پھولنا شروع کر دیا تھا۔ عذرا کی انگلی آہستہ آہستہ موٹی ہوتی جا رہی تھی۔ نتیجہ یہ تھا کہ سرسوں کے تیل سے لے کر صابن کے جھاگ تک ہر چیز استعمال کر لی تھی لیکن انگوٹھی تنگ سے تک ہوتی جا رہی تھی۔
اب انگلی اتنی پھول گئی تھی کہ انگوٹھی گوشت میں گھسنی شروع ہوگئی تھی۔ پھولتی انگلی میں شدت کی تکلیف تھی یوں محسوس ہوتا تھا کہ وہ انگوٹھی پھولتی ہوئی انگلی کا گوشت کاٹ کر اندر اتر جاۓ گی۔ تکلیف بڑھ گئی تھی کہ عذ را انگوٹھی مچونے کی صورت میں بھی کراہ اٹھتی تھی۔
ذرا سی دیر میں ہنستا بستا ماحول فکر میں ڈوب گیا تھا۔ انگلی کی سوجن بڑھتی ہی جار ہی تھی۔ اب سارے کے سارے ساحل عمر کو لعن طعن کر رہے تھے کہ اس نے اس شیطان کی بچی کی انگوٹی قبول ہی کیوں کی۔ وہ بے چارہ شرمندہ شرمندہ سا عذرا کو دیکھ رہا تھا۔
جب تکلیف شدت اختیار کر گئی تو ناصر مرزا نے کہا۔
’’ساحل عذرا کو لے کر فورا ہسپتال چلو اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔‘‘
رات کا ڈیڑھ بج رہا تھا۔ اس وقت کسی دولہا کا بیڈروم میں جانے کے بجاۓ کسی ہسپتال کے روم میں جانا اس کے ساتھ سنگین مذاق تھا لیکن اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔ ہسپتال جاۓ بغیر اس تکلیف سے نجات ممکن نہ تھی۔ سو ساحل عمر کو ہسپتال کا رخ کرنا پڑا۔
ہسپتال کی ایمرجنسی میں موجود ڈاکٹر نے اس انوکھے کیس کو بڑی حیرت سے دیکھا۔ پھر اس نے بڑی احتیاط اور محنت سے اس انگوٹھی کو کاٹ کر انگلی سے نکال لیا۔ انگلی سے انگوٹھی نکلتے ہی عذرا کو قرار آ گیا اور گھر پہنچتے پہنچے انگلی کی سوجن براۓ نام رہ گئی۔
گھر پہنچ کر ساحل عمر نے اس انگوٹھی کو ڈسٹ بن میں پھیکنا چاہا تو ناصر مرزا نے اسے روک دیا۔ کیا کرتے ہو؟‘‘
“اس نحوست کو اس کی صحیح جگہ پر پھینک رہا ہوں۔‘‘ ساحل عمر نے غصے سے کہا۔
“ہرگز نہیں. یہ انگوٹی مجھے دو۔‘‘ یہ کہہ کر ناصر مرزا نے اس کے ہاتھ سے انگوٹھی لے کر اپنی جیب میں ڈال لی۔
ناصر مرزا کی بیوی نے ناصر مرزا کو گھور کر دیکھا مگر اس میں یہ ہمت نہ ہوئی کہ شوہر کو اس منحوس انگوٹی کو جیب میں رکھنے سے منع کر دے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: