Anwar Aleegi Urdu Novels

Bichoo Novel By Anwar Aligi – Episode 29

Bichoo Novel By Anwar Aligi
Written by Peerzada M Mohin
 بچھو از انوار علیگی – قسط نمبر 29

–**–**–

’’اوہ‘‘ برکھا نے ٹھنڈا اور گہرا سانس لیا۔
“ممی کیا ہوا؟‘‘ ورشا نے پوچھا۔
“ورشا کیا تو اس شخص کو نہیں جانتی؟‘‘ برکھا نے سوال کیا۔
“ممی میں اگر جانتی ہوتی تو آپ کو فورا اس کا نام بتاتی۔ آپ کو اس کا حلیہ پوچھنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔‘‘
“وہ تیرا نانا ہے۔‘‘ برکھا نے بڑے پراسرار انداز میں بتایا۔
“ہیں۔ وہ میرے نانا ہیں۔ میں نے انہیں کبھی نہیں دیکھا۔ ہمارے گھر میں تو ان کی کوئی تصویر بھی نہیں ہے۔
“میں حیران ہوں کہ اتنی طویل مدت کے بعد اس نے تیرے خوابوں میں کیوں آ نا شروع کیا ہے” وہ فکر مند تھی ۔
“ممی حیران ہو یا پریشان؟‘‘ ورشا نے سوال کیا۔
“میں حیران بھی ہوں اور پریشان بھی کیونکہ اس کا مسلسل تیرے خواب میں آنا کسی خطرے سے خالی نہیں۔‘‘
“ممی آپ کو اپنے باپ سے کس طرح کا خطرہ ہو سکتا ہے۔‘‘ ورشا نے پوچھا۔ ’’وہ بھی مرے ہوۓ باپ سے۔”
“کیا تو نہیں جانتی ؟‘‘ برکھا نے اسے عجیب سی نظروں سے دیکھا۔
“نہیں مجھے کیا معلوم؟‘‘ ورشا نے معصومیت سے کہا۔
”میں نے تجھے بتایا تو تھا کہ میں نے اپنے باپ کو مار دیا تھا۔ اسے بھینٹ چڑھا دیا تھا۔”
“ہاں یہ بات تم نے بتائی تھی ممی تم نے تو میرے باپ کو بھی قتل کر دیا تھا۔ میں اس قتل کی چشم دید گواہ ہوں۔‘‘ ورشا کی نظروں میں فورا وہ منظر آ گیا جب اس نے اپنے باپ کو خون میں نہایا ہوا دیکھا تھا۔
”ہاں میں نے اسے بھی مار دیا تھا۔” برکھا نے بڑی لاپروائی سے کہا۔
“ممی ابھی تم نے کتنے اور قتل کرنے ہیں۔ کتنے لوگوں کو بھینٹ چڑھانا ہے۔”
“میری راہ میں جو آۓ گا…میرے راستے کی جو رکاوٹ بنے گا وہ زندہ نہیں بچے گا۔” برکھا نے بڑے اطمینان سے کہا۔ جیسے اس نے کسی کو قتل کرنے کی بات نہ کی ہو کسی کو کھانا کھلانے کی بات کی ہو
“ممی چاہے میں ہی کیوں نہ تمہارے راستے میں آ جاؤں۔” ورشا نے اندازہ کرنے کیلئے سوال کیا۔
“میں نے کہا ناں جو بھی میرے راستے میں آئے گا مارا جاۓ گا۔ چاہے وہ تم ہو یا ساحل عمر۔ ساحل عمر کو بہر حال میں نہیں چھوڑوں گی۔ میں اس کی موت بن جاؤں گی۔” برکھا کے لہجے میں تپش آگئی
ورشا نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اسے اپنی اوقات کا اچھی طرح پتہ چل گیا تھا اور یہ بات اسے ہمیشہ سے معلوم تھی کہ جو عورت اپنے باپ کو مار سکتی ہے شوہر کو مار سکتی ہے وقت آنے پر وہ اپنا بیٹی کا خاتمہ بھی کرسکتی ہے۔ یہ محض اس کا گمان تھا لیکن اپنی ماں کے منہ سے صاف صاف سن لینے کے بعد یہ گمان یقین میں بدل گیا تھا۔ پھر اس نے اپنی ماں کے پاس رکنا مناسب نہ سمجھا۔ وہ خاموشی سے اٹھ کر اس کے کمرے سے نکل کر جانے لگی۔
ابھی وہ دروازے پر ہی پہنچی تھی کہ برکھا نے آواز دی۔ “ورشا”
ورشا اس کی آواز سن کر دروازے پر ہی رک گئی اور سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
’’میری جان ناراض ہو گئی۔‘‘ برکھا نے اپنے لہجے میں شہد بھر کر کہا۔
“ممی آپ بھی خوب ہیں ایک طرف مجھے اپنی جان کہتی ہیں، دوسری طرف میری جان لینے کے در پے ہیں۔‘‘ وہ پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔
“ادھر آؤ میرے پاس۔‘‘ برکھا نے اسے اپنے پاس بلایا۔ لہجے میں خفگی بھرا پیار تھا۔
’’جی ممی۔‘‘ وہ دروازے پر کھڑی رہی برکھا کی طرف نہیں بڑھی۔
تب برکھا خود اٹھ کر اس کے نزدیک آئی اور اسے اپنے گلے لگاتے ہوۓ بولی۔ ’’پگلی میں مذاق کر رہی تھی ۔ بھلا کوئی اپنی جان بھی لیتا ہے تو تو میری جان ہے۔‘‘ ورشا نے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ خاموش کھڑی رہی
پھر جب اس کے جسم کی بدبو نا قابل برداشت ہو گئی تو ورشا آ ہستگی سے الگ ہوگئی۔’’اچھا ممی۔‘‘
“ہاں میں یہ کہہ رہی تھی کہ اب اگر تجھے تیرا نانا نظر آۓ تو مجھے بتانا ۔“
’’اچھا ممی۔‘‘ وہ بڑی فرمانبرداری سے بولی اور اس کے کمرے سے نکل آئی۔
ورشا کے نانا کالی داس نے اس کے خواب میں آنے کی شاید قسم کھا لی تھی۔ وہ چوتھے دن بھی اس کے خواب میں آ گیا اور پھر مسلسل آ تا رہا۔ یہاں تک کہ سات دن پورے ہو گئے۔ برکھانے ہدایت کی تھی کہ اب کالی داس اس کے خواب میں آۓ تو وہ اسے ضرور بتاۓ۔ ورشا نے برکھا سے ذکر کر دیا۔ برکھا کچھ دیر سوچتی رہی پھر اس نے ورشا کو ہدایت کی کہ آج رات وہ سونے سے پہلے ایک منتر پڑھ کر سوۓ اس کے بعد وہ کبھی اس کے خواب میں نہیں آۓ گا۔ ورشانے وہ منتر یاد تو کر لیا مگر اس نے رات کو پڑھا نہیں۔ بھلا اسے اپنے نانا سے کیا دشمنی تھی۔ اگر وہ خواب میں آرہے تھے تو شوق سے آئیں۔ وہ اسے کوئی نقصان تو نہیں پہنچار ہے تھے۔ آٹھویں رات اس کا نانا بغیر منتر پڑھے ہی اس کے خوابوں سے غائب ہو گیا۔ صبح ہوتے ہی برکھا نے اس سے اس کے خواب کے متعلق دریافت کیا۔ ’’کیا ہوا. رات کو تو نہیں آیا وہ۔‘‘
“نہیں ممی. رات کو وہ خواب میں نہیں دکھائی دیئے۔‘‘ ورشا نے بتایا اور یہ بات سچ تھی۔
یہ سن کر برکھا نے اطمینان کا سانس لیا جیسے کوئی متوقع خطرہ ٹل گیا ہو۔
لیکن یہ خطرہ ٹلنے والا نہ تھا۔ وہ اگر اس کے خوابوں میں آ رہا تھا اور اسے محبت بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا تو یہ سب کچھ بلا مقصد نہ تھا بلا سبب نہ تھا۔
دو پہر کا کھانا کھا کر جب ورشا اپنے کمرے میں آئی تو ایک دم ٹھٹھک گئی۔ خواب والا منظر اس کے سامنے تھا۔ کالی داس اس کے بیڈ پر لیٹا ہوا تھا۔ اسے کمرے میں داخل ہوتا دیکھ کر وہ فورا اٹھ کر بیٹھ گیا اور اسے بڑی محبت بھری نظروں سے دیکھنے لگا۔ پھر وہ اٹھا اور بغلی دروازے کو کھول کر اندر چلا گیا۔
ورشا بڑی حیران ہوئی اس نے دروازے کو دھکا دے کر دیکھا لیکن وہ دروازہ دوسری طرف وں سے بند تھا۔
اب اسے یہ منظر اپنی جاگتی آنکھوں کا خواب محسوس ہوا۔پھر یہ منظر اسے کئی دن تک نظر آیا۔ وہ اسے اپنا وہم آنکھوں کا فریب نظروں کا دھوکا سمجھ کرنظر انداز کرتی رہی لیکن یہ وہم فریب یا نظروں کا دھوکا نہ تھا۔
کالی داس اپنی زندگی میں ایک منصوبہ ساز شخص تھا۔ مرنے کے بعد بھی یہ منصوبہ بندی اس کی روح سے الگ نہ ہوئی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ وہ ورشا کے سامنے بہت دھیمے انداز میں زینہ بہ زینہ آیا تھا۔ اس کے خوابوں میں آنے کے بعد اس نے دوسرا قدم اٹھایا۔ وہ اسے جاگتی آنکھوں سے نظر آیا اور خوابوں کی طرح کئی دن نظر آ تا رہا۔ اس طرح ورشا اس سے مانوس ہو گئی۔ اس کے دل سے سارا ڈر خوف نکل گیا۔ پھر جب ورشا چوتھے دن شام کو اپنے کمرے میں داخل ہوئی تو وہ اٹھ کر کمرے سے غائب نہ ہوا بیٹھا رہا اور بڑے پیار بھرے انداز میں اسے پکارا۔ ’’ورشا۔‘‘
•●•●•●•●•●•
وہ چیخ کی آواز تھی۔ رات کے سناٹے میں کوئی چینچا تھا۔ یہ ایک مردانہ چیخ تھی اور گھر کے پچھواڑے سے آئی تھی۔ اماں تہجد پڑھ کر ابھی لیٹی تھیں۔ آ نکھوں میں ابھی نیند اترنے لگی تھی کہ اس چیخ نے ان کی آنکھوں سے نیند اڑا دی۔ وہ فورا اٹھ کر بیٹھ گئیں۔
چیخیں رہ رہ کر ابھر رہی تھیں۔ کوئی بڑی بھیانک آواز میں چیخ رہا تھا۔ ’’ہاۓ میں مرگیا۔ مجھے بچاؤ”
اماں نے فورا ساحل عمر کے کمرے کا دروازہ بجایا۔ یہ چخیں عذرا نے بھی سن لی تھیں۔
جب اماں نے دروازہ بجایا تو وہ ساحل عمر کو اٹھا چکی تھی۔
’’کیا ہوا؟‘‘ ساحل عمر نے آنکھیں کھولتے ہوۓ پوچھا۔
“باہر کوئی چیخ رہا ہے‘‘ عذرا نے بتایا۔
اتنے میں دروازے پر اماں نے دوبارہ دستک دی۔
“دروازے پر کون ہے؟‘‘ ساحل عمر نے پوچھا۔
“شاید اماں ہیں۔” عذرا نے کہا اور دروازے کی طرف بڑھی۔
”تم ٹھہرو میں کھولتا ہوں دروازہ“
دروازے پر اماں پریشان کھڑی تھیں۔ وہ گھبرا کر بولیں۔ ’’ساحل گھر کے پیچھے کوئی ہے۔”
“اچھا میں دیکھتا ہوں۔“
“ہاۓ تم اکیلے مت جاؤ۔‘‘
“اماں میں لائٹ جلا کر پہلے کھڑ کی سے دیکھتا ہوں پھر باہر جاؤں گا۔” ساحل عمر نے اماں کو تسلی دی۔
ساحل عمر نے باہر دیوار پر گی ٹیوب لائٹ روشن کی اور پھر پچھلی کھڑکی کا پردہ ہٹا کر باہر جھانک کر دیکھا۔ باہر کا منظر ہی عجیب تھا۔ کوئی شخص گھٹنوں کے بل بیٹھا ہوا تھا اور اس کے دونوں ہاتھ تلوار کے دستے پر تھے اور وہ بار بار اپنے جسم کو حرکت دے رہا تھا۔ اس نے چیخنا بند کر دیا تھا۔ جیسے ہی لائٹ جلی اس نے مڑ کر گھر کی طرف دیکھا۔ تب ساحل عمر نے اسے فورا پہچان لیا۔ وہ خبیث واسم تھا
اور تلوار چرانے آیا تھا۔ ساحل عمر نے پہلی بار اس شخص کو اس وقت دیکھا تھا جب ورشا اسے ہاکس بے لے گئی تھی پھر یہ شخص ساحل عمر کو اغوا کر کے چترو بھیل کے استھان پر لے گیا تھا۔ ساحل عمر اس بات کو اچھی طرح جانتا تھا کہ یہ برکھا کا خادم خاص ہے۔ اس کے اشارے پر جان دینے والا۔
“ساحل صاحب بھگوان کے واسطے مجھے معاف کر دیں۔ آئندہ میں یہاں کبھی نہ آؤں گا۔” وہ روشنی ہوتے ہی زور سے بولا۔
ساحل عمر نے اس کے ہاتھوں کو غور سے دیکھا۔ تب اس پر انکشاف ہوا کہ اس کے دونوں ہاتھ دستے پر جمے ہوۓ ہیں۔ اس کے ہاتھ جیسے چپک گئے ہیں۔ وہ باوجود کوشش کے اپنے ہاتھ الگ نہیں کر پا رہا۔
اب ساحل پر حافظ موسی کا طرز عمل واضح ہوا۔ انہوں نے اس تلوار کو باہر گڑوا کر جو چوروں کو دعوت دی تھی تو کچھ غلط نہیں کیا تھا۔ یہ تلوار چور کیلئے پھندا ثابت ہوئی تھی۔
واسم کو دیکھ کر ساحل عمر کے تن بدن میں غصے کی آگ بھڑک اٹھی۔ وہ گھر کا پچھلا دردازہ کھول کر باہر نکلا اور واسم کے نزدیک پہنچتے ہی اس کے جسم پر ایک زور دار لات جمائی اور غصے سے بولا۔ ”کتے کے بچے تجھے یہاں تیری موت کیچ لائی۔“
”ساحل صاحب مجھے اس مصیبت سے نجات دلائیں۔ مجھے معاف کر دیں۔ میرے ہاتھ تلوار سے چپک گئے ہیں اور ہاتھوں میں سوئیاں سی چبھ رہی ہیں۔ “
“خبیث کی اولاد تو یہاں کیا کرنے آیا تھا؟‘‘ ساحل عمر نے غصے سے پوچھا۔
“ساحل صاحب میں آپ کو ہر بات صاف صاف بتا دوں گا۔ میرے ہاتھ آزاد کروا دیں میں بہت تکلیف میں ہوں۔“
”اب آزادی کو بھول جا پہلے یہ بتا کہ تجھے یہاں بھیجا کس نے اور کیوں؟‘‘
”مجھے یہاں برکھا دیوی نے بھیجا تھا میں یہ تلوار چرانے آیا تھا۔”
تو پھر لے جا چرا اس تلوار کو. تلوار تیرے ہاتھوں میں ہے جا جلدی کر۔‘‘ ساحل عمر طنزا ہنسا
“مجھ سے غلطی ہو گئی مجھے معاف کر دیں۔‘‘
“معاف کیسے کر دوں. تجھے یاد ہو گا تو مجھے نیم بے ہوشی کے عالم میں اغوا کر کے چترو بھیل کے استھان پر لے گیا تھا۔ تو نے میری موت کا سامان کر دیا تھا۔
“میں مجبور ہوں۔ برکھا دیوی کے ہر حکم کا پابند.ان کی شکتی نے مجھے جکڑ رکھا ہے۔”
“اگر وہ اتنی شکتی والی ہے تو اسے آواز دے کر چھوٹ کیوں نہیں جاتا۔”
واسم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ کیا جواب دیتا۔ اگر آزاد ہونا اس کے اختیار میں ہوتا تو وہ کب کا یہاں سے جا چکا تھا۔
“اچھا ایک بات بتا. دیکھ بالکل سچ سچ بتانا ‘‘
“میں ہر بات سچ بتاؤں گا. آپ پوچھیں…. بس مجھے اس عذاب سے نجات دلوا دیں۔”
کچھ عرصے پہلے کلفٹن کے پلے لینڈ سے ایک لڑکی اغوا ہوئی تھی جس کی لاش بعد میں جھاڑیوں سے ملی تھی۔ اس لڑکی کا اغوا بھی تو نے کیا تھا۔‘‘
“ناصر مرزا کی بھتیجی کی بات کر رہے ہیں؟‘‘ واسم نے سوال کیا۔
“ہاں۔” ساحل عمر بولا۔
“ہاں اس لڑکی کے اغوا میں میں نے مدد کی تھی۔ اغوا میں نے نہیں کیا تھا۔ اغوا سوناں نے کیا”
’’یہ سوناں کون ہے؟‘‘
“میری طرح وہ بھی برکھا دیوی کی چیلی ہے۔ ہم دونوں نے مل کر برکھا دیوی کیلئے بہت کام کئے ہیں۔”
“ناصر مرزا کی بھتیجی کو قتل کس نے کیا تھا؟‘‘
“قتل میں نے نہیں کیا۔ میں صرف اس کی لاش پھیکنے کا ذمہ دار ہوں۔”
“قتل کس نے کیا تھا؟‘‘ ساحل عمر نے غصے سے پوچھا۔
“وہ برکھا دیوی کے ہاتھوں مری۔”
“ٹھیک ہے اب تم یہاں صبح تک آرام سے بیٹھو۔ چند گھنٹوں کی بات ہے۔ صبح تمہارا حساب کتاب ہو گا۔ حساب کتاب تو تمہارا اب بھی ہو سکتا ہے لیکن اتنی رات گئے میں ناصر مرزا کو پریشان نہیں کرنا چاہتا۔ تم ناصر مرزا کے مجرم ہو۔ تم میرے بھی مجرم ہو۔ تمہیں اب سزا بھگتنا ہوگی۔‘‘ یہ کہہ کر ساحل عمر واپس مڑا۔ اس نے پورے اطمینان سے گھر کا پچھلا دروازہ بند کیا اور اپنے بیڈ پر آ کر لیٹ گیا۔
دروازہ بند کر تے ہوئے اس نے اس کی فریاد سنی تھی ۔ ’’ساحل عمر صاحب ایسا نہ کریں۔ مجھے معاف کر دیں۔ میں پھر کبھی۔۔۔۔”
لیکن اس نے ایک مجرم کی فریاد پر کان نہیں دھرے تھے اور دروازہ دھاڑ سے بند کر دیا تھا۔
یہ حافظ موسی کی مہربانی تھی ایک موذی اتنی آسانی سے ان کے چنگل میں پھنس گیا تھا۔
ساحل عمر پھر صبح تک چین سے سو نہ سکا۔ وہ وقفے وقفے سے اسے اٹھ کر دیکھتا رہا۔ اسے یہ بھی خوف تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی طرح اس کے ہاتھ آزاد ہو جائیں۔ توقع یہی تھی کہ اب وہ آزاد نہ ہو سکے گا۔ اگر آزاد ہونا ممکن ہوتا تو وہ تلوار کی گرفت میں ہی کیوں آ تا۔ وہ جب بھی اسے اٹھ کر دیکھتا اسے کرب میں مبتلا پاتا۔ اب وہ تلوار کے دونوں طرف ٹانگیں پھیلا کر بیٹھ گیا تھا۔
صبح تڑ کے ہی اس نے ناصر مرزا کو فون کیا۔ کافی دیر گھنٹی بجنے کے بعد اسے نیند میں ڈوبی ہوئی ناصر مرزا کی آواز سنائی دی۔ ’’ہیلو کون؟‘‘۔
’’ناصر میں ساحل بول رہا ہوں۔ بھائی حافظ موسی نے تو کمال کر دیا۔‘‘
’’ کیا ہوا ؟‘‘ ناصر مرزا ایک دم چونک کر بیٹھ گیا۔
’’کیا تم نے تلوار والا عمل کر دیا تھا۔‘‘
“ہاں بھی….عمل بھی کر دیا تھا اور اس کا رزلٹ بھی فوری طور پر سامنے آ گیا۔ ایک چوہا پکڑا گیا۔‘‘ ساحل عمر نے خوش ہو کر کہا۔
’’چوہا پکڑا گیا… کیا مطلب؟‘‘ ناصر مرزا نے وضاحت چاہی۔
’’بس تم فورا آ جاؤ۔‘‘
“میں ابھی آ جاتا ہوں… لیکن کچھ بتاؤ تو۔‘‘
’’واسم تلوار چرانے آیا تھا۔ اس تلوار نے اس کے ہاتھ جکڑ لئے ۔ جانتے ہو یہ واسم کون ہے”
’’برکھا کا کوئی بندہ ہو گا۔“
“ہاں اس کا خاص آدمی ہے۔ میں نے اس سے بہت کچھ اگلوا لیا ہے۔ اس خبیث نے تمہاری بھتیجی کو اغوا کیا تھا اور…”
”بس اتنا میرے لئے کافی ہے۔ میں فورا آ رہا ہوں۔‘‘ ناصر مرزا اس کی بات کاٹ کر بولا۔ ’’تم ذرا اس کا خیال رکھنا دیکھو وہ بھاگنے نہ پاۓ ۔“
پھر ناصر مرزا نے اس کا جواب سنے بغیر ٹیلی فون بند کر دیا۔
•●•●•●•●•●•
برکھا اپنے کمرے میں بڑی بے چینی سے ٹہل رہی تھی۔ اس وقت دن کے بارہ بجے تھے لیکن واسم ابھی تک نہیں آیا تھا۔ ایسی کوتاہی تو اس سے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ اگر کسی وجہ سے کام نہیں ہو سکا تھا تو وہ اسے ٹیلی فون ضرور کر دیتا. وہ خود آیا نہ اس کا ٹیلی فون آیا تھا۔ کہیں وہ پکڑا تو نہیں گیا
یہ خیال کئی بار اس کے ذہن میں آیا تھا لیکن وہ اس خیال کو سختی سے ذہن سے جھٹک دیتی تھی۔ اس نے واسم کو جومنتر پڑھا کر بھیجا تھا وہ ایسا تھا کہ بغیر کسی کی نظروں میں آئے وہ پورے گھر میں گھوم سکتا تھا۔ دیکھے جانے کی صورت میں وہ منتر پڑھ کر دیکھنے والے کو وقتی طور پر اندھا کر سکتا تھا۔ اسے کوئی گرفت میں نہیں لے سکتا تھا لیکن برکھا کو یہ نہیں معلوم تھا کہ اس نے واسم کو جو چیز چرانے بھیجا ہے وہ دیوار پھلانگ کر اندر پہنچتے ہی ٹارچ کی روشنی میں خودبخود چمک اٹھے گی اور اتنی آسانی سے اس چیز کے مل جانے کی خوشی میں وہ لپک کر اس کا دستہ پکڑے گا اور کسی کی گرفت میں نہ آنے والا اس چیز کی گرفت میں آ جاۓ گا۔ جسے وہ چرانے آیا تھا۔
وقت تیزی سے گزر رہا تھا اور برکھا کی بے قراری بڑھتی جا رہی تھی۔ اضطراری کیفیت میں گھر کے گیٹ تک چلی گئی۔ گیٹ کھول کر وہ باہر نکلی اور اس نے یونہی دائیں بائیں سڑک کی طرف دیکھا۔
تب اس کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔ واسم سامنے سے چلا آ رہا تھا۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈالے ہوۓ تھے اور سر جھکاۓ برکھا کے گھر کی طرف بڑھ رہا تھا۔ پھر اس نے گیٹ کے نزدیک پہنچ کر برکھا پر ایک نظر ڈالی اور خاموشی سے گیٹ میں داخل ہو گیا۔
برکھا نے اس کو اندر جاتے ہوۓ حیرت سے دیکھا۔ وہ جلدی سے اندر آئی اس نے پلٹ کر گیٹ بند کیا اور کسی قدر غصے سے پکاری۔’’واسم ‘‘
واسم آگے جاتے جاتے ایک دم رک گیا۔
“کیا ہوا؟‘‘ اس نے غصے سے پوچھا۔’’ تلوار کہاں ہے؟‘‘
واسم نے جواب میں خاموشی سے اپنے دونوں ہاتھ جیب سے نکالے اور اس کے سامنے کر دیے۔ جب برکھا کی نظر اس کے دونوں ہاتھوں پر پڑی تو وہ بے اختیار چیخ اٹھی۔ “نہیں۔“
واسم کے دونوں ہاتھ کٹے ہوئے تھے۔ اس کے دونوں کٹے ہاتھوں پر پٹیاں بندھی تھیں۔
“تیرے ہاتھ کہاں غائب ہو گئے۔ یہ کیسے ہوا؟‘‘ وہ پریشان ہو کر بولی۔ ’’آ میرے ساتھ اندر آ“
وہ اسے اپنے بیڈ روم میں لے گئی اور ایک کرسی کی طرف اشارہ کر کے بولی۔ ’’ہاں اب۔۔بتا تیرے ہاتھ کیسے کٹے۔ میں نے تو تجھے تلوار لینے بھیجا تھا۔‘‘
“برکھا جی میں آپ کے حکم کے مطابق تلوار ہی لینے گیا تھا۔ میں ساحل عمر کے گھر میں جیسے ہی کودا اور ٹارچ کی روشنی راستہ دیکھنے کیلئے ادھر ادھر ڈالی تو وہ تلوار مجھے چمکتی ہوئی نظر آ گئی۔ وہ تلوار باہر ہی گھر کے پچھواڑے زمین میں دستے تک گڑھی ہوئی تھی۔ میں اسے دیکھ کر خوش ہو گیا کہ چلو کام آسان ہو گیا ورنہ پورے گھر میں جانے کہاں کہاں تلاش کرنا پڑتا۔ خیر میں نے جیسے ہی دونوں ہاتھوں سے اس کا دستہ پکڑ کر کھینچا وہ تلوار ٹس سے مس نہ ہوئی البتہ میرے ہاتھ دستے سے ضرور چپک گئے اور ہاتھوں میں سوئیاں سی چبھنے لگیں ۔ تکلیف اتنی بڑھی کہ میرے منہ سے باوجود ضبط کے چیخیں نکلنے لگیں۔ میری چیخیں سن کر ساحل عمر باہر نکل کر آ گیا۔ وہ مجھے اس طرح شکنجے میں جکڑے دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ میں نے اس کی بہت خوشامد کی کہ وہ کسی طرح میرے ہاتھ آزاد کر دے مگر وہ منہ موڑ کر گھر میں چلا گیا اور پھر اس نے صبح تڑ کے ہی ناصر مرزا کو بلا لیا۔ ناصر مرزا بہت غصے میں تھا۔ پہلے تو اس نے مجھے کئی ٹھوکریں ماریں۔ پھر اپنے چاقو سے میرے دونوں ہاتھ کاٹ دیے۔” یہ کہہ کر واسم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ بھوں بھوں کر کے رونے لگا۔
’’چب ہو جا۔‘‘ برکھا غصے سے چیخی۔ ’’مرد ہو کر روتا ہے. یہ بتا تو نے اسے کچھ بتایا تو نہیں۔“
“نہیں برکھا جی۔‘‘ اس نے اپنی آستین سے آنسو پونچھتے ہوۓ کہا۔ ”مجھ سے قسم لے لیں۔ میں نے آپ کے بارے میں اپنے بارے میں اور سوناں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔” اس نے سفید جھوٹ بولا۔
”یہ تو نے بہت اچھا کیا. تجھ سے یہی امید تھی. تو فکر مت کر میں ناصر مرزا سے ایسا انتقام لوں گی کہ وہ زندگی بھر یاد رکھے گا۔ اس نے تیرے ہاتھ کاٹے ہیں۔ میں اس کی آنکھیں نکال لوں گی۔‘‘ برکھا نے تسلی دی۔
’’ایک بات اور برکھا جی۔‘‘ واسم نے جھجکتے ہوۓ کہا۔
’’انہوں نے مجھ سے سوناں کو بھی فون کروایا تھا۔‘‘
“فون؟؟‘‘ برکھا اس طرح بولی جیسے کسی کا خون ہو گیا ہو۔
’’وہ لوگ سوناں کو کیا جانیں؟‘‘
”ساحل عمر نے تو سوناں کو دیکھا ہے۔” اس نے یاد دلایا۔
“واسم کیا وہ تیری موجودگی میں وہاں پہنچ گئی تھی۔‘‘ برکھا نے پوچھا۔
“مجھے انہوں نے آزاد ہی اس وقت کیا جب وہ ان کے چنگل میں پھنس گئی۔”
“اوہ اس نے ان کے سامنے سب اگل دیا ہو گا۔‘‘ برکھا ایک دم فکر مند ہو گئی ۔
“نہیں برکھا جی سوناں اتنی کچی نہیں ہے۔ وہ ہرگز انہیں کچھ نہیں بتائے گی۔‘‘ واسم نے جھوٹی تسلی دی۔
“یہ تو مجھے بساط ہی الٹتی نظر آ رہی ہے۔‘‘ وہ جیسے اپنے آپ سے بولی۔ واسم خاموش رہا۔
”سوناں اس وقت کہاں ہو گی؟‘‘ اس نے واسم سے سوال کیا۔
“کہیں انہوں نے اس کو پولیس کے حوالے نہ کر دیا ہو۔‘‘ واسم نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔
“اگر ایسا کر دیا ہو گا. تو اچھا ہے ابھی پولیس سٹیشن سے فون آ جائے گا۔ وہ آدھا گھنٹے بھی پولیس کی تحویل میں نہیں رہے گی لیکن میں جانتی ہوں وہ ایسا ہرگز نہیں کر یں گے۔ وہ پولیس میں میرے تعلقات سے اچھی طرح واقف ہیں۔ وہ اب دونوں ڈائر یکٹ ایکشن کے قائل ہو گئے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے وہ اچھی طرح جان گئے ہیں کہ پولیس بھی کسی مجرم کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ اب سوناں کے بارے میں کیسے پتہ کروں. تو اسے ان کے حوالے کر کے وہاں سے نکل آیا۔‘‘ برکھا نے تاسف بھرے انداز میں کہا۔
برکھا کی اس بات پر واسم کو اندر ہی اندر بڑا غصہ آیا کہ ایک تو اس نے اپنے دونوں ہاتھ اس کیلئے کٹوا دیئے اب وہ سوناں کو بھی وہاں چھوڑ کر نہ آتا. پھر تو وہاں سے اس کی لاش ہی آتی۔ اتنے میں کال بیل کی آواز سنائی دی۔ برکھا فورا اٹھ گئی ۔ وہ واسم کو بیٹھے رہنے کا اشارہ کر کے باہر نکل آئی۔ وہ تیزی سے چلتی ہوئی گیٹ تک پہنچی۔
گیٹ کھولا تو سامنے سوناں نظر آئی۔ اس کے چہرے پر کرب کے آثار تھے اور اس کے ہاتھ پشت پر تھے۔
“سوناں اپنے ہاتھ میرے سامنے کر‘‘ برکھا نے عجیب سے لہجے میں کہا۔
سوناں نے خاموشی سے اپنے دونوں ہاتھ اس کے سامنے کر دیئے اور بے اختیار رو پڑی۔ اس کے دونوں ہاتھ کٹے ہوۓ تھے اور دونوں کٹے ہاتھوں پر پٹیاں بندھی تھیں۔
“تیرے ہاتھ کس نے کاٹے؟‘‘ وہ ناگن کی طرح پھنکاری۔
“ناصر مرزا نے۔‘‘ سوناں روتے ہوۓ بولی۔
“ناصر مرزا میں تجھے کچا چبا جاؤں گی۔‘‘ وہ انتہائی طیش میں چیخی۔
•●•●•●•●•●•
اندھیری رات…رات کا پچھلا پہر… ٹھنڈی سنسناتی ہوا جھینگروں کا شور. پیپل کی کھڑ کھڑاہٹ گلی میں بھونکتے کتے… ان سب چیزوں نے مل کر برکھا کے بنگلے کو انتہائی بھیانک بنا دیا
برکھا اپنے بنگلے کے پچھلے حصے میں پیپل کے درخت کے نیچے پانی بھرے حوض میں کھڑی تھی۔ اس کا آدھا جسم ٹھنڈے پانی کے اندر تھا اور آدھا باہر۔۔۔ اس کے جسم پر کوئی کپڑا نہ تھا۔ وہ دونوں ہاتھ جوڑے سر جھکاۓ کسی مجسمے کی طرح ساکت کھڑی تھی۔ اس کے ہونٹ ہل رہے تھے۔
حوض کے چاروں طرف اکیس دیئے روشن تھے عمل کا وقت پورا ہو رہا تھا۔ آہستہ آہستہ سارے دیے خودبخود بجھتے جا رہے تھے۔ بس تین دیے جل رہے تھے۔ اب ان تینوں دیوں کو ایک ساتھ بجھنا تھا اور ان تینوں دیوں کے بجھتے ہی اعور کی سواری کو آنا تھا۔
اندھیری رات خوفناک ہوتی جا رہی تھی۔ جھینگروں کا شور مزید بڑھ گیا تھا۔ اڑتی ہوئی چمگادڑوں کی پھڑ پھڑاہٹ مزید بڑھ گئی تھی۔ علاقے کے کتوں نے اور زور زور سے بھونکنا شروع کر دیا تھا۔
یہ سب علامتیں بتا رہی تھیں کہ وہ شیطان کا بیٹا اعور بس اب آ یا ہی چاہتا ہے۔ پھر وہ منحوس گھڑی آ پہنچی جو برکھا کیلئے شبھ گھڑی تھی۔ تیوں دیئے بیک وقت بجھ گئے ۔ چند لمحوں کیلئے مہیب سناٹا چھا گیا۔ ہوا جیسے ساکت ہو گئی۔ پیپل کے پتوں کی کھڑ کھڑاہٹ بند ہو گئی۔ اس کی سواری آ پہنچی تھی۔ برکھا نے حوض کے کنارے رکھی ماچس سے جلدی جلدی سارے دیئے روشن کر دیئے اور جب اس نے سامنے نگاہ کی تو وہ شیطان کی اولاد اپنی سواری پر موجود تھا۔ اس کے سامنے ایک تین فٹ لمبی چھپکلی موجودتی جس کی زبان باہر نکل رہی تھی اور چھپکلی کی گردن میں ایک سانپ رسی کی طرح بندھا تھا۔ اس سانپ کی دم اعور کے دونوں ہاتھوں میں تھی۔ یہ کوئی ڈیڑھ فٹ لمبا بچھو تھا۔ اس بچھو کی دم اٹھی ہوئی تھی اور اس کی دم کا آخری حصہ چمک رہا تھا۔ بالکل کسی جگنو کی طرح
“سواگتم مہاراج۔ سواگتم مہاراج۔‘‘ برکھا ہاتھ جوڑ کر آدھی جھکی۔
” کیا ہوا؟‘‘ اعور نے پوچھا۔
’’مہاراج انکاریوں کی ستائی ہوئی ہوں۔ انہوں نے پریشان کر رکھا ہے۔‘‘ برکھا روہانسی ہو کر بولی۔
’’اتنی پاٹھ پوجا والی ہے… اتنے جنتر منتر جانتی ہے اس کے باوجود تجھ سے دو انکاری قابو میں نہیں آرہے۔”
“مہاراج وہ اکیلے نہیں ہیں۔ وہ اجالے والے ہیں۔ ان کے پیچے روشنی ہے۔“
“ان کے پیچھے روشنی ہے تو تیرے پیچھے تاریکی ہے۔ رات ہے اندھیرا ہے۔”
’’ہاں مہاراج اس لئے تو میں نے اپنی تاریک طاقتوں کو آواز دی ہے۔ مہاراج آپ کو بلایا ہے۔“
“تو نے بلایا تو ہم آ گئے ہیں۔ ہم سے جو ہو گا کر یں گے۔ میں اپنے باپ سے مدد لوں گا۔ آخر کوتو اس کی چیلی ہے۔ تو نے جانے کتنے انکار یوں کو اقراری بنایا ہے۔ شیطان پرست بنایا ہے۔ تیری بڑی خدمات ہیں۔‘‘ اعور نے اسے تعریفی نظروں سے کہا۔
“بس مہاراج یہ سب آپ کی نظر عنایت ہے۔‘‘ وہ ممنون دکھائی دی۔
“ہماری جو منظور نظر تھی اسے تو وہ اس بستی سے نکال لایا۔ کیا تو جانتی ہے؟‘‘
“ہاں جانتی ہوں مہاراج. اس نے اس سے شادی کر لی ہے۔ وہ اب میرے کام کا نہیں رہا۔
“تو وہ کون سی میرے کام کی رہی ہے؟‘ اعور نے غصے سے کہا۔
’’تو جانتی ہوگی؟‘‘
“ہاں مہاراج میں جانتی ہوں اب مسئلہ یہ ہے کہ میں اس کی ہتھیا کرنا چاہتی ہوں۔ میں نے اس پر کئی حملے کئے ہیں لیکن اس پر کوئی حملہ کارگر نہیں ہو پا رہا ہے۔ سونے پر سہا گہ یہ کہ اس نے میرے پیرو کاروں کے ہاتھ کاٹ دیے ہیں اس بات پر مجھے شدید غصہ ہے۔” برکھا غصے سے کانپتی ہوئی بولی۔
“تو نہیں جانتی کہ اس نے میرے باپ کے ایک عظیم پیروکار کو جو صدیوں بعد جاگنے والا تھا کو صفحہ ہستی سے مٹادیا ہے۔ میرے باپ کو اس بات پر کتنا غصہ ہو گا۔”
“میں نہیں جانتی۔‘‘ برکھا ایک دم چونک کر بولی۔ ”وہ کون تھا؟‘‘
“وہ اپنے وقت کا بہت بڑا جادوگر تھا۔ میرے باپ کا دست و بازو تھا مگر وہ نہ رہا. اب اس کی کھوپڑی جاۓ عبرت بنی اس بستی کے چوک میں لٹکی ہے۔ اس کا نام راعین تھا۔‘‘ اعور نے بتایا۔
“اوہ.مہاراج آپ نے بڑی زبردست بات بتائی…میرا کام بن گیا۔ مہاراج مجھے اس عظیم جادوگر کی کھوپڑی بھجوا دیں. پھر میں ان سارے انکار یوں کو دیکھ لوں گی۔ ایک ایک کر کے سب کے حساب چکا دوں گی۔“
“راعین کی کھوپڑی تجھے مل جائے گی۔ یہ کوئی مسئلہ نہیں اور بول۔‘‘
”بس مہاراج آپ نے میرا جی خوش کر دیا۔ آپ میرے لئے حکم کر یں۔”
“تو اپنی بیٹی کا حال بتا. اسے بھی کچھ سکھا رہی ہے یا اسے ناواقف ہی رکھے گی۔”
“مہاراج وہ بڑے اڑیل مزاج کی ہے۔ اچھی خاضی چلتے چلتے رک جاتی ہے کافی کچھ سکھا دیا ہے لیکن وہ اس پر عمل نہیں کرتی۔ اسے مار مار کر چلانا پڑتا ہے۔” برکھا نے خفگی سے کہا۔
“اس کی خبر رکھ. کہیں وہ انکاریوں میں سے نہ ہو جاۓ ۔ تو جانتی ہے کہ بالآخر اس نے
تیری جگہ آنا ہے۔‘‘
“ہاں مہاراج جانتی ہوں۔ میری کوشش یہی ہے کہ اسے وہ سب کچھ سکھا دوں جو میں جانتی ہوں۔ اب آ گے دیواہ کالی جو کرے۔”
“ٹھیک ہے. اچھا اب میں چلتا ہوں۔ راعین کی کھوپڑی تجھے کل مل جائے گی۔ اب تو دیے بجھا جلدی کر۔‘‘ اعور بولا۔
“اچھا مہاراج. آپ کی بڑی مہربانی آپ آ گئے۔” یہ کہہ کر اس نے دیئے کی لو پر ہاتھ رکھ کر تمام دیوں کو بجھا دیا۔ جب اس نے سامنے نظر کی جہاں اعور کی سواری تھی وہاں اب کچھ نہ تھا۔ اندھیرا تھا اور مہیب سناٹا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: