Anwar Aleegi Urdu Novels

Bichoo Novel By Anwar Aligi – Episode 5

Bichoo Novel By Anwar Aligi
Written by Peerzada M Mohin
بچھو از انوار علیگی – قسط نمبر 5

–**–**–

یوں تو ورشا کا ملنا بھی کسی دھماکے سے کم نہ تھا لیکن اس وقت حقیقتا ایک دھما کا ہوا تھا اور لوگوں میں بھگدڑ بچ گئی تھی۔
یہ دونوں دروازے کے نزدیک ہی تھے۔ اس لیے ورشا اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے باہر نکال لائی تھی۔ اس نے کہا تھا۔’’ساحل جلدی سے یہاں سے نکلو‘‘ اور وہ بڑی تیزی سے اس کے ساتھ باہر نکل آیا تھا۔
دوسرے دن گولی چلنے کی وجہ معلوم ہوئی۔ اصل میں طاہرہ زیدی کا ایک نوجوان سے جھگڑا ہو گیا تھا۔ بات اتنی آگے بڑھی کہ اس نو جوان نے غصے میں آ کر ریوالور نکال لیا اور گولی چلا دی۔ وہ نوجوان ایک بڑے سیاست داں ایک بڑے زمیندار کا بگڑا ہوا بیٹا تھا۔ اسے طاہرہ زیدی کی ایک تصویر پسند آ گئی۔ اس نے طاہرہ زیدی سے اس تصویر کو خریدنے کی خواہش ظاہر کی۔
اتفاق سے کچھ دیر پہلے ہی وہ تصویر بک چکی تھی۔ طاہرہ زیدی نے اس نوجوان سے معذرت کرتے ہوۓ کہا۔’’سوری سر وہ تصویر تو فروخت ہو چکی ہے‘‘
“کتنے میں کی ہے؟‘‘ اس نوجوان نے بے نیازی سے پوچھا۔
’’جی ساٹھ ہزار میں۔‘‘ طاہرہ زیدی نے سادگی سے کہا۔
”میں اس کے ستر ہزار دینے کو تیار ہوں اور وہ بھی کیش ہاتھ کے ہاتھ۔‘‘ اس نو جوان کے لجے میں بڑا تکبر تھا۔’’ آپ مجھے جانتی ہونگی۔ بات یہ ہے کہ مجھے جب کوئی چیز پسند آ جاتی ہے تو میں اسے چھوڑتا نہیں‘‘
“آپ کسی منڈی میں نہیں آرٹ گیلری میں کھڑے ہیں ذرا خود کو سنبھال کر بات کیجئے۔” طاہرہ زیدی نے بہت ملائمت سے کہا۔ ’’رہ گئی یہ بات کہ آپ کون ہیں؟ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں آپ کو بالکل نہیں جانتی۔ تصویر کے بارے میں میں آپ کو بتا چکی ہوں کہ وہ میں فروخت کر چکی ہوں اب آپ مجھے اس کے ایک لاکھ روپے بھی دیں گے تو میں یہ تصویر آپ کے حوالے نہیں کروں گی۔”
“پر محترمہ آپ میری بات پوری توجہ سے سن لیں اگر یہ تصویر مجھے نہ ملی تو پھر کسی کو بھی نہیں ملے گی۔‘‘ یہ کہہ کر وہ تصویر کی طرف بڑھا۔
طاہرہ زیدی یا وہاں موجود کسی کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی کہ وہ کیا کرنے جا رہا ہے۔
کوئی اس انتہائی احمقانہ قدم کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ اس نے تصویر کے سامنے جا کر آ نا فاناً کندھے پر لٹکا ہوا ریوالور اتارا اور اس کے خول سے ریوالور نکال کر تصور کے چہرے کا نشانہ لیا۔ ریوالور تانتے دیکھ کر لوگ فوراً ادھر ادھر ہٹ گئے ۔ اس نے گولی چلانے میں دیر نہ کی۔
تصویر کی پیشانی میں سوراخ ہو گیا۔ طاہرہ زیدی اپنی تخلیق کے ساتھ ایسا سفاکانہ سلوک دیکھ کر اپنے ہوش گنوا بیٹھی
وہ نوجوان اپنے حواریوں کے ساتھ پورے اطمینان کے ساتھ آرٹ گیلری سے باہر نکلا اور اپنی پجیرو میں بیٹھ کر اپنی راہ ہولیا۔ اس کی راہ روکنے والا کوئی نہ تھا۔ اس کا کوئی کچھ نہ بگاڑ سکا۔ خیر گولی کی آواز سن کر جب ورشا اسے باہر نکال لائی تو اس نے پوچھا۔’’ رانجھن تمہاری گاڑی کہاں کھڑی ہے؟‘‘
“وہ سامنے۔‘‘ ساحل عمر نے اس کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
ورشا کے چہرے پر بلا کی معصومیت تھی۔ اس کا جسم قیامت خیز تھا اور اس کا لباس ہیجان خیز۔ وہ کالی ساڑھی میں چھپائے نہیں چھپ رہی تھی ۔
“اندر پتا نہیں کیا ہوا ہے۔ میں آج کی شام برباد کرنا نہیں چاہتی۔ آؤ ساحل پر چلیں۔” اس کا نرم ملائم ہاتھ ابھی ساحل عمر کے ہاتھ میں تھا۔ اس نے اس ہاتھ کو مضبوطی سے تھام لیا اور تیزی سے اپنی گاڑی کی طرف بڑھا۔ وہ جلد از جلد اس افراتفری کی فضا سے نکل جانا چاہتا تھا۔
“تم کہاں جاؤ گی ساحل تو تمہارے پاس ہے۔” اس نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوۓ کہا۔
“سمندر پر چلو۔‘‘ اس نے اسے تیکھی نظروں سے دیکھا۔
“میں کسی سمندر سے کم ہوں کیا؟‘‘ ساحل عمر نے گاڑی کی اسپیڈ بڑھاتے ہوۓ کہا۔
“کچھ دنوں میں پتہ چل جاۓ گا کہ کتنے گہرے ہو؟” وہ ہنس کر بولی۔ اس کی ہنسی میں پوری کشش تھی۔ جب وہ ہنسی تو اس کے گالوں میں دو گڑھے پڑ گئے۔ وہ ان گڑھوں پر مرمٹا۔
“اتنا آسان نہیں ہے مجھے پالینا۔‘‘ ساحل عمر نے پورے یقین سے کہا۔
’’کلفٹن چلو۔‘‘ ورشا نے اس کے جملے کا کوئی اثر نہ لیا۔
“ٹھیک ہے“ ساحل عمر نے کہا۔’’ور شا ایک بات کہوں ۔‘‘ “ہوں ۔‘‘ اس نے پیار بھری ہوں کی۔
تمہارا نام ورشا مناف کے بجاۓ ورشا ڈمپل ہونا چاہیئے ۔”
اس کی یہ بات سن کر وہ زور سے ہنس دی۔ اس کے رخساروں کے گڑ ھے اور نمایاں ہو گئے۔ پر ایک دم ہی اس نے ایک عجیب سوال کر دیا۔
’’ رانجھن میں تمہیں کیسی لگی؟‘‘
” بالکل ہیر جیسی، کھیر جیسی، شیر جیسی۔” ساحل عمر نے ہنس کر کہا۔ وہ مذاق کے موڈ میں تھا۔
“میں ورشا ہوں یا عید ہوں۔”
“تم کسی جھیل پر پڑتی چاندنی ہو۔“ ساحل عمر نے سنجیدگی سے کہا۔
”شاعر ہو؟‘‘ تھا نہیں ہو گیا ہوں ابھی ابھی کسی کو دیکھ کر
’’رانجھن جھوٹ مت بولو ۔‘‘
“رانجھا بھی کہتی ہو اور جھوٹا بھی کہتی ہو۔” ورشا مسکرا کر رہ گئی۔ کچھ بولی نہیں۔
کلفٹن کے ساحل پر پہنچ کر انہوں نے ایک سنسان سی جگہ تلاش کی اور وہ دونوں دیوار پر بیٹھ گئے۔ پاؤں انہوں نے پتھروں پر رکھ لیے یہ سورج ڈوبنے کی تیاری کر رہا تھا۔ سمندر کی لہریں کافی آگے تک آ کر پلٹ رہی تھیں ۔ سامنے ایک فیملی لہروں سے کھیل رہی تھی۔ ان کے نزدیک ایک اونٹ والا اپنا اونٹ لیے کھڑا تھا۔ ایک دو گھوڑے والے بھی ادھر ادھر گھوم رہے تھے۔
لہریں لیتا سمندر، تھال نما سورج، سرخی مائل آسمان عجیب منظر تھا
“ورشا تمہیں سمندر کیسا لگتا ہے؟‘‘
”تم جیسا۔‘‘ اس نے بلا تکلف جواب دیا۔۔
’’اور میں کیسا ہوں۔‘‘
”سمندر جیسا۔“
“گویا میں اور سمندر اصل میں ایک ہیں؟‘‘ اس نے معنی خیز انداز میں کہا۔
“ہاں ساحل اور سمندر، جیسے چولی اور دامن، چاند اور چکور، جیسے بادل اور برسات جیے ساز اور آواز جیسے گھنگھرو اور پاؤں جیسے…….”
“جیسے انسان اور شیطان۔” ساحل عمر نے ہنس کر کہا۔ وہ بھی ہنس دی۔
سرخ ہوتی دھوپ میں اس کا سفید چہرہ ایک دم گلنار ہو رہا تھا۔ تیز ہوا اس کی ریشمیں زلفوں کو اس کے چہرے پر بکھیر رہی تھی۔ ساحل عمر اس کا چہرہ غور سے دیکھنے لگا۔
“ساحل تمہیں ایک بات بتاؤں مجھے شیطان بہت اٹریکٹ کرتا ہے۔ اس نے ایک عجیب بات کہی۔
“واقعی کیا تم سنجیدہ ہو۔ وہ تھوڑا سا پر یشان ہوا۔ “
“ہاں ساحل یہ ہماری عورتیں بچھو اور سانپ سے بہت ڈرتی ہیں۔ بچھو اور سانپ تو بہت بڑی بات ہے بلی دیکھ کر ان کی جان نکلتی ہے لیکن میں سانپ بچھو سے بالکل نہیں ڈرتی چھپکلی تو خیر کوئی چیز ہی نہیں میرے لیے۔ یہ بات کہتے ہوئے اچانک اس کے چہرے میں تبد یلی آ گئی۔ کوئی ایسی تبدیلی که ساحل عمر کو اس کے چہرے سے نظریں ہٹانا پڑیں۔ خوف کی ایک لہر اسے اپنے جسم میں سرایت کرتی ہوئی محسوس ہوئی۔ تب وہ ایک دم کھلکھلا کر ہنس دی۔
‘‘ڈر گئے ۔” ساحل عمر ایک لمحے کو واقعی ڈر گیا تھا لیکن یہ ایسی بات تھی جو ظاہر نہیں کی جاسکتی تھی۔ وہ مسکرا کر بولا۔
’’ہاں بھئی ایسی لڑ کی سے جو سانپ کچھو سے نہ ڈرتی ہو اور جسے شیطان پسند ہو ایسی لڑکی سے ڈرنا ہی چاہیے۔‘‘
اس نے بات کو مذاق میں اڑانا چاہا۔
“وہ ذرا سورج کو دیکھو۔‘‘ ورشانے بات کا رخ موڑا۔
ساحل عمر نے سامنے نظر کی۔ سورج بالکل لال ہو کر سمندر میں اترنے کو تھا۔
“سورج اپنے جلے ہوۓ بدن کے ساتھ وقت کے سمندر میں غروب ہو رہا ہے۔‘‘ وہ بولی۔
“بہت خوب تمہیں تو شاعرہ ہونا چاہیے تھا۔‘‘ وہ خوشدلی سے بولا۔
“میں ہوں نا شاعرہ۔‘‘ اس نے تصدیق کی۔
“واقعی مشاعروں میں جاتی ہو؟‘‘ اس نے پوچھا۔ میں مشاعرے نہیں پڑھتی البتہ میری شاعری چَھپتی ہے۔ جب تم میرے گھر آؤ گے تو تمہیں اپنی شاعری دکھاؤں گی۔” وہ مسکرا کر بولی۔
“تمہاری پیٹھ پر ایک نشان ہے وہ کیسا ہے؟‘‘ اس نے اب وہ سوال کیا جو بہت دیر سے پوچھنا چاہ رہا تھا۔ میری پیٹھ پر بچھو کا نشان ہے اور یہ پیدائشی ہے۔” اس نے عام سے لہجے میں کہا۔
“تم تصویروں کی نمائش میں اتنی دیر بعد کیوں آئیں؟‘‘ اس نے ایک اور سوال کیا جو اسے پریشان کر رہا تھا۔
“میں دیکھنا چاہتی تھی کہ تم مجھے خود سے پہچانتے ہو یا نہیں ۔‘‘ ورشا مناف نے کہا۔
“لیکن تم مجھے کہیں نظر نہیں آ ئیں البتہ تمہارا ذکر ضرور سنا۔“
”میرا ذکر‘‘ ورشانے حیران ہو کر کہا۔ “میرا ذکر کرنے والا وہاں کون آ گیا۔
“دو لڑکے تھے۔ ایک نے تمہاری آمد کا ذکر کیا۔ دوسرے نے اپنی آرزو بیان کی۔”
“آرزو وہ کیا؟‘‘ ورشا نے دلچسپی سے پوچھا۔
“شاید ده مجسمہ ساز تھا تمہارا مجسمہ بنانے کا خواہش مند تھا۔‘‘ ساحل عمر نے بتایا۔
“کون تھا وہ بدمعاش۔‘‘ ورشا نے تیکھے لہجے میں کہا۔
“جو بھی تھا۔ ویسے خواہش اس کی سچی تھی۔ تم ہو ہی ایسی جو دیکھے تمہیں پانے کی خواہش کرے چاہے مجسمے کی صورت میں، پینٹنگ کی صورت میں، یا شعر کی صورت میں۔“
” لیکن میں مجسمہ بننا چاہتی ہوں نا پینٹنگ بننا چاہتی ہوں اور نہ شعر بننا چاہتی ہوں۔”
“پھر کیا بننا چاہتی ہو؟‘‘ سوال ہوا۔
“تمہاری ” مختصر اور محبت بھرا جواب ملا۔
“اتنی جلدی فیصلہ نہ کرو آج ہماری پہلی ملاقات ہے۔” ساحل عمر نے کہا۔
“تمہاری ہوگی میں تمہیں کافی عرصے سے جانتی ہوں تمہاری پرانی عاشق ہوں۔”
“تم نے مجھے کہاں دیکھا؟‘‘
“میں نے تمہیں پہلی بار تمہاری نمائش میں دیکھا۔ تمہیں یاد ہو گا تم نے اپنی ایک تصویر کی نمائش کی تھی۔ وہ ایک انوکھی نمائش تھی۔ آرٹسٹ نمائش کے لیے بہت ساری تصوریں اکٹھا کرتے ہیں۔ کچھ نمائشیں ایسی ہوتی ہیں جن میں کچھ آرٹسٹ مل کر اپنے کام کی نمائش کرتے ہیں لیکن تم نے بڑی انوکھی نمائش کی۔محض ایک تصویر مگر وہ تصویر سو تصویروں پر بھاری تھی پورا شہر اس تصویر کو دیکھنے کے لیے امڈ آیا تھا۔ وہ تصویر۔” ورشا مناف نے اسے معنی خیز انداز میں دیکھا۔
“ہاں بہت اچھی طرح یاد ہے ایک بہت بڑے ریچھ کے ہاتھوں پر لیٹی لڑکی‘‘ ساحل عمر نے بتایا
’’اور وہ بھی مسکراتی ہوئی۔‘‘ ورشا مناف یہ کہہ کر ہنسی۔ پھر چند لمحے توقف کر کے بولی۔ “میں تو اس تصویر کو دیکھ کر دیوانی ہو گئی تھی اور پھر جب میں نے اس تصور کے خالق کو دیکھا تو عقل کے ساتھ دل بھی گنوا بیٹھی۔ اس دن فیصلہ کر لیا کہ تمہیں تم سے چھین لوں گی۔‘‘ یہ کہہ کر ورشا نے اسے ترچھی نظروں سے دیکھا۔
“اوه یہ عزائم میں تمہارے۔” ساحل عمر تشویش بھرے لہجے میں بولا۔
“میرے عزائم کی چھوڑو اپنے دل کی کہو۔“ تم مجھے اچھی لگی ہو؟‘‘ اس نے پوری سچائی سے کہا۔
“ایسا کیا ہے مجھ میں؟‘‘ اس نے اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوۓ پو چھا۔ شاید وہ اپنی تعریف سننا چاہتی تھی۔
“تم عام نہیں خاص ہو، کمیاب ہو، ذہین ہو، اچھی باتیں کرتی ہو، پرکشش لہجے کی مالک ہو، تمہاری مسکراہٹ تمہاری ہنسی کا کوئی جواب نہیں، شاداب ہو، سمندر کی اونچی لہر ہو، سورج کی پہلی کرن ہو، کوئی حسین رقص ہو، پتھروں کا گیت ہو۔‘‘ وہ ایک لمحے کو رکا۔ ورشا بڑی محویت سے اس کی بات کن رہی تھی۔ اس پر سرشاری چھائی تھی۔ کچھ توقف کر کے وہ پھر بولا۔ ’’کچھ اور کہوں؟‘‘
“ہاں کہتے رہو تم کہتے رہو میں سنتی رہوں اور وقت پتھر بن جاۓ‘‘ ورشا نے جذباتی لہجے میں کہا۔
“وقت تو ویسے ہی پتھر ہونے لگا ہے۔ کچھ ہی دیر میں تاریکی پھیل جائے گی۔ کچھ دکھائی نہ دے گا جب کچھ دکھائی نہ دے تو وقت گزرنے کا احساس بھی نہ رہے گا۔ یوں لگے گا جیسے ہر چیز ساکت ہو گئی ہو۔“
“آؤ چلو پھر یہاں سے چلتے ہیں۔ کہیں بیٹھ کر آئس کریم کھاتے ہیں، پھر تم مجھے چھوڑ دینا۔ وہ اٹھتے ہوۓ بولی۔
’’تم کہاں جاؤ گی؟‘‘ اس نے پوچھا۔ وہیں جہاں ہم ملے تھے؟‘‘ اس نے بتایا۔
“آرٹ گیلری لیکن کیوں؟‘‘
“وہاں میری گاڑی کھڑی ہے۔” ورشا مناف نے بتایا۔
“تم کون ہو؟‘‘
میں ورشا مناف ہوں۔“
“نہیں تم کوئی پرتجسس کہانی ہو لفظ لفظ حیرت ہرلمحہ نیا انکشاف۔”
“کاش تم افسانہ نگار ہوتے تو میں تم سے فرمائش کرتی مجھے لکھو ،،
“میں تمہیں پینٹ کروں گا اور ایسا پینٹ کروں گا کہ دنیا حیران رہ جاۓ گی۔” اس نے پرشوق لہجے میں کہا۔
“سچ” وہ شاداں ہو کر بولی۔
“بالکل سچ سو فی صد سچ۔‘‘ ساحل عمر نے بڑے یقین سے کہا۔ ’’چلو اب مجھے آئس کریم کھلاؤ”
آئس کریم کھا کر جب ساحل عمر نے ورشا مناف کو اس کی گاڑی میں بٹھایا اور وہ گاڑی اسٹارٹ کر کے رخصت ہونے لگی تو اسے اپنا خوبصورت ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیتے ہوۓ کہا۔ “اب جلدی جلدی ملنا دیکھو اب میں تمہارے بغیر رہ نہ پاؤں گی۔”
پھر وہ چلی گئی اور ساحل دور تک اور دیر تک اس کی گاڑی کو جاتے دیکھتا رہا۔ اس کی گاڑی تو کب کی دوسری گاڑیوں میں گم ہو چکی تھی مگر وہ ابھی وہیں سڑک پر کھڑا تھا.
اس کے جانے کے بعد اسے اپنی کوئی متاع عزیز گم ہونے کا احساس ہوا۔ اسے اپنا جسم خالی خالی سا لگا۔ اسے لگا جیسے کچھ کھو گیا ہے کیا کھو گیا ہے یہ اسے معلوم نہ تھا۔ کہیں اسے اس سے محبت تو نہیں ہوگئی ؟
ویسے وہ اس قابل تھی کہ اس سے محبت کی جاۓ۔ وہ حسین بھی تھی اور ذہین بھی تھی۔ اسے گفتگور کرنے کا فن آتا تھا۔ اس کا انداز دلربا تھا۔ اس کی آنکھیں بولتی تھیں اور لب گنگناتے تھے۔ وہ ایک سحر تھی، جادو تھی، فسوں تھی، اور کیوں نہ ہوتی وہ آخر بیٹی کس کی تھی؟
وہ ایک ہندو ماں کی بیٹی تھی۔ اس کی ماں کا نام برکھا دیوی تھا۔ بنگالن تھی اس کا تعلق کلکتہ سے تھا۔ ایک ایسی سر زمین سے جو اپنے جادو کے لیے مشہور ہے۔ سحر بنگال سے کون واقف نہیں۔ ورشا مناف کا نانا یعنی برکھا دیوی کا باپ کالی داس نام کا داس نہ تھا وہ واقعی کالی دیوی کا غلام تھا اس کا پجاری تھا۔ جادو ٹونے ٹوٹکے کا ماہر… اس کا جادو سر چڑھ کر بولتا تھا۔ کسی محبوب کو قدموں میں گرانا ہو کسی شوہر کو مٹھی میں لینا ہو میاں بیوی کے درمیان جھگڑا کرانا ہو کسی سے انتقام لینا ہو خاندانوں میں نفاق کا بیج بونا ہو کوئی بھی منفی کام کرایا جا سکتا تھا۔ نہ صرف یہ کہ وہ الٹے سید ھے جاپ کرتا تھا بلکہ جو لوگ اس کے پاس اپنی تشنہ آرزوئیں لے کر آ تے تھے ان سے بھی وہ ایسے عمل کرواتا تھا کہ وہ انسان نہ رہے تھے شیطان بن جاتے تھے۔
کالی داس کی تھیلی کی پشت پرایک بچھو گدا ہوا تھا۔ ایسا ہی بچھو بر کھادیوی کے بازو پر بنا ہوا تھا۔ کالی داس نے اس کی عجیب انداز میں پرورش کی تھی۔ اس نے اسے انتہائی زہر یلا بچھو بنا دیا تھا۔ جس کے بھی ڈنک مار دے وہ پانی مانگے بغیر ہی چل بسے۔ اس نے زندگی بھر نمک سے احتراز کیا تھا۔ وہ آج بھی نمک نہیں کھاتی تھی۔ ایک خاص عمل کر کے اور نمک سے پرہیز کر کے اس کے جسم میں کچھ اس طرح کے اثرات پیدا ہو گئے تھے کہ اگر کوئی سانپ بچھو اسے کاٹ لے تو برکھا کا کچھ نہ بگڑتا تھا۔
برکھا جب چودہ پندرہ سال کی ہوئی تو اس محلے میں جہاں وہ رہتی تھی قیامت اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس کے حسن میں بارود بھرا تھا۔ وہ کسی آتش فشاں سے کم نہیں تھی۔ جو بھی اسے دیکھتا اس کی طلب میں لگ جاتا۔ وہ میٹرک پاس لڑکی تھی۔ کالی داس نے اسے یونہی نہیں پڑھایا لکھایا تھا۔ ایسے ہی اپنا سارا کالاعلم اسے نہیں سکھایا تھا۔ وہ اس سے بہت بڑے بڑے کام لینا چاہتا تھا۔
تب کالی داس نے کلکتہ چھوڑ دیا۔ اس نے بمبئی کا رخ کیا۔ وہاں ایک بہتر علاقے میں اس نے چھوٹا سا فلیٹ خریدا۔ اسے آراستہ کیا۔ پھر کالی داس ایک انگلش اخبار کے دفتر پہنچا۔ ساتھ میں اس کی دختر تھی۔ کچھ برکھا کا حسن اور کچھ کالی داس کا عمل۔ دونوں نے مل کر ایڈیٹر کو رام کیا۔
دوسرے دن برکھا کی ایک تصویر اس اخبار کے فرنٹ پیج پر چھپ گئی۔ اس تصویر کے نیچے کیپشن لگایا گیا تھا۔ مستقبل کی ہیروئن اپنے فلمساز کی تلاش میں۔
وہ ایک زبردست تصویر تھی۔ بر کھا حسین تو تھی ہی اس تصویر میں وہ نیم عریاں بھی تھی ۔ اس نیم عریاں حسن نے قیامت ڈھا دی۔ اس سے پہلے کہ کوئی پروڈیوسر اس کی طرف متوجہ ہوتا۔ اس اخبار کا مالک سروپ راۓ اس تصویر کو دیکھ کر دیوانہ ہو گیا۔ سروپ راۓ نے اخبار کے ایڈیٹر سے کچھ نہ کہا تا کہ اس کا بھرم برقرار رہے۔ اس نے اپنے اخبار کے ایک سب ایڈیٹر کو طلب کر لیا۔ اس سب ایڈیٹر شانتی لال سے جواس کے اعتماد کا آدمی تھی بالا ہی بالا بر کھا کے بارے میں معلومات حاصل کر لیں اور وہ اس شام شانتی لال کو اپنے ساتھ لے کر کالی داس کے فلیٹ پر پہنچ گیا۔ کالی داس کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا اسے توقع نہیں تھی کہ تصویر دیکھتے ہی کوئی شخص اپنی عقل میز کی دراز میں رکھ کر اس کے گھر پر دوڑا چلا آۓ گا اور وہ بھی ایک اخبار کا مالک۔
سروپ راۓ محض ایک اخبار کا مالک نہ تھا اس کے کئی بزنس تھے۔ اس نے ایک دوفلموں میں بھی سرمایہ کاری کی ہوئی تھی۔ وہ پچاس سال کا انتہائی بدصورت شخص تھا۔ اس کی آواز تک بیٹھی ہوئی تھی۔ وہ بولا تو یوں لگتا جیسے کوئی گدھا رینگ رہا ہو۔ بڑی مشکل سے اس کی بات سمجھ میں آتی۔
لیکن سروپ راۓ کو بات کرنے اور اپنی بات سمجھانے کا بڑا سلیقہ تھا۔ اس شام بھی جب بر کھا کالی ساڑھی باندھے بغیر آستین کے چھوٹے سے بلاؤز میں اس کے سامنے آئی تو سروپ راۓ نے کوئی بات نہ کی۔ اس نے اپنا بیگ کھول کر پہلے سے ٹائپ شدہ کنٹریکٹ نکال کر برکھا کے باپ کے سامنے رکھ دیا۔ پہلی بال پر ہی چھکا لگ گیا تھا۔ یہ ایک شاندار معاہد ہ تھا جس کے تحت بنگلہ گاڑی ڈرائیور دس ہزار روپے ماہانہ اور ایک فلم میں ہیروئن کا چانس دیا جا رہا تھا۔ کالی داس نے اس معاہدے پر آ نکھ بند کر کے دستخط کر دیئے اور تیسرے دن سروپ راۓ نے اپنے معاہدے پر عمل کرتے ہوۓ ساحل سمندر کے ایک پوش علاقے کے بنگلے میں انہیں منتقل کر دیا۔
سروپ راۓ اپنے کو بڑا کائیاں سجھتا تھا۔ سمجھتا کیا تھا وہ تھا بھی بڑا چلتا پرزہ۔ وہ ایک قلی کا بیٹا تھا لیکن آج اس کے پاس اتنا پیسہ تھا کہ وہ آج اس شہر کی سرکلر ریلوے کوخرید سکتا تھا اور یہ پیسہ اس نے اپنی چالبازیوں سے کمایا تھا۔ جس اخبار کا وہ مالک تھا۔ اس اخبار کا کام محض بلیک میلنگ یا لوگوں کے راز جان کر انہیں اپنا مطیع بنانا تھا اس اخبار کا مشن۔
سروپ راۓ ایک عیاش آدمی تھا۔ خوبصورت لڑکیوں کے ساتھ اس طرح کے معاہدے کرنا اس کا معمول تھا۔ معاہدہ دو تین سال کا ہوا کرتا تھا لیکن تین ماہ سے زیادہ وہ کسی لڑکی کو اپنے دل کے بنگلے میں نہ رکھتا تھا۔ جس طرح وہ اچانک لڑکیوں پر نوٹوں کی بارش کرتا تھا۔ بالکل ویسے ہی ایک دن اچانک ان کے سر سے چھت چھین لیتا تھا وہ بیچاری فٹ پاتھ پر بیٹھی نظر آتی تھیں اور اس کا کچھ نہ بگاڑ سکتی تھیں۔
سروپ راۓ برکھا کو پا کر بہت خوش تھا۔ پہلی بار اس کے دل میں یہ خیال آیا کہ اس معاہدے کو تین ماہ کے بجاۓ چھ ماہ چلنا چاہیے لیکن کالی داس کچھ اور سوچ رہا تھا وہ اسے تین ماہ سے زیادہ کی مہلت دینا چاہتا تھا۔ سروپ راۓ اس کا پہلا بڑا شکار تھا۔
سروپ راۓ روز ہی بنگلے پر آ تا تھا اور برکھا کو اپنے ساتھ مختلف پارٹیوں میں لے جاتا تھا۔ بڑے سرکاری عہد یداروں بڑے بزنس مینوں اور بڑے سیاستدانوں سے ملاقات کے دوران وہ پرکھا کو اپنے ساتھ رکھتا تھا۔ وہ اسے اپنی پرائیویٹ سیکرٹری ظاہر کرتا تھا۔ ہفتے میں ایک رات وہ بنگلے گزارتا تھا اور یہی رات برکھا کے لیے قیام کی ہوتی تھی۔ سروپ رائے کے ساتھ تنہائی میں وقت گزارنا بڑے دل گردے کا کام تھا۔ پیسہ بڑی چیز ہے اور پیسہ بری چیز بھی ہے جو آدمی سے اس کی مرضی کے خلاف بہت کچھ کرا لیتا ہے وہ بھی مجبور تھی۔ اس کے باپ نے کہا تھا کہ وہ بس تین ماہ صبر کرے وہ تین ماہ میں اس کے نیچے سے زمین کھینچ لے گا۔
اس بنگلے میں آنے کے پندرہ دن بعد ایک بے چاند رات میں کالی داس نے سروپ راۓ کی تصویر پر عمل شروع کیا۔ یہ تصویر برکھا نے بڑا اصرار کر کے سروپ راۓ سے منگوائی تھی۔ اس نے کہا تھا کہ جب تم بنگلے پر نہیں ہوتے تو میں اس تصویر سے ہی باتیں کر لیا کروں گی اور وہ شاطر کھلاڑی اس بات کو سچ سمجھ بیٹھا تھا۔ اس نے دوسرے ہی دن اپنی ایک بڑی تصویر فریم کروا کر اس کے حوالے کر دی تھی۔
اب وہی تصویر فریم سے نکال لی گئی تھی۔ رات کے دو بجے تھے ۔ کالی داس آلتی پالتی مارے اپنے ہاتھ میں اس کی تصویر لیے کسی جاپ میں مصروف تھا۔ جاپ سے فارغ ہو کر اس نے زمین پر ایک دائرہ کھینچا اور تصویر اس کے درمیان میں رکھ دی۔ برکھا نزدیک ہی بیٹھی تھی۔ باپ کے اشارہ کرنے پر وہ اٹھی اور ایک خالی سرنج جو میز پر رکھی تھی کالی داس کے حوالے کر دی۔ کالی داس نے سرنج اپنے ہاتھ میں لے کر برکھا سے اپنا بازو نزدیک لانے کے لیے اشارہ کیا۔ برکھا نے اپنا بازو جس پر بچھو بنا ہوا تھا کالی داس کی طرف بڑھا دیا اور اپنا چہرہ دوسری طرف پھیر لیا۔ کالی داس نے سرنج ٹھیک بچھو کے منہ پر رکھی اور گوشت میں داخل کر دی۔ پھر اس نے آدھی سرنج کے قریب برکھا کا خون نکال لیا۔
پھر اس نے خون کو روئی کے ذریعے سروپ راۓ کی پوری تصورہ پر مل دیا اور برکھا کو
کمرے سے باہر جانے کا اشارہ کیا۔ برکھا کے کمرے سے چلے جانے کے بعد آدھے گھنٹے تک وہ تصور پر کچھ پڑھ پڑھ کر پھونکتا رہا۔
کچھ ہی دیر میں کمرے کے مختلف کونوں سے بچھو نکل نکل کر آنے لگے۔ بچھوؤں کو دیکھ کر کالی داس اس دائرے سے کافی پیچھے ہٹ کر بیٹھ گیا جس میں سروپ رائے کی تصویر رکھی تھی۔ بچھو ایک ایک کر کے اس تصویر پر جمع ہونے لگے۔ جب اتنے بچھو اس تصویر پر جمع ہو گئے کہ وہ ساری بچھوں سے ڈھک گئی تو کال داس کے ہونٹوں پر ایک شیطانی مسکراہٹ کھیلنے لگی۔ وہ بڑی آہستگی سے اٹھ کر کمرے سے باہر آ گیا اور اس نے کمرے کو باہر سے تالا لگا دیا۔ پر اس نے برکھا کے کمرے میں جھانکا۔ وہ ابھی جاگ رہی تھی۔ اس نے اپنے باپ کو کمرے میں جھانکتے ہوۓ دیکھ کر پوچھا۔’’ کیا ہوا باپو؟‘‘۔ ”اعوروں نے اس کی تصویہ کو گھیر لیا ہے۔ صبح تک کچھ نہ بچے گا۔‘‘ کالی داس نے خوشی سے کہا۔
پھر وہ اپنے کمرے میں جا کر سو گیا۔
صبح تڑکے ہی اس کی آنکھ کھل گئی۔ ابھی سورج نہ نکلا تھا۔ سورج نکلنے سے پہلے ہی اس نے بند کمرہ کھولنا تھا۔ وہ جلدی سے اٹھا اور منہ ہی منہ میں کچھ بڑ بڑا تا ہوا بند کمرے کی طرف چلا۔ تالا کھول کر وہ تیزی سے تصویر کی طرف بڑھا۔ اب تصویر پر ایک بچھو بھی نہ تھا۔ وہ تصویر کو د یکھ کر بہت خوش ہوا بچھو اپنا کام کر کے جا چکے تھے۔ اب وہاں سروپ راۓ کی تصور نہ تھی بس ایک سفید کاغذ تھا۔ تصویر کو بچھوؤں نے کھالیا
اس سفید کاغذ کو اس نے چار برابر کے لکڑوں میں تقسیم کیا اور ماچس نکال کر ان کاغذ کے کڑوں کو ایک ایک کر کے جلانے لگا۔ پھراس نے کاغذ کے ان ٹکڑوں کی راکھ ایک شیشی میں احتیاط سے جمع کر لی اور خوشی سے نعرہ لگایا۔’’ جے کالی ۔‘‘
پر یہ راکھ بھری شیشی کالی داس نے برکھا کے حوالے کر دی اور اسے بتا دیا کہ کیا کرنا ہے۔ اس شام جب سروپ راۓ اسے کسی تقریب میں لے جانے کے لیے آیا تو بر کھا نے بڑے پریم سے اس کے لیے کافی بنائی‘ کافی میں اپنے باپو کی حسب ہدایت اس کی تصویر کی دو چاول بھر راکھ ملائی اور اپنے ہاتھوں سے پلا دی۔ یہ تو خیر را کھ ملی کافی تھی اگر وہ اسے زہر کی کافی بھی پلا دیتی تو وہ پینے سے انکار نہ کرتا۔ وہ چیز ہی ایسی تھی۔
پندرہ بیس دن کے اندر وہ راکھ سروپ رائے کے پیٹ میں جا کر خون میں سرایت کر گئی۔ اور وہ جو خود کو بڑا شاطر کھلاڑی سمجھتا تھا مات کھا گیا اور مات بھی ایسی کہ اسے اندازہ ہی نہ ہوا کہ
اس کے ساتھ ہو کیا گیا ہے۔ تین ماہ کے اندر برکھا نے اس سے جو چاہا حاصل کر لیا اور وہ کسی معمول کی طرح کاغذات پر دستخط کرتا رہا۔ بنگلہ گاڑی اور ایک لمبی رقم اپنے نام کرالی۔
پھر وہ قاتل شام آئی۔ ابھی تک تو یوں ہوتا رہا تھا کہ سروپ راۓ جب کسی لڑکی سے اکتا جاتا تو وہ اپنے مسلح غنڈے بھیج کر اس لڑکی سے اپنا بنگلہ خالی کرا لیتا۔ وہ لڑکی اور اس کے لواحقین کو سڑک پر بٹھا کر بنگلے کو تالا لگاتے اور مونچھوں پر تاؤ دیتے ہوۓ گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے روانہ ہو جاتے اس طرح لڑکی کے سر سے اچانک چھت کھینچ لی جاتی۔ ابھی وہ لڑکی اور اس کے گھر والے یہ سمجھ ہی رہے ہوتے کہ یہ ان کے ساتھ ہو کیا رہا ہے کہ اتنے میں وہاں پولیس کی جیپ آ جاتی اور اتنے بڑے سیٹھ کے بنگلے پر دھرنا مار کر بیٹھنے والوں کو مشکوک جان کر پولیس اسٹیشن جانے کی دھمکی دیتی تو وہ لوگ اس بڑی مصیبت سے بچنے کے لیے وہاں سے چلے جانے میں ہی عافیت جانتے اور یوں تین ماہ کے عیش کسی بھیانک خواب کی صورت میں ظاہر ہو تے۔
لیکن آج اس کے الٹ ہوا وہ ہوا جس کا سروپ راۓ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ اس قاتل شام جب وہ برکھا کے بنگلے پر پہنچا تو دو گورکھا محافظوں نے جو بندوقوں سے لیس تھے اس کی گاڑی کو اندر جانے سے روک لیا۔
“تم اندرنہیں جا سکتا۔‘‘ ایک گور کھا محافظ نے اپنی خونخوار مونچھوں کو مروڑ کر کہا۔
“کیا بکتا ہے تو جانتا نہیں کہ میں کون ہوں۔” سروپ راۓ اپی بیٹھی آواز میں بولا۔
“تم کوئی بھی ہوے اندر نہیں جا سکتا رانی جی نے منع کیا ہے۔‘‘
“رانی جی.! کون رانی جانی؟‘‘
“برکھا رانی جی۔‘‘
“اندر جا کر برکھا کو بولو کہ سروپ سیٹھ آۓ ہیں۔”
“تم ادھر گاڑی میں بیٹھو ہم رانی جی سے بات کر کے آ تا ہے۔‘‘ دوسرے گورکھا محافظ نے کہا۔
“ٹھیک ہے جاؤ۔ پوچھو۔‘‘ سروپ راۓ غصے سے بولا۔
تھوڑی دیر کے بعد وہ گورکھا محافظ واپس آیا تو اس نے بڑی سختی سے مخاطب ہو کر کہا۔ “صاب تم ادھر سے جاؤ وہ تم کو نہیں جانتی۔”
“مجھ کو نہیں جانتی۔ یہ بنگلہ گاڑی یہ سب ٹھاٹھ باٹ میں نے اس کو دیا ہے۔“
“یہ کوئی پاگل آدمی معلوم ہوتا ہے آؤ اندر آ جاؤ گیٹ بند کر لیتے ہیں۔ یہ کچھ دیر خود ہی بھونک کر یہاں سے چلا جائے گا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ دوسرے محافظ کو اندر لے گیا اور انہوں نے اندر جا کر واقعی گیٹ بند کر لیا۔
سروپ راۓ سنانے میں آ گیا۔ یہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ اس نے اپنا دل تھام لیا۔
پھر اس نے زور زور سے بیل بجائی زور زور سے گیٹ پیٹا اور اپنی بیٹھی ہوئی آواز میں گلوگیر ہو کر کہا۔
’’برکھا دروازہ کھولو دیکھو ایسا مت کرو مجھ سے اور جو چاہے لے لو مگر مجھے خود سے محروم نہ کرو میں اب تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا۔ تمہارے بغیر مر جاؤں گا۔ تم نے جانے مجھ پر کیا جادو کر دیا ہے
جواب میں اندر سے خونخوار کتے کے بھو کنے کی آواز کے سوا کوئی آواز نہ سنائی دی۔
اس نے دھاڑیں مار مار کر رونا شروع کر دیا۔ وہ روتا رہا اور کہتا رہا۔ ’’بھگوان کے واسطے برکھا مجھے ایک بار اپنی شکل دکھا دو مجھ سے میرا سب کچھ لے لو۔“
روتے روتے اس پر دل کا دورہ پڑا۔ اس کا ڈرائیور اسے اسپتال لے کر پہنچا مگر وہ اتنا شدید تھا کہ وہ جانبر نہ ہو سکا۔ جس طرح سروپ راۓ دوسری لڑکیوں کے سر سے چھت کھینچ کر انہیں بے آسرا کر دیتا تھا ویسے ہی کالی داس نے اس کے پیروں کے نیچے سے زمین کھینچ لی تھی اور اب وہ شمشان گھاٹ میں چندن کی لکڑیوں پر لیٹا جل رہا تھا۔ جولوگ دوسروں کو جلاتے ہیں بالآ خر خود انہیں بھی جلنا پڑتا ہے۔ یہی قانون قدرت ہے اگر چہ بنگلہ گاڑی اور بینک بیلنس خود اپنی مرضی سے سروپ راۓ نے برکھا کو بخشا تھا اس سلسلے میں کوئی پریشانی والی بات نہ تھی پھر بھی کالی داس نے اس بنگلے میں رہنا پسند نہ کیا۔ بنگلہ گاڑی بیچ کر اس نے ایک اچھے علاقے میں فلیٹ خرید لیا۔ گاڑی بھی دوسری لے لی۔ تین ماہ قبل جب سروپ رائے نے برکھا کو بنگلہ اور گاڑی دی تو گاڑی کے ساتھ ایک ڈرائیور بھی دیا تھا۔ اس ڈرائیور کا نام مناف تھا۔ یہ ڈھاکہ کا رہنے والا تھا اور ایک غریب مسلمان گھرانے کا چشم و چراغ تھا۔ بمبئی ہیرو بننے آیا تھا۔ وہ ایک پر کشش نو جوان تھا۔ ہیرو بنے کے قابل تھا لیکن قسمت میں اس کے فلم لائن نہ تھی۔ وہ ہیرو بنے کے بجائے ڈرائیور بن گیا۔ تھوڑا پڑھا لکھا تھا۔ مہذب اور شائستہ تھا۔ سروپ راۓ اسے ذاتی طور پر بہت پسند کرتا تھا اس لیے وہ اسے اپنی گاڑی پر ہی رکھتا تھا۔ اعتماد کا آدمی تھا۔ جب سروپ رائے کوئی نیا پنچھی پنجرے میں بند کرتا تو اپنی گاڑی کے ساتھ مناف کو ہی بھیجتا تھا اور جب پنچھی کو آزاد کرنا ہوتا تو یہ کام وہ مناف کے ذریعے کروایا کرتا تھا۔
مناف سروپ راۓ کا کل وقتی ملازم تھا۔ جب اس نے گاڑی برکھا کے حوالے کی تو مناف بھی اس کے ساتھ تھا۔ اس نے بنگلے کے سرونٹ کوارٹر میں رہائش اختیار کر لی۔ ڈرائیور کے ساتھ وہ ایک طرح کا نگراں بھی تھا۔ وہ بنگلے اور بنگلے کے مکینوں پر نظر رکھتا تھا۔ لڑکی کہاں جا رہی ہے کس سے مل رہی ہے کون لوگ اور کس طرح کے لوگ بنگلے پر آتے ہیں۔ یہ سب رپورٹ مناف سروپ راۓ کو پہنچایا کرتا تھالیکن بر کھا کے کیس میں مناف کی کھوپڑی بھی گھوم گئی۔ وہ سروپ راۓ کو برکھا کے بارے میں رپورٹ دینے کے بجائے برکھا کو سروپ رائے کے بارے میں بتانے لگا۔
جس دن یہ لوگ بنگلے میں منتقل ہوۓ اس کے دوسرے دن کی بات ہے۔ صبح ہی صبح سروپ راۓ کا فون آیا۔ اسے مناف کی ضرورت تھی۔ اس نے برکھا سے کہا کہ وہ ذرا اسے جا کر پیغام دے دے۔ برکھا نے اس کے کوارٹر پر جا کر دروازے پر دستک دی تو اس نے فورا ہی دروازہ نہ کھولا ۔ شاید وہ گہری نیند سو رہا تھا۔ بار بار دستک دینے پر کچھ دیر کے بعد جب وہ دروازے پر آیا تو راز کھلا کہ اس نے اتنی دیر سے دروازہ کیوں کھولا ۔
اور یہ جو کچھ بھی ہوا بس اچانک ہی ہوا۔ مناف کو تو قع نہ تھی کہ دوسرے دن ہی اتنی صبح وہ اس کے دروازے پر آ جاۓ گی اور نہ
برکھا کو یہ معلوم تھا کہ دوسرے دن ہی وہ اپنے ڈرائیور کو ایسی حالت میں دیکھ لے گی کہ اپنے ہوش گنوا بیٹے گی۔
کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے لیکن یہ ہمیشہ نہیں ہوتا اور ہر ایک کے ساتھ نہیں ہوتا زندگی میں ایک لمحہ ایسا بھی آ جاتا ہے جب اچانک ہی دل کے فریم میں کوئی عورت یا مرد فٹ ہو جاتا ہے۔ ایسا فٹ کہ دل دھڑکنا بھول جاتا ہے۔
مناف اس وقت نہا کر نکلا تھا۔ دستک کی آواز سن کر وہ تولیہ سر پر رگڑتا تہبند باندھے دروازے پر آ پہنچا تھا۔ اس نے ایک دم دروازہ کھولا تو سامنے برکھا کو کھڑے پایا۔
سروپ راۓ کا ٹیلی فون سن کر وہ ایسے ہی کمرے سے نکل آئی تھی۔ راستے میں اس نے اپنے لمبے ریشمیں ہالوں کو سمیٹ کر جوڑا بنایا تھا اور ساڑھی کا پلو اپنی کمر کے گرد کس لیا تھا۔ اسکی سادگی غضب ڈھا رہی تھی ۔
مناف نے اسے ایک نظر دیکھا تو نظریں نیچی کرنا بھول گیا۔
مناف ایک خوبصورت نوجوان تو تھا ہی۔ لیکن اس کا جسم بھی کسی سنگی مجسمے کی طرح ترشا ہوا تھا۔ پانی کی بوند یں اس کے جسم پر جگہ جگہ پڑی ہوئی تھیں ۔ سینہ کالے بالوں سے ڈھکا ہوا تھا۔
وہ چار خانے کا کالا اور سرخ تہبند باندھے ہوۓ تھا۔ ایک ہاتھ ا سکا سر پر تھا۔ دوسرے ہاتھ سے اس نے درواز کھولا تھا
برکھا کی اس پر نظر پڑی تو اس کا دل ایک لمحے کو ساکت ہو گیا۔ اس وقت پریم دیوتا حرکت میں آیا۔ اسنے تیر چلایا جو برکھا کے دل میں ترازو ہو گیا۔ برکھا کے دل کی سلیٹ ابھی بالکل صاف تھی کہ مناف کا نقش اس پر منتقل ہو گیا۔
برکھا سروپ راۓ کا پیغام دے کر فورا وہاں سے چلی آئی۔ اس نے ظاہر نہ ہونے دیا کہ اس کے دل پر کیا بیت گئی ہے لیکن یہ ایسی بات تھی جو چھپائے نہ چپ سکتی تھی۔ اگر چہ مناف کے دل میں بھی آگ بھڑک اٹھی تھی لیکن وہ اپنی اوقات جانتا تھا لہذا اس نے اپنی اس آگ کو زیادہ ہوا نہ لگنے دی. لیکن یہ وہ آ گ تھی جو بجھائے نہ بجھ سکتی تھی۔
محبت کی آگ پر محبوب کی دید اور قربت پیٹرول کا کام کرتی ہے۔ تین ماہ کسی محبت کے پھلنے پھولنے کے لیے بہت ہوتے ہیں ۔ پھر اگر اس دوران کوئی رات ایسی بھی آ جاۓ جو سیلاب بلا بن کر ان پر ٹوٹے اور جذبات کے کمزور بند خس و خاشاک کی طرح بہہ جائیں تو پھر کچھ باقی نہیں رہتا۔
اس دن رات کو برکھا ایک تقریب میں سروپ رائے کے ساتھ رہی۔ یہ ایک بڑے لوگوں کی پارٹی تھی۔ اس پارٹی میں برکھا کو ساقی گری بھی کرنا پڑی۔ اب یہ کوئی اس کے لیے مشکل کام نہ تھا لیکن اس پارٹی میں ایک مشکل یہ ہوئی کہ پینے والے نے ضد کر کے اسے بھی تھوڑی سی پلا دی۔
برکھا کے لیے یہ تھوڑی بھی بہت تھی۔ سروپ راۓ نے اس کے ڈگمگاتے قدموں کو دیکھا تو وہ اسے لے کر وہاں سے نکل آیا۔ پھر وہ راستے میں اپنے گھر پر اتر گیا اور مناف بر کھا کو لے کر بنگلے کی طرف روانہ ہو گیا۔ بنگلے پر پہنچ کر اس نے بمشکل برکھا کو گاڑی سے اتارا اور اس کے بیڈروم تک پہنچایا۔ اتنے میں بادل گرجنے لگے اور بارش شروع ہو گئی ۔
رات کے ساڑھے بارہ بجے تھے ۔ برکھا کا باپ کالی داس اپنے کمرے میں میٹھی نیند سو رہا تھا۔ وہ جلدی سونے کا عادی تھی۔ مناف جب برکھا کو بیڈ پر سیدھا لٹا کر اس کے کمرے سے باہر نکلے لگا تو اس وقت زور سے بجلی کڑ کی برکھا خوفزدہ ہو کر چیخی اور بیڈ سے اٹھ کر لڑکھڑاتے قدموں سے اس کی طرف چلی مناف اگر دوڑ کر اسے اپنی بانہوں میں سمیٹ نہ لیتا تو وہ زمین پر گڑ جاتی۔ پھر اس کے بعد بارش کچھ اس طرح ٹوٹ کر برسی کہ زمین آسمان ایک ہو گئے۔
اس رات کی بات نہ سروپ راۓ جان سکا نہ برکھا کا باپ کالی داس۔ بنگلہ اور گاڑی بیچ کر جب کالی داس اس علاقے سے نکلا تو مناف اس کے ساتھ ہی تھا۔ کالی داس اسے پسند کرنے لگا تھا۔ اگر چہ مناف مسلمان تھا اس کے باوجود اسے چھوڑنے کے لیے راضی نہ تھا۔ اصل میں بمبئی شہر کالی داس کے لیے اجنبی تھا جبکہ مناف اس کے چپے چپے سے واقف تھا اور اس نے بنگلہ برکھا کے نام کرانے سے اسے فروخت کرنے تک بھر پور مدد کی تھی۔ کالی داس مناف کے بغیر ادھورا تھا اور یہی حال اس کی بیٹی کا تھا وہ بھی اس کے بغیر ادھوری تھی۔
پھر اس رات ایک عجب تماشا ہوا۔ اس رات برکھا اپنے باپو کے پاؤں دبا رہی تھی اور اس کا باپ کالی داس بڑی آسودگی سے آنکھیں بند کئے لیٹا تھا۔ جب برکھا نے وہ بات کہی جو اس کی روح میں شگاف ڈال گئی۔
“باپو ایک بات کہوں۔ برا تو نہیں مانو گے۔“
“نہیں کہو چندا تمہاری بات نہیں سنوں گا تو پھر کس کی سنوں گا۔‘‘
“باپو میں مناف کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ میں اس سے بیاہ کرنا چاہتی ہوں۔‘‘ برکھا نے انتہائی خطرناک بات بڑے اطمینان سے کہہ دی۔
یہ بات سن کر کالی داس کے جسم میں ایک جھٹکا سا لگا۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے بہت سے بچھو اس کے جسم پر چڑھ آۓ ہوں۔ اس نے ایک جھٹکے سے اپنے پیر پیچھے کھینچ لیے اور اٹھ کر بیٹھ گیا۔
“کیا کہا تو نے؟” اس نے آنکھیں نکال کر کہا۔
’’ایسے گندے شبد نکالنے سے پہلے تو ستی کیوں نہ ہو گئی۔‘‘
“باپو کیا کہتے ہو۔ ابھی میرا بیاہ ہوا ہے نہ میرے پتی کا دیہانت ہوا نہ میں بیوہ ہوئی پھر میں ستی کس پر ہوں۔ باپو تم تو جانتے ہو کہ ہندو ناری بیوہ ہونے کے بعد پتی کی چتا کے ساتھ جلتی ہے۔ ستی ہوتی ہے۔“
“میں تجھے بیاہ سے پہلے ہی بیوہ کر دیتا ہوں تو مجھے جانتی نہیں ہے۔” وہ سانپ کی طرح پھنکارا۔
وہ اصل میں دونوں ہی ایک دوسرے کو نہیں جانتے تھے۔ باپ ایسا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کو کالی ماں کے چرنوں میں بھینٹ تو چڑ ھا سکتا تھا لیکن ایک مسلمان مرد کے ہاتھ میں اپنی بیٹی کا ہاتھ نہیں دے سکتا تھا
اور وہ ایسی بیٹی تھی جو اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنے باپ کو تو چھوڑ سکتی تھی لیکن اپنے محبوب کو چھوڑ نا اس کے بس میں نہ تھا۔ دونوں نے مل کر بڑی خاموشی سے منصو بہ بندی کی اور بینک سے پانچ لاکھ روپے نکلوا کر وہ راتوں رات بمبئی کی حدود سے نکل آۓ۔
صبح جب کالی داس سو کر اٹھا تو اس کے دل کی دنیا لٹ چکی تھی۔ ایک پرچہ اس کے تکیے کے پاس رکھا ہوا تھا۔ برکھا نے لکھا تھا۔
’’باپو مجھے معاف کر دینا میں مناف کے ساتھ جا رہی ہوں۔ میں اب اس کے بغیر رہ نہیں سکتی ۔ آپ کی بیٹی برکھا۔‘‘
کالی داس نے خط پڑھ کر غصے میں اسے چاک کر دینا چاہا لیکن پھر کچھ سوچ کر رک گیا۔ اس نے وہ پر چہ تہ کر کے ڈال دیا اور آپ ہی آپ بڑ بڑایا۔ ’’برکھا! تو کالی داس کونہیں جانتی ۔تو نے میرا سکھ لوٹا ہے میں تیرا چین لوٹوں گا۔ تو اگر پاتال میں بھی چلی جاۓ گی تو وہاں سے بھی ڈھونڈ نکالوں گا۔ اب تو میرا انتظار کر۔‘‘
کالی داس کو اس طرح برکھا کے ہاتھ سے نکل جانے کا انتہائی دکھ تھا۔ وہ اس کی پوری زندگی کی جمع پونجی تھی۔ اس نے اس پر بہت محنت کی تھی۔ وہ اس کی سرمایہ حیات تھی۔ تجوری تھی بینک بیلنس تھی۔ جسے اس گھر کا ڈرائیور لوٹ کر لے گیا تھا۔ اس نے سوچا۔ اصل قصووار تو مناف ہے۔ وہ اسے ہرگز زندہ نہیں چھوڑے گا۔ وہ اسے ایسا مزہ چکھاۓ گا کہ زندگی بھر یادر کھے گا۔
برکھا اور مناف دہلی پہنچ کر زندگی کے مزے لوٹ رہے تھے۔ دہلی میں مناف کے کچھ دور کے رشتے دار تھے اس لیے اس نے دہلی کا رخ کیا تھا۔ وہ جان بوجھ کر ڈھاکا نہیں گیا تھا اسے معلوم تھا کہ کالی داس اپنی بیٹی کے یوں ہاتھ سے نکل جانے پر ہرگز چین سے نہیں بیٹھے گا اور ڈھاکا کا پتہ معلوم کر لینا اس کے لیے کچھ مشکل نہ ہو گا۔ اس لیے اس نے ادھر کا رخ ہی نہیں کیا۔ وہ سیدھا دہلی پہنچا۔ دہلی میں اس کے رشتے کے چچا تھے۔ ان کے یہاں قیام کیا۔ انہیں ساری صورت حال بتائی۔
انکو صاف صاف بتا دیا کہ وہ بمبئی سے ایک ہندو لڑ کی لے آیا ہے۔ وہ دونوں شادی کرنا چاہتے ہیں۔ لڑکی مسلمان ہونے کے لیے راضی ہے۔
برکھا مسلمان ہو گئی۔ دونوں کا نکاح ہو گیا۔ انہوں نے دریا گنج میں ایک مکان کراۓ پر لے لیا۔ ان کے پاس پانچ لاکھ روپے تھے جس زمانے کی یہ بات ہے اس وقت پانچ لاکھ روپے ایک بھاری رقم تھی ۔ ایک ماہ انہوں نے خوب سیر کی۔ برکھا اس کے ساتھ بہت خوش تھی۔ مناف کی خوشی کا تو کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ اسے دینے والے نے چھپر پھاڑ کر دیا تھا۔ ایک حسین لڑکی اور بھاری رقم ۔
سیر وتفریح کے بعد مناف نے ایک بڑا جنرل اسٹور کھول لیا۔ دولڑ کے ملازم رکھ لیے ۔ وہ محنتی تھا خوش اخلاق تھا۔لوگوں سے گفتگو کا سلیقہ جانتا تھا۔ لہذا بہت جلد اس کا جزل اسٹور چل پڑا۔
ایک سال کے بعد ان کی پرسکون زندگی میں شور وغوغا اٹھا۔ ایک پیاری سی بچی نے جنم لیا۔ اس کا نام برکھا نے کرن رکھا۔ کرن کے بعد تو جیسے لڑکیوں نے ان کا گھر دیکھ لیا۔ لڑکیوں کا گھر دیکھ لینا تو خیر سے کوئی عذاب ناک مسئلہ نہ تھا۔ عذاب ناک مسلہ تو اس وقت بنا جب کالی داس ایک دن اچانک ان کے گھر کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ دوپہر کا وقت تھا کہ کسی نے دروازے کی کنڈی کھٹکھٹائی ۔ مناف اس وقت گھر پر ہی تھی۔ وہ دوپہر کا کھانا گھر پر ہی کھاتا تھا اور کچھ دیر آرام کرنے کے بعد جزل اسٹور کا رخ کرتا تھا۔ مناف نے دروازہ کھولا تو اپنے سامنے ایک قیامت کو کھڑے پایا۔ کالی داس کی آنکھوں میں شعلے بھڑک رہے تھے۔ وہ اسے دیکھتے ہی بولا۔
’’حرام خورتو کیا سمجھتا تھا کہ میں تجھے ڈھونڈ نہ پاؤں گا۔ تو بڑا کمینہ نکلا۔ جس ہانڈی میں کھایا اس میں چھید کیا۔ بول کہاں ہے میری بیٹی۔ بلا اس کو باہر اس جنم جلی کی ذرا میں شکل دیکھ لوں اور اسے اپنی صورت دکھا لوں فیصلے کی گھڑی اب زیادہ دور نہیں چل جلدی کر۔‘‘
مناف کا ذہن ایک دم ماؤف ہو گیا۔ اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ یہ اچانک کیا ہو گیا۔ یہ منحوس کالی داس اچانک کہاں سے آ نکلا۔ اب وہ کیا کرے کیا وہ اندر جا کر دروازہ بند کر لے اور پھر ساری صورت حال برکھا کو بتاۓ یا یہیں سے آواز دے کر برکھا کو دروازے پر بلاۓ ۔ تب اس کے دماغ میں یہ خیال بلی کی طرح کوندا کہ اسے اندر جا کر دروازہ بند کر لینا چاہیے تا کہ یہ منحوس گھر میں ۔ داخل نہ ہو سکے۔ ایسا سوچ کر وہ گھر میں داخل ہو اور پھر اس نے بہت تیزی سے دروازہ بند کر نا چاہا لیکن درواز و ٹس سے مس نہ ہوا۔
“جا جو کہتا ہوں وہ کر اسے جنم جلی کو لا باہر بلا کر ۔‘‘ کالی داس نے سخت لہجے میں کہا۔
تب مناف نے گھبرا کر وہیں سے آواز لگائی۔’’اے برکھا باہر آؤ”
اس کی آواز سن کر برکھا فورا باہر آئی۔ اس نے برآمدے سے باہر دوروازے کی طرف دیکھا تو پاؤں من من بھر کے ہو گئے۔ وہ آ گے آ سکی نہ پیچھے جاسکی۔ اس وقت کالی داس نے اپنے کرتے کی جیب سے کچھ نکالا اور جس طرح کسی کو پتھر مارتے ہیں ویسے ہی اس نے کوئی چیز پھینک کر ماری لیکن کوئی چیز دکھائی نہ دی۔ البتہ برکھا اس عمل کے بعد فورا وہیں کھڑی کھڑی گر پڑی۔ یہ دیکھ کر اس نے بھیانک قہقہا لگایا اور بولا ۔’’اس وقت میں جاتا ہوں۔ رات کو ٹھیک بارہ بجے آؤں گا اور برکھا کو اپنے ساتھ لے جاؤں گا۔ پہلے اس سے اپنا حساب چکالوں پھر تجھ سے نمٹوں گا۔‘‘
پھر وہ مڑا اور تیز تیز قدموں سے گلی عبور کر گیا۔ اس کے جانے کے مناف نے فورا دروازہ بند کیا۔ اس مرتبہ دروازہ بند کرنے میں کوئی دقت پیش نہ آئی۔ برکھا برآمدے کے فرش پر بے سدھ پڑی تھی۔
مناف اس کے نزدیک پہنچا تو وہ اسے پھٹی پھٹی آ نکھوں سے دیکھتی ہوئی اٹھ گئی ۔ ’’باپو چلے گئے۔‘‘ وہ بمشکل بولی۔
”ہاں۔‘‘ مناف کا دم ابھی اندر ہی تھا۔ اس نے اپنا سانس باہر نکالا۔
“یہ بہت برا ہوا۔‘‘ برکھا اسے بے نور آنکھوں سے دیکھتے ہوۓ بولی۔ اس کے چہرے پر زردی کھنڈ کئی تھی۔ اس کا شاداب چہرہ برسوں کا بیمار دکھائی دے رہا تھا۔ ’’میرے دل کو دھڑکا لگا رہتا تھا کہ کہیں باپو نہ آ پہنچے۔ بالآخر ایسا ہی ہوا وہ آ پہنچا۔‘‘
“باپو نے یہ گھر کیسے ڈھونڈ لیا مجھے حیرت ہے۔‘ مناف واقعی حیرت زدہ تھا۔
“باپو سب کچھ کر سکتا ہے اس کے لیے یہ کام مشکل نہیں۔ اس کے لیے اس نے کوئی جاپ کیا ہو گا۔‘‘
“اب کیا ہو گا۔ وہ رات کا کہہ کر گیا ہے۔ چلو پرکھا جلدی کرو۔ ابھی رات بہت دور ہے۔ ہم یہاں سے نکل جاتے ہیں۔‘‘
“اب کچھ نہیں ہوسکتا مناف. بہت دیر ہو چکی۔ میں اب اس کی گرفت میں ہوں۔ اس گھر کی چار دیواری سے قدم باہر نکالوں گی تو میراکلیجہ کٹ جائے گا۔ مجھے خون کی ایک الٹی آئے گی اور میں چل بسوں گی۔ وہ رات کو آۓ گا۔ میرا ہاتھ پکڑے گا اور لے جاۓ گا۔ مجھے لے جانے سے پہلے وہ تمہار احساب کتاب کرے گا۔ وہ تمہیں کسی قیمت پر نہیں چھوڑے گا۔ ایسا کروتم کرن کو لے کر نکل جاؤ۔ میں زندہ رہی تو تم سے آ ملوں گی ورنہ پھر اس کو آخری ملاقات سمجھنا۔‘‘ برکھا کے لہجے میں ایسا دکھ تھا کہ مناف کا دل بھر آیا۔
وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر بولا ۔’’نہیں برکھا۔ میں کہیں نہیں جاؤں گا ہم ساتھ جئے ہیں تو ساتھ مریں گے۔”
“ہماری بیٹی کرن کا کیا ہو گا؟‘‘ وہ فکر مند ہو کر بولی۔
”اسے میں چچا کے گھر چھوڑ آ تا ہوں۔‘‘ مناف نے تجویز پیش کی۔ ہاں یہ ٹھیک ہے۔ کرن کے ساتھ اس گھر میں جتنی نقدی اور زیورات وغیرہ میں وہ بھی میں باندھ کر دے دیتی ہوں۔ چچا کے حوالے کر آنا۔ ویسے اگر تم واپس نہ آؤ تو اچھا ہے۔ میں.۔”
بر کھا جملہ پور انہ کرسکی۔ مناف نے آگے بڑھ کر اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور بولا ۔ ’’بس جلدی سے کرن کو تیار کر دو اور جو دینا ہے دے دو۔ میں چچا کے حوالے کر کے فورا واپس آ تا ہوں۔ اتنی دیر میں تم اپنے باپو کے عمل کا توڑ سو چو۔ آ خرتمہیں بھی تو بہت کچھ آ تا ہے۔“
برکھا خاموشی سے اٹھی۔ اس نے جلدی جلدی گھر میں رکھی نقدی اور زیورات کو سمیٹا۔ کرن کے کپڑے اکٹھا کئے ۔ اس کی ضرورت کا سامان جمع کیا اور یہ سب ایک بیگ میں رکھ کر مناف کے حوالے کیا۔ پھر اس نے اپنی سوتی ہوئی بیٹی کو چوما اور مناف کی گود میں دے کر بولی۔ ’’جاؤ جلدی”
کرن کی آنکھ کھل گئی۔ وہ اپنے باپ سے چمٹ گئی۔ برکھا ان دونوں کو چھوڑ نے کے لیے دروازے تک آئی۔ کرن اپنے باپ کے کاندھے سے لگی برکھا کو دیکھ رہی تھی۔ برکھا اسے اپنی نظروں میں بھر لینا چاہتی تھی۔
ابھی مناف دو چار قدم آگے ہی بڑھا تھا کہ اسے احساس ہوا جیسے وہ جلتی آگ پر چل رہا۔ پھر ایک دم ہی اس کی قیمض کے پچھلے دامن میں آگ بھڑک اٹھی۔ برکھا نے آ گ لگتی دیکھی تو وہ
فورا چیخی ۔’’مناف آ گے مت جانا ۔‘‘

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: