Anwar Aleegi Urdu Novels

Bichoo Novel By Anwar Aligi – Episode 28

Bichoo Novel By Anwar Aligi
Written by Peerzada M Mohin
 بچھو از انوار علیگی – قسط نمبر 28

–**–**–

“کیا ہوا مسعود خیر تو ہے۔؟‘‘ اس نے فکر مند ہو کر پوچھا۔۔
“بھائی تم جلدی ادھر آ جاؤ ساحل کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے۔ کہیں سے اچانک گوشت کا ٹکڑا آ کر گرا اور پھر اس کی ٹانگوں میں شدید درد شروع ہو گیا یار وہ تڑپ رہا ہے۔ تم جانتے ہو کہ چھوٹی موٹی تکلیفوں کو تو وہ گردانتا ہی نہیں۔ یہ تکلیف اتنی زیادہ ہے کہ باوجود ضبط کے اس کے منہ سے چیخیں نکل رہی ہیں۔‘‘ مسعود آفاقی نے جلدی جلدی ساری بات بتا دی۔
“میں فورا آ رہا ہوں۔ یہ سب اس کتے کی بچی کی کارروائی ہے۔” یہ کہہ کر ناصر مرزا نے ریسیور رکھ دیا اور غصے میں کھولتا ہوا اپنے دفتر سے باہر نکل آیا۔
گاڑی میں بیٹھ کر اس نے ساحل عمر کے گھر کا رخ کیا۔ وہ غصے سے پیچ و تاب کھا رہا تھا۔ اس منحوس عورت نے ساحل کی زندگی اجیرن کر دی تھی۔ یہ اس کا تیسرا حملہ تھا۔ پہلے اس نے اسے اغواء کیا اس کے بعد اس نے انگوٹھی بھیجی اور اب یہ سفلی عمل کر دیا۔ اس عورت کی جرات روز بروز بڑھتی جارہی تھی۔ عابد منجم کا خون اس کی گردن پر تھا۔ اس کی بھتیجی کے قتل کی ذمہ دار وہ تھی۔ اس کے علاوہ نہ جانے کتنے معصوم لوگوں کی زندگی تباہ کی ہوگی اس شیطان کی بچی نے۔
اسے روکنے والا کوئی نہ تھا۔ وہ کھلے بندوں دھمکیاں دے رہی تھی اور بے خوف کارروائیاں کر رہی تھی۔ اب اس کا کوئی بندوبست کرنا ہی پڑے گا۔ اتنے جرائم کے بعد تو وہ سزا کی مستحق ہو گئی تھی۔ اس کا قتل واجب ہو گیا تھا۔
انہی خیالات میں غلطاں وہ ساحل عمر کے گھر پہنچ گیا۔ گاڑی دیوار کے سائے میں کھڑی کر کے اس نے بیل دی۔ جلدی ہی گیٹ کھل گیا۔ گیٹ پر مسعود آفاقی تھا۔
“اب کیا حال ہے؟‘‘ ناصر مرزا نے تیز تیز گھر کی طرف بڑھتے ہوۓ کہا۔
“اس کی بہت بری حالت ہے۔ درد سے تڑپ رہا ہے۔ اتنا سا چہرہ نکل آیا ہے ۔ برسوں کا مریض لگ رہا ہے۔‘‘ مسعود آفاقی نے اسے بتایا۔
ناصر مرزا لاؤنج میں داخل ہوا تو اسے ایسا لگا جیسے وہ کسی کے سوئم میں آ گیا ہو۔ ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ چہرے فکر مند تھے۔ ساحل عمر اپنی ٹانگیں اٹھا اٹھا کر قالین پر مار رہا تھا۔
“کیا ہوا ساحل؟‘‘ ناصر مرزا نے قالین پر بیٹھ کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
”پتہ نہیں۔‘‘ وہ بڑی مشکل سے بولا۔ اس کی آنکھوں میں نمی تھی۔
“پریشان مت ہو. ٹھیک ہو جاؤ گے۔” پھر اس نے مرجینا سے کہا۔ ’’ایک گہری پلیٹ میں پانی لے کر آؤ۔”
مرجینا بھاگ کر پلیٹ میں پانی لے آئی اور ناصر مرزا کے سامنے رکھ دیا۔
ناصر مرزا نے اپنی جیب سے چاقو نکالا اسے کھول کر چاقو کی نوک اپنے ہونٹوں کے نزدیک کرلی اور کچھ پڑھنے لگا۔
چند لمحے پڑھنے کے بعد اس نے چاقو کی نوک پر ایک پھونک ماری اور پر چاقو کی نوک سے پلیٹ میں ضرب کا نشان بنایا۔
اس کے بعد پھر اس نے چاقو کی نوک پر کچھ پڑھا اور پلیٹ میں ضرب کا نشان بنایا۔ اس طرح اس نے تین مرتبہ کیا۔ اس کے بعد اس نے چاقو جیب میں رکھ لیا اور وہ پلیٹ اٹھا کر سیدھے ہاتھ میں پانی لے کر اس نے اس کی پوری ٹانگ پر پانی کے چھینٹے مارے۔ پانی کے چھینٹے مارتے ہی اس کی ٹانگ میں تکلیف ایک دم کم ہو گئی۔ ناصر مرزا نے باری باری دونوں ٹانگوں پر چھینٹے مارے یہاں تک کہ پانی ختم ہو گیا۔ اس عمل سے اتنا ہوا کہ ساحل عمر اٹھ کر بیٹھ گیا۔ ٹانگوں کا درد بالکل تو ختم نہیں ہوا تھا لیکن قابل برداشت تھا۔ ساحل عمر نے اپنے دونوں ہاتھ منہ پر پھیرے۔ اس کا چہرہ ایک دم زرد ہو گیا تھا۔
’’ناصر یہ سب کیا ہے؟‘‘ ساحل عمر نے حیران ہو کر پوچھا۔
“برکھا کی دھمکی بھول گئے۔ اس نے تماشا دکھانے کو کہا تھا….. دکھا دیا تماشا۔‘‘
’’اچھا یہ اس کی کارروائی ہے؟‘‘
’’سوفی صد۔‘‘ ناصر مرزا نے بڑے یقین سے کہا۔ ’’وہ گوشت کا ٹکڑا کہاں ہے؟‘‘
“وہ تو میں نے اس وقت گھر سے باہر پھنکوا دیا تھا۔‘‘ اماں فورا بولیں۔
“اچھا کیا اماں۔” ناصر مرزا نے تعریفی نظروں سے انہیں دیکھا۔ ’’اور وہ انگوٹھی کہاں ہے؟‘‘
“وہ تمہارے پاس ہی تو تھی!‘‘ ساحل عمر نے کہا۔
“کل میں نے تمہارے اس انکشاف کے بعد کہ برکھا نے پڑھی ہوئی انگوٹھی بھیجی تھی اس انگوٹھی کو ایش ٹرے میں پھینک دیا تھا۔” ناصر مرزا نے ایش ٹرے کی طرف اچکتے ہوۓ کہا۔
“اوہ ہاں یاد آگیا. پھر وہ ایش ٹرے میں ہی پڑی ہو گی۔”
وہ ایک خوبصورت کرسٹل ایش ٹرے تھی۔ جو لاؤنج میں ایک میز پر رکھی تھی۔ اس وقت وہ میز ایک طرف رکھی ہوئی تھی۔ مسعود آفاقی نے اٹھ کر ایش ٹرے کو دیکھا۔ ایش ٹرے خالی تھی اس میں کوئی انگوٹھی نہ تھی ۔
’’اس میں تو کچھ نہیں۔‘‘ مسعود آفاقی نے ایش ٹرے اٹھا کر دکھاتے ہوۓ کہا۔
“ارے پھر کہاں گئی….اماں کیا آپ نے دیکھی تھی انگوٹھی۔‘‘
“میں نے کل رات کو اس میں پڑی دیکھی تھی۔“
” پھر وہ ایش ٹرے میں سے کہاں گئی!‘‘
پھر اس انگوٹھی کو پورے گھر میں تلاش کر لیا گیا لیکن اس انگوٹھی کا سراغ نہ لگا۔
’’چھوڑیں اماں. اب وہ نہیں ملے گی. وہ اڑگئی۔‘‘ ناصر مرزا نے کہا۔
پھر وہ ساحل عمر سے مخاطب ہوا ۔ “ہاں بھئی۔ اب کیا حال ہے؟‘‘
“درد کافی کم ہے لیکن بالکل ختم نہیں ہوا۔“
“ہو جائے گا…..تم اپنے ذہن سے پریشانی نکال دو۔‘‘
“نہیں… میں پریشان نہیں ہوں بلکہ غصے میں ہوں۔‘‘
“غصے سے کام نہیں چلے گا۔‘‘ ناصر مرزا نے مسکرا کر کہا۔ ’’ہمیں بڑے تدبر سے کام لینا ہو حافظ موسی سے ملنے جانا چاہئے۔ بقول حافظ موسی سفلی والی بڑی عیار ہے۔“
“ہاں چلو. بولو کب چلو گے۔‘‘
“کل چلتے ہیں۔ تم شام کو میرے پاس آ جاؤ۔‘‘
درد اگر چہ خاصا کم تھا۔ ناصر مرزا کو امید تھی کہ وہ آہستہ آہستہ بالکل ختم ہو جاۓ گا۔ پھر بھی اس نے عمل دہرا کر ایک پلیٹ پانی اور تیار کر کے دے دیا تھا تا کہ اگر کسی وقت درد میں اضافہ ہو تو اس پانی کو ٹانگوں پر چھڑک دیا جاۓ۔
پھر ناصر مرزا اور مسعود آفاقی رات کا کھانا کھا کر اپنے گھروں کو چلے گئے۔
عذرا ساحل گھر میں ہونے والے اس تماشے کو بڑے غور سے دیکھ رہی تھی۔ وہ شیطان کی چیلی برکھا اور اس کی بیٹی ورشا سے بہت پہلے سے واقف تھی۔ ایک وقت تھا کہ وہ ساحل عمر کے خوابوں میں آکر ان لوگوں سے دور رہنے کی تنبیہہ کرتی تھی۔ ساحل کا ورشا سے تعلق اسے ایک آنکھ نہ بھاتا تھا۔ جب اس کی دوستی گہری ہونے لگی تو وہ ایک دن خاصی افسردہ ہو گئی تھی اور اس کی آنکھ سے آنسو بہہ نکلے تھے۔ یہ وہی آنسو تھے جو اس کی تصویر پر برف کی مانند جم گئے تھے. برف کے آنسو۔ اب وہ ساحل کی دنیا میں آئی تھی تو پھر انہی دونوں ماں بیٹیوں کے قصے تھے۔ وہ ساحل کی جان کے در پے ہوگئی تھی ۔ وہ اس کے شوہر کو مار دینا چاہتی تھی لیکن عذرا کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ وہ اپنا سب کچھ اپنی دنیا میں چھوڑ آئی تھی۔ یہاں وہ تہی دامن تھی۔ اس کے ہاتھ خالی تھے۔
رات کو ٹھیک گیارہ بج کر پانچ منٹ پر ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ گھنٹی کی آواز سن کر ساحل عمر ایک دم چونک گیا۔ دیوار پر لگی ہوئی گھڑی جو ٹائم بتا رہی تھی ایک خاص وقت تھا اور اب یہ وقت بہت برا ہو گیا تھا۔ چار گھنٹیاں بج چکی تھیں۔ ساحل عمر ٹیلی فون اٹھانے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا۔ تب اماں آگے بڑھیں اور انہوں نے ریسیور اٹھا کر بڑے کرخت لہجے میں پوچھا۔ ’’کون ہے؟‘‘ ادھر سے جواب میں ایک قہقہہ سنائی دیا۔
اماں نے ریسیور پر ہاتھ رکھ کر ساحل عمر کو بتایا۔ ”کوئی نس رہی ہے۔“
پھر انہوں نے ریسیور سے ہاتھ ہٹا کر کہا۔ ’’اوہ خبیث ہنستی کیوں ہے؟‘‘۔
“او بڑهیا. ساحل کہاں ہے۔ ساحل کوفون دے۔‘‘ ادھر سے انتہائی ہتک آمیز لجے میں کہا گیا
“کیا کام ہے۔ تجھے ساحل سے۔ مجھ سے بات کر۔‘‘ اماں کو غصہ آ گیا۔
“اوہ بڑھیا تجھ سے کیا بات کروں… تو میری ایک پھونک کی مار ہے۔ ایک پھونک ماروں گی اڑ جائے گی۔ کیوں مجھ سے الجھتی ہے۔. کیوں اپنی جان کی دشمن ہوئی ہے۔‘‘ ادھر سے تنبیہہ کی گئی۔
“تو ہے کون؟‘‘
“میں برکھا ہوں…. میں تم سب کی موت ہوں۔۔” بر کھا نے انتہائی پراسرار لہجے میں کہا۔
ایسے انداز میں کہ اماں کے جسم میں ایک خوف کی لہر آ کر گز رگئی۔
انہوں نے جواب دیئے بغیر ریسیور ٹیلی فون پر پٹخ دیا۔
“بد ذات کہیں کی۔” وہ غصے سے بڑ بڑائیں۔
پھر جب انہوں نے ساحل کی طرف نظر اٹھائی تو ان کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہونے لگے۔
ساحل عمر کی ناک سے خون بہہ رہا تھا۔ یہ خون بہہ کر اس کے ہونٹوں پر آ گیا تھا لیکن ساحل عمر کو مطلق احساس نہ تھا۔ وہ اماں کو حواس باختہ دیکھ کر پریشان ہو گیا۔
“اماں فون پر کون تھا؟‘‘ اس نے پوچھا۔
اماں نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا۔ وہ تیزی سے اس کے نزدیک آ گئیں اور گھبرا کر بولی “ہیں، یہ تمہیں کیا ہوا؟”
ساحل عمر نے عجیب سی نظروں سے اماں کو دیکھا۔ میں کچھ پوچھ رہا ہوں یہ کچھ جواب دے ری ہیں۔ مجھے تو کچھ نہیں ہوا پر اماں کو ضرور کچھ ہوا ہے۔ اس بات کی تصدیق کیلئے اس نے عذرا کی طرف منہ موڑا۔
ساحل عمر کا چہرہ دیکھتے ہی عذرا کی رنگت سفید پڑگئی۔ ’’ارے.خون؟‘‘ وہ گھبراہٹ میں اتنا ہی بول پائی۔ اب خون بہتا ہوا اس کے ہونٹوں پر پھیل چکا تھا۔ عذرا کی گھبراہٹ نے اسے اپنے ہونٹوں پر انگلی پھیرنے پر مجبور کر دیا۔ اسے اپنی انگلی پر چپچپاہٹ محسوں ہوئی تو اس نے اپنی انگلی کو دیکھا۔ انگلی کو دیکھ کر اس کے ہوش اڑ گئے ۔’’ارے یہ کیا ہوا ؟‘‘
“یہی تو میں پوچھ رہی تھی۔ تمہاری ناک سے خون نکل رہا ہے اور تمہیں احساس تک نہیں حیرت ہے۔” اماں نے کہا۔ ’’شاید تمہاری تکسیر پھوٹ گئی ہے۔ واش روم میں جا کر ناک میں فورا پانی ڈال لو”
ساحل عمر فورا اٹھ گیا۔ واش روم میں جا کر آ ئینے میں اس نے اپنی صورت دیکھی تو صورتحال کوسنگین پایا۔ اس کی ناک کے ایک نتھنے سے دھیرے دھیرے خون بہہ رہا تھا۔ اس نے جلدی جلدی اپنی ناک دھوئی۔ اس میں پانی چڑھایا۔ اتنے میں اماں جگ میں ٹھنڈا پانی لے آئیں۔ اس نے جگ لے کر ٹھنڈا پانی اپنی ناک میں ڈالا پھر لاؤنج میں آ کر بیٹھ گیا۔ عذرا اور اماں بھی وہیں بیٹھی تھیں۔
“خون رک گیا۔‘‘ اماں نے اس کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوۓ پوچھا؟
“ہاں اماں رک تو گیا ہے؟‘‘ ساحل عمر نے سوچتے ہوئے کہا۔
’’اماں ٹیلی فون پر کون تھی؟‘‘
“ارے وہی بدذات بر کھاتھی‘‘ اماں نے غصے سے جواب دیا۔
“کیا کہہ ری تھی؟‘‘ اس نے پوچھا۔
“بکواس کر رہی تھی۔” اماں نے سرسری سے انداز میں کہا پھر اچانک بولیں۔’’ارے یہ خون تو پھر نکلنے لگا۔‘‘
“یہ سنتے ہی ساحل عمر نے فورا واش روم کا رخ کیا۔ اس نے ناک اچھی طرح دھوئی کئی مرتبہ ٹھنڈا پانی ناک میں چڑھایا۔ خون ایک مرتبہ پھر رک گیا. لیکن کچھ ہی دیر گزری تھی کہ پھر ناک سے خون نکلنے لگا۔
اس طرح خون بند ہوتے نکلتے پوری رات آ نکھوں میں نکل گئی۔ وہ اگر سیدھا لیٹ جاتا تو خون ناک سے بہنا شروع ہو جا تا لیکن کچھ ہی دیر بعد ایسا محسوس ہوتا جیسے خون حلق میں جمع ہو رہا ہو۔ وہ واش روم میں جا کر تھوکتا تو واش بیسن خون سے سرخ ہو جاتا۔ اگر وہ کروٹ پے لیٹتا تو خون فورا باہر نکلنے لگتا۔ یہی حالت بیٹھنے پر تھی۔ کئی تو لیے خون میں بھر گئے تھے لیکن خون تھا کہ بند ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
اماں نے کئی مرتبہ اسے ہسپتال چلنے کو کہا تھا۔ ناصر مرزا سے بات کرنے کو کہا تھا لیکن نہ وہ ہسپتال گیا تھا اور نہ ہی اماں کو ناصر مرزا کو خبر دینے دی تھی۔ وہ اسے اتنی رات گئے پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا۔ ہسپتال اس لئے نہیں گیا تھا کہ وہ اس بات کو نکسیر پھوٹنے کا عمل سمجھ رہا تھا۔ اس کا خیال تھا که کسی وقت بھی خون خودبخود ٹھیک ہو جاۓ گا۔
صبح ہوتے ہوتے اس کا خاصا خون بہہ گیا۔ وہ نڈھال ہو کر پڑ گیا۔ اس نے کروٹ لے کر تولیہ ناک کے نیچے رکھ لیا۔ خون بہہ بہہ کر جذب ہوتا رہا۔ اب اماں کے ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے۔ انہوں نے ناصر مرزا کوفون کر کے رات کی ساری روداد اس کے گوش گزار کر دی۔
ساری بات سن کر اس نے خفگی کا اظہار کیا۔ ’’ یہ ساحل عمر آ خر کب مجھے اپنا دوست سمجھے گا۔‘‘
“تمہارے آرام میں خلل کی وجہ سے ساحل عمر نے تمہیں فون نہیں کرنے دیا۔‘‘ اماں نے بات سنبھانے کی کوشش کی۔
آدھے گھنٹے کے اندر ناصر مرزا ساحل عمر کے گھر پہنچ گیا۔ اس نے گھر میں گھستے ہی چٹکی بجا کر کہا۔ ’’ساحل فٹا فٹ تیار ہو جاؤ۔‘‘
’’ہسپتال جانا ہے؟‘‘ ساحل عمر نے کھڑے ہوتے ہوۓ کہا۔
“نہیں۔‘‘ ناصر مرزا نے انکار میں گردن ہلائی۔ ’’یہ ہسپتال کا کیس نہیں۔”
“تو پھر؟‘‘ اس نے سوال کیا۔
’’ہم حافظ موسیٰ کے پاس چلیں گے۔‘‘ ناصر مرزا بولا۔ ’’وہ سفلی والی اپنا رنگ دکھا رہی ہے۔”
“ہاں ناصرتم ٹھیک کہہ رہے ہو۔ اگر یہ نکسیر پھوٹنے کا معاملہ ہوتا تو خون کب کا بند ہو چکا ہوتا۔‘‘ اماں نے بھی ناصر مرزا کے فیصلے کی تائید کی۔
عذرا کی عجیب کیفیت تھی۔ وہ بالکل خاموش تھی۔ پوری رات اس نے بھی جاگ کر گزار دی تھی۔ خون دیکھ کر اس کا دل کانپ رہا تھا۔ چہرے سے افسردگی ظاہر ہو رہی تھی۔
ناصر مرزا نے ایک نظر اس کے چہرے کی طرف دیکھا۔ اس کی صورت دیکھ کر اس نے اسے دلاسہ دینے کی کوشش کی۔ ’’عذرا پریشان مت ہو۔ ساحل عمر ٹھیک ہو جاۓ گا۔”
“جی۔” اس نے بہت دھیرے سے کہا اور ساحل عمر کی طرف پر امید نظروں سے دیکھا۔
“عذرا میں حافظ موسی کی طرف جا رہا ہوں۔” ساحل عمر نے روئی رکھ کر ناک پر پٹی باندھ لی تھی ۔ اس طرح اس کی صورت مزید خوفناک ہوگئی تھی لیکن بہتے خون کا اس سے بہتر کوئی علاج نہ تھا۔ عذرا انہیں دروازے تک چھوڑ آئی۔
جب وہ حافظ موسی کے گھر کے دروازے پر پہنچے تو سورج اچھی طرح نکل آیا تھا۔ ناصر مرزا گھنٹی بجانے لگا تو اس نے دیکھا کہ گیٹ تھوڑا سا کھلا ہوا ہے۔ اس نے سوچا گھنٹی بجاۓ بغیر اس طرح گھر میں داخل ہو جانا کسی طور مناسب نہیں۔ اسے گھنٹی بجانا چاہئے۔ ابھی وہ بیل بجانے کیلئے بٹن پر ہاتھ رکھنا ہی چاہتا تھا کہ اچانک گیٹ کھلنے کی کھڑ کھڑاہٹ سنائی دی۔ گیٹ سے دس بارہ سال کا بچہ نکلا۔ اس نے طائرانہ نظر ناصرمرزا پر ڈالی اور سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔ ’’جی فرمائیے۔”
”حافظ موسی سے ملنا ہے۔”
”اندر آ جایئے۔” اس لڑ کے نے بلا تامل کہا اور پھر فورا ہی گیٹ کے اندر چلا گیا۔ وہ دونوں گیٹ کے اندر داخل ہوئے تو انہیں وہ لڑکا کہیں نظر نہ آیا۔
ناصر مرزا حافظ موسی کے ٹھکانے سے واقف تھا اس لئے اس نے ساحل عمر کا ہاتھ پکڑا اور مکان کے پچھواڑے کی طرف بڑھنے لگا۔
دروازہ کھلا ہوا تھا۔ حافظ موسی درخت کے نیچے کھرے پلنگ پر اپنی لاٹھی دونوں ہاتھوں میں تھامے مخصوص انداز میں بیٹھے ہوۓ تھے۔ موسم تھوڑا سا ٹھنڈا تھا۔ اس لئے ان کے کندھے پر ایک چادر پڑی تھی۔
ناصر مرزا نے کھلے دروازے پر کھڑے ہو کر کواڑ تھپتھپایا۔ دروازے کی آواز سن کر حافظ موسی نے اپنا چہرہ اٹھایا اور پو چھا۔ ’’کون ہے بھائی؟‘‘
“ناصر مرزا اور ساحل عمر۔‘‘ ناصر مرزا نے جواب دیا۔
“اچھا اچھا۔‘‘ حافظ موسی نے خوشگوار لہجے میں کہا۔ ’’آ جاؤ بھئی دروازے پر کیوں کھڑے ہو”
“چلو” ناصر مرزا ساحل عمر سے مخاطب ہو کر بولا۔
ساحل عمر دروازے میں داخل ہو گیا۔ اس کے پیچھے ناصر مرزا. دونوں نزدیک پہنچ کر خاموش کھڑے ہو گئے۔
”آؤ بھئی بیٹھ جاؤ. کھڑے کیوں ہو؟‘‘ حافظ موسی نے چار پائی کی طرف اشارہ کیا۔
ناصر مرزا نے ساحل عمر کو اس کے نزد یک بٹھایا اور خود ذرا پیچھے پائنتی کی طرف بیٹھ گیا۔
“بہت خاموشی ہے۔ خیر تو ہے؟‘‘ حافظ موسی نے مسکراتے ہوۓ پوچھا۔
“حافظ صاحب خیر نہیں ہے۔‘‘ ناصر مرزا بولا۔’’برکھا نے عذاب میں مبتلا کر دیا ہے۔”
“اچھا وہ سفلی والی۔‘‘ حافظ موی نے سوچتے ہوۓ کہا۔ ’’وہ کیا کہتی ہے؟‘‘
“وہ تماشے دکھا رہی ہے. اس نے ساحل کا راتوں کا چین چھین لیا ہے۔‘‘ ناصر مرزا نے فکر مند ہو کر کہا۔
“وہ تماشے والی عورت ہے . اس نے تماشا ہی دکھانا ہے۔ اور کیا کرنا ہے۔ آخر ہوا کیا”
حافظ موسی کے سوال کے جواب میں شادی کی رات سے اب تک اس نے جو کارروائی کی تھی وہ حافظ موسی کے گوش گزار کر دی۔
ساری بات سن کر حافظ موی گویا ہوۓ۔ ’’خون ابھی تک جاری ہے کیا؟“
’’جی۔‘‘ اس مرتبہ جواب ساحل عمر نے دیا۔
حافظ موسی نے لاٹھی دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اس میں بنی آ نکھ پر اپنی بے نور آنکھیں رکھ دی۔ چند لمحے وہ اس طرح بیٹھے رہے۔ پھر لاٹھی ہٹا کر اپنی گردن اونچی کر لی اور ایک ٹھنڈا سانس بھرا۔ “اچھا”
ساحل عمر نے ناصر مرزا کی طرف دیکھا۔ دونوں اس اچھا کا مطلب نہ سمجھ سکے۔
“خیر کوئی بات نہیں۔‘‘ وہ جیسے اپنے آپ سے ہم کلام تھے۔ انداز کچھ تنبیہی تھا۔
’’کیا ہوا حافظ صاحب۔‘‘ ناصر مرزا نے آہستگی سے پوچھا۔
“ناصر مرزا وہ چاقو کہاں ہے؟‘‘
”میرے پاس ہے حافظ صاحب۔‘‘ ناصر مرزا بولا۔
“اس چاقو کی نوک سے اس درخت کی جڑ سے تھوڑی سی مٹی کھود کر میرے پاس لاؤ۔“ حافظ موسی نے ہدایت کی۔
“جی اچھا۔” یہ کہہ کر ناصر مرزا نے اپنی پیٹھ کی جیب سے چاقو نکالا اور پھر نیم کے درخت کی جڑ میں بیٹھ کر تھوڑی سی مٹی کھود کر اپنی ہتھیلی پر رکھی اور ان کے نزدیک آ کر ہاتھ پھیلا دیا۔
”یہ لیجیئے”
حافظ موس نے ہاتھ بڑھایا۔ ناصر مرزا نے اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ سے مس کیا۔ انہوں نے مٹی پر اپنی دو انگلیاں رکھ کر کچھ پڑھا اور بولے۔ ’’ناصر مرزا اس مٹی کو ساحل کی ناک کے نزدیک کر دو۔ پھر وہ ساحل عمر سے مخاطب ہوۓ ۔ ’’ساحل تم نے اس مٹی کو سونگھنا ہے تین مرتبہ گہرے مگر آہستہ سانس لے کر“
“جی اچھا۔‘‘ ساحل عمر نے اپنی ناک سے پٹی کھول دی۔ روئی ہٹا لی۔ روئی خون سے تر ہو گئی تھی
ناصر مرزا نے اپنی ہتھیلی آ گے کی۔ ساحل عمر نے اس کے ہاتھ کو اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر آگے کھینچا۔ ناک کے نزدیک لا کر اس نے اس مٹی کو سونگھا۔ اس مٹی میں گلاب کی سی خوشبو تھی۔ اس نے تین گہرے سانس لئے۔ اسے فوری طور پر سکون محسوس ہوا ساتھ ہی بہتا ہوا خون بند ہو گیا۔
“کچھ سکون ملا؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔
“نہ صرف سکون ملا بلکہ ناک سے خون آنا بھی بند ہو گیا۔‘‘
“ناصر مرزا یہ مٹی تم نے جہاں سے کھودی تھی اسے وہیں ڈال دو‘‘
ناصر مرزا نے فورا حکم کی تعمیل کی۔
“ساحل عمر اب تم میری ایک بات غور سے سن لو لیکن میری بات سن کر پریشان بالکل مت ہونا
“جی فرمائے۔ ” ساحل عمر نے اس کی طرف دیکھا۔
“وہ سفلی والی اب تمہاری جان کے در پے ہو گئی ہے۔ اس پر جنون سوار ہو گیا ہے۔ انتقام کی آگ میں اندھی ہو گئی ہے۔ خیر ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ وہ تمہاری موت نہیں بن سکتی۔ وہ خود اپنی موت ہے۔ اب تمہیں ایک کام کرنا ہے۔ وہ تلوار کہاں ہے؟‘‘
“گھر پر ہے۔” ساحل عمر نے جواب دیا۔
یہ کام تمہیں بارہ بجے سے پہلے کرنا ہے۔‘‘ حافظ موسی نے ہدایت کی۔ ’’یہاں سے واپس جا کر یہ کام جتنی جلد ممکن ہو سکے کر لیا۔ اس تلوار کو تم اپنے گھر کے پچھواڑے ایک خاص مقام پر جس کی نشاندی خود بخود ہو جاۓ گی۔ اس تلوار کو زمین میں دستے تک اتار دینا۔“
“کچھ پڑھنا بھی ہو گا۔” اس نے دریافت کیا۔
“ہاں بالکل۔۔۔ میں تمہیں بتاتا ہوں۔ کیا پڑھنا ہے اور کیا کرنا ہے. میری بات بہت غور سے سنو۔“
حافظ موسی نے پھر پوری تفصیل سے ساحل عمر کو سب کچھ سمجھا دیا۔
سمار ملوک کی وہ خاندانی گوار جسے وہ مقدس کہتا تھا اور جس تلوار سے ساحل عمر نے راعین کا خاتمہ کیا تھا۔ وہ تلوار سال عمر نے اپنے کپڑوں کی الماری میں ایک کونے میں کھڑی کر دی تھی۔ اس نے وہاں سے وہ تلوار نکالی اور اپنے مکان کے عقب میں پہنچ گیا۔ حافظ موسی نے یہ نہیں بتایا تھا کہ اس تلوار کو کس جگہ زمین میں گاڑنا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس بات کی نشاندی خودبخود ہو جائے گی۔ ساحل عمر کے مکان کا عقبی حصہ پھولوں اور کیاریوں سے بھرا ہوا تھا۔ جب وہ تلوار کو لے کر عقبی حصے میں پہنچا تو اسے وہ جگہ فورا ہی نظر آ گئی۔ حافظ موسی نے سچ کہا تھا۔ اس جگہ کی نشاندہی بہت واضح انداز میں کر دی گئی تھی۔
مغربی دیوار کے سائے میں ایک گلاب کے پودے کے نزدیک پھول کی پتیوں سے ایک دائرہ بنا ہوا تھا۔ یہ گلاب کی پتیاں تھیں اور ان کا رنگ زرد تھا۔
وہ اس دائرے کے نزدیک گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور اس نے تلوار کا دستہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر کچھ پڑھتے ہوئے تلوار زمین پر زور سے ماری۔ تھوڑی سی تلوار زمین میں دھنس گئی۔ اب اسے تلوار کو اس طرح پکڑے پکڑے حافظ موسی کی ہدایت کے مطابق پڑھنا تھا۔
ساحل عمر نے پورے اعتماد اور یقین کے ساتھ پڑھنا شروع کیا۔ پڑھتے پڑھتے اس نے محسوس کیا کہ تلوار خودبخود زمین میں دھنستی جا رہی ہے۔
آدھے گھنٹے کے بعد جب اس کا عمل مکمل ہوا تو وہ پوری تلوار دستے تک زمین میں دھنس چکی تھی۔ مٹی اس قدر نزم ہو گئی تھی کہ وہ تلوار زمین میں بغیر کسی دباؤ کے اندر گھستی چلی جا رہی تھی۔ ساحل عمر نے اس تلوار کا دستہ دونوں ہاتھوں میں تھام رکھا تھا لیکن اس نے تلوار پر کسی قسم کا زورنہیں ڈالا تلوار زمین میں اس طرح اترتی چلی جا رہی تھی جیسے کیک میں چھری۔
عمل مکمل ہونے کے بعد اس نے کھڑے ہو کر تلوار کو دونوں ہاتھوں سے زمین سے کھینچنا چاہا۔ اس کا خیال تھا کہ تلوار زمین سے اس طرح آرام سے باہر آ جاۓ گی جس طرح گئی تھی لیکن تلوار ٹس سے مس نہ ہوئی۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے اسے پتھریلی زمین میں سیمنٹ کے ذریعے گاڑ دیا گیا ہو۔ ساحل عمر نے وہ تلوار وہیں زمین میں گڑی چھوڑ دی۔ کیونکہ حافظ موسی نے یہی ہدایت کی تھی۔
ساحل عمر یہ بات سمجھنے سے قاصر تھا کہ انہوں نے ایسی ہدایت کیوں کی تھی۔ اس کے پیچھے کیا حکمت عملی تھی جبکہ اسے یہ بات اچھی طرح یادتھی کہ جب حافظ موسی اس کے گھر آۓ تھے تو جاتے ہوئے اس تلوار کو بطور خاص حفاظت کی ہدایت کر کے گئے تھے کیونکہ ان کے خیال کے مطابق اس تلوار کے پیچے چور لگیں گے۔ اس ہدایت کے پیش نظر اس نے تلوار ایک ایسی جگہ رکھ دی تھی کہ چوری کرنے والا اس تلوار تک فوری طور پر نہ پہنچ سکے۔
اب حافظ موی نے اس تلوار کو کھلے آسمان تلے گڑوا کر چوروں کو کھلی دعوت دے دی تھی کہ دیوار کود کر اندر آؤ اور تلوار اکھاڑ کر لے جاؤ….. حافظ موسی کا یہ طرز عمل اس کی سمجھ سے باہر تھا۔
☆☆☆☆☆☆☆
ورشا یہ بات کئی دن سے محسوس کر رہی تھی. لیکن وہ اسے اپنا وہم کبھی آنکھوں کا فریب نظروں کا دھوکا سمجھ کر نظر انداز کرتی آرہی تھی۔ وہ سوچتی تھی کیونکہ یہ چیز اسے کئی مرتبہ خواب میں دکھائی دے چکی تھی اس لئے اس کے ذہن نے خواب کو حقیقت بنا کر پیش کر دیا ہے۔ اس نے اس خواب کو سات دن تک مسلسل دیکھا تھا۔ وہ دیکھتی تھی کہ وہ اپنے کمرے میں آئی ہے جب وہ کھلے دروازے سے اپنے کمرے میں داخل ہوتی تو اسے ایک شخص اپنے بیڈ پر لیٹا دکھائی دیتا ہے جو اس کے کمرے میں داخل ہونے کے بعد فورا اٹھ کر بیٹھ جاتا۔ اسے بڑی محبت ہے دیکھتا اور پھر وہ بغلی دروازہ کھول کر کمرے میں چلا جاتا۔ یہ کمرہ کبھی برکھا کا بیڈ روم ہوتا تھا۔ مناف کوقتل کرنے کے بعد برکھا نے اپنا بیڈ روم تبدیل کر لیا تھا۔ اب اس کا بیڈ روم اس کمرے کو چھوڑ کر دوسرے کمرے میں تھا۔
تین دن تک جب ورشا کو یہ خواب بغیر کسی فرق کے نظر آ تھا رہا تو اس نے اس کا ذکر اپنی ماں سے کیا۔
یہ خواب سن کر برکھا کے چہرے پر پریشانی کے آثار ہو پیدا ہو گئے۔ اس نے کرید کرید کر اس شخص کا حلیہ پوچھا۔
ورشا نے جب اس شخص کا حلیہ بتایا تو برکھا کے جسم پر سنسنی سی دوڑ گئی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: