Anwar Aleegi Urdu Novels

Bichoo Novel By Anwar Aligi – Episode 30

Bichoo Novel By Anwar Aligi
Written by Peerzada M Mohin
 بچھو از انوار علیگی – قسط نمبر 30

–**–**–

دن کا اجالا پھیل چکا تھا۔ برکھا کے منحوس بنگلے پر اس کے باوجود وحشت برس رہی تھی۔ برکھا شیطان کے بیٹے اعور سے رات کو ملاقات کے بعد مد ہوش سو رہی تھی۔
بیل کی آواز پر ورشا کی آنکھ کھلی۔ کوئی کافی دیر سے گھنٹی بجا رہا تھا۔ وقفے وقفے سے گھنٹی بجائی جا رہی تھی۔ ورشا فورا اٹھ کر بیٹھ گئی۔ پھر وہ اپنے جسم پر کالی چادر ڈال کر دروازے سے باہر آ گئی۔ برآمدے میں کھڑے ہو کر اس نے باہر کا جائزہ لیا۔ برکھا کا دروازہ بند تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ رات کو جاگی تھی۔ اب پڑی سو رہی تھی۔
پھر وہ خود ہی گیٹ کی طرف بڑھی۔
گیٹ کھولنے سے پہلے اس نے حسب معمول گیٹ کے خلاء سے باہر جھانکا۔ اسے باہر کوئی نظر نہ آیا۔ جب اس نے زور سے پکار کر پوچھا۔ ’’کون ہے؟‘‘
“برکھا دیوی ہیں جی؟‘‘ باہر سے ایک بھاری مردانہ آواز آئی۔
“آپ کون؟‘‘ میں جی برکھا دیوی کیلئے سوغات لایا ہوں۔ وہ گیٹ کے سامنے آتے ہوۓ بولا۔
“وہ تو سو رہی ہیں۔‘‘ ورشا نے کسی کو سامنے پا کر خلا میں سے باہر جھانکا۔
وہ ایک اونچے قد کا گہرے سانولے رنگ کا اور مضبوط کاٹھی کا شخص تھا۔ اس کے چہرے ے خباثت ٹپک رہی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ایک کالے چمڑے کا تھیلا لٹک رہا تھا۔
“کوئی بات نہیں۔ انہیں سونے دیں آپ ان کی چیز لے لیں۔”
“اچھا ایک منٹ ٹھہریں۔ میں گیٹ کھولتی ہوں۔‘‘ ورشا نے کہا اور پھر گیٹ کھول کر جھانکی۔
’’یہ برکھا دیوی کو دے دیں۔‘‘ اس نے چمڑے کا تھیلا آ گے بڑھایا۔
ورشا نے وہ چمڑے کا تھیلا تھام لیا اور اس سے پوچھا۔ ”اس میں کیا ہے؟‘‘
”اس میں ان کیلئے ایک قیمتی چیز ہے۔“
“آپ کون ہیں؟‘‘ ورشا نے سوال کیا۔ ’’آپ کا کیا نام ہے؟‘‘۔
“میں بے نام ہوں جب وہ تھیلا کھول کر دیکھیں گی تو وہ سمجھ جائیں گی کہ یہ چیز کہاں سے آئی ہے اور کس نے بھیجی ہے۔” یہ کہہ کر وہ واپس پلٹا اور لمیلبے لمبے ڈگ بھرتا اس کی نظروں سے دور ہو گیا۔
ورشا نے فورا گیٹ بند کر کے اس چمڑے کے تھیلے میں جھانکا۔ تھیلا کافی گہرا تھا۔ اس کی تہ میں کپڑے میں لپٹی کوئی گول سی چیز نظر آئی۔
پتہ نہیں اس میں کیا ہے؟ ممی روز نت نئی چیزیں منگواتی رہتی ہے۔ جانے یہ کہاں جا کر ٹھہرے گی اور کیا کر کے دم لے گی۔ ورشا کے لاشعور میں بچپن سے ہی اپنی ماں کیلئے نفرت تھی لیکن برکھا کا رویہ اس کے ساتھ بہت اچھا تھا اس لئے وہ نفرت دبی رہتی تھی۔ جب برکھا کے رویے میں تبدیلی آتی یا وہ اس کی ساحرانہ حرکتوں سے اکتاتی تو وہ نفرت کی چنگاری آہستہ آہستہ سلگ اٹھتی۔ آج کل یہ نفرت بار بار اپنا سراٹھا رہی تھی۔
برکھا کے دروازے پر پہنچ کر اس نے آہستہ سے دستک دینا چاہی تو دروازہ تھوڑا سا اندر ہو گیا۔ دروازہ کھلا ہوا تھا۔ وہ کمرے میں داخل ہوئی۔ برکھا کچھ اس انداز سے سو رہی تھی کہ ورشا نے ایک لمحے کیلئے سوچا کہ واپس چلی جاۓ پھر اس نے پائنتی پر پڑا ہوا ہلکا سا کمبل برکھا کے جسم پر ڈال دیا۔ تب فورای برکھا کی آنکھ کھل گئی۔
ورشا کو اپنے کمرے میں دیکھ کر وہ جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گئی اور پھر بڑی بے نیازی سے اپنے گر دکمبل لپیٹ لیا۔ اسے دیکھ کر مسکرائی۔
“یہ کیا ہے؟‘‘ اچانک برکھا کی نظر ورشا کے ہاتھ میں لٹکے چمڑے کے تھیلے پر پڑی۔
“پتہ نہیں ممی۔‘‘ ورشا نے کہا۔ ’’ایک شخص آپ کیلئے دے گیا ہے۔”
برکھا نے جلدی سے اس سے وہ تھیلا لے لیا اور پھر اس نے تھیلے کے اندر جھانکا بڑی احتیاط سے کپڑے میں لپٹی چیز تھیلے سے باہر نکال لی۔ اس میں کوئی گول سی چیز سفید کپڑے کی پٹیوں میں لپیٹی ہوئی تھی۔ اس نے ڈھونڈ کر پٹی کا سرا نکالا اور اس چیز کو بیڈ پر ڈال کر پٹی کھولنے لگی۔ وہ ایک ہی پٹی تھی اور اتنی لمبی تھی کہ برکھا کے بیڈ پر ایک اونچا ڈھیر بن گیا۔ پھر اس میں سے جو چیز برآمد ہوئی اسے دیکھ کر خوشی کے مارے برکھا کی چیخ نکل گئی۔ ’’زندہ باد مہاراج.. کالی دیواہ کے بیٹے زندہ باد۔”
“می یہ کیا ہے؟”
“یہ ایک بہت بڑے جادوگر کا سر ہے… ورشا میں اب دیکھتی ہوں کہ میرا وار کیسے کارگر
نہیں ہوتا۔‘‘ یہ کہتے کہتے اس کی آنکھوں میں شیطانی چمک آ گئی اور چہرے سے خباثت ٹپکنے لگی۔ ایک بدبوکا بھبوکا اس کے جسم سے پھوٹا جو ورشا کے لئے نا قابل برداشت ہو گیا۔ ورشا پھر وہاں نہ ٹھہر سکی۔
☆☆☆☆☆☆☆
ناصر مرزا شام کو اپنے دفتر سے آ کر تھوڑی دیر آرام کی خاطر لیٹ گیا تھا۔ ابھی اسے لیٹے دیر نہ ہوئی تھی کہ اچانک اس کی نظر روشندان پر پڑی اور ایک بھیانک چیخ اس کے منہ سے نکلی۔
ناصر مرزا کی بیوی ساجدہ جو کچن میں چائے بنانے کی تیاریوں میں تھی اپنے شوہر کی چیخ سنی تو ’’اللہ رحم” کہتی ہوئی کمرے کی طرف بھاگی۔
جب وہ کمرے میں پہنچی تو ناصر مرزا کا حال دیکھ کر سہم گئی۔ ناصر مرزا جو اچھے تن و توش اور پروقار شخصیت کا مالک تھا اس وقت بیڈ کے کونے پر کسی چوہے کی طرح دبکا بیٹا تھا اور وہ خوفزدہ نکھوں سے روشندان کی طرف دیکھ رہا تھا۔
ساجدہ نے فورا روشندان کی طرف دیکھا لیکن اسے وہاں کو نظر نہ آیا۔
’’کیا ہوا؟‘‘ ساجدہ ایک دم اپنے شوہر سے لپٹ کر بولی۔
’’وہ وہ۔‘‘ ناصر مرزا نے انتہائی خوفزدہ لہجے میں روشندان کی طرف اشارہ کیا۔
ساجدہ نے پھر روشندان کی طرف دیکھا لیکن اسے وہاں کچھ نظر نہ آیا۔
“وہاں کیا ہے ناصر؟” وہ پریشان ہوکر بولی۔
“وہ وہ مجھے مار دے گا۔” ناصر مرزا کی آواز کانپ رہی تھی خوف کے مارے۔
“اللہ. ناصر آپ کو کیا ہو گیا ہے۔ آپ اتنے بہادر انسان اتنے ڈرپوک کیسے ہو گئے۔ ناصر وہاں کچھ نہیں ہے۔ میں ہوں آپ کے پاس۔ آپ ڈریں نہیں۔” ساجدہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
“ساجدہ مجھے کمبل اڑھا دو… وه… وہ مجھے گھو رہا ہے۔ وہ مجھے مار دے گا۔” ساجدہ نے بغیر کچھ کہے ناصر مرزا کے اوپر کمبل ڈال دیا۔
اسے چاروں طرف سے اچھی طرح سے ڈھک دیا۔ تب ناصر مرزا جو بیڈ کے ایک کونے پر ڈرا سہما بیٹا تھا آہستہ آہستہ بیڈ پر نیم دراز ہوتا گیا۔ پھر اس پر غشی طاری ہو گئی اور وہ لمبے لمبے سانس لینے لگا۔
ساجدہ گھبرائی ہوئی کمرے سے نکلی ۔۔ وہ سیدھی ناصر مرزا کی امی کے ہاں پہنچی۔ وہ ابھی عصر کی نماز سے فارغ ہوئی تھیں۔ وہ ایک بزرگ خاتون تھیں۔ نمازی پر ہیز گار۔ انہوں نے جب ناصر مرزا کا حال سنا تو فورا ماتھا ٹھنکا۔ وہ فورا چوکی سے اٹھیں اور چپل پاؤں میں ڈال کر ساجدہ کے ساتھ ہو لیں
کمرے میں آ کر ناصر کی امی نے کمبل اتار کر ناصر مرزا کا چہرہ دیکھا۔ وہ بے ہوشی کے عالم میں پڑا لمبے لمبے سانس لے رہا تھا۔ امی نے پیشانی پر ہاتھ رکھ کر آہستہ سے پکارا۔ ’’ناصر بیٹے ناصر۔“ ناصر نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس کی پیشانی تپ رہی تھی۔
“ساجدہ اسے تو تیز بخار ہے۔‘‘ امی نے اس کی پیشانی پر ہاتھ پھیر تے ہوۓ کہا۔
“امی کیا کروں؟ ڈاکٹر کو بلواؤں۔‘‘
’’ذاکر ہے گھر میں؟‘‘
“جی امی۔‘‘
”پھر اس کو کہہ دو۔‘‘
اتنے میں گھر میں موجود ہر فرد کو ناصر مرزا کے بارے میں پتہ چل گیا۔ سب آنا فانا اس کے کمرے میں اکٹھا ہو گئے۔ ان میں ناصر مرزا کا چھوٹا بھائی ذاکر مرزا بھی تھا۔ امی نے اسے فورا ڈاکٹر کو لانے کیلئے دوڑایا۔ پڑوس میں ڈاکٹر کا کلینک تھا۔ گھر میں کلینک تھا۔ کلینک ابھی بند تھا۔ ناصر مرزا کی طبیعت کی خرابی کا سن کر وہ فورا اپنا بیگ اٹھا کر ذاکر کے ساتھ چلا آیا۔
اس نے ناصر مرزا کا اچھی طرح معائنہ کیا۔ ناصر مرزا کو ایک سو پانچ درجے بخار تھا۔ اس پر غشی بدستور طاری تھی۔ ڈاکٹر نے ایک انجکشن لگایا اور ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھنے کی ہدایت کی اور نسخہ لکھ کر اور تسلی دے کر چلا گیا۔
اس کے جانے کے بعد ساجدہ نے اس کی پیشانی پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھنی شروع کیں۔
انجکشن اور ٹھنڈے پانی کی پٹیوں نے اپنا اثر دکھایا۔ اس کا بخار کم ہوا۔ غشی کی کیفیت میں افاقہ ہوا۔ اس نے کچھ دیر کے بعد آنکھیں کھول دیں۔ اس نے پورے گھر کو اپنے بیڈ کے گردموجود پایا۔ اس نے مسکرا کر سب کو دیکھا اور یہ ظاہر کرنا چاہا کہ وہ بالکل ٹھیک ہے۔
“ناصر بیٹے کیسے ہو؟‘‘ اس کی امی نے اسے محبت بھری نظروں سے دیکھتے ہوۓ پوچھا۔
“ٹھیک ہوں امی…..فکر کر نے کی کوئی بات نہیں۔‘‘ ناصر مرزا نے اٹھتے ہوۓ کہا۔
وہ بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ ساجدہ نے اسے فوراً دوا کھلائی۔
ناصر مرزا نے دوا کھانے کے بعد کہا۔ ’’ساجدہ ذرا میرا چاقو مجھے دے دو۔ میرے بیگ میں ہو گا”
“اچھا ابھی لائی۔‘‘ ساجدہ یہ کہہ کر کمرے سے نکل گئی۔
“یہ سب کیا ہے؟‘‘ امی نے ناصر مرزا سے پو چھا۔ ”تم کس چیز سے ڈر گئے تھے؟‘‘
“کسی چیز سے نہیں۔‘‘ ناصر مرزا نے ہنستے ہوۓ کہا۔ ’’امی ساجدہ نے پتہ نہیں آپ کو کیا کہہ دیا ہے ۔
“میں نے جو دیکھا اور سنا وہ امی سے کہا…. اور کچھ نہیں. یہ لیجئے اپنا چاقو۔‘‘ ساجدہ نے کمرے میں آ کر چاقو اس کی طرف بڑھایا۔
ناصر مرزا نے خاموشی سے چاقو اپنے ہاتھ میں لے کر اسے اپنے تکیے کے پیچے رکھ لیا اور ساجدہ سے مخاطب ہو کر بولا۔ ’’ساجدہ ایک کام کرو….. ذرا ساحل عمر کو فون کر دو. اس سے کہنا کہ رات کو عذرا کو لے کر ادھر آ جاۓ۔ کھانا یہیں کھا لے۔ اس کے علاوہ اس کو کچھ اور نہ بتانا۔”
”جی اچھا۔‘‘ ساجدہ نے کہا اور فون کرنے کمرے سے باہر نکل گئی۔
ساجدہ کے جاتے ہی اس کی حالت پھر بگڑنے لگی۔ اس نے اپنے جسم میں ایک خوف کی لہر محسوس کی اسکی نظریں خود بخود روشن دان کی طرف اٹھ گئیں وہ وہاں موجود تھا ا کو دیکھتے ہی ناصر مرزا کی گھگی بندھ گئی۔ ناصر مرزا نے تکیے کے نیچے رکھا اپنا چاقو نکالا اسے جلدی سے کھولا۔ اس نے چاقو والا ہاتھ اٹھا کر کچھ کرنا چاہا لیکن اسکا ہاتھ بے جان ہو گیا۔ چاقو انگلیوں سے نکل گیا اس کے ہاتھ پاؤں مڑنے لگے اور پھر اس نے کسی خوفزدہ بچے کی طرح اپنی امی کی گود میں منہ چھپالیا۔ “امی۔‘‘
“کیا ہوا. کیا ہوا میرے بچے؟‘‘ وہ ایک دم گھبرا کر بولیں۔
“امی۔امی… وہ پھر آ گیا۔ مجھے بچالیں. وہ مجھے مار دے گا۔‘‘
“ارے کون ہے وہ کمینہ…..مجھے بتا تو وہ کدھر ہے ۔‘‘
ناصر مرزا نے اپنا چھپا ہوا منہ اپنی ماں کی گود سے اٹھایا اور خوفزدہ نظروں سے روشندان کی طرف دیکھا۔ ’’وہ امی وہ ہے…. وہاں۔‘‘
“بچو تم لوگ چلو یہاں سے۔‘‘ امی نے ناصر مرزا کے بچوں اور اپنی چھوٹی بیٹی کی طرف دیکھا
امی کی ہدایت پر وہ فورا چلے گئے۔ اب کمرے میں صرف ذاکر رہ گیا۔ چند لمحوں کے بعد ساجدہ بھی آ گئی۔ ’’ کیا ہوا؟‘‘
“پھر سے وہی کیفیت ہو گئی ہے۔‘‘ امی نے ساجدہ کو بتایا۔
“یا اللہ رحم ۔‘‘ ساجدہ کے منہ سے بے اختیار نکلا۔
ناصر مرزا کی امی نے روشندان کی جانب دیکھا۔ وہاں انہیں کچھ نظر نہیں آیا۔ انہوں نے دو ٹوک لہجے میں کہا۔ ’’ناصر وہاں تو کچھ نہیں ہے۔”
“امی ہے۔ آپ نہیں جانتیں. وہ وہیں چھپا بیٹھا ہے۔“
“ناصر یہ آپ کو کیا ہو گیا ہے۔ ذرا اپنے آپ کو سنبھالیں۔‘‘ ساجدہ نے اس کی ہمت بندھانے کی کوشش کی۔
“امی میرے اوپر کمبل ڈال دیں۔” ناصر مرزا بولا۔
ساجدہ نے کمبل اٹھا کر ناصر مرزا کے اوپر ڈال دیا۔ ناصر مرزا کا سر ابھی امی کی گود میں تھا اور اس کے دونوں گھٹنے پیٹ سے لگے ہوئے تھے۔ وہ گٹھری بنا پڑا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ اس کے ہاتھ پاؤں کھلنے لگے۔ اس کے ساتھ ہی اس پرغشی کی سی کیفیت طاری ہونے لگی اور وہ لمبے لمبے بے ترتیب سانس لینے لگا
سات بجے کے قریب ساحل عمر عذرا کو ساتھ لے کر آ پہنچا۔ ساجدہ نے ناصر مرزا کی ہدایت کے مطابق اسے کچھ نہیں بتایا تھا اس لیئے وہ خوش خوش گھر میں داخل ہوا یہاں آ کر اسے گھر کا نقشہ ہی مختلف نظر آیا۔ جسے دیکھا اس کے چہرے پر پریشانی نظر آئی۔ جب وہ ناصر مرزا کے بیڈ روم میں داخل ہوا تو ناصر مرزا کی حالت دیکھ کر ایک لمحے کو کانپ کے گیا۔ دو اڑھائی گھنٹوں میں اس کے چہرے کی رنگت بدل چکی تھی۔ وہ عجب انداز سے آنکھیں بند کیے لمبے لمبے سانس لے رہا تھا۔
ساجدہ اور امی نے ناصر مرزا کے بارے میں پوری کیفیت بتائی۔ سارا حال سن کر ساحل عمر نے گہرا اور ٹھنڈا سانس لیا پھر بولا۔
”اوہ. یہ تو بہت برا ہوا. اس کا جادو چل گیا۔‘‘
’’اب کیا ہو گا؟‘‘ امی گھبرا کر بولیں۔
اسے فورا حافظ موسی کا خیال آیا۔ اس نے سوچا کہ وہ ان کے پاس جاۓ۔ پتہ نہیں وہ رات کو ملنا پسند کریں گے یا نہیں کیونکہ ناصر مرزا جب بھی ان کے پاس گیا دن کی روشنی میں گیا تھا۔ اس نے سوچا کہ صبح تک انتظار کرنا پڑے گا۔
وہ چاہتا تھا کہ ناصر مرزا کو کچھ ہوش آ جاۓ تو اس سے بھی اس مسئلے پر بات کرے۔ اس کی پیشانی گرم ہو چکی تھی۔ ساجدہ نے اس کی پیشانی پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھتا شروع کر دی تھیں۔ پٹیاں رکھتے رکھتے اچانک ساجدہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ اپنے شوہر کی اس حالت پر بے اختیار رو پڑی۔
عذرا نے فورا ساجدہ کا ہاتھ پکڑا اور اسے کمرے سے باہر لے گئی۔ پٹیاں رکھنے کا کام خود ساحل عمر نے سنبھال لیا۔ امی اسے پٹیاں بھگو بھگو کر دیتی جا رہی تھیں۔
تھوڑی دیر کے بعد ناصر مرزا نے اچانک آ نکھیں کھول دیں۔ ” کیسے ہو ناصر؟‘‘ ساحل عمر نے بہت محبت سے پوچھا۔
’’معاملہ بہت گڑ بڑ ہے۔ تم صبح ہی حافظ موسی کے پاس جاؤ۔‘‘ اس نے بلا تمہید ہدایت کی۔
“وہ تو میں چلا جاؤں گا لیکن تم یہ بتاؤ کہ تمہیں روشندان پر کیا دکھائی دیتا ہے۔‘‘ ساحل عمر نے پوچھا۔
“کچھ نہیں۔‘‘ ناصر مرزا نے اسے وحشت بھری نظروں سے دیکھا جیسے وہ کچھ بتاتے ہوۓ ڈرتا ہو
“ناصر گھبراؤ مت.. پوری بات بتاؤ تا کہ میں حافظ موسی کو تفصیل سے بتا سکوں۔” ساحل عمر نے کہا۔
“اوہ یار یہ کیا ہو رہا ہے ۔‘‘ ساحل کے چہرے پر اچانک کرب کے آثار دکھائی دینے لگے۔ وہ بے چین ہو کر ادھر ادھر کروٹیں لینے لگا۔
’’ کیا ہوا؟‘‘ ساحل عمر نے اس کی بدلتی کیفیت دیکھتے ہوۓ پوچھا۔
“ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے کوئی نو کیلے اور تیز ناخنوں سے میرا جسم چھیل رہا ہو۔
“اوہ۔‘‘ اس نے کراہ کر اپنے بازو پر ہاتھ رکھا۔
ساحل عمر نے فورا اس کی آستین کا بٹن کھول کر قمیض کی آستین بازو تک چڑھائی۔ تب اس پر عجیب انکشاف ہوا۔ اس کے بازو پر کھرونچے سے ہلکا ہلکا خون رس رہا تھا۔
پھر اس طرح کے نشانات بہت تیزی سے اس کے جسم کے ہر حصے پر نمودار ہوتے گئے۔ ان میں سخت جلن ہو رہی تھی۔
اس کا پورا جسم پنجہ مارنے کے نشانات سے بھر گیا۔ وہ بری طرح تڑپنے لگا۔
“ساحل. میرا چاقو پانی میں بھگو کر ان نشانات پر رکھو۔‘‘ ناصر مرزا نے بمشکل اسے ہدایت کی۔ اس سے بولا نہیں جا رہا تھا۔
ناصر مرزا کی امی جس پانی میں پٹیاں بھگو بھگو کر ساحل عمر کو دے رہی تھیں وہ پیالہ سائیڈ ٹیبل پر رکھا تھا۔ ساحل عمر نے چاقو اٹھاکر پانی میں ڈالا اور بھیگا ہوا چاقو نشانات پر پھیرتے ہی وہ فورا معدوم ہونے لگے۔
تب ساحل عمر نے جلدی جلدی اس عمل کو دوسرے نشانات پر دہرانا شروع کیا۔ اس طرح اس نے منٹوں سیکنڈوں میں پورے بازو پر بنے پنچے کے نشانات کو مٹا دیا۔ ایک بازو چھوڑ کر ابھی ساحل عمر دوسرے بازو پر بھیا چاقو پھیر رہا تھا کہ پہلے بازو پر پھر سے وہ نشانات ابھرنے لگے۔ بس پھر یہی ہوتا رہا کہ وہ جلدی جلدی چاقو کے ذریعے ان کھرونچوں کو مٹا تا اور پھر وہ کچھ دیر کے بعد اس جگہ نمودار ہو جاتے۔ ساحل عمر رات کے ساڑھے بارے بجے تک ناصر مرزا کے گھر رہا۔ جب تک وہ رہا یہی تماشا چلتا رہا۔ ناصر کی امی نے ساحل عمر کو زبردستی اپنے گھر بھیج دیا کہ خاصی رات ہو چکی تھی پھر انہوں نے خود اس چاقو کوسنبھال لیا۔
•●•●•●•●•●•●•
حافظ موسی اپنی لاٹھی دونوں ہاتھوں سے تھامے اس میں بنی آ نکھ پر اپنی بے نور آنکھ رکھے بیٹھے تھے۔ ساحل عمر پائنتی کی طرف بیٹھا انہیں بغور دیکھ رہا تھا۔ وہ ناصر مرزا کے بارے میں سب کچھ تفصیل سے بتا چکا تھا۔ چند منٹوں کے بعد حافظ موسی نے اپنی آنکھ لاٹھی سے ہٹائی اور پھر گردن اٹھائے اپنی بے نور آنکھوں سے آسمان کی طرف دیکھتے رہے پھر گویا ہوۓ۔
“اس مرتبہ سفلی والی نے بڑا پکا کام کیا ہے۔ ناصر مرزا کی زندگی شدید خطرے میں ہے۔ اس کے بچنے کے امکانات برائے نام ہیں۔” حافظ موسی کی زبان سے ایسی مایوس کن بات سن کر ساحل عمر کے چھکے چھوٹ گئے۔
ناصر مرزا اس کا بہت پیارا دوست تھا۔ اس کی جدائی کے تصور سے ہی اس کی روح کانپ اٹھی تھی۔
“حافظ صاحب. یہ نہ کہیں ۔ آخر اس جادو کا کوئی توڑ تو ہو گا۔ مجھے بتائیں۔ اگر میرے کرنے کا کوئی عمل ہے تو میں کر گزروں گا۔ اگر آپ کے کرنے کا کوئی کام ہے تو میں آپ سے درخواست کروں گا کہ آپ ان شیطانوں کے بیچ ہمیں تنہا نہ چھوڑیں۔” ساحل عمر نے بڑی عاجزانہ درخواست کی
حافظ موسی کچھ نہ بولے۔ سر جھکا کر لاٹھی پیشانی سے ٹکا لی جیسے مراقبے میں چلے گئے ہوں۔
کچھ دیر کے بعد انہوں نے سراٹھایا اور بولے۔’’اب جاؤ…. شام کو چار بجے میرے پاس آنا. اللہ اپنا فضل کرے گا۔“
حافظ موسی کی بات سن کر ایک آس بندھی ایک امید کی کرن دکھائی دی۔ ’’بہت بہتر ۔‘‘ ساحل عمر نے بڑے مودبانہ انداز میں کہا اور ان کے گھر سے چلا آیا۔
☆☆☆☆☆☆☆
ورشا ابھی کچن میں جانے کا سوچ ہی رہی تھی کہ اچانک اس کے کمرے کا دروازہ کھلا اور برکھا اندر داخل ہوئی۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ بھی تھی۔ اگر برکھا کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نہ بھی ہوتی تب بھی ورشا اس کے ہاتھوں میں ناشتے کی ٹرے دیکھ کر اندازہ لگا لیتی کہ اس کی ماں آج بہت خوش ہے
“آج میری ممی بہت خوش نظر آرہی ہے. خیریت ہے ۔‘‘ ورشا نے اپنی ماں کو ترچھی نظروں سے دیکھتے ہوۓ کہا۔ اس نے اس کے ہاتھ سے ٹرے لے کر بیڈ پر رکھ دی۔
“ہاں میری جان آج میں بہت خوش ہوں…. ناصر مرزا کو تو میں نے ٹھکانے لگا دیا۔ وہ بیڈ پر بیٹھتے ہوۓ بولی۔
“کیا وہ مر گیا؟‘‘ ورشا نے پوچھا۔
“مرا تو نہیں لیکن میں نے اس کی موت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ اس کی موت یقینی ہے۔ بس چند گھنٹوں کا معاملہ ہے۔‘‘ برکھا نے بہت خوش ہو کر بتایا۔ ’’اس کے بعد ساحل عمر کا نمبر ہے۔ ورشا آج کی رات بہت اہم ہے۔ یہ فیصلے کی رات ہے۔ ناشتے کے بعد میں منتر والے کمرے میں چلی جاؤں گی۔ آج رات ٹھیک بارہ بجے میرا عمل پورا ہو جاۓ گا۔ عمل پورا ہوتے ہی اس مہان جادوگر راعین کی کھوپڑی حرکت میں آ جائے گی۔ بارہ بج کر پانچ منٹ پر ساحل عمر جہاں بھی ہو گا میرے اس وار سے بچ نہیں سکے گا۔ میں اس کے اندر آگ لگا دوں گی۔ وہ اپنے کپڑے پھاڑ کر گھر سے باہر نکل آۓ گا۔ اس کا دماغ الٹ جاۓ گا۔ اس کی آ نکھوں سے ہر پہچان مٹ جائے گی۔ اس کے دماغ سے ہر یادمٹ جاۓ گی۔ بس ایک آگ ہو گی جو اس کے بدن میں لگی ہو گی۔ وہ سڑکوں پر بے لباس چیختا پھرے گا۔ وہ یہاں بھی آۓ گا۔ میں اور تم اس کا تماشا دیکھیں گے۔ تیره دن تک اس کی یہی حالت رہے گی پھر تیرہویں دن وہ سمندر کی طرف رخ کرے گا۔ اس کے اندر کی آگ کو صرف سمندر بجھا سکے گا اور جب وہ سمندر میں دور تک چلا جاۓ گا تو سمندر کی ایک بڑی لہر اسے اپنے ساتھ بہا لے جاۓ گی۔ اس کے اندر کی آگ تو بجھ جاۓ گی لیکن ساتھ ہی اس کی زندگی کا چراغ بھی بجھ جاۓ گا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ زور سے ہنسی اور ہنستی چلی گئی۔ ’’وہ مر جاۓ گا۔ وہ مر جائے گا۔ ہاہاہا۔”
“می چاۓ پیؤ‘‘ ورشا نے اس کی طرف چاۓ سے بھرا کپ بڑھاتے ہوۓ کہا۔
“لا” برکھا نے اپنا ہاتھ بڑھایا۔ چائے پلا.شراب پلا یا خون پلا…..جو تیری مرضی میں آۓ پلا۔ آج میں بہت خوش ہوں……اور ہاں۔‘‘ اچانک برکھا کو کچھ یاد آیا۔
ورشا نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔’’ جی ممی“
”ذرا میرا خیال رکھنا….. دروازہ کھلا ہو گا۔ ادھر کا چکر لگاتی رہنا۔ شاید مجھے تمہاری ضرورت پڑ جاۓ۔‘‘ برکھا نے ہدایت کی۔
’’اچھا ممی ٹھیک ہے۔‘‘ ورشا نے فر مانبرداری سے کہا۔
پھر جب برکھا ناشتے کے خالی برتن لے کر چلی گئی تو ورشا کے دل کو جیسے کسی نے جکڑ لیا۔ اس کے دل پر اداسی کے بادل چھا گئے ۔ اس نے اپنے کمرے کا دروازہ بند کیا اور بیڈ پر لیٹنے کیلئے واپس پلٹی تو اس نے بیڈ پر اپنے نانا کالی داس کو بیٹھے دیکھا۔ وہ بڑی محبت سے اسے دیکھ رہا تھا۔ کالی
کالی داس متعدد بار اس کے سامنے ظاہر ہو چکا تھا۔ اس سے باتیں کر چکا تھا۔ اسے بہت کچھ سمجھا چکا تھا۔
“نانا یہ کیا ہو رہا ہے؟‘‘ وہ پریشان ہو کر بولی۔
“اس نے جیسا کہا ہے ویسا ہی ہوگا. یہ عمل بہت خطرناک ہے اس کا کوئی توڑ نہیں۔”
کالی داس نے اسے مزید مایوس کر دیا۔
“نانا وہ ساحل عمر کو مار دے گی”
’’تو مار دے تجھے کیا پریشانی ہے؟‘‘
’’نانا آپ نہیں جانتے میں ساحل عمر سے محبت کرتی ہوں۔ میں اسے نہیں مرنے دوں گی۔ چاہے کچھ ہو جاۓ۔‘‘ ورشا کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
“اوه بالآخر تو بھی برکھا ہی نکلی۔‘‘ کالی داس نے اسے نصیلی نگاہوں سے دیکھا۔
“ہاں نانا آپ مجھے برکھا ہی سمجھ لیں۔‘‘ ورشا نے بڑے اعتماد سے کہا اس نے کالی داس کے غصے کی پروانہ کی۔
“برکھا بہت کچھ جانتی تھی۔ اسے میں نے اپنا سارا فن سکھا دیا تھا۔ کالی داس نے گردن اکڑا کر کہا۔
” تو نہیں جانتی وہ شیر کی خالہ ہے۔ اس نے ایک داؤ بچا کر رکھا ہے۔‘‘ کالی داس نے اسے ورغلایا۔
“نانا پھر تم کس مرض کی دوا ہو۔ مجھے وہ آخری داؤ بتاؤ” ورشا نے خوشامدی لہجے میں کہا۔
“بتا دوں گا…… پریشان مت ہو….. تجھے بہت کچھ سکھا دوں گا۔ آخر میں تیرے پاس آیا کس لئے ہوں۔ میری روح انتقام کی آگ میں جل رہی ہے۔ یہی وہ موقع ہے جب میں اس خود غرض کمینی اولاد سے بدلا لے سکتا ہوں۔ چل میری بچی۔ شرو ہو جا. ٹک دھم دھم. دھم دھم تک. واه کالی….. دیواہ کالی واہ۔”
ورشا اس وقت شلوار قمیض میں تھی دو پٹہ گلے میں پڑا ہوا تھا۔ اس نے دوپٹہ گلے سے کھینچا اور کمر کے گرد باندھ کر شروع ہو گئی۔
“ٹک….دھم دھم….. دھم دھم ٹک….واہ کالی……دیواہ کالی واہ.”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: