Anwar Aleegi Urdu Novels

Bichoo Novel By Anwar Aligi – Episode 27

Bichoo Novel By Anwar Aligi
Written by Peerzada M Mohin
 بچھو از انوار علیگی – قسط نمبر 27

–**–**–

ساحل عمر کی صبح خاصی دیر سے ہوئی۔ مہمان سارے رات کو رخصت ہو چکے تھے۔ اس لئے صبح جلد اٹھنے کی فکر نہ تھی۔ اماں البتہ اپنے وقت پر اٹھ گئی تھیں۔ وہ مرجینا کے ساتھ کچن میں لگی ہوئی تھیں۔ مرجینا نے منع بھی کیا کہ وہ خود ناشتہ تیار کرے گی لیکن وہ نہیں مانیں۔ ناشتے کے ساتھ انہوں نے دوپہر کے کھانے کا بھی ڈول ڈال دیا۔ وہ جانتی تھیں کہ ساحل عمر کو کیا چیزیں پسند ہیں۔ وہ کھانے کس طرح کے پسند کرتا ہے کتنا نمک اور کتنی مرچ اسے درکار ہوتی ہے۔ اس کے کھانے کا بندوبست وہ خود ہی بہتر طریقے پر کر سکتی تھیں۔
دن کے گیارہ بج رہے تھے۔ ساحل عمر کے کمرے کا دروازہ ابھی تک بند تھا۔ خاصا انتظار کر کے بلآ خر اماں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ دروازہ کھلنے میں دیر نہ لگی۔ دروازہ عذرا نے کھولا۔ ساحل عمر تو ابھی اوندھا پڑا ہوا بے خبر سو رہا تھا۔ اماں نے عذرا سے کہا۔ ’’اے بہن ساحل کو اٹھاؤ. اب دوپہر ہونے کو آ گئی۔”
“اچھا اماں اٹھاتی ہوں۔‘‘ عذرا نے سادگی سے کہا۔
“ہاں دلہن جلدی اٹھاؤ… ناشتہ ٹھنڈا ہو رہا ہے۔” یہ کہہ کر اماں نے پھر کچن کا رخ کر لیا۔
ساحل عمر کو اٹھتے اٹھتے پندرہ بیس منٹ لگ گئے۔ پھر وہ نہا دھو کر ڈائننگ ٹیبل پر آیا تو بارہ کا عمل تھا۔ دونوں نے مل کر ناشتہ کیا۔ ناشتہ کر کرتے ہوۓ ساحل عمر کی نظر عذرا کے ہاتھ پر پڑی تو اسے ورشا کی دی ہوئی انگوٹھی یاد آ گئی۔ اس نے عذرا کا ہاتھ پکڑ کر اس انگلی کا معائنہ کیا جس نے یکا یک غبارے کی طرح پھولنا شروع کر دیا تھا۔ اب اس کی انگلی بالکل نارمل تھی۔ یہ احساس تک نہ ہوتا تھا کہ اس انگلی نے رات کو کس قدر پریشان کیا تھا۔
اسے ورشا پر بہت غصہ تھا۔ وہ جانے کس طرح کی انگوٹھی کس نیت سے دے گئی تھی۔ یقیناً اس انگوٹھی پر کچھ پڑھ کر پھونکا گیا تھا۔ سحر کیا گیا تھا اور سحر کا نشانہ عذراتھی۔
اس نے سوچا ذرا ورشا سے بات تو کر کے دیکھے۔ آخر وہ کیا سوچ کر عذرا کے لئے تحفہ لائی تھی۔ اس نے لاؤنج میں موجود فون کا ریسیور اٹھایا اور ورشا کے گھر کا نمبر ملانے لگا۔
”ہیلو۔” ادھر سے نسوانی آواز آئی۔
“کون؟ ورشا” ساحل عمر نے تصدیق چاہی۔
“نہیں برکھا بول رہی ہوں. آپ کون؟‘‘ ادھر سے برکھا نے پوچھا۔
برکھا کی آواز سن کر ساحل عمر کا غصہ اور تیز ہو گیا اس عورت نے اسکے قتل کی پلاننگ مکمل کرلی تھی۔ وہ تو درمیان میں چترو بھیل آ گیا ورنہ اس کی زندگی کا خاتمہ کب کا ہو چکا ہوتا۔ غصے میں اس نے سوچا کہ ٹیلی فون بند کر دے۔ اتنے میں برکھا نے دوبارہ پوچھ لیا۔ ’’کون ہو بھئی…بولتے کیوں نہیں۔“
“میں ورشا سے بات کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ ساحل عمر نے بہت خشک لہجے میں کہا۔
”میں ورشا کو بلاتی ہوں. آپ کون ہیں؟‘‘
’’میں ساحل عمر بات کر رہا ہوں۔” اس نے غصیلے انداز میں کہا۔
’’اوہ۔‘‘ برکھا نے بڑے مسخرانہ لہجے میں کہا۔
”ہاں سائل جی… آپ نے ورشا سے کیا بات کرنی ہے۔“
“مجھے اس سے کچھ پوچھنا ہے۔‘‘
“مجھ سے پوچھ لو ساحل جی. وہ بچی ہے وہ تمہیں کیا جواب دے گی۔ انگوٹھی سے متعلق تو کوئی سوال نہیں کرنا۔‘‘ یہ کہ کر وہ زور سے ہنسی۔ ’’کیسا لگا میرا تحفہ۔‘‘
“تمہارا تحفہ؟‘‘ ساحل عمر نے حیرت سے کہا۔ ’’وہ انگوٹھی تم نے بھیجی تھی“
“تم نے اتنی خاموشی سے شادی کرلی. میں تمہیں تحفہ بھی نہ بھیجتی…. رات کیسی گزری۔‘‘ برکھا نے طنزاً پوچھا۔
“بہت اچھی‘‘ ساحل عمر نے بہت خوش ہو کر کہا۔
“اچھا…. پھر ایسی ہی راتوں کے لئے تیار ہو جاؤ۔ اب تمہاری ہر رات ایسی ہی گزرے گی۔ میں تمہاری راتوں کا چین چھین لوں گی۔ تم نے مجھے دھوکا دیا۔ مجھے بہت نقصان پہنچایا ہے۔ اب مجھے کسی کروٹ چین نہ آۓ گا۔ تمہاری ہر سانس پر منہ سے آہ نلکلے گی۔ میں تمہیں سکا سکا کر ماروں گی۔ تم مجھے نہیں جانتے کہ میں کتنی پراسرار قوتوں کی مالک ہوں۔ وہ تو منحوس چترو بھیل تجھے نکال لے گیا ورنہ تو اب تک پرلوک سدھار چکا ہوتا چترو بھیل کا تو میں نے حساب کتاب کر دیا۔ اس کی روح کو آگ کی دیواروں میں چن دیا اب تیرا کریا کرم باقی ہے۔ میں تجھے کسی قیمت پر نہیں چھوڑوں گی یاد رکھو ‘‘ برکھا نے غصے سے کہا۔
“اچھا ہوا۔ میں نے یہ سب کچھ تیرے منہ سے سن لیا۔ تو کھل کر میرے سامنے آ گئی۔ اب تک میں دوسرے لوگوں کی زبانی تیرے عزائم کے بارے میں سنتا رہا ہوں۔ اب تو نے خود ہی سب اقرار کر لیا۔ اب تو میری بات سن اور غور سے سن. تو اگر پراسرار قوتوں کی مالک ہے تو میں بھی لا وارث نہیں۔ میرے پیچھے بھی کچھ طاقتیں موجود ہیں۔ اب تیری میری کھلی جنگ ہے۔ اب تو نہیں یا میں نہیں۔‘‘ ساحل عمر نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔
“نادان لڑ کے میں تیری اس بات پر صرف ہنس سکتی ہوں۔‘‘ برکھا نے ہنستے ہوۓ کہا۔
“یہ آنے والا کل بتاۓ کون کس پر ہنستا ہے۔“ ساحل عمر نے سخت لہجے میں کہا۔
”چل ٹھیک ہے۔ کل تو ابھی دور ہے تو آج کی رات میرا انتظار کر۔‘‘ یہ کہہ کر برکھا نے ٹیلی فون بند کر دیا۔ ”اور دیکھ تماشا‘‘
ٹیلی فون رکھ کر جب وہ پلٹی تو اسے دروازے پر د یکھ کر چونک گئی۔
ورشا آہستہ آہستہ بڑے ڈرامائی انداز میں اس کی طرف بڑھی اور نزد یک پہنچ کر بولی “ممی کس کا فون تھا۔“
برکھا نے ایک نظر ورشا کو دیکھا۔ اس کا انداز اس کا لہجہ کچھ عجیب سا تھا جیسے اس نے برکھا کی کوئی چوری پکڑ لی ہو۔ کوئی اور وقت ہوتا تو وہ ورشا کے انداز پر اسے ضرور ڈانٹ دیتی لیکن یہ وقت ڈانٹنے کا نہ تھا۔ ورشا سے اس نے ابھی بہت کام لینا تھا۔ وہ اسے ڈانٹ کر ناراض کرنا نہیں چاہتی تھی “تمہارے دوست کا فون تھا۔‘‘ برکھا مسکرا کر بولی۔
“میرا دوست۔‘‘ ورشا نے حیرت سے اسے دیکھا۔ ’’ممی میرا تو کوئی دوست نہیں‘‘
“پھر یوں سجھو. میرے دشمن کا تھا۔ ورشا اس نے مجھے دھمکی دی ہے۔ اس نے کہا ہے یا تو نہیں یا میں نہیں۔ ورشا اب چیونٹی کے پر نکل آۓ ہیں. تو جانتی ہے ہاں. جب چیونٹی کے پر کل آتے ہیں تو کیا ہوتا ہے۔‘‘ برکھا نے اسے گہری نظروں سے دیکھا۔
“ہاں جانتی ہوں… اس کی موت نزد یک آ جاتی ہے۔” ورشا نے ٹھنڈی سانس لے کر کہا۔
“بس ورشا سمجھ لو کہ ساحل عمر کی موت بھی زیادہ دور نہیں ہے۔“
“ممی آپ اسے مار دیں گی۔ ساحل عمر کی جان لے لیں گی محض اس لئے کہ اس نے شادی کرلی ہے۔ ممی شادی کرنا کیا گناہ ہے؟‘‘ ورشا نے عجیب انداز اختیار کیا۔
“ارے!‘‘ برکھا نے اسے غور سے دیکھا۔ “یہ تو کیا بکواس کر رہی ہے۔“
“ہاں می. میں واقعی بکواس کر رہی ہوں۔ ممی سچی بات میں ہمیشہ زہر بھرا ہوتا ہے۔” یہ کہہ کر وہ بر کھا کے کمرے میں رکی نہیں۔ برکھا اسے کہتی رہ گئی۔ ’’ورشا. ارے ورشا. میری بات تو سنو۔‘‘
اس کے جانے کے بعد وہ کھلے دروازے کو خالی نگاہوں سے دیکھتی رہی۔ اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ یہ ایک دم ورشا کو کیا ہوا اس کے موڈ میں یہ تبدیلی کیوں آئی۔ خیر وہ ورشا کو بعد میں دیکھ لے گی فلحال تو اس سلسلے میں کچھ کرنا تھا۔
کچھ سوچ کر اس نے اپنے کمرے کا دراوازہ بند کیا اور پھر بیڈ پر بیٹھ کر فون کا نمبر ملانے لگی
“جی برکھا جی۔” واسم ہمیشہ کی طرح فرماں براداری سے بولا ۔’’ کیا حکم ہے۔‘‘
” مجھے آج ڈھائی بجے سے پہلے بکرے کا سر چاہئے۔ برکھا نے حکم سنایا۔ عجیب حکم تھا۔
“اس وقت کیا بجا ہے۔‘‘ واسم نے اپنی گھڑی پر نظر ڈالی۔
“پون بجا ہے۔‘‘ برکھا نے اسے بتایا۔
“ٹھیک ہے۔ برکھا جی میں فورا ہی نکلتا ہوں۔ ڈھائی بجے تک بلکہ اس سے پہلے آپ کے پاس ہوں گا۔‘‘
’’اور سنو۔‘‘ برکھا نے کہا۔
’’جی برکھا جی۔‘‘ وہ بولا۔
“بکرے کا سر بالکل کالا ہو۔‘‘ برکھا نے اسے ہدایت کی۔ “برکھابی.اگر مارکیٹ میں کالے بکرے کی سری نہ ملی تب…” اس نے سوال کیا۔
“تب تم ایسا کرنا کہ ایک کالا بکرا خرید لانا. یہاں اس بکرے کا سر اتار لیں گے۔ اس صورت میں تم تین بجے تک پہنچ جانا. اس سے زیادہ دیر نہ ہو۔ پھر عمل کا وقت نہیں رہے گا۔‘‘ برکھا نے اسے سمجھایا۔
“بس آپ بے فکر ہو جائیں۔ آپ کا کام وقت سے پہلے ہو جاۓ گا۔”
’’واسم تم ایسا کرو کہ مارکیٹ کے چکر میں مت پڑو۔ سیدھے بکرا منڈی جاؤ۔ وہاں سے ایک کالا بکرا خریدو بے شک پورا بکرا کالا نہ ہولیکن اس کا سر ضرور کالا ہو اور اسے لے کر بنگلے پر آ جاؤ میں تمہیں آج ایک اور جادو سکھادوں گی۔‘‘
برکھا نے اس پر مہربان ہوتے ہوۓ کہا۔
“برکھا جی. زندہ باد۔” یہ سن کر واسم خوش ہو گیا۔ اس نے خوشی سے نعرہ لگایا اور پھر یہ کہہ کرفون بند کر دیا۔ ’’اچھا برکھا جی آپ میرا انتظار کر یں۔ میں آ تا ہوں۔”
برکھا نے اس کے فون رکھنے کے بعد خود بھی ریسیور رکھ دیا اور مسکرانے لگی۔
واسم بہت کام کا بندہ تھا۔ اس نے آج تک حکم عدولی نہیں کی تھی۔ اس نے جو کام بھی اور جب بھی بتایا تھا حتی المقدور پورا کرنے کی کوشش کی تھی۔ اگر اس نے اسے رات کے دو بجے بھی فون کر دیا ہے تو وہ کسی معمول کی طرح اس کے بنگلے پر حاضر ہو جاتا تھا۔
برکھا جب بھی خوش ہوتی اسے کوئی عمل سکھا دیتی۔ وہ اس گھر کے ذریعے لوگوں سے پیسے بٹورتا اور انسانوں کو دکھ پہنچاتا ۔ کالا علم ہوتا ہی کسی کو دکھ پہنچانے کے لئے ہے۔
واسم حکم کے مطابق ایک کالا بکرا خرید کر اس کے بنگلے پر مقررہ وقت سے پہلے پہنچ گیا۔ اس وقت ڈھائی بجے کا عمل تھا۔ اس وقت برکھا اپنے عمل کے کمرے میں تھی۔ وہ وہاں بیٹھی ہوئی منتروں کا جاپ کر رہی تھی۔ اس نے ورشا سے کہہ دیا تھا کہ واسم آۓ تو اسے وہ عمل کے کمرے میں پہنچا دے۔ واسم کے بیل دینے پر ورشا نے گیٹ کھولا وہ گاڑی میں تھا۔ ورشا ایک طرف ہوئی تو وہ گاڑی اندر لے آ یا ورشا جب گیٹ بند کر کے واپس پلٹی تو واسم گاڑی کی ڈگی سے کالا بکرا نکال رہا تھا۔ جب ورشا اس کے نزدیک پہنچی تو واسم نے پوچھا۔ ’’برکھا جی کہاں ہیں؟‘‘
”وہ جاپ والے کمرے میں ہیں۔تم وہیں چلے جاؤ۔‘‘ ورشا نے کہا اور وہ اپنے کمرے کی طرف چلی گئی
واسم نے کالے بکرے کا بڑا سا کان پکڑا اور اسے بیدردی سے گھسیٹتا ہوا منتر والے کمرے کی طرف بڑھا۔
بکرا بری طرح چیخ رہا تھا۔ چاپ والا دروازہ کھلا ہوا تھا لیکن اندر مکمل اندھیرا تھا کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ واسم دروازے پر کھڑے ہو کر برکھا کے حکم کا انتظار کرنے لگا۔
’’واسم اندر آ جاؤ۔‘‘ برکھا کی اندر سے آواز آئی۔
“برکھا جی کیا بکرے کو بھی اندر لے آؤں۔‘‘
اچھا ہاں . یاد آیا تمہیں بھی تو سحر سکھانا ہے۔ یوں کرو اس بکرے کو بنگلے کے پیچھے لے کر چلو میں چھری لے کر آتی ہوں۔‘‘
“جی اچھا۔‘‘ یہ کہہ کر واسم نے بکرے کا بڑا سا کان جو ابھی تک اس کے ہاتھ میں تھا اسے کھنچتا ہوا آ گے بڑھا اور پھر وہ گھوم کر بنگلے کے پیچھے چلا گیا۔
اسکے پیچھے پیچھے برکھا بھی پہنچ گئی۔ اس نے پیلی ساڑھی اور بغیر آستین کا بلاؤزر پہن رکھا تھا۔ ساڑھی کا پلو بھی اس نے کمر میں اڑ سا ہوا تھا۔ وہ ایک ڈھلتی عمر کی عورت تھی۔ اس کے باوجود اس میں اب تک کشش موجود تھی ۔ واسم نے اسے ایک نظر دیکھا اور پھر نظریں گھما لیں۔
برکھا نے ایک جگہ منتخب کر کے واسم کو بکرا پچھاڑنے کو کہا۔ واسم نے اس کی دو ٹانگیں پکڑ کر اسے الٹا دیا اور پھر اس پر اس طرح چڑھ کر بیٹھ گیا کہ وہ ہل بھی نہ سکے۔ برکھا نے اس کے ہاتھ میں ایک تیز چھری دی اور ساتھ ہی ایک چینی کا پیالہ بڑھایا۔ پھر اس نے واسم کو بتایا کہ کیا کرنا اور کس طرح کرنا ہے۔
برکھا کی ہدایت کی مطابق اس نے پیالے کو اس طرح بکرے کی گردن کے نیچے رکھا کہ پہلے خون کے قطرے پیالے میں گریں۔ یہاں تک کہ پیالہ بھر جاۓ۔ واسم نے بکرے کو قابو میں لے کر تیز چھری منتر پڑھتے ہوۓ بہت تیزی سے اس کی گردن پر پھیری۔ سرخ خون ایک فوارے کی صورت اس کی گردن سے نکلا۔ چند لمحوں میں پیالہ بھر گیا۔ بھرا ہوا پیالہ برکھا نے اس کی گردن کے نیچے سے نکال لیا۔ اتنے میں واسم نے بکرے کی گردن اس کے تن سے جدا کر دی اور اس کا تڑپتا ہوا جسم کسی کھلونے کی طرح دور پھینک دیا۔ بکرے کی جان ابھی پوری طرح نہ نکلی تھی ۔ اس کی گردن سے تیزی سے خون بہہ رہا تھا اور جسم بری طرح تڑپ رہا تھا۔
“آؤ واسم ادھر آ کر بیٹھو۔‘‘ برکھا خون بھرا پیالہ لئے کھڑی تھی۔ واسم اسکے سامنے زمین پر بے تکلفی سے بیٹھ گیا اور گردن اٹھا کر برکھا کی جانب دیکھنے لگا۔
“تمہیں جو بتایا ہے وہ پڑھو اور اپنے دونوں ہاتھ آ گے پھیلا کر ملالو۔‘‘ برکھا نے ہدایت کی۔
واسم نے اپنے دونوں ہاتھ کچھ پڑھتے ہوۓ پھیلا کر ملا لئے۔ تب برکھا نے خون کا پیالہ اس کے ہاتھوں پر آہستہ آہستہ انڈیلنا شروع کیا جیسے ہی خون کی دھار اس کے ہاتھوں پر گری۔ چھن چھن کی آوازیں آنے لگیں۔ اس کا ہاتھ چاندی کے کھنکھناتے روپوں سے بھر گئے۔
“کیو واسم ۔‘‘ برکھا نے اس کی طرف مسکرا کر دیکھا۔
“برکھا جی، آپکا جواب نہیں۔‘‘ واسم نے تعریف کی۔
پھر برکھا نے وہ پیالہ زمین پر رکھ دیا اور واسم سے کہا۔ ’’اب یہ روپے پیالے میں ڈالنا شروع کرو”
واسم نے اپنے ہاتھ تھوڑے سے نیچے کر کے روپے پیالے میں پھینکنا شروع کئے۔ جیسے جیسے روپے پیالے میں گرتے جارہے تھے پیالہ خون سے بھرتا جارہا تھا۔ یہاں تک کہ آخری رو پیہ بھی خون میں تبدیل ہو گیا۔
اب برکھا نے پر فخر انداز میں واسم کو دیکھا۔ ’’ کہو واسم ۔‘‘ ”برکھا جی آپ جادو کی دیوی ہیں۔ آپ کا کوئی توڑ نہیں۔
“شعبدہ لوگوں کو بے وقوف بنانے کے لئے کافی ہے؟‘‘ اس نے ہنس کر سوال کیا۔
“بہت کافی ہے۔‘‘ واسم خوش ہو کر بولا۔ “جب میں لوگوں کو یہ جادو دکھاؤں گا تو وہ میرے پاؤں پکڑ لیں گے۔ پھر میں ان حیرت زدہ لوگوں سے جو چاہوں گا کر والوں گا۔‘‘
“چلو اب تم جاؤ. میں اب اپنا کام شروع کروں گی۔‘‘ برکھا نے ایک دم اپنے تیور بدل لیئے
’’جوحکم برکھا جی۔‘‘ واسم نے بڑی فرمانبرداری سے سر جھکایا اور واپس جانے کے لئے مڑگیا۔
برکھا نے بکرے کی سری اٹھا کر اپنے منتر والے کمرے میں رکھی اور پھر گیٹ کی طرف چل دی۔ جب وہ گیٹ کے نزدیک پہنچی تو واسم گاڑی نکال چکا تھا۔ اس نے گاڑی میں بیٹھے بیٹھے برکھا کو سلام کیا اور پھر تیزی سے گاڑی نکال لے گیا۔ برکھا گیٹ بند کر کے واپس منتر والے کمرے کے سامنے پہنچی۔ اس نے اندر جانے سے پہلے ساڑھی اور بلاؤز اتار کر دروازے کی دہلیز پر پھینکا اور دروازہ کھلا چھوڑ کر اندر چلی گئی۔ پھر اس نے فرش پر رکھی ہوئی بکرے کی سری اپنے دونوں ہاتھوں میں اٹھالی اور کمرے میں چکر لگاتے ہوۓ زور زور سے منتر پڑھنے لگی۔
☆☆☆☆☆☆☆
ناصر مرزا دو پہر کو ساحل عمر کے گھر پہنچا۔ وہ انگوٹھی ابھی تک اس کی جیب میں پڑی ہوئی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ وہ کچھ دیر گپ شپ لگا کر حافظ موسی کی طرف نکل جاۓ گا۔ ان سے اس انگوٹھی کے بارے میں دریافت کرے گا۔ اگر اس انگوٹھی پر جادو کیا گیا ہے تو یہ بات کھل کر سامنے آ جاۓ گی۔ دوسرے حافظ موسی کے علم میں یہ بات آ جائے گی کہ برکھا نے چھیڑ چھاڑ شروع کردی ہے۔اس کے ان شعبدوں سے نمٹنا ہو گا۔
ساحل عمر نے اپنی رواداد سنائی۔ اس نے بتایا کہ برکھا سے اس کی کیا بات ہوئی۔ ناصر مرزا نے ساحل عمر کی گفتگو توجہ سے سنی۔
بر کھا اب کھل کر سامنے آ گئی تھی۔ اس نے اپنے عزائم کا بھر پور اظہار کر دیا تھا اور ساتھ میں یہ بھی انکشاف کر دیا تھا کہ وہ انگوٹھی اس کی بھجوائی ہوئی تھی اور وہ کوئی سادہ انگوٹھی نہ تھی۔ اس پر با قاعدہ عمل کیا گیا تھا۔
ساری روادادسن کر ناصر مرزا نے کہا۔ ’’پھر اب کیا چھپا رہ گیا۔ اس نے تو انگوٹھی کے بارے بھی بتا دیا کہ وہ اس نے پڑھ کر بھیجی تھی۔ میرا خیال تھا کہ حافظ صاحب کو جا کر دکھاؤں گا اب دکھانے کیا فائدہ”
ناصر مرزا نے اپنی جیب سے وہ انگوٹھی نکالی اور سامنے میز پر رکھی ایش ٹرے میں اچھال دی۔
“حافظ موسی کو اس کی دھمکی کے بارے میں تو بتانا چاہئے کیا خیال ہے تمہارے ساتھ کسی دن میں بھی نہ چلوں۔‘‘
“چلو. وہ تو تمہیں ایک عرصے سے بلا رہے ہیں۔ نکاح والے دن بھی بلاوہ دے کر گئے ہیں۔ کب چلو گے؟‘‘
“ایک دو روز میں چلنے کا پروگرام بناتے ہیں۔‘‘ ساحل عمر نے کچھ سوچ کر کہا۔
“اچھا ٹھیک ہے۔ پھر میں چلتا ہوں۔ آج ذرا دفتر کا چکر لگا لوں۔ کئی دن سے دفتر کی صورت نہیں دیکھی۔‘‘ ناصر مرزا اٹھتا ہوا بولا۔
اس سے پہلے کہ ساحل عمر اسے جانے سے روکتا اماں ڈرائنگ روم میں داخل ہوئیں۔ انہوں نے ناصر مرزا کی بات سن لی تھی۔ وہ فورا بولیں ۔’’لو اب کھانا نکلنے والا ہے تو تم جا رہے ہو۔ اب کھانا کھا کر جانا۔ آؤ میں تم دونوں کو بلانے آئی تھی۔‘‘
”اچھا اماں۔‘‘ ناصر مرزا نے ہنس کر کہا۔ ’’آپ کا کہا بھلا کون ٹل سکتا ہے۔“
“جیتے رہو بیٹا.اللہ تمہاری عمر دراز کرے۔‘‘ اماں نے خوش ہو کر دعا دی۔
“تمہاری چاند سی دلہن آئے‘‘ ساحل عمر نے اٹھتے ہوۓ ٹکڑا لگایا۔
“اللہ نہ کرے۔” اماں نے ساحل عمر کو گھور کر دیکھا۔ ’’ناصر مرزا کی بہو کسی چاند سے کم ہے کیا؟“
“ہاں اماں چاند تو ہے لیکن گرہن لگا۔” ناصر مرزا نے ہنس کر کہا۔
“چلو ہٹو….اتنی پیاری تو ہے“ اماں نے ڈانٹتے ہوۓ کہا۔
پروہ تینوں ڈرائنگ روم سے نکل گئے۔
—————
ورشا کے دل پر ایک بے نام سی اداسی چھائی تھی۔ اس کا کسی کام میں دل نہیں لگ رہا تھا۔ شعری مجموعہ پڑھتے پڑھتے اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور بیڈ سے کھڑی ہو گئی۔ پھر وہ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنا چہرہ دیکھنے لگی۔ چہرہ دیکھ کر اندازہ ہوا کہ آج اس نے اپنے بال بھی نہیں باندھے تھے۔ منہ بھی ایسا ہی چلتا پھرتا دھویا تھا۔ آج اس نے کپڑے بھی تبدیل نہیں کئے۔ کپڑے شکن آلود تھے۔ وہ آئینے میں اپنا سراپا دیکھ کر مسکرائی تو اس نے محسوس کیا کہ اس کی مسکراہٹ میں جان نہیں۔ مسکراہٹ بڑی پھیکی اور اداس سی ہے۔ وہ ایک مرتبہ پھر مسکرائی اور اپنی مسکراہٹ میں جان ڈالنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہی اس کی مسکراہٹ مزید پھیکی مزید بے جان ہوگئی۔ تب وہ آئینے والی ورشا سے مخاطب ہوئی۔ ’’ورشا میری جان تجھے کیا ہو گیا؟‘‘
ورشا کو اپنی ہی آواز بڑی اجنبی محسوس ہوئی۔
آئینے کے باہر والی ورشا نے آئینے کے اندر والی ورشا کوغور سے دیکھا۔ دونوں کی آنکھیں ملیں۔ دونوں نے ایک دوسرے کو پہچاننے کی کوشش کی پھر آئینے والی ورشا آپ ہی آپ بولنے لگی۔ ’’میں کیاں جانوں مجھے کیا ہو گیا ہے۔ اتنا ضرور جانتی ہوں کچھ ہو ضرور گیا ہے۔ میرے اندر جیسے کوئی چیز ٹوٹ گئی ہے۔ میں خالی خالی سی ہوگئی ہوں۔ یوں لگتا ہے جیسے میرا کچھ گم ہو گیا ہے۔ کیا گم ہو گیا ہے یہ خود مجھے بھی معلوم نہیں۔ تبھی تو میں بیٹھے بیٹھے گم ہو جاتی ہوں کھو جاتی ہوں۔ ہوش آ تا ہے تو کافی دیر تک یہی نہیں معلوم ہوتا میں کہاں ہوں۔ ورشا یہ مجھے کیا ہوگیا ہے۔ مجھے کیا غم لگ گیا ہے۔ کوئی غم ضرور ہے۔ جو اندر ہی اندر میری روح کو کھا رہا ہے۔ کیا غم ہے یہ جب میں اپنے آپ سے پوچھتی ہوں تو کوئی جواب نہیں ملتا۔
مجھے کون جواب دے گا۔ کس سے پوچھوں۔ یہاں تو کوئی ہم راز بھی نہیں ۔ ایک ماں ہے اسے اپنے دھندوں سے فرصت نہیں وہ پراسرار طاقتوں کے چکر میں پڑی ہے۔ پتہ نہیں کیا بننا چاہتی ہے۔ طاقت کی خواہش اقتدار کی ہوس جانے اسے کہاں لے جاۓ گی۔ آج اس نے ایک نیا چکر چلایا ہوا ہے۔ وہ واسم بکرا جانے کیوں لایا تھا۔ باہر نکل کر دیکھوں تو آخر کیا ہو رہا ہے۔
یہ سوچ کر اس نے سامنے والی ورشا پر نظر ڈالی اور پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔ ’’اچھا میری جان ہم چلتے ہیں تم خوش رہنے کی کوشش کرو‘‘ پھر وہ آئینے کے سامنے سے ہٹی اور سوچتی ہوئی اپنے کمرے سے باہر نکل آئی۔ یہ اس کی کیا حالت ہو گئی ہے۔ آئینے سے باتیں کرنے لگی ہے ۔ کیا جانتی نہیں کہ آئینہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔ کہیں وہ پاگل تو نہیں ہونے لگی۔ وہ اپنے کمرے سے باہر نکلی تو اداسی محسوس کی اس بنگلے پر پہلے کیا کم اداسی کے ڈیرے تھے کہ سردیوں کی اداس راتوں نے اس پر مزید ویرانی کی چادر ڈال دی تھی۔ ایک کمرہ چھوڑ کر برکھا کا کمرہ تھا۔ اس کا دروازہ کھلا تھا۔ اس نے چلتے ہوۓ برکھا کے بیڈ پر نظر ڈالی۔ بیڈ خالی تھا۔ پھر اس نے رک کر کمرے میں جھانکا۔ کمرہ بھی خالی تھا۔ ورشا گھومتی ہوئی پھر برکھا کے عمل والے کمرے کے سامنے پہنچ گئی۔ اس نے دروازے پر برکھا کی ساڑھی دیکھی تو اسے بڑی حیرت ہوئی پھر برکھا جو زور زور سے منتر پڑھتی ہوئی کمرے کے چکر کاٹ رہی تھی دروازے کے نزدیک سے گزری تو ورشا اس کو ایک نظر دیکھتے ہی خوف سے پیچھے ہٹ گئی۔ اس کے ہاتھوں میں بکرے کا سر تھا اور وہ کپڑوں سے ہے نیاز کچھ اس طرح اپنے عمل میں مصروف تھی کہ اچھے بھلے دل گردے کا آدمی اسے اس حالت میں دیکھ لیتا تو خوف کے مارے بے ہوش ہو جاتا۔ اس سے پہلے کہ برکھا دوبارہ چکر کاٹ کر دروازے کے سامنے سے گزرتی وہ فورا وہاں سے ہٹ آئی۔ بنگلے کے اندر گاڑی نہ تھی اس کا مطلب ہے کہ واسم جا چکا ہے پھر وہ گھومتی ہوئی بنگلے کے پیچھے پہنچی وہاں اس نے سر کٹا بکرے کا دھڑ ریت میں اٹا دیکھا۔ ایک جگہ ریت پر خون پڑا ہوا تھا جو اب جم کر کالا ہو گیا تھا۔
اس کے دل پر پہلے ہی وحشت برس رہی تھی۔ اس طرح کے منظر دیکھ کر اسے ابکائیاں آنے لگی
☆☆☆☆☆☆☆
شام ڈھل رہی تھی۔ اندھیرا پھیلنے کو تھا۔ اس گھر پر یہ شام کسی اور انداز میں اتری تھی۔ یہاں اداسی نہ تھی۔ ہر طرف قہقہے بکھرے ہوۓ تھے۔ ایک سرخوشی تھی جوش تھا۔ مسعود آفاقی اپنی فیملی کے ساتھ آیا ہوا تھا۔
مسعود آفاقی کی بیوی ایک ہنسوڑ عورت تھی۔ بات بات پر ہنسنا۔ قہقہے لگانا نت نئے چٹکلے چھوڑنا بات سے بات پیدا کرنا یہ اس عورت کا کمال تھا۔ وہ جس محفل میں ہوتی وہاں سے خاموشی اور اداسی اپنے اپنے بستر گول کر جاتیں۔
مسعود آفاتی کی بیوی صائمہ عذرا کو لطیفے سنا سنا کر بے حال کر رہی تھی۔ اس کی گفتگو سے سبھی محظوظ ہو رہے تھے کہ اچانک محفل کا رنگ بدل گیا۔ سب لاؤنج میں بیٹھے تھے۔ جس کو جو جگہ پسند تھی وہ وہاں بیٹھا تھا۔
ساحل عمر صوفے سے ٹیک لگائے قالین پر پاؤں پھیلائے بیٹھا تھا۔ عذرا اور صائمہ ایک صوفے پر بیٹھی تھیں۔ مسعود آفاقی ساحل عمر کے سامنے مگر کچھ فاصلے سے گاؤ تکیہ لگاۓ نیم دراز تھا۔ اماں واش روم میں تھیں اور مر جینا کچن میں۔
صائمہ کے کسی لطیفے پر سب لوگ لوٹ پوٹ ہو رہے تھے کہ وہ ایک دم کہیں سے آ کر اس کی ٹانگ پر گرا۔ سال عمر نے گھبر اکر اپنی ٹانگیں سکیٹر لیں وہ کوئی ایک کلو وزن کا گوشت کا ٹکڑا تھا۔ بالکل تازہ گوشت تھا۔ صائمہ اور عذرا کی گوشت کے ٹکڑے پر نظر پڑی تو وہ دونوں ایک دم چیخ اٹھیں۔ مسعود آفاقی پریشان ہو کر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگا۔
“ساحل یہ کیا ہے؟‘‘ ساحل کی خود اپنی سٹی گم تھی ۔ وہ کیا بتاتا کہ کیا ہے؟ وہ حیران ہو کر اس گوشت کے ٹکڑے کو دیکھ رہا تھا کہ وہ آخر آیا کہاں سے؟
یہ گوشت کا ٹکڑا آیا کہاں سے کس نے پھینکا؟ یہ سوالات تو اپنی جگہ اہم تھے اور توجہ طلب تھے لیکن اس گوشت کے ٹکڑے کے گرتے ہی ساحل عمر کی ٹانگوں میں جو درد شروع ہوا اس نے سوالات کو پس پشت ڈال دیا۔
اس کی دونوں ٹانگوں میں اچانک اس قدر شدید تکلیف شروع ہوئی کہ وہ بے حال ہو گیا۔ وہ اپنی دونوں ٹانگوں کو دھاڑ دھاڑ قالین پر مار رہا تھا۔ اس کے چہرے پر شدید کرب کے آثار تھے ۔ اماں واش روم سے وضو کر کے لاؤنج میں آئیں تو انہوں نے یہاں کا نقشہ ہی بدلا ہوا دیکھا۔ ہرایک کے چہرے پر خوف منڈلا رہا تھا۔
“کیا ہوا بھئی. یہ سب کو سانپ کیوں سونگھ گیا۔‘‘ اماں نے پوچھا۔
”اماں جی!‘‘ مسعود آفاقی نے اس گوشت کے ٹکڑے کی طرف اشارہ کیا۔
’’یہ کیا ہے؟‘‘ اماں جلدی سے آگے بڑھیں ۔ انہوں نے جھک کر اس گوشت کا معائنہ کیا ۔
”میرے خدایا یہ کہاں سے آیا….اے اللہ تو رحم فرما۔”
“اماں کچھ پتہ نہیں یہ کہاں سے آیا۔ بس اچانک کہیں سے گرا اور اس کے گرتے ہی ساحل کی ٹانگوں میں درد شروع ہوگیا۔”
’’ہیں۔‘‘ اماں اب صیح معنی میں پریشان ہوئیں۔
انہوں نے گھبرا کر ساحل عمر کو دیکھا جواماں کو دیکھ کر اپنا درد ضبط کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے ایک ٹانگ پکڑی ہوئی تھی کبھی وہ ایک ٹانگ پکڑتا اور کبھی دوسری. پر وہ زور زور سے اپنی دونوں ٹانگیں قالین پر مارنا شروع کر دیتا۔
”اے اللہ. میرے بچے کو کیا ہوا؟‘‘ انہوں نے اس کے نزدیک بیٹھ کر فورا اس کی ایک ٹانگ پکڑی اور جلدی جلدی کچھ پڑھ کر اس پر پھونکا۔ اس پھونک مارنے سے درد کچھ کم ہوا لیکن صرف چند لمحوں کے لئے۔ اس کے بعد پھر وہ وہیں پہنچ گیا۔ اماں نے آواز دے کر مرجینا سے اس گوشت کے ٹکڑے کو اٹھانے کو کہا۔ اس نے اس گوشت کے ٹکڑے کو دیکھا تو وہ بھی پریشان ہو گئی۔ پھر وہ کچھ اس طرح خوفزدہ ہو گئی کہ اس ٹکڑے کو اٹھانے کی ہمت نہ رہی۔
تب اماں نے اس کے ہاتھ سے شاپر لے کر وہ گوشت کا ٹکڑا اس میں ڈالا اور پھر مرجینا سے بولیں۔’’اسے کوڑے کے ڈبے کے پاس ڈال دو۔‘‘
پھر فورا ہی بولیں ۔’’نہیں اسے گھر کے باہر پھینک آؤ۔“
“جی اچھا اماں جی۔‘‘ مرجینا نے ڈرتے ڈرتے وہ شاپر ان کے ہاتھ سے لے لیا اور پھر لاؤنج سے باہر چلی گئی۔
ساحل عمر کی تکلیف کم نہیں ہو رہی تھی۔ وه اب قالین پر ہی لیٹ گیا تھا۔ اس کے ہاتھوں کی مٹھیاں سختی سے بند تھیں۔ کبھی وہ آنکھیں کھونا کبھی بند کر لیتا تھا کبھی وہ اپنی دونوں ٹانگیں سکیڑ لیتا تھا اور لبھی ایک دم پھیلا کر چیخنے لگتا تھا۔
“ساحل میرے بچے کیا ہو رہا ہے؟‘‘ اماں روہانسی ہو رہی تھیں۔
“اماں مجھے یوں لگ رہا ہے جیسے کوئی میری پنڈلیوں کی رگیں کسی چاقو سے کاٹ رہا ہو۔” ساحل عمر نے رک رک کر بتایا۔
“مسعود جلدی سے ناصر کوفون کرو….اس فورا بلاؤ ۔‘‘ اماں نے بے تاب ہو کر کہا۔
“جی اچھا اماں ۔‘‘ مسعود آفاقی فوڑا اٹھ کر ٹیلی فون کے نزدیک پہنچا۔
اس نے پہلے گھر کا نمبر ملایا لیکن وہ گھر پر نہیں تھا۔ وہ ابھی آفس سے واپس نہیں آیا تھا۔
جب اس نے اس کے دفتر فون کیا۔ وہ دفتر سے نکلنے ہی والا تھا کہ مسعود آفاقی کا فون آ گیا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: