Anwar Aleegi Urdu Novels

Bichoo Novel By Anwar Aligi – Episode 3

Bichoo Novel By Anwar Aligi
Written by Peerzada M Mohin
بچھو از انوار علیگی – قسط نمبر 3

–**–**–

ایک خوف سا اس پر طاری ہو گیا۔ اس تصویر نے ایک لمحے میں ہزاروں منظر اس کی آنکھوں کے سامنے سے گزار دیے۔ اسے اپنا بچپن یاد آ گیا۔ اپنے سینکڑوں خواب اس کی نگاہوں میں گھوم گئے ۔ اسے وہ چیتے نما بلی یاد آ گئی جو اسے دیکھتے ہی اس کے پیروں سے لپٹنے لگتی تھی۔ وہ بلی آج بھی اسے خوابوں میں جست لگاتی دکھائی دے جاتی تھی لیکن اب اس کا سائز بدل چکا تھا۔ اب وہ ایک مکمل چیتا بن چکی تھی اور یہ چیتا اکثر اسے خواب میں دکھائی دیتا تھا۔ بہت تیز دوڑتا ہوا جیسے کسی کا تعاقب کر رہا ہو۔
وہ شخص جس چیز کی تصویر بنوانے آیا تھا وہی تھا۔ جنگل میں ایک چیتا کھڑا ہوا تھا اس چیتے کی نظریں تصویر اتارنے والے کی طرف تھیں۔ یہ ایک دس بارہ سائز کی تصویر تھی ۔ جس فوٹو گرافر نے بھی اتاری تھی خوب اتاری تھی۔
ساحل عمر نے جیسے ہی چیتے کی آنکھوں میں دیکھا ’’میاؤں میاؤں‘‘ کی آوازیں آنے لگیں۔ یہ آوازیں چند لمحوں کو سنائی دیں۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس نے اپنی پہچان کرائی ہو۔ وہ تو اسے دیکھتے ہی پہچان گیا تھا۔
“جی ساحل عمر صاحب؟‘‘ اس شخص نے بڑے مودبانہ انداز میں اسے متوجہ کیا۔
“جی جناب ۔‘‘ ساحل عمر نے تصویر سے نظریں ہٹا کر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ “فرمایئے۔“
’’اس تصویر کو آپ کتنے دن میں بنا لیں گے؟‘‘ اس نے بڑے اطمینان سے پوچھا۔
“آپ کا نام کیا ہے؟‘‘ ساحل عمر نے اسے غور سے دیکھا وہ بھی اسے گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں کوئی ایسی بات تھی کہ ساحل عمر زیادہ دیر اس سے نظر میں نہ ملا سکا۔
’’میرا نام بازغر ہے ۔‘‘ اس نے سنجیدگی سے جواب دیا۔
“بازغر… کیا انوکھا نام ہے؟‘‘ ساحل عمر نے کہا۔
اس کی آنکھوں میں ایک چمک سی آ گئی تھی ۔
”بالکل آپ کی بنائی ہوئی تصویروں کی طرح۔” بازغر مسکرایا۔
“کیا آپ نے میری کوئی تصویر دیکھی ہے؟‘‘ ساحل عمر نے پوچھا۔
“ساحل صاحب میں نے آپ سے پوچھا تھا کہ آپ یہ تصویر کتنے دن میں بنالیں گے۔” اس نے ساحل کا سوال سنا ان سنا کر دیا۔
“بازغر صاحب آپ نے یہ بات کیسے طے کر لی کہ میں اس تصویر کو بنانے سے انکارنہیں۔کروں گا۔‘‘ ساحل عمر نے پوچھا ’’ میں کمرشل آرٹسٹ ہوں نہ پیشہ ور پینٹر. کیا آپ یہ بات جانتے ہیں؟”
“میں سب جانتا ہوں بازغر نے بڑی بے نیازی سے کہا۔ ’’میں یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ اس تصویر کو پینٹ کرنے سے انکار نہیں کریں گے ۔“
”کیوں آخر. ایسی کیا خاص بات ہے اس میں۔۔”
“یہ کیا ہے اس میں کیا انوکھی بات ہے یہ تو آپ خود بھی جان گئے ہوں گے۔ اگر آپ اس تصویر کو پینٹ کرنے سے انکار کر سکتے ہیں تو کر کے دکھایئے۔‘‘ اس نے چیلینج کیا۔
یہ ایک انتہائی اشتعال انگیز بات تھی لیکن اس نے یہ بات اتنے دھیمے لہجے میں اتنے مہذبانہ انداز میں کی کہ اس کے لہجے پر غصہ نہیں کیا جا سکتا تھا۔
ساحل عمر ایک انتہائی نازک مزاج آرٹسٹ تھا۔ ایسی بات کسی اور نے کی ہوتی تو وہ اب تک اس تصویر کے چار ٹکڑے کر کے اس کے ہاتھ میں تھما چکا ہوتا۔ اس کے اس چیلنج پر ساحل عمر نے چاہا کہ وہ انکار کر دے لیکن وہ ایسا نہ کر سکا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اس نے تصویر کو دیکھتے ہی یہ طے کر لیا تھا کہ وہ اسے ضرور پینٹ کرے گا اور یہ اس نے کیوں طے کر لیا تھا اس کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتا تھا۔
“میں انکار نہیں کر سکتا۔ میں انکار کیوں کروں؟ مجھے اس کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ میں جن تصویروں کو بنانا پسند کرتا ہوں یہ ان میں سے ایک ہے‘‘ ساحل عمر نے بڑی سادگی سے کہا۔
“شکر یہ ساحل عمر۔ آپ بہت عظیم آرٹسٹ ہیں۔ میں اپنے گستاخ جملے کی معافی چاہتا۔ ہوں۔” بازغر نے بڑے معذرت بھرے لہجے میں کہا۔
“کوئی بات نہیں مسٹر بازغر ۔‘‘ ساحل عمر نے مسکراتے ہوۓ کہا ’’ویسے میں آپ کے چیلینج کی وجہ اب تک نہیں سمجھ سکا۔‘‘
“ساحل عمر صاحب یہ ایک عجیب وغریب چیتا ہے۔‘‘ بازغر نے اس کا سوال پھر نظر انداز کر دیا۔’’ بڑی خوبیوں کا مالک ہے۔ اس کا نام تہکال ہے”
“تہکال.! بڑا پراسرار نام ہے‘‘ ساحل عمر نے حیران ہو کر کہا۔
بازغر نے جواب میں کچھ نہ کہا وہ چند لمحے خاموش رہا۔ اس کی نظریں ڈرائنگ روم کے دروازے پر جمی ہوئی تھیں۔ پھر اس کے ہونٹوں پر دلفریب مسکراہٹ پھیلی۔ اس نے ساحل عمر کی طرف اپنا چہرہ گھمایا اور بولا’’ کیا میں آپ کا اسٹوڈیو دیکھ سکتا ہوں۔“
فورا ہی ساحل عمر کی زبان پر لفظ ’’نہیں‘‘ آیا۔
اس کے اسٹوڈیو میں آج تک کوئی اجنبی آدمی داخل نہیں ہوا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ بازغر اس کے اسٹوڈیو میں داخل ہولیکن وہ لفظ ’نہیں‘‘ کو زبان سے ادا نہیں کر پایا۔ اس نے بڑی خوش دلی سے کہا۔
’’جناب! مجھے بہت خوشی ہوگی آپ کو اپنا اسٹوڈیو دکھا کر۔‘‘
اسے اپنے اس جملے پر اپنے اس لہجے پر بڑی حیرت ہوئی کیونکہ یہ انداز ساحل کے لئے بالکل اجنبی تھا۔
وہ بازغر کو اپنے ساتھ لے کر اٹھا۔ اس کا اسٹوڈ یو لاک تھا۔ اس نے اپنا کمرہ کھولا ۔ اندر جا کر لائٹ جلائی اور بازغر کو اندر آنے کا اشارہ کیا۔’’آ یئے ۔‘‘
“شکر یہ ساحل عمر آپ بڑے مہربان شخص ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ آپ نے آج تک کسی اجنبی شخص کی اتنی پذیرائی نہ کی ہو گی۔” بازغر اسٹول پر بیٹھ گیا اور اس نے اپنا چرمی بیگ گود میں رکھ لیا
چیتے کی تصویر والا لفافہ ساحل عمر کے ہاتھ میں تھا۔ اس نے وہ لفافہ ایک رسالے کے میں رکھ لیا۔
درمیان رکھ دیا۔ پھر بازغر سے مخاطب ہوا۔’’مسٹر بازغر یہ تصویر آپ کو کب چاہے اور اس کا سائز کیا ہونا چاہیے؟”
” یہ دونوں باتیں میں نے آپ پر چھوڑ دیں۔ خود فیصلہ کیجئے ۔‘‘ بازغر نے مسکراتے ہوۓ کہا۔ ’’آپ جب چاہیں بنا دیں۔‘‘
میں اس تصویر کو کافی بڑے سائز میں بناؤں گا۔ ہو سکتا ہے لائف سائز میں بناؤں۔
تقریبا ایک ماہ لگے گا۔ جلدی بھی بنا سکتا ہوں لیکن میں اس تصویر کو پورے سکون سے بنانا چاہتا ہوں۔‘‘ ساحل عمر نے بتایا۔
“ٹھیک ہے جب تصویر بن جاۓ تو مجھے فون پر اطلاع کر دیجئے گا میں آ کر لے جاؤں گا۔ میرا فون نمبر لکھ لیجئے۔“ بازغر نے جونمبر بولا وہ سائل عمر نے ایک پنسل سے رسالے پر نوٹ کر لیا۔
“یہ آپ کا کوئی نیا شاہکار ہے؟‘‘ بازغر نے بورڈ لگی تصویر کو دیکھتے ہوئے کہا جو ایک اخباری کاغذ سے ڈھکی ہوئی تھی۔
“جی میری بالکل نئی تصویر ہے میں نے اسے کل ہی مکمل کیا ہے؟‘‘ ساحل عمر نے بتایا۔
“اوہ کیا میں اسے دیکھ سکتا ہوں۔‘‘ بازغر نے بڑے مودبانہ انداز میں پوچھا۔
’’جی ضرور ۔‘‘ یہ کہہ کر ساحل عمر بورڈ کے نزد یک آیا اور ایک جھٹکے کے ساتھ اس پر لگا کاغذ الگ کر دیا۔
بازغر اس تصویر کو دیکھتے ہی چونک اٹھا ایک دم اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ وہ غصے سے بولا۔
’’تو یہاں تک پہنچ گیا۔ تیری یہ جرات ہو گئی کہ تو رشاملوک کی پیشانی کا ٹیکہ بن گیا۔ ٹھہر میں ابھی تجھے بتا تا ہوں۔”
ساحل عمر ابھی سمجھ بھی نہ پایا تھا کہ بازغر کو تصویر دیکھ کر اچانک کیا ہو گیا ہے کہ ایک دم اس کی نظروں کے سامنے منظر بدلا۔ بازغر جو چند لمحوں پہلے بڑے سکون سے بیٹھا اس سے باتیں کر رہا تھا۔ یکلخت اسٹول سے اٹھ کر تصویر کی طرف جھپٹا۔ اس نے اپنا ہاتھ بڑھا کر اس بچھو کو اپنے ہاتھ میں پکڑنا چاہا۔ “ارے یہ کیا کر رہے ہیں آپ یہ اصلی بچھو نہیں ہے۔‘‘
ساحل عمر نے اس کی غلط فہمی دور کرنا چاہی لیکن ہوا یہ کہ بجاۓ بازغر کی غلط فہمی دور ہونے کے خود اس کی غلط فہی دور ہو گئی۔
اس کی نگاہوں نے ایک ناقابل یقین منظر دیکھا۔ بازغر کے جھپٹتے ہی وہ بچھو بڑی تیزی سے پلٹ کر بھاگا اور بورڈ کے پیچھے جا کر کہیں گم ہو گیا۔ تصویر کی پیشانی پر اب محض اس کا نشان باقی رہ گیا تھا۔ جیسے کسی نے اس بچھو کو بڑی صفائی سے نوچ کر پھینک دیا ہو۔
اسے فورا نثار فاروقی کا خیال آیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اور ان کی بیٹی نے جو دیکھا وہ ٹھیک تھا۔ اس نے خواہ مخواہ انہیں جھوٹا سمجھا اور ان کے بارے میں الٹی سیدھی رائے قائم کر لی۔
بازغر بچھو کے بورڈ کے پیچھے جاتے ہی خود بھی بورڈ کے پیچھے پہنچ گیا وہ بڑی تیزی سے بچھو کو تلاش کر رہا تھا لیکن اب بچھو کا کہیں پتہ نہ تھا۔ ساحل عمر نے اس بچھو کو پلٹ کر تصور کے پیچھے جاتے دیکھا تھا۔ اسے بورڈ کے پیچھے ہونا چاہیے تھا لیکن وہ وہاں نہ تھا۔ دونوں نے مل کر پورا کمرہ چھان مارا اور وہ کہیں نہیں تھا۔
بازغر کی حالت دیکھنے والی تھی۔ اس کی آنکھوں سے غصہ جھلک رہا تھا۔ وہ بار بار اپنی مٹھیاں بھینچ رہا تھا۔ ساتھ ہی کچھ بڑ بڑا بھی رہا تھا۔ وہ کچھ ایسے جملے بول رہا تھا۔ ساحل عمر جن کا مفہوم سمجھنے سے قاصر تھا۔ بازغر جو بڑے شوق سے اس کا اسٹوڈیو دیکھنے آیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد زیادہ دیر نہیں رکا۔ وہ اپنا چرمی بیگ اٹھا کر بڑی تیزی سے گھر سے نکل گیا۔ ساحل عمر اسے چھوڑ نے گر کے گیٹ تک آیا لیکن جب تک ساحل عمر گیٹ تک پہنچا وہ گیٹ سے باہر جا چکا تھا۔ ساحل عمر گیٹ بند کر کے واپس اپنے اسٹوڈیو میں آ یا اور تصویر دیکھ کر پھر سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ وہ بچھو اس دلہن کی پیشانی پر ٹیکہ بنا جوں کا توں موجود تھا۔ بالکل تصویر کی طرح۔ سائل عمر نے ڈرتے ڈرتے اسے چھو کر دیکھا۔ اس میں کوئی جنبش نہ ہوئی لیکن ابھی کچھ دیر پہلے سائل عمر نے جو کچھ دیکھا تھا وہ کیا تھا؟ اس بچھو کو دیکھتے ہی بازغر کیوں غضبناک ہو کر اس پر جھپٹا تھا۔ اس نے ایک عجیب سا نام لیا جو اس وقت اس کے ذہن سے اتر گیا تھا۔ یہ لڑ کی تو ایک طرح سے اس کی تخلیق ہے۔ کسی کی آنکھیں کسی کی ناک اور کسی کے ہونٹ۔ یہ تو کوئی لڑ کی نہیں۔ جب یہ کوئی لڑکی نہیں تو پھر اس کا کوئی نام کیسے ہوسکتا ہے۔
اور اس نے یہ مصیبت کیا پال لی ہے۔ اس بچھو میں اچانک جان کیسے پڑ جاتی ہے۔ کہاں غائب ہو جا تا ہے اور پھر اپنی جگہ واپس کیوں آ جاتا ہے۔ بازغر کی اس سے کیا دشمنی ہے یہ بچھو ۔ کیا چیز ہے ساحل عمر جوں جوں سوچتا جا رہا تھا الجھتا جا رہا تھا۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ کوئی نادیدہ قوت اسے اپنی گرفت میں لینے کے لئے کوشاں ہے۔ ایک عجیب پر اسرار سا چکر شروع ہو گیا تھا۔
“کیا ہوا بیٹا. خیر تو ہے؟‘‘ اماں اسے اسٹوڈیو میں پریشان حال بیٹھا دیکھ کر دروازے پر آ کر کھڑی ہو گئیں
“کچھ نہیں اماں۔‘‘
کون تھا یہ؟‘‘
“وہ اماں ایک تصویر بنوانے آیا تھا۔‘‘
“کس کی تصویر؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔
ساحل عمر نے رسالے سے لفافہ نکال کر ان کی طرف بڑھا دیا۔ اماں نے لفافہ کھول کر تصوير باہر نکالی اور اسے دیکھتے ہی چونک گئیں۔ “ہیں یہ تو وہی بلی ہے جو بچپن میں تم پر عاشق ہوگئی تھی۔”
“اماں چشمہ لگا کر دیکھیں۔ یہ بلی نہیں چیتا ہے. چیتا۔” ساحل عمر نے ہنس کر کہا۔
“اتنی اندھی نہیں ہوں نظر آ رہا ہے مجھے یہ چیتا ہے۔ اسے اگر چھوٹا کر دو گے تو یہ وہی بلی بن جاۓ گا۔‘‘ اماں نے بڑے یقین سے کہا۔
“ہاں اماں تم نے سہی پہچانا۔ میں نے بھی اسے ایک نظر دیکھتے ہی پہچان لیا تھا۔‘‘ ساحل عمر نے کہا۔
اب اس بات میں کوئی شبہ نہ رہا تھا کہ یہ چیتا اس بلی کا ’’انلارجمنٹ‘‘ تھا۔ اس چیتے کو ساحل عمر جانے کتنی مرتبہ خواب میں چھلانگیں مارتا دیکھ چکا تھا۔ اس چیتے کی تصویر میں بڑی دلکشی تھی ۔ کوئی ایسی بات تھی کہ آدمی دوبارہ اسے نظر بھر کر دیکھنا چاہتا تھا اور پھر دیکھتے رہنا چاہتا تھا۔ ساحل عمر سوچ رہا تھا کہ اس چیتے کو وہ کس طرح بنائے۔ اس کے پس منظر میں جنگل تھا۔ کیا وہ جنگل کو اس طرح رہنے دے یا پیچے سے جنگل ہٹا کر چیتے کو کسی پہاڑی پر کھڑا کر دے اور پیچے بہت دور برف پوش پہاڑ دکھا دے لیکن پھر اسے خیال آیا کہ اسے اس تصور کا پس منظر بدلنے کا کیا حق ہے۔ بازغر اسے جو تصویر دے گیا ہے اسے وہی بنانا ہو گی یا پھر اس سے اجازت لینا ہو گی۔ بہت غور و خوض کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ تصویر کو جیسی ہے ویسا ہی بنا دینا چاہیے۔ البتہ سائز اتنا بڑا رکھا جاۓ کے اسے جو دیکھے وہ اسے جیتا جاگتا محسوس کرے۔
کھانا کھا کر اس کا جی چاہا کہ وہ گھر سے باہر نکلے۔ یوں تو وہ چہل قدمی کا باقاعدہ عادی نہ تھا لیکن کبھی بھی اس کا دل چاہتا کہ وہ کچھ دور ٹہل آئے اماں کو بتا کر وہ باہر نکلا اور چورنگی کی طرف چل دیا۔ چورنگی اس کے گھر سے خاصے فاصلے پر تھی ۔ اتنے فاصلے پر کہ بندے کی ٹھیک ٹھاک واک ہو جاۓ۔ چورنگی پر پان بھی اچھا ملتا تھا وہ چورنگی کی طرف جاتا تو پان ضرور کھا تا تھا۔ ایک پان اماں کے لئے بندھوا لاتا۔ اماں پان کھانے کی عادی نہ تھیں لیکن ساحل عمر کا لایا ہوا پان ضرور کھا لیا کرتی تھیں۔ یہ تو خیر پان تھا اگر ساحل عمر انہیں زہر بھی کھانے کو دیتا تو وہ خوشی سے کھالیتیں۔ ساحل عمر نے گھر سے نکلتے ہوۓ گھڑی پر نظر ڈالی۔ اس خاص وقت میں ابھی خاصا وقت تھا وہ آرام سے چہل قدمی کر کے واپس آ سکتا تھا اس لڑکی کا خیال آتے ہی وہ اس کے بارے میں سوچنے لگا۔ پتہ نہیں کون ہے یہ لڑکی ۔ جو کسی گرہ کی طرح بڑی مشکل سے کھلی تھی۔ ایک طویل عرصے کے بعد اس نے لب کھولے بلکہ بقول اس کے زبان کھولی تھی۔
اس نے اس کی سالگرہ کا دن کیسے معلوم کر لیا۔ یہ بڑی حیرت کی بات تھی۔ وہ جو کوئی بھی تھی بہر حال اچھی باتیں کرتی تھی ساحل عمرکے دل میں خواہش ابھری کہ وہ اس کے سامنے آۓ۔
وہ تو خیر اس کے سامنے نہ آئی لیکن بازغر اسکے سامنے ضرور آ گیا وہ سڑک پر لگے ایک بڑے سے درخت کے موٹے سے تنے کے پیچھے سے اچانک اس کے سامنے آ گیا تھا۔ اس طرح اچانک اسے اپنے سامنے دیکھ کر ساحل عمر ایک لمحے کو خوفزدہ ہو گیا ۔
’’ آپ مسٹر بازغر ۔‘‘ ساحل عمر نے خوفزدہ لہجے میں کہا۔
”ساحل صاحب پر یشان نہ ہوں میں کافی دیر سے آپ کا انتظار کر رہا تھا۔‘‘
“میرا انتظار؟‘‘ ساحل عمر حیران ہوا۔
’’جی آپ کا‘‘ اس نے بڑے اطمینان سے کہا۔
“آپ میرے گھر آ جاتے۔ آپ اس وقت بھی یوی عجلت میں گھر سے نکل آئے تھے۔ میں پیچھے پیچھے گیٹ تک آیا تھا۔‘‘ اس نے بتایا۔
“ساحل صاحب…. میں اس تصویر کو خریدنا چاہتا ہوں۔‘‘ بازغر نے اچانک موضوع بدل – دیا۔
وہ کچھ اس طرح کی گفتگو کرنے کا عادی تھا کہ کسی کے سوال کا جواب دینے کے بجاۓ بڑی خوبصورتی سے گول کر جاتا تھا۔ اس وقت بھی اس نے یہی کیا۔ گھر آنے کے بارے میں کوئی جواب دینے کے بجاۓ اس نے ایک نیا ہی مسئلہ کھڑا کر دیا۔
’’ کون سی تصویر؟‘‘ ساحل عمر نے ایسے ہی سوال کیا۔ ’’اعور اور رشاملوک کی تصویر ۔‘‘ بازغر نے الجھی ہوئی بات کی ۔
’’اس طرح کی تو کوئی تصویر میرے پاس نہیں ہے۔” ساحل عمر کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔
’’بچھو اور لڑ کی کی تصویر۔‘‘ بازغر نے آسان زبان میں بات کی۔
“اچھا وہ پینٹنگ۔‘‘ ساحل عمر نے تفہیمی لیجے میں کہا۔
“جو معاوضہ کہو گے ادا کروں گا مگر تمہیں وہ تصویر میری بتائی ہوئی جگہ پر پہنچانا ہو گی؟‘‘
’’ایک کروڑ دے سکو گے۔‘‘ ساحل عمر نے ایسے ہی مذاق میں کہا۔
’’ایک کروڑ کم ہیں کچھ اور آگے بڑھو۔‘‘ بازغر نے بڑے ٹھہرے ہوۓ لہجے میں کہا۔
“ہیں کیا واقعی آپ سنجیدہ ہیں۔‘‘ ساحل عمر کی حیرت قابل دید تھی۔
“یہ بات کرنے کے لیے میں ایک گھنٹے سے یہاں کھڑا ہوں۔” بازغر بولا۔
’’اس تصویر میں ایسی کیا بات ہے جو آپ اس پر اتنی رقم خرچ کر دینا چاہتے ہیں۔”
“وہ اعور کا بچہ ہماری رشاملوک کی مانگ کا ٹیکہ بن جانا چاہتا ہے۔‘‘ پھر وہی الجھی ہوئی گفتگو
“معاف کیجئے گا۔ میں آپ کی بات بالکل نہیں سمجھا ۔‘‘
“سمجھنے کی ضرورت بھی نہیں۔‘‘ اس نے ملائم لہجے میں کہا۔
“لیکن میں سمجھنا چاہتا ہوں آپ نے اس پینٹنگ کی اس قدر قیمت لگائی ہے تو اس کے پیچھے کوئی خاص وجہ ضرور ہو گی۔”
“وجہ میں نے بتا دی۔‘‘
“جو میری سمجھ میں نہیں آئی۔‘‘
“میں یہاں کچھ اور سوچ کر آیا تھا لیکن ہو کچھ اور گیا۔‘‘ بازغر نے ایک مرتبہ پھر خوبصورتی سے موضوع بدل دیا۔
“مسٹر بازغر آپ کوئی معمہ وغیرہ تو نہیں نکالتے‘‘ بالا خر ساحل عمر کو کہنا پڑا۔
”کیا مطلب؟‘‘ وہ حیران ہوا۔
“جو بات کرتے ہیں وہ کسی معمے سے کم نہیں ہوتی ۔‘‘ ساحل عمر ہنسا۔
“ساحل عمر صاحب میں پینٹنگ کے بارے میں آپ کا جواب سننا چاہتا ہوں۔‘‘ وہ سنجیدہ تھا
“اس پینٹنگ کے بارے میں میں مصمم ارادہ کر چکا ہوں کہ کسی کو فروخت نہیں کروں گا۔ چاہے کوئی مجھے اس کا معاوضہ ایک کروڑ سے زیادہی کیوں نہ دے۔” ساحل عمر نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔
“آپ نہیں جانتے کہ آپ کس مصیبت میں گرفتار ہونے والے ہیں۔” بازغر نے ڈرایا۔
“مجھے خوفزدہ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ میں اپنے فیصلے اتنی آسانی سے نہیں بدلا کرتا“
“میں آپ کو کیسے سمجھاؤں۔” بازغر نے ہاتھ ملتے ہوۓ کہا۔ ’’ آپ نے انکار کر کے اچھا نہیں کیا۔ آپ نہیں جانتے کہ طاغوتی قوتیں آ پکے گرد کیسا جال بن رہی ہیں۔ اچھا میں چلتا ہوں۔ جب آپ تہکال کی پینٹنگ بنا لیں تو مجھے فون کر دیجئے گا۔ میں آ کر لے جاؤں گا اور منہ مانگا معاوضہ دے جاؤں گا۔ سب کا آ قا آ پکو خوش رکھے۔” یہ کہہ کر وہ درخت کی طرف بڑھ گیا۔
اس نے ساحل عمر کے جواب کا انتظار بھی نہیں کیا۔ ساحل عمر اپنے رستے پر چل دیا۔ تھوڑا آگے جا کر جب اس نے درخت کی طرف دیکھا تو اسے بازغر نظر نہیں آیا۔ اتنی جلدی وہ کہاں گم ہو گیا۔ اس نے رک کر ادھر ادھر نظر دوڑائی تو وہ اسے سامنے چوڑی سڑک پر کافی فاصلے پر تیز تیز قدموں سے جاتا نظر آیا۔ اسے حیرت ہوئی کہ اس نے اتنا فاصلہ چند سیکنڈوں میں کیسے طے کر لیا۔ ساحل عمر پان کھا کر اور ایک پان لے کر گھر واپس آیا تو خاصا الجھا ہوا تھا۔
بازغر اسے اچھا خاصا پریشان کر گیا تھا۔ بچھو کی طرف اس کا جھپٹنا اور بچھو کا ایک دم تصویر کے پیچھے چلے جانا اور اس کے جانے کے بعد پھر اپنی جگہ پر واپس آ جانا اور بازغر کا گھر سے باہر اس کا انتظار کرنا۔ اس تصویر میں اس کی غیر معمولی دلچسپی اور غیر معمولی معادضے کی پیشکش۔ یہ ساری باتیں اس کی الجھن میں اضافہ کر رہی تھیں ۔
وہ اپنے اسٹوڈیو میں ایک اسٹول پر آ کر بیٹھ گیا۔ ٹیلیفون اٹھا کر اس نے اپنی گود میں لیا اور مسعود آفاقی کا نمبر ملانے لگا۔
دوسری کھنٹی پر ٹیلیفون اٹھالیا گیا ادھر سے مسعود کی آواز سنائی دی۔’’ہیلو ‘‘
“یار مسعود وہ نثار فاروقی ٹھیک کہہ رہے تھے۔‘‘ ساحل عمر نے بات شروع کی ۔
“میں سمجھا نہیں۔‘‘ مسعود نے کہا۔
جواب میں ساحل عمر نے بازغر کی آمد سے لیکر اس کے جانے تک ساری روداد سنادی۔
”تم نے خواہ مخواہ ان پر شک کیا۔” مسعود نے ساری داستان سن کر کہا۔
’’وہ بات ہی انہوں نے کچھ ایسی کی کہ اس پر یقین آنا مشکل تھا ہاں اگر میں خود اپنی آنکھ سے بچھو کو پیچے جاتے ہوۓ نہ دیکھ لیتا تو اب بھی یقین نہ کرتا۔‘‘ اس نے وضاحت کی۔
“اب تو یقین آ گیا کہ نثار فاروقی نے جو کچھ بتایا سچ بتایا تھا۔‘‘ مسعود نے کہا
’’شہزادے تم نے اس تصور کو بیچ کیوں نہیں دیا۔ اتنے اچھے پیسے اب کون دے گا ‘‘
“مجھے یہ تصویر اب فروخت نہیں کرنی۔‘‘ ساحل عمر نے دوٹوک انداز میں کہا۔
“یار اس تصویر کا گھر میں رکھنا ٹھیک نہیں۔ کہیں تمہیں کوئی نقصان نہ پہنچ جاۓ۔” مسعود آفاقی نے اندیشہ ظاہر کیا۔
“یہ بات میں اچھی طرح سمجھ گیا ہوں کہ اس تصویر میں کوئی اسرار ضرور ہے۔ انجانے میں مجھ سے کوئی انوکھا کام ہو گیا ہے لیکن میں ڈرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ میں بچپن سے ہی اس طرح کی باتوں کا عادی ہوں۔ وہ چیتے کی شکل والی بلی پورا چیتا بن کر پہلے خوابوں میں نظر آئی تھی اب بازغر اس کی تصویر بنانے کو دے گیا ہے۔ یار اس تصویر میں بڑی کشش ہے۔ میں اسے ضرور بناؤں گا۔” ساحل عمر نے اپنا خیال ظاہر کیا۔
“بچپن والی بلی بڑی ہو کر چیتا بن کر تمہارے پاس پہنچ گئی۔ خوابوں والی کو تم نے خود ہی پینٹ کر لیا۔ اب وہ لمبی زبان والی رہ گئی ہے۔ میرا خیال ہے کہ وہ کہیں راستے میں ہی ہو گی۔ پہنچنا ہی چاہتی ہے۔‘‘ مسعود آفاقی نے اسے یاد دلایا۔
“یار معاف کر دو کس کا تذکرہ چھیڑ دیا۔ اس کا خیال آ تے ہی جسم کا رونگٹا کھڑا ہو جاتا ہے۔‘‘ ساحل ایک جھر جھری لے کر بولا۔
” کیا تم نے ناصر مرزا سے بات کی۔‘‘ مسعود نے پوچھا۔
“نہیں”
’’یار ناصر سے بات کر لو وہ ان معاملات کو خوب اچھی طرح سمجھتا ہے۔‘‘
“اب فون پر کیا بات کروں اس کے گھر تو جانا ہی ہے وہیں اطمینان سے بات کریں گے”
“چلوٹھیک ہے بہر حال اپنا خیال رکھو اماں سے کہنا کہ وہ تم پر پڑھ کر پھونک دیں۔”
“وہ پہلے ہی مجھ پر کیا کم جھاڑ پھونک رکھتی ہیں۔ اگر میں نے ان کو کچھ بتا دیا تو وہ ہر وقت پھونکیں مارتی میرے پیچھے گھومیں گی۔‘‘
“یار اماں تم سے بہت محبت کرتی ہیں۔ مجھے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ان کی جان تمہارے اندر ہے۔”
“اس میں کوئی شبہ نہیں۔‘‘ ساصل عمر نے تائید کی۔’’آج کل وہ میری شادی کے چکر میں روز پیچھے پڑی رہتی ہیں۔‘‘
“تو بھائی کر کیوں نہیں لیتے شادی۔‘‘ مسعود نے ہنس کر کہا۔
“میری بیوی ان کے لئے ملک الموت ثابت ہو گی۔‘‘ ساحل عمر نے اندیشہ ظاہر کیا۔
’’تمہارا مطلب ہے وہ انہیں پریشان کرے گی۔”
“اونہیں یار بڑی بی میری شادی کے انتظار میں ہیں۔ میری شادتی ہوتے ہی یہ چل بسیں گی۔” ساحل عمر نے سنجیدگی سے کہا۔
“یہ محض تمہارا خیال ہے میں سمجھتا ہوں کہ تمہاری شادی ہونے کے بعد وہ بچے کا انتظار شروع کر دیں گی۔‘‘ مسعود آفاقی نے ہنس کر کہا۔
’’ویسے یارتم شادی کر تے کیوں نہیں ہو۔”
“لڑکی کہاں ہے؟‘‘
“تمہارے لئے لڑکیوں کی کیا کمی ہے۔ کہو تو کوئی ماڈل گرل تمہاری طرف بھیج دوں؟‘‘
“شادی کے لیے مجھے انوکھی لڑکی چاہیے ۔‘‘
“مثلاً جس کی آٹھ آ نکھیں ہوں آٹھ پاؤں ہوں آ ٹھ سر ہوں آ ٹھ گز کی زبان ہو۔”
“اب تم بہکنے لگے اچھا اللہ حافظ۔” ساحل عمر نے اس کا جواب سنے بغیر ہی ٹیلی فون بند کر دیا
ٹیلی فون بند کر کے اس نے اپنی گود سے اٹھا کر نیچے رکھا تو اچانک ہی اس کی آنکھوں کے سامنے اس لمبی زبان والی کی شبیہہ اس کے سامنے لہرا گئی۔
بچپن سے لڑکپن میں قدم رکھا تو ایک نئی مصیبت کو اپنے سامنے کھڑے پایا۔ بچپن میں ایک چیتے نما بلی نے اس کا پیچھا کیا۔ بمشکل اس سے جان چھوٹی۔ پھر جب وہ پندرہ سولہ سال کا ہوا تو ایک دن ایک نئی مصیبت نے اسے آ گھیرا۔
وہ ایک خاص دن تھا اس دن مکمل سورج گرہن پڑنے والا تھا۔ دو پہر کا وقت تھا بارہ یا ساڑھے بارہ بجے ہوں گے۔ ساحل عمر مکمل سورج گرہن کے شوق میں گھر سے باہر نکل آیا اور برآمدے میں کھڑے ہو کر ایک کالا شیشہ آنکھ پر رکھ کر سورج گرہن کا نظارہ کرنے لگا۔
اس وقت کچھ ہوا۔ ایک دم اس کے جسم میں جھٹکا سا لگا اس کے ہاتھ سے شیشہ چھوٹ گیا اور اس کا رخ بھی بدل گیا شیشہ برآمدے کے فرش پر گر کر کرچی کرچی ہو گیا اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ اچانک اس کو کیا ہوا۔ ایک دم اس کی نظر سامنے اٹھی تو اسے اپنے جسم سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی۔
وہ سامنے آم کے درخت کے نیچے تھی ایک دم کالی بھجنگ لال انگارہ آ نکھیں سفید دمکتے دانت اور ان دانتوں کے درمیان لٹکتی ہوئی ایک فٹ لمبی زبان۔ وہ بڑی تیزی سے کھڑی ہوئی اور اپنی سرخ زبان اندر باہر کر کے بانہیں پھیلائیں اور اسے اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا۔
سامل عمر سورج گرہن دیکھنا بھول گیا وہ تیزی سے گھر کے اندر پہنچا اور اپنی ممی سے لپٹ گیا۔ ممی نے ساحل عمر کی حالت دیکھی تو وہ پریشان ہو گئی۔ اس کا رنگ زرد ہو چکا تھا۔ آنکھیں وحشت سے پھٹی تھیں اور پورا چہرہ پسینے میں بھیگا ہوا تھا۔
“کیا ہوا میری جان؟‘‘ وہ پریشان ہو کر بولیں۔
“ممی…… وہ….وہ….” اس سے بولا نہ گیا تو اس نے باہر کی طرف اشارہ کیا۔
“کیا ہے وہاں؟ آؤ میرے ساتھ ؟‘‘ ممی اس کو اپنے ساتھ لگائے گھر سے باہر نکلیں۔ برآمدے میں کھڑے ہو کر انہوں نے چاروں طرف نگاہ دوڑائی اس وقت سورج مکمل گرہن میں آ چکا تھا۔ ایکدم اندھیرا چھا گیا تھا۔ سورج گرہن کے اثرات سے بچنے کے لیے وہ اسے فورا واپس گھر میں لے آئیں۔ اس کے بیڈروم میں آ کر ایئر کندیشنر کھول دیا اور اماں جو ساحل عمر کی حالت دیکھ کر پیچھے پیچھے آ گئی تھیں ۔ انہیں ممی نے جوس لانے کو کہا۔
اس اثناء میں وہ ساحل عمر کو اپنے قریب کر کے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتی رہیں ۔ جب جوس وغیرہ پی کر اس کی حالت سدھری تو ممی نے اس سے پوچھا۔
’’بیٹا باہر تم نے کیا دیکھا تھا کہ اس قدر پریشان ہو گئے ۔‘‘ ساحل عمر نے سارا واقعہ من وعن سنا دیا ۔ اس اثناء میں سورج گر ہن سے نکل آیا تھا۔ اب ہر سو روشنی پھیل چکی تھی۔ ممی اماں کو لیکر باہر نکلیں ۔ انہوں نے باہر لگا ہر درخت ہر پتا چھان مارا لیکن زبان والی کا کہیں پتہ نہ لگا۔
بات آئی گئی ہو گئی چند دنوں کے بعد ساحل عمر سوتے میں ڈر گیا۔ آدھی رات کو اس کی چیخ سنائی دی اس کے ممی پاپا دونوں اٹھ کر بھاگے۔ ساحل عمر یکلخت خوفزدہ ہو گیا تھا۔ اس نے خواب میں لمبی زبان والی کو دیکھا تھا جو اس کے بیڈ کے نزدیک کھڑی تھی۔ لمبی زبان باہر کولٹکی تھی اس کے ہاتھ میں ایک بڑا سا چینی کا پیالہ تھا اور دوسرے ہاتھ میں ایک خنجر تھا۔ ساحل عمر کو ایسا محسوس ہوا جیسے وہ لمبی زبان والی خنجر سے اس کے جسم میں زخم لگا کر اس خالی پیالے کو اس کے خون سے بھرنا چاہتی ہو۔ اس کے بعد وہ تواتر سے اسے نظر آنے لگی۔ کبھی خواب میں تو کبھی جاگتے میں۔ اسکے ہاتھ میں چینی کا بڑا سا سفید پیالہ ہوتا اور ایک ہاتھ میں خنجر اور وہ اس کا خون نکالنے کے در پے ہوتی ۔ ایک عجیب پریشانی کا عالم تھا۔ مختلف عاملوں کو آزمایا گیا جھاڑ پھونک ہوئی۔ تعویذ گنڈے ہوۓ ۔ آٹھ نو مہینے کی کوششوں کے بعد کہیں جا کر اس لمبی زبان والی سے ساحل عمر کی جان چھوٹی۔ اس واقعہ کو گزرے ہوۓ اگرچہ دس گیارہ سال ہو چکے تھے لیکن اب بھی جب بھی اس کا خیال آ جاتا تو ساحل عمر کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہونے لگتے۔
کبھی کبھی اس کے دل میں خیال آتا کہ وہ اس منحوس شکل عورت کی تصویر بناۓ لیکن ایسا سوچ کر ہی وہ کانپ اٹھتا۔
کوئی چیز اندر سے۔ اسے منع کرتی۔ خبر دار اس کی تصویر ہرگز نہ بنانا ورنہ وہ گلے پڑ جاۓ گی۔ اس وقت بھی اس کے خیال نے اسے پریشان کر دیا تھا۔
اس نے اپنی تازہ بنائی ہوئی تصویر پر ایک نظر ڈالی۔ وہ بچھو اپنی تمام تر خطرناکی کے ساتھ اس حسین دلہن کی پیشانی پر موجود تھا۔ ساحل عمر نے کمرے سے نکلنے کے لئے لائٹ بجھائی تو اس وقت ٹیلیفون کی گھنٹی بجی ۔ ،
ٹیلیفون کی گھنٹی کا اچانک بجنا لائٹ کا بجھنا اور منحوس شکل عورت کا خیال۔ ساحل عمر ایک دم چونک اٹھا۔ ایک لمحے کو اس پر لرزا سا طاری ہو گیا۔ وہ لائٹ آن کر کے واپس پلٹا۔ ٹیلیفون کی اب بھی گھنٹی بج رہی تھی اس نے گھڑی پر نظر ڈالی۔ گیارہ بج کر پانچ منٹ ہورہے تھے۔ وه جان گیا کہ اس وقت کس کا ٹیلی فون آیا ہے ریسیور اٹھا کر اس نے ایک گہرا سانس لیا اور دھیرے سے بولا۔ ’’جی۔‘‘
“ہائے رانجھن تمہارے اس جی پر ہزار بار قربان اس قدر خوبصورت انداز میں جی کہتے ہو کہ بس جی چاہتا ہے کہ اڑ کر تمہارے پاس پہنچ جاؤں تمہیں دیکھوں اور دیکھ کر جی اٹھوں۔ کہو سالگرہ کا تحفہ پسند آیا۔‘‘ ساتھ ہی اس کی کھنک دار ہنسی سنائی دی۔
“ہاں بڑا مزے دار تحفہ تھا کھا کر بڑا مزہ آیا۔ ایک بات پوچھوں؟‘‘ وہ بولا۔
“جانتی ہوں کیا پوچھو گے۔ یہی نا کہ مجھے تمہاری سالگرہ کا کیسے معلوم ہوا۔‘‘
“ہاں یہی پو چھنا چاہتا تھا۔ میں حیران ہوں کہ تمہیں میری تاریخ پیدائش کا کیسے پتہ چلا۔”
“آدمی کو کسی بات کی جستجو ہو سچی لگن ہو تلاش میں خلوص ہو تو ہر آ رزو پوری ہو جاتی ہے۔ میرے رانجھن تمہیں یاد نہیں کہ تم نے تین چار سال پہلے کسی میگزین کو انٹرویو دیا تھا۔ اس انٹرویو میں تم نے اپنی ڈیٹ آف برتھ بھی بتائی تھی۔ وہ پرانا رسالہ ایک دوست کے یہاں اچانک میرے سامنے آ گیا۔ بس میں نے وہاں سے تمہاری ڈیٹ آف برتھ نوٹ کر لی۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اپنے مخصوص انداز میں ہنسی۔ پھر توقف کر کے بولی۔’’میری ذہانت کے قائل ہو گئے نا۔‘‘
“میں مان گیا تمہیں‘‘ ساحل عمر خوش ہو کر بولا ۔
’’اپنا نام بتانا پسند کرو گی؟‘‘
“میں بے نام ہوں۔ تم میرا جو چا ہے نام رکھ لو۔ جس رنگ میں چاہے رنگ لو۔‘‘ وہ ہنسی اور ہنستی چلی گئی۔
“ناگن کہوں؟‘‘ ساحل عمر نے چھیڑا۔
“ہاں کہو….لیکن اتنا یاد رکھنا سچ سچ ناگن بن جاؤں گی تمہیں ڈس لوں گی ۔‘‘
“بڑے خطر ناک ارادے ہیں۔”
”میرے ارادے واقعی خطر ناک ہیں جب ملو گے تو پتہ چلے گا۔‘‘
“نام تک چھپاتی ہو اور بات کرتی ہو ملنے کی کیا خوب چیز ہو؟‘‘ اس کے لہجے میں خفگی تھی
”ہائے رانجھن ناراض کیوں ہوتے ہو بتائے دیتی ہو اپنا نام میرا نام ورشا ہے ورشا۔‘‘
“ورشا…..” وہ حیرت زدہ ہوا۔
’’ورشا ہو کہاں کہاں برسی ہو؟‘‘
“جہاں برستی ہوں کھیت کھلیان ایک کر دیتی ہوں۔ ہر چیز بہا لے جاتی ہوں اجاڑ کر رکھ دیتی ہوں۔” اچانک اس کا لہجہ بدل گیا۔ اس کے لہجے میں جانے ایسی کیا بات تھی کہ اس کے جسم میں سردی کی ایک لہری دوڑ گئی۔
“گویا جنونی ہو؟” وہ سنبھل کر بولا ۔
“صحیح سمجھے میں واقعی جنونی ہوں اور آج کل تمہارے جنون میں مبتلا ہوں۔ میں تم سے ملنا چاہتی ہوں۔ بولو ہم کب ملیں گے۔‘‘ اس نے بڑے پیار سے پوچھا۔
’’جب تم چاہو۔‘‘ یہ بات بلا ارادہ اس کے منہ سے نکل گئی۔
“ٹھیک ہے پھر میں کل آ رہی ہوں تمہاے پاس میرا نتظار کرو۔” یہ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا۔
دوسرے دن وہ عجب انداز سے اس کے سامنے آئی۔ دوپہر کے وقت اسے کوریئر سے ایک لفافہ ملا۔ لفافہ کھولا تو اس میں سے ایک تصور نکلی۔
ایک لڑکی کیمرے کی طرف پیٹھ کیئے بیٹھی تھی۔ اس کے چست لباس میں پیٹھ پر ایک پان بنا ہوا تھا اور اس پان سے گوری جلد نظر آ رہی تھی۔
اس جلد پر جو چیز نظر آ رہی تھی اسے دیکھ کر وہ پتھر کا ہو گیا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: