Anwar Aleegi Urdu Novels

Bichoo Novel By Anwar Aligi – Episode 4

Bichoo Novel By Anwar Aligi
Written by Peerzada M Mohin
بچھو از انوار علیگی – قسط نمبر 4

–**–**–

پیٹھ پر جہاں پان بنا ہوا تھا اور جس سے اس کی گوری جلد جھلک رہی تھی۔ اس جلد پرایک بچھو بنا ہوا تھا۔ جہاں بچھو بنا ہوا تھا وہاں کھال کا رنگ ہلکا براؤن سا تھا۔ بچھو کا منہ نیچے کی طرف تھا اس کا سائز اصل پچھو جیسا تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کسی بلاک کے ذریعے جلد پر چھاپا گیا ہو۔
وہ لڑکی جو بھی تھی اس کی صورت کیمرے کی طرف نہ تھی۔ اس کی تصویر کمر کے نیچے تک تھی۔ وہ شاید کسی میز یا اسٹول پر بیٹھی ہوئی تھی۔ بہت چست قمیض پہنے ہوۓ تھی جو پسینے سے بھیگی ہوئی تھی۔ پسینے میں بھیگی ہونے کی وجہ سے قمیض جلد سے چپک گئی تھی۔ جہاں جہاں قمیض جلد سے چپک گئی تھی وہاں جلد صاف نظر آ رہی تھی۔ خمدار اور نازک کمر تھی۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ سر کی پشت پر رکھے ہوۓ تھے۔ ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست تھیں۔ نیل پالش لگے لمبے اور ترشے ہوۓ ناخن خوبصورت مخروطی انگلیاں۔ ایک انگلی میں سرخ اور سفید رنگوں والے نگوں کی نازک سی انگوٹھی۔
وہ ایک انوکھی تصویر تھی۔ سب سے انوکھی بات پیٹھ پر بنا بچھو کا نشان تھا جسے دیکھ کر وہ ایکہ لمحے کو اپنا آپ بھول گیا تھا۔ تھرا گیا تھا۔ یہ ایک ایسی تصویر تھی جو اس کی پینٹنگ کے لئے آئیڈیئل تھی۔ یہ انہیں تصویروں میں سے ایک تھی جنہیں دیکھ کر وہ بنانے کے لئے بے چین ہو جاتا تھا۔ اس تصویر کو دیکھ کر اس نے فیصلہ کر لیا کہ اسے ضرور پینٹ کرے گا۔ فی الحال تو اسے یہ چیتے کی تصویر بنانی تھی جس کے لئے اس نے بازغر سے وعدہ کر لیا تھا۔ چیتے کی تصویر میں بظاہر کوئی انورکھا پن نہ تھا لیکن وہ چیتا بذات خود انوکھا تھا۔ اس کا نام بھی کیا خوب تھا…. تہکال
دوسرے دن سے اس نے چیتے کی پینٹنگ پر کام شروع کر دیا۔ بچھو اور دلہن والی تصویر اس نے اپنے اسٹوڈیو سے نکال لی اور اسے فریم کروا کے اپنے بیڈ روم میں لگا لی۔ ایسی جگہ کہ اگر وہ بیڈ لیٹا ہو تو تصویر عین اس کی نظروں کے سامنے ہو۔ جب وہ صبح سو کر اٹھے پلکوں کی چلمن اٹھے تو اس کا دیدار ہو۔ اس پینٹنگ میں اس کی دلچسپی بڑھتی جا رہی تھی۔ اسے عشق ہوتا جا رہا تھا اس تصویر سے اور تصویر والی سے جو اس کے خوابوں میں دکھائی دیتی تھی۔
اس تصویر کو اس نے سینکڑوں تصویروں میں سے نکالا تھا۔ جو شکل وصورت اسے خواب میں دیکھ کر اس کے ذہن میں رہ جاتی تھی۔ اس یاداشت کے سہارے تصویریں دیکھ کر اس کا انتخاب کیا تھا۔ کہیں سے آ نکھیں لی تھیں کہیں سے ناک لی تھی کہیں سے ہونٹ چراۓ تھے کہیں سے چہرے کی گولائی لی تھی۔ پیشانی، بھنویں، پلکیں، زلفیں، کان، گردن، کون سی ایسی چیز تھی جس پر اس نے غورنہیں کیا تھا۔ بظاہر یہ ایک خیالی تصویر تھی لیکن اصل لڑکی بھی تو خیالی تھی۔محض ایک تصویر
ساحل عمر نہیں جانتا تھا کہ وہ کون ہے؟ وہ اسے خوابوں میں نظر آتی تھی۔ یہ خواب بڑے واضح اور صاف ہوتے تھے۔ وہ لڑکی اسے مختلف انداز میں نظر آتی تھی۔ کبھی وہ اسے ایک پتھر پر بیٹھا ہوا دیکھتا ہے۔ پتھر پر اس کا سفید ریشمیں لباس پھیلا ہوا تھا اور ساتھ ہی جھاگ اڑاتا تیز رفتار چشمہ بہ رہا تھا۔ کبھی وہ پہاڑوں کے درمیان چھوٹے سے راستے پر دکھائی دیتی۔ سیفد ریشمیں لبادہ۔ جاتے جاتے وہ اچانک مڑ کر دیکھتی۔ اس کی جھیل جیسی آنکھوں میں ایک دم روشنی سی ہو جاتی۔ ہیرے سے جگمگا اٹھتے ہونٹوں پر جان لیوا مسکراہٹ پھیل جاتی۔ پھر وہ دیکھتے ہی دیکھتے پہاڑوں میں گم ہو جاتی۔ کبھی وہ اس لڑکی کو جھیل کنارے بیٹھا دیکھتا۔ وہ جھکی ہوئی جھیل کے پانی میں کچھ دیکھ رہی ہوتی۔ جیسے پانی میں اپنا عکس دیکھ رہی ہو۔ آئینہ دیکھ رہی ہو اپنے حسن پر ناز کر رہی ہو۔
وہ لڑ کی ہفتے دو ہفتے میں اس کے خوابوں میں ضرور آ جاتی تھی لیکن جب اس نے یہ تصویر مکمل کی تھی تب سے وہ ایک بار بھی اسے نظر نہ آئی تھی ۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ ایسا کیوں ہوا تھا۔
پھر ایک رات وہ اسے اچانک نظر آئی۔ وہ بڑی اذیت میں تھی ۔ اس رات ساحل عمر تصویر کو دیکھتے دیکھتے سو گیا تھا۔ تب اس نے اسے خواب میں دیکھا تھا۔ وہ پتھر پر کھڑی تھی۔ چشمے کا پانی اس کے پیروں کو چھوتا ہوا گز ر رہا تھا۔ اس کے چہرے پر کرب کے آثار تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ کسی تکلیف میں مبتلا ہو۔ اب تک وہ لڑ کی جتنی بار بھی نظر آئی تھی۔ وہ بھی ساحل عمر سے مخاطب نہ ہوئی تھی بلکہ ساحل عمر نے خود کو اس کے ساتھ کھڑے ہوئے آج تک نہ دیکھا تھا۔ وہ اسے تنہا نظر آتی تھی لیکن آج کے خواب میں وہ اکیلی نہ تھی۔ ساحل عمر بھی کہیں ہے گھومتا گھامتا اس چشمے پر نکل آیا تھا اور اسے پتھر پر کھڑا دیکھ کر اس کے نزدیک چلا گیا تھا اور اس کے چہرے پر تکلیف کے آثار دیکھ کر اس سے پوچھا تھا۔
“کیا ہوا تمہیں؟‘‘
“مجھے نہیں معلوم کیا ہوا ہے۔ میں اتنا ضرور جانتی ہوں کہ جو کچھ ہوا وہ تمہاری وجہ سے ہوا ہے”
“آخر کیا کیا ہے میں نے؟‘‘ ساحل عمر فکر مند ہو کر بولا ۔’’مجھے کچھ تو بتاؤ ‘‘
‘میرے جسم میں آگ سی لگی ہے۔ اس لئے میں یہاں پتھر پر کھڑی ہوں۔ ٹھنڈا پانی میرے پیروں کو لگ رہا ہے۔ اس پانی کی وجہ سے مجھے سکون مل رہا ہے لیکن یہ سکون عارضی ہے۔ چشمے سے باہر آؤں گی تو پھر وہ نیلی آگ مجھے اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ یتم نے کیا کر دیا ہے۔ مجھے اس اذیت سے نجات دلاؤ ۔‘‘ اس نے بڑے کرب بھرے لہجے میں کہا۔
“لیکن کیسے؟ مجھے بتاؤ میں کیا کروں۔ میں تمہیں تکلیف میں دیکھ کر پریشان ہو گیا ہوں۔”
“مجھے نہیں معلوم یہ سب کیوں ہوا ہے لیکن اتنا ضرور جانتی ہوں کہ یہ آگ تم نے لگائی ہے”
“میں نے لگائی ہے تو میں اسے بجھا دوں گا۔ تم بتاؤ تو سہی یہ آگ کیسے بجھے گی۔‘‘
“مجھے نہیں معلوم ‘‘ وہ اذیت سے بولی ۔’’جو کچھ کرنا ہے جلدی کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ نیلی آگ میرے وجود کو پگھلا کر رکھ دے ۔‘‘
“نہیں میں ایسا کبھی نہیں ہونے دوں گا۔”
یہ کہہ کر ساحل عمر نے اس پتھر کی طرف چھلانگ لگائی جہاں وہ لڑ کی کھڑی تھی لیکن وہ اس پتھر تک نہ پہنچ سکا۔ وہ چشے میں گر گیا اور تیز رفتار چشمہ اسے بہا کر لے چلا۔ اس نے چشمے سے نکلنے کے لئے ہاتھ پاؤں چلاۓ تو اچانک اس کی آنکھ کھل گئی ۔
آنکھ کھلی تو اس نے خود کو اپنے کمرے میں پایا۔ کمرے میں اندھیرا تھا۔ وہ پسینے میں شرابور تھا۔ اس کا دل غیر معمولی رفتار سے دھڑک رہا تھا۔ اس پر ایک گھبراہٹ سی طاری تھی۔ ہاتھ بڑھا کر اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھا ہوا ٹیبل لیمپ روشن کیا۔ کمرے میں ایئر کنڈیشنر چل رہا تھا۔ چھت کا پنکھا بھی چل رہا تھا۔ اس کے باوجود اس کا بدن بھیگا ہوا تھا۔ اس نے اٹھ کر پنکھا تیز کیا اور بیڈ پر بیٹھ کر لمبی لمبی سانسیں لینے لگا۔
پھر ساحل عمر نے اس تصویر پر نظر ڈالی۔ ٹیبل لیمپ کی روشنی میں وہ کچھ زیادہ ہی پر اسرار محسوس ہو رہی تھی۔ تصویر جوں کی توں تھی اس میں کوئی تبدیلی نہ تھی۔ خواب والی لڑکی کو آ ج اس نے بہت قریب سے دیکھا۔ اس تصویر اورلڑکی کی صورت میں کوئی فرق نہ تھا۔ فرق اگر تھا تو صرف اتنا کہ تصویر میں وہ دلہن کے روپ میں تھی اور خواب میں ایک سفید ریشمیں لبادے میں نظر آتی تھی۔ نین نقش یہی تھی البتہ چہرے کے رنگ روپ میں تھوڑا فرق تھا۔ وہ خواب میں اس لڑکی کو پڑیشان دیکھ کر خود بھی پریشان ہو گیا تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اس سے ایسی کیا غلطی سرزد ہوئی ہے کہ وہ اذیت میں مبتلا ہو گئی۔ یہ بات بھی اس کی سمجھ میں نہیں آئی تھی کہ اس کا اس لڑکی سے کیا ربط تھا۔
اب تک ساحل عمر نے اسے تنہا دیکھا تھا۔ مختلف انداز میں مختلف جگہوں پر۔ اس طرح خواب میں کسی اجنبی لڑکی کا دکھائی دینا کوئی ایسا پریشان کن مسئلہ نہ تھا۔ بہت سے لوگوں کو ایک ہی خواب ایک ہی انداز میں برسوں دکھائی دیتا رہتا ہے لیکن خواب میں پہلی بار خود کو اس لڑکی کے ساتھ دیکھنا اور اس طرح بات کرنا جیسے وہ ایک دوسرے کو برسوں سے جانتے ہوں۔ پھر اس کا اذیت میں مبتلا ہونا اور یہ بتانا کہ یہ اذیت اس کی وجہ سے اسے ملی ہے۔ کوئی نیلی آگ اسے جلا رہی ہے۔ آ گ تو سرخی مائل پیلی ہوتی ہے۔ یہ نیلی آگ کہاں سے آ گئی۔ اس سے آخر ایسی کیا غلطی سرزد ہوئی اگر کوئی غلطی ہوئی بھی تو وہ اس سے کس طرح متاثر ہوگئی۔ یہ بات سمجھ میں نہ آنے والی تھی۔
ساحل عمر کمرے کا دروازہ کھول کر لاؤنج میں پہنچا۔ اسے پیاس لگ رہی تھی۔ فریج سے ٹھنڈی بوتل نکال کر دو گلاس ٹھنڈا پانی پیا۔ ایک نظر اماں کے کمرے کی طرف ڈالی۔ ان کے کمرے کی لائٹ جلی ہوئی تھی۔ اس وقت دو بجے کا عمل تھا۔ وہ شاید تہجد کی نماز کے لیے اٹھی ہوں۔ وہ جلدی سے پانی پی کر اپنے کمرے میں آ گیا۔ اگر انہوں نے اسے اتنی رات گئے اپنے کمرے سے باہر دیکھ لیا تو سوال جواب کا سلسلہ شروع ہو جاۓ گا اور اس وقت وہ کسی بھی طرح کے سوال جواب کے موڈ میں نہ تھا
کمرے میں آ کر اس نے ٹیبل لیمپ بجھا کر ٹیوب لائٹ جلائی اور یونہی بے خیالی میں ٹہلنے لگا۔ اس کا دماغ اس معمے کو حل کرنے میں لگا ہوا تھا۔ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ محض خواب ہو حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو لیکن اس بات پر اس کا یقین کرنے کو جی نہیں چاہ رہا تھا۔ اس لڑکی کا کربناک چہرہ، نیلی آگ کا ذکر، اس تکلیف کا اسے مورد الزام ٹھہرانا سب سچ معلوم ہو رہا تھا لیکن اب مسئلہ یہ تھا کہ وہ اس بات کا کس طرح پتہ چلاۓ جس کی وجہ سے لڑکی کرب میں مبتلا ہوئی ہے
یہ سوچتے سوچتے وہ اس تصویر کے سامنے ٹھہر گیا۔ اس تصویر کو غور سے دیکھنے لگا۔ اس کی نظر اس کی پیشانی پر بیٹھے بچھو پرتھی۔ تب اسے اچانک بازغر یاد آیا۔ وہ اس بچھو کو دیکھ کر کیسا طیش میں آ گیا تھا۔ وہ بے اختیار اس بچھو پر جھپٹا تھا۔ اس نے ایک دو اجنبی نام بھی لیے تھے۔ اس نے دیکھا تھا کہ یہ بچھو دوڑ کر تصویر کے پیچھے چلا گیا تھا اور باوجود کوشش کے مل نہیں سکا تھا۔
اوہ اب سمجھ میں آیا۔ اس سے کتنی بڑی غلطی سرزد ہوئی ہے۔ اس نے اس لڑکی کی پیشانی پر ٹیکہ بنانے کے بجاۓ بچھو بٹھا دیا۔ تصویر انوکھی ضرور ہوگئی لیکن وہ بچھو لڑکی کی اذیت کا باعث بن گیا۔ اس خیال نے آہستہ آہستہ یقین کی صورت اختیا کر لی۔ اس کا دل مطمئن ہوتا چلا گیا۔
صبح اٹھتے ہی اس نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ فریم سے تصویر کو نکال کر اپنے اسٹوڈیو میں جا کر بورڈ پر لگایا اور ٹیوبوں سے مختلف رنگ نکال کر پلیٹ میں رکھے اور برش اٹھا کر مختلف رنگوں کی آمیزش کرنے لگا۔ اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ کیا کرنا ہے ۔ اگر چہ اس نے یہ بچھو بڑی محنت سے بنایا تھا اور وہ اس کی توقع سے کہیں اچھا بن گیا تھا۔ بڑا زبردست بہت جاندار لیکن اس بچھو کو صفحہ ہستی سے مٹاۓ بغیر چارہ نہ تھا۔ اس بچھو کو کسی کی پیشانی کا ٹیکا بنا کر اس نے بہت زیادتی کی تھی۔ وہ نازک سی لڑکی اگر اس بچھو کو اپنی پیشانی پر محسوس کر کے کسی کرب میں مبتلا تھی تو وہ حق پر تھی۔ہماری ناک پر اگر کبھی مکھی بیٹھ جاۓ تو ہم کتنے بے چین ہو جاتے ہیں۔
برش پر رنگ لگا کر وہ بچھو کو مٹانے لگا۔ اس نے طے کر لیا تھا کہ وہ اس بچھو کو مٹا کر اس کی جگہ ایک خوبصورت ٹیکہ بنائے گا۔ تب اس دلہن کی کچھ اور ہی شان نکل آۓ گی۔
ابھی اس نے اسٹروک لگانے کے لئے برش بچھو کے نزدیک کیا ہی تھا کہ اسے فورا اپنا ہاتھ پیچھے کر لینا پڑا۔
اس پچھو نے ایک دم سر اٹھایا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ بڑی تیزی سے پلٹ کر تصویر کے پیچھے چلا گیا تھا
ساحل برش میز پر پھینک کر فورا بورڈ کے پیچھے گیا کہ دیکھ سکے کہ وہ بچھو کدھر جا رہا ہے لیکن اتنی دیر میں وہ بچھو جانے کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔ ساحل عمر اسے ڈھونڈتا ہی رہ گیا۔ اس نے کمرے کا ہر گوشہ ہر کونہ تلاش کر لیا لیکن اس بچھو نے نہ ملنا تھا نہ ملا۔
اماں ناشتہ بنا کر ساحل عمر کو اٹھانے کے لیے اس کے کمرے کی طرف جانے لگیں تو اس نے اس کے اسٹوڈیو کا دروازہ کھلا پایا۔ انہوں نے اندر جھانک کر دیکھا تو ساحل عمر ادھر ادھر کچھ تلاش کرنے میں مصروف تھا۔
“بیٹا خیریت تو ہے یہ تم صبح ہی صبح کمرے میں کیا تلاش کر رہے ہو؟“ اماں نے دروازے پر کھڑے ہو کر پوچھا۔
“اماں بس خیریت نہیں ہے۔ ذراتم اندر آ کر دیکھو۔‘‘ اس نے اپنی پریشانی بیان کی۔
“ہاۓ کیا ہوا؟‘‘ اماں نے فورا اپنا دل تھام لیا اور بہت سنبھل سنبھل کر آگے بڑھیں پھر جب ساحل عمر کے نزدیک پہنچیں تو انہوں نے گھبرا کر پوچھا۔
’’ہاں کیا ہوا؟‘‘
“اماں یہ دیکھو ۔‘‘ اس نے تصویر کی طرف اشارہ کیا۔
”ارے بھیا وہ بچھو کہاں گیا ؟‘‘ وہ حیران ہو کر بولیں۔
’’اس کو ڈھونڈ رہا ہوں۔”
“یہ تم کیا کہہ رہے ہو ۔‘‘ اماں کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔
“میں یہ کہہ رہا ہوں اماں کہ اس دلہن کی پیشانی پر میں نے جو بچھو بنایا تھا وہ آنکھوں کے سامنے چل کر اس بورڈ کے پیچھے کہیں غائب ہو گیا۔‘‘ ساحل عمر نے ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا۔
“اماں کا تو یہ سن کر حال برا ہو گیا۔ وہ بھاگ کر فورا کمرے سے نکلیں اور دھپ ڈائٹنگ ٹیبل کی کرسی پر بیٹھ گئیں اور وہیں سے چلائیں۔’’ ساحل بیٹا فورا باہر آ جاؤ۔‘‘
“اماں آ رہا ہوں۔ ذرا ایک نظر اور ڈال لوں۔”
پھر وہ جب کمرے سے باہر آیا تو اماں دل پکڑے وحشت بھری آنکھوں سے اسے دیکھنے لگیں اور بولیں ۔’’ساحل وہ بچھو کیا واقعی غائب ہو گیا۔تم سچ کہہ رہے ہو؟‘‘
“ہاں اماں وہ بچھو واقعی غائب ہو گیا۔ میں بالکل سچ کہہ رہا ہوں۔‘‘ ساحل عمر نے سنجیدگی سے کہا
“بھیا تمہیں اس بات سے ڈرنہیں لگ رہا۔‘‘
”ہاں اماں مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ دیکھو میں کانپ رہا ہوں۔‘‘ ساحل عمر نے ہنستے ہوئے کہا۔
“بیٹا تمہیں مذاق سوجھ رہا ہے اور میرا دل بیٹھا جا رہا ہے۔ ہاۓ پتہ نہیں وہ کیا تھا میں تو اسے پہلی دفعہ دیکھ کر ہی ڈر گئی تھی۔ ساحل اب کیا ہو گا؟‘‘
اماں کچھ نہیں ہوتا آؤ ناشتہ کر لو۔‘‘ ساحل عمر نے بڑے اطمینان سے کہا اور پھر وہ خوشی سے ناشتہ کرنے میں مصروف ہو گیا۔
چاۓ پیتے ہوۓ اچانک اسے کچھ خیال آیا۔ اس نے اماں سے پوچھا۔ ’’اماں مرجینا کہاں ہے؟‘‘
“وہ تمہارے بیڈ روم کی صفائی کر رہی ہے۔‘‘ اماں نے بتایا۔
ملازمہ کا اصل نام تو شاہدہ تھا لیکن ساحل عمر نے اس کا نام مرجینا رکھا ہوا تھا۔ وہ سانولے رنگ کی ایک نوجوان لڑکی تھی ۔ پہلے اس گھر میں اس کی ماں کام کرتی تھی لیکن جب سے وہ بیمار رہنے لگی تھی تو شاہدہ نے کام شروع کر دیا تھا۔ اماں کو اس کا کام اس قدر پسند آیا کہ انہوں نے پھر اسے مستقل کر لیا۔ ساحل عمر نے اس کا نام مرجینا کیوں رکھا تھا۔ یہ بات خود اسے بھی معلوم نہ تھی۔بس پہلے دن جیسے ہی اس نے اسے دیکھا مرجینا کہہ کر پکارنا شروع کر دیا۔ کچھ عرصہ کے بعد اماں نے بھی اس کا نام قبول کر لیا۔ وہ بھی اسے مرجینا کہہ کر بلانے لگیں اور شاہدہ اس نئے نام پر خوشی خوشی دوڑی آتی
“ذرا اسے بلا کر میرے اسٹوڈیو کی صفائی کرواؤ۔‘‘ ساحل عمر نے کہا۔
“اچھا بلاتی ہوں۔‘‘ اماں یہ کہہ کر اٹھنے لگیں۔
“پر ایک بات سنو اماں. اسے کوئی کہانی سنانے نہ بیٹھ جانا ورنہ وہ کمرے میں گھسے گی ہی نہیں۔”
“اتنا میں سمجھتی ہوں۔“ اماں نے اسے گھورتے ہوۓ کہا۔
“ہاں اتنا ضرور کہ دینا کہ کوئی کیڑا مکوڑا نظر آۓ تو مجھے فورا بلا لے‘‘ ساحل عمر نے ہدایت کی
“ٹھیک ہے۔” وہ جاتے ہوۓ بولیں۔
مرجینا نے ساحل عمر کے اسٹوڈیو کی ایک ایک چیز صاف کر دی لیکن اسے لال بیگ کے سوا وہاں کوئی کیڑا نہ دکھائی دیا۔
ساحل عمر نے بچھو کی جگہ پر کر کے اس کی پیشانی پر ٹیکہ بنا دیا۔ ٹیکہ بن جانے کے بعد اس لڑکی کی پیشانی جگمگا اٹھی۔
دو تین گھنٹے کی محنت کے بعد وہ تصویر فریم ہو کر پھر اپنی جگہ پہنچ گئی۔ اب وہ مکمل دلہن لگ رہی تھی۔ اسے اس روپ میں دیکھ کر ساحل عمر کے دل کو خاصا سکون محسوس ہوا
اماں نے اسے دیکھا تو وہ اسے دیکھتے ہی نہال ہو گئیں بولیں ۔’’ہائے کتنی پیاری دلہن ہے۔ کاش میرے ساحل کو ایسی دلہن مل جائے۔‘‘
“اماں آپ کے ساحل کو ایسی دلہن مل سکتی ہے” ساحل عمر نے ہنس کر کہا۔
“کہاں؟ جلدی بتاؤ میں آ ج ہی اس کے پاس جاتی ہوں۔‘‘
“اماں رات کا انتظار کر لو۔“ وہ بڑی سنجیدگی سے بولا
’’رات کو کیا ہوگا؟‘‘ اماں نے حیران ہو کر پوچھا۔
’’رات کو یہ ہو گا اماں کہ وہ آپ کے خواب میں آ جاۓ گی۔ پھر اس سے پتہ پوچھ لینا”
“تم کبھی سنجیدہ نہیں ہو گے ساحل۔‘‘ وہ تنک کر اٹھیں اور اس کے کمرے سے نکل گئیں۔
وہ بھی ان کے ساتھ ہی باہر نکلا لیکن اس نے انہیں نہیں روکا۔ وہ کچن کی طرف چلی گئیں ساحل عمر کو بیٹھے بیٹھے ایک خیال آیا تھا۔ وہ اس خیال کی تصدیق کر لینا چاہتا تھا۔ وہ اپنے اسٹوڈیو میں داخل ہوا۔ اس نے انگریزی کا وہ رسالہ اٹھالیا جس میں بچھو والے ریفرنس کی کٹنگ رکھی تھی۔ اس نے صفحات الٹ کر وہ ریفرنس نکال لیا۔
جب اس نے ریفرنس پر نظر ڈالی تو حیرت کا جھٹکا لگا۔ ریفرنس میں ہر چیز موجودتی زنانہ ہاتھ بھی موجود تھا اور ہاتھ کے پس منظر میں جو کچھ تھا وہ بھی موجود تھا۔ اگر کوئی چیز نہیں تھی۔ تو بچھو تھا۔
اس عورت کا ہاتھ جوں کا توں پھیلا ہوا تھا لیکن ہاتھ سے بچھو غائب تھا۔
یہ کیا ہوا؟ وہ پریشان ہو کر اسٹول پر بیٹھ گیا۔ اس کی نظریں ریفرنس پرتھیں۔ اس دور کے ہاتھ پر کسی قسم کا نشان نہ تھا۔ پینٹنگ پر بچھو کا نشان رہ گیا تھا۔ اس ریفرنس پر کسی قسم کی خراش بر موجود نہ تھی۔ یہ نا قابل یقین بات تھی لیکن جو کچھ ہوا تھا اس کی نظروں کے سامنے ہوا تھا۔ اس پر کسی قسم کے شبہ یا وہم کی گنجائش نہ تھی۔ وہ بچھو اس کی پیٹنگ سے غائب ہوا تھا۔ اس نے خود ان آنکھوں سے تصویر کے پیچھے جاتے ہوئے دیکھا تھا اور اب وہ اصل تصویر سے بھی غائب تھا۔
آخر وہ کیا چیز تھا؟
اس کا جواب اس کے پاس نہ تھا۔ اس کا جواب کسی کے بھی پاس نہ تھا۔ رات کو دس بجے کے قریب وہ ٹہلنے کے لیے نکلا ۔ چورنگی تک گیا۔ وہاں پان والے سے پان خریدے اور پھر واپس گھر کی طرف چل دیا۔ جب وہ اس درخت کے نزدیک پہنچا جس کی اور سے نکل کر اچانک بازغر اس کے سامنے آ گیا تھا تو اس نے درخت کی طرف بغور دیکھا۔ وہاں کچھ نہ تھا۔
بازغر جاتے ہوۓ ایک ٹیلی فون نمبر دے گیا تھا اور ہدایت کر گیا تھا کہ تصویر تیار ہو جانے کے بعد وہ اس نمبر پر اسے فون کر دے۔ وہ بھی بڑا عجیب اور پر اسرار شخص تھا۔ اس نے اس سے پہلے کبھی اس شخص کو نہیں دیکھا تھا لیکن وہ اسے بہت اچھی طرح جانتا تھا۔ وہ بغیر پریشانی کے اس کے گھر پہنچ گیا تھا۔ چیتے کی تصویر پر اگرچہ اس نے کام شروع کر دیا تھا لیکن اس کے دل میں وسوسوں نے جنم لینا شروع کر دیا تھا۔ ویسے اس تصویر پر کام کرتے ہوئے کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں ہوئی تھی۔ گھر پہنچ کر کپڑے تبدیل کئے اور ڈیک پر ایک کیسٹ لگا کر اطمینان سے بیڈ پر لیٹ گیا کچھ دیر کے بعد ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔گھنٹی کی آواز سن کر اس نے دیوار گیر گھڑی پر نظر ڈالی ۔ گیارہ کر پانچ منٹ ہو ر ہے تھے۔ یہ یقینا ورشا کا فون ہے۔ جب سے اس نے اپنی تصویر بھیجی تھی اس کے بعد اس کا کوئی فون نہیں آ یا تھا جبکہ ساحل عمر اس رات اس کے فون کی توقع کر رہا تھا۔ ریسیور اٹھانے سے پہلے اس نے ڈیک کی آواز خاصی دھیمی کر دی۔ پھر ریسیور اٹھا کر بڑی چاہت سے بولا۔”جی”
“کہو رانجھن کیسے ہو؟‘‘ ادھر سے ورشا کی کھنکتی ہوئی آواز سنائی دی۔
“اتنے دن کے بعد کیوں فون کیا؟‘‘ ساحل عمر نے شکوہ کیا۔
“تو تمہیں اب میرے فون کا انتظار رہنے لگا ہے۔‘‘ وہ معنی خیز انداز میں ہنسی۔ “رانجھن خیریت تو ہے…؟”
“جی اللہ کے فضل و کرم سے خیریت سے ہوں اور آپ کی خیریت نیک مطلوب چاہتا ہوں۔”
جواب میں وہ زور سے ہنس دی۔ اس کی ہنسی میں اس کی آواز میں ایک عجیب قسم کی کشش تھی ۔ ایسی کشش جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا تھا۔ صرف محسوس کیا جا سکتا تھا۔
“کہو میں کیسی لگی؟‘‘ وہ بڑے مترنم انداز میں گویا ہوئی۔
“وہ تم کہاں تھیں وہ تو تمہاری تصویر تھی۔‘‘ ساحل عمر نے وضاحت کی۔
“چلو تصویر کے بارے میں ہی بتا دو ۔‘‘
“بہت ز پر دست جس فوٹوگرافر نے بھی بنائی خوب بنائی۔‘‘
“میں چاہتی ہوں کہ اب تم اسے بناؤ۔‘‘ فرمائش ہوئی۔
“بنا دوں گا۔‘‘ ساحل عمر نے فورا وعدہ کر لیا۔’’ میں آج کل ایک پینٹنگ پر کام کر رہا ہوں وہ مکمل ہو جاۓ تو پھر اسے بنا دوں گا”
“کس کی پینٹنگ ہے؟‘‘ اس نے پوچھا۔
“جب مکمل ہو جاۓ گی تو تمہیں بتا دوں گا آ کر دیکھ جانا۔” اس نے سادگی سے کہا۔
“ہائے رانجھن مجھ سے ملنے کی خواہش ظاہر کی بھی تو کس انداز میں؟‘‘
“ملنا نہیں چاہتیں؟” اس نے پوچھا۔
“کس کافر کو انکار ہے۔‘‘ اس نے بڑے پیار بھرے لہجے میں کہا۔’’میرا بس چلے تو ابھی تم تک پہنچ جاؤں “
“اب ایسی بھی کیا بے قراری‘‘ ساحل عمر ہنسا۔
“تمہیں چین ہے؟‘‘ اس نے ایک عجیب سوال کیا۔
“نہیں۔” ساحل عمر نے کہا پھر بولا ۔’’ورشا ایک بات پوچھوں؟‘‘
“ہاں پوچھو میرے بارے میں ایک بات نہیں ہزار باتیں پوچھو۔ اتنا پوچھو کہ میں میں نہ ر ہوں۔ میں تو جانے کب سے ایسے شخص کو تلاش کر رہی ہوں جو مجھے پوچھے جو مجھے بوجھے‘‘ وہ عجیب انداز میں گویا ہوئی۔
“تمہاری پیٹھ پر وہ نشان کیسا ہے۔ بالکل بچھو لگتا ہے۔‘‘ اس نے پوچھا۔
“لگتا کیا ہے وہ ہے ہی بچھو۔ یہ نشان میری پیٹھ پر پیدائشی ہے۔” ورشا نے بتایا۔
“کیا بچھوؤں کے خاندان سے ہو؟‘‘
“یہی سمجھ لو ذرا میرے ڈنک سے بچے رہنا۔‘‘ وہ ہنسی۔
“میں تمہیں کب دیکھوں گا؟‘‘ اس نے اس کی بات کو نظر انداز کر کے سوال کیا۔
”کل ہی۔‘‘ اس نے فورا ہی فیصلہ سنا دیا۔
’’ کہاں اور کیسے؟‘‘ ساحل عمر نے خوش ہو کر پوچھا۔
“کل طاہرہ زیدی کی تصویروں کی نمائش کا افتتاح ہو رہا ہے۔ میں وہاں آؤں گی تم بھی آ جانا۔” اس نے پروگرام بتایا۔
“میں عام طور پر اس طرح کی نمائشوں میں نہیں جاتا لیکن تمہارے لیے آؤں گا۔ وقت اور آرٹ گیلری کا بتاؤ۔‘‘
ورشا نے آرٹ گیلری کا نام اور وقت بتا دیا۔
“لیکن میں تمہیں پہچانوں گا کیسے؟‘‘ ساحل عمر نے کہا۔ ’’میں نے صرف تمہاری تصویر دیکھی ہے اور وہ بھی پشت۔”
”میں تمہیں پہچانوں گی۔ تم پریشان نہ ہو۔ ویسے تم بھی مجھے پہچان لو گے۔ میں کالی ساڑھی میں ہوں گی۔ ٹھیک ہے پھر کل ملاقات ہو گی۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے ٹیلی فون بند کر دیا۔
یہ اس کی بڑی عجیب بات تھی۔ وہ اچانک ہی ٹیلی فون بند کر دیتی تھی۔ دوسری طرف سے ہونے والے سوال کے جواب کی پرواہ نہیں کرتی تھی بہر حال ساحل عمر ملاقات طے ہو جانے پر بہت خوش تھا۔ اس نے بڑی سرشاری سے ریسیور سیٹ پر رکھا اور ریموٹ کنٹرول اٹھا کر ڈیک کی آواز ایک دم اونچی کر دی۔ پھر اسے خیال آیا کہ کہیں اماں نماز یا اور کوئی وظائف میں مصروف نہ ہوں۔ اس نے آواز دھیمی کر دی اور اطمینان سے بیڈ پر لیٹ کر سوچنے لگا کہ ورشا کیسی ہو گی۔
ورشا کو اس نے نہیں دیکھا تھا۔ محض اس کی آواز سنی تھی اور صرف آواز سن کر کسی کی شکل و صورت کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔ اگرچہ بعد میں اس نے اپنی ایک تصویر ارسال کی تھی۔ اس تصویر سے بھی اس کی صورت کا اندازہ ناممکن تھا کیونکہ اس تصویر میں سر اور پیٹھ نمایاں تھے ۔ اس نے سوچا کہیں ایسا تو نہیں کہ ورشا شکل وصورت کی معمولی ہو یا بدصورت ہو تبھی اس نے سامنے کی تصویر نہیں بھیجی۔ ویسے وہ تصویر اپنے انداز کی وجہ سے منفرد تھی اور اس میں وہ جتنی نظر آ رہی تھی دلفریب تھی۔ وہ خودکیسی تھی اس راز کے کھلنے میں اب زیادہ دیر نہیں تھی کل معلوم ہو جانا تھا۔
میوزک سنتے سنتے اسے نیند آنے گی تو اس نے ریموٹ کے ذریعہ ڈیک آف کر دیا اور سو گیا۔
نیند گہری ہوئی تو خوابوں کی دنیا روشن ہو گئی۔ وہ ایک انتہائی پر فضا مقام تھا۔ نیلا صاف آسمان، برف پوش پہاڑ، اونچے اونچے درخت، سرسبز شاداب علاقہ، بہتا ہوا شفاف دریا، وہ ایک پتھر پر بیٹھی دریا کے پانی سے کھیل رہی تھی۔ وہ بہت خوش نظر آ رہی تھی اور اتنی خوش تھی کہ وہ دریا کا پانی کسی پر اچھال رہی تھی۔
تب اس نے دیکھا کہ وہ جس پر خوشی میں پانی اچھال رہی ہے وہ کوئی اور نہیں خود ساحل عمر ہے اور وہ پانی کے چھینٹوں سے بچنے کے لیے اپنے دونوں ہاتھ پھیلاۓ ہوۓ ہے۔
“مت پھینکو پانی میرے کپڑے بھیگ رہے ہیں۔‘‘ ساحل عمر نے احتجاج کیا۔
“تو بھیگنے دو۔‘‘ وہ ایک ادائے بے نیازی سے بولی اور ایک مرتبہ پھر پانی اس کے اوپر اچھال دیا۔
آج تم بہت خوش ہو خیر تو ہے۔‘‘ ساحل عمر نے پوچھا۔
“ہاں آج میں بہت خوش ہوں۔‘‘ اس نے مسکرا کر کہا۔
“ایسی کیا خوشی مل گئی آخر؟‘‘ ساحل عمر نے پوچھا۔
“خوشی تو تمہی نے دی ہے کیا تم نہیں جانتے۔‘‘ اس نے بتایا۔
تمہیں رنج دیا ہے۔
“عجیب بات ہے میں نے تمہیں خوشی دی ہے؟ اس سے پہلے میں نے تمہیں رنج دیا ہے نہ تو مجھے رنج دینے کی وجہ معلوم ہوسکی اور نہ اب خوشی کی وجہ معلوم ہے۔ کچھ بتانا پسند کرو گی؟‘‘ ساحل عمر نے پوچھا
“خوشی تم نے میرے ماتھے پر ٹیکہ سجا دیا۔ ایک عذاب سے مجھے نجات دلا دی۔ اس سے زیادہ خوشی کی بات اور میرے لیے کیا ہوسکتی ہے اور یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا۔‘‘
“اس کا مطلب ہے کہ میرا اندازہ صحیح تھا اس بچھو نے تمہیں پریشان کیا ہوا تھا؟‘‘
“ہاں اور کیا ؟‘‘
“لیکن میں اسے مٹا نہ سکا۔ وہ فرار ہو گیا۔” ساحل عمر کے لہجے میں پچھتاوا تھا۔
’’ کاش! تم اسے مار دیتے ۔‘‘ وہ بولی۔
“وہ میرے ہاتھ لگتا جب نا۔ میں نے تو اسے فنا کرنے کے لیے برش اٹھالیا تھا۔“
“وہ بہت خطرناک ہے۔‘‘ اس کے لہجے میں خوف تھا۔
“وہ گیا کدھر؟‘‘ ساحل عمر نے پو چھا۔
“میں نہیں جانتی۔ بس اتنا جانتی ہوں کہ اب وہ تمہیں کہیں نظر آۓ تو اس سے دور ہو جانا”
“اسے مار کیوں نہ دوں۔ اس نے پوچھا۔
“تم اسے نہیں مار سکتے۔ کاش تم اسے مار سکتے‘‘ اس نے عجیب بات کہی۔
“وہ ہے کیا بلا ؟‘‘ ساحل عمر نے سوال کیا۔
’’وہ اعور ہے۔ اس نے بتایا۔
“یہ اس کا نام ہے۔‘‘ ساحل عمر نے پوچھا۔
“ہاں یہ اس خبیث کا نام ہے۔ وہ ایک شیطان کا بیٹا ہے۔”
”تم کیا ہو؟” ساحل عمر نے براہ راست سوال کیا۔
“میں رشا ملوک ہوں۔‘‘ اس نے اپنا نام بتایا۔
“رشا ملوک۔‘‘ اس نے حیرت سے دہرایا۔
’’یہ نام میرا سنا ہوا ہے۔ اوہ ہاں یاد آیا۔ تمہارا اور بچھو کا نام بازغر نے لیا تھا۔ کیا تم بازغر کو جانتی ہو۔“
’’اوہ تو تہکال تم تک پہنچ گیا۔‘‘ اس کے لہجے میں کسی قد ر خوشی تھی۔
’’وہ چیتے کی تصویر؟‘‘ ساحل عمر نے پوچھا۔
“ہاں اسے جتنا جلد ممکن ہو سکے بنا دو۔ وہ بڑی خوبیوں کا مالک ہے۔ وہ میرا محافظ ہے وہ تمہاری بھی حفاظت کرے گا۔
“اس کی تصویر جلد از جلد مکمل کر لو۔ وقت قریب آ رہا ہے ۔“
“کیسا وقت؟“
“ایک خوشگوار وقت ایک روشن لمحہ۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور پتھر پر کھڑی ہوگئی پھر بولی۔ ’’وہ مجھے لینے آیا ہے۔ میں جا رہی ہوں میری ایک بات دھیان سے سن لو۔ اپنا خیال رکھنا کسی کے فریب میں مت آ جانا۔‘‘
تب اچانک ایک بادل کا ٹکڑا کہیں سے نمودار ہوا۔ وہ اس گہرے بادل میں چھپ گئی۔ ایک لمحے بعد وہاں کچھ بھی نہ رہا۔ خالی پتھر رہ گیا۔ بادل اسے اڑا کر لے جا چکا تھا۔
پھر ایک دم منظر بدل گیا۔ ساحل عمر نے دیکھا کہ ایک بہت بڑا بچھو ایک پتھر سے اڑ کر اس کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس بچھو کا سائز ایک بڑے کپھوے کے برابر تھا۔ وہ اسے دیکھ کر خوفزدہ ہو گیا۔ وہ پلٹ کر بھاگا تو ایک پتھر ہے اس کا پیر پھسل گیا۔ تبھی اس کی آنکھ کھل گئی
اس نے خود کواپنے بیڈ پر پایا۔ کمرے کی لائٹ جل رہی تھی۔ اسے یاد آیا کہ اس پر نیند کا اس قدر غلبہ تھا کہ وہ ڈیک بنر کرتے ہی کروٹ بدل کر سو گیا تھا۔ اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ وہ اٹھ کر باتھ روم گیا۔ ۔ پھر اس نے ٹھنڈا پانی پیا اور لائٹ بجھا کر دوبارہ لیٹ گیا۔ اس خواب کو دیکھ کر جہاں وہ خوف میں مبتلا ہوا تھا وہاں اسے اطمینان بھی تھا کہ رشاملوک اس کی وجہ سے جس اذیت میں مبتلا تھی اب وہ پریشانی دور ہو گئی تھی۔ اسے یہ بھی خوشی تھی کہ اس نے اس کی پریشانی کا صحیح اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی سرشاری میں اسے دوبارہ بہت جلد نیند آ گئی۔
شام کو وہ وقت مقرر پر ورشا کے بتاۓ ہوۓ مقام پر پہنچ گیا۔ تصاویر کا افتتاح ہو رہا تھا۔ آرٹ گیلری میں خاصا رش تھا۔ مردوں سے زیادہ عورتوں کی تعداد تھی۔ وہ بھی اس رش میں شامل ہو گیا اور ایک ایک کر کے تصویروں کو دیکھتا آگے بڑھنے لگا۔ تصویر کے ساتھ ساتھ وہ اپنے دائیں بائیں بھی ایک نظر ڈال لیتا تھا۔ شاید کوئی کالی ساڑھی والی نظر آ جاۓ۔
ایک تصویر کو دیکھتے ہوۓ اس کے کانوں میں ورشا کا نام پڑا۔ اس نے بڑی بے نیازی سے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ دولڑ کے محو گفتگو تھے۔ اگر چہ دھیمے لہجے میں بات کر رہے تھے لیکن وہ ساحل کے اتنے نزدیک تھے کہ ساری بات اس کی سمجھ میں آ رہی تھی۔
”تم نے دیکھا یہاں ورشا آئی ہوئی ہے۔‘‘ لہجے میں بڑی دلچسپی تھی۔
” کہاں ہے وہ قیامت؟‘‘ دوسرا بے قرار ہو کر بولا۔
“میں نے ابھی اسے طاہرہ زیدی کے ساتھ دیکھا تھا۔” پہلے والے لڑ کے نے بتایا۔
“کیا غضب کی لڑکی ہے یار میرا جی چاہتا ہے اس کا مجسمہ بناؤں۔” دوسرا لڑ کا بولا۔
’’ہاں بنا سکتے ہو مگر خواب میں۔‘‘
اس بات پر دونوں ہنستے ہوۓ آگے بڑھ گئے۔ ان لڑکوں کے آ گے بڑھ جانے کے بعد اس نے ذرا پیچھے ہٹ کر ہال میں طائرانہ نظر ڈالی وہ جہاں تک دیکھ سکتا تھا اس نے دیکھا مگر اسے کالی ساڑھی میں کوئی لڑ کی نظر نہیں آئی۔ اور وہ پھر تصویریں دیکھنے لگ گیا
پھر اب آخری دو چار تصویریں رہ گئی تھیں۔ ورشا ابھی تک اس کے سامنے نہیں آئی تھی جبکہ وہ اس کی موجودگی کے بارے میں ان لڑکوں کی زبانی سن چکا تھا۔ آخر وہ اس کے سامنے کیوں نہیں آئی
اس نے تو کہا تھا وہ اسے اچھی طرح پہچانتی ہے اسی اثناء میں ایک دو خواتین کالی ساڑھی میں نظر آئی تھیں لیکن وہ اجنبیوں کی طرح اس کے پاس سے گزر گئی تھیں۔ جب وہ آخری تصویر دیکھ رہا تھا تو اس کے دل پر اداسی سی چھا گئی تھی۔ اسے آرٹ گیلری میں گھومتے ہوئے خاصی دیر ہو گئی تھی۔ اس اثناء میں اسے اپنے کئی شناسا ملے تھے لیکن اس نے ان سے واجبی سی گفتگو کر کے جلد اپنا پیچھا چھڑا لیا تھا تا کہ ورشا کو اس کے نزدیک آنے میں کوئی جھجک محسوس نہ ہو۔ اب وہ آخری تصویر جو باہر نکلنے والے دروازے کے نزدیک تھی آ پہنچا تھا اور وہ ابھی تک نہیں پہنچی تھی
ورشا سے اسے اس طرح کے رویے کی امید نہ تھی۔ آخری تصویر دیکھ کر وہ مایوسانہ قدم اٹھاتا ہوا دروازے کی طرف بڑھا۔
اچاک کسی نے پیچھے سے اس کے کند ھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
’’رانجھن بغیر ملے ہی چلے جاؤ گے۔“ ساحل عمر نے خوشی سے مڑ کر دیکھا۔
اس وقت گولی چلنے کی آواز آئی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: